Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں،جہاں دونوں ممالک آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد دونوں وفود نے وقفہ لیا ہے۔

    اب تک دو بار رسمی بات چیت ہو چکی ہے پہلی بار کے دوران، امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں تاہم، دوسرے مرحلے میں، امریکی اور ایرانی وفود نے ایف ایم کی موجودگی میں براہ راست بات چیت کی،فی الحال، ایک ورکنگ ڈنر جاری ہے عشائیہ کے بعد، تیسرا تیسرا ٹیک مباحثہ شروع ہونے والا ہے، جس میں دوسرے درجے کے وفود بہتر طریقوں پر غور و خوض کریں گے،اب تک، بات چیت کا مجموعی لہجہ اور نتیجہ مثبت رہا ہے،تاہم، آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک تعطل برقرار ہے، کیونکہ ایرانی فریق اپنے موقف پر ثابت قدم ہے، اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے مشترکہ کنٹرول کے لیے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے یا اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

    اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے جہاں فریقین نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرا ت کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور اب 11 سال بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا ہے اور فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد میں ممکنہ پاک، ایران اور امریکا سفارتی رابطوں کے دوران ایران نے اپنی تجاویز اور اہم شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد نے ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کی جبکہ ان کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شرکت کو سراہا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے اپنے مؤقف سے پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف کو آگاہ کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وفد، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، اور ایرانی وفد، جس کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، نے الگ الگ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں وفود کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تاہم تاحال اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پس پردہ رابطے جاری ہیں اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی سرخ لکیروں میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور خطے بھر میں جنگ بندی شامل ہیں۔ ان نکات کو ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ٹرائیگر پر انگلی رکھ کر مذاکرات کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اعتماد کے فقدان سے پوری طرح آگاہ ہے، اسی لیے ایرانی سفارتی ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ اس عمل میں داخل ہو رہی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    اسلام آباد میں آج اہم امن مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے میں امن، استحکام اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    امریکی نائب صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی امریکی نائب صدر کے ہمراہ تھے۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں وفود کے تعمیری انداز میں مذاکرات کے عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔انہوں نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    اسلام آباد: ایران کے بعد امریکا کا اعلیٰ سطحی وفد بھی اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے، جسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی توجہ کا مرکز بننے والے ان مذاکرات سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کی سفارتی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وفد میں امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں، جو اہم سفارتی اور تزویراتی معاملات پر مشاورت کریں گے۔امریکی وفد کے نور خان ایئربیس پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مہمان وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ حکام اور سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان تعمیری مذاکرات، اعتماد سازی اور دیرپا حل کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا داعی رہا ہے۔استقبالی تقریب کے بعد نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے امریکی وفد کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت خطے اور دنیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

    سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق ایک ہی پلیٹ فارم پر ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود کی موجودگی پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے عالمی کردار، اعتماد اور ثالثی صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد ٹاکس کے دوران سیزفائر، علاقائی کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی کے اقدامات اور مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اگر ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • تاریخ رقم،مذاکرات کیلئے امریکی نائب صدر اسلام آباد پہنچ گئے

    تاریخ رقم،مذاکرات کیلئے امریکی نائب صدر اسلام آباد پہنچ گئے

    امریکا،ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے۔
    امریکی نائب صدر کی آمد کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہی “اسلام آباد مذاکرات” کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر کا طیارہ جیسے ہی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، تو ان کے استقبال کے لیے پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل سید عاصم منیرموجود تھے،امریکی سفیر بھی اس موقع پر موجود تھیں،وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے

    امریکی وفد کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ پاک فضائیہ کے جدید جیٹ طیاروں نے امریکی نائب صدر کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی حفاظتی حصار میں لے لیا، جو اس دورے کی حساسیت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

    پاکستان، امریکی نائب صدر اور ان کے وفد کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ مذاکرات خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، عالمی اقتصادی دباؤ اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔ پاکستان ایک “ایماندار ثالث” کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی مشترکہ نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔“اسلام آباد مذاکرات” کو عالمی سطح پر بھی غیر معمولی توجہ حاصل ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں پائیدار امن اور ایک نئے سفارتی دور کی بنیاد رکھے گی۔پاکستان نے ایک بار پھر اپنی روایتی مہمان نوازی اور امن کے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

    پاکستان میں ایران امریکا مذاکرات کے لیے آنے والے امریکی وفد میں جے ڈی وینس کے علاوہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں،

    پاکستان روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقین ہے کہ مذاکرات مثبت ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ایران نیک نیتی دکھائے تو امریکا بھی تیار ہے، ایران نے کھیلنے کی کوشش کی تو اسے قبول نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ ایران کا اعلیٰ سطحی وفد امریکا سے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے،ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    یہ اہم پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق سعودی وزیر خزانہ ایک روزہ دورے پر وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے اور اعلیٰ سطحی بات چیت میں شرکت کی۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان سے محبت کو سراہا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    وزیراعظم نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی معاشی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کے معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن کے مطابق اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔

    اعلامیے کے مطابق سعودی وفد نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے اختتام پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ہر سطح پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاک سعودی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے اور مستقبل میں یہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

  • امریکا ،ایران مذاکرات،ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    امریکا ،ایران مذاکرات،ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد امریکا سے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے،دفتر خارجہ کے مطابق وفد کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کیا، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی استقبال میں شریک تھے۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات آگے بڑھائیں گے، پاکستان نےتنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • اسلام آباد میں تاریخی امن مذاکرات، پاکستان عالمی سفارتکاری کے مرکز میں

    اسلام آباد میں تاریخی امن مذاکرات، پاکستان عالمی سفارتکاری کے مرکز میں

    اسلام آباد کی سڑکیں اچانک دو روزہ تعطیل کے اعلان کے بعد سنسان ہو گئی ہیں، جہاں سخت سیکیورٹی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ شہر کے اہم علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ پس پردہ سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے اہم جنگ بندی مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ طے پانے کی امید کی جا رہی ہے۔

    پاکستان، جو ماضی میں دہشت گردی اور معاشی مشکلات کے حوالے سے خبروں میں رہتا تھا، اب ایک اہم عالمی ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد پہلی بار واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا مقصد کئی ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔یہ پیش رفت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے برعکس، جب انہوں نے پاکستان پر “جھوٹ اور دھوکے” کے الزامات عائد کیے تھے۔ اب صورتحال بدل چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    مذاکرات میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی شرکت متوقع ہے۔ جے ڈی وینس 2011 کے بعد پاکستان آنے والے اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار ہوں گے، جو ان مذاکرات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے پیچھے جغرافیائی اہمیت، متوازن خارجہ پالیسی اور بدلتے علاقائی اتحاد کارفرما ہیں۔ ایشیا پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ماہر فروا عامر کے مطابق، “پاکستان نے آخری وقت میں جو سفارتی کامیابی حاصل کی ہے، اس سے اس کی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک فعال عالمی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔”ماضی میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ رہے، خاص طور پر 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد، جب وہ ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے پائے گئے تھے۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ بعد ازاں جو بائیڈن کے دور میں بھی تعلقات میں سرد مہری رہی۔تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے بلکہ معدنی وسائل، خاص طور پر نایاب معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا۔ ساتھ ہی بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کی پالیسی اختیار کی، جسے واشنگٹن میں سراہا گیا۔

    پاکستان کے لیے یہ امن مذاکرات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی نے خلیج میں توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، اس لیے جنگ کا خاتمہ اس کے مفاد میں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس سارے عمل میں غیر جانبداری برقرار رکھی۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ بھی روابط بہتر ہوئے ہیں۔ یہی متوازن حکمت عملی اسے ایک مؤثر ثالث بناتی ہے۔مزید برآں، پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے ساتھ سفارتی رابطے نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دی، جس سے پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔

    اسلام آباد میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، اور شہر کے معروف سرینا ہوٹل کو مکمل طور پر مذاکرات کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ ہوٹل کے مہمانوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی کی جا سکے۔اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر صورتحال اب بھی نازک ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے، جس سے مذاکرات کی کامیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کی کوشش ہے کہ یہ عمل کامیابی سے ہمکنار ہو اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان نے ایک نہایت اہم وقت پر خود کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک کلیدی کردار کے طور پر منوا لیا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوں گے۔

  • امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کامیابی، ایرانی وفد کی آمد

    امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کامیابی، ایرانی وفد کی آمد

    پاکستان کی سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ایران کا اعلیٰ سطحی مذاکراتی وفد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا، جہاں ان کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایرانی مہمانوں کو بھرپور پروٹوکول فراہم کیا گیا، جسے ان کے شایانِ شان قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی وفد کی آمد پر خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستانی قیادت نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت حکمت، تفہیم اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھے گی اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے نمائندے پاکستان کی مخلصانہ دعوت پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور آج دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں اب جنگ نہیں بلکہ امن کی بات ہو رہی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نازک صورتحال میں پاکستانی قیادت نے غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں فریقین کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو فریقین کل تک میدان جنگ میں آمنے سامنے تھے، آج مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں، جو پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا ثبوت ہے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ عارضی جنگ بندی کے بعد اب سب سے بڑا چیلنج مستقل اور دیرپا امن کا قیام ہے، جو ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے کی کامیابی خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی۔وزیراعظم نے اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے میں غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔آخر میں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو بے شمار معصوم جانیں بچائی جا سکیں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

  • 
پاک بحریہ کا شاندار ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکی عملہ محفوظ

    
پاک بحریہ کا شاندار ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکی عملہ محفوظ

    ‎پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں ایک کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران 18 افراد پر مشتمل غیر ملکی عملے کو بحفاظت بچا لیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب تجارتی بحری جہاز “ایم وی گولڈ آٹم” سے ہنگامی سگنل موصول ہوا۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہنگامی اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس دوران پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق ریسکیو کیے گئے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جن میں چین، بنگلادیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران بحریہ کی ماہر ٹیم نے نہ صرف عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا بلکہ انہیں فوری طبی امداد بھی فراہم کی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر ریسکیو ٹیم نے آگ بجھانے میں بھی مدد فراہم کی اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔
    ‎ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو بعد ازاں بحفاظت کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی اپنے ممالک واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور سمندری حدود میں انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
    ‎یہ کامیاب آپریشن پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فوری ردعمل کی