Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 274 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کانفرنس کی صدارت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جس میں ملکی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔
    ‎کانفرنس میں سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فورم کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
    ‎کور کمانڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب نے حالیہ اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، جو کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا یہ طرز عمل ثالثی اور سفارتی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔
    ‎فورم نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے حملے غیر ضروری کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور جاری امن عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلاجواز جارحیت نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سیکیورٹی، علاقائی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
    ‎فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہیں اور ان کے مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
    ‎کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان ہم آہنگی سے نہ صرف سیکیورٹی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں بلکہ معاشی استحکام بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا۔
    ‎شرکاء نے آپریشن “غضب لِلحق” کی رفتار برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فورم نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے صبر و تحمل کو سراہا گیا۔
    ‎فورم نے بھارت کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

  • مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر

    مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے حالات اور خطے پر تباہ کن جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، پاکستان خطے میں امن کیلئے ایک بار پھر فرنٹ فٹ پر نظر آرہا ہے۔

    پاکستان کا اب تک کا کردار کسی شاندار سفارت کاری سے کم نہیں، اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جمی برف پگھلانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، جن کا اعتراف امریکا اور ایران سمیت پوری دنیا نے کیا۔پاکستان اپنی بے مثال کوششوں سے دونوں ممالک کو اسلام آباد اکارڈ تک لے آیا اور امن کیلئے قابل عمل نکات امریکا اور ایران کے سامنے رکھ دیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اکیلا پاکستان یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے؟، چین کی مکمل حمایت، ترکیہ اور مصر کی ہم قدم کوششیں اپنی جگہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کی تالی دونوں ہاتھوں سے بجے گی، پاکستان کی یہ کوششیں تبھی بار آور ثابت ہوں گی جب دو بڑے اسٹیک ہولڈرز امریکا اور ایران اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے۔

    امن کیلئے سب کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا، حملوں کا سلسلہ روکنا ہوگا اور ان قوتوں کے ہاتھ روکنے ہوں گے جو اس جنگ کو طول دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

    آج کا دن اور آنے والی رات بہت اہم مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی کوششیں حساس مرحلے میں داخل ہوگئیں۔امریکا ایران جنگ رکوانے کیلئے ممکنہ اسلام آباد اکارڈ کو حتمی شکل دینے کی تگ و دو جاری ہے، حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بڑا بیان بھی سامنے آگیا، کہتے ہیں پاکستان نیک نیتی اور خیرسگالی کے تحت جدوجہد کررہا ہے، مزید تفصیلات کا انتظار کیا جائے۔

    پاکستان کی جانب سے اسلام آباد اکارڈ کے نام سے دو مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کردیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطہ ہوا، سپہ سالار کی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی۔پلان کے تحت پہلے فوری جنگ بندی اس کے بعد ایک جامع معاہدہ ہوگا، پاکستان مذاکرات میں واحد رابطہ چینل ہے، مفاہمت کی صورت میں پاکستان کے ذریعے ہی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔آبنائے ہرمز کی بحالی کی بھی تجویز، معاہدے میں ایران کی جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا امکان ہے، بدلے میں پابندیاں نرم اور منجمد اثاثے بحال ہوسکتے ہیں۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے  ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر  کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا (Kadir Özkaya ) کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی.

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہائیوں پر محیط پاکستان اور ترکیہ کےبرادرانہ تعلقات تیزی سے ایک جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں. شہریوں کی انصاف تک رسائی کے حصول کیلئے پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں. ترکیہ کی وفد کے حالیہ دورے کے دوران اسی سلسلے میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اس منزل کی طرف پہلا قدم ہے. انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلہ کی وسیع استعداد موجود ہے.

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی ، انسداد دہشتگری ، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں قوانین اور انکے نفاذ کے سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں.ترکیہ آئینی عدالت کے صدر نے پاکستان میں شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا. قادراوزقایا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محبت ہر ترک کی رگوں میں بسی ہے. ترکیہ کی آئینی عدالت 64 سال پرانی ہے اور اپنے اس وسیع تجربے کے تبادلے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہے. ملاقات میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے فاضل جج صاحبان جناب رضوان گیولیچ (Rıdvan Guleç) اور جناب رجائی آق یل (Recai Akyel) کے علاوہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر جناب عرفان نظیر اولو بھی شریک ہوئے. نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • سانحہ گیاری سیکٹر  کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سیاچن کا محاذ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے

    سیاچن کے محاذ پر دشمن کے علاوہ شدید ترین موسم بھی پاک فوج کے آفیسر اور جوانوں کیلئے کڑی آزمائش ہے ،7 اپریل 2012 کو سیاچن کے محاذ پر انتہائی دل سوز حادثہ پیش آیا،اس حادثے میں وطن عزیز کے دفاع پر مامور بڑی تعداد میں پاک فوج کے جوان برفانی تودے کی زد میں آگئے،اس دل سوز سانحہ میں پاکستان آرمی کا بٹالین ہیڈ کوارٹر مکمل طور پر برف میں دب گیا، بٹالین ہیڈ کوارٹر میں موجود 129 فوجی جوانوں نے وطن کی حرمت کی خاطر جام شہادت نوش کیا ،اس حادثے کے اثرات اتنے تلخ تھے کہ غیر ملکی ریسکیو ٹیموں نے بھی اس مشن کو ناممکن قرار دے دیا تھا

    جذبہ حب الوطنی سے سرشار پاک آرمی کی انجینئرز کور نے اس ریسکیو آپریشن کو مکمل کرنے کا بیڑہ اٹھایا ،پاکستان آرمی کے آفیسرز اور جوانوں کی انتھک محنت اور جوانمردی سے یہ مشکل ترین آپریشن پایۂ تکمیل تک پہنچا،سانحہ گیاری کے شہداء کی قربانیوں کی یاد میں سیاچن کے محاذ پر یادگار شہداء بھی تعمیر کی گئی ،آج پوری قوم شہدائے گیاری سیکٹر کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ،شہداء گیاری کی عظیم قربانی پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی

  • اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

    اسلام آباد معاہدہ ، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں تیز

    عالمی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے "اسلام آباد معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں دو مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی شامل ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک حتمی اور جامع معاہدہ طے پائے گا۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبرداری کی یقین دہانی شامل ہوگی، جبکہ اس کے بدلے میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کی پیشکش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس اہم سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے گزشتہ رات بھر امریکی نائب صدرجے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔

    تاہم دو پاکستانی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی گئی، حالانکہ سفارتی اور عسکری سطح پر رابطوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر "اسلام آباد معاہدہ” کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے جامع جنگ بندی کا فریم ورک امریکا اور ایران کے ساتھ شیئر کر دیا،جنگ بندی تجویز سے واقف ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے شیئر فریم ورک 2 مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ بعد میں جامع معاہدہ شامل ہے۔ امریکا اور ایران کو جارحیت کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا منصوبہ موصول ہو گیا،رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے متعلق تمام عناصر پر آج اتفاق ہونا ضروری ہے۔ ابتدائی مفاہمت کو ایک یادداشت مفاہمت کے طور پر تشکیل دیا جائے گا۔ ایران جنگ بندی منصوبہ آج سے نافذ العمل ہو سکتا ہے،

    خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان، چین اور امریکا کے وقتی جنگ بندی کی تجاویز پر ایران کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔،سینئر ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی تجویز موصول ہوئی ہے، جائزہ لیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ایران کسی فیصلے کے لیے کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر دھمکیوں اور گالیوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پرانی ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کی توسیع کردی، معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن کا وقت منگل رات 8 بجے ایسٹرن ٹائم جاری کردیا۔ جو ایران میں بدھ کی صبح 3:30 اور پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 5 بجے ہے۔

  • پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف

    پاکستان کی معاشی کامیابیوں اور "کرپٹو ڈپلومیسی” کے دشمن بھی معترف

    بااثر قیادت کی دور اندیشی اور مضبوط ویژن کے تحت پاکستان دنیا بھر میں معاشی، سفارتی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے

    بھارتی میڈیا پر پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیت، سفارتی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملی کے بھرپور چرچے دیکھنے کو مل رہے ہیں، بھارتی میڈیا پر موثر پاکستانی ڈپلومیسی کی ستائش عالمی محاذ پر پاکستان کی سفارتی برتری کا اعتراف ہے ،ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ مہینوں میں پاکستانی قیادت کی تعریف نے دوطرفہ تعلقات کے ذاتی پہلو کو مزید اجاگر کیا ،زیکری وٹکوف سے روابط نے واشنگٹن میں پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے، پاکستان کی اس سفارتی رسائی کے پیچھے بلال بن ثاقب کا کلیدی کردار رہا ہے جو 2025 میں تیزی سے پالیسی سازی کے نظام میں ابھرے ہیں،بلال بن ثاقب نے 2025 کے دوران عالمی کرپٹو شخصیات سے روابط استوار کیے جن میں بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ، کیتھی ووڈ اور مائیکل سیلر شامل ہیں،

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق؛ بلال بن ثاقب ٹرمپ کے کرپٹو منصوبے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے مشیر بنے، جو ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی ،پاکستان نے اسی کرپٹو ڈپلومیسی کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دیا ہے،

    باصلاحیت افرادی قوت، ڈیجیٹل معیشت کی صلاحیت پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے

  • امریکا ایران جنگ ختم کرنے کا منصوبہ،پلان پر آج ہی رضامندی ضروری

    امریکا ایران جنگ ختم کرنے کا منصوبہ،پلان پر آج ہی رضامندی ضروری

    امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ مل گیا۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضا مندی ضروری ہے۔

    سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے، پاکستان کی جانب سے ملنے والے مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں، فیصلے کیلئے ایران کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران عارضی جنگ بندی کیلئے آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا، ہمیں لگتا ہے امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری شامل ہے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضامندی ضروری ہے، مجوزہ منصوبے میں پہلے جنگ بندی اور پھر حتمی معاہدہ شامل ہے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ منصوبے پر اتفاق ہوگیا تو 20 دن میں حتمی معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی، فوری طور پر جنگ بندی ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ منگل تک ایران نے کچھ نہ کیا تو ان کے پاس کوئی بجلی گھر اور کوئی پل نہیں رہے گا، کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو اور اے بی سی نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ معاہدہ نہ ہوا تو پورے ایران کو تباہ کرسکتے ہیں، مشرق وسطیٰ کا تنازع ہفتوں میں نہیں، دنوں میں ختم ہونا چاہئے، ایران میں زمینی کارروائی ضروری نہیں لیکن خارج از امکان بھی نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج فوجی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے، اہم اعلان متوقع ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ زمینی کارروائی ہوئی یا کوئی بھی جارحیت، ہم تیار ہیں، فیصلہ کن جواب دیں گے،ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان پر ردعمل دیدیا، ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی ریسکیو آپریشن کے دوران کئی طیاروں کو نشانہ بنایا، ٹرمپ کو احساس ہوگیا ہوگا کہ وہ جنگ کی دلدل میں دھنس چکے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے بیانات سے ٹرمپ اور ان کی فوج کے اسکینڈل ٹھیک نہیں ہوں گے، امریکا، اسرائیل کو جارحیت کا فیصلہ کن جواب ملے گا۔

    پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ٹرمپ کو پیغام دیا ہے کہ ٹھنڈے ہوجاؤ، تاریخ کا مطالعہ کرو، اپنا نقصان وقار کے ساتھ تسلیم کرو، بہانے مت بناؤ۔ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پر تباہ شدہ امریکی طیاروں کی تصویر شیئر کردی۔ لکھا کہ یہ تو بس شروعات ہے۔ایرانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے غیرمناسب رویے پر ان کا مواخذہ ہونا چاہیے، امریکی صدر کو اعلیٰ عہدے کیلئے نااہل قرار دینا چاہیے، تمام ذمہ داری کانگریس، کابینہ اور ٹرمپ کو منتخب کرنیوالوں پر عائد ہوتی ہے، 25 ویں آئینی ترمیم نافذ نہ کرنا کابینہ کی سنگین غلطی ہے۔

    علاوہ ازیں ٹرمپ کا پائلٹ بچاؤ مشن امریکا کو بہت مہنگا پڑا، امریکی صدر کا کامیابی کا دعویٰ مگر نقصان بہت زیادہ، ایک فوجی کو بچانے کیلئے 4 مروادیئے، ایک سی 130 طیارہ، دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور کئی ڈرونز تباہ ہوئے۔نیویارک ٹائمز تہلکہ خیز مشن کی تفصیلات سامنے لے آیا، ٹرمپ کا ایران کی فضاؤں پر مکمل غلبے کا بھی کھوکھلا دعویٰ، مسلسل بمباری کرکے ایرانی فوج کو دور رکھا گیا۔آپریشن میں سیکڑوں اہلکاروں، درجنوں طیاروں نے حصہ لیا، امریکی فوج نے واپسی سے پہلے ناکارہ طیاروں کو تباہ کیا، بڑے نقصانات کے باوجود ٹرمپ نے آپریشن کامیاب قرار دیا۔

  • بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    بلوچستان میں کارروائی ،افغان دہشتگرد حبیب اللہ گرفتار

    گرفتارافغان دہشتگرد نےٹی ٹی اےکیساتھ مل کر پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں پرحملوں کا اعتراف کیا ہے

    گرفتار دہشتگرد کا بھائی شیر افغان بھی ٹی ٹی پی سے وابستہ اورپکتیکا کا رہائشی ہے ،دہشتگرد گروپ کی قیادت “مسلم” نامی شخص کر رہا تھا،گرفتارافغان دہشتگرد نے پاک افغان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کو نشانہ بنایا ،گرفتار افغان دہشتگردحبیب اللہ پہلے بھی ایک ماہ قید میں رہا،کئی دہائیوں سے ایک سازش کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی گئی ،پاکستان اپنےشہریوں کے تحفظ کیلئےافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرحملہ کررہا ہے ،افغانستان کے عوام کے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ،پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان نےمتعدد بارافغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےکے ٹھوس ثبوت فراہم کیے،

    حکومتِ پاکستان نے بارہا افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونےسےروکنےکامطالبہ کیا ،حبیب اللہ اس سے قبل بھی گرفتار ہوا مگر جذبہ خیر سگالی کے تحت عام شہری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا مگرفتاردہشتگرد کوکُچلاک کےعلاقے سےدوبارہ گرفتارکیا گیاجس سےسرحدپاردہشتگردی کےروابط بے نقاب ہوئے ،ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے ہیں،اس گروپ کے دوسرے دہشتگردوں کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے

  • 
خلیجی کشیدگی میں پاکستان کا کردار، بھارت کا عالمی سطح پر اعتراف

    
خلیجی کشیدگی میں پاکستان کا کردار، بھارت کا عالمی سطح پر اعتراف

    
بھارتی اخبار فرسٹ پوسٹ نے خلیج میں جاری کشیدگی کے خاتمے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد اہم ممالک نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق مصر، ترکیے اور سعودی عرب نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا اور اسے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎فرسٹ پوسٹ کا کہنا ہے کہ چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد پاکستان کو ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس سے خطے میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں اور اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف ممالک تنازع کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • 
بھارت کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن بے نقاب

    
بھارت کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن بے نقاب

    
مغربی بنگال، آسام اور دیگر بھارتی ریاستوں میں انتخابات سے قبل بھارت ایک اور مبینہ فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے
    جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستانی ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق جیلوں میں قید افراد کو نشانہ بنا کر ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے بعد میں فالس فلیگ کارروائی کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف بیانات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انتخابات سے قبل پاکستان مخالف بیانیہ کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پہلگام جیسی کوئی کارروائی دوبارہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان سخت جواب دے گا۔
    ‎سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور خطے میں صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔