Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسلام آباد، امریکا ایران امن مذاکرات پر دنیا کی نظریں

    اسلام آباد، امریکا ایران امن مذاکرات پر دنیا کی نظریں

    دنیا بھر میں بے چینی کے ساتھ اس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے کروڑوں افراد کی زندگیوں بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔

    اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے دو روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جس کے باعث شہر کی سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ مذاکرات ایران،امریکا جنگ کے آغاز کے بعد پہلی براہِ راست بات چیت ہوں گے۔دو ہفتوں پر مشتمل ایک نازک جنگ بندی فی الحال برقرار ہے، جس نے ان مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی حملے اور جنگ بندی کے دائرہ کار پر اختلافات اس عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، ایران نے باضابطہ طور پر اپنے وفد کا اعلان نہیں کیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکروفد کی قیادت کر سکتے ہیں۔

    مذاکرات کے ایجنڈے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو قابلِ غور قرار دیا، تاہم ایران کی جانب سے پیش کردہ بعض شرائط جیسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی ہرجانے اور تمام پابندیوں کا خاتمہ،امریکا کے لیے ناقابل قبول سمجھی جا رہی ہیں۔
    دوسری جانب امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت، افزودہ یورینیم کی حوالگی، دفاعی صلاحیتوں میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

    لبنان اس وقت تنازع کا سب سے حساس پہلو بن چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان اور حزب اللہ شامل ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے انکار کرتے ہیں۔جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے لبنان میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا اور مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

    دوسری جانب اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ایران کی جانب سے محدود آمدورفت کے باعث عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ سینکڑوں جہاز اب بھی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی یقین دہانیاں پوری نہ کیں تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے۔

    اگرچہ امریکا ان مذاکرات کے حوالے سے پرامید دکھائی دیتا ہے، تاہم ایران کا مؤقف اس کے برعکس ہے، جہاں سرکاری بیانات میں جنگ کو اپنی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ممکنہ طور پر ایک طویل اور پیچیدہ مذاکراتی سلسلے کا آغاز ہے، اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا صرف ایک ویک اینڈ میں دونوں ممالک اپنے اختلافات ختم کر سکیں گے یا نہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اگر کامیاب ہوئے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، بصورت دیگر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا سکتے ہیں۔

  • امریکا،ایران مذاکرات ،اسلام آباد میں‌میدان سج گیا،شرکاء کو ویزا آن ارائیول دینے کا فیصلہ

    امریکا،ایران مذاکرات ،اسلام آباد میں‌میدان سج گیا،شرکاء کو ویزا آن ارائیول دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد مذاکرات کےلیے آنے وفود اور صحافیوں کے حوالے سے پاکستان نےبڑا فیصلہ کر لیا

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نےٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مذاکرات 2026 میں شریک تمام مندوبین اور صحافیوں کا خیرمقدم کرے گا،اسلام آباد ٹاکس 2026 کے شرکاء کو ویزا آن ارائیول دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،تمام ایئرلائنز کو بغیر ویزا مسافروں کو بورڈنگ کی اجازت دینے کی ہدایت کی ہے،شرکاء کو پاکستان آمد پر ویزا جاری کیا جائے گا،اسلام آباد ٹاکس کے لیے آنے والوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے،ایئرپورٹس پر شرکاء کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کر دیے گئے،متعلقہ اداروں کو شرکاء کی مکمل معاونت کی ہدایت کر دی گئی،اسلام آباد ٹاکس 2026 کے لیے سفری پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے،پاکستان عالمی مندوبین کے لیے آسان سفری سہولتیں فراہم کرے گا،صحافیوں سمیت غیر ملکی شرکاء کے لیے ویزا پالیسی میں خصوصی رعایت دی گئی ہے،

    امریکا ایران جنگ بندی کے بعد پاکستان دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا، پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے مذاکرات آج اور کل اسلام آباد میں ہوں گے،ذرائع کے مطابق وفود کی سطح پر مذاکرات آج اور اہم مرکزی مرحلہ ہفتے کو ہوگا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پاکستان آئیں گے،ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کریں گے۔

    مذاکرات کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز مذاکرات کے مقام کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا،علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی ملاقات ہوئی، محسن نقوی نے کہا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور کشنر پاکستان کے خصوصی مہمان ہوں گے۔

  • وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات، امن کیلئے ثالثی جاری رکھنے کا عزم

    وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات، امن کیلئے ثالثی جاری رکھنے کا عزم

    ‎اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
    ‎وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی حالیہ پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے خطے میں کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ جاری رکھیں۔
    ‎ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
    ‎وزیراعظم نے اس عمل میں شامل تمام ممالک کے تعاون اور سنجیدگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے مشترکہ کوششیں ہی دیرپا استحکام کی ضمانت بن سکتی ہیں۔
    ‎اعلامیے کے مطابق ملاقات میں امن کے عمل کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا جبکہ وزیراعظم نے آئندہ آنے والے عالمی وفود کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت کا اعادہ بھی کیا۔
    ‎دوسری جانب عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور مختلف عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس کردار کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔

  • پاکستان اور چین بزنس تعلقات  کیلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم

    پاکستان اور چین بزنس تعلقات کیلیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سروس لانگ مارچ ٹائرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیئرمین جن یانگ شینگ (Jin Yongsheng) کی سربراہی میں 4 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی.

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں مزید وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں. حکومت پاکستان ایک پائیدار، شفاف اور اور سہولیات پر مبنی سرمایہ کاری نظام پر یقین رکھتی ہے. خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں. سروس لانگ مارچ جیسے جوائنٹ وینچرز دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی ، ملازمت کے نئے مواقع ، ٹیکنالوجی کی اشتراک اور برآمدات میں اضافے کے لئے انتہائی ضروری ہیں.چیئرمین سروس لانگ مارچ جناب جن یانگ شینگ نے پاکستان میں سرمایہ کار دوست نظام اور حکومتی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی. وزیراعظم کو سروس لانگ مارچ ٹائرز کی نئی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سروس لانگ مارچ برآمدات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ؛ سال 2024-2025 میں کمپنی کا ایکسپورٹ ریونیو 54 ملین امریکی ڈالرز رہا. وفاقی سرمایہ کاری بورڈ سروس لانگ مارچ ٹائرز کو مختلف شعبوں میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کوشاں ہے. نوری آباد ،سندھ میں سروس لانگ مارچ ٹائرز کے سول ڈویلپمنٹ زون (Sole development zone)کے قیام کے حوالےسے وفاقی سرمایہ کاری بورڈ نے تمام ضروری سہولیات مہیا کیں. ملاقات میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • امریکی نائب صدر وینس ایران مذاکرات کیلئے کل پاکستان پہنچیں گے

    امریکی نائب صدر وینس ایران مذاکرات کیلئے کل پاکستان پہنچیں گے

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
    ‎وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق یہ مذاکراتی وفد اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد پہنچے گا، جہاں ایران کے نمائندوں کے ساتھ اہم بات چیت کی جائے گی۔ وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
    ‎ترجمان کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور ہفتہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی وینس اس عمل میں شروع سے ہی اہم کردار ادا کرتے آ رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہونے کے باعث مذاکرات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
    ‎کیرولین لیویٹ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ چین نے جنگ بندی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے ہوئے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی ممکن ہوئی۔
    ‎سیکیورٹی خدشات سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ امریکی سیکرٹ سروس مکمل طور پر مستعد ہے اور نائب صدر سمیت پوری ٹیم کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان میں ان مذاکرات کا انعقاد خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو مزید تقویت ملے گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور اراین کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا ایران جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان 45 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں حالیہ جنگ بندی اور مستقبل کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائز کے لیے ایرانی قیادت کی ذہانت کی تعر یف کی اور امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ ادا کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی اپنا پیغام بھجوایا۔

    اعلامیے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا مسعود پزشکیان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے پاکستان آئے گا۔

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جامع مذاکرات اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ اجلاس، کامیاب سفارتکاری پر قیادت کو خراجِ تحسین، جمعہ کو یومِ تشکر کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان کی آمد پر کابینہ اراکین نے تالیاں بجا کر پُرجوش خیرمقدم کیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کابینہ اراکین نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیے بھی ڈیسک بجا کر مبارکباد پیش کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔اجلاس میں تمام اراکین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی گئی کامیاب سفارتی کوششوں اور مثبت اقدامات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سطح پر اپنے مؤثر سفارتی کردار کے باعث نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ قومی قیادت نے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں اور ملک امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

    وزیراعظم نے اجلاس کے دوران کابینہ کو جنگ بندی کے لیے ہونے والی پیش رفت اور پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔جنگ بندی کی خوشی میں کابینہ اراکین میں مٹھائی تقسیم کی گئی، جبکہ جمعہ کے روز یومِ تشکر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین قومی مفاد میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی اور عالمی سطح پر ملک کے امن پسند کردار کو اجاگر کیا۔

  • ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    ویلڈن پاکستان کی گونج، کامیاب ثالثی سے خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا

    دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے جاری ہیں، جہاں ماہرین اور عالمی رہنما پاکستان کی ثالثی کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی بروقت اور مؤثر کوششوں کے باعث ایک ممکنہ بڑے تصادم کو ٹال دیا گیا، جس سے پورا خطہ تباہی کے دہانے سے واپس آ گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہایت متحرک اور مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی حکمت عملی اور عالمی رابطوں نے کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔جنگ بندی کو ممکن بنانے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشیں بھی نمایاں رہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے مختلف عالمی دارالحکومتوں سے مسلسل رابطے رکھے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوئی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور صلاحیتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

    بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کے اثرات عالمی منظرنامے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جہاں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئی بلکہ اقتصادی استحکام کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں جاری رہیں تو خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں "ویلڈن پاکستان” کی گونج اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی بروقت، مخلصانہ اور حکمتِ عملی پر مبنی سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے حصول میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ کامیابی ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کے اُس کردار کی توثیق کرتی ہے جو ایک منتشر عالمی منظرنامے میں پل بنانے والے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔یہ جنگ بندی محض وقتی توقف نہیں بلکہ کشیدگی پر امن کی ایک بڑی فتح ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ مکالمہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک دوراندیش رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور مخلصانہ ثالثی نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ہر سفارتی کوشش پاکستان کے قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے عین مطابق تھی۔ ان کی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کر دیا ہے۔داخلی سکیورٹی نظام کی قیادت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتکاری میں مرکزی کردار ادا کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے عسکری اور سفارتی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کی ہے۔

    کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے نے اصولی مؤقف کے ساتھ واضح طور پر فریق بننے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ایسے مؤقف کا بروقت اظہار پاکستان کے مثبت اور مخلص کردار کے نتائج کے تعین میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ حقیقی ثالثی میں کوئی ہار یا جیت نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ فریقین اجتماعی بھلائی کے لیے کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ پاکستان نے توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں جانب مساوی مفادات کو یقینی بنایا تاکہ دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔ یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔ کشیدگی میں کمی کے ذریعے پاکستان نے خطے اور دنیا بھر میں کمزور طبقات کے روزگار اور زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں استحکام نے عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی چین پر دباؤ کم کیا ہے، جس سے دنیا بھر کے غریب طبقات کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    اس تاریخی کامیابی کے باوجود ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔ مخالف عناصر اپنے مفادات کے لیے اس کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے کو دوبارہ بحران کی طرف دھکیلا جا سکے۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا اور پھر علاقائی استحکام و خوشحالی کی طرف بڑھنا ہماری اگلی منزل ہے۔پاکستان نے منفی پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیوں کو مؤثر انداز میں رد کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دکھائی ہے، تاہم معلوماتی میدان میں دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے بیک وقت متعدد سنگین بحرانوں سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی، آپریشن "غضب للحق” اور اندرونی انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کے دوران ریاست مضبوط اور ثابت قدم رہی۔ ان تمام سکیورٹی اور سفارتی محاذوں کو سنبھالتے ہوئے پاکستان نے اپنی معاشی استحکام کو بھی برقرار رکھا۔ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد معاشی فوائد میں تبدیل ہو رہا ہے اور اہم معاشی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

    ان بے شمار کامیابیوں کے ذریعے پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو صرف بحرانوں کا سامنا نہیں کرتا بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے، الحمدللہ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • جنگ بندی،پاکستان نے 10 اپریل کو وفود کو اسلام آباد مدعو کر لیا،وزیراعظم

    جنگ بندی،پاکستان نے 10 اپریل کو وفود کو اسلام آباد مدعو کر لیا،وزیراعظم

    پاکستان کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

    وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا،وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے ان کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا ہے،وزیراعظم نے کہا ہمیں پوری امید ہےکہ اسلام آباد مذاکرات’ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست،ٹرمپ نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی تجویز قبول کر لی

    وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست،ٹرمپ نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی تجویز قبول کر لی

    ایران کی پوری تہذیب ایک رات میں ختم کرنے کی دھمکی کے بعدامریکی صدر نے اپنی دی گئی ڈ یڈ لا ئن ختم ہونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ایران پر بمباری دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر حملےکودوہفتوں کےلیےمعطل کرنے پر متفق ہوں، یہ دوطرفہ جنگ بندی ہوگی، اس شرط کے ساتھ کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقےسےکھولنے پر آمادہ ہو۔صدر ٹرمپ نے کہا پاکستانی کے وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیرکےساتھ گفتگوہوئی، پاکستانی قیادت کی درخواست پرایران پرحملےمعطل کرنےپررضامندہوا، میں سمجھتاہوں یہ قابل عمل بنیاد ہےجس پربات چیت ہوگی، ہم پہلےہی تمام عسکری اہداف حاصل کرچکے ہیں بلکہ ان سےآگےبڑھ چکےہیں، مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق حتمی معاہدےکےقریب پہنچ چکےہیں، ہمیں ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے اور ہمارا مانناہےکہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں دوہفتے توسیع کی درخواست کی تھی۔ وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی بھی درخواست کی تھی۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور جلد ٹھوس نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی بھی درخواست کردی۔شہباز شریف نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی کریں تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔