Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آئینی ترامیم، صدر مملکت نے قومی اسمبلی و سینیٹ اجلاس کل کیا طلب

    آئینی ترامیم، صدر مملکت نے قومی اسمبلی و سینیٹ اجلاس کل کیا طلب

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ علیحدہ اجلاس طلب کر لیے

    صدرمملکت آصف زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر جمعرات کوچاربجے طلب کر لیا، صدر مملکت نےسینیٹ کا اجلاس جمعرات کو ہی تین بجے طلب کر لیا،صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت طلب کئے، قومی اسمبلی اجلاس میں مجوزہ آئینی ترامیم پیش کئے جانے کا امکان ہے، اسی روز وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ہو گا

    ن لیگ ، پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم نے اپنے اراکین قومی اسمبلی کو اسلام آباد میں ہی رہنے کی ہدایت کر دی ہے، اجلاس میں آئینی ترامیم کی پیشی کے دوران پی ٹی آئی کی مخالفت کا امکان ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ 25 اکتوبر سے قبل آئینی ترامیم منظور کروا لی جائیں، مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترامیم کو لے کر آج سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات ہو گی، گزشتہ روز بلاول اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی جس کے بعد میڈیا ٹاک میں اعلان کیا گیا کہ آئینی ترامیم پر جے یو آئی اور پیپلز پارٹی میں اتفاق ہو چکا ہے،، آئینی ترامیم پر حکومتی اتحادی ایک پیج پر ہیں تا ہم جے یو آئی وفاقی آئینی عدالت کے خلاف ہے، بلاول زرداری مسلسل آئینی عدالت کے قیام بارے بیانات دے رہے ہیں

    بلاول بھٹو کا آئینی عدالت کے قیام اور آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور

    وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    آئینی ترامیم، اپوزیشن بھی تجویز دے،اللہ بہتر کرے گا،وفاقی وزیر قانون

    وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں،بلاول

    آئینی ترامیم، آج حکومتی ڈرافٹ ملا،دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی،مولانا فضل الرحمان

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

  • ایس سی او اجلاس،معاشی ترقی اور استحکام کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہے، وزیراعظم

    ایس سی او اجلاس،معاشی ترقی اور استحکام کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہے، وزیراعظم

    ایس سی او سربراہی اجلاس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہو رہا ہے

    اجلاس کے شرکا کنونش سنٹر پہنچے تو وزیراعظم شہباز شریف نے تمام شرکا کا استقبال کیا، بعد ازاں گروپ فوٹو کا سیشن ہوا، افتتاح خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کیا، ایس سی او سربراہی اجلاس کے افتتاحی خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایس سی او سربراہ اجلاس میں شریک رہنماؤں کا خیر مقدم کرتے ہیں،اسلام آباد آنے پر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتاہوں،تمام ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانا ہے،اجلاس کی صدارت میرے لیے اعزاز کی بات ہے،ایس سی او ممالک دنیا کی آبادی کا40 فیصد ہے،معاشی ترقی اور استحکام کیلئے مل کر آگے بڑھنا ہے،پاکستان خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے،مستحکم افغانستان خطے کیلئے ضروری ہے، افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے،پاکستان خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، پائیدار ترقی کیلئے علاقائی تعاون اور روابط کا فروغ ضروری ہے.آج کااجلاس علاقائی تعاون بڑھانے کااہم موقع فراہم کررہاہے.ہم نے اپنے لوگوں کو بہتر معیار زندگی اور سہولتیں فراہم کرنی ہیں ، معاشی ترقی ،استحکام اور خوشحالی کیلئے مل کر آگےبڑھناہے،سیاحت، روابط ، گرین بیلٹ کے شعبوں پر توجہ کی ضرورت ہے، غربت معاشی نہیں اخلاقی مسئلہ بھی ہے، خطے سے غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی،مشترکہ مستقبل کیلئے اقتصادی استحکام ہماری ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے درپیش خطرات چیلنج ہیں، قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، علاقائی ترقی کیلئے بیلٹ اینڈ روڈ اہم منصوبہ ہے،جب پاکستان نے گزشتہ سال اس فورم کی صدارت سنبھالی، تو ہم نے علاقائی امن، استحکام، بہتر رابطے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اصول شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی اور ہمارے اجتماعی وژن کی پیشرفت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں،مجھے فخر ہے کہ میں پاکستان کی صدارت کے دوران کئی مستقبل بین اقدامات کو اجاگر کر رہا ہوں۔ ہماری صدارت کے دوران، شنگھائی تعاون تنظیم کی اقتصادی ترجیحات کی بنیاد کو مضبوط کیا گیا، جس سے تجارت، ترقیاتی تنظیموں، تخلیقی معیشت کے فریم ورک، اور ایس سی او کے نئے اقتصادی مکالمہ پروگرام کے درمیان تعاون کو فروغ ملا، یقین ہے کہ اجلاس میں سیرحاصل گفتگوکے نتائج خطے کے عوام کیلئے دورس ہوں گے. ایس سی او اجلاس کے شریک رہنماؤں نے ایجنڈے کی منظوری دے دی.

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں عالمی رہنما اورمندوبین شریک ہیں، ایس سی اوسیکریٹری جنرل جانگ منگ اجلاس میں شریک ہیں،چینی وزیراعظم لی چیانگ ،روسی وزیراعظم میخائل مشوستن ،منگولیا کے صدر،بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر ،ترکمانستان کے وزیرخارجہ راشدمیریدوف بیلاروس ،تاجکستان، ازبکستان اورقازقستان کے وزرائے اعظم،کرغزستان کابینہ کے چیئرمین ژاپاروف اکیل بیک اورایرانی وزیرصنعت محمد اتابک نورشنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شریک ہیں.

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایس سی او اجلاس کے پہلے دن سربراہان مملکت کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سمیت غیر ملکی شخصیات کا خیرمقدم کیا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا بھی استقبال کیا اور ان سے مصافحہ کیا تھا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے 23واں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر بھی پاکستان پہنچے تھے۔ بعد ازاں، شہباز شریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر تاجکستان، بیلاروس، کرغزستان، ترکمانستان اور قازقستان کے رہنماؤں نے ملاقات کی تھی، جس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں قریبی اور باہمی فائدہ مند تعاون کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

    چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    چین کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار جاری رہے گا: چینی وزیراعظم

    آرمی چیف اور چینی وزیراعظم کا گرم جوشی سے مصافحہ

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

  • ایس سی او اجلاس،عالمی رہنماؤں کی کنونشن سنٹرآمد،وزیراعظم نے کیا استقبال

    ایس سی او اجلاس،عالمی رہنماؤں کی کنونشن سنٹرآمد،وزیراعظم نے کیا استقبال

    اسلام آباد،جناح کنونشن سینٹر میں شنگھائی تعاون تنظیم کا 23واں سربراہی اجلاس ، ،عالمی رہنماؤں اورمندوبین کی کنونشن سینٹر آمد کاسلسلہ جاری ہے

    ایس سی اوسیکریٹری جنرل جانگ منگ جناح کنونشن سینٹر پہنچ گئے،ایرانی وزیرصنعت محمد اتابک نور اجلاس میں شرکت کےلیے پہنچ گئے ،منگولیا کے صدر شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کےلیے پہنچ گئے ،بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر بھی اجلاس میں شرکت کےلیے پہنچ گئے،ترکمانستان کے وزیرخارجہ راشدمیریدوف بھی جناح کنونشن سینٹر پہنچ گئے ،بیلاروس کے وزیراعظم رومان شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کےلیے پہنچ گئے ،تاجکستان کے وزیراعظم بھی اجلا س میں شرکت کےلیے پہنچ گئے،قازقستان کے وزیراعظم اولژ اس بیک تینوف کی کنونشن سینٹر آمد ہوئی ہے،کرغزستان کابینہ کے چیئرمین ژاپاروف اکیل بیک کی کنونشن سینٹر آمد ہوئی ہے،روسی وزیراعظم میخائل مشوستن شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کےلیے پہنچ گئے ،چینی وزیراعظم لی چیانگ بھی اجلاس کے لیے پہنچ گئے ،ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ اریپوف بھی اجلاس کےلیے پہنچ گئے

    کنونشن سینٹر آمد پر وزیر اعظم غیر ملکی سربراہان کا خیر مقدم کررہے ہیں ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی غیر ملکی سربراہان کا خیر مقدم کررہے ہیں، شرکا کے کنونشن سنٹر پہنچنے اور استقبال کے بعد گروپ فوٹو کا سیشن ہوا،

    group sco
    چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ایس سی او کانفرنس کے سلسلے میں مکمل روٹ لگائے جائیں گے جو کہ مہمانوں کی روانگی تک لگے رہیں گے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے جاری کردہ پلان کے مطابق مکمل روٹ لگائے جا رہے ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی سفری دشواری سے بچنے کے لیے سری نگر ہائی وے، ایکسپریس ہائی وے، سرینہ چوک، ریڈ زون اور کنونشن سنٹر کے اطراف میں سفر سے اجتناب کریں۔ ٹریفک کی تازہ ترین صورتحال جاننے کیلئے اسلام آباد پولیس کے ریڈیو ایف ایم 92.4 کو سنتے رہیں یا پکار 15 پر رابطہ کریں۔ کامیاب ایس سی او کے انعقاد میں ہمارے معاون بنیں،

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات

    چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    چین کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار جاری رہے گا: چینی وزیراعظم

    آرمی چیف اور چینی وزیراعظم کا گرم جوشی سے مصافحہ

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

  • عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نااہل ہیں ،قانونی فرم

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نااہل ہیں ،قانونی فرم

    لندن (باغی ٹی وی)آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کے معاملے پر قانونی پیچیدگیاں سامنے آگئی ہیں۔ معروف برطانوی قانونی فرم میٹرکس چیمبرز نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ضوابط کے مطابق چانسلر شپ کے لیے نااہل ہیں۔

    سینئر قانون دان ہیوساؤتھی کے مطابق عمران خان کے خلاف مجرمانہ سزا ہونے کے باعث وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے کے ضابطوں پر پورا نہیں اترتے۔ قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ٹرسٹیز یا چانسلر کے منصب پر فائز ہونے والے افراد سے شفافیت، دیانت داری اور غیر متنازع حیثیت کی توقع کی جاتی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کی اہلیت کا معاملہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کونسل کے چیریٹی ضوابط کے تحت زیر غور ہے جس پر یونیورسٹی نے باضابطہ طور پر میٹرکس چیمبرز سے قانونی رائے طلب کی۔

    پالیسی ایڈووکیسی گروپ بیلٹ وے گرڈ نے میٹرکس چیمبرز کی رائے پر اپنے تجزیے میں کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کا کردار صرف رسمی نہیں بلکہ اس میں ادارے کے عالمی مفادات کا تحفظ اور اعلیٰ اقدار کی نمائندگی شامل ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ چانسلر بننے والا فرد کسی سیاسی عہدے کا ارادہ نہیں رکھ سکتا۔ عمران خان کے موجودہ سیاسی کردار اور ان کے خلاف قانونی معاملات کے باعث یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا وہ ان تقاضوں پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

    دوسری جانب آکسفورڈ ایلومنائی کمیونٹی آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کی مخالفت یا حمایت نہیں کر رہی۔ کمیونٹی نے کہا کہ میڈیا میں سامنے آنے والے بیانات ان کے اجتماعی مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے اور کمیونٹی کا اس معاملے سے کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر کا انتخاب دنیا بھر سے نمایاں شخصیات کے درمیان ایک معتبر حیثیت رکھتا ہے اور اس میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے سخت ضابطے اور اخلاقی معیارات کا تعین کیا جاتا ہے۔ عمران خان کے بطور چانسلر انتخاب لڑنے کی خواہش پر یونیورسٹی کی جانب سے قانونی رائے طلب کیے جانے کو ان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا ہے جب قانونی ماہرین نے عمران خان کی ماضی کی مجرمانہ سزا اور ان کے سیاسی کردار کو ان کی چانسلرشپ کی اہلیت کے لیے ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا۔

  • پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق دروزبا ہفتم کا آغاز

    پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق دروزبا ہفتم کا آغاز

    پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق دروزبا ہفتم کا آغاز ہوگیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دو ہفتےطویل مشق 13 اکتوبرکونیشنل کاؤنٹرٹیررازم سینٹر پبی میں شروع ہوئی ہیں ، مہمان خصوصی کمانڈنٹ نیشنل کاؤنٹرٹیررازم سینٹرنے افتتاحی تقریب میں شرکت کی جب کہ مشق میں لائٹ کمانڈو ٹروپس اور روسی فوجی دستے بھی شریک تھے، پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق کا مقصد مشترکہ تربیت کے ذریعے پیشہ ورانہ مہارتوں اور دوست ممالک کےدرمیان تاریخی و فوجی تعلقات بہتربنانا ہے، یہ پاک روس افواج کی انسداددہشتگردی شعبےمیں ساتویں دوطرفہ مشترکہ مشق ہے، مشق میں حصہ لینے والے دستے ایک دوسرےکے باہمی تجربےسےفائدہ اٹھائیں گے،

  • صدر سے چینی وزیراعظم کی ملاقات،پاکستان اور چین کا اسٹریٹجک تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق

    صدر سے چینی وزیراعظم کی ملاقات،پاکستان اور چین کا اسٹریٹجک تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق

    صدر آصف علی زرداری سے چین کی ریاستی کونسل کے وزیراعظم لی چیانگ کی ملاقات ہوئی ہے

    پاکستان اور چین نےمعیشت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط سمیت اہم شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں ممالک نے پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا،صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، صدر ِمملکت نےدونوں ممالک کے مابین تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاک-چین تعلقات کو وسعت دینے کی مزید گنجائش موجود ہے، صدر مملکت نےتجارتی اور عوامی روابط مضبوط بنانے کیلئے ہمہ موسمی سڑکوں کے ذریعے روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اورکہا کہ چینی کمپنیوں کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری سے پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، سی پیک اور گوادر پورٹ کی مدد سے چین کی اقتصادی ترقی سے بھرپور استفادہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، نومبر میں چین کا دورہ کروں گا ،پرانے دوستوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے ، تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے بات چیت کا منتظر ہوں، صدر مملکت نے ملاقات کے دوران اپنے سابقہ دور حکومت میں چین کے دوروں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان کو باہمی اہمیت کے اہم مسائل پر چین کی ہمیشہ غیر متزلزل حمایت حاصل رہی ، صدر مملکت نے دہشت گردانہ حملے میں دو چینی شہریوں کی ہلاکت پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ دلخراش واقعہ پوری قوم کیلئے تکلیف کا باعث بنا ،پاک چین دوستی کے دشمن چینی شہریوں کو نشانہ بنا کر دوطرفہ تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،پاک چین دوستی کے دشمن سی پیک منصوبوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دشمن اپنی مذموم کوششوں میں کامیاب نہیں ہوں گے ، صدر مملکت نےمجرموں کو مثالی سزا دینے کے پاکستان کے عزم کے اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے ،

    صدر مملکت نے تنازعہ جموں و کشمیر پر پاکستان کی حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا، صدر مملکت نے چین کے تمام بنیادی امور بشمول تبت، بحیرہ جنوبی چین پر چین کی حمایت کا اعادہ کیا،

    اس موقع پر چینی وزیراعظم لی چیانگ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین اچھے بھائی، پڑوسی، شراکت دار اور دوست ہیں، صدر شی جن پنگ کی قیادت میں پاک چین اسٹریٹجک تعاون مزید گہرا ہوتا رہے گا، پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کے فروغ میں صدر آصف علی زرداری کی خدمات کے معترف ہیں،دونوں ممالک نے عالمی چیلنجز سے قطع نظر ایک دوسرے کی مسلسل حمایت کی ،پاکستان اور چین اپنی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے،وزیراعظم لی چیانگ نےسی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے چینی کمپنیوں کی مدد جاری رکھے گا، امید ہے کہ پاک چین تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوتے رہیں گے،چینی وزیر اعظم نے "ون چائنا” پالیسی، تائیوان، تبت، ہانگ کانگ، سنکیانگ اور بحیرہ جنوبی چین سمیت تمام بنیادی مسائل پر چین کی مضبوط حمایت پر پاکستان کو سراہا اور کہا کہ چین پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور خوشحالی کی حمایت جاری رکھے گا،

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات

    چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    چین کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار جاری رہے گا: چینی وزیراعظم

    آرمی چیف اور چینی وزیراعظم کا گرم جوشی سے مصافحہ

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

  • مجوزہ آئینی ترامیم، قومی اسمبلی اجلاس 18 اکتوبر کو طلب کرنے کا فیصلہ

    مجوزہ آئینی ترامیم، قومی اسمبلی اجلاس 18 اکتوبر کو طلب کرنے کا فیصلہ

    مجوزہ آئینی ترامیم،قومی اسمبلی کا اجلاس 18 اکتوبر کو طلب کئے جانے کا امکان ہے

    قومی اسمبلی کا اجلاس 18 اکتوبر کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس 18 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے طلب کیے جائے گا، اجلاس میں مجوزہ آئینی ترامیم پیش کی جائیں گی، ن لیگ ، پیپلز پارٹی نے اپنے اراکین قومی اسمبلی کو اسلام آباد میں ہی رہنے کی ہدایت کر دی ہے، اجلاس میں آئینی ترامیم کی پیشی کے دوران پی ٹی آئی کی مخالفت کا امکان ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ 25 اکتوبر سے قبل آئینی ترامیم منظور کروا لی جائیں، مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترامیم کو لے کر آج بلاول زرداری سے بلاول متوقع ہے، مولانا فضل الرحمان نواز شریف سے بھی ملیں گے، آئینی ترامیم پر حکومتی اتحادی ایک پیج پر ہیں تا ہم جے یو آئی وفاقی آئینی عدالت کے خلاف ہے، بلاول زرداری مسلسل آئینی عدالت کے قیام بارے بیانات دے رہے ہیں

    بلاول بھٹو کا آئینی عدالت کے قیام اور آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور

    وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    آئینی ترامیم، اپوزیشن بھی تجویز دے،اللہ بہتر کرے گا،وفاقی وزیر قانون

    وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں،بلاول

    آئینی ترامیم، آج حکومتی ڈرافٹ ملا،دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی،مولانا فضل الرحمان

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

  • ایس سی او اجلاس، دفترخارجہ نے شیڈول جاری کر دیا

    ایس سی او اجلاس، دفترخارجہ نے شیڈول جاری کر دیا

    شنگھائی تعاون تنظیم کا 23 واں سربراہی اجلاس آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے،

    ایس سی او اجلاس کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے، اجلاس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے وزرا اعظم شریک ہوں گے، چین اور کرغزستان کے وزرا اعظم پاکستان پہنچ چکے ہیں، اجلاس میں دیگر اعلیٰ شخصیات بھی شریک ہوں گی،اجلاس کے شیڈول کے حوالہ سے ترجمان دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا ہے،ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق 2 روزہ ایس سی او سمٹ میں شرکت کے لیے تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان و نمائندوں کی وفاقی دارالحکومت آمد کا سلسلہ جاری ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف آج مہمانوں کے اعزاز میں استقبالیہ و عشائیہ دیں گے،وزیرِ اعظم شہباز شریف ایس سی او کے سربراہی اجلاس کے دوران کل مختلف ممالک کے وفود کے سربراہان سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے، دو طرفہ ملاقاتوں کے دوران دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے،کل صبح تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان و نمائندے اجلاس میں شرکت کے لیے جے سی سی پہنچیں گے جہاں ان کا استقبال وزیرِ اعظم شہباز شریف کریں گے، اس کے بعد گروپ فوٹو کا سیشن ہو گا،ایس سی او اجلاس کی کارروائی کا آغاز شہباز شریف اپنے افتتاحی کلمات سے کریں گے، ایس سی او اجلاس میں معیشت، تجارت، ماحولیات اور سماجی و ثقافتی روابط کے شعبوں میں جاری تعاون پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا اور تنظیم کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا، تنظیم کے رکن ممالک باہمی تعاون کو مزید بڑھانے اور تنظیم کے بجٹ کی منظوری کے لیے اہم تنظیمی فیصلے کریں گے،

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ایس سی او کانفرنس کے اختتام پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور ایس سی او کے سیکریٹری جنرل میڈیا سے گفتگو کریں گے اور اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے،صحافیوں کے سوالات کے جواب دیں گے،وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے کل بھی مہمانوں کے اعزاز میں سرکاری ظہرانے کا اہتمام کیا جائے گا

    آرمی چیف اور چینی وزیراعظم کا گرم جوشی سے مصافحہ

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی کانفرنس،دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،شرجیل میمن

  • چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چینی وزیراعظم نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات کی، جس دوران دفاعی تعاون، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کاوشیں اور خطے میں استحکام کے معاملات زیر بحث آئے۔
    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے پاکستان اور چین کے درمیان طویل عرصے سے قائم گہرے دوستانہ تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لیا اور ان کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چین اور پاکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ مشکل وقت میں تعاون کیا ہے اور اس موقع پر بھی دونوں ممالک کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے معاشی، دفاعی اور اسٹریٹیجک تعلقات کو نئے دور میں لے کر جائیں گے۔چینی وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان کو چین کا اہم اسٹریٹیجک پارٹنر قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان جاری اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ یہ منصوبہ پورے خطے کے استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔
    دفاعی امور اور دہشتگردی کے خلاف جنگ پر گفتگو کرتے ہوئے، چینی وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین اس جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور مستقبل میں بھی دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کی افواج دفاعی میدان میں اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گی۔ خاص طور پر مشترکہ فوجی مشقیں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاملات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
    ملاقات کے دوران خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ چینی وزیراعظم اور پاکستان کی عسکری قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی صورتحال اور دیگر علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔چینی وزیراعظم نے پاکستان کی عسکری قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ چین پاکستان کی سیکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی کامیابیاں پورے خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
    چینی وزیراعظم لی چیانگ کا یہ دورہ نہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کے تناظر میں اہم تھا بلکہ اس نے چین اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا۔ اس دورے کے دوران مختلف اہم معاملات پر بات چیت کی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔چینی وزیراعظم کی اس ملاقات کو پاکستان اور چین کے اسٹریٹیجک تعلقات میں ایک نئے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات سامنے آئیں گے۔

  • پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم عزت مآب لی چیانگ کے درمیان آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے مابین وفود کی سطح پر دو طرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور، اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات میں پاک چین تعلقات کی تاریخی اہمیت اور اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی، جسے دونوں ممالک نے باہمی اعتماد اور مشترکہ اصولوں پر مبنی قرار دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین شراکت داری وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے اور اس میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
    ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے کی ترقی اور اس کے معیار پر خاص زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک کا فیز 2، جو کہ پاکستان کی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، کو مزید مؤثر اور تیز رفتار طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی پیک کے تحت جاری تمام منصوبے جیسے کہ صنعت، زراعت کی جدیدیت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو بروقت مکمل کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران پاکستان میں موجود چینی باشندوں اور سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کارکنان کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ہر ممکن قدم اٹھائے گا تاکہ چینی باشندوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ملاقات میں چینی صنعت کی پاکستان میں ری لوکیشن اور چینی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی، جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین علاقائی اور عالمی اہمیت کے مسائل پر بھی قریبی مشاورت جاری رکھیں گے اور کثیر الجہتی فورمز پر مشترکہ موقف اپنائیں گے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے روابط کو جاری رکھنے پر زور دیا اور مستقبل میں دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں کو مضبوط کرنے کے لیے پر عزم رہنے کا عہد کیا۔یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کے ایک اور اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید تقویت ملے گی بلکہ خطے میں استحکام اور ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔