Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت: اہم ملاقات کے نتائج

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم عزت مآب لی چیانگ کے درمیان آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے مابین وفود کی سطح پر دو طرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور، اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات میں پاک چین تعلقات کی تاریخی اہمیت اور اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی، جسے دونوں ممالک نے باہمی اعتماد اور مشترکہ اصولوں پر مبنی قرار دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین شراکت داری وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے اور اس میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
    ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے کی ترقی اور اس کے معیار پر خاص زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک کا فیز 2، جو کہ پاکستان کی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، کو مزید مؤثر اور تیز رفتار طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی پیک کے تحت جاری تمام منصوبے جیسے کہ صنعت، زراعت کی جدیدیت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو بروقت مکمل کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران پاکستان میں موجود چینی باشندوں اور سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کارکنان کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ہر ممکن قدم اٹھائے گا تاکہ چینی باشندوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ملاقات میں چینی صنعت کی پاکستان میں ری لوکیشن اور چینی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی، جس سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین علاقائی اور عالمی اہمیت کے مسائل پر بھی قریبی مشاورت جاری رکھیں گے اور کثیر الجہتی فورمز پر مشترکہ موقف اپنائیں گے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے روابط کو جاری رکھنے پر زور دیا اور مستقبل میں دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں کو مضبوط کرنے کے لیے پر عزم رہنے کا عہد کیا۔یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کے ایک اور اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید تقویت ملے گی بلکہ خطے میں استحکام اور ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

  • چین کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار جاری رہے گا: چینی وزیراعظم

    چین کا پاکستان کی ترقی میں اہم کردار جاری رہے گا: چینی وزیراعظم

    اسلام آباد: چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں کہی، جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک تھے۔اس موقع پر دونوں ممالک نے کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن میں اسمارٹ کلاس رومز، سی پیک ورکنگ گروپ سے متعلق مفاہمتی یادداشت، انسانی وسائل کی ترقی، آبی وسائل کے شعبے، اطلاعات و مواصلات، غذائی تحفظ اور مشترکہ لیبارٹریوں کے قیام جیسے موضوعات شامل تھے۔دونوں وزرائے اعظم نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ورچوئل افتتاح بھی کیا۔ چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان گہری اور مضبوط دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کی تذویری شراکت داری مضبوط ہوتی جا رہی ہے، اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور ترقیاتی اہداف کے لیے پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے متعدد شعبوں میں یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ انہوں نے چین کے پختہ عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ دونوں ممالک کی مضبوط دوستی اور باہمی تعاون کا مظہر ہے، اور چین نے پاکستان کے معاشی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تعلیمی، اور سائنسی تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے اور دونوں ممالک کی دوستی کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔

    مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اور باہمی تعاون کے نئے مواقع

    اسلام آباد میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے شرکت کی۔ اس تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے۔تقریب میں "اسمارٹ کلاس رومز” کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا، جس کے تحت پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سی پیک کے تحت گوادر میں ساتویں جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے نکات کی دستاویزات بھی تبادلہ کی گئیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری کے مزید منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔دونوں ممالک نے انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے بھی اہم دستاویزات کا تبادلہ کیا، جس کا مقصد پاکستان میں نوجوانوں کی تربیت اور ترقی کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔ اطلاعات اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، اور معلومات کے تبادلے میں شراکت داری مزید مضبوط ہو گی۔

    آبی وسائل اور سلامتی کے شعبے میں بھی تعاون

    اس موقع پر آبی وسائل کے شعبے میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت پاکستان میں پانی کے وسائل کے بہتر انتظام اور ترقیاتی منصوبوں میں چین کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی دستاویزات کا تبادلہ بھی کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور مشترکہ سیکیورٹی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم ثابت ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سماجی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل سے بلوچستان کی علاقائی ترقی میں تیزی آئے گی اور یہ منصوبہ سی پیک کے تحت ہونے والے دیگر منصوبوں کے لیے بھی ایک نمونہ ثابت ہوگا۔

  • وزیراعظم ہاؤس میں تقریب،چینی وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش

    وزیراعظم ہاؤس میں تقریب،چینی وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش

    چینی وزیراعظم انتہائی سخت سیکورٹی اور وی وی آئی پی پروٹوکول میں وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے

    وزیراعظم ہاؤس میں چینی وزیراعظم کے اعزازمیں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی،وزیراعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب کا استقبال کیا. مسلح افواج کے چاق وچوبند دستے نے چینی وزیراعظم کو گارڈآف آنرپیش کیا. پاکستان اور چین کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں. دونوں وزرائے اعظم کے درمیان خیر سگالی کے جذبات کا اظہار ہوا،وزیراعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب لی چیانگ سے کابینہ ارکان اور عملے کا تعارف کرایا. چین کے وزیراعظم نے اپنے وفد کے ارکان کا وزیراعظم محمد شہباز شریف سے تعارف کرایا.چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے وزیراعظم ہاؤس کے احاطےمیں پودالگایا.

    چینی وزیراعظم کا دورہِ پاکستان ،سی پیک ورکنگ گروپ سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا ہے،سی پیک کے تحت گوادر پر ساتویں جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے نکات کی دستاویز کا تبادلہ ہوا ہے،دونوں ممالک کے درمیان سمارٹ کلاس رومز کے حوالے سے دستاویز کا تبادلہ ہوا ہے،دونوں ممالک کے درمیان انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق دستاویز کا تبادلہ ہوا ہے،سی پیک ورکنگ گروپ سے متعلق دستاویز کا تبادلہ ہوا ہے،دونوں ممالک کے درمیان اطلاعات اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کی دستاویز کا تبادلہ ہوا ہے

    چینی وزیراعظم کی 11 سال بعد آمد کے ساتھ سی پیک فیز 2 کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ نیا مرحلہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور علاقائی تجارت کو مزید مضبوط بنائے گا۔ پاکستان اور چین مل کر روشن مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں

    قبل ازیں چینی وزیراعظم پاکستان پہنچے تو اسلام آباد میں نور خان ائربیس پر وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وزیراعظم کا استقبال کیا،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطاء تارڑ بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے،یہ دورہ کسی بھی چینی وزیر اعظم کا 11 برس بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے.چینی وزیراعظم طیارے سے باہر آئے تو انہوں نے ہاتھ ہلایا، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور شرکا نے بھی جوابا ہاتھ ہلایا ،چینی وزیراعظم کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، چینی وزیراعظم کو اسلام آباد پہنچنے پر ایئر پورٹ پر ہی 21 توپوں کی سلامی دی گئی، بعد ازں وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم بات چیت کرتے ہوئے آگے بڑھے

    چینی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کو باہمی دوستی کے نئے باب کی شروعات سمجھتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نےچین کے وزیراعظم لی چیانگ کی آمد پرپر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ کو حکومت پنجاب اور عوام کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہیں ،چینی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کو باہمی دوستی کے نئے باب کی شروعات سمجھتے ہیں۔چین اور پاکستان کے مابین تعلقات عالمی امن، خطے کی خوشحالی اور ترقی کے ضامن ہیں۔پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی کا سہرا پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نوازشریف کے سر ہے-وزیراعظم محمد شہبازشریف پاک چائنہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں -پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سی پیک کا آغاز پاک چین دوستی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔چینی وزیراعظم کی آمد سے سی پیک پراجیکٹس میں تیزی آئے گی، روز گار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے- پاکستان اور چین کے درمیان باہمی دوستی، اعتماد اور احترام کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے، مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان اور چین کا باہمی تعاون تاریخ کا حصہ بن چکاہے -پاکستان اور چین مل کر خوشحال اور پرامن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاک چین دوستی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہو رہی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو عالمی خوشحالی کے لیے چین کے عزم کا اظہارکرتا ہے۔چین کی اقتصادی ترقی کے ثمرات سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہورہے ہیں۔

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی کانفرنس،دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،شرجیل میمن

  • چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے،
    اسلام آباد میں نور خان ائربیس پر وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وزیراعظم کا استقبال کیا،نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطاء تارڑ بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے،یہ دورہ کسی بھی چینی وزیر اعظم کا 11 برس بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے.چینی وزیراعظم طیارے سے باہر آئے تو انہوں نے ہاتھ ہلایا، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے جواب دیا، چینی وزیراعظم کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا،، چینی وزیراعظم کو اسلام آباد پہنچنے پر ایئر پورٹ پر ہی 21 توپوں کی سلامی دی گئی، بعد ازں وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم بات چیت کرتے ہوئے آگے بڑھے،بعد ازاں چینی وزیراعظم لی چیانگ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ گاڑی پر سوار ہوکر وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس کے لئے روانہ ہوئے

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی وزیراعظم لی چیانگ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی ہوئی،عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم، اور اپنے بھائی کے ایک تاریخی اور نتیجہ خیز دورے کا منتظر ہوں جو ہماری دوستی کو مزید مضبوط اور گہرا کرے گا۔ ہم موجودہ اقدامات بالخصوص سی پیک پر پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور باہمی فائدہ مند تعاون کی نئی راہیں بھی تلاش کریں گے۔

    چینی وزیراعظم لی چیانگ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان تعلقات دو طرفہ ریاستی تعلقات کے ایک عمدہ مثال بن گئے ہیں،پاکستان پہنچنے کے بعد چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان حکومت کی 23ویں میٹنگ میں شرکت کرنے اور وزیراعظم شہبازشریف کی دعوت پر پاکستان کادورہ کرنے پربہت خوشی ہے،جیسےہی میں جہاز سے اترا، مجھے گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا، پاکستانی عوام کی گہری برادرانہ دوستی اور مہمان نوازی نے متاثر کیا، پاکستان ایک اہم ترقی پذیر ملک، ابھرتی ہوئی منڈی اور بڑا مسلم ملک ہے جب کہ پاکستان چین کا ہر موسم کا اسٹریٹجک تعاون کرنے والا ساتھی اور آہنی دوست ہے، پاکستان کو چینی عوام بہت پسند کرتے ہیں اور سراہتے ہیں ، 73سال میں دونوں ممالک نےمستقل اعتماد قائم رکھااورایک دوسرےکی حمایت کی، چین پاکستان تعلقات دوطرفہ ریاستی تعلقات کی ایک عمدہ مثال بن گئے ہیں۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چینی وزیرِ اعظم کی ملاقات اور وفود کی سطح پر بھی ملاقاتیں ہونگیں. دونوں وزراءِ اعظم چین پاکستان تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے، جس میں سی پیک 2 کے ساتھ ساتھ دیگر بڑے منصوبے بھی شامل ہیں. تقریب میں گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ورچوئل افتتاح بھی شامل ہے.وزیراعظم شہباز شریف چینی وزیراعظم کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے، چینی وزیراعظم ایس سی او اجلاس میں بھی شریک ہوں گے،انتہائی ہائی لیول ایونٹ اسلام آباد میں ہو رہا ہے، چینی وزیراعظم کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے،

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی کانفرنس،دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،شرجیل میمن

  • شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    پاکستان کی میزبانی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے دو روزہ اجلاس کی میزبانی کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں،

    شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے اعظم کے علاوہ ایران کے اول نائب صدر اور بھارت کے وزیر خارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کرینگے۔چین کے وزیراعظم لی چیانگ اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔منگولیا کے وزیراعظم، مبصر ریاست کے طورپر اور ترکمانستان کے وزراء کی کابینہ کے نائب چیئرمین اور وزیرخارجہ بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کونسل کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں معیشت، تجارت ،ماحولیات اور سماجی و ثقافتی روابط کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی جائے گی اور تنظیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے موقع پر دورے پر آئے ہوئے وفود کے سربراہان سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریںگے.

    ایس سی او سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے غیر ملکی وفود پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور اس سلسلے میں بھارت کا 4 رکنی سرکاری وفد پاکستان پہنچ گیا ہےروس کا 76رکنی جبکہ چین کا 15رکنی وفد بھی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے،کرغستان کا 4 رکنی اور ایران کا 2رکنی وفد بھی اسلام آباد پہنچ گیا ہے جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے7 نمائندے بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس 15، 16 اکتوبر کو پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہو گا، 23 ویں اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، اجلاس جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہو گا، اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی ، سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان اجلاس میں افغانستان شامل نہیں ہو گا۔

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

  • شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس میں مہمانوں کی آمد سے قبل شہر اقتدار اسلام آباد کو دلہن کی مانند سجا دیاگیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم شاہراہوں، چوک چوراہوں پر سبزی ہلالی رنگوں کی خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے، سرکاری عمارات کے ساتھ ساتھ نجی کاروباری مراکز کو بھی سجایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اسلام آباد کو سجانے کی ویڈیو جاری کی گئی ہے،اجلاس کے موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔وفاقی دار الحکومت دلکش مناظر پیش کرنے لگا، وفاقی ترقیاتی ادارے نے اسلام آباد کو انتہائی خوبصورتی سے سجادیا،رنگ برنگی روشنیوں نے شہر اقتدار کے حسن کو چار چاند لگا دیئے،

    دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کرنے والے چند ممالک کے وفود کے سربراہوں کے نام جاری کئے ہیں، ایس ای او سربراہی اجلاس میں چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ اپنے وفد کی قیادت کریں گے،بھارت سے بھی وفد شریک ہو گا،بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر بھارتی وفد کی قیادت کریں گے،ایرانی اوّل نائب صدر محمد رضا عارف ایرانی وفد کی سربراہی کریں گے،بیلا روس کے وزیرِ اعظم رومان گولوف چینکو اپنے ملک کے وفد کی سربراہی کریں گے

    شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس 15، 16 اکتوبر کو پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہو گا، 23 ویں اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کریں گے،اجلاس جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہو گا، اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی ، سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان اجلاس میں افغانستان شامل نہیں ہو گا۔

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

  • ایس سی او اجلاس کے دوران احتجاج ملکی مفادات کے خلاف ہے، اسحاق ڈار

    ایس سی او اجلاس کے دوران احتجاج ملکی مفادات کے خلاف ہے، اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ریاست پر حملہ آور ہونے اور 15 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران احتجاج کی کال دینے کو ملکی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے ریاست پر حملہ کر کے ریڈ لائن کو عبور کر لیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر 15 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کی کال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر احتجاج کی کال دینا ناقابل فہم ہے، کیونکہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک بڑے اور اہم اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ جب ہمارے ملک میں بین الاقوامی مہمان آ رہے ہوں، اس وقت احتجاج کیا جائے؟ یہ ریاست اور عوام دونوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ اگر کسی کو احتجاج کرنا ہے، تو وہ ایس سی او اجلاس کے بعد کرے۔ ہمیں ملک کی عزت اور وقار کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔اسحاق ڈار نے واضح طور پر کہا کہ 15 اکتوبر کو ہونے والا احتجاج فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت تاثر ابھر سکے اور اجلاس کے دوران کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ایس سی او اجلاس کے لیے پاکستان کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور حکومت اس بڑے سفارتی ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا، "پاکستان ایس سی او کے تمام ممبر ممالک کے وفود کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے اور شاندار میزبانی کی روایت کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔” اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنا مثبت امیج دوبارہ قائم کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے بڑے ممالک یہاں جمع ہو رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے ان عناصر پر بھی تنقید کی جو پاکستان کی بین الاقوامی تنہائی کی باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا، "جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہو گیا ہے، وہ اب کہاں ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او جیسے بڑے اجلاس کی میزبانی کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی برادری کا پاکستان پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
    نائب وزیر اعظم نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ملک کے بین الاقوامی وقار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے توقع کرتی ہے کہ وہ مل کر کام کریں اور پاکستان کے وقار اور ساکھ کو مزید مضبوط کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایسے وقت میں احتجاج کرنا جب عالمی رہنما پاکستان میں موجود ہوں، غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کے حق سے انکار نہیں، لیکن انہیں ملکی مفادات اور قومی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کرنے چاہئیں۔
    شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم ایونٹ ہے۔ یہ نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ ایس سی او کے رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں، اور ان تمام ممالک کے وفود کی موجودگی میں پاکستان کے لیے دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دینے کے امکانات روشن ہوں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اجلاس علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو گا اور پاکستان کا اس میں کردار کلیدی ہو گا۔
    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈا نے زور دیا کہ ملک کی عزت اور استحکام کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔ احتجاجی سرگرمیاں، خاص طور پر ایسے اہم مواقع پر جب پاکستان بین الاقوامی توجہ کا مرکز ہو، ملکی وقار کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی طے کریں اور اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔یہ بیان پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنا کردار مزید مضبوط کرے اور علاقائی و عالمی امن کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالے۔

  • ایس سی او اجلاس:  غیرملکی وفود کی آمد کاسلسلہ شروع

    ایس سی او اجلاس: غیرملکی وفود کی آمد کاسلسلہ شروع

    اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) اجلاس میں شرکت کے لیے غیرملکی وفود کی آمد کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے،روس ،چین کرغستان ، ایران اور بھارتی وفود پاکستان پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کے مطابق ایس سی او سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے غیر ملکی وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں بھارت کا 4 رکنی سرکاری وفد پاکستان پہنچ گیا ہےروس کا 76رکنی جبکہ چین کا 15رکنی وفد بھی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچا ہےکرغستان کا 4 رکنی اور ایران کا 2رکنی وفد بھی اسلام آباد پہنچ گیا ہے جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے7 نمائندے بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

    واضح رہے شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس 15 سے 16 اکتوبر کے درمیان اسلام آباد میں ہوگا جس میں مختلف ممالک کے 200 وفود شرکت کریں گے جس کے لئے اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سطح اجلاس کی ساری تیاریاں ہوگئی ہیں راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں کئی شاہراہیں نقل و حمل کے لیے بند ہیں۔

    جڑواں شہروں میں محکمہ ٹریفک پولیس کے نے سربراہی اجلاس کے دونوں میں ٹریفک پلان پیش کردیا۔ سڑکوں کی بندش کا اطلاق 14 سے 16 اکتوبر تک ہو گا۔

    اسلام آباد

    پشاور سے روات: جی ٹی روڈ، ٹیکسلا، موٹروے، چک بیلی روڈ، اور روات استعمال کریں، لاہور (جی ٹی روڈ) سے پشاور: روات، چک بیلی روڈ، چک بیلی انٹر چینج، موٹروے، اور ٹیکسلا استعمال کریں، مارگلہ روڈ سے راولپنڈی: 9th ایونیو استعمال کریں، فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ: ٹریفک کو 9 ویں ایونیو کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

    اسی طرح بہارہ کہو سے راولپنڈی: کورنگ روڈ اور لہترڑ روڈ بنی گالہ کے راستے استعمال کریں، راولپنڈی سے اسلام آباد: مری روڈ (صدر) سے 9ویں ایونیو کا استعمال کریں، فیصل ایونیو (زیرو پوائنٹ) تا کورل چوک: ایکسپریس وے دونوں سمتوں سے بند رہے گا، کرنل شیر خان شہید روڈ تا فیض آباد: 9th ایونیو سگنل اور اسٹیڈیم روڈ استعمال کریں، ہیوی ٹریفک (پشاور سے لاہور): ٹیکسلا، موٹروے، ترنول پھاٹک، فتح جنگ روڈ انٹرچینج، اور موٹر وے کا استعمال کریں، ہیوی ٹریفک (لاہور جی ٹی روڈ سے اسلام آباد/راولپنڈی): چک بیلی روڈ، چک بیلی انٹر چینج، اور موٹر وے استعمال کریں۔

    راولپنڈی

    موومنٹ کے دوران چوہان چوک سے ائیرپورٹ روڈ کی طرف ٹریفک کی اجازت نہیں ہوگی، کورل چوک کی طرف جانے والی ٹریفک کو چوہان چوک سے راول روڈ، شاہین چوک، مری روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا، جھنڈا ٹرن سے امر چوک کی طرف آنے والی ٹریفک کو امر چوک سے سکیم 3 یا کچہری چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا، امر چوک سے چوہان چوک کی طرف آنے والی ٹریفک کو آغا ز فلائی اوور رحیم آباد سے رحیم آباد کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

    اسی طرح انیکسی چوک سے امر چوک کی طرف آنے والی ٹریفک کو جھنڈا روڈ (جھنڈا ٹرن) اور راشد منہاس روڈ کے راستے موڑ دیا جائے گا مشتاق بیگ شہید روڈ سے ایئرپورٹ روڈ کی طرف آنے والی ٹریفک کو انیکسی چوک سے کچہری چوک کی طرف موڑ دیا جائے گاکچہری چوک سے ایئرپورٹ روڈ کی طرف آنے والی ٹریفک کو راشد منہاس روڈ اور مریر چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا مال روڈ سے کچہری چوک کی طرف آنے والی ٹریفک کو شالیمار چوک سے سرور روڈ، پنجاب سٹریٹ اور راشد منہاس روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا،اس دوران ہیوی ٹریفک کو موٹروے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • چینی  وزیراعظم  14 سے17 اکتوبر کے دوران پاکستان کا دورہ کریں گے

    چینی وزیراعظم 14 سے17 اکتوبر کے دوران پاکستان کا دورہ کریں گے

    اسلام آباد:چینی وزیراعظم لی کیانگ 14 سے17 اکتوبر کے دوران پاکستان کا دورہ کریں گے –

    باغی ٹی وی : چینی وزیر اعظم لی کیانگ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں وزیر اعظم لی کیانگ کے ہمراہ وزارت خارجہ ، تجارت،نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن اور چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے اعلی افسران اور وزرا شامل ہو ں گے –

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وزیر اعظم لی کیانگ اپنے اپنے وفود کی قیادت کریں گے جہاں وہ پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں بشمول اقتصادی اور تجارتی تعلقات اور سی پیک کے تحت تعاون پر جامع بات چیت کریں گے۔

    دونوں فریقین علاقائی اور عالمی پیشرفت پر بھی بات کریں گے،چینی وزیراعظم صدر آصف علی زرداری سے ملاقات بھی کریں گے اور پارلیمانی رہنماؤں اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے وہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کی کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

    وزیر اعظم لی کیانگ کا دورہ ، پاکستان اور چین کی جانب سے "آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کی اہمیت کا اظہار ہے۔

    واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے جا رہا ہے جس میں مختلف ممالک کے 200 وفود شرکت کریں گے۔

  • ڈاکٹر ذاکر نائیک،پلیز پاکستان سے چلے جائیں، مبشر لقمان کا پیغام

    ڈاکٹر ذاکر نائیک،پلیز پاکستان سے چلے جائیں، مبشر لقمان کا پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں بڑے دکھ کے ساتھ یہ پروگرام کر رہا ہوں، میرا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لئے مؤدبانہ پیغام ہے کہ پلیز گو ہوم بیک، ڈاکٹر ذاکر نائیک آپ واپس چلے جائیں

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر آج کہا جائے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان چھوڑیں اورگھر جائیں تو پاکستان کے لوگ بہت خوش ہوں گے، وہ پاکستان تبلیغ کے لئے آئے ہیں جب میں انکو اپنے لوکل سکالر ڈاکٹر اسرار،مولانا مودودی، مفتی عبدالحق و دیگر سے کمپئر کرتا ہوں تو یہ کچھ بھی نہیں،مجھے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اختلافات ہیں جب پچھلے ہفتے میں کراچی گیاتو پتہ چلا کہ وہ اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے جہاں میں تھا، جب وہ پاکستان نہیں آئے تھے تو ایک دوست کو کہا کہ انکا انٹرویو کروا دیں،کراچی میں مجھے دوست نے کہا کہ لاہور میں پہلے ملاقات اور پھر انٹرویو ہو جائے گا،پھر میں نے اپنی پوری ٹیم سے بات کی،میں نے منافقت نہیں کرنی، میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا انٹرویو نہیں کروں گا، میں نے اگر انٹرویو کیا تو شائد وہ پورا ہی نہ کریں ،انکا خطاب گورنر ہاؤس کا دیکھا وہ گورنر ہاؤس میں پی آئی اے پر برس رہے تھے، انکو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ پی آئی اے میں کس سے بات ہوئی، سامان فری پی آئی اے والے کیوں کریں، پھر کہتے کہ میں انڈیا میں ہوتا تو ہندو یہ کہتے، تو سن لیں ہندو یہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اچھے آدمی نہیں، یہ ہندو کہتے ہیں اور سب بھارتی کہتے ہیں، آپ نے اتناز یادہ کیا ، اسکو ایوارڈ دینا چاہئے کہ پی آئی اے نے رول نہیں توڑا، اختیارات سے تجاوز نہیں کیا او ر آپ کہہ رہے میں نے ویزہ دکھایا کہ میں سٹیٹ گیسٹ ہوں، کیا آپ ہوٹل جاؤ گے ، چائے پیو گے اور کہو گے میں سٹیٹ گیسٹ ہوں مجھ سے بل نہ لیں، شاپنگ کریں گے اور کہیں گے میں سٹیٹ گیسٹ ہوں، ایسا نہیں ہوتا، آپ مہمان ہیں تو مہمان ہی رہیں اور اپنی حدود میں رہیں،لوگوں کو کہا کہ نو نو کروڑ کا کیمرہ ہے،کونسا کیمرہ نو کروڑ کا ہے، یہ کونسے کیمرے ہیں جو آپ اٹھا کر پھر رہے ہیں،سب سے اچھا کیمرہ دو کروڑ کا ہے، سارے لینسز لیں گے تو پانچ کروڑ کا ہو جائے گا، کیا یہ آپ اپنی جیب سے لے رہے ہیں اس سوال کا جواب دے دیجیے گا یا یہ آپ ڈونیشن سے لے رہے ہیں، مقصد تبلیغ ہے، دین کو فروغ دینا ہے تو جس کیمرہ سے میں ریکارڈنگ کر رہا ہوں اس سے کر یں یہ لاکھوں میں ہے، کروڑوں میں نہیں، آپ کا جو ٹی وی ہے پیس ٹی وی، وہ انڈیا کے علاوہ کئی اور جگہیں ہیں جہاں نہیں دیکھا جا رہا،انڈیا نے آپ نے منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے ،ہیٹ سپیچ کے الزامات لگائے،آپ ملیشیا میں بھی تبلیغ نہیں کر سکتے اور اس طرح کی کوئی تقریر نہیں کر سکتے جو پاکستان میں کر رہے ہیں،آپ نے انڈیا کی تعریف کرنی ہے ضرور کریں، کئی بار ہم خود بھی کر دیتے ہیں، کئی انڈین بھی پاکستانیوں کی تعریف کر دیتے ہیں،لیکن یہ ہم یوز نہیں کرتے اس طرح،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ایک این جی او میں ذاکر نائیک گئے تویتیم بچیوں کو ایوارڈ نہیں دیا،پہلے پتہ چلا کہ نامحرم بچیاں ہیں ہاتھ لگ جائے گاکیوں ہاتھ لگے گا ہاتھ قابو میں رکھیں، سٹیج پر بچیاں آ گئی تھیں، آپ انکو کم از کم دعا دے دیتے پھر چلے جاتے، فی میل اینکرز کو آپ انٹرویو دے رہے ہیں، ایئر سیال میں کیپٹن کے ساتھ تصویر بنوا رہے وہیں ایئر ہوسٹس بھی ہیں، یہ دوہرامعیار کیوں ہے

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی انتہائی”بیہودہ”گفتگو،خواتین بارے شرمناک ریمارکس،ویڈیو وائرل

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستانی قوم سے معافی مانگ لی

    ڈاکٹر ذاکر نائیک لاہور پہنچ گئے

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری تفویض کردی گئی

    پاکستان اور قومی ائیر لائن کو برا کہنے پر مشی خان ڈاکٹر ذاکر نائیک پر برس پڑیں

    یوٹیوب کی کمائی حرام ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک

    ڈاکٹر ذاکر نائیک پی آئی اے حکام پر برس پڑے

    لڑکیوں کو شیلڈ کیوں نہیں دی؟ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے خود بتا دیا

    پاکستان میں رہ کرجنت میں جانے کے امکانات امریکا سے کئی گناہ زیادہ ہیں،ڈاکٹرذاکرنائیک

    کراچی اجتماع میں اداکارہ یشما گِل کا ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اہم سوال

    ہندو رکن اسمبلی کے جبری تبدیلی مذہب کے سوال پر ڈاکٹر ذاکر کا جواب

    دھمکی یا ہتھیار دکھاکر تبدیلی مذہب حرام ہے،ڈاکٹر ذاکر نائیک

    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے میڈیا کو سب سے بڑا اور خطرناک ہتھیار قرار دیا

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیکچر کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف سے مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ملاقات، اسلامی تعلیمات کے فروغ پر گفتگو

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کا فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے نیٹو طرز کے اسلامی اتحاد کی تجویز