Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہمیں تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں منفی رویوں کا خاتمہ کرنا ہو گا، وزیراعظم

    ہمیں تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں منفی رویوں کا خاتمہ کرنا ہو گا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں منفی رویوں کا خاتمہ کرنا ہو گا،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ معاشرے میں گالم گلوچ اور نفرت جیسے رویے لمحہِ فکریہ ہیں،آج ہم ایک آزاد وطن میں زندگی بسر کر رہے ہیں، آج میں تمام قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج کا دن پوری کائنات کو بدلنے کا د ن تھا، وہ دن ہم سب کےلئے ایک عظیم دن کی حیثیت رکھتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی بدولت اربو ں مسلمان دیا میں پھیل گئے، عظیم ہستی کی یہ برکات ہیں کہ پاکستان میں کروڑوں مسلمان بھی بستے ہیں اور وہ لوگ بھی جو مسلمان تو نہیں لیکن ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے ذریعے امن کی زندگی بسر کرنے کا پورا حق ہے، بغیرکسی رکاوٹ کے عبادت گاہوں میں جانے کا حق ہے، یہ ہے اس عظیم ہستی کو نور جو پوری دنیا میں روشن ہے، آج ہم آزاد وطن میں زندگی بسر کر رہے ہیں، فلسطین مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے والے لاکھوں مسلمان اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، وہ دن آئے گا فلسطین آزاد ہو گا، کشمیر بھی آزاد ہو گا، انکو حقوق ملیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نبی کریم نے صلہ رحمی کا درس دیا، یتیموں سے شفقت، کا درس دیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو قرآن کی تفیسر بتایا گیا ہے، آپ دوسروں کا بوجھ اٹھاتے، کمزوروں کی مدد، بچوں سے شفقت فرماتے، دشمنوں سے بھی نہایت اخلاق سے پیش آتے، آ پ کے اخلاق اور سچائی کی گواہی دشمن بھی دیتے ہیں،جہالت پر مبنی معاشرے کوآپ نے بدل کر رکھ دیا،اپنی ملت پر ہمیں فخر ہونا چاہئے،آج ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ،ظلم، ناانصافی لمحہ فکریہ ہے، آج کے دن عہد کرنا ہو گا کہ تعلیمات نبوی کی روشنی میں منفی رویوں کا خاتمہ کرنا ہو گا، اقلیتوں، کمزوروں کا تحفظ اور مدد شرط اول ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ آقا کے غلام کا طرز عمل انکی تعلیمات کے منافی ہو

  • وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ امریکا،جنرل اسمبلی سے خطاب،شیڈول آ گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ امریکا،جنرل اسمبلی سے خطاب،شیڈول آ گیا

    وزیراعظم شہبازشریف 27ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف امریکا جائیں گے جہاں انکی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گی،پاکستان اور بنگلہ دیش حکمرانوں کی نیویارک میں پہلی ملاقات ہوگی ،وزیراعظم 27ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق شام سوا 6بجے ا قوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے ،وزیراعظم کاجنرل اسمبلی سے کلیدی خطاب چیدہ چیدہ نکات پر مشتمل ہوگا ،وزیراعظم خطاب میں پاکستان کودرپیش اقتصادی مسائل ودیگرمشکلات پر بات کریں گے ،وزیراعظم خطاب میں افغان مہاجرین ،سیلاب کے دوران کئے گئے عالمی وعدوں پربات کریں گے،وزیراعظم خطاب میں مقبوضہ کشمیر سمیت مسئلہ فلسطین وغزہ پرجاری اسرائیلی جارحیت پر بات کریں گے ،

    وزیراعظم کی دورہ امریکہ کے دوران بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائرز محمد یونس اورمالدیپ کے صدر محمد معیزوسے ملاقات طے پاگئی ہے ،وزیراعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کاشیڈول طے پارہاہے ،وزیراعظم دورہ کے دوران آئی ایم ایف کی سربراہ اور ورلڈ بینک کے صدر سے بھی ملاقات ہوگی ،وزیراعظم دورہ کے دوران پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقات کریں گے ،وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے موقع پر دفترخارجہ اورامریکہ میں پاکستان مشن مختلف عالمی اداروں اوروفود سے بھی ملاقاتوں کاشیڈول طے کررہاہے ،وزیراعظم محمد شہبازشریف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے 21ستمبر کو امریکہ روانہ ہوں گے ،وزیراعظم 22ستمبر کولندن اور 23ستمبر کو نیویارک پہنچیں گے ،وزیراعظم کی نیویارک آمد سے قبل نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحا ق ڈار بھی نیویارک پہنچ جائیں گے ،وزیراعظم نیویارک آمد کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے جنرل اسمبلی اجلاس میں شریک ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کریں گے ،وزیراعظم27ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد براستہ لندن 29ستمبر کو واپس پاکستان پہنچیں گے

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

  • پی ٹی آئی سینیٹر فلک ناز کاپاکستان دشمنی پر مبنی بیان،کاروائی کب ہو گی؟

    پی ٹی آئی سینیٹر فلک ناز کاپاکستان دشمنی پر مبنی بیان،کاروائی کب ہو گی؟

    تحریک انصاف کے رہنما ہوں اور ملک دشمنی نہ ہو یہ ہونہیں سکتا،کیونکہ بانی تحریک انصاف عمران خان نے اپنے رہنماؤں کے اندر بھی ملک دشمنی کو فروغ دیا ہے، پاکستان کی سالمیت کے خلاف تحریک انصاف ریڈ لائن عبور کر چکی ہے، سائفر لہرانا، آئی ایم ایف کو فنڈ روکنے کے لئے خطوط، امریکی کانگریس میں پاکستان کے خلاف قرارداد، اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم، بین الاقوامی میڈیا اداروں میں پاکستان کے خلاف مضامین،غرض پی ٹی آئی ملک دشمنی میں جو کام کر سکتی ہے وہ کر رہی ہے

    پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز ان دنوں خبروں میں ہیں، فلک ناز کی تربیت چند دن قبل سینیٹ میں‌ظاہر ہوئی جب انہوں نے ایوان میں گالیاں دیں تو انکی رکنیت معطل کر دی گئی تھی،اب فلک ناز کے ایک ٹاک شو میں ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ملک دشمنی کی حدیں عبور کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ پاکستان ختم ہو جائے گا جس پر اینکر بولیں کہ ایسی بات نہ کریں،یہ ملک ہمیشہ آباد رہنے کے لئے بنا ہے،پاکستان زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد،

    پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز نے لائیو شو میں پاکستان کے ختم ہو جانے کی بات کی،محترمہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینٹ کی رکن ہیں، انہوں نے ملک، قوم اور آئین کے تحفظ کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، اس کے باوجود یہ چینل پر بیٹھ کر ملک کے خلاف زہر افشانی کر رہی ہیں،بطور پاکستانی شہری ہم چیئرمین سینٹ سے یہ درخواست کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ اس خاتون سے باز پرس کریں، ان سے سینیٹر کا عہدہ واپس لیا جائے، اور آئین ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔آج اگر ان لوگوں کو نہ روکا گیا تو ٹی وی پر بیٹھ کر ملک کا وجود ختم ہو جانے کی باتیں کرنا ایک نارمل ٹرینڈ بن جائے گا

    ریئل اسٹیٹ کا سب سے بڑا فراڈ،سیاستدان ،پولیس شامل،ملزمان دبئی فرار

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ڈاکٹر ارم خان نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز نے پاکستان کے خلاف اپنے اندر کا گند باہر نکال ہی دیا،سوال یہ ہے کہ ایوان بالا میں بیٹھے ان لوگوں کا احتساب کیوں نہیں ہو سکتا؟کیوں ان پر آرٹیکل 6 لگا کر ان کے خلاف غداری کی کاروائی شروع نہیں کی جا سکتی؟ کیوں اس سینیٹر کو اس کی سیٹ سے برخاست نہیں کیا جاتا؟کیا یہاں جنگل۔کا قانون ہے؟

    ایکس پر بیرسٹر عثمان چیمہ کہتے ہیں کہ حکومت اور حافظ صاحب سے ایک سادا سا سوال۔ملک دشمنی یا ملک سے غداری کسے کہتے ہیں؟ آپ لوگ کب غفلت کی نیند سے بیدار ہوں گے؟ یہ فلک ناز نامی خاتون وطن عزیز پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینٹ کی رکن ہے۔ اس نے ملک، قوم کے تحفظ اور آئین کی پاسداری کا حلف لے رکھا ہے اور آج یہ ایک چینل پہ بیٹھ کر ہماری دھرتی ماں کے خلاف زہر اگل رہی ہے۔ حضرات ان کی گز گز لمبی زبانیں کھینچئے۔ انہیں لگام ڈالئے۔ کیونکہ یہ دھرتی 24 کروڑ عوام کی ماں ہے اور آپ کی موجودگی میں یہ نیچ عورت اسی دھرتی ماں کی عزت نوچ نوچ کر اس کے بخئے اڈھیڑ رہی ہے۔ اور خاکم بدہن اس کے خاتمے کا اعلان کر رہی ہے۔ اگر آپ ایسی واہیاتی اور کھلی ملک دشمنی کو روک نہیں سکتے تو اپنے عہدے چھوڑ دیجئے۔ ورنہ ایکشن لیجئے۔

  • جشن میلاد،ملک بھر میں‌تقریبات،سیکورٹی سخت

    جشن میلاد،ملک بھر میں‌تقریبات،سیکورٹی سخت

    ملک بھر میں جشن میلاد البنی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایاجا رہا ہے.

    وفاقی دارالحکومت میں اکتیس جبکہ تمام صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس ،اکیس توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔ ملک بھر میں درودوسلام کی محافل کاانعقاد اور نذرانہ عقیدت پیش کرنےکا سلسلہ بھی جاری ہے، شہروں میں‌ عمارتوں پرچراغاں اور جلوسوں کی سیکیورٹی کیلئےخصوصی پلان مرتب کیا گیا ہے

    لاہور میں بھی جشن عید میلادالنبی صلی الله علیه وسلم بھرپور انداز سے منایا جارہا ہے گلیاں اور بازار سج چکے ہیں دن بھر ریلیاں اور پروقار محافل جاری رہیں گی، پنجاب بھر میں 2ہزار 467 میلاد کی محافل اور جلوسوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں 1ہزار 581 محافل ہوں گی جن کی حفاظت کے لیے پولیس کے علاوہ محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکار جلوس کے شرکا کی چیکنگ بالخصوص حساس مقامات پر تعینات کیے جائیں گے،راولپنڈی میں عید میلاد النبیؐ کے موقع پر دو مرکزی جلوسوں کے حوالے سے سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی نے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے اور ٹریفک کے انتظامات کے لیے 5ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور 454 ٹریفک اہلکار تعینات کیے جائیں گے،حفاظتی انتظامات 108 جلوسوں کا احاطہ کریں گے جن میں مرکزی جلوس کے لیے 2ہزار 400 افسران اور 2 ہزار 600 سے زائد افسران بقیہ 107 جلوسوں کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔

    اسلام آباد میں بھی جشن عید میلاد النبی صلی الله علیه وسلم آج مذہبی جوش و خروش اور عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔ گلی، محلوں اور بازاروں کو خوبصورت روشنیوں، برقی قمقموں اور سبز جھنڈیوں سے سجا دیا گیا ہے جبکہ سرکاری و نجی عمارتوں، مسجدوں پر بھی چراغاں کیا گیا ہے،اسلام آباد میں 2ہزار سے زائد پولیس اہلکار مرکزی جلوس کے ساتھ ساتھ دارالحکومت میں نکلنے والے دیگر جلوسوں کی سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے،جلوس کی حفاظت کے لیے چھتوں پر اسنائپرز تعینات کیے جائیں گے، جلوس کے راستے کی متعدد سڑکوں کو سیل کر دیا جائے گا اور متعلقہ تھانوں کی پولیس علاقے میں گشت اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دے گی۔

    صوبہ سندھ میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سندھ حکومت نے صوبے بھر میں ڈبل سواری پر پابندی کا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی میں دو مرکزی جلوس نکالے جائیں گے، پہلا ٹاور سے آرام باغ تک اور دوسرا بولٹن مارکیٹ میں واقع نیو میمن مسجد سے نشتر پارک تک نکالا جائے گا جس میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے،عید میلادالنبی کا جلوس میمن مسجد سے دوپہر دوبجے برآمد ہوگا، جلوس میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر وزراء بھی شریک ہوں گے. جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا نشترپارک پراختتام پزیرہوگا. اس حوالے سے جلوس کی گزرگاہوں اور نشترپارک میں کیا اقدامات کیےگئے ہیں،کراچی میں کل 4ہزار 716 اہلکار تعینات کیے جائیں گے جن میں 15 سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، 27 ڈپٹی ایس ایس پیز، 648 این جی اوز اور 3ہزار 735 کانسٹیبل، 51 خواتین اہلکار، 31 پولیس موبائلیں اور 40 موٹر سائیکل پولیس اہلکار شامل ہیں۔

    ریئل اسٹیٹ کا سب سے بڑا فراڈ،سیاستدان ،پولیس شامل،ملزمان دبئی فرار

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    نبی اکرم ﷺ کی زندگی اور اسوہ حسنہ ہم سب کے لیے رہنمائی کا کام کرتی ہے،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے امت مسلمہ کو عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد دی گئی ہے، شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ہمارے پیارے نبی خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے مقدس یوم ولادت کے موقع پر اہل اسلام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات حقوق االلہ اور حقوق العباد کے ساتھ ساتھ امن، رواداری اور اتحاد کے پیغام سے بھرپور ہے،عید میلاد النبی صرف نبی ﷺ کی ولادت کا جشن ہی نہیں بلکہ ان کی عظیم تعلیمات کی پیروی کے عہد کا دن بھی ہے،ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ کی زندگی اور اسوہ حسنہ ہم سب کے لیے رہنمائی کا کام کرتی ہے، آج کا دن ہماری زندگیوں کو نبی اکرم ﷺ کے اصولوں کو اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں ڈھالنے کی تجدید کا دن ہے،

    وزیراعلیٰ سندھ کی کابینہ ارکان کے ہمراہ علامہ الیاس قادری کے درس میں شرکت
    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سرورکونین رسول پاک خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی یوم ولادت کے موقع پر دعوت اسلامی کے عالمی مرکز فیضان مدینہ کا دورہ کیا،اس موقع پر کابینہ وزراء بھی ان کے ہمراہ تھے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حضور اقدس رسول پاک ﷺ کا میلاد مدنی مرکز میں بڑی عقیدت و احترام سے منایا جارہاہے،آج کے دن آپ کے درمیان ہونا میرے لیے باعثِ سعادت ہے،آپ ﷺ کی آمد نے ہر جانب سچ کا بول بالاکردیا،دعوت اسلامی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات کا اہم مرکز ہے،دعوت اسلامی اصلاحی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے،سندھ میں آنے والے ہولناک سیلاب کے دوران دعوت اسلامی نے متاثرین کی دل کھول کر مدد کی،روز محشر آپ ﷺ اپنی امتیوں پر خاص کرم فرمائیں گے،آج ہمیں پاکستان کی خوشحالی، ترقی او رامن و امان کی بحالی کی دعائیں مانگی چاہئیں،اللہ پاک ہمیں سرکار دو عالمﷺ کےسیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ ارکان کے ساتھ بیٹھ کر علامہ الیاس قادری کے درس میں شرکت کی.

    اخوت اور بھائی چارے کی فضاءقائم کرنے کے لئے اسوہ حسنہ رسول ﷺکی پیروی ناگریز ہے،چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عید میلاد النبیﷺ کے بابرکت اور پُرمسرت موقع پر اپنے پیغام میں مسلمانانِ عالم اسلام اور خاص طور پرتمام اہل وطن کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس بابرکت دن کی فضلیت وسعادت سے ہر مسلمان کا دل نور سے منور کر دے اور وطن عزیز کو اس مقدس دن کی نسبت سے اپنی رحمتوں و بر کتوں سے مالا مال کر دے۔خاتم النبین آنحضرت محمد ﷺ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بنی نوع انسان اور تمام کائنات کے لئے رحمتہ العالمین بن کر تشریف لائے۔ اس لحاظ سے 12 ربیع ا لا ول کا دن اسلامی تاریخ کا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات اور انسانیت کیلئے رحمت و برکت کا دن ہے ۔یہ دن تمام بنی نوع انسان کو نسلی، علاقائی، طبقاتی، لسانی اور جغرافیائی تعصبات کی دلدل سے نکال کر امن و محبت اور ا تحاد و یگانگت کا درس دیتا ہے۔ اخوت اور بھائی چارے کی فضاءقائم کرنے کے لئے اسوہ حسنہ رسول ﷺکی پیروی ناگریز ہے کیونکہ ہماری بقا ءاور دینی و دنیاوی کامیابی کا انحصار اسوہ حسنہ کی مکمل پیروی پر منحصر ہے۔آج اس با سعادت دن کو منانے کا سب سے احسن طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے کردار، گفتار، اخلاق اور عمل سے یہ ثابت کریں کہ ہم رحمتہ العالمین کے ا متی ہیں اور پیارے پیغمبر ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے اندر اتحاد واتفاق، باہمی محبت ورواداری اور احساس ذمہ داری جیسے نایاب اوصاف پیدا کریں گے جو ہمارے ملک و قوم کی خوشحالی، بقا ءاور پوری دنیا میں ترقی کیلئے راہیں ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ میں اس مقدس اور بابرکت دن کی مناسبت سے تمام شہداء، غازیوں اور مجاہدوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے وطن عزیز کی حفاظت کے لئے لازوال قربانیاں دیں۔حضور اکرم ﷺکی زندگی بنی نوع انسان کیلئے مشعلِ راہ ہے اور دنیا وآخرت کی کامیابی کی ضمانت بھی ہے۔اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر میں امن،محبت، ایثار، قربانی،اتحاد ویگانگت کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔میں خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں اپنی زندگیاں تعلیمات نبوی ﷺکی روشنی میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

    لاہور پریس کلب کے زیراہتمام سیرت النبیﷺ کانفرنس کا انعقاد
    لاہور پریس کلب کے زیراہتمام سیرت النبیﷺ کانفرنس صدر ارشد انصاری کی زیرصدارت نثارعثمانی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں مدینہ منورہ سے آئے اسلامی سکالر ڈاکٹر احمد علی سراج، سید سلمان گیلانی اورقاری صالح احمد سراج نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔سیرت کانفرنس میں ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ سینئر کونسل ممبر محمد عبداللہ نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔سیرت النبی ﷺکانفرنس کا آغاز قاری صالح احمد سراج کی تلاوت قران مجید سے ہوا بعدازاں سید سلمان گیلانی نے بارگاہ رسالت ﷺ گلہائے عقیدت کے پھول پیش کئے۔ ڈاکٹر احمد علی سراج نے اپنے خصوصی خطاب میں نبی آخرالزماںﷺ کی حیات طیبہ کامخصوص اندازمیں احاطہ کیااور حاضرین محفل کے دل موہ لئے۔سیرت کانفرنس کے آخر میں پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے مہمانوں اور شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت کی محفلیں سجانی چاہیے اور اپنی آخرت کو سنوارنا چاہیے ۔ انھوں نے ڈاکٹر احمد علی سراج کا کلب آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے سیرت نبوی ﷺ پر بیان کو خوب سراہا اور بابرکت محفل سجانے پر نائب صدر پریس کلب امجد عثمانی ، عمران شیخ اورمحمد عبداللہ کا شکریہ اداکیا۔لاہور پریس کلب کی جانب سے ڈاکٹر احمد علی سراج،سید سلمان گیلانی اور قاری صالح سراج کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔
    lpc

  • ریئل اسٹیٹ کا سب سے بڑا فراڈ،سیاستدان ،پولیس شامل،ملزمان دبئی فرار

    ریئل اسٹیٹ کا سب سے بڑا فراڈ،سیاستدان ،پولیس شامل،ملزمان دبئی فرار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشرلقمان نے کہا ہے کہ دو دن پہلے سٹوری سنائی تھی بنٹی اور ببلی کی، یہ گینگ ہے، بڑے گھروں کے لوگ ہیں لیکن کام انکے انتہائی گھٹیا، چور اچکوں والے ہیں، جب انکے خاندان کو دیکھتے ہیں کہ کتنے بڑے بڑے نا م ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کتنے بدنصیب ہیں انک والدین کہ انکی اولادیں غریبوں کی جمع پونجی ہڑپ کر رہی ہے اور پھر ان کی مدد کی جا رہی ہے

    مبشر لقمان دیجیٹل میڈیا پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کہانی ہے ایاز لاکھانی،کامران وحید،یہ دونوں پہلے ملے پھر انکے ساتھ اور لوگ بھی آ گئے ،چوھدری کامران، محمود وسیم، شمائلہ عاطف، ماہ نور،یہ سب اچکے ہیں، ان سب سے ضرور سوال کریں کہ قبر میں لے کر جانے ہیں پیسے؟ انہوں نے کیا کیا مختلف پروجیکٹس شروع کئے،یہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ تھا، مجھے پتہ چلا کہ بہت سے سرکاری ملازمین ڈی ایم جی گروپ کے سیکرٹری لیول کےانہوں نے بڑی انویسمنٹ کی، اس میں پولیس والے، سیاستدان شامل ہیں، ان میں سے تین لوگ دبئی جا کر بیٹھ گئے، ایک خاتون ابھی بھی لاہور میں موجود ہے کیونکہ اسکے اوپر پرچہ نہیں کٹا ہوا، طریقہ واردات انکا بڑا سادہ تھا جو ڈبل شاہ یا چالیس سال پہلے بخاری موٹرز کا ہوتا تھا ،یاد کریں بخاری موٹرز کو وہ کہتے تھے کہ پانچ فیصد ماہانہ دے رہا ہوں منافع، ایک کروڑ لگایا تو پانچ لاکھ ماہانہ لے لیں،چھ ماہ بعد بھائی صاحب غائب ہو گئے تھے، یہی کچھ فراڈ ڈبل شاہ کا تھا، انہوں نے بھی اب وہی واردات کی، کہ زمین دیں گے، دکان دیں گے یا اپارٹمنٹس بنا کر دیں گے اور پھر جب تک نہیں ہو گا اس کا کرایہ دیں گے ،کرایہ بھی دو چار ماہ دے دیا کسی کو ،سات سے آٹھ ارب روپے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہڑپ کر چکے ہیں، سرکاری ملازمین، پولیس والے جن کے پیسے ہیں وہ کیوں چپ ہیں؟ کیونکہ حرام کھایا ہوا ہے، ایک سیکرٹری جس کی تنخواہ ڈھائی لاکھ ہے وہ کیسے کہے گا کہ آٹھ کروڑ کا پلازہ یا اپارٹمنٹ میں لے رہا تھا اور ریکوری ہونی ہے یہاں سے،پھر تو کہانی کھلے گی اور وہ خود پھنسے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جب پہلا پروگرام شروع کیا تو بڑی آوازیں آئیں کہ مبشر لقمان کو پیسے دے دلا کر چپ کروا دیں گے، ایک صحافی دوست ہیں وہ آئے میرے پاس اور کہتے ہیں کچھ ہو سکتا ہےتو میں نے کہا جی ہو سکتا ہے کہتےہیں کیا،تو میں نے کہا کہ ان کا مقبرہ بن سکتا ہے، یہ لوگوں کے پیسے واپس کر دیں ہم پروگرام چھوڑ دیں گے، ہمیں پیسے نہیں چاہئے، ہماری لڑائی ختم، آج تیسرا پروگرام ہو رہا ہے، یہ ہوں گے، میری کمٹمنٹ ہے میں نے ایسے فراڈیوں کو، دو نمبر کو برہنہ کرتے رہنا ہے، آج میرے پاس تین متاثرہ افراد ہین کل اور بھی ہوں گے

    میرا نام بلال شیخ ہے، ایک ہوٹل اپارٹمنٹ پرچیز کیا تھا جو سنچری ون کےنام سے انہوں نے لانچ کیا تھا، 3 سال کا میرا ان کے ساتھ معاہدہ تھا، تین سال بعد میری پوری اماؤنٹ واپس کرنی تھی منافع کے ساتھ، جب رینٹس والی چیزیں ہوتی تھیں جو ماہانہ ملتی تھیں وہ کبھی مل رہا تھا کبھی نہیں ،جب وہ ڈسٹرب ہونے لگ گئی تو ہم زیادہ جانے لگ گئےجس طرح انہوں نے کہا تھا اس طرح ہمیں کچھ نہیں ملا، پھر ہمیں پتہ چلا کہ وہ آفس میں نہیں ہیں اور پاکستان سے بھاگ گئے، ہم مقدمہ کٹوانے گئے یا دیگر جگہوں پر انکے خلاف گئے تو ہماری نہیں سنی جا رہی تھی، آپ کا شکریہ کہ آپ نے آواز اٹھائی، جس طرح ڈبل شاہ کام کرتا تھا یہ ماڈرن شہر میں پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ سب کچھ کر کے گئے، کافی اوورسیز پاکستانی ہیں جنکی ابھی تک آواز بھی نہیں آئی جنہوں نے ہوٹل ون پر اعتماد کیا، اعتماد ایاز لاکھانی کی وجہ سے بنا تھا،زمین کے لئے ہمیں ڈاکو منٹ دکھائے گئے تھے، ویریفائی ہم اس طرح نہیں کر سکے،

    ایک اور متاثرہ کا کہنا تھا کہ میرا نام معظم ہے، بھائی کی موت ہو گئی ہے، اسکی وراثت میں جو پیسے بچے تھے وہ بھابھی کے نام پر انویسٹ کئے تا کہ انکے گھر کا سلسلہ چلتا رہے،3 کروڑ 15 لاکھ ہم نے دیئے، ہم نے سنچری ون میں انویسٹ کیا ،میڈیسن سکوائرمیں بھی انویسٹ کیا تھا، سنچری ویچر ون پر ایاز لاکھانی نے دستخط کئے، چھ ماہ تک کرایہ دیا اور پھر پیسے دینے بند کر دیئے تین سال کا ہمارا معاہدہ تھا، جو 2023 تک چلنا تھا ہم نے درخواست بھی دی کہ آپ ہمارے معاہدے منافع کے ساتھ دینے کے حقدار ہیں، ہم ان کے دفتر جا رہے ہیں،لیکن اب نہ پیسہ ملا نہ ہی یہ لوگ مل رہے ہیں میں نے ایف آئی اے میں کیس دیا ہے، ہم نے نازیہ کا نام بھی لکھوایا، تانیہ کا نام بھی دیا، شمائلہ کا نام بھی دیا، معاہدے میں وسیم اظہر اور ایاز لاکھانی کے دستخط ہیں تو ایف آئی اے میں انہی کے نام کا کیس کیا ہوا ہے.انکے چار پروجیکٹس ہیں اور سب کا یہی حال ہے،

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ میرے خاوند کی موت ہو چکی، جو جمع پونجی تھی وہ میں نے انویسٹ کی،تا کہ میرے بچے ہیں، شادیاں کرنی ہیں،لیکن بڑی مشکل میں پڑ گئی ہوں، رینٹ بھی بڑی مصیبتوں سے لیتی رہی ہوں، وہاں جا کر بیٹھے رہتے تھے کوئی ملنے نہیں آتا تھا، چکر لگا لگا کر رینٹ ملے، مین رقم دبھی ہوئی ہے،

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے  سوال اٹھا دیا

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت پر ڈپٹی رجسٹرار نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر ججز کی وضاحت پر سوال اٹھا دیا۔

    ڈپٹی رجسٹرار کو 8 ججز کی جانب سے جاری وضاحت پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو نوٹ میں کہا کہ میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں کہ سپریم کورٹ نے 12 جولائی کے فیصلے پر کوئی وضاحت جاری کی، متعلقہ فریقین کو رجسٹرار آفس کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست پر نوٹسز بھی جاری نہیں کئے گئے،الیکشن کمیشن کی متفرق درخواست پر وضاحت سپریم کورٹ ویب سائٹ پر جاری کی گئی،الیکشن کمیشن کی متفرق درخواست پر جاری وضاحت سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کو رات 8 بجے تک وصول نہیں ہوئی،ڈپٹی رجسٹرار نے لیٹر 14 ستمبر کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست پر تحریری وضاحت جاری کی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے 4صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، الیکشن کی وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ قرار دیدیا۔مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے 8 ججز نے وضاحت جاری کردی ہے،سپریم کورٹ میں مخصوص کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر 8 رکنی بینچ نے وضاحت جاری کردی ،اکثریتی فیصلہ دینے والے ججوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے ،جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست عدالتی فیصلہ پر عمل در آمد کے راستہ میں رکاوٹ ہے،درخواست درست نہیں،الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کیا،الیکشن کمیشن وضاحت کے نام پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا،تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کروانے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججوں نے ابہام کو ختم کرنے کیلئے تحریری آرڈر جاری کردیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا، تحریک انصاف مقدمہ میں فریق نہیں تھی، سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن فریق تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے،مسلم لیگ ن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی،مسلم لیگ ن نے 12 جولائی کے فیصلے پر حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے، کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناعی دیا جائے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سنی اتحاد کونسل، حامدرضا اور الیکشن کمیشن سمیت 11 پارٹیوں کو فریق بنایاگیا ہے ،

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • قومی اسمبلی اجلاس ملتوی،آئینی ترامیم پر حکومت کی وضاحتیں،اتحادی بھی نالاں

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی،آئینی ترامیم پر حکومت کی وضاحتیں،اتحادی بھی نالاں

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چند دنوں سے ایک ترامیم کے ڈرافٹ کی بات ہورہی ہے،آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ قانون سازی کریں،جب اس مسودے پر اتفاق رائے آجائے گا تو ایوان میں پیش کیا جائے گا،2006میں نوازشریف اور بینظیربھٹو نے میثاق جمہوریت کیا،حکومتی اتحاد کی دانست میں ترامیم آئین میں عدم توازن درست کرنے کاذریعہ ہے،بطور رکن پارلیمنٹ قانو ن سازی اور آئین کاتحفظ ہمارا فرض ہے،بہت سے جمہوری ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں،پارلیمنٹ 24کروڑ عوام کی امنگوں کامظہر ہے، آئینی عدالت سے متعلق تجویز بھی چارٹرآف ڈیموکریسی کاحصہ ہے،عدلیہ کابوجھ کم کرنے کے لیے ترامیم لارہے ہیں،کسی کاکوئی ذاتی مفاد نہیں جو ووٹ ڈالا جائے اسے گنا جائے تو اس میں کیا سیاسی مفاد ہوسکتا ہے؟کسی ادارے کی حدود توڑنا نہیں چاہتے،پارلیمان کی اہمیت قائم کرنا چاہتے ہیں،ہم چاہتے ہیں آئینی ترامیم پر اتفاق راے پیدا ہوجائے،عدلیہ بحالی تحریک کے بعد ججز کی تعیناتی کاپراسیس طے پایا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں ایک ڈرافٹ آئینی ترامیم کا زیر گردش ہے،یہ ڈرافٹ پارلیمانی پریکٹسز کو درست کر نے کی کوشش تھی، ہمارا حق جو آئین ہمیں دیتا یے کہ 25 کروڑ عوام اور ادارے کی سربلندی کو طاقتور کرنا ہے، اس کا بنیادی ڈاکیومینٹ جمہوریت ہے، اس سارے پراسس میں کوئی سیاست نہیں تھی جبکہ اس کو سیاسی رنگ دیا گیا

    وزیر قانون اور حکومت کے کسی نمائندے کے پاس ڈرافٹ نہیں تھا تو یہ بتائیں یہ ڈرافٹ اور نسخہ کیمیا کہاں سےآیا؟اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے میں آپکا شکریہ ادا کروں گا آپ نے ہمارے 10 اراکین جن پر ناجائز کیس بنایا گیا ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے، میں اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں، مجھے آج اس بات پر بہت افسوس ہے کہ جس طرح اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی، ربڑ سٹمپ کے طور پر استعمال کرنے کی کوششش کی گئی، مذمت کرتا ہوں، ہمارے جو ایم این ایز ہیں انکی بہادری کو سلام کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بہادری سے حالات کا مقابلہ کیا، خواجہ آصف نے نقطہ نظر سامنے رکھا وزیر قانون بیٹھے ہیں، یہ خود فرما رہے تھے کہ میرے پاس کوئی ڈاکومنٹ نہیں ہیں، کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، اگر لا منسٹر کو نہیں پتہ تو بتائیں یہ نسخہ،ڈرافٹ کہاں سے آیا،مجھے سب سے زیادہ افسوس پیپلز پارٹی پر ہے، انکو سب علم ہے، انکے پاس پورا ڈرافٹ تھا، کیا آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 99 انہوں نے ترامیم میں قبول نہیں کیا، یہ بنیادی حقوق کو صلب کرنا چاہتے ہیں، ہم کیا اس ملک کے دشمن ہیں، ہم چاہتے ہیں ریفارم آئے، لوگوں کو سہولت ملے، ہم چاہتے ہیں ترمیم لائیں، بحث کریں، آئینی ترامیم جو یہ لا رہے، یہ سب پر اثر انداز ہوتا ہے، رات کی تاریکی میں ، چھٹی کے دن چوری کی طرح ڈاکہ زنی کرتے ہوئے یہ ترامیم پاس کرنی تھیں،جب قانون سازی کرنی ہے تو سب سے پہلے اسکو سامنے لائیں،بحث کروائیں، سب کو اعتماد میں لیں،، چھپکے سے قانون سازی کوچوری کہتے ہیں، ہمارے 7 لوگوں کواغوا کیا گیا انہیں پنجاب ہاؤس میں رکھا ہے، اس ظلم کے ذریعے پارلیمنٹ میں قانون سازی سے بہترموت ہے،ہم اس ترامیم کے خلاف رستوں چوک چوراہوں سپریم کورٹ عدالتوں میں لڑیں گے۔

    ملک کے انتظامی معاملات عدالتوں نے نہیں ہم نے طے کرنے ہیں۔وفاقی وزیر قانون
    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے جیل میں 8 سال گزارے وہ واپس کس نے دینے ہیں؟ جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے 8 دن گزارے ہیں،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں حاضر ہوں، 8 دنوں کی تلافی اسپیکر نے پونے چار دن کردیا، آپ ہمارے ساتھ ہنستے کھیلتے رہے ہیں،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا نام آپ اس لئے زیادہ لے رہے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ آپ کو خواب میں آتے ہیں،ہم نے بھی بھگتا ہے جوآپ کے کندھوں پر ڈیم بنانے کے علاوہ ہمیں ہی ہانکتے رہتے تھے یہ کس سے انصاف لیں گے، جو آئینی حق ہے ، ہم اپنے سیاسی مقدمات ایک ساتھ بیٹھ کر حل نہیں کرتے، ہم چاہتے ہیں ہمارے مقدمات بھی دیوار کی دوسری طرف سے جائیں ،کچھ دنوں سے ماحول بہتر ہونا شروع ہوا ہے، ہم اس امید کے ساتھ آگے چلیں گے،کہ مفاہمت ہو ،کچھ چیزیں حقائق پوچھنے کے لئے سامنے آئیں، اسد قیصر محترم ہیں، سپیکر رہے، اس ایوان کا رکن ہونا اعزاز ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ڈرافٹ اس وقت آئے جب بل سامنے آئے، حکومتی بل ہے تو سب سے پہلے حکومتی حلقوں میں مشاورت ہوتی ہے پھر ڈرافٹ بل کابینہ کے سامنے، کابینہ منظوری دیتی ہے پھر کابینہ کمیٹی میں اچھی طرح دیکھا جاتا ہے، اس کمیٹی میں سب کی نمائندگی ہوتی ہے،پھر کابینہ کہتی ہے کہ اسے پارلیمنٹ میں لے جایا جائے،ابھی یہ بل مسودہ بن کر کابینہ میں نہیں گیا کچھ عرصے سے مشاورت جاری تھی، موجودہ الیکشن کے بعد حکومتی اتحاد تشکیل پا رہا تھا تو پہلے دو جماعتوں نے کمیٹیاں بنائیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی، پھر مشاورت ایم کیو ایم سے ہوئی، آئی پی پی سے ہوئی، بلوچستان عوامی پارٹی سے بات ہوئی،اعجاز الحق سے بات ہوئی، اے این پی سے ،ڈاکٹر مالک بلوچ سے بات ہوئی، مولانا فضل الرحمن سے بھی رابطے ہوئے، یہ سیاست کا حسن ہے، حکومت جب بن رہی تھی تو پیپلز پارٹی اور ن کی میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ میثاق جمہوریت کے پارٹ پر کام کیا جائے گا، آئینی عدالت کا قیام، 19 ویں ترمیم،1973 سے لے کر 2008 تک جو جو کھلواڑ آئیں کے ساتھ کئے گئے اس پر اٹھارہویں ترمیم پاس کی گئی،جس کی وجہ سے ہم اکٹھے کھڑے ہیں، ہم چاہتے ہیں پاکستان آگے بڑھے، وفاق مضبوط ہو،اعتزاز احسن سے پوچھیے گا، نوید قمر ،خواجہ آصف سے پوچھیں کہ کون سی طاقت تھی جس نے کہا آئینی عدالت نہیں بنے گی،قاضی فائز عیسی اور شوکت صدیقی کے ساتھ کیا کچھ ہوا،ان ریفرنسز کو کس ڈھٹائی کے ساتھ اپ سپورٹ کرتے رہے،عدالت نے دونوں ریفرنسز منہ پہ مارے،ایسی باتیں نا کریں کوئی ڈاکہ نہیں کوئی چوری نہیں ہے،کوئی رات کا اندھیرا نہیں ہے،بلاول بھٹو کا شکریہ جنہوں نے آئینی ترامیم کے معاملے پر بہت مثبت کردار ادا اور کہا کہ میرے بڑوں کی وراثت ہے کہ پارلیمنٹ کو بالادست ہونا چاہئے ،میں نے قتل کے مقدمے کے دو ملزمان کی اپیل 16 سال قبل سپریم کورٹ میں دائر کی مگر ابھی تک زیرالتوا ہے چند دن قبل دونوں ملزمان عمر قید کاٹ کر میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا شکریہ ہم سزا بھگت کر باہر آگئے ہیں یہ تو حال ہے عدلیہ کا. اسد قیصر کو چیلنج کرتا ہوں اس آئینی پیکچ کی کوئی بار کونسل مخالف نہیں کرے گی،

    جو ڈرافٹ میڈیا پر ہے، یہ متفقہ نہیں ،اس میں کئی شقوں پر ہمیں اعتراض ہے،نوید قمر
    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈرافٹ میڈیا پر ہے، یہ متفقہ ڈرافٹ نہیں ہے،اس میں کئی شقوں پر ہمیں اعتراض ہے، ڈرافٹ حکومت دے گی تو مشاورت ہو گی، کابینہ منظوری کے بعد ایوان میں آئے گا، جو ترامیم سامنے آئی ہیں،کمیٹی میں ایجنڈا رکھا گیا ،

    اپوزیشن کو تو ڈرافٹ نہیں ملا لیکن ہمارا گلہ ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا،فاروق ستار
    ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو تو ڈرافٹ نہیں ملا لیکن ہمارا گلہ ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا، جب ہم توجہ دلاتے ہیں تواسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ آتے ہیں اور ہمارے ساتھیو ں سے بات کرتے ہیں، اگر طریقہ کار کو صحیح نہیں کریں گے تو اہم اصلاحات،یہ کیسے ہوں گے، میں نے کمیٹی کی میٹنگ میں محسوس کیا کہ پی ٹی آئی کی اراکین بھی مین اصلاحات کے ایجنڈے سے اختلافات نہیں کر رہے تھے، صرف طریقہ کار سے اختلاف ہو رہا تھا.ہم ن لیگ کے اتحادی ہیں مگر ہماری اپنی شناخت ہے،ہمارے ساتھ رانا ثنا اللہ مصالحت کار ہیں مگر انہوں نے ہم سے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا،ہم نے اگر مسائل پہ سنجیدگی سے غور کیا ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی ہم سے الگ نہ ہوتا،ہم نے بار بار مسائل وزیراعظم کے ساتھ اٹھائے لیکن اسکے باوجود کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اپوزیشن کو بھی موقع دیں کہ جو طریقہ اپنایا جاتا ہے وہ ٹھیک ہو مشاورت کریں اور سب کو موقع دیں،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ابھی جو مسودہ لیک ہوا ہے اس کے مطابق تو کوئی بھی ان سے اتفاق نہیں کر سکتا،ہمارے ساتھ آئینی ترامیم کا مسودہ شیئر نہیں کیا گیا، ہمیں صرف انفارمیشن دی گئی تھی اور اسی کے مطابق ہم غور کر رہے تھے، ہمارا مطالبہ تھا کہ مسودہ دے دیں، پہلے ہم اسے دیکھیں اور بحث کریں گے، اگر آپ کے پاس ڈرافٹ ہی نہیں تو ہم نے ڈسکس کس چیز پر کرنا ہے،اس کا مطلب ہے کہ ججز کو جب چاہے ٹرانسفر کر دو، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو کوئٹہ بھیج دیں گے اور نہیں جاتے تو استعفیٰ لے لیں گے،اس طرح عدلیہ پر بہت بڑی قدغن آجائے گی، جس طرح سے نئی عدالت بنا رہے ہیں، سپریم کورٹ کے سارے اختیارات لے لیں گے،میں نہیں سمجھتا کہ یہ آئینی ترامیم ہیں، یہ صرف غلط فہمی ہو رہی ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب

    عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب کر لیا

    عمران خان کے ممکنہ ملٹری حراست و ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ملٹری حراست میں دینا ہو تو طریقہ کیا ہوتا ہے؟ سیاست دانوں اور فوجی افسر کے بیانات کی خبریں ریکارڈ پر لائی گئی ہیں، اگر بیانات کسی افسر کی طرف سے آئیں تو وہ سنجیدہ ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزارت دفاع کے پاس آج دن تک ملٹری حراست و ٹرائل کی کوئی اطلاع نہیں ہے، وزارت دفاع کی طرف سے بیان دے رہا ہوں کہ ایسی کوئی چیز ابھی نہیں آئی، اگر کوئی درخواست آتی ہے تو پھر بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی درخواست قبل از وقت ہے؟ آپ کی درخواست پر میں نے نوٹس جاری نہیں کیا بلکہ بیان طلب کیا تھا، اگر جواب آتا کہ ہاں ملٹری ٹرائل ہونے جا رہا ہے تو پھر بات آگے بڑھتی، ہم آج ایک الگ دور میں ہیں، آج کے دور میں الفاظ کی جنگ ہوتی ہے، عدالت آپ کی بے چینی سمجھتی ہے ہماری حدود کو بھی سمجھیں ، میرے پاس اس کیس میں آگے بڑھنے کیلئے کچھ نہیں ہے ،وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت میں کہا کہ میں نے فیلڈ جنرل کورٹ میں 50 سے زائد کیسز کیے ہیں، جس پر عدالت نے پوچھا آپ کیسے سویلینز کوملٹری کورٹس میں لے جاتے ہیں؟ وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت میں کہا کہ متعلقہ مجسٹریٹ کو ملٹری اتھارٹی آگاہ کرتی ہیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاستفسار کیا سویلین کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہے؟ آپ مجھے اس حوالے سے طریقہ کار فراہم کر دیں، عدالت کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق واضح جواب نہیں دیا جارہا،وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارا بڑا صاف ستھرا طریقہ کار ہے، ہم بھی قانون شہادت پر چلتے ہیں،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ نیب کے قانون کو سپریم کورٹ نے ڈریکونین قرار دیا لیکن اس میں بھی طریقہ کار موجود ہے، طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے سول عدالت چارج فریم کرے گی، ٹرائل کورٹ اگر کہے کہ کیس ملٹری کورٹ کو بھیجنا ہے تو پھر نوٹس دے کر بھیجا جا سکتا ہے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب کر لیا جس پر وزارت دفاع نے مؤقف دینے کے لیے وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے آئندہ سماعت پر واضح مؤقف دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی۔

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان کو ملٹری کورٹ کا خوف کھا گیا، عمران خان عدالت پہنچ گئے،9 مئی مقدمات میں ملٹری کورٹ ٹرائل اور فوجی تحویل میں دینے کے ممکنہ امکان کیخلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان کی درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست میں آئی جی اسلام آباد ، آئی جی پنجاب ، ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی جیل خانہ جات کو بھی فریق بنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سویلین کورٹ کے دائرہ اختیار میں رکھنے کو یقینی بنایا جائے اور فریقین کو عمران خان کی کسٹڈی ملٹری اتھارٹیز کو دینے سے روکا جائے۔عمران خان نے درخواست میں فیض حمید کا نام لیے بغیر ذکر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خدشہ ہے کہ چند ہفتے قبل گرفتار سینئر ریٹائرڈ فوجی افسر نو اور دس مئی کے مقدمات میں میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے اور اسی بنیاد پر فوجی تحویل میں دیا جائے گا،

    بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں،عمران خان

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • آئینی ترامیم  میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کرنے کے لئے تیار کی گئی مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا،

    آئینی ترمیمی بل میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل ہیں،عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم سے متعلق بل حکمران اتحاد کی بھرپور کوششوں کے باوجود اتوار کو بھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اس ضمن میں حکومت بل پاس کروانے کے لئے اپنے نمبر پورے کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے

    مجوزہ آئینی ترامیم میں 54 تجاویز شامل ہیں، آئین کی63،51،175،187، اور دیگر میں ترامیم کی جائیں گی، آئین کے آرٹیکل63 میں ترمیم کی جائیں گی، منحرف اراکین کے ووٹ سے متعلق آرٹیکل 63 میں ترمیم بھی شامل ہے، آئینی عدالت کے فیصلے پر اپیل آئینی عدالت میں سنی جائےگی،آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے، چیف جسٹس کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جائےگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس میں بھیجا جاسکےگا، چیف جسٹس پاکستان کا تقرر سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز کے پینل سے ہوگا، حکومت سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز میں سے چیف جسٹس لگائےگی، آئینی عدالت کے باقی 4 ججز بھی حکومت تعینات کرےگی،آئینی عدالت کے فیصلے پراپیل آئینی عدالت میں سنی جائے گی، آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے،آئینی عدالت میں آرٹیکل 184،185،186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوگی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو اکٹھا کیا جائےگا۔

    آئین کا آرٹیکل 181 ججزکی عارضی تقرری سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 184 از خود نوٹس اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 185 فیصلوں پر اپیل سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 186 صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے مشاورتی اختیار سماعت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 رکن پارلیمنٹ کی اہلیت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 اے ڈی فیکشن کلاز ہے اورپارٹی سربراہ کے اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 51 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی تشکیل اور ججز تقرریوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 اے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل187 مکمل انصاف سے متعلق ہے۔

    آئینی ترمیمی بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جا رہی ہے،چونکہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طریقے سے اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے مقاصد کے لیے مزید ترمیم کرنا مناسب ہے۔ یہ ایکٹ آئین (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 کہلائے گا۔یہ ایکٹ فوراً نافذ ہو جائے گا۔آئین کے نئے آرٹیکل 9A کا اندراج۔- آئین میں، آرٹیکل 9 کے بعد، مندرجہ ذیل نئی دفعہ 9A کو داخل کیا جائے گا، یعنی:-"9A. صاف ستھرا اور صحت مند ماحول، ہر شخص کو صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کا حق حاصل ہوگا۔آرٹیکل 17 میں ترمیم، لفظ سپریم کورٹ کو وفاقی آئینی عدالت سے تبدیل کردیا جائے۔حکومت پاکستان کے خلاف کام کرنے والی جماعت کا معاملہ سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجے گی۔تیسری ترمیم آرٹیکل 48: وزیراعظم، کابینہ کی صدر کو ایڈوئز کسی عدالت اور ٹربیونل میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔وضاحت: آرٹیکل 48 میں سے ایڈوائز میں سے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کو نکال دیا گیا ہے۔
    آرٹیکل 63 اے میں تین ترامیم تجویز، ووٹ شمار ہوگا، ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں جائے گا،آرٹیکل 68: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے خلاف پارلیمان میں بات نہیں ہو سکتی۔ آرٹیکل 78: آئینی عدالت میں جمع ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو جائے گی۔ آرٹیکل 81: تین ترامیم شامل، لفظ وفاقی آئینی عدالت شامل کیا جائے۔ آرٹیکل 100: اٹارنی جنرل پاکستان وہ شخص تعینات ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو۔آرٹیکل 111: ایڈوائزرز صوبائی اسمبلیوں اور کمیٹیوں کے اجلاس میں شریک ہوسکیں گے۔ آرٹیکل 114: صوبائی اسمبلی میں وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر بات نہیں ہو سکے گی۔ آرٹیکل 165اے: انکم ٹیکس شق میں وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ ہوگا۔ آرٹیکل 175 اے: آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی اور ہائی کورٹ کے ججز کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے، جوڈیشل کمیشن میں تبدیلی، وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ چیئرپرسن ہو گا۔جوڈیشل کمیشن میں چیئرمین کے علاوہ 12 ارکان ہوں گے۔جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت کے دو ججز، چیف جسٹس سپریم کورٹ، سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ وزیر قانون، اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا نمائندہ جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہو گا۔ قومی اسمبلی سے حکومت اور اپوزیشن کے دو، سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کے دو نمائندے شامل ہوں گے۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے۔ آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی کی سفارش اسپیکر کی نامزد کردہ 8 رکنی قومی اسمبلی کی کمیٹی کرے گی۔پہلی بار آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی صدر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مشاورت سے کریں گے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی،چیف جسٹس سپریم کورٹ کا نام کمیٹی تین سینئر ترین ججز میں سے کرے گی۔ہائیکورٹ کے ججز کی کارکردگی کا کمیشن سالانہ جائزہ لے گا۔ اگر کسی جج کر کارکردگی تسلی بخش نہیں تو وقت دیا جائے گا ورنہ کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ بھیجے گی۔آرٹیکل 175 بی میں ترمیم: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی تعیناتی اور دائرہ کار،آرٹیکل 176 میں ترمیم: چیف جسٹس پاکستان کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کہا جائے گا۔ آرٹیکل 176اے کی شمولیت: دوہری شہریت کا مالک وفاقی آئینی عدالت کا جج نہیں ہو سکتا۔ آرٹیکل 177: سپریم کورٹ ججز کی اہلیت سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 177 اے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے حلف سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 178اے: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہو گی۔آرٹیکل 179: چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہو گی۔ 179 اے، 179 بی: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ کا جج صدر مملکت عارضی طور پر تعینات کریں گے۔آرٹیکل 182اے کی شمولیت: وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد میں ہو گی۔ آرٹیکل 184: دو یا اس سے زیادہ حکومتوں کے درمیان تنازعہ وفاقی آئینی عدالت دیکھے گی۔

    مفاد عامہ کے معاملات پر تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ مفاد عامہ کے تمام مقدمات سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو جائیں گے۔ 184 اے کی شمولیت: ہائی کورٹس کے آئینی معاملات پر فیصلے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج ہو سکیں گے۔آرٹیکل 185: ہائیکورٹس کی اپیلیں سپریم کورٹ سنے گی، آئینی سوالات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ آرٹیکل 186: صدرارتی ریفرنس پر سماعت آئینی عدالت کرے گی۔ آرٹیکل 186 اے: سپریم کورٹ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی مقدمہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائیکورٹ کو بھجوا سکے گی۔ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے معاملے کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا خود کو منتقل کر سکتی ہے۔رٹیکل 187 میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کسی بھی متعلقہ شخص کو طلب کر سکتی ہے۔آرٹیکل 188: وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار رکھیں گی۔آرٹیکل 189: وفاقی آئینی عدالت کا کسی بھی قانونی اصول حکم نامہ سپریم کورٹ سمیت ساری عدالتوں پر بائنڈنگ ہو گا۔سپریم کورٹ کا قانونی اصول پر کوئی بھِی فیصلہ وفاقی آئینی عدالت پر بائنڈنگ نہیں ہو گا۔ آرٹیکل 190: تمام جوڈیشل اتھارٹیز وفاقی آئینی عدالت کی مدد کی پابند ہوں گی۔ آرِٹیکل 191: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت اپنے قواعد و ضوابط بنائیں گے۔ آرٹیکل 192: ہائی کورٹس کے ججز کی تعداد کا تعین ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہو گا۔ آرٹیکل 193: ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، دوہری شہریت رکھنے والا ہائی کورٹ کا جج نہیں ہو سکتا۔ ہائیکورٹ جج کے لیے ہائیکورٹ وکالت کا کم از کم 15 سال کا تجربہ، 15 سال جوڈیشل آفس کا تجربہ ضروری قرار دیا گیا،آرٹیکل 199: ہائی کورٹ از خود آرڈر جاری نہیں کر سکے گی۔قومی سلامتی سے متعلقہ کسی شخص پر ہائی کورٹ حکم جاری نہیں کر سکے گی۔آرٹیکل 200: صدر مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کسی جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر کر سکیں گے۔ آرٹیکل 202: ہائیکورٹ قواعد و ضوابط ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنائے جا سکیں گے۔ آرٹیکل 204: توہین عدالت میں وفاقی آئینی عدالت کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی، آرٹیکل 205: وفاقی آئینی عدالت کی تنخواہیں مقرر کرنے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 206: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے استعفے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 207: جج آفس آف پرافٹ نہیں لے سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 208: وفاقی آئینی عدالت کے افسران کی تعیناتیوں سے متعلق الفاظ کی شمولیت ہے،آرٹیکل 209: سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں تبدیلیاں، سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت، چیف جسٹس سپریم کورٹ، آئینی عدالت کا سینئر ترین جج، ہائی کورٹس کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ آرٹیکل 210: کسی شخص کو طلب کرنے کا کونسل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کا اختیار ہو گا۔ آرٹیکل 215: چیف الیکشن کمشنریا الیکشن کمیشن کا کوئی ممبر نئی تعیناتیوں تک عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ آرٹیکل 215 میں ون اے کا اضافہ: چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی اور سینیٹ کی اکثریتی قرار داد سے دوبارہ نئی ٹرم کے لیے تعینات ہو جائیں گے۔ آرٹیکل 239: آئینی ترمیم کے خلاف کسی عدالت کا کوئی حکم نامہ موثر نہیں ہو گا۔

    آرٹیکل 243: مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتیوں، دوبارہ تعیناتیوں، ایکسٹیشن، مدت ملازمت پاک فوج کے قوانین کے مطابق ہوں گے اور انہیں دو تہائی اکثریت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 248: صدر، گورنرز کو آئین و قانون کے تحت قائم عدالتوں سے آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔رٹیکل 255: حلف سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 259: صدارتی ایوارڈز میں سائنس و ٹیکنالوجی، ادویات، آرٹس اور پبلک سروس کا اضافہ، آرٹیکل 260: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ،: شیڈول تین میں اضافہ: حلف نامے میں وفاقی آئینی عدالت کا حلف شامل ہے،شیڈول چار میں تبدیلی: کنٹونمنٹ ایریاز میں الفاظ لوکل ٹیکس، سیس، فیس، ٹول اور دیگر چارجز کو شامل کیا گیا ہے۔شیڈول پانچ میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ شامل ہے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/further-to-amend-the-Constitution-of-the-Islamic-Republic-of-Pakistan.pdf” title=”further to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan”]

    ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججز کی تعیناتی کے لئے کمیشن ہو گا جس کے چیئرپرسن وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہوں گے،دو سینئر جج وفاقی آئینی عدالت کے کمیشن کے رکن ہوں گے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو سینئر جج، وفاقی وزیر قانون،اٹارنی جنرل بھی رکن ہوں گے،ایک سینئر ایڈووکیٹ یا ایک وکیل جس کی سپریم کورٹ میں کم از کم بیس سال کی پریکٹس ہووہ بھی رکن ہو گا ،سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دودو اراکین بھی کمیشن کے رکن ہوں گے. ایک رکن حکومت اور ایک اپوززیشن کی طرف سے ہو گا، نامزدگی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کریں گے،

    "(2B) سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شق (2) میں کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے اور اس عدالت کے پانچ اگلے سینئر ترین جج اس کے ممبر ہوں گے۔ شق (2) کے پیراگراف (iv)، (v) (vi) اور (vii) میں کمیشن کے دیگر ارکان ہوں گے۔(xiii) شق (2B) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا داخل کیا گیا، درج ذیل نئی شق (2C)،داخل کیا جائے گا:”(2C) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر، قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارش پر، وفاقی آئینی عدالت کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔جس کا مقصد، نامزد شخص کا نام وزیراعظم کو بھیجا جائے گا، وزیراعظم تقرری کے لیے اسے صدر کے پاس بھیجیں گے،بشرطیکہ وفاق کے پہلے چیف جسٹس آئینی عدالت کا تقرر صدر اعظم کے مشورے پر کرے گا۔

    "(2D) قومی اسمبلی کی کمیٹی، اس کے بعد اس آرٹیکل میں کمیٹی کہلائے گی، قومی اسمبلی کے سپیکر کے نامزد کردہ آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی۔(2E) ہر پارلیمانی پارٹی کو، جہاں تک ممکن ہو، کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہوگی۔(2F) کمیٹی، اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے، متعلقہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سات دنوں کے اندر نامزدگی بھیجے گی جیسا کہ اس آرٹیکل کی شق (2C) اور (3) میں فراہم کیا گیا ہے۔(2G) کمیشن یا کمیٹی کی طرف سے لیا گیا کوئی بھی اقدام یا فیصلہ صرف اس میں خالی جگہ ہونے یا اس کے کسی اجلاس سے کسی رکن کی غیر موجودگی کی بنیاد پر غلط یا سوالیہ نشان نہیں ہوگا۔(2H) کمیٹی کے اجلاس ان کیمرہ منعقد کیے جائیں گے اور اس کی کارروائی کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔(21) آرٹیکل 68 کی دفعات کارروائی پر لاگو نہیں ہوں گی۔(2J) کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منظم کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔ "(3) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر، کمیٹی کی سفارش پر، تین سینئر ترین افراد میں سے کیا جائے گا۔

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    صدر مملکت کسی بھی جج کو عہدے سے ہٹا سکتا ہے:
    (7) وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا سوائے اس آرٹیکل کے فراہم کردہ۔(8) کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گی جس کا مشاہدہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کریں گے۔کونسل کی طرف سے بنائے گئے قواعد کے تابع، کونسل کا ایک سیکرٹریٹ ہوگا جس کی سربراہی ایک سیکرٹری کرے گا اور اس میں ایسے دیگر افسران اور عملہ شامل ہوگا، جیسا کہ ضروری ہو۔”

    آئین کے آرٹیکل 210 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے جہاں کہیں بھی واقع ہو، الفاظ "وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ” کے متبادل ہوں گے۔ اور(ii)شق (2) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے "وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ” کی جگہ دی جائے گی۔آئین کے آرٹیکل 215 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں(ا)موجودہ پہلی شرط کے بعد، مندرجہ ذیل نئی شرط ڈالی جائے گی:”مزید یہ کہ کمشنر اور ایک رکن اپنی میعاد ختم ہونے کے باوجود، جب تک اس کا جانشین دفتر میں داخل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا:”؛ اورموجودہ دوسری شرط میں، لفظ "مزید” کے لیے لفظ "بھی” بدل دیا جائے گا۔شق (1) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا ترمیم کی گئی، درج ذیل نئی شق (1A) داخل کی جائے گی:”(1A) وہ شخص جو کمشنر کے عہدے پر فائز ہو یا،ایک رکن، ہر ایوان میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کی اکثریت کے ووٹوں سے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے،ایک اور مدت کے لیے اسی دفتر میں دوبارہ تعینات کیا گیا۔”آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 239، شق (5) کے لیے، درج ذیل کو تبدیل کیا جائے گا،

    سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے باوجود،یا ہائی کورٹ، آئین کی کوئی شق یا اس میں کوئی ترمیم کسی بھی عدالت بشمول وفاقی آئینی عدالت یا ہائی کورٹ میں کسی بھی بنیاد پر سوال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس کوئی بھی فیصلہ، حکم یا اعلان کوئی قانونی اثر اور باطل نہیں ہوگا۔”

    آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل 243 میں، شق (4) کے بعد، درج ذیل نئی شق (5) ڈالی جائے گی، شق (4) میں مذکور سروسز چیفس کی تقرری، دوبارہ تقرری، توسیع، سروس کی حدود، ریٹائرمنٹ یا برطرفی مسلح افواج سے متعلق قوانین کی دفعات کے مطابق ہوگی،آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ دینے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ بل کے تحت سروسز چیف کی تقرری اور ایکسٹینشن کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہو گی۔ اس سے آرمی ایکٹ کو مزید مستحکم اور محفوظ بنایا جائے گا۔

    آئین کے آرٹیکل 255 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 255، شق (2) میں، الفاظ "وہ شخص” کے لیے، دوسری بار آنے والے الفاظ”ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، صوبے کے معاملے میں اور چیف جسٹس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت، دیگر تمام معاملات میں” کو تبدیل کیا جائے گا۔ہائی کورٹس کے سوموٹو اختیار کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ہائی کورٹس کے اختیارات میں کمی آئے گی۔ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کے نظام کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے تاکہ عدالتی نظام میں مزید نظم و ضبط اور شفافیت لائی جا سکے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/the-President-may-remove-the-Judge-from-office.pdf” title=”the President may remove the Judge from office”]

  • آئینی ترامیم،حکومت کے لئے درد سربن گئیں

    آئینی ترامیم،حکومت کے لئے درد سربن گئیں

    آئینی ترامیم حکومت کے لئے درد سر بن گئیں، مولانا فضل الرحمان کے گھر کے چکر، منانے کی کوششیں ،پھر مولانا کے کہنے پر ہی اجلاس ملتوی کر دیا گیا،آج کیا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترامیم پیش ہو پائیں گی؟

    آئینی ترامیم کے مسودے بارے بات کی جائے تو گزشتہ 48 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان سے حکومتی رہنماؤں کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں تا ہم گزشتہ شام وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مسودے کی کاپی ان کے پاس آ چکی ہے، وہیں جے یو آئی کے مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ مسودہ ہمیں نہیں ملا، مسودہ ملنے کے بعد غور خوض کریں گے ،اتنی جلدی ہی کیا ہے، ایک ماہ بھی مشاورت میں لگ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد آئینی ترامیم منظور کی جائیں ،لیکن حکومت نے آئینی ترامیم کی منظوری کے لئے اس سے قبل کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے حکومت کو قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس ملتوی کروانا پڑے، نواز شریف بھی گزشتہ روز اسلام آباد گئے اور آئینی ترامیم کے لئے ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنی تھی مگر نواز شریف اجلاس ملتوی ہونے کے بعد واپس آ گئے اور آج دوبارہ لاہور سے اسلام آباد جائیں گے، نواز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں سے مشاورت بھی کی ہے.

    دوسری جانب گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوا تو اس دوران صحافیوں نےو فاقی وزیر خواجہ آصف جو نمبر پور ے ہونے کے دعوے کر ررہے تھے کو گھیر لیا اور سوال کیا جس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، لگتا ہے نمبر پورے نہیں تھے اس لیے اجلاس ملتوی ہوا،صحافی کی جانب سے وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کیا کہتے ہیں؟ جس کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے نہیں پتا میں اسمبلی میں تھامجھے فیکٹس کا نہیں پتا کیا ہوا ہے،

    حکومت کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو منایا جائے، مولانا فضل الرحمان سے حکومت کے مسلسل رابطے جاری ہیں، تحریک انصاف بھی مولانا فضل الرحمان سے رابطے میں ہے،گزشتہ رو زہونے والے خصوصی کمیٹی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،اجلاس میں پی ٹی آئی نے موقف پیش کیا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے، یہ ایسا آئینی معاملہ ہے جس پر مزید مشاورت درکار ہے، اپوزیشن جماعتوں نے آئینی عدالت کے معاملے پر حکومت کو مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    علاوہ ازیں جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللّٰہ کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کیا ہیں؟ یہ نہ اپوزیشن کو پتہ ہے، نہ اتحادی جماعتوں کو، وہ قانون سازی ہونی چاہیے جو ملک اور عوام کے مفاد میں ہو،کابینہ ارکان سے بھی آئینی ترامیم کو چھپایا جا رہا ہے، اگر یہ آئینی ترامیم ملکی مفاد میں کی جا رہی ہیں تو انہیں چھپایا کیوں جا رہا ہے؟ یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی کے لیے ہیں یا اس کو کنٹرول کرنے کے لیے؟ اگر حکومت مسودہ شیئر کرے تو اس پر ہم اپنا آؤٹ پٹ دیں گے، آپ یہ بتائیں کہ آپ کو کس نے مجبور کیا ہے؟ آپ کو جلدی کیا ہے؟ ججز کی مدتِ ملازمت بڑھانے کے معاملے کی مخالفت کر رہے ہیں، حکومت کے ساتھ نہیں، حکومت ترامیم کا مسودہ دکھائے اور حکومت کو ہمیں منانا ہو گا کہ وجوہات کیا ہیں، اگر آپ عدلیہ میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں، جب مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ مسودے میں ہے کیا؟ تو میں کیا بات کروں

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب