Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں،بلاول

    مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں،بلاول

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوشش ہے کہ آئینی ترامیم پر سب کا اتفاق رائے ہو جائے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم پر مزید اتفاق رائے کی ضرورت ہے، مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں ان کی کوشش ہے کہ 18 ویں ترمیم کی طرح یہ ترمیم بھی متفقہ ہو،جمہوری اتفاق رائے کے لئے یہ سب چلتا ہے ،مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں متفقہ آئینی ترمیم ہو 18 وی ترمیم کی طرح ، اگر ایک دن مزید تاخیر ہوجائے توکوئی حرج نہیں،ہم نے پارلیمنٹ میں ماحول سازگار بنانے کیلئے خصوصی کمیٹی 2روز پہلے تشکیل دی، ہم تو 2006ء سے کوشش کر رہے ہیں کہ میثاق جمہوریت پر مکمل عمل درآ مد ہو،مولانا صاحب کافی چیزوں پر راضی ہیں، اگر آئینی ترمیم کیلئے ایک دن اور انتظار کرنا پڑا تو کر لیں گے، ہماری کوشش ہے کہ آئینی ترامیم پر اکثریت کا اتفاق رائے ہو،اسمبلی میں ماحول خراب تھا ہم نے اس کو بہتر کیا، ایک سیاسی جماعت کے قائد نے عدلیہ اور آرمی چیف پر حملہ کیا، ان کو جواب دینا ہو گا، ادارے کے ہیڈ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، ہم میثاق جمہوریت کو مکمل کرنا چاہتےہیں ایک دن اور انتظار کرنا پڑا تو کوئی بڑی بات نہیں.

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    دوسری جانب مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے قومی اسمبلی، سینیٹ اور وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہو گا،گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے فوری بعد ہی ملتوی کر دیا گیا تھا،اب قومی اسمبلی کا اجلاس آج دن ساڑھے 12 بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے سینیٹ کا اجلاس بھی آج ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا، مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ایوان بالا کا اجلاس آج دن ساڑھے 12 بجے دوبارہ شروع ہو گا

    دوسری جانب پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں نے آئینی عدالت کی مشروط حمایت کردی،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی، جے یو آئی اور حکومتی اتحاد کی جماعتیں آئینی عدالت پر مشروط رضامند ہیں،اجلاس میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بل پر مزید مشاورت کرنے کی تجویز دی جبکہ پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے۔

    آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے جمعیت علماء اسلام ف کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے، چند روز کے دوران وزیراعظم شہباز شریف دو مرتبہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی سربراہ جے یو آئی سے ملاقات کر کے آئینی ترمیم میں ساتھ دینے کی درخواست کی تھی، گزشتہ رات پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر جا کر ملاقات کی تھی،بعد ازاں بلاول زرداری نے بھی مولانا سے ملاقات کی تھی اور واپسی پر وکٹری کا نشان بنایا تھا،سابق وزیراعظم نواز شریف کی بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے،

  • قومی اسمبلی ،وفاقی کابینہ کا اجلاس کل  تک ملتوی

    قومی اسمبلی ،وفاقی کابینہ کا اجلاس کل تک ملتوی

    آئینی ترمیم کے معاملے پراسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کل دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردیا جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی کل تک موخر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 4 بجے ہونا تھا لیکن بعد ازاں یہ تاخیر کا شکار ہو گیا اور اب یہ چار گھنٹے بعد رات 8 بجے موخر کردیا لیکن 8 بجے بھی اجلاس شروع نہ نہ ہو سکا۔رات 11 بجے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا لیکن چند منٹ تک جاری رہنے والے اجلاس کو اسپیکر قومی اسمبلی نے کل دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا سہ پہر تین بجے ہونے والا اجلاس بھی تاحال شروع نہ ہو سکا۔کابینہ کا اجلاس دن 11 بجے طلب کیا گیا تھا لیکن پھر اسے تین بجے تک موخر کردیا گیا تھا لیکن یہ شام پانچ بجے تک شروع نہ ہو سکا۔بعدازاں وفاقی کابینہ کا اجلاس کل تک موخر کر دیا گیا۔

    پارلیمان میں بولیاں لگ رہی ہیں، امیر جماعت اسلامی

    اس سے پہلے ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوا تھا اور 4 بجے شروع ہونے والا اجلاس 7 بجے تک موخر کردیا گیا تھا لیکن قومی اسمبلی اجلاس میں تاخیر کے سبب سینیٹ کے اجلاس کو بھی رات 10 بجے تک موخر کردیا گیا تھا۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپنے ارکان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا، قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ارکان قومی اسمبلی کو مراسلہ جاری کردیا، مراسلے میں اراکین قومی اسمبلی کو آج کے اجلاس میں حاضری یقینی بنانےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    سینیٹ سے تمام پارلیمانی لیڈرز کمیٹی میں شامل

    دوسری جانب سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے بھی ارکان کو مراسلہ لکھتے ہوئے اراکین کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت دے دی ہے۔آئینی ترمیم کی منظوری اور عدم منظوری کے حوالے سے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز رات گئے بلاول بھٹو اور محسن نقوی نے فضل الرحمن سے طویل ملاقات میں آئینی ترمیم پرمشاورت کی تھی۔مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر حکومتی وفد کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی وفد بھی پہنچ گیا تھا جس کی قیادت چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کی جبکہ وفد میں اسد قیصر، عمر ایوب، شبلی فراز اور صاحبزاہ حامد رضا شامل تھے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے بھی ملاقات میں آئینی ترمیم سے متعلق بات چیت کی تھی لیکن پی ٹی آئی رہنماؤں نے صحافیوں سے بات چیت سے گریز کیا تھا۔

    حکومت کو قومی اسمبلی میں مزید 13 ارکان کی حمایت درکار
    آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ میں دو تہائی ارکان اسمبلی کی منظوری درکار ہے، یعنی 336 کے ایون میں سے تقریباً 224 ووٹ درکار ہیں، تاہم ابھی تک ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کے پاس دونوں ایوانوں میں کم از کم ایک درجن ووٹوں کی کمی ہے۔باغی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کی 336 نشستوں میں سے حکومتی بینچوں پر 211 ارکان موجود ہیں جس میں مسلم لیگ (ن) کے 110، پاکستان پیپلز پارٹی کے 68، ایم کیو ایم پاکستان کے 22 ارکان شامل ہیں۔اس کے علاوہ حکومتی ارکان میں استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ق کے 4،4، مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے 1،1 رکن بھی شامل ہیں۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر 101 ارکان ہیں، سنی اتحاد کونسل کے 80 اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 8 آزاد ارکان کے ساتھ 88 ارکان اسمبلی، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 8 جب کہ بی این پی مینگل، ایم ڈبلیو ایم اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن موجود ہے۔

    نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد متوقع

    آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں 63 ووٹوں کی ضرورت ہے تاہم ایوان بالا میں حکومتی بینچز پر 54 ارکان موجوود ہیں جن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے 24، مسلم لیگ (ن) کے 19، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 اور ایم کیو ایم کے 3، ارکان شامل ہیں، یعنی حکومت کو آئینی ترمیم کیلئے مزید 9 ووٹ درکار ہوں گے۔اعلیٰ ایوان کی اپوزیشن بینچز پر پی ٹی آئی کے17، جے یو آئی کے 5، اے این پی کے 3، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت مسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کا ایک ایک سینٹر ہے، اپوزیشن بنچز پر ایک آزاد سینیٹر بھی ہیں، اس طرح سینیٹ میں اپوزیشن بینچز پر 31 سینیٹرز موجود ہیں۔

  • آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس آج ہو گا،حکومت کی بھر پور کوشش ہے کہ آئینی ترامیم منظور کروا لی جائیں، حکومتی وفد نے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رات گئے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں،وزیر داخلہ محسن نقوی نے دو ملاقاتیں کیں تو پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری بھی مولانا فضل الرحمان کو ملنے گئے،

    قومی اسمبلی کا اجلاس آج ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا تھا جس کا 6 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا تھا تاہم اب قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا ہے،قومی اسمبلی اجلاس کا اب ساڑھے 11 بجے کے بجائے شام 4 بجے ہوگا، قومی اسمبلی اجلاس کے وقت میں تبدیلی اسپیشل پارلیمانی کمیٹی کی خصوصی سفارش پرکی گئی،کمیٹی نے صبح 10 بجےکی میٹنگ کے بعد اسپیکر سےکہا اہم امور پر فیصلوں کیلئے وقت درکار ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کمیٹی کی درخواست پر آج کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کے وقت کی تبدیلی کا نوٹس جاری کردیا،آج ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں وقفہ سوالات کے علاوہ 2 توجہ دلاؤ نوٹس شامل ہیں،صدرکے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب پر اظہار تشکر بھی ایجنڈے میں شامل ہے، اس کے علاوہ اراکین کی جانب سے نقطہ اعتراضات اٹھانے کا معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

    آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے جمعیت علماء اسلام ف کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے، چند روز کے دوران وزیراعظم شہباز شریف دو مرتبہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی سربراہ جے یو آئی سے ملاقات کر کے آئینی ترمیم میں ساتھ دینے کی درخواست کی تھی، گزشتہ رات پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر جا کر ملاقات کی تھی،بعد ازاں بلاول زرداری نے بھی مولانا سے ملاقات کی تھی اور واپسی پر وکٹری کا نشان بنایا تھا،

    ممکنہ آئینی ترمیم معاملہ،ن لیگ نے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت جاری کر دی،مسلم لیگ ن کی قوی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس ہوئے،اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر وزیرا عظم اور دونوں پارلیمانی پارٹیوں کے لیڈرزنے کی،اجلاس میں کہا گیا کہ تمام ارکان پارٹی فیصلے کے مطابق آئینی ترمیم بل کے حق میں ووٹ دیں،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پارٹی کی ہدایت کے مطابق ووٹ ڈالنا لازمی ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کوشش کرینگے وہ ترمیم لائیں جس میں ساری جماعتیں متفق ہوں، خصوصی کمیٹی کی اگلی میٹنگ 2 بجے ہوگی، کوشش کررہےہیں کہ یہ معاملہ حل ہوجائے، سیاسی بحران کو حل کرنے کیلئے کوشش کررہےہیں، مولانا فضل الرحمٰن کے آگے تمام معاملات رکھتے ہیں ،موجودہ قانون سازی کیلئے پی ٹی آئی کوبھی رویہ تبدیل کرنا چاہئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

  • اسرائیل سے تعلقات آزاد فلسطینی ریاست تک ممکن نہیں، سابق  سعودی انٹیلیجنس چیف

    اسرائیل سے تعلقات آزاد فلسطینی ریاست تک ممکن نہیں، سابق سعودی انٹیلیجنس چیف

    سعودی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل تعلقات آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک معمول پر نہیں آسکتے۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے تھنک ٹینک میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور سعودی اقتصادی تعلقات استوار کرنے کیلئے امریکا مذاکرات بحالی چاہتا ہے۔سعودی عرب کیلئے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کیلئے فلسطینی ریاست بنیادی شرط ہے۔سعودی شہزادے کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے وجود میں آنا تسلیم کرتا ہے تو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے پر بات کرسکتے ہیں۔شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودیہ کا موقف رہا ہے کہ ہم فلسطینیوں کیلئے بات نہیں کریں گے انہیں خود کرنی ہوگی، اسرائیل کی جانب سے پوری حکومت کہہ رہی ہے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں۔

    پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی درخواست دائر کرئے گا

    انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر سے پہلے سعودی مملکت نے فلسطینی وفد کو بھی مدعو کیا تھا، وفد سے کہا گیا تھا فلسطینی ریاست کی تشکیل کیلئے آکر امریکیوں سے براہ راست بات کرے، بدقسمتی سے 7 اکتوبر کے حملوں نے ان مذاکرات کو ختم کردیا۔شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام نہ صرف سعودی عرب بلکہ باقی مسلم دنیا کے ساتھ بھی اسرائیل کے تعلقات کیلئے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف نئی برطانوی حکومت نے ہی اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد کے کچھ لائسنس معطل کیے۔

    پی ٹی اے کا ایکس بندش نوٹیفکیشن پر یوٹرن

  • آپکے نمبر پورے نہیں ، نکاح بالجبر کررہے ہیں،شبلی فراز کا سینیٹ میں خطاب

    آپکے نمبر پورے نہیں ، نکاح بالجبر کررہے ہیں،شبلی فراز کا سینیٹ میں خطاب

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضاگیلانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔

    ضلع خیرپور کو گیس نہ دینے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نواٹس ضمیر حسین نے پیش کرتے ہوئے کہاکہ سپیشل اکنامک زون کو گیس دی جائے ۔ اس وجہ سے اکنامک مکمل فعال نہیں ہے ۔وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ خیرپور میں 7 سے 8سال کی ذخائر باقی رہ گئے ہیں جہاں سے گیس نکل رہی ہے وہاں نہیں دی جاتی بلکہ مین پول میں گیس شامل ہوتی ہے ۔اکنامک زون کے لیے30فیصد ایل این جی اور 70فیصد قدرتی گیس دی جاتی ہے ۔

    سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ آج اور کل بھی اجلاس بلایا گیا ہے سارے ملک میں باز گشت ہے کہ آئینی ترامیم لائی جارہی ہے آئین میں ترمیم جمہوری نظام میں نارمل ہے وہ قوانین جو اس ملک کو چلانے میں مدد دہتے ہیں عوام کی بہتری کے لیے ہوتے ہیں وہ اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ کسی بھی قانون سازی کے لیے جلدی میں پکڑا جاتا ہے کہ اس کو پاس کردیں کبھی آئی ایم ایف اور باقیوں کہاجاتا ہے قانون سازی کو بلڈوز کیا جارہا ہے ۔ممبران کو توڑا جارہاہے رحیم یار خان کا الیکشن ہوا اور فورا اس کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کردیا ہے کیوں کہ ان کو ممبران چاہیے ۔ آئینی ترمیم اتحادیوں اور اپنے لوگوں کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا گیا ہے 9ستمبر کا واقع نہ دہرایا جائے ۔ ایوان میں مکمل بحث ہونی چاہیے ۔ آئین کی ترمیم کو معمولی ترمیم نہیں سمجھ سکتے ہیں ترمیم کو مکمل مسٹری بنایا ہواہے تیار نہیں تھے تو ایوان کیوں بلایا گیا ۔ ترمیم کے لیے آپ کے نمبر پورے نہیں ہیں آپ نکاح بالجبر کررہے ہیں ۔ وزیرقانون کو ایوان کو بتانا چاہیے کہ وہ کیا کررہے ہیں ترمیم جب لائی جاتی ہے تو عوام کو قائل کیا جاتا ہے ترمیم کو شروع سے ہی متنازعہ بنادیا گیا ہے پارٹی کی شناخت نظریہ سے ہوتی ہے ۔ ذولفقار علی بھٹو نے اس ملک کو متفقہ آئین دیا تھا آج پیپلزپارٹی جمہوری اقتدار کو پسے پشت ڈال رہی ہے ۔ پارٹی نظریہ کو چھوڑ دے تو وہ سکڑجاتی ہیں ۔ پارٹی اصول کے بجائے مفادات کی سیاست کریں تو اس کا حجم سکڑ جاتا ہے ان کو پارلیمنٹ میں آنے کے لیے بیساکھیوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال ہے یہاں ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ بلوچستان میں امن وامان کی خطرناک صورتحال ہے خیبرپختونخوا ایک تجربہ سے گزر رہاہے اصل قربانیاں کے پی کے کے عوام نے دی ہے ان کا کلچر تاریخ تباہ ہوئی ہے جن قوتوں نے 40سال پہلے جس جنگ میں مبتلا کیا تھا آج بھی وہی کررہے ہیں عبدولی خان نے اس وقت کہاتھا کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے ،اگر ملک کے مفاد میں قانون سازی کررہے ہیں تو چیئرمین صاحب آپ ہمارے ساتھ شیئر کریں خاص طبقے کی مفادات کے لیے قانون سازی ہورہی ہے ۔ پارلیمان ہر قسم کی قانون سازی کرسکتا ہے اگر ان کے پاس مطلوبہ ارکان ہوں ۔ آپ آئین کی بنیاد کو تبدیل کررہے ہیں 8فروری کا الیکشن ٹھیک تھا جب الیکشن ہی ٹھیک نہیں تو آئین میں ترمیم کیوں کررہے ہیں اچھا کام سامنے اور برا کام رات کے اندھیروں میں کیا جاتا ہے ۔حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے اس لیے جلدی میں کام کئے جارہے ہیں۔ آئین کی حفاظت کی ذمہ داری پیپلزپارٹی اور ان کے نوسہ بلاول پر بھی ہے ۔ گیلانی کے خلاف عدالت میں نواز شریف گئے تھے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالا مقدمے بنائے ۔ ایک دوسروں کا چور آپ کہتے تھے ہم نے شہبازشریف پر ایک کیس منی لانڈرنگ کا کیا تھا ۔آپ ملک میں این آر او ون اور ٹو کیا تھا ۔ جس سے جمہوریت کو نقصان ہوا۔ اس کی وجہ سے ایماندار لوگ بھی کرپشن کرنے لگے۔وزیراعلیٰ کے پی کے کے خلاف باتوں مذمت کرتے ہیں ۔خیبرپختونخوا کے عوام وزیراعلیٰ کے پی کے کی سپورٹ کرتے ہیں۔ کل فکس میچ کے ذریعے ایوان کو ڈسٹرب کیا گیا ۔ میں نے چیئرمین صاحب آپ کو درخواست کی ہے کہ اپوزیشن میں جو لوگ بیٹھے ہیں ان کو حکومتی بنچوں پر بیٹھایا جائے اس کا غلط تاثر جاتا ہے

    حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مرضی کا قانون لائیں۔اسحاق ڈار
    چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ مجھے ابھی بھی بل کا نہیں پتہ ہے ۔قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں کافی چیزیں زیر بحث آئی ہیں وہ اپنے چیئرمین سے پوچھ لیں کہ کیا چیزیں زیر بحث آئی ہیں۔ آج اجلاس اس لیے بلایا ہے کہ آپ کے دس ارکان قید ہیں وہ گھومیں پھریں ۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مرضی کا قانون لائیں۔ انہوں نے ماضی میں تیز ترین قانون سازی کی ۔ ہم حکمت علمی کے ساتھ کام کررہے ہیں کوئی چھپ کرکام نہیں کررہے ہیں ۔ میثاق جمہوریت میں تھا کہ آئینی عدالت ہونی چاہیے میثاق جمہوریت پر عمران خان نے بھی دستخط کئے ہیں۔ 18ویں ترمیم میں ہم جو ترمیم نہیں کر سکے وہ اب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سول بیوروکریسی کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جارہی ہے ۔18ویں ترمیم میں جو مسائل ہیں ان کو ٹھیک کیا جائے گا ۔عجیب فیصلہ آیا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دیں گےتو ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا اور نااہلی بھی ہوگی ۔عوام کو انصاف نہیں ملتا ہے 11سال پہلے فوج داری ریٹ دی ہیں ابھی تک نہیں لگی ہیں ۔ہمارے حکومت میں ایک بھی نیب کا کیس اپوزیشن پر نہیں بنایا گیا ہے ۔اگر کوئی بنایا ہے تو مجھے بتائیں ۔ سیاسی بیان پر عمران خان نے 126دن کا دھرنا دیا ۔ اکانومی کا بیڑا غرق کیا گیا ۔ قائد حزبِ اختلاف کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ کوئی سرپرائز نہیں ہے ۔پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا ہے ہم نے میزائل پروگرام شروع کیا پابندیوں کا دور بھی گزارا ہے ۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ سپریم کورٹ کا اپنے پارٹی کے احکامات کے خلاف ووٹ دینے والا صرف نااہل ہوگا اس کا ووٹ نہ گننے کا فیصلہ آئین کے خلاف تھا ۔سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ ایک پارٹی کو آؤٹ آف دی وے جاکر ریلیف دے رہی ہے ۔ ہم عوام کی مفاد میں آئینی ترمیم لارہے ہیں ۔ خارجہ پالیسی عوامی مفاد میں بنے گی،سینیٹر سرمد علی نے کورم کی نشاندہی کردی ۔ جس پر پانچ منٹ گھنٹیاں بجائی گئی۔ جس پر اجلاس اتوار 4بجے تک اجلاس ملتوی کردیا گیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے آٹھ اکثریتی ججزکی وضاحت جاری

    مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے آٹھ اکثریتی ججزکی وضاحت جاری

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست پر تحریری وضاحت جاری کی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے 4صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، الیکشن کی وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ قرار دیدیا۔

    مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے 8 ججز نے وضاحت جاری کردی ہے،سپریم کورٹ میں مخصوص کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر 8 رکنی بینچ نے وضاحت جاری کردی ،اکثریتی فیصلہ دینے والے ججوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست عدالتی فیصلہ پر عمل در آمد کے راستہ میں رکاوٹ ہے،درخواست درست نہیں،الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کیا،الیکشن کمیشن وضاحت کے نام پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا،تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کروانے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججوں نے ابہام کو ختم کرنے کیلئے تحریری آرڈر جاری کردیا

    سپریم کورٹ کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا کہ انتخابی نشان سے محرومی کسی سیاسی جماعت کے حقوق ختم نہیں کرتی، پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی اور ہے، انتخابات میں نشستیں بھی حاصل کیں،الیکشن کمیشن کا وضاحت مانگنا دراصل عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنا ہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کر دی اور کہا کہ واضح کیا جا چکا ہے کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن آزاد امیدواروں نے بیان حلفی جمع کروایا ان کی پارٹی نمائندگی اسی تاریخ سے طے ہوجائے گی اور کے بعد آنے والے کسی ایکٹ کا اطلاق ان ممبران پر نہیں ہوگا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا، تحریک انصاف مقدمہ میں فریق نہیں تھی، سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن فریق تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے،مسلم لیگ ن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی،مسلم لیگ ن نے 12 جولائی کے فیصلے پر حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے، کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناعی دیا جائے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سنی اتحاد کونسل، حامدرضا اور الیکشن کمیشن سمیت 11 پارٹیوں کو فریق بنایاگیا ہے ،

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہو گیا

    این اے 171 سے کامیاب ہونے والی پیپلزپارٹی کے طاہر رشید نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھا لیا اس کے بعد آیئنی ترمیم کے لئے ایک اور حکومتی ووٹ کا اضافہ ہو گیا.قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ملتان کا ضمنی الیکشن ہو یا رحیم یار خان کا، میرے سپاہی ڈرتے نہیں، جُھکتے نہیں، وہ ہر فتنے کا مقابلہ کر کے، جھوٹ اور گالم گلوچ کی سیاست کا مقابلہ کر کے عوام اور ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر یہاں پہنچے ہیں، پاکستان کے عوام قیدی نمبر 804 کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں، پاکستان کے عوام گالم گلوچ کی سیاست کے ساتھ نہیں ہیں، جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے.ہمارے کارکن ہر فتنہ کا مقابلہ کرتے ہیں، عوام کی طاقت سے منتخب ہو کر یہاں پہنچے، رحیم یار خان کا ہمارا امیدوار ہر پولنگ اسٹیشن کا فارم 45 دکھا سکتا ہے،

    بلاول بھٹو نے عمران خان کے ٹویٹ کی قومی اسمبلی میں وضاحت مانگ لی
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی سٹیٹمنٹ ملک اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر وضاحت کریں ۔عمران خان کا اکاونٹ کون چلا رہا ہے؟ اس کی وضاحت آنا بہت ضروری ہے،کل قیدی نمبر 804 نے ایک بیان میں اپنے اپ کو فائدہ پہنچانے کے جمہوریت ہر حملہ کیا ، عمران خان کے اس بیان کے نتائج ہوں گے ، اگر انھوں نے یہ بیان دیا ہے تو ان کے لیےان کی جماعت کے لیے مسائل بنیں گے ۔

    بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اپوزیشن نے نعرے بازی کی، قیدی نمبر 804 کے نعرے لگائے.

    ابھی فارم 45 اور فارم 47 کے پراپیگنڈے پر بھی بہت بڑی کہانی سامنے آنے والی ہے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ چیف جسٹس کے خلاف بھی توہین عدالت کی گئی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیسز میں ریلیف لینے کے لیے ہر آئینی ادارے پر حملہ کیا ہے،آرمی چیف پر بھی سیاسی الزامات لگائے گئے، اؑرمی چیف نے ڈی جی آئی ایس آئی ہوتے ہوئے عمران خان کی کرپشن پکڑی بعد میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ،عمران خان نے جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کےخلاف سازش رچائی، میڈیا اینکرز اور سیاستدانوں کو لانچ کر کے اپنے ہی آرمی چیف کیخلاف لانچ کیا گیا، ابھی فارم 45 اور فارم 47 کے پراپیگنڈے پر بھی بہت بڑی کہانی سامنے آنے والی ہے،قیدی نمبر 804 نے اپنے بیان میں سیاست چمکانے کے لیے، ذاتی کیسز میں ریلیف لینے کے لیے ہر آئینی ادارے پر حملہ کیا، تحریک انصاف تحقیقات کرے واقعی بانی پی ٹی آئی کا بیان تھا، کل تک ہم بہت مثبت سمت میں چل رہے تھے، ہم نے ایسا فورم بنایا تھا کہ ہم جمہوریت اور اداروں کے فائدے کے لے قانون سازی کریں گے،کل رات ایک حملہ کیا گیا، جو ایک بار پھرجمہوریت پر حملہ ہے،موجودہ چیف جسٹس کے خلاف توہین عدالت کیا گیا، عہدے کو متنازع بنانے کے لیے آرمی چیف پر الزامات لگائے گئے،

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

  • پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے 365 نیوز پر پروگرام کھرا سچ میں کہا کہ جب ہم بریک لے رہے تھے تو احسن بھون صاحب کو سپریم کورٹ کے اندر سے انکی چڑیل خبریں دے رہی تھی،میں وہ سننے کے لئے بیتاب ہوں

    سپریم کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہ وہ چڑیل نہیں تھی بلکہ ہمارے بار کونسل، جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہیں ان سے پوچھ رہا تھا کہ فیصلہ کیا ہوا، وہ کہہ رہے تھے کہ چیف جسٹس ،بار کا نمائندہ مشاورت کریں گے، ایک نام سپریم کورٹ کے لئے چاہئے ہو گا تو تین نام بھیجے جائیں گے، کسی بھی ہائیکورٹ کے لئے بھی تین نام بھیجے جائیں گے،یہ بڑی اچھی بات ہے، آئینی ترمیم ہم سمجھ رہے ہیں،اعظم نذیر تارڑ نہیں بتا رہے، پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ آئینی ترمیم کرے میں ساتھ کھڑا ہوں گا، بار کے کچھ سیاسی جماعتوں کے نمائندے، جو ایم این اے،ایم پی اے ہیں،جن کی وہ چھتری تلے آئے ہیں وہ لے آئیں،ہم سے زیادہ عدلیہ کی آزادی، استحکام کے لئے کسی بندے نے کام نہیں کیا، اب بھی جہاں قربانی کی ضرورت ہو گی قربانی دیں گے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ ہے کہ دو قانون پارلیمنٹ نہیں بنا سکتی، پارلیمنٹ کسی مرد یا عورت کا جینڈر نہیں بدل سکتی، دوسرا یہ کہ کسی آنے والی پارلیمنٹ کو پابند نہیں کر سکتی کہ وہ کس طرح کی قانون سازی کرے،اسکے بعد پارلیمنٹ کا رائٹ ہے، تو پھر مسئلہ کیوں ہو رہا ہے؟جس پر سابق صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری کاکہنا تھا کہ یہ جوپارلیمنٹ ہے یہ فارم 47 کی پیداوار ہے،یہ حقیقی پارلیمنٹ نہیں ہے،سینئر جج چیف جسٹس کا جج ہو گا،یہ آئین کہتا ہے، بڑی جدوجہد کے بعد یہ ترمیم آئی تھی اسکو بدلنا درست نہیں، مفاد عامہ میں آپ کر سکتے ہیں ،ہمارے ہاں آئین سپریم ہے نہ مقننہ،نہ گورنمنٹ

    احسن بھون کا مزید کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتاکہ ایکسٹینشن والے چکر میں جانا چاہئے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ میاں صاحب کے قریب ہیں اسلئے آج آپ کوبلوایا تا کہ کچھ بتائیں جس پر احسن بھون کا کہنا تھا کہ میں اعظم نذیر تارڑ کے قریب ہوں، انکے کام کا ایک طریقہ ہے، میں بحیثیت قانون کے طالب علم کے کہتا ہوں کہ دوست ہمارے جو چیختے رہتے ہیں کہ ٹایم نہیں ہے، پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کا اختیار ہے،

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ہم کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں، غیر جانبدار ہیں،احسن بھون
    دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احسن بھون نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار ہے، ہمارے لیے قاضی فائز عیسیٰ سمیت تمام ججز قابلِ احترام ہیں، ایسی کوئی ترمیم نہیں آنی چاہیے جس سے کسی کی میعاد بڑھائی جائے،پنجاب بار کونسل میں مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی،پریس کانفرنس میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت، سابق صدر احسن بھون، وائس چیئرمین پنجاب بار بابر وحید اور صدر لاہور بار منیر بھٹی بھی شریک ہوئے،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت نے کہا کہ کورٹ فیس کا کم ہونا اچھی بات ہے، لیکن یہ ہونی ہی نہیں چاہیے، احسن بھون نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پر کچھ سیاسی جماعتوں نے واویلا مچا رکھا ہے، ہم کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں، غیر جانبدار ہیں، آئینی پیکیج ابھی سامنے نہیں آیا اس پر کیا بات کریں، آئین کے بنیاری ڈھانچے کے خلاف قانون سازی ہو ہی نہیں سکتی، جو لوگ سپریم کورٹ بار پر تنقید کر رہے ہیں وہ خود ہمیشہ ڈکٹیٹر کے ساتھ رہے، کورٹ فیس میں کمی کا مطالبہ تسلیم کرنے پر پنجاب حکومت کے شکر گزار ہیں، اصولی طور پر تو کورٹ فیس ہونی ہی نہیں چاہیے۔

  • وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل میں نے بنٹی اور ببلی کے فراڈ کی کہانی سنائی تھی کیسے انہوں نے ایاز لاکھانی اور کامران وحید کے ساتھ ملکر فراڈ پروجیکٹ لانچ کئے اور سادہ لوح لوگوں کو بے وقوف بنایا، آج میرے پاس ان پر درج کافی پرچوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، بہت سے لوگ رابطہ کر رہے ہیں، عنقریب میں کچھ انٹرویوز بھی کروں گا،سب کو بے نقاب کروں گا

    مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 4 جولائی کو ڈاکٹر سعدیہ یعقوب، ڈاکٹر ہمایوں، ڈاکٹر فیصل کی جانب سے چوہدری کامران، وسیم، ایاز لاکھانی، شمائلہ و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ، ایس ایچ او تھانہ غالب مارکیٹ کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا کہ ماہ نور فیضان کی جانب سے بتایا گیا کہ سنچری 99 کی جانب سے آٹھ کنال کے رقبے پر آٹھ منزلہ پلازہ بنایا جا رہا ہے، جس کا جلد قبضہ دیا جائے گا، ہمارا ایل ڈی اے سے رابطہ ہےستمبر 2023 تک منظوری مل جائے گی، ماہ نور نے شمائلہ سے ملوایا اس نے بھی یہی باتیں کی، شمائلہ نے کہا کہ جو بھی رقم دیں گے تو بطور ضمانت محفوظ ہو گی، لیز ایگریمنٹ کی مد میں طے شدہ کرایہ ہر مہینے کی تاریخ 10 کو ادا کر دیا جائے گا، غیر منظور شدہ نقشہ جات سامنے رکھے اور کہا کہ دکان نمبر 5 کوئی بھی قیمتی جائیداد دے کر بدلے میں حاصل کر سکتے ہیں، یقین دہانیوں کے بعد سائلان نے ڈی ایچ اے میں جائیداد جس کی مالیت سات کروڑ تھی، اسکے اصل کاغذات ملزمان کے حوالہ کر دیے، ملزمان نے 19 اکتوبر 2023 کو انور نامی شخص کو یہ پلاٹ 6 کروڑ 85 لاکھ میں بیچ دیا اور رقم پاس رکھی،اگست میں جب متاثرہ پارٹی نے تعمیر کے آغاز کا مطالبہ کیا تو اس پر ملزمان نے جھوٹ اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ تعمیر دسمبر 2023 میں شروع ہو جائے گی، دسمبر میں جب معلوم کرنے کی کوشش کی تو ساتھ مارچ 2024 کی تاریخ دی گئی اور کہا گیا کہ ہم شراکتی معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں جو جلد از جلد الیکشن 2024 کے بعد ہو جائے گا، مارچ بھی ہو گیا، پارٹی نے جون میں رابطہ کیا تو شمائلہ اور دیگر ملزمان کی جانب سے سائلان کو دھمکیاں دی گئیں اور کہا کہ ہم آپ کی زمین آگے بیچ کر مکمل فوائد حاصل کر چکے ہیں، آپ کچھ نہیں بگاڑ سکتے، رابطہ کیا تو سنگین نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے، معاملے کو چھوڑ دیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ یہ بڑے امیر کبیر ہیں، یہ سب فراڈ ہے، چوربازاری ہے،تھانہ گارڈن ٹاؤن میں محمد وسیم اور ایاز لاکھانی پر پرچہ کروایا گیا،جس میں مؤقف اختیار کیا گیا پراپرٹی خریدنے کے لئے 3 کروڑ12 لاکھ بذریعہ بینک ادا کئے گئے ، ہمیں چیک دیا گیا جو ڈس آنر ہو گیا، ایک اور عبداللہ بٹ کی جانب سے محمد وسیم کے خلاف پرچہ درج کروایا گیا، وسیم کے اسکے ساتھ تعلقات تھے، تین کروڑ 25 لاکھ ادھار مانگا،ایک ماہ کاوقت مانگا تھا جب وقت ختم ہونے کے بعد رقم مانگی گئی تو آدھی واپس دی گئی، پھر ایک چیک دیا گیا جو ڈس آنر ہو گیا، پھر ایک اور ایف آئی آر بھی درج ہوئی جس میں 14 کروڑ جس میں سے کچھ کیش اور باقی بینک کے ذریعے ادا کئے گئےتھے اسکا چیک دیا گیا جو ڈس آنر ہو گیا، ہمارے معاشرے میں دھوکہ دہی عام ہو چکی ہے، سکس سینس مارکیٹنگ، سنچری 99 کو یاد رکھیں، شمائلہ عاطف، ماہ نور فیضان، ایاز لاکھانی، محمد وسیم سے بچیں، اداروں نے پتہ نہیں کب ہاتھ ڈالنا لیکن خود انکے فریب اور دھوکہ دہی سے بچنے کی کوشش کریں

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

  • اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج

    اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج

    اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑ ھ گیا، حکومت آئینی ترامیم کرنے جا رہی، تحریک انصاف کی کوششوں کے باوجود انہیں ناکامی ہو گی اور حکومت پی ٹی آئی کے اراکین کو ہی توڑ کر ترامیم منظور کروائے گی.پاکستان کی پارلیمان آج ایک اہم سنگ میل عبور کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد ملک میں دائمی امن، سیاسی استحکام اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فیصلے پاکستان کی تقدیر بدلنے اور قوم کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کا وعدہ ہیں۔عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم کل پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی

    آئینی ترامیم کل اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کئے جانے کا امکان
    عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم کل اتوار کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، دو اراکین اسمبلی کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے آج ترامیم پیش نہیں کی جائیں گے، ن لیگی رہنما حمزہ شہباز اور جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری آج پاکستان واپس پہنچیں گے ،حمزہ شہباز فرانس گئے ہوئے تھے جبکہ عبدالغفور حیدری چین گئے ہوئے تھے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلیٰ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئینی ترامیم کل پارلیمنٹ میں پیش کی جا سکیں گی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل بروز اتوار بلائے جانے کا امکان ہے۔

    علاوہ ازیں پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم پیش کیے جانے کا معاملہ ،رات گئے حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے،حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے آئینی ترمیم میں تعاون کی درخواست کر دی، مولانا فضل الرحمان نے آج پارٹی سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کروا دی، جے یو آئی ف کے پارلیمانی ایوانوں میں تیرہ ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرگئے

    سپریم کورٹ کے ججوں کی مدتِ ملازمت 65 سال سے بڑھا کر 68 سال کرنے اور ہائی کورٹس کے ججوں کی مدتِ ملازمت 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کرنے کی تجویز شامل ہوگی، ججز تقرری کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلی کا امکان ہے،جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک بنانے کی تجویز آئینی ترمیم کا حصہ ہوگی۔

    آئینی ترمیم، میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کا امکان
    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جانے والی مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات سامنے آئی ہیں،ذرائع کے مطابق آئینی پیکج میں میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کا امکان ہے جبکہ نئے چیف جسٹس کے ساتھ نئی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے، آئینی عدالت کے لئے الگ چیف جسٹس کی تعیناتی کی تجویز زیر غور ہے،نئی عدالت کا مقصد آئینی مقدمات اور مفاد عامہ کے مقدمات کو الگ الگ کرکے عدالت عظمیٰ پر بوجھ کم کرنا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ نئی آئینی عدالت کے قیام کا معاملہ مجوزہ آئینی ترمیم کا حصہ ہو گا، مفاد عامہ کے دیگر کیسز موجودہ سپریم کورٹ میں سنے جائیں گے جبکہ آئینی عدالت 5 رکنی ہونے کی تجویز ہے، آئینی عدالت میں آئین کے آرٹیکل 184، 185 اور 186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو گی، آئینی عدالت کی تشکیل میں چاروں صوبوں اور وفاق کے ججز کی نمائندگی کی تجویز بھی زیر غور ہے، آئینی عدالت میں صوبوں کی طرف سےآئین کی تشریح کےمعاملات بھی زیرغورآسکیں گے،پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبے پر میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کو آئینی پیکج کا حصہ بنایا جا رہا ہے

    وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے، مگر اس سے کسی جج کی حق تلفی نہِیں ہوگی، ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے سے تمام موجودہ ججوں کا فائدہ ہوگا،آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے نمبرز پورے ہوگئے ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج 3 بجے سہ پہر اور سینیٹ کا اجلاس آج شام ہی 4 بجے ہوگا،اسلام آباد میں سیاسی پارہ ہائی ہو چکا ہے، اراکین کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روکا گیا ہے، پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین بھی پارلیمنٹ لاجز میں ہیں اور اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے،ہفتہ کو عمومی طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا جاتا کیونکہ ہفتہ اتوار کو اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تا ہم اس بار قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس ہفتہ کو طلب کیا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کی وجہ سے دورہ کراچی ملتوی کر دیا ہے،

    گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس تعداد پوری ہو چکی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کوئی آئینی ترمیم آنے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے

    دوتہائی اکثریت یعنی ایوان کے کل ممبران 336میں سے 224 ممبرز کی حمایت ضروری ہے، جے یو آئی (ف) سمیت حکومت کے پاس نمبر222تک پہنچ گیا، ترمیم کی منظوری کیلئے اسے صرف دو آزاد اراکین توڑنے ہونگے، اپوزیشن اراکین کی تعداد 111تک محدود ہے، پی ٹی آئی کےحمایت یافتہ 4 اراکین آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینگے

    حکومت اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے اہم آئینی ترمیم لانا چاہتی تھی ، جس کیلئے ایوان زیریں میں اسے دوتہائی اکثریت یعنی ایوان کے کل ممبران 336 میں سے 224 ممبرز کی حمایت ضروری تھی،قومی اسمبلی کے ایوان میں اس وقت 312 ممبران موجود ہیں جبکہ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں سمیت 24 نشستیں یا تو متنازع ہیں یا ابھی خالی ہیں جن پر نوٹیفیکیشن ہونا ہے، حکومتی اراکین کی تعداد 213 بنتی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 111 ہے، پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 68، ایم کیو ایم کے 22 اراکین، ق لیگ کے پانچ، استحکام پاکستان پارٹی کے چار، مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے، اسی طرح اپوزیشن اراکین کی تعداد 101 ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کے 80، آزاد اراکین چھ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آٹھ اراکین، بی این پی، مجلس وحدت المسلمین اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہیں،جے یو آئی ف ملا کر حکومتی نمبر 222 تک پہنچ جائے گا اوراسے صرف دو آزاد اراکین توڑنے ہوں گے

    آئینی ترامیم،وزیراعظم کا پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئینی ترامیم پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج شام 7 بجے وزیرِ اعظم ہاؤس میں طلب کر لیا ،وزیرِ اعظم آئینی اصلاحات کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیں گے اجلاس کے بعد ارکان کو عشائیہ بھی دیا جائے گا، اجلاس میں آئینی ترامیم بارے اراکین کو آگاہ کیا جائے گا، اجلاس میں ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اراکین شریک ہوں گے

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار