Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

    نیب ترامیم،سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لیں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ،جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ثابت نہیں کر سکے کہ نیب ترامیم غیر آئینی ہیں، سپریم کورٹ نے نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 3 ماہ بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم بحال کر دیں، فیصلے میں کہا ہے کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ثابت نہیں کر سکا کہ نیب ترامیم آئین سے متصادم تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی،جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا،جسٹس حسن اظہر رضوی نے بھی اضافی نوٹ تحریر کیا ،زوہیر احمد اور زاہد عمران نے متاثرہ فریق کے طور پر انٹراکورٹ اپیلیں دائر کی تھیں

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف فیصلہ متفقہ ہے،سپریم کورٹ پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپرکا کردارادا نہیں کرسکتی،چیف جسٹس اورججز پارلیمنٹ کیلئے گیٹ کیپر نہیں ہوسکتے،تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا،

    پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں نیب ترامیم منظور کی گئی تھیں، نیب قوانین کے سیکشن 2، 4، 5، 6، 14، 15، 21، 23، 25 اور 26 میں ترامیم کی گئی تھیں،نیب ترامیم کے خلاف عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 5 ستمبر 2023ء کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،سپریم کورٹ نے 15ستمبر 2023ء کو عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کالعدم قرار دیں،سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کی 10 میں سے 9 ترامیم کالعدم قرار دی تھیں،جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کیس میں دائر اپیلوں پر ذاتی حیثیت میں دلائل دینے کی درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ نے 10 مئی 2024ء کو انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا،لارجر بینچ نے بانیٔ پی ٹی آئی کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کی اجازت دی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 6 جون 2024ء کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    نیب ترامیم کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا، نیب ترامیم کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ قرار دیا گیا تھا، نیب ترامیم کے تحت نیب 50 کروڑ سے کم مالیت کے معاملات کی تحقیقات نہیں کر سکتا، ترمیم کے تحت نیب دھوکا دہی کے مقدمے کی تحقیقات تب ہی کر سکتا ہے جب متاثرین 100 سے زیادہ ہوں،نیب ترامیم کے تحت ملزم کا زیادہ سے زیادہ 14 دن کا ریمانڈ لے سکتا ہے جسے بعد میں 30 دن تک بڑھا گیا، ترامیم کے تحت نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکتا تھا،ترامیم کے تحت ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو نیب کے دائرہ کار سے نکال دیا گیا تھا، افراد یا لین دین سے متعلق زیرِ التواء تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز متعلقہ اداروں اور عدالتوں کو منتقل ہوئیں۔

    عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا یا تھاجس میں کہا تھا کہ کسی شخص کی کرپشن بچانے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا عوامی مفاد میں نہیں، کرپشن معیشت کے لیے تباہ کن اور اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں، مجھ سے دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم کا فائدہ آپ کوبھی ہو گا مگر میرا مؤقف واضح ہے یہ میری ذات کا نہیں ملک کا معاملہ ہے،اسی طرح دبئی لیکس پر کوئی تحقیقا ت نہیں کی گئیں جس میں مختلف پبلک آفس ہولڈرز اور ان لوگوں کی آف شور جائیدادوں کا انکشاف ہوا جنہیں سرکاری خزانے سے ادائیگی کی جاتی ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ظاہر کرنا چاہیئے کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم کیسے کمائی اور کن ذرائع سے بیرون ملک بھیجی ،نواز شریف، زرداری خاندان، راؤ انوار اور کئی سابق جرنیلوں کی جائیدادیں بھی بے نقاب ہو چکی ہیں، نیب یا ایف آئی اے کو ان کیسز کی فوری انکوائری کرنی چاہیئے تھی لیکن نیب ایسا نہیں کر رہا کیونکہ انہیں میرے خلاف خصوصی طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انصاف کا یہ منتخب نفاذ اس بدعنوانی کا واضح اشارہ ہے جو ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہے،اگر کسی کے بیرون ملک اثاثہ جات ہوں تو ان کی تفصیلات پہلے ایم ایل اے کے ذریعے حاصل کی جاتی تھی لیکن اس کو بھی ختم کردیا گیا، اس سے پہلے، یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد پر تھی کہ ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مماثل ہو، نئے قانون کے تحت نیب کو ثابت کرنا ہوگا کہ پیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا، پبلک آفس ہولڈرز کی آمدنی کے ذرائع معروف ہیں، اور اگر کوئی رقم ان کے خاندان یا ملازمین کے نام ظاہر ہوتی ہے، تو ان سے اس کی اصلیت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا کرپشن سے پاک پاکستان مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے تاہم ان ترامیم کا مقصد ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقتوروں کو بچانا ہے، سپریم کورٹ کو ان سب معاملات کو مد نظر رکھنا چاہیے، پارلیمنٹ کو قانون سازی آئین کے اندر رہ کر کرنی چاہیئے، نیب اگر اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو ترامیم اسے روکنے کی حد تک ہونی چاہئیں، اختیار کے غلط استعمال کی مثال میرے خلاف نیب کا توشہ خانہ کیس ہے، نیب نے میرے خلاف کیس بنانے کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کو 3 ارب 18 کروڑ کا بنا دیا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،سپریم کورٹ
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا،تحریری فیصلہ 16 صفحات پر جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی تحریری فیصلہ میں شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے فیصلہ سے اتفاق کرتا ہوں،حکومتی اپیلیں پریکٹس پروسیجر قانون کےتحت قابل سماعت نہیں،حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں،متاثرہ فریقین کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی جاتیں ہیں،نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قراردیا جاتاہے،ججز اور آرمی فورسز کے ارکان کو نیب قانون سے استثنی حاصل نہیں،اضافی نوٹ کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،جسٹس اطہر من اللہ

    فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے تحریری کیا ہے،فیصلہ میں کہا گیا کہ نیب قانون سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے زبردستی اقتدار میں آنے کے 34 دن بعد بنایا،پرویز مشرف نے آئینی جمہوری آرڈر کو باہر پھینکا اور اپنے لئے قانون سازی کی،پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز کو ہٹایا جنہوں نے غیر آئینی اقدام کی توسیع نہیں کی، آئین میں عدلیہ اور مقننہ کا کردار واضح ہے، عدلیہ اور مقننہ کو ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت پر نہایت احتیاط کرنی چاہیے،آئین میں دئیے گئے فرائض کی انجام دہی کے دوران بہتر ہے کہ ادارے عوام کی خدمت کریں، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ ججز پارلیمنٹ کے گیٹ کیپرز نہیں،مشرف دور میں بنائے گئے قانون کے دیباچہ میں لکھا گیا کہ نیب قانون کا مقصد کرپشن کا سدباب ہے جن سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں نے پرویز مشرف کو جوائن کیا انہیں بری کردیا گیا،نیب قانون کا اصل مقصد سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا یا سیاسی انجنئیرنگ تھا،

  • پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،آرمی چیف

    پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نےکہا ہے کہ پاک فوج پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کیلئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھے گی،

    وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی وار گیم کی اختتامی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں سے آگاہ کیا گیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ملکی دفاع کے لئے افواج پاکستان کی آپریشنل تیاریوں کو سراہا .

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی وار گیم کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی اس موقع پر وزیراعظم کو وار گیم اور خطرے کے میدان میں پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر جامع بریفنگ دی گئی، اجلاس میں وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر اطلاعات، آرمی چیف اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی، وزیراعظم شہباز شریف نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور خطے میں اسٹریٹیجک استحکام برقرار رکھنے میں مسلح افواج کے اہم کردار کو تسلیم کیا،وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں امن کیلئے ضروری طاقت کا نازک توازن برقرار رکھنے میں مسلح افواج کے کردار کو تسلیم کیا اور روزگار کے جدید تصورات اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی تعریف کی،اس موقع پر عسکری قیادت نے قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے ہر قیمت پر تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا،عسکری قیادت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاک فوج موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے پوری طرح باخبر ہے، پاکستان کیخلاف جارحانہ عزائم ناکام بنانے کیلئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھیں گے۔

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

  • کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔
    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اہم پریس کانفرنس کی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی افسر ( جنرل ریٹائرڈ فیض حمید ) کے کورٹ مارشل کا آغاز ہوچکا ہے، ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ نہ ہی فوج کسی سیاسی جماعت کی مخالف ہے، نہ طرف دار، فوج خود احتسابی کے عمل پر یقین رکھتی ہے۔ فوج کا خود احتسابی کا عمل الزامات کے بجائے ٹھوس شواہد اور ثبوتوں پر کام کرتا ہے،فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے واضح ثبوت اور شواہد سامنے آئے،فوج میں کوئی شخص ذاتی مفاد کے لیے کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو پروان چڑھاتا ہے تو پاک فوج کا احتساب کا عمل حرکت میں آتا ہے،کورٹ مارشل کارروائی شروع کی جا چکی ہے،پاک فوج میں اتفاق رائے ہے کہ کسی بھی مخصوص سیاسی مفاد کے حصول کی تکمیل سے محفوظ رکھا جائے گا، ہم یہ اُمید رکھتے ہیں خود احتسابی باقی اداروں کو بھی ترغیب دیتی ہے،فیض حمید کیس اس بات کا ثبوت ہے فوج ذاتی، سیاسی مفادات کیلئے کی گئی خلاف ورزیوں کو کس قدر سنجیدگی سے لیتی ہےاور کس طرح فوری کاروائی کرتی ہے، ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے کوئی بھی اپنے منصب کو استعمال کرتا ہے تو اس کو بھی جواب دہ کریں گے،تحویل میں لیے گئے افسران کو متعلقہ حقوق حاصل ہیں جیسا کہ اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی ،ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہوتا ہے، فوج الزامات پر یقین نہیں رکھتی، ہمارا خود احتسابی کا عمل ثبوتوں اور شواہد کو دیکھتا ہے،ٹھوس شواہد پر مبنی، تفصیلی انکوائری مکمل ہونے کے بعد 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی نے باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ متعلقہ ریٹائرڈ آفیسر نے پاکستان آرمی ایکٹ کی دفاعات کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور یہ کہ متعلقہ ریٹائرڈ آفیسر کے حوالے سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں ان بنیادوں پر فیلڈ جنرل کوٹ مارشل کی کاروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔فیض حمید کا معاملہ ابھی عدالت میں ہے اس ضمن میں ضروری تفصیلات ہی فراہم کی جائیں گی۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری خارجی کے خاتمے تک جاری رہے گی ، ترجمان پاک فوج
    بلوچستان کی ترقی کے دشمنوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ریاست دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی اور اُنہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری خارجی کے خاتمے تک جاری رہے گی ، قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں دہشتگردوں کی اجارہ داری ہے،پاکستان میں کوئی نوگو ایریا نہیں،ہمیں معلوم ہے کہ بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی اور ریاستی جبر کا ایک تاثر پایا جاتا ہے۔ بیرونی عناصر نے بلوچستان کے عوام کی اس محرومی کا فائدہ اٹھایا ہے۔ معلوم ہے کہ بلوچستان کے عوام میں خاص محرومی پائی جاتی ہے۔بلوچستان کی ترقی کے دشمنوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،

    گزشتہ ماہ 90 خوارج جہنم واصل،روزانہ 130 آپریشن کیے جار ہے، ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ این ایل سی ، ایف ڈبلیو او، ڈی ایچ ایس سمیت فوج اور فوج کے ذیلی اداروں نے 360 ارب روپے کے ٹیکسز جمع کروائے ہیں،فوج نے اپنے دفاعی اخراجات میں کمی کی ہے، دہشتگردوں اور سہولتکاروں کے خلاف رواں سال 32 ہزار 179 آپریشنز کیے ،گذشتہ ماہ 90 دہشتگرد خوارج مارے گئے،سیکیورٹی فورسز نے 21 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، پاک فوج کے 14 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔خوارج کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے روزانہ 130 آپریشز کیے جاتے ہیں۔ محفوظ پاکستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ پاک فوج کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔پاک فوج قومی فوج ہے۔ ریاستی اداروں پر عوامی اعتبار ہی ان کا سرمایہ ہے،فوج دہشتگرد اور قوم دہشتگردی سے لڑتی ہے۔کسی پاکستانی کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا،

    دہشت گردوں سے کہتے ہیں کہ ہمت ہے تو آو ہم سے مقابلہ کرو ، ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان برادر اسلامی ملک ہیں، حکومت پاکستان افغانستان حکومت سے رابطے میں ہیں،ایس آئی ایف سی میں فوج اپناکرداراداکررہی ہے،پاکستان کے فوجداری نظام کومضبوط کرنےکی ضرورت ہے،پوری قوم یک زبان ہوکردہشت گردی اور شدت پسندی کیخلاف کھڑی ہو،دہشت گردوں کوسرحدپار سے سہولت ایک بڑامسئلہ ہے،دہشتگردوں کی سرحدپارسےسہولت کاری کے مسئلے سے نمٹا جارہا ہے، فوج عوام کی فلاح وبہبود کیلئے ہرجگہ کام کررہی ہے،ہم دہشت گردوں سے کہتے ہیں کہ ہمت ہے تو آو ہم سے مقابلہ کرو ، کیوں معصوم شہریوں کی طرف جاتے ہو ،امن کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ،ایک محفوظ اور پرامن پاکستان معاشی طور پر آگے بڑھ سکتاہے،معصوم شہریوں کو بسوں سے اتار کر نشانہ بناتے ہیں یہ کون سا اسلام ہے یہ کونسی انسانیت ہے یہ انکی مایوسی ہے ،یہ حق کسی کو نہیں جو لوگوں کی منفی ذہن سازی کرے، بلوچستان پاکستان جان، شان اور آن ہے،

    آپ نے اس وقت کے وزیراعظم کا ذکر تو نہیں کیا؟ فیض حمید بارے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا جواب
    ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا کہ جب جنرل فیض کو ڈی جی آئی ایس آئی بنایا گیا تو اس وقت جنرل باجوہ اور جنرل نوید مختیار کو نہیں پتہ تھا کہ ان کی ایک خاص جماعت کے ساتھ ہمدردی ہے کیا آپ ان دونوں کو بھی ذمہ دار سمجھتے ہیں ؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے استفسار کیا کہ آئی ایس آئی کاباس کون ہوتا ہے، آپ نے اس وقت کے وزیراعظم کا ذکر تو نہیں کیا، ہمارا احتساب کا عمل شفاف ہے، جو ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر کام کرتا ہے،کوئی کسی بھی عہدے یا رینک پر ہو وہ قوانین کی خلاف ورزی کرے گا تو کاروائی ہو گی.

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کاروائی کا عندیہ دے دیا
    ڈی جی آئی ایس پی آر سے صحافی نے سوال کیا کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل ہو رہا ہے،کاروائی آگے بڑھ رہی ہے،جو تحریک انصاف رہنما ہیں وہ خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ عمران خان کو فوجی تحویل میں لیا جا سکتا ہے ،جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ میں یہ ضرور کہوں گا کہ فوجی قانون کے مطابق کوئی بھی شخص،فرد یا افراد کو جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں انکو اپنے ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرے اور اسکے شواہد موجود ہوں تو قانون اپنا راستہ بنائے گا

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

    ارشد ندیم کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں تقریب

  • ایف اے کی جعلی ڈگری،  جنرل( ر )باجوہ کے بھائی  کی پی آئی اے ملازمت ختم

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    برمنگھم میں تعینات پی آئی اے کے ڈپٹی اسٹیشن منیجر اقبال جاوید باجوہ کی ملازمت ختم کر دی گئی ہے

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق لاہور بورڈ سے ایف اے کا سرٹیفکیٹ جعلی ثابت ہونے پر اقبال جاوید باجوہ کو مستعفی ہونے کو کہا گیا تھا، برطانیہ میں پی آئی اے کے ڈپٹی اسٹیشن منیجر اقبال جاوید باجوہ نےاستعفی دے دیا ہے،ترجمان پی آئی اے کے مطابق اقبال جاوید باجوہ کو 30 جولائی کو پی آئی اے کے فنانس منیجر برمنگھم کے ذریعے شوکاز دیا گیا تھا، اقبال جاوید باجوہ نے 1977 میں پی آئی اے راولپنڈی آفس میں ملازمت حاصل کی اور انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں برطانیہ کی شہریت لی،اقبال جاوید باجوہ نے برطانیہ کی شہریت لیتے ہی پی آئی اے میں اپنی ملازمت برطانوی شہری کی حیثیت سے تبدیل کرائی۔

    جاوید اقبال باجوہ کو جعلی انٹرمیڈیٹ ڈگری رکھنے کے الزام میں جاری شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگست 2023 میں ان کی تعلیمی دستاویزات کی کاپیوں کی فراہمی طلب کی گئی تھی۔ تصدیق کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ان کی انٹرمیڈیٹ سند، جس پر رول نمبر 25703 درج ہے، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی جانب سے "جعلی” قرار دی گئی ہے۔پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے نے اقبال جاوید باجوہ کے خلاف پی آئی اے ملازمین کی ڈسپلنری پالیسی (EDP) 2019 کی شقوں 54 اور 32 کے تحت کارروائی شروع کی،جاوید باجوہ کو شو کاز نوٹس کا جواب دینے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اگر وہ تسلی بخش وضاحت فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو ایئرلائن مزید ڈسپلنری کارروائی کر سکتی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اقبال جاوید باجوہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمرجاوید باجوہ کے بھائی ہیں۔

    ایف آئی اے کی کاروائی،جعلی ڈگری پر پی آئی اے میں 17 برس نوکری کرنیوالا گرفتار

    جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو،جسٹس طارق جہانگیری

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کو مشکوک کال اور میسجیز موصول

    جسٹس طارق جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم ، غریدہ فاروقی،حسن ایوب،عمارسولنگی کو نوٹس

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • جسٹس طارق محمود جہانگیری  ڈگری کیس،کراچی یونیورسٹی کا فیصلہ معطل

    جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس،کراچی یونیورسٹی کا فیصلہ معطل

    سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کا کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کراچی یورنیورسٹی کو اس کیس سے متعلق مزید اقدامات سے روک دیا، عدالت نےجامعہ کراچی ان فیئر کمیٹی کی سفارشات اور سینڈیکیٹ کا فیصلہ معطل کر دیا،عدالت نے کہا کہ ڈگری معطلی کا حکم بادی النظر میں بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر کو نوٹس جاری کردیے اور فریقین سے 3 ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کرلیا، دوران سماعت وکیل نے کہا کہ ان فئیر میز کمیٹی، سینڈیکیٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری غیر مؤثر قرار دی تھی۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس کی ڈگری کا کیس ہے، یونیورسٹی نے اب تک کتنے فیصلے کیے ہیں اس قسم کے، وکیل نے کہا کہ سینڈیکیٹ نے غیر شفاف طریقے سے فیصلہ کیا گیا ہے،جسٹس صلاح الدین پہنور نے استفسار کیا کہ کب کی ڈگری ہے، وکیل نے بتایا کہ 30 سال پرانی ہے ڈگری ہے،جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ کس کی درخواست پر یہ سب ہوا ہے، کس کی شکایت پر کارروائی کی گئی ہے، یہ کہہ رہے ہیں اسلامیہ لاء کالج نے خط لکھا ہے،جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ درخواست گزاروں کا کیا تعلق ہے اس کیس سے، درخواست گزار نے بتایا کہ وکلاء کی جانب سے دائر کی گئی ہے، کراچی یونیورسٹی کو اختیار ہی نہیں ہے، صرف جوڈیشل کمیشن ہی کارروائی کرسکتا ہے، سینڈیکیٹ کے ایک ممبر کو پولیس 8 گھنٹے کے لیے اٹھا کر لے گئی تھی،جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہاں سیاسی باتیں نہ کریں، کسی کی ڈگری آپ کینسل کررہے ہیں اس کو بلانا چاہیئے، اس بندے کو نوٹس دینا چاہیئے،

    واضح رہے کہ 31 اگست کو جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ نے اپنی ان فیئر مینز (یو ایف ایم) کمیٹی کی سفارش پر ایک ہائی کورٹ کے جج کی ڈگری اور انرولمنٹ منسوخ کر دی تھی، کراچی یونیورسٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اراکین نے کے یو ان فیئر مینز کمیٹی کی سفارشات کی بھی منظوری دی جنہوں نے غیر اخلاقی اور نازیبا کاموں میں ملوث پائے جانے والے امیدواروں کی ڈگری اور انرولمنٹ کارڈ منسوخ کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاہم پریس ریلیز میں کسی امیدوار کا نام نہیں بتایا گیا،

    دو ماہ قبل سوشل میڈیا پر ایک خط گردش کرنے لگا تھا جس میں مبینہ طور پر کے یو کے امتحانات کے کنٹرولر کی طرف سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری کے حوالے سے لکھا گیا تھا،یہ خط مبینہ طور پر جامعہ کراچی کی جانب سے سندھ ٹرانسپیرنسی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت انفارمیشن کی درخواست کا جواب تھا، اس میں کہا گیا تھا کہ امیدوار طارق محمود نے 1991 میں انرولمنٹ نمبر 5968 کے تحت ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی،تاہم، امتیاز احمد نے 1987 میں اسی انرولمنٹ نمبر کے تحت داخلہ لیا، جب کہ ایل ایل بی پارٹ ون کا ٹرانسکرپٹ جسٹس طارق جہانگیری کے نام سے جاری کیا گیا، طارق محمود نے ایل ایل بی پارٹ ون کے لیے انرولمنٹ نمبر 7124 کے تحت داخلہ لیا تھا، خط میں ڈگری کو جعلی قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن اسے غلط قرار دیا گیا، جس میں وضاحت کی گئی کہ یونیورسٹی پورے ڈگری پروگرام کے لیے ایک انرولمنٹ نمبر جاری کرتی ہے جس سے طالب علم کے لیے ایک پروگرام کے لیے دو انرولمنٹ نمبر رکھنا ناممکن ہے۔

    جو جج جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے اس پر اللہ کا قہر نازل ہو،جسٹس طارق جہانگیری

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کو مشکوک کال اور میسجیز موصول

    جسٹس طارق جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم ، غریدہ فاروقی،حسن ایوب،عمارسولنگی کو نوٹس

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کی وجہ سے سپریم جوڈیشیل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے،

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • بجلی کی لوڈشیڈنگ، آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھا دیا

    بجلی کی لوڈشیڈنگ، آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھا دیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا.

    خاتون اول و ممبر قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ملک میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کا معاملہ ایوان میں اٹھادیا، پیپلز پارٹی کی رہنما خاتون اول اوررکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی، آصفہ بھٹو اجلاس کے دوران عوام کی آواز بن گئیں، آصفہ بھٹو نے وقفہ سوالات کے دوران سوال اٹھایا کہ پاکستان کے شہریوں کو طویل گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑرہا ہے؟ جبکہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار استعمال سے زیادہ ہے۔اس کے باوجود بھی پاکستان کے شہریوں کو طویل گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑرہا ہے؟آصفہ بھٹو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے لوڈشیڈنگ اور بجلی کی پیداوار پر مکمل وضاحت کی،وزیر قانون کا کہنا تھا کہ جن ایریاز میں ری کوری 80 فیصد سے زیادہ ہے وہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہو رہی ہے شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا،ریکوری کا مسئلہ ہے، ایوان کے توسط سے آگاہی دینی ہو گی، قیمت کی واپسی شہریوں کی ذمہ داری ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط اور آئین کے مطابق آئی پی پی پیز کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے پورے ایوان کی کمیٹی بنائے جائے جو تمام حقائق سامنے لائے اور پوری قوم کو درست حقائق سے آگاہ کرے۔

    حنیف عباسی اپنے ہی وزراء پر قومی اسمبلی میں برس پڑے
    ن لیگی رہنما حنیف عباسی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مصدق ملک اور اعظم نذیر تارڑ نے کیا ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ سب وزارتوں کا جواب اُنہوں نے دینا ہے ایسے بہتری نہیں آئے گی۔میں وفاقی وزرا کو دو کو چھوڑ کر سب کو کہتا ہوں کہ وہ ایوان میں آئیں، دس دس وزارتوں کا یہ جواب دے رہے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ ایک بندہ دس وزارتوں کا جواب دے اور پھر کہیں کہ ہمیں کامیابی ہو گی، ایسا ممکن نہیں ہے، جھنگ میں پچاس میگاواٹ کا آئی پی پی کئی برسوں سے بند پڑا ہے لیکن دس کروڑ روپیہ ماہانہ لے رہا ہے۔ یہاں پر 42 آئی پی پیز بند پڑے ہوئے ہیں لیکن انکے ماہانہ پیسے لیے جارہے ہیں،

    جو بل دینے والے ہیں انکی بجلی بھی بند ہو رہی ہے،کیوں؟ مصطفیٰ کمال
    وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سید مصطفی کمال نے باقاعدگی سے بجلی کے بلز ادا کرنے والے صارفین کو درپیش مشکلات سے متعلق آگاہ کیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میرا سوال ہے جس میں بات کلیئر نہیں ہو رہی ،بات لوڈشیڈنگ کی ہو رہی، جہاں سے نقصان ہے، بجلی چوری ہو رہی ،یہ کیا کر رہے ہیں پورا فیڈر بند کر رہے ہیں، اس فیڈر میں جو بل دینے والے ہیں انکی بجلی بھی بند ہو رہی ہے، ایک فیڈر بند کرنے سے بل دینے والوں کی بجلی بھی بند ہو رہی ہے، ایسا کیوں ہو رہا، یہ سسٹم کیوں نہیں بناتے، اس رویئے کی وجہ سے بل دینے والا 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت کرے گا تو اگلے ماہ وہ بھی بل نہیں دے گا، پی ایم ٹیز کو یہ کیوں بند نہیں کرتے یہ پری پیڈ میٹرز پر کیوں نہیں جاتے، جو بل نہ دے اسکی بجلی بند کریں، بل دینے والے کی بجلی بند نہ کریں ابھی یہ پتہ نہیں چل رہا کہ چور کون ہے، یہ سسٹم کب بحال ہو گا،

    تنقید ضرور لیکن وطن عزیز کے چپے چپے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں.مولانا فضل الرحمان
    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ملک کیلئے غیر ضروری سمجھنے سے زیادہ بڑی حماقت کوئی نہیں،آج سیاسی لوگوں کی اہمیت ختم کی جا رہی ہے، سیاستدانوں کو بااختیار بناؤ اور معاملات سیاستدانوں کے حوالے کریں،یہ مفاد کی جنگ نہیں، یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ خطہ پاکستان پراکسی وار کا میدان جنگ بنا ہوا ہے، امریکہ چین، سی پیک،گوادر یہ سارے معاملات ہیں کہ ایک سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جن کے ساتھ معاہدے ہیں لیکن ان منصوبوں میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں،بلوچستان میں یہی چاہ رہے ہیں کہ چین نکل جائے، حالات یہاں تک پہنچ چکے،بلوچستان میں ایک ہی دن مسلح افواج اور لوگوں پر حملے ہوئے، بلوچستان کے لوگوں سے بات چیت کریں، ریاست ناکام ہو جاتی ہے تو وہاں ہم جاتے ہیں اور صورتِ حال کو قابو کرتے ہیں، کچھ ایریازمیں پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جا سکتا، سکولوں میں پاکستان کا معاشرتی علوم نہیں پڑھایا جا سکتا، اس نازک صورتحال میں ہمیں اہم فیصلے کرنے ہوں گے، حکومت کو ذمہ داری ادا کرنی چاہئے، ہم تنقید کریں گے لیکن ملک کو اگر ہماری ضرورت پڑتی ہے وطن عزیز کے چپے چپے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں.میں چاہتا ہوں کہ لوگ افواج پاکستان پر اعتبار کریں،مہنگائی بڑھتی جارہی ہے، لوگوں کو روزگار نہیں دے پارہے ہیں،یہ سب دیکھ کر سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دے دیا ہے،18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے وسائل پر ان کا حق ہے،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی کی وجہ سے حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے،مسلح قوتیں وہاں اسلحے کے ساتھ گاؤں گاؤں پھر رہی ہیں،

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

  • سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے والے ڈرائیور کی وزیراعظم سے ملاقات

    سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے والے ڈرائیور کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےقلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو اپنی جان کی پراوہ کئے بغیر بچانے والے ایکسکویٹر ڈرائیور محب اللہ کا وزیرِ اعظم ہاؤس میں استقبال کیا

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے محب اللہ کی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے اپنی جان کی پراوہ نہ کرنے کے جذبے کی پزیرائی کی اور کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو آپ پر فخر ہے.آپکے انسانیت سے محبت کے جزبے کی دل سے قدر کرتا ہوں. آپ قوم کے ہیروہ ہیں، آپ نے ہمت سے کام لے کر قیمتی انسانی جانیں بچائیں.ایسے مشکل حالات میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انسانی جانوں کو بچانا بہادری کا کام ہے.آپ نے مصیبت میں گھرے لوگوں کو بچا کر قومی فریضہ ادا کیا.

    محب اللہ کی بہادری کے اعتراف میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 25 لاکھ روپے کے انعام سے بھی نوازا. وزیرِ اعظم نے محب اللہ کے بچوں کیلئے یونیورسٹی تک کی تعلیم مفت اور انکے خاندان کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کا بھی اعلان کیا. محب اللہ نے اس موقع پر وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں ملک کے وزیرِ اعظم سے ملاقات کر رہا ہوں. کبھی سوچا نہ تھا کہ میری ملک کے وزیرِ اعظم نے ملاقات ہو گی.لوگوں کی جانیں بچاتے وقت قطعاً نہیں سوچا تھا کہ یہ بات پورے ملک میں مشہور ہو جائے گی. وزیرِ اعظم اور حکومت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس اقدام کی پزیرائی کی اور میرے لئے اپنا قیمتی وقت نکالا. وزیرِ اعظم ہاؤس آمد پر وزیرِ اعظم کی جانب سے اتنی عزت ملنے پر دل سے مشکور ہوں. ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، چیئر میں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، وزیرِ اعظم کی کوارڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے والے شہری محب اللہ کو ملا انعام

    قبل ازیں بلوچستان میں سیلاب میں پھنسے خاندان کے 5 افراد کو ریسکیو کرنے والے شہری محب اللہ کو انعام دے دیا گیا،ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللّٰہ ڈاکٹر فاروق نے سیلاب میں پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنے والے ایکسکیویٹر ڈرائیور محب اللّٰہ کو تعریفی اسناد اور نقد انعام دیا ہے،ڈپٹی کمشنر نے محب اللّٰہ کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے شاباش دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے آپ کے جذبے کو سراہا ہے اور وہ آپ سے مل کر آپ کو اپنے ہاتھ سے سرٹیفکیٹ بھی دیں گے، ڈرائیور محب اللّٰہ نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ میں نے سیلاب میں پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنا فرض سمجھا اور اللّٰہ کی رضا کے لیے اس فیملی کی مدد کی، مصیبت میں گھرے افراد کی مدد ہمارے دین کی تعلیمات اور روایات کا خاصہ ہے، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا مشکور ہوں، ان کی حوصلہ افزائی باعث فخر ہے، پوری قوم کا بھی شکر گزار ہوں کہ مجھے اتنی محبت دی۔ایک ویڈیو بیان میں محب اللہ کا کہنا تھا کہ کار میں سوار فیملی کو بچانے کیلئے گھر سے ایکسیویٹر لے کر آیا،،’لوگوں کا ہجوم کھڑا تھا کہہ رہا تھا کہ ایک گاڑی آئی جس میں خاتون اور بچے سوار تھے جو سیلابی پانی میں پھنس گئی ہے، پھر میں نے لوگوں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کیلئے کوشش کرنے کا کہا موقع پر کھڑے لوگوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ہماری گاڑی بھی پھنس جائے میں جلدی سے بھاگا کسی موٹر سائیکل سوار کے ساتھ بیٹھ کر وہاں پہنچ کر ایکسیویٹر اسٹارٹ کرکے سیلابی ریلے کے مقام پر دوبارہ پہنچا اور کوشش کر کے بچوں اور خاتون کو بحفاظت نکال لیا‘‘

    پولیس کا ناروا سلوک،نوجوان نے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگالی

    پرویز الہی نے پی ٹی آئی چھوڑ کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی

    رہائی کے چند دن بعد پرویز الہیٰ پھر مشکل میں پھنس گئے

    میرے ساتھ” زیادتی” کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار محسن نقوی کا رہا ،پرویز الہیٰ

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    تصاویر:سعودی عرب میں سوئمنگ سوٹ فیشن شو،خواتین ماڈلز کی نیم عریاں کیٹ واک

  • ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں ویڈیو بنانے لگا تھا اور بتانا تھا کہ بنگلہ دیش سے پاکستان ہار جائے گا،لیکن پھر میں نے کہا کہ اللہ کرے جیت جائے، پھر صبح تک کا میں نے انتظار کیا، صبح ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور بتایا کہ لگتا ہے کہ دو گھنٹے کے بعد یہ ختم ہوجانا ہے معاملہ ہمارا، ہولڈ کر لی میں نے وہ ویڈیو، ہمت نہیں ہو رہی تھی، انسان پاکستان کا برا سوچ نہیں سکتا جو پاکستانی ہو، دوسرا پاکستان کے خلاف شرط نہیں لگا سکتا یہ بہت مشکل کام ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کمال کی بات ہے کہ بنگلہ دیش سے ہم پہلا ٹیسٹ میچ ہار گئے، بنگلہ دیش سے ہم سیریز ہار گئے،ہوم سیریز ہار گئے، اس سے پہلے ہم امریکہ، آئرلینڈ، افغانستان سے ہارے، یہ سب ایک سال میں ہوا، جب انڈیا میں ورلڈ کپ ہو رہا تھا اور سایہ کارپوریشن کا بھانڈا میں نے پھوڑا تھا تو "آلو” نے بڑی باتیں کی تھی اور کچھ لوگ اس کے فیور میں آکر وی لاگ کر رہے تھے، یہ کھیل نہیں تم لوگوں نے بنایا ہوا ہے پیسے کمانے کا،بھائی جان نے ریزائن کر دیا کہ جب تک میرے اوپر ثابت نہیں ہوتا میں نہیں آؤں گا، میں نے تو اس وقت چھ کھلاڑیوں کے نام دیئے تھے، کل ذکا اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 166 کھلاڑی سایہ کارپوریشن کے کنٹریکٹ میں ہیں، تو انہوں نے ہی ٹیم میں ہونا ہے پھر ٹیم میں سٹہ،جوا، لڑائیاں ،جھگڑے چلنے ہیں، پھر ٹیم ایک نہیں ہونی، بڑا واویلا مچا تھا پھر ذکا اشرف نے کہا کہ ہمیں موقع دینا چاہئے انکوائری کر رہا ہوں ،کیا نتیجہ نکلا، یہ بورڈ بھی کرمنل ہے کیونکہ یہ جھوٹ بولتے، دھوکہ دیتے ہیں،نیشنل سٹیڈیم، قذافی سٹیڈیم کو گرا کر دوبارہ بنائیں گے کیونکہ اربوں کے ٹھیکے ہیں، اب اگلے ماہ انگلینڈ نے آنا ہے اور کوئی میڈیا رائٹس لینے کو تیار نہیں ہے، یہ بنگلہ دیش سے ہار میں کافی چیزیں ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ کیا ہوئی،کیا نہیں ہوئی شاہین آفریدی نے 127 پر گیند پھینکی، یہ باتیں توکوئی کرکٹر کرے گا تو بہتر ہو گا، وہ عاقب جاوید،ظہیر عباس و دیگرکریں ، میں کچھ اور باتیں بتانے لگا ہوں، بنگلہ لیگ کو ن کون کھیل رہا تھا، میں اب چیلنج کر رہا ہوں کتنے پیسے یہ لیگلی پاکستان میں لے کر آئے، بنگلہ لیگ دنیا کی سب سے کرپٹ لیگ ہے،ہر کھلاڑی بتائے گا آنے والے میچز،سیریز کی بکنگ ،پیمنٹ وہیں پر ہوتی ہیں، آج اگر ایف آئی اے انکوائری کر لے، محسن نقوی کے انڈر ہے، وہ انکوائری کروائیں کہ کتنے کھلاڑی ہیں جن کے دبئی اوریو کے میں اکاؤنٹس ہیں، پھر آئیں میرے اوپر کیس کریں، کیس تو ہم آپ کے اوپر کریں گے، تم نے ہر وقت ملک کو بے عزت کروایا، سوال پوچھو توسیلفیاں کھنچوانے کے ڈالر لیتے ہو، یہ ورلڈ کپ کھیلنے گئے تھے، کتنے کھلاڑیوں نے باہر کی نیشنلٹی کے لئے اپلائی کیا ہوا، سب پتہ ہے، انہوں نے سب پیسہ باہر رکھا ہوا، محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں کر لیں انکوائری ، دودھ کا دودھ ،پانی کا پانی ہو جائے گا اور وہ جو اپنے آپ کو کنگ کہتا تھا کنگ اس وقت تھا جب کراچی کنگ کے لئے کھیلتا تھا اب تو کوئین بھی نہیں کہہ سکتے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ سایہ کارپوریشن سب کو لے ڈوبے گی، آئیں ناں کیس کریں، میں یہیں بیٹھا ہوں، تین چار ہفتے بعد انگلینڈ کی ٹیم آ رہی ہے، کوچز کو پی سی بی بزنس کلاس ٹکٹ دے رہی ہے، یہ چھٹیوں پر باہر جا رہے ہیں، تین ہفتے کا انگلینڈ ٹیم کے آنے سے قبل کیمپ لگنا چاہئے لیکن نہیں ہماری ڈیل ہی ایسی نہیں ہیں،اب پتہ چل گیا میں کہہ رہا تھا کہ یہ منہ کالا کروانے والے پلیئر ہیں اورپھر ان کے فین جو پاکستان سے عشق کرتے ہیں وہ انکے جھوٹ سے مرعوب ہو جاتے ہیں،بنگلہ دیش نے اس طرح مارا، ذرا شرم کر لیتے، چالیس چالیس کی عمر میں آ کر سیکھنا ہے آپ لوگوں نے تو بڑا کب ہونا ہے.

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

  • چینی وزیراعظم کا اکتوبر میں پاکستان کا 3 روزہ دورہ متوقع

    چینی وزیراعظم کا اکتوبر میں پاکستان کا 3 روزہ دورہ متوقع

    چین کے وزیراعظم لی چیانگ اگلے ماہ اکتوبر میں پاکستان کا 3 روزہ دورہ کریں گے

    چینی وزیراعظم تین روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے، چینی وزیراعظم 14 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں گے جہاں انکا پرتپاک استقبال کیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کابینہ کے ہمراہ چینی وزیراعظم کا استقبال کریں گے،چینی وزیراعظم دورے کے دوران پاکستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہوں گے،چینی وزیراعظم کے دورے کے دوران پاک چین تعلقات اور دیگر امور زیر غور آئیں گے،چینی وزیراعظم ایس سی او سربراہان کے اجلاس میں چین کی نمائندگی کریں گے،

    11 برس بعد کسی بھی چینی وزیراعظم کا دورہ پاکستان ہو گا،چینی وزیراعظم کے اس دورے پر دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں،شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے لئے پاکستان نے مودی کو بھی دعوت دے رکھی ہے تا ہم مودی کی شرکت متوقع نہیں ہے،بھارتی وفد پاکستان آئے گا اور اجلاس میں شریک ہو گا،

    شنگھائی تعاون تنظیم کے موجودہ اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا موقع فراہم کرتا ہے جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ، بھارت سمیت دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔پاکستان کی جانب سے اس دعوت کو ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اہم ہے۔

    ہمیں پاکستان اسپیڈ نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔چیئرمین چائینہ امپورٹ ایکسپورٹ بینک

    وزیراعظم کا ہواوے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چینی کمپنی کیساتھ فریم ورک معاہدے پر دستخط

    ہم چین کے اقتصادی ماڈل کی پیروی کر کے پنجاب سپیڈ کو پاکستان سپیڈ بنائیں گے، وزیراعظم

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ کے درمیان ملاقات ہوئی،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی کسوٹی پر کھڑی ہے،چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا غیر مشروط ساتھ دیا،پاک چین سٹریٹجک تعلقات میں مسلسل بہتری اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اپ گریڈیشن کیلئے چینی قیادت کا وژن قابل تحسین ہے،پاکستان اور چین کی دوستی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ علاقائی اور عالمی امن اور ترقی کے لیے بھی ضروری ہے،پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت اور دیگر شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے،

  • فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد  استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری) کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی

    شرکاءِ کانفرنس نے شہداء کے ایصال و ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی،فورم نےپاکستان کے امن و استحکام کیلئے شہداء افواجِ پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں کی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا،فورم کو خطے کی صورتحال، قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں آپریشنل حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی گئی .فورم نے ملک میں، خصوصاََ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں سرگرم ملک دشمن قوتوں، منفی اور تخریبی عناصر اور ان کے پاکستان مخالف اندرونی اور بیرونی سہولت کاروں کی سر گرمیوں اور اس کے تدارک کے لئے کئے جانے والے متعدد اقدامات پر بھی غور کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ”پاک فوج عوام کی غیر متزلزل حمایت سے انسداد دہشتگردی کے لیے قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی“فورم نے اس بات پر زور دیا کہ؛ ”فوج ایک منظم ادارہ ہے جسکے ہر فرد کی پیشہ ورانہ مہارت اور وفاداری صرف ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ہے“شرکا کانفرنس کا کہنا تھا کہ پاک فوج غیر متزلزل عزم سے ایک مضبوط اور کڑے احتساب کے ذریعے اپنی اقدار کی پاسداری کرتی ہے،جس میں کسی قسم کی جانبداری اور استثناء کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، فوج میں موجود کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد ادارے کے استحکام کے لئے لازم ہے اور کوئی بھی فرد اس عمل سے بالاتر اور مستثنیٰ نہیں ہو سکتا،

    ایک مضبوط اور مؤثر قانونی نظام کی اہمیت کو اُجاگرکرتے ہوئے آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ”پاک فوج دہشت گردوں، انتشار پسندوں اور جرائم پیشہ مافیاز کے خلاف ضروری اور قانونی کارروائی کرنے میں حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جامع تعاون فراہم کرتی رہے گی“

    فورم نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی ملی بھگت سے چلنے والی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری کوششوں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا،فورم نے سخت سائبر سیکیورٹی اقدامات کے ذریعے قومی سائبر سپیس کے تحفظ پر زور دیا .فورم نے بھارت کے زیرِ قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار کشمیری عوام کے ساتھ، اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے تحریک ِ آزادی کے شہداء کو خراج ِ عقیدت پیش کیا .فورم نے اسرائیل کی نہتے فلسطینیوں پر جاری بربریت اور نسل کشی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی.فورم نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارت کے حصول میں اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کا اعادہ کیا

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

    ارشد ندیم کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں تقریب