Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ کر لیا

    آکسفورڈ یونیورسٹی کی گورننگ باڈی کی جانب سے 300 سال کی روایت کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق سیاست دانوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا نیا چانسلر بننے سے روک دیا جائے گا۔آکسفورڈ کے ماہرین تعلیم کو بھیجی گئی اور برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو لیک ہونے والی ایک ای میل میں، یونیورسٹی کے رجسٹرار گیلین ایٹکن نے کہا کہ سیاست میں سرگرم افراد کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے سے روکا جائے گا

    یونیورسٹی کی کونسل سے نکلنے والے غیر معمولی فیصلے نے سینئر کنزرویٹو کی طرف سے غصے کو جنم دیا اور انتخابی عمل میں تبدیلیوں کے حوالہ سے نئی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں،سابق سینئر سرکاری ملازم ایٹکن کے طے کردہ معیار کی وجہ سے سیاستدان تھریسا مے، بورس جانسن اور عمران خان کے وائس چانسلر کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے جو امیدوار ہیں،

    یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی امیدوار مسز مے کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں رکن پارلیمنٹ کے طور پر دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن وہ کنزرویٹو کے لیے مہم جاری رکھیں گی، اب عمران خان کے لئے بھی مشکل پیدا ہو گئی ہے، عمران خان جیل میں ہیں، سزا یافتہ بھی ہیں، مقدمات بھی ہیں،اور الیکشن لڑنے کے بھی خواہشمند بھی ،وہیں پاکستان کا الیکشن لڑنے کے خواہشمند بھی ہیں، اس ضمن میں عمران خان نے سپریم کورٹ میں نااہلی کے خلاف درخواست جلد سماعت مقرر کرنے کے لئے ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، اب عمران خان کے لئے یہ فیصلہ مشکل ہو گا کہ اگر وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننا چاہتے ہیں تو انہیں سیاست سے دستبردار ہونا پڑے گا بصورت دیگر ان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے.

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    دوسری جانب کئی برطانوی سیاستدانوں نے کرکٹر سے سیاست دان بننے والے عمران خان کی فروری میں موجودہ لارڈ پیٹن کے استعفیٰ کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا اگلا چانسلر بننے کی حمایت کی ہے۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم، خان کو 2022 میں ایک متنازعہ عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان پر مقدمات قائم ہوئے، سزائیں بھی ہوئیں اور وہ اب جیل میں ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، عمران خان کو دوسرے امیدواروں سے مقابلے کا سامنا ہے، جن میں "برطانوی سیاست کے باوقار” پیٹر مینڈیلسن اور ولیم ہیگ، یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر لیڈی ایلش انجیولینی، اور مشرقی لندن کے بارٹینڈر ریان احمد شامل ہیں۔اگر لیڈی ایلش جیت جاتی ہیں، تو "وہ اس عہدے کی پہلی خاتون ہوں گی”

    آنے والے انتخابات میں کئی قابل ذکر پہلو شامل ہیں۔ ایک یہ کہ آنے والے چانسلر کو 10 سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جائے گا، دوسرا یہ کہ آکسفورڈ کے طلباء، عملے اور گریجویٹس کے "کانووکیشن” کے ذریعے ووٹنگ آن لائن ہوگی۔ ابتدائی ووٹنگ 28 اکتوبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں ہوگی، اگر امیدواروں کی تعداد 10 سے کم ہے، تو ووٹنگ کا صرف ایک دور ہوگا، اور نچلے درجے کے امیدواروں کو اس وقت تک ختم کردیا جائے گا جب تک کہ ایک امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر لے۔ اگر 10 یا اس سے زیادہ امیدوار ہوں تو ووٹنگ کا دوسرا دور نومبر میں ہوگا۔

  • بلوچستان میں کاروائی،5 دہشت گرد جہنم واصل،تین زخمی

    بلوچستان میں کاروائی،5 دہشت گرد جہنم واصل،تین زخمی

    بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کی ہیں، جن میں 5 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے ہیں

    سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقوں ژوب اور پنجگور میں کاروائیاں کی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں پانچ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے ہیں جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں،دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں 26 اگست کو بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی تناظر میں کی گئیں ہیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کو کٹہرے میں لانے تک فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی پاکستان کی سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ ہیں،بلوچستان کا امن و ترقی سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پُر عزم ہیں

    بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں پر پاکستانی قوم نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اورسیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانا ضروری ہوچکا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم کابچہ بچہ پاک فوج کے ساتھ ہے.

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • ایک بات طے ہے دشمنان پاکستان کو مل کر مقام عبرت بنائیں گے۔وزیراعظم

    ایک بات طے ہے دشمنان پاکستان کو مل کر مقام عبرت بنائیں گے۔وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نفرت کے بیج بونے والوں کو کوئی جگہ نہیں ملے گی،

    وفاقی کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کوئٹہ کا دورہ کیا اور امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا، ہم نے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، شہدا کے ورثاء بہت حوصلے میں تھے، بلوچستان کے چیلنجز پر کور کمانڈر کوئٹہ نے بریفنگ دی،بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ دہشت گردی کی انتہا تھی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گرد اور کچھ خارجی عناصر مل کر بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں، دہشت گردوں کو باہر سے مدد مل رہی ہے، بلوچستان میں نفرت کے بیج بونے والوں کو کوئی جگہ نہیں ملے گی،پاکستان کے دشمنوں سے بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دشمنان پاکستان کو عبرت کا مقام بنائیں گے، دہشت گرد پاک چین دوستی میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں، پاک فوج کے جوان دن رات دہشت گردوں کا پیچھا کررہے ہیں،بلوچستان میں سرفراز بگٹی کی حکومت کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نے یوتھ کیلئے بہت اچھے پروگرام مرتب کئے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 26 تاریخ کو ایسا ماحول پیدا کیا گیا جیسے بلوچستان میں علیحدگی کی تاریخ چل رہی ہے، بلوچستان کے لوگ محبت وطن ہیں وہ چاہتے ہیں ترقی کا پہیہ تیزی سے چلے، ہم نے دورے کے دوران تمام لوگوں کے مشوروں کو سنا ہے بعض سیاسی زعما نے کہا نوجوانوں کو مختلف بیانیوں کے ذریعے بھٹکایا جا رہا ہے، چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور سے بلوچستان بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے، دورہ کوئٹہ کے دوران یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر پوچھی کہ کیا چین پاکستان کا دوست ہے یا نہیں، سب نے کہا چین پاکستان کا دوست ہے، دہشتگرد سی پیک کو عوام کی ترقی کیلئے پروموٹ نہیں کرنا چاہتے،جلد وزیراعلیٰ بلوچستان سے میٹنگ کروں گا، وفاقی حکومت جو کچھ کر سکتی ہے وہ کریں گے، ایک بات طے ہے دشمنان پاکستان کو مل کر مقام عبرت بنائیں گے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    تحریک انصاف اور عمران خان کے تابوت میں اگر کوئی کیل ثابت ہوگاتو وہ میری نظرمیں ایک سو نوے ملین پاونڈوالاکیس ہوگا ۔ یہ اتنا بڑا معاملہ کہ اس کے آگے پاناما اورسوئس کیسسز کچھ نہیں ۔بلکہ دونوں بہت چھوٹے ہیں ۔یا یہ کہہ لیں کچھ بھی نہیں ۔پر کیونکہ عمران خان کی میڈیااور سوشل میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ سے اعلی رہی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اتنا ہائی لائٹ نہیں ہوا ۔میں گزشتہ کئی ماہ سے اس کیس کی سماعت کو فالو کر رہاہوں ۔ مگر ہر باراسٹوری جورپورٹ ہوتی ہے کہ عمران خان نے ایک سو نوے ملین پاونڈ کی پیشی پر الیکڑک برش مانگ لیا۔ ڈیمانڈ کر دی جیو کےرپورٹرکوبلائیں ۔کبھی یہ اسٹوری لگی ہوتی ہے کہ ایکسرسائز کے لیے ڈمبل نہیں دیا گیا کبھی کان میں تکلیف تو کبھی قبض کی شکایت ۔ پراس کیس میں کیا ہوچکا ہےاور کیا ہو رہا ہے اس پر میڈیا کچھ نہیں بتا رہا تو میں اور میری ٹیم نے اس پر پوری ورکنگ کر لی ہےاور اس نتیجے پرپہنچ چکےہیں کہ یہ کیس عمران کے گلے کاپھندہ ہے۔اس کیس میں عمران کرپٹ بھی ثابت ہوتا ہےبلکہ میری نظر میں تو یہ ملک ریاض سےصاف صاف کیک بیکس لینے والا معاملہ ہے۔

    ۔اتنی بڑی کرپشن کااسکینڈل شریف خاندان یاپیپلزپارٹی کےساتھ جوڑا ہوتاتواب تک ان پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہوتی ۔ ان کی نسلوں کو تباہ وبربا دکرنےکےاحکامات جاری ہوچکے ہوتے ۔ ان کے تانے بانے امریکہ سمیت اسرائیل کیا خلائی مخلوق تک سے جوڑ دیے گئے ہوتے ۔ چینلز نان اسٹاٹ اس پر ٹرانسمیشن کر رہے ہوتے ۔ جبکہ سب اینکرز کے روز کا ایک ہی ٹاپک ہوتا ایک سو نوےملین پاونڈ ۔ مگر کیونکہ معاملہ عمران خان ہے اس لیے اسکو پہلے دن سے ڈاون پلے کیا گیا ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ کوئی جج گھرسےمجبور نہ ہوا تو اس معاملے میں عمران خان لمبےاندر جائیں گے اور بڑی سزا ہوگی ۔ کیونکہ بڑے واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں ۔

    ۔میں اتنا یقین سے جو کہہ رہا ہوں ۔اسی کی وجہ ہے سب سے پہلے اس کیس کا پس منظر بتا دیتا ہوں ۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع چار سو اٹھاون کینال، چار مرلے اوراٹھاون مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو پچاس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ۔اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ اس کی توانکوئری کی بھی ضرورت نہیں ۔ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ کیونکہ ادھر زمین ٹرانسفرکی گئی ادھر ریلیف دے دیاگیا ۔ بہرحال اکتوبر دوہزاربائیس میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔ نیب دستاویزات کے مطابق تین دسمبر دوہزارانیس کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی پچاس ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی ۔۔این سی اے۔۔کی جانب سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ ۔ جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے چھبیس دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا ۔ جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت تین دسمبر دوہزار انیس کے کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ۔اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے تین دسمبر دوہزار انیس کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر دوپر فیصلہ کیا۔ آئٹم نمبر دو کا عنوان تھا۔احمد علی ریاض، ان کے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ۔ ایجنڈا آئٹم شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا اور بریفنگ دینے کے ساتھ کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض کو بھی طلب کیا گیا تھا۔آجکل بھی سنا ہے شہزاد اکبر ملک ریاض کے ہی ٹکڑوں پل رہاہے ۔

    ۔ سوال یہ ہےکہ این سی اے کی رقم ملک ریاض کو کیسے واپس ملی؟ دراصل دوہزار انیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایک سونوے ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو چار سو ساٹھ ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے دوہزارانیس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات بھی رازداری میں رکھی گئی تھیں اور این سی اے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی عوام یا میڈیا کو یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاستِ پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا تھا۔

    ۔یہ سب کچھ مفت میں نہیں کیا گیا بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے پچاس ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کینال مالیت کی اراضی حاصل کی۔ ۔ ان کی دونمبر ی کا عالم دیکھیں کہ ساری زندگی عمران خان اور انکی جماعت اس چیز کا پرچار کر تی رہی ہے ۔ کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانا ہے اور جب باہرکے ممالک پاکستان کا لوٹا پیسہ خود واپس کرنے لگے تو انھوں نے کہا نہیں رہنےدیں ہمیں نہیں چاہیئے ۔ میں اور میری بیوی نے بدلے میں زمین لے لی ہے۔ ایسی اسکیم تو کبھی کسی اور جماعت کے ذہن میں نہیں آئی ۔ مطلب یہ واردات ڈال کر عمران خان کرپشن کرنے والوں میں سب سے اعلی درجے پر فائز ہوگئے ہیں ۔

    ۔ اسی وجہ سے عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، بہرحال جب یہ کیس چلا تو ستائیس فروری دوہزار چوبیس کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فردجرم عائد کی ۔ اس سے قبل چھ جنوری دوہزار چوبیس کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے چھ شریک ملزمان ان کے بیٹے علی ریاض ملک، فرحت شہزادی(وہی گوگی جس کو کپتان نے سب سے پہلے بھگایا اور کہا تھا کہ یہ معصوم ہے )، ضیاالاسلام، شہزاد اکبر، زلفی بخاری کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا گیا۔ ملک ریاض نے حاضری سے استثنیٰ اور وڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے متعلق دو الگ الگ درخواستیں بھی دائر کیں لیکن دائر دونوں درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ تئیس جنوری کو عمران خان نےضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے بعد چودہ مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کی ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ہے، لہٰذا عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اٹھائیس جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا چودہ مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔پھر سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا ۔جس پر یاد ہو تو علی امین گنڈا پور اور یوتھیوں کو بہت مرچیں لگیں تھیں ۔ بلکہ اس دن جو پرویز خٹک نےبیان دیا وہ کہیں ڈسکس نہیں ہوا ۔ پرپرویز خٹک کی نیگٹوکردارسازی چھائی رہی ۔ پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔ پھر تیرہ جولائی کو عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے، اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے، نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔ اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے، شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جا سکے، میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی، میں نے کابینہ میٹنگ میں ان کیمرہ اجلاس ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔سابق پرنسپل سیکرٹری نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان پر اپنے دستخط ہونے کی تصدیق کی ۔ اعظم خان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی جس سے متعلق بتایا نہیں گیا۔ پھر سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سےایک بند لفافہ اضافی ایجنڈے کے طور پیش کیا گیا، اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا، ضروری تھا کہ اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنےسےقبل ممبران کو بریفنگ دی جاتی ۔ شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اسےفوری طور پر منظور کیا جائے۔ اضافی ایجنڈےکو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا اور کہا کہ منظوری سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےبھی کہا تھا کہ اس اضافی ایجنڈے کو منظور کرلیں، صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس اضافی ایجنڈے کی منظوری دی۔

    ۔ آج تک کی موجودہ صورتحال میں اس ریفرنس میں پینتیس گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔اب چند روز قبل اس ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا بیان سامنے آیا۔میاں عمر ندیم نے بیان دیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی منجمد کرنے کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے۔ تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے چار سو اٹھاون کینال چار مرلے اٹھاون مربع فٹ زمین خریدی، خریدی گئی زمین ملزم ذلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد عمران خان سے ذلفی بخاری، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون ملے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ گیارہ جولائی دو ہزارانیس کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ تین دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ بند لفافے میں کابینہ میں پیش کر کے اس کی منظوری پر اصرار کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم کر کے عمران خان ، بشریٰ بی بی اور ذلفی بخاری کو شامل کیا گیا۔ پھر بشریٰ بی بی نے چوبیس مارچ دوہزار اکیس کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں دو سو چالیس کینال اراضی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، مگرعمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت سے متعلق ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ثبوت دینے کیلئے متعدد نوٹسز کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بطور فرنٹ پرسن کام کیا۔ اب سمجھ آیا عمران خان کو یہ گوگی معصوم کیوں لگتی تھی۔

    ۔ یہ سب کچھ شہزاد اکبر اپنے ایماء پر تو کر نہیں سکتےتھے ۔ یقینا عمران خان کی آشیر آباد انکو حاصل تھی ۔ اسی لیے تو ان کو ، زلفی بخاری اورفرح گوگی کو ملک سے ایسے فرار کروایا جیسے مکھن سے بال ۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہ دونوں ان کی حکومت جانےکےبعد روکے تو ضرور گرفت میں آئیں گے اور یہ گرفت میں آئےتو پھر قانون کا ہاتھ عمران خان سمیت بشری بی بی کی گردن تک ضرور پہنچے گا ۔

  • مودی کو دعوت دے دی، ٹی ٹی پی سے کوئی بات نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

    مودی کو دعوت دے دی، ٹی ٹی پی سے کوئی بات نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کے لیے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو پاکستان کی طرف سے شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہے

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کے لیے ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے بھجوائے گئے ہیں،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی دعوت نامہ بھجوایا گیا ہے، ہمیں کچھ ممالک سے اجلاس میں شرکت کی تصدیق بھی موصول ہوئی ہے،وقت آنے پر آگاہ کیا جائے گا کہ کس کس ملک نے تصدیق کی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کا اجلاس ستمبر میں پاکستان میں ہوگا،پاکستان کے ساتھ بھارت کی براہ راست دوطرفہ تجارت نہیں ہے، تاہم اگر کوئی یک طرفہ درآمدات کرتا ہے تو وہ ممکن ہے، اس حوالے سے آپ وزرات تجارت سے رابطہ کریں،سید علی شاہ گیلانی کی برسی یکم ستمبر کو منائی جائے گی، سید علی گیلانی کشمیر کی جہدوجہد کی توانا آواز تھے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ سیشن آف کونسل آف فارن منسٹرز (سی ایف ایم) پر موجود ہیں ، سیکریٹری خارجہ وہاں پر غزہ اور جموں کشمیر پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے، وہ دہشت گردی سمیت دیگر عالمی مسائل پر گفتگو کریں گے،ہم خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے تاریخی مسجد پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

    افغانستان میں دہشتگرد گروہوں فتنہ الخوارج کی موجودگی اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی اداروں سے ثابت ہے،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، پاکستان افغان عبوری حکام کو مشورہ ہے کہ جو عناصر پاکستانیوں کو قتل کررہے ہیں کے خلاف کاروائی عمل میں لائے،پاکستان نے بارہا افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کا معاملہ اٹھایا ہے، افغانستان میں دہشتگرد گروہوں فتنہ الخوارج کی موجودگی اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی اداروں سے ثابت ہے، پاکستان نے افغانستان کو دہشتگردی پر انٹیلی جینس معلومات بھی فراہم کی ہیں تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی پر انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے معلومات جاری نہیں کر سکتے،پاکستان اور افغانستان کے درمیان متعدد رابطے کے چینلز موجود ہیں، ان چینلز پر دہشتگردی پر شواہد کا افغانستان کے ساتھ تبادلہ کیا جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما فہیم خان کی سعودی عرب میں گرفتاری،ترجمان دفتر خارجہ کا جواب دینے سے گریز
    ترجمان دفتر خارجہ نے پی ٹی آئی رہنما فہیم گرفتاری کے معاملہ پر ڈائریکٹ جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ پاکستان اس ملک کے قوانین کا احترام کرے جہاں وزٹ کر رہے ہیں۔آپ کا سوال پرانا ہو چکا ہے۔ سعودی حراست میں شخص نہیں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سے صحافی نے سوال کیاکہ کیا رہنما تحریک انصاف فہیم خان کو سعودی حکام نے رہا کردیا؟جس پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آپ صحافی حضرات خود معلوم کر لیں حراست میں ہے یا نہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں گرفتار پاکستانی آصف مرچنٹ سے متلعق دفتر خارجہ امریکہ کے انتظار میں،آصف مرچنٹ کے متلعق کچھ نئے معلومات نہیں آئیں ہیں۔ امریکی حکام کے انتظار میں ہیں کہ وہ معلومات شئیر کریں،

    کیا عمران خان کو لندن جانے کی اجازت ملے گی؟ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے بانی تحریک انصاف کے آکسفورڈ یونیورسٹی کا وائس چانسلر منتخب ہونے پر لندن جانے کی اجازت کے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا، صحافی نے سوال کیا کہ بانی تحریک انصاف اگر آکسفورڈ چانسلر کا الیکشن جیت گئے تو کیا پاکستان بانی پی ٹی آئی کو تقریبات میں شرکت کی اجازت دیگا۔جس پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا سوال ہے ،دوسرا ابھی سب قیاس آرائیاں ہیں اس لئے سوال پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں،

    ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کو گیس پائپ لائن پر لیگل نوٹس ملنے کی تصدیق کردی،کہا کہ وزارت خارجہ اور پیٹرولئیم ڈویژن معاملے کو قانونی ماہرین کے ساتھ دیکھ رہی ہے، آئی پی گیس پائپ لائن کی عدم تعمیر پر ایران نے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرلیا ہے

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • آرمی چیف   کی قیادت میں  پاکستان سے دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا، وزیراعظم

    آرمی چیف کی قیادت میں پاکستان سے دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر بلوچستان پہنچ گئے ہیں
    وزیراعظم شہباز شریف کوئٹہ پہنچے تو وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور دیگرحکام نے انکا ایئر پورٹ پر استقبال کیا، وزیراعظم کے ہمراہ کوئٹہ جانے والے وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی ،عطا تارڑاور جام کمال بھی شامل ہیں،

    کوئٹہ میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ26 اگست کو دلخراش واقعہ بلوچستان میں ہوا، جس سے پاکستان کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑی، سبھی اس واقعہ سے غمزدہ ہیں، اس لمحے ہمیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اجتماعی ارادے کے ساتھ بلوچستان میں دہشت گردی کا ًمکمل خاتمہ کریں گے، انتہائی اہم اور بہت خوبصورت صوبہ پاکستان کا ہے، اسکی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹیں دور کرنی ہیں، خارجی پاکستان کے دشمن ہیں، اندر جو گھس بیٹھیے ہیں سب نے ملکر منصوبہ بنایا اور پاکستانی شہید ہوئے، پاک فوج، ایف سی کے جوان،لیویز کے جوان، عام شہری شامل ہیں،ان کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، اللہ کے فضل و کرم سے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان سے دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا، وفاقی حکومت دہشت گردی کے‌خاتمے کے لئے بلوچستان حکومت کے ساتھ ہے، خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گرد سر اٹھا رہے کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل کر کامیابی حاصل کریں گے،بلوچستان واقعے پر سب غمزدہ ہیں، پاکستان کے خوبصورت صوبے کی ترقی کی راہ میں تمام رکاوٹیں دور کریں گے،پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے بعد اپنا مقام حاصل کرے گا، ترقی و خوشحالی کی راہ پر قائد، اقبال کے راہ پر چلیں گے، جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گے، مصمم ارادے کے ساتھ جمع ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا ان شاء اللہ

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    لاپتہ افراد کے نام پر بلوچ لبریشن آرمی کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا،دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی ایک اور سازش بے نقاب ہو گئی،رواں سال اپریل میں جس شخص کے نام سے مسنگ پرسن کی ایف آئی آر درج کرائی گئی آج اسی شخص کی شناخت ہوئی،دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے طیب بلوچ عرف الیاس لالا ولد مولا بخش کو لاپتہ شخص قرار دے کر ایف آئی آر درج کرائی تھی، بیلہ میں ایف سی کیمپ پر خودکش حملے میں طیب بلوچ کی شناخت ہو گئی،طیب بلوچ عرف الیاس لالا نوشکی کا رہائشی تھا،بلوچ لبریشن آرمی کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنے سرکردہ دہشتگردوں کو لاپتہ افراد کی فہرست میں ڈال کر اپنے مکروہ مقاصد حاصل کرتی ہے،اس سے قبل بھی بی ایل اے لاپتہ افراد کے نام پر اپنی سیاست چمکا چکی ہے،دہشتگرد کریم جان ولد فضل بلوچ تربت کا رہائشی تھا جو 25مئی 2022کو لا پتہ بتایا گیا،وہی دہشت گرد کریم جان گوادر حملے میں دہشت گردی کرتے ہُوئے مارا گیا ،اس سے قبل بھی دہشتگرد امتیاز احمد ولدرضا محمد بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا جو سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا ،عبدالودود ساتکزئی جس کی بہن 12اگست2021سے بھائی کی گمشدگی کا راگ الاپ رہی تھی، وہ بھی مچھ حملے میں مارا گیا،لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کرنے والے عناصر بیرونی قوتوں کی ایماء پر ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں ،بلوچستان کی دہشتگرد تنظیمیں بلوچ عوام اور نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہیں ،ملک دشمن عناصر کے مکروہ چہرے سے پردہ اب ہٹ چکا ہے لہٰذا دہشتگردوں کو اب ملک میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ان اجراتی قاتلوں کی شناخت اب ہو چکی ہے ، اب یہ بات آشکار ہو گئی ہے کہ مسنگ پرسن کا ڈرامہ رچا کر یہ اجراتی قاتل دہشت گردی کرتے ہیں

    لسبیلہ اپریشن میں جہنم واصل ہونے والا دہشت گرد طیب بلوچ مسنگ پرسن نکلا ۔طیب بلوچ جو 5اپریل 2024 سے لاپتہ تھا اس کی ایف ائی آر بھی کرائی گئی تھی وہ 26 اگست بیلہ ایف سی کیمپ حملے میں ملوث نکلا ،بی ایل اے کا دہشت گرد طیب بلوچ کو ایک طرف مسنگ پرسن میں لکھا گیا جبکہ دوسری طرف ان کو دہشت گرد تنظیم بی ایل اے میں بھرتی کر کے معصوم شہریوں کے قتل کرنے کے لیے پہاڑوں پرلے جایا گیا ۔ دہشت گرد طیب بلوچ کے لاپتا ہونے پہ ایف آئی ار بھی درج کی لیکن اس کے باوجود لواحقین کو کوئی خبر نہیں دی گئی بلکہ ماہرنگ بلوچ اور انکی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک طرف طیب بلوچ کو دہشت گرد تنظیم کے پاس بھیجا دوسری جانب ریاست مخالف پروپگینڈا کرنے کے لیے ان کو لاپتا بتا کے مزید ڈرامہ رچایا گیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پر انسانی حقوق کے علمبردار جواب دینا پسند کریں گےجس دہشت گرد کو مظلوم بتا کر ریاست کے خلاف جھوٹ بول رہے تھے حقیقت میں وہ معصوم شہریوں کاقاتل نکلا ۔

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • عمران خان  آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے جیل سے چانسلر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کے اعلان پر شدید احتجاج شروع ہوگیا ہے۔
    عمران خان، جو ایک سال سے زائد عرصے سے بدعنوانی کے الزامات پر جیل میں ہیں، نے کنزرویٹو پارٹی کے لارڈ پیٹن کی جگہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کو عمران خان کی امیدواری پر متعدد تحفظات موصول ہوئے ہیں ، جن میں ان کی طالبان کی حمایت اور ان کی سزا کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل عمران خان نے کہا، "بطور چانسلر، میں آکسفورڈ کے اصولوں، تنوع، مساوات اور شمولیت کی حمایت کرنے کا پُر جوش وکیل بنوں گا، نہ صرف برطانیہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔”یونیورسٹی کو اس معاملے پر ای میلز اور ایک پٹیشن موصول ہوئی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی امیدوار ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے، "اگرچہ عمران خان ایک ممتاز شخصیت ہیں، لیکن ان کے عوامی اور ذاتی ریکارڈ کے بعض پہلو انتہائی تشویشناک ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے طالبان کے ساتھ میل جول بڑھانے کی کوشش کی اور انہیں پاکستان میں دفتر قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ کہا، جو کہ ایک متنازعہ بیان تھا اور اس پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔عمران خان کے امیدوار بننے کے خلاف لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو ہراساں کیا اور انہیں بدنام کیا۔یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کی فہرست اکتوبر کے اوائل میں جاری کی جائے گی، جبکہ الیکشن 28 اکتوبر کو ہوں گے۔

    ڈیلی میل نے عمران خان کے حوالہ سے سٹوری شائع کی ہے،ڈیلی میل کے مطابق عمران خان کے الیکشن لڑنے کے فیصلے کے خلاف آکسفورڈ یونیورسٹی میں سخت اشتعال اور مظاہرے ہوئے ہیں،ڈیلی میل نے اپنی سرخی میں عمران خان کو Disgraced وزیراعظم کا خطاب دے دیا ،آکسفورڈ یونیورسٹی کو عمران خان کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کیخلاف غم و غصّے سے بھری ای میلز اور احتجاجی پٹیشن موصول ہونا شروع ہو گئیں ،ڈیلی میل کے مطابق ان ای میلز میں بانی پی ٹی آئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار دیا گیا ہے- پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کرپشن کیسز میں سزا یافتہ شخص کا آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے چانسلر کا الیکشن لڑنا قابل قبول نہیں ،

    طالبان اور اسامہ بن لادن کی پرجوش حمایت پر مبنی عمران خان کا شدت پسند موقف چانسلر کا امیدوار بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا،ڈیلی میل کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت اور ان کے شدت پسند ایجنڈے کا پرچار کیاہے – بانی پی ٹی آئی کے خلاف یونیورسٹی کو موصول پٹیشن میں اس طرح کے مزید ذاتی اور پبلک مفادات سے متصادم باتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،بانی پی ٹی آئی کی نجی زندگی پر بھی کئی داغ موجود ہیں،خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام اُنہی خواتین کے لباس کو ٹھہرانا بھی عوام نقطہ احتجاج بن گیا،خواتین کا مختصر لباس ان کی آبرو ریزی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے، ایسے لباس کے اثرات صرف روبوٹس پر نہیں ہوتے، لوگوں نے عمران خان کا پرانا موقف آکسفورڈ یونیورسٹی کو یاد کرا دیا

    تحریک انصاف کے سپورٹرز پر عمران خان کے مخالفین کو ہراساں کرنے کا بھی الزام ہے،عمران خان کے حامی اس پر تنقید کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا ٹرولنگ سے کام لے رہے ہیں، برطانوی اخبار کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی انسانیت کے احترام ، اخلاقی اقدار اور لیڈر شپ کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے قابل قدر تاریخ ہے، عمران خان کا چانسلر کا الیکشن لڑنا اسے داغدار کر دے گا، عمران خان دہشت گردوں کا حامی ہے قومی اسمبلی سے خطاب میں اس نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

  • فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کا حالیہ بیان،ایک ہی جملہ آیا ہے ذہن میں کہ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے، عمران خان نے عدالت پیشی کے موقع پر جج سے مکالمہ کیا کہ جیونیوز کے رپورٹر شبیر ڈار اور پبلک نیوز کے رپورٹر کو کیوں روکا جب تک انکو اجازت نہیں ملتی سماعت نہیں چلے گی، دونوں متوازن رپورٹنگ کرتے ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ رپورٹر کو اندر آنے کی اجازت دی جائے، جیل انتظامیہ نے بتایا کہ اندر کوئی رپورٹر موجود نہیں ہے،کمرہ عدالت میں موجود جی این این کے رپورٹر نے کوریج کے حوالہ سے تحریری درخواست عدالت میں جمع کروائی جس پر عدالت نے حکم جاری کیا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابصار عالم کا ریکارڈ ان ریکارڈ پڑا ہوا ہے کہ فیض حمید چاہتے تھے جیو کو بند کیا جائے، لائسنس بندکیا جائے، فیض کے پیچھے عمران خان تھا، جب میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا تو میں عمران خان کو ملا،شبلی فراز، شہباز گل بھی اس ملاقات میں موجود تھے، میں نے عمران خان کو کہا کہ میر شکیل الرحمان کو غلط کیس میں اندر کیا ہوا ہے یہ صحیح نہیں ہے، عمران خان نے اس وقت جو الفاظ استعمال کئے میں وہ استعمال نہیں کروں گا، عمران خان نےکہا تھا کہ جیو کو بند ہونا چاہئے، میں نے کہا تھا ایسا نہ کریں، عمران خان جب خود وزیراعظم تھا تو اس نے خود جیو کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا، آج جب مشکل میں ہے تو جیو ہی انہیں سہارا نظر آرہا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اپنےعروج پر پہنچ چکے ہیں ،چڑیل کے مطابق تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو نے والی ہے،کل علیمہ باجی کو ان کے خیبرپختونخواہ کےدورہ کا پہلا تحفہ دے دیاگیاہےکیونکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی مشیربرائے سماجی بہبود مشعال یوسفزئی سے قلمدان واپس لے لیاگیا۔ قلمدان پارٹی میں بیشتر عہدے داروں کے نالاں ہونے پر واپس لیاگیا۔حالانکہ مشعال یوسفزئی کو ہٹائے جانے کے بعد کابینہ میں خواتین کی نمائندگی ختم ہونے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کے پچھلے دور حکومت میں بھی کابینہ میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی۔دوسری جانب لطیف کھوسہ نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ پنجاب کی تنظیم سے مطمئن نہیں، تنظیم غیرفعال نظرآتی ہے۔ تین رکنی کمیٹی پنجاب سےآٹھ ستمبر کےجلسے میں شرکت کے حوالے سے نگرانی کرے گی، کمیٹی نظر رکھے گی کہ حماد اظہر نے کام بھی کیا ہے یا وہ صرف ٹک ٹاک تک محدود رہے۔ اگر وہ فعال نہیں ہوئے تو عمران خان کو کمیٹی رپورٹ دے گی، ان کا متبادل تجویز کریگی اور وہ ٹیک اوور کریں گے۔ مجھےاکثر ایکس اور یوٹیوب کےکمنٹس میں پی ٹی آئی والے برابھلا کہ رہے تھے مگراختلافات بڑھےہیں اور لڑائی جھگڑے ہورہے ہیں تو اس کے خاتمے کے لیے سابق صدر عارف علوی کی صدارت میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ عارف علوی اختلافات رکھنے والے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور ان کے تحفظات سنیں گے۔ بہرحال علیمہ خان اس وقت کے پی کے مختلف اضلاع کے دورے پر ہیں۔جہاں وہ ان ناراض کارکنوں سے مل رہی ہیں۔ جو تحریک انصاف کی کے پی حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے ناراض ہیں۔ علیمہ خان چاہتی تو پنجاب کے دورے پر بھی نکل سکتی تھیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی کوئی قیادت بھی موجود نہیں ہے۔ پنجاب کے کارکن کے پی کے کارکن کی نسبت زیادہ لاوارث ہیں۔ میاں اسلم اقبال مفرور ہیں۔ حماد اظہر استعفیٰ دے چکے ہیں جو قبول نہیں ہوا ۔ لیکن علیمہ نجاب کو چھوڑ کر کے پی گئی ہیں۔ شاید کے پی میں گرفتاری کا کوئی خوف نہیں۔ آپ گنڈا پور کی جتنی مرضی مخالفت کر لیں لیکن وہ علیمہ خان کو گرفتار نہیں کر سکتے۔ جب کہ پنجاب میں تو فوری گرفتاری کا ڈر بھی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران علیمہ خان کو روک دیں گے۔ انھوں نے پہلے بھی انھیں روکا ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عمران کو اپنی سیاسی جماعت میں باہمی اختلاف اور لڑائیاں پسند ہیں۔ کیا وہ اپنی بہن کو گنڈا پور کو چیلنج کرنے دیں گے۔ جیسے وہ شاہ محمود اور جہانگیر ترین کی لڑائی انجوائے کرتے تھے۔ ویسے علیمہ خان اور علی امین گنڈا پور کے اختلافات کوئی نئے نہیں ہیں۔ کئی ماہ پہلے بھی ایک ٹوئٹر اسپیس کی آڈیو آئی تھی جس میں گنڈ اپور اور علیمہ خان کے درمیان احتجاج کے ایشو پر سخت بحث ہو رہی تھی۔ علیمہ خان فوری احتجاج شروع کرنے کا کہہ رہی تھیں جب کہ گنڈ اپور کا موقف تھا کہ جب تک عمران خان نہیں کہیں گے ہم احتجاج نہیں کریں گے۔ علیمہ خان کا موقف تھا کہ بانی تحریک انصاف اپنی ذات کے لیے احتجاج کرنے کا نہیں کہیں گے بلکہ ہمیں خود احتجاج کرنا ہوگا۔ گنڈا پور کا موقف تھا کہ اب اگراحتجاج کرنا ہوگا تو کفن سر پر باندھ کر نکلنا ہوگا۔ کوئی آسان احتجاج نہیں ہوگا۔ویسے تو تحریک انصاف کی قیادت کا موقف ہے کہ علیمہ خان کے پاس تحریک انصاف کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔ اس لیے وہ تحریک انصاف کے تنظیمی معاملات میں کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتیں۔ لیکن انھوں نے تو براہ راست کارکنوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں وہ ان کے گھر جا رہی ہیں۔ اب سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا علیمہ خان تحریک انصاف کی قیادت کی بھی امیدوار ہیں۔ مگرصحیح میچ تو تب شروع ہوگا جب بشریٰ بی بی بھی جیل سے باہر آجائیں گی اور اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں گی۔ لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ عمران خان نہ صرف جیل میں رہیں بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ بھی ہو۔ کیونکہ جب یہ صاف ہوگا کہ وہ مائنس ہو گئے ہیں تو ہی متبادل لیڈر کی لڑ ائی بڑھے گی۔اسی لیےآٹھ فروری کے الیکشن سے لے کر آج تک خان جیل میں رہتے ہوئے بھی ساری قوم کو اپنی جانب متوجہ کیے ہوئے ہیں، وہ روز ایک ایسا بیان جاری کر دیتے ہیں جو اُن کے پچھلے بیان کی مکمل نفی کر رہا ہوتا ہے۔ آج کل وہ سخت اضطراب اورکشمکش میں ہیں۔ فیض حمید کی گرفتاری سے قبل انھیں ریلیف ملنے کی کوئی اُمید و آس ضرور تھی لیکن اُن کے تحویل میں لیے جانے کے بعد یہ آس واُمید بھی دم توڑ گئی ہے۔

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

  • ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ ماہ رنگ بلوچ کون ہے، 31 سالہ ماہ رنگ بلوچ ،بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لیڈر ہے،قتل اور لاپتہ افراد کے حوالہ سے لوگوں کو ساتھ ملا کرریاستی اداروں کے خلاف تحریک چلاتی ہے، اس پر الزام ہے کہ بیرونی معاونت سے یہ ملک کے خلاف تحریک چلا رہی ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ حقیقت کیا ہے،یہ کیوں ہتھیار اٹھائے بغیر ہتھیار سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے ماہ رنگ کا تعلق بلوچستان کے قلات ضلع کے لانگو قبیلے سے ہے، لانگو قبائل کوئٹہ،خضدار کچھ سندھ میں رہتے ہیں،ماہ رنگ کے والد واپڈا کے ملازم تھے اور کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے رکن تھے،انہیں 2006 میں پہلی بار اٹھایا گیا پھر وہ واپس آئے، 2011 میں پھر لاپتہ ہوئے اور ایک کاروائی میں مارے گئے، مسخ شدہ لاش ملی، وہ بی ایل اےکا سرغنہ او ر ریاستی اداروں کے خلاف حملوں میں‌ملوث تھا، ماہ رنگ بلوچ اس واقعہ پر زیادہ نہیں بولتی،والد کے مارے جانے کے بعد ماہ رنگ خاندان کے ساتھ کراچی چلی گئی،یونیورسٹی میں داخلہ ملا تو ماہ رنگ کوئٹہ آ گئی، 2016 میں اسکے بھائی کو اٹھایا گیا تو ماہ رنگ نے نقاب اتارا اور احتجاج شروع کر دیا،بھائی تو واپس آ گیا لیکن ماہ رنگ نے سیاست شروع کر دی وہ بھی ملک کے خلاف، جون 2020 میں کوئٹہ میں طلبا کے احتجاج کے دوران بولان میڈیکل کالج کی طالبہ ماہ رنگ سب کی توجہ کا مرکز بن گئی، طلبا کے احتجاج میں شامل ہونا ماہ رنگ کے اس انداز کو کئی صارفین نے سراہا تھا وہاں سے وہ مشہور ہوئی، ماہ رنگ نے کہا تھاکہ میں نے ڈاکٹر بننا اور سیاست کرنی، میری نظر دور تک ہے، سیاست لازمی کروں گی کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں، دسمبر 2023 میں اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کونسل کا دھرنا زیر بحث تھا جو ماہ رنگ کی زیر قیادت تھا، دھرنے کا مطالبہ لاپتہ افراد کی بازیابی تھی، بالاج نامی ایک نوجوان سی ٹی ڈی کی کاروائی میں مارا گیا، اہلخانہ نے بالاج کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کیا،یہیں سے مارچ شروع ہوا اور اسلام آباد پہنچا، بالاج کو سی ٹی ڈی نے مارا اسلئے وہ اداروں کے خلاف مہم چلانے لگ گئی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس حکام کے مطابق بالاج اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے قتل ہوا تھا، سی ٹی ڈی نے اس ضمن میں پریس ریلیز بھی جاری کی تھی جس میں حقائق سے آگاہ کیا گیا تھا کہ اس کاروائی میں 8 دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا، بالاج کو 5 کلو بارودی مواد کے ساتھ گرفتار کر کے عدالت پیش کیا گیا، اس نے اعتراف کیا کہ بارودی مواد ساتھیوں کے لئے لے کر جا رہا تھا جنہوں نے تربت میں کاروائی کرنی تھی، بالاج کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا اس نے کئی کاروائیوں کا اعتراف کیا، سی ٹی ڈی کی چھاپہ مار ٹیم نے 22 اور 23 نومبر کی شب بالاج کی نشاندہی پر چھاپہ مارا تو بالاج کے ساتھیوں نے حملہ کیا اس دوران ملزم بالاج ہلاک ہو گیا، فائرنگ کا تبادلہ 15 بیس جاری رہا، شرپسند اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے، تین لاشیں ملیں جس پر مقدمہ درج کیا گیا،

    مبشر لقما ن کا مزید کہنا تھا کہ مسلسل اداروں پر ماہ رنگ کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی، ماہ رنگ بلوچ پر مقدمے درج ہوئے،انوارالحق کاکڑ نے کہا تھا کہ یہ لوگ دہشت گردی کی جدوجہد کرتے ہیں، انکی سپورٹ نہیں کریں گے مجھ پر تنقید کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں، بھارت کی فنڈنگ سے یہ چل رہے ہیں، ماہ رنگ نے جن لوگوں کو مسنگ پرسن بتایا وہ ایران میں مارے گئے، ماہ رنگ ناروے گئی وہاں کس نے بلایا،یہ انسانی ھقوق کے لئے ایک پروگرام میں گئی تھی، اس تقریب کی صدارت نوبیل انعام کمیٹی کے سربراہ نے کی تھی وہاں ملک دشمنی پر نام نہاد بلوچ رہنما نے تقریر کی اور مسنگ پرسن کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے پاک فوج پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کی،

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت