پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کو خط لکھا ہے
پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ڈاکٹر محمد یونس کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے ساتھ دو طرفہ اور کثیرالجہتی شعبوں میں باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ "مجھے یقین ہے کہ ہمیں علاقائی تعاون کو بڑھانے کے لیے فعال طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، جو جنوبی ایشیا کے لوگوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔”پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ایسے مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے مفادات کو پورا کر سکیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں جو ہمارے دونوں لوگوں کے مفادات کو پورا کر سکیں اور ان کی زندگیوں میں بامعنی تبدیلی لائیں”۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک برادر مسلم ملک اور جنوبی ایشیا میں شراکت دار کے طور پر بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو چکی، حسینہ واجد بھارت میں ہیں، طلبا تحریک کے مطالبے پر ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت بنائی گئی ہے.
بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات معطل کر دیئے ،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ آڈیو لیکس سے متعلق کیس کی کاروائی آگے نہیں بڑھا سکتی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں،سپریم کورٹ نے بشری بی بی اور نجم الثاقب کو بھی نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 29 مئی اور 25 جون کا حکم اختیارات سے تجاوز ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر آڈیو لیکس کیس کا ریکارڈ طلب کر لیا،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی
جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا، تفتیش جاری ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنانا چاہتا، سچ جاننے کیلئے انکوائری کمیشن بنا اسے سپریم کورٹ سے سٹے دے دیا، سپریم کورٹ میں آج تک دوبارہ آڈیو لیکس کیس مقرر ہی نہیں ہوا، پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا، نہ پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا نہ عدالت کو تو سچ کیسے سامنے آئے گا؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن سے بات کی جا رہی ہو آڈیو انہوں نے لیک کی ہو،کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے،آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے،
سپریم کورٹ نے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس کیس کی کاروائی آگے بڑھانے سے روک دیا،سپریم کورٹ نے غیر قانونی سسرویلینس سے روکنے کا حکم بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ کی آج کی عدالتی کاروائی کے بعد اداروں کو ڈیجیٹل نگرانی پر بھی ریلیف مل گیا,
آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے،جسٹس نعیم اختر افغان
جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کو آڈیو لیکس سے متعلق سماعت روکنے سے پہلے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ جانچنے اور اس تک پہنچنے کیلئے کوئی تیار نہیں،حکومت نے آڈیو لیکس کمیشن بنایا تو اسے سپریم کورٹ سے رکوا دیا گیا، بس اسموک اسکرین بنا دو تا کہ سچ تک رسائی نا ہو سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وہ احکامات دیئے جس کی کسی نے استدعا ہی نہیں کی، سب سے پہلے تو آڈیو لیکس والے افراد کا موبائل لینا چاہیے تھا،جن افراد کی آڈیو لیک ہوئی ان کے موبائل فونز کیوں نہیں لیے گئے؟آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سب سے پہلا کام متعلقہ افراد کا موبائل لینا ہونا چاہیے
آڈیو لیکس کیس میں بشریٰ بی بی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا جس میں مبینہ طور پر لطیف کھوسہ اور بشری بی بی کی آڈیو کا تنازعہ تھا جس پر وفاقی حکومت اپیل لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی اور سپریم کورٹ کے معزز ججز پر مشتمل دو رکنی بینچ جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان نے سماعت کی
سماعت کے دوران ججز نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے آڈیو آپس میں بات کرنے والے دونوں میں سے کسی نے ریلیز کی ہو کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے؟ کیونکہ آج کل ہر موبائل ڈیوائس میں ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہے،جسٹس امین الدین خان نے حکم نامے میں لکھوایا کہ ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں آرٹیکل 199 کی حد کو عبور کیا ہے،کاونٹر ٹیررازم اور قانونی کاروائی کیلئے فون ٹیپنگ سے روکنے کا ہائیکورٹ کا حکم صرف ایک سماعت کیلئے تھا،سرویلینس سے روکنے کے حکم کو بھی سپریم کورٹ نے معطل کر دیا
واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.
واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔
اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،
رؤف حسن کے بھارت کے ساتھ روابط کے چشم کشاء ثبوت سامنے آگۓ
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ریاست مخالف بیانیے کو پھیلانے میں بھارتی سہولت کاری بے نقاب ہو گئی، غیر ملکی اور بھارتی لابی بانی پی ٹی آئی کے ریاست مخالف ایجنڈے کی تکمیل کے لیے متحرک رہی،پی ٹی آئی کے ترجمان روف حسن کا امریکی رائن گرم کے بعد بھارتی صحافی کرن تھاپر کے ساتھ بھی واٹس ایپ کے ذریعے ہوش ربا رابطوں کا انکشاف ہوا ہے ،19نومبر 2022 کو روف حسن کی جانب سے بھارتی صحافی کرن تھاپر سے بطور پارٹی میڈیا کوارڈینیٹر با ضابطہ رابطہ کیا گیا،شروع کے واٹس ایپ پیغام میں بھارتی صحافی نے روف حسن سے شاہ محمود قریشی کے متوقع انٹرویو کے بارے میں دریافت کیا .24نومبر 2022 کو کرن تھاپر نے روف حسن کو موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بارے میں اپنا اور رانا بنیرجی(سابق سیکرٹری راء) کے ساتھ یوٹیوب پر ہونے والا انٹرویو بھی شیئر کیا
رؤف حسن کے ساتھ سیکرٹری را کے شیئر کرنے والے انٹرویو میں بھارتی کرن تھاپر نے موجودہ آرمی چیف کو انڈیا کے لیے زیادہ ہارڈ لائنر قرار دِیا،25 نومبر 2022 کو بھارتی کرن تھاپر نے واٹس ایپ پیغام کے ذریعے رؤف حسن کے ساتھ جنرل عاصم منیر سے متعلق ایک پاکستانی صحافی کا انٹرویو شیئر کیا .روف حسن نے جواب میں پاکستانی صحافی کو ایک ناقابل اعتبار شخص قرار دیتے ہوئے آرمی چیف سے متعلق حساس معلومات بھارتی صحافی کرن تھاپر کےساتھ شیئر کیں
باوثوق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ؛روف حسن نے فروری 2023 کے واٹس ایپ پیغام کے ذریعے یوکرین کے معاملے پر بھارتی موقف کو سراہتے ہوئے پاکستانی موقف پر سخت اعتراض کیا،روف حسن کا کہنا تھا کہ "غیر جانبدار رہنے کی خواہش کے تناظر میں بھارت کا موقف قابل فہم ہے” پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہُوئے اور سنگین الزام لگاتے ہُوئے رؤف حسن نے بھارتی کرن تھاپر کو کہا کہ”پاکستان کا موقف انتہائی حیران کن ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا لیکن اطلاعات ہیں کہ پاکستان یوکرین کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے”
مارچ 2023 کو بھارتی کرن تھاپر کو بھیجے گئے رؤف حسن کے پیغامات میں اشتعال دلاتے ہُوئے بانی پی ٹی آئی کے گھر سے گرفتاریوں کو ریاستی تشدد قرار دیا ،روف حسن کی جانب سے بھارتی صحافی کو بھیجے گئے اِن اشتعال انگیز اور خوفناک پیغامات میں رؤف حسن نے کہا”پاکستان ایک خونی انقلاب کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے”باوثوق ذرائع اس بات کی بھی تصدیق کر رہے ہیں کہ؛ 10 مئی 2023 کو رؤف حسن کی جانب سے بذریعہ زوم کرن تھاپر کے ساتھ انٹرویو بھی ریکارڈ کیا گیا ،11مئی 2023 کو واٹس ایپ میسج کے ذریعے رؤف حسن نے افواج پاکستان کے مختلف دستوں کی نقل و حرکت کو توڑ مروڑ کر حاشیہ آرائی کی ،روف حسن نے روٹین ملٹری مووکو بگاڑ کر پیش کیا اور کہا؛ "پاکستان کی سڑکوں اور گلیوں میں مکمل فوجی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے” غیر ضروری ہیجان پیدا کرتے ہُوئے روف حسن نے کہا”ہم ایک غیر اعلانیہ مارشل لاء کے عہد سے گزر رہے ہیں”
بھارتی کرن تھاپر کو روف حسن کے غیر محتاط واٹس پیغامات انتہائی تشویش ناک ہیں .دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیغام رسانی دراصل کرن تھاپر کی پشت پر بیٹھے راء کے اہلکاروں کے لیے معلومات کا خزانہ تھا ،پی ٹی آئی کے ترجمان نے ان پیغامات کے ذریعے ملکی حساس معلومات ایک بھارتی کو پہنچائیں تاکہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جا سکے ،یہ واٹس ایپ میسجز اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے روف حسن نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو آمادہ کیا کہ وہ پاک افواج کے خلاف منفی تاثرات پر مبنی بیانیے کی تشہیر کرے
رؤف حسن اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف مکمل اور کڑی تحقیقات کی جانی چاہیے،ماہرین
دفاعی ماہرین کے مطابق ؛ حساس معلومات کو پہنچانے کا مقصد ریاست مخالف بیانیے کو بھارتی میڈیا میں پروپگینڈے کے طور پر استعمال کرنا تھا،یہ پیغامات نہ صرف ریاست کو بدنام کرنے کی سازش تھی بلکہ انقلاب کے نام پر بھارتی میڈیا میں پروپگینڈا کرنا تھا ،ان ثبوتوں کے پیش نظر رؤف حسن اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف مکمل اور کڑی تحقیقات کی جانی چاہیے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ فیض حمید کا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،
مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہر اقتدار مستحکم ہوتا نظر آ رہا ہے، اقتدار کے باسیوں کو اقتدار مستحکم اور اپنے مخالفین کی شہہ مات نظر آ رہی ہے، اطمینان اور مسکراہٹ اقتدار کے باسیوں کی شکلوں پر نظر آتی ہے،سب کچھ صحیح سمت میں چل رہا تھا، یہ سوچ بڑے عرصے تھی کہ خان صاحب کو سسٹم کے اندر سے حمایت حاصل ہے،ورنہ ایسا نہیں ہو سکتا، اسٹیبلشمنٹ کو اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرنی چاہئے،پہلے اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ان ہاؤس آرڈر کرنا تھا، دیر آید درست آید، اب کاروائی شروع ہوئی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب آپ ایک ایسے آدمی کے خلاف کاروائی کرتے جو کورکمانڈر ہو، ڈی جی آئی ایس آئی ہو، اتنا ہم ہو پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اسکو پکڑنے کے بعد اسکے مخالفین بھارت،و دیگر کیا الزامات لگاتے ہیں،لوگ اس کو مختلف ڈائریکشن میں دیکھتے ہیں، سوچ بچار کرنی پڑتی ہے،یہ پوری فوج کا فیصلہ تھا اب اس میں کوئی بچت نہیں ہونی، مجھ سے لکھوا لیں کہ فیض حمید کو سزا ہو گی او ر کڑی سزا ہو گی
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں فیض حمید کو سزا کے بیان پر متفق ہوں، لیکن سوچ بچار کی بات پر کہتا ہوں کہ ادارے کو نقصان ہوا ہے، اس نے ادارے کا نقصان کیا، اگر یہ سٹیپ ایک ماہ یا چھ ماہ پہلے لیا ہوتا تو ادارے کا اتنا نقصان نہ ہوتا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دفاتر پر ریڈ کئے گئے وہاں سے کمپیوٹر لے کر گئے، رؤف حسن کا ریمانڈ ملا، وہاں سے تانے بانے ملے، ڈیٹا ملا ہوا سے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ بچے بچے کو پتہ ہے کہ وہ سہولت کاری کر رہا تھا، فیض نیازی گٹھ جوڑ چل رہا تھا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پیرنی جادو ٹونے کرنے والی ہے لیکن پھر بھی اسکے فالور ہیں،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ جو ہو رہا ہے اچھا ہو رہا ہے ، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیض کی وجہ سے اور بڑے لوگ انڈر سکروٹنی ہو گئے ہیں، لوگ واٹس ایپ پر جواب نہیں دے رہے، جن کو میں جانتا ہوں وہ مجھے بھی جواب نہیں دے رہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے ساتھ سابق آفیسر موجود تھے وہ آئی ایس آئی ،ایم آئی کے مقابلے میں اپنی ایجنسی چلا رہے تھے جو پی ٹی آئی کی مدد کر رہی تھی، وہ انکا پرائیویٹ نیٹ ورک تھا ،جو سہولت کاری کر رہا تھا، جس طرح آپ ذاتی بینک نہیں چلا سکتے، اس طرح ذاتی انٹیلی جنس ایجنسی بھی نہیں چلا سکتے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،چار قسم کے کورٹ مارشل ہوتے ہیں،فیلڈ مارشل سب سے اہم ہے، ریاست اور افواج کے بدترین دشمن کا یہ فیلڈ کورٹ مارشل ہوتا ہے.میں جب یہ حاضر سروس تھا تب اسکے منہ پر بھی بات کرتا تھا،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ویڈیو یاد ہے جس میں آصف زرداری سنجرانی کو کہہ رہے ہیں کہ فیض تو گیا اب تیرا کیا بنے گا اس وقت سنجرانی کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ فیض نہیں گیا، پاکستان کے سیاسی کلچر میں لوگ کہتے نہیں لیکن دبے لفظوں میں کہتے ہیں کہ فوج اپنا بندہ قابو نہیں کر سکی، ہم کیا کہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ باجوہ صاحب کو ہم بھی کہتے تھے، ایک آدمی کی کارستانیوں کی وجہ سے پورے ادارے کو برا نہیں کہہ سکتے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ سابق آئی جی جیل شاہد صاحب، کل انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنی ویڈیو جاری کی، گرفتاری کیخبر چلا کر، وہ 12 گھنٹے حراست میں رہے،ہم سب کو پتہ ہے، ان پر اتنا ہی تھا کہ وہ فیض کے دور میں آئی جی جیل تھے، انکے دور میں ن لیگی جیلوں میں تھے، فیض حمید ان سے بات چیت کیا کرتے تھے، فیض حمید نے شاہد سلیم کو رابطہ کیا، چھ آٹھ ماہ پہلے اور کہا کہ میں عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہوں کوئی بندوبست کروا دیں تا کہ میری بات ہو جائے،میں ملنے جیل نہیں جانا چاہتا، اب شاہد نے جیل میں اکرم سے رابطہ کروایا اور پھر اکرم نے فیض حمید کی عمران خان سے بات کروا دی،اب جب تحقیقات کل کی گئیں تو انکی اور فیض کی ایک ہی کال ریکارڈ پر آئی جو عمران خان سے رابطے کے لئے کی گئی تھی اسکے بعد فیض نے آئی جی سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ فیض اکرم سے ڈائریکٹ تھے، 12 گھنٹے تحقیقات کے بعد حکام کو پتہ چل گیا کہ فیض سے ایک ہی رابطہ تھا، چھوڑ دیا، موصوف نے آ کر ویڈیو بنا دی، وہ یہ ویڈیو بنا کر کہیں کہ 12 گھنٹے تحقیقات بھگت کر نہیں آئے، بنائیں، کیا اکرم کو فیض سے متعارف انہوں نے نہیں کروایا، اسکے بعد عمران خان کے پاس موبائل فون موجود تھا، وائی فائی لگا ہوا تھا، واٹس ایپ میسج بھی کرتے تھے، باتھ روم سے میسج کرتے تھے، فون باتھ روم میں رکھا ہوا تھا کیونکہ وہاں کیمرے نہیں لگے ہوئے تھے، واٹس ایپ پر ہی وہ رابطے میں رہتے تھے، زیادہ وقت عمران خان باتھ روم میں گزارتے اور کمبوڈ پر بیٹھ کر میسج کال کرتے، اسی لئے تو پیٹ خرابی کا کہتے تھے اب انکا پیٹ ٹھیک ہو گیا ہے.
مزمل سہروردی کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال تو جیل تھی ہی نہیں عمران خان کو ، وہ اپنا پورا نیٹ ورک چلا رہےتھے اس کو جیل تھوڑا ہی کہتے ہیں ،کہتے تھے کرنل جیل پر قبضہ کیا ہوا ہے، کرنل کا جیل پر قبضہ ہوتا تو واٹس ایپ کا استعمال ہوتا، کرنل نے پہلے دن ہی سہولت کاروں کو پکڑ لینا تھا، عمران خان نے واویلا اسلئے کیا کہ ہم یہی سمجھیں کہ آئی ایس آئی نے جیل پر قبضہ کیا، عمران کے دور میں ایسا ہوتا تھا سیکٹر کمانڈر جیل ہوتا تھا، جیل میں عمران خان جمائما سے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں،حماد اظہر کیوں بھاگ گیا ہے، یہ فیض کے سارے بچے بھاگ جائیں گے، یہ فیض کا بچہ ہے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کہہ رہا تھا کہ دو ماہ بعد حکومت چلی جائے گی اب وہ کہے ناں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی باتوں کو سیریس نہ لیا کریں وہ ہر بات پر یوٹرن لیتا ہے،میں نے ایک بار کہا تھا اور وی لاگ بھی کیا تھا کہ فیض ہر ایک کا فون ٹیپ کرتا تھا، بشریٰ اسکے قریب تھی وہ بشریٰ کو پہلے بتاتا تھا کہ کل فلاں یہ کرنے والے ہیں، کل یہ ہو گا، اب بشریٰ بی بی عمران خان کو کہہ کر سوتی تھی کہ اللہ مجھے کوئی مخبری دے گا، پھر صبح اٹھ کر بات بتاتی تھی اور دن کو وہ ہو جاتا تو شام کو خان کہتا دیکھو کتنی اللہ والی ہے، یہ سب بتا تو فیض رہا ہوتا، بشریٰ فیض کے ساتھ اینڈ اینڈ تھی، بزدار،گوگی، احسن،یہ سب فیض حمید کے لوگ تھے، فیض حمید کا جو فارم ہاؤس ہے، سڑک ہے اسکا تخمینہ لگوائیں وہ کتنا بنتا ، وہ ایسے نہیں بنتا،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان ضعیف الاعقتاد آدمی تھا، اگر اسکو جیل جا کر کہیں کہ یہ عمل کریں تو دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ بڑا کینہ پرور آدمی ہے، اب تو شاید مجھے نہ ملے، میری دوستی حفیظ اللہ نیازی نے کروائی تھی، وہ ہمیں لے کر جاتے تھے، وہاں سے ہماری دوستی ہوئی، جب حفیظ کی لڑائی ہوئی عمران خان سے تو میں نے اتنی کوشش کر لی کہ دو تین سال کہ عمران خان مان لے لیکن وہ نہیں مانا کیونکہ وہ مغرور تھا،
سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن جمیل بیگ نے پروگرام کھرا سچ میں انکشاف کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔
365 نیوز پر پروگرام کھرا سچ کے میزبان سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے محسن بیگ کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف اس وقت ڈی جی ایم آئی تھے۔ جب ہم نے ٹاپ سٹی پر فالو اپ کہانیاں شائع کیں تو موجودہ آرمی چیف نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس شخص (معیز خان) کو نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایم آئی کے ایک افسر کو بھیجا اور میں نے معیز خان کے بھائی سے ان کی ملاقات کا بندوبست کیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ معیز خان نے کوئی جرم کیا تھا تو اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ اسلام آباد پولیس معیز خان پر کیے جانے والے تشدد کی وجہ سے اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید چاہتے تھے کہ معیز اپنے بھائی کے نام پر ٹاپ سٹی کے شیئرز پر دستخط کرے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی ٹیم معیز کے گھر کے سی سی ٹی وی اپنے ساتھ لے گئی لیکن وہ فوٹیج پہلے ہی بیک اپ کمپیوٹرز میں محفوظ ہو چکی تھی جس کا انہیں علم نہیں تھا، اس غلطی نے انہیں بے نقاب کر دیا،
*موجودہ آرمی چیف اس وقت ڈی جی ایم آئی تھے۔ جب ہم نے ٹاپ سٹی پر فالو اپ کہانیاں شائع کیں تو موجودہ آرمی چیف نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس شخص (معیز خان) کو نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ آرمی… pic.twitter.com/4dvTS45s3l
میں نے ڈیڑھ برس قبل فیض حمید کے احتساب کا مطالبہ کیا تو لوگ کہتے تھے ایسا نہیں ہوتا، مبشر لقمان
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پروگرام کھراسچ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فیض حمید اور انکے حواریوں کے حوالہ سے اہم پیشرفت ہو رہی ہے،لوگوں نے اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائی ہوئی ہیں کسی کو یقین نہیں آ ریا، ڈیڑھ برس قبل جب پروگرام کھرا سچ میں میں نے مطالبہ کیا تھا کہ فیض حمید کا احتساب ہونا چاہئے تو لوگ کہتے تھے جنونی ہے، ایسا نہیں ہوتا،لیکن قانون سب سے بڑا ہوتا ہے، قانون اور آئین افضل ہوتے ہیں، جب کوئی ماورائے آئین کام کرے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کے بے شمار کارنامے ہیں، کیا کیا بتائیں،انکا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے.
پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے خاتون صحافی و اینکر کرن ناز کا کہنا تھا کہ فوج میں ادارے کے اندر خود احتسابی کے معاملات چلتے رہتے ہیں، فیض حمید پچھلے کچھ سالوں میں 2014 سے لے کر اب تک اتنا گونجتا رہا ہے کہ جو پتھر اٹھائیں اس کا نام نکلتا رہا، شوکت صدیقی کی طرف سے بھی الزامات لگائے جاتے رہے، ن لیگ کی جانب سے الزامات لگائے جاتے رہے، فیض حمید کے دور میں کیا کچھ ہو رہا تھا سب سامنے آ رہا تھا، ٹاپ سٹی کا معاملہ سامنے آیاکوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کاروائی ہو گی مدعی کو عدالتوں کی جانب سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ فورم پر جائیں،
جنرل باجوہ کو جنرل فیض کی سرگرمیوں کا بتایا تو۔۔مبشر لقمان نے آرمی آڈیٹوریم کی کہانی بتا دی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر پاک فوج نے عمل کیا،اس کیس میں سپریم کورٹ کی بڑی کلیئر ہدایات ہیں جو وہ فالو کر رہے ہیں،اطہر کاظمی نے کہا کہ وزیر دفاع ٹی وی پر بتارہے ہیں کہ فیض حمید ہمیں حکومت آفر کرتے رہے، وہ کس کیسپٹی میں کرتے رہے اس پر بھی تحقیقات ہونی چاہئے، دوران سروس فیض حمید پر بہت سے الزامات لگے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے خود الزام لگائے فیض حمید جب حاضر سروس تھے، اینکر موجود تھے، ارشد شریف مرحوم بھی موجود تھے،حامدمیر،کاشف عباسی،ندیم ملک موجود تھے، جب جنرل باجوہ نے بات کی تو میں نے کہا کہ عمران خان بات نہیں سنتا تو آپ ہماری بات نہیں سنتے، فیض حمید کو نہیں بدلتے، یہ بات آرمی آڈیٹوریم میں ہوئی، سب کے سامنے ہوئی،کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اس ملک میں دہشتگردوں کو واپس گٹھ جوڑ کرکے عمران نیازی واپس لیکر آیا اور انکو یہاں بسایا گیا جس کی وجہ سے آج ملک کا امن و امان خراب ہوا اور انتشار پھیلا۔ عمران خان کا فیض حمید سے رابطہ جیل سے بھی بحال تھا اور پیغام رسانی ملک میں انتشار پھیلانے کیلئے جاری تھی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا رابطہ بحال تھا،گٹھ جوڑ کے نتیجے میں جوڑ توڑ کی سیاست کی گئی، دہشتگردوں کو واپس کون لے کر آیا ،کیا وہ بھی گٹھ جوڑ نہیں تھا،مہنگائی اس دور میں شروع ہونا شروع ہوئی جس دور میں 190 ملین پاونڈز کا کیس ہوا، جس دور میں توشہ خانہ کیس ہوا، جس دور میں سائفر کیس ہوا، جس دور میں فرح گوگی اور پنجاب کا پورا سسٹم تھا جس میں بیڈ گورنس اور کرپشن عام تھی،دیکھنا چاہئے کہ مہنگائی کس کے دور میں ہوئی،اب مہنگائی میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے، پٹرول کی قیمت کم ہوئی،یوم آزادی پر وزیراعظم نے قوم کو تحفہ دیا،یہ تمام اقدامات حکومت نے کئے، بجلی کے بلوں میں بھی حکومت نے سبسڈی دی جو تین ماہ کے لئے ہے،
کسی ملک میں یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ گٹھ جوڑ کر کے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا جائے، عطا تارڑ
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے ٹھیک کہا مہنگائی اس دور میں ہوئی جب ان کاسیٹ اپ تھا،فوج کا ادارہ دنیا کے بہترین اداروں میں اس لئے جانا جاتا ہے کہ وہ خود احتسابی پر یقین رکھتے ہیں، تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، مزید گرفتاریاں بھی ہوں گی، تحریک انتشار کے لیڈر عمران نیازی نے اس ملک کےاندر انتشار ،تقسیم، نفرت کی سیاست کی، ان لوگوں کے ساتھ گٹھ جوڑ، الحاق کر رکے اس ملک میں بدامنی پھیلانے، ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی،جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد معاملات آگے چلے، فوج نے شفاف تحقیقات کیں، اندرونی تحقیقات کا فوج کا اپنا میکنزم ہے، تحقیقات کا دائرہ کار بڑھتا نظر آ رہا ہے،تمام سازشوں کے سرغنہ بانی پی ٹی آئی تھے، بانی پی ٹی آئی کی سہولت کاری فیض حمید اور باقی افسران کر رہے تھے، شواہد سامنے آرہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا رابطہ بحال تھا، جیل سے پیغام رسانی جاری تھی، جو انتشار پھیلائے گا اس کا انجام یہی ہوگا، باقی اداروں کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے، ثاقب ہو نثار ہو یا جو بھی ہو معاملات آگے بڑھیں گے،شفافیت سے چلیں گے، کسی ملک میں یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ گٹھ جوڑ کر کے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا جائے، طالبا ن کو کون واپس لایا، ملک کا امن کس نے خراب کیا،یہی ذمہ دار ہیں، ابھی جس طرح شواہد سامنے آ رہے ہیں، نہ صرف تحریک عدم اعتماد کے دوران انکا آپس میں رابطہ رہا بلکہ اب جیل سے بھی پیغام رسانی جاری تھی جو ملک میں انتشار پھیلانے کے لئے تھی
سابق وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے
ملاقات کے بعد شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ ہے خان اور ہماری محبت کو کوئی دور نہیں کر سکتا، عمران خان سے ملاقات میں تمام گلے شکوے دور ہوگئے ہیں ، سب نے کہا شیر افضل کو پارٹی نکال دیا ، نکال دیا ، وہ نکالنے والا نوٹیفیکیشن تو وڑ گیا ،آج تین ماہ بعد عمران خان سے ملاقات ہوئی، میں نے ہاتھ بڑھایا تو خان صاحب نے گلے لگا لیا، دو طرفہ گلے شکووں کا تبادلہ ہوا ،بیرسٹر گوہر کے سامنے 22اگست کے جلسے سے ذمہ داری سونپی ہے ،عمران خان سے کہا ہے کہ اگر مجھ سے کوئی گلہ ہے تو بیرسٹر گوہر یا علی امین سے پوچھیں،خان صاحب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے۔عمران خان نے مجھے کہا تم آیا کرو کیوں نہیں آتے ملنے،میں نے خان کی ہدایات پر تمام اختلافات ختم کر دیئے ہیں،میرے لئے سب کی معافی ہے،
واضح رہے کہ عمران خان شیر افضل مروت سے ناراض تھے، ایک بار شیر افضل مروت اڈیالہ گئے تو عمران خان نے ملنے سے انکار کر دیا تھا، بعد ازاں شیر افضل مروت کوپارٹی سے بھی نکال دیا گیا تھا تا ہم آج عمران خان اور شیر افضل مروت کی ملاقات ہوئی جس میں ناراضگی ختم ہو گئی ہے.
گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شیر افضل مروت کی رکنیت معطل کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ تاہم، شیر افضل نے اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی برطرفی کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو لوگوں کی چائے مشہور ہے، بچے بچے کو انکے چائے کے کپ کا پتہ ہے، ایک ابھینندن تھا اور ایک کابل ایئر پورٹ پر فیض حمید کی تصویر سامنے آئی تھی
مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ فیض حمید کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف میں استعفوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے،نئے نئے انکشافات،کہانیاں سامنے آ رہی ہے، ابصار عالم اور فیض حمید کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آ گئی جس میں فیض حمید اس وقت کے چیئرمین پیمرا ابصار عالم پر دباؤ ڈال رہے تھے،مجھ سے کئی لوگوں نے پوچھا کہ کونسے چینل تھے میں نے کہا کہ میں واضح تونہیں بتا سکتا لیکن اندازہ ہے کہ اس وقت آفتاب اقبال کے لئے یہ فون کال ہوئی ہوں گی کیونکہ وہ اس وقت آپ ٹی وی کا لائسنس لا رہے تھے، غالبا یہ وہی ہے، اب ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وطن واپس اؤں گا موجودہ حالات کا مجھے سے کوئی تعلق نہیں، انصار عباسی نے جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ انکے خلاف کوئی کاروائی زیر غور نہیں ہے،سابق آرمی چیف کے بارے میں ممکنہ کاروائی کے بارے سوشل میڈیا قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ یہ کہا جا رہا تھا کہ مستقبل میں کوئی کاروائی ہو،یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اضافی سیکورٹی جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے گھر لگائی گئی تا ہم یہ جعلی پوسٹ تھی، جنرل ر قمر جاوید باجوہ بیرون ملک اور دبئی ہیں جو چند دن میں واپس آئیں گے،سوشل میڈیا پر جعلی پوسٹ ریتائرڈ جعلی افسران نے شیئر کی جو بیرون ملک مقیم ہے اور پروپیگنڈے کے لئے مشہور ہے اسکو سزا بھی سنائی جا چکی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور خواجہ آصف جنرل باجوہ کے احتساب کے مطالبے پر متفق ہیں، یہ واضح نہیں کہ وہ خود کر رہے ہیں، حکومت یا کون کر رہا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے خواجہ آصف کے بیان کی تردید کی ہے، یہ بھی بتایا جا رہا کہ درجنوں گرفتاریاں ہوں گی، کچھ ریٹائرڈ،کچھ سول،کچھ ورکر، یوٹیوبر، ججز کے نام بھی ہوں گے، کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ فیض حمید نے ملک پر 30 سال تک قبضے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ فیض حمید کے جرائم کی تفصیل بہت لمبی ہے، ایک اشار ے پر ٹی وی کی ہیڈ لائن تبدیل،چلتے پروگرام بند ہو جاتے تھے، آج وہ خود خبر بن گئے، جو رابطے میں تھے وہ بھی زیر حراست باقی انڈر گراؤنڈ،سبق ہے ان لوگوں کے لیے جن کے پاس طاقت ہے کہ لوگوں کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہئے، کل فیض حمید شکاری تھا آج شکار ہو چکا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی کورٹ میں کیس جلد نمٹا دیئے جاتے ہیں، فوج کا عدالتی نظام ہے، شعبہ ہے جو بہت متحرک ہے، جو الزام فیض حمید پر لگائے گئے انکو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں کا الزام بہت سنگین ہے اس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے
فیض نیازی گٹھ جوڑ سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئےہیں، فیض حمید اور عمران نیازی گٹھ جوڑ کو سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ اور موجودہ آرمی قیادت نے توڑا
عمران خان آئی ایس آئی کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ فیض حمید نے ان کی ہدایت پر عمران خان کے مخالفین کے لئے مشکلات کھڑی کیں،اپوزیشن کو عمران خان کے کہنے پر رگڑا دینے میں پیش پیش رہے، جس کے بعد فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا گیا،فیض حمید کو ہٹانے کے بعد اس وقت آرمی میں بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا،اس وقت کے آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ فیض نیازی گٹھ جوڑ میں اس وقت رکاوٹ بنے جب انہوں نے فیض حمید کو عہدے سے ہٹایا، تاہم فیض حمید کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے لئے سہولت کاری جاری رہی، پیغامات اور مراسلات بھجوانے میں بھی فیض حمید کااہم کردار تھا
عمران خان فیض حمید کے ساتھ ملکر اپوزیشن کو لتاڑ رہے تھے اور وہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی اس قسم کی توقع کر رہے تھے، جنرل ر قمر جاوید باجوہ کو جب صورتحال کا پتہ چلا کہ فیض نیازی گٹھ جوڑ کس طرح چل رہا تو انہوں نے اس گٹھ جوڑ کو توڑا،15 اگست کو نیازی نے اڈیالہ میں خود تسلیم کیا کہ وہ ایسا نہیں چاہتا تھا اور فیض کو ہٹائے جانے پر ناراض تھا، فیض نے اپنی ٹیمیں بنائی ہوئی تھیں جو نیازی کی سہولت کاری کے لئے کام کر رہی تھیں، فیض کی یہ ٹیمیں سارے پیغام رسانی کا کام کر رہی تھیں،یہ تحریک انصاف کے معاملات کو بھی چلا رہے تھے، فوج نے ستر سال میں پہلی بار ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی تو یہ معاملہ بہت ہی سنگین ہے.اگر فوج نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر ہاتھ ڈال دیا ہے تو پاکستان میں پھر کسی اور کی بچت کیسے ممکن ہے؟
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے ارشد ندیم کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں تقریب منعقد کی گئی
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں ہاکی،کرکٹ،فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کے سینئر کھلاڑیوں نے شرکت کی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کے لئے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے ارشد ندیم کو خراج تحسین پیش کیا اور مبارکباد پیش کی.
ارشد ندیم جب ہال میں آرمی چیف کے ہمراہ پہنچے تو تمام فوجی افسران نے ارشد ندیم کا استقبال کھڑے ہوکر تالیاں بجاکر کیا،والدہ ارشد ندیم نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے سر پر دستِ شفقت پھیرا اور ڈھیروں دعائیں دی
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس تقریب میں کھیلوں کی ٹیموں اور لیجنڈری اولمپئینز نے شرکت کی جن میں 1984 کی اولمپک اور قومی ہاکی ٹیمیں، قومی کرکٹ ٹیم، اسٹریٹ فٹ بال ٹیم، آرمی پولو ٹیم، بصارت سے محروم کرکٹ اور خواتین کی گول بال ٹیمیں، دولت مشترکہ، SAF اور ایشین گیمز کے تمغے جیتنے والی ٹیمیں شامل تھیں۔ پیرس اولمپکس 2024 کے شرکاء قابل ذکر لیجنڈز میں جہانگیر خان، اصلاح الدین، شہباز سینئر، سہیل عباس، محمد آصف اور اعصام الحق شامل تھے۔ تقریب میں ارشد ندیم کے قریبی رشتہ داروں، ساتھیوں اور کوچز نے بھی شرکت کی۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اولمپکس میں نیاریکارڈ بنانے پر ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی کو سراہا،،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ ارشد ندیم کی کامیابی عزم وحوصلے اوراپنے مقصد سے لگن کی شاندار مثال ہے، پاکستا ن میں کھلاڑیوں کو بااختیار بنانے کی حمایت جاری رکھیں گے، ارشد ندیم کی کامیابی قوم کیلئے فخر ہے۔