Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اگر ریاست کو نہ بچایا ہوتا تو کہاں کی سیاست اور کہاں کا بجٹ،وزیراعظم

    اگر ریاست کو نہ بچایا ہوتا تو کہاں کی سیاست اور کہاں کا بجٹ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے سیاست کو داؤ پر لگاکر ریاست کو بچایا، اگر ریاست کو نہ بچایا ہوتا تو کہاں کی سیاست اور کہاں کا بجٹ،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیچھلی حکومت نے سیاست کو بچانے کے لیے معیشت کو داؤ پر لگایا،ہم نے اپنی سیاست کو قربان کرکے ریاست کو ڈیفالٹ سے بچایا،اللہ کا شکر ہے پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا، تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس لگنے پر احتجاج جائز ہے انکا کہنا درست ہے کہ کیا ہم ہی لوگ ٹیکس دینے کیلئے رہ گئے ہیں اور جن کے پاس بے پناہ وسائیل ہیں،وہ جو اربوں ڈالرز لے جاتے ہیں ان پر ٹیکس کیوں نہیں لگایا جاتا، رئیل اسٹیٹ کے کاروبار پر ٹیکس لگنا درست عمل ہے لیکن اس پر مزید ٹیکس لگنا چاہیے،

    وزیراعظم شہباز شریف کی عمران خان پر کڑی تنقید
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوے دن میں کرپشن کا خاتمہ کرنیوالوں کے اپنے کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل سامنے آگئے۔ تین سو ارب ڈالر واپس لانے کا دعویٰ کرنیوالوں نے برطانوی کرائم ایجنسی کی مہربانی سے 190 ملین پاونڈز پر بھی ہیرا پھیری سے ہاتھ صاف کردیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی تحریک انصاف نے کہا تھا میں مرجاونگا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاونگا۔ لیکن کئی ماہ کی تاخیر کے بعد آئی ایم ایف کے پاس وہ گئے ایک مہنگا پروگرام لیا اور پھر اپنی حکومت جاتے دیکھ کر اسی پروگرام کو سیاست کی نذر کردیا گیا،

    وزیراعظم کا 200 یونٹ والے صارفین کو اگلے تین ماہ کے لئے رعایت دینے کا اعلان
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 200 یونٹ والے صارفین کو اگلے تین ماہ کے لئے رعایت دے رہے ہیں، 94 فیصد بجلی صارفین کو ریلیف دینے جارہے،اس پر حکومت کے 50 ارب خرچ ہونگے،بجلی کے 200 یونٹس استعمال کرنے والے اڑھائی کروڑ گھریلو صارفین کیلئے 3 ماہ کے الیکٹریسٹی بلز میں 4 سے 7 روپے فی یونٹ بجلی سستی کی جا رہی ہے جس کیلئے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں یہ رقم ڈویلپمنٹ فنڈز سے نکالی جا رہی ہے۔

    پاکستان کو اللہ نے سورج کی شعاعوں سے مالا مال کیا ہے، فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں تیل کی قیمت اوپر جارہی تھی مگر عدم اعتماد سے بچنے کےلیے تیل کی قیمت کم کرکے معیشت کو نقصان پہنچایا گیا، آئی ایم ایف کے ساتھ 3 سالہ پروگرام کررہے اس میں کوئی راز نہیں ہے،ایک مقتدر ادارے نے بتایا کراچی بندرگاہ پر سالانہ 1200 ارب کی درآمدی ٹیکس کی چوری ہو رہی ہے،حکومت پاکستان صوبوں سے ملکر دن رات محنت کرے گی،ہم جلدازجلد10لاکھ ٹیوب ویل کوشمسی توانائی پرلائیں گے،آج دنیامیں سولرانرجی کم ترین قیمتوں پرمہیا ہے،پاکستان میں 10 لاکھ ٹیوب ویل بجلی پر چل رہے ہیں،ساڑھے تین ارب کے تیل کی لاگت سےیہ چل رہے، قومی خزانے پر یہ بہت بڑا بوجھ ہے، اس کو سولر پرلائیں گے، دوتین ماہ پہلے فیصلہ کر لیا تھا کہ تیل پر چلنے والے ٹیوب ویل کے لئے بزنس ماڈل بنانا ہے، کسانوں کو قرضے دیں گے اور جلد سے جلد دس لاکھ ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر لے کر آئیں گے،پاکستان کو اللہ نے سورج کی شعاعوں سے مالا مال کیا ہے، فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت ہے، اس بجٹ میں یقینا ٹیکسز لگے ہیں اور جو اشرافیہ ہے امرا ہیں ان کے اوپر ٹیکس بعض نئے ایریاز میں پہلی بار لگامثال کے طور پر زمین کاجو کام کرتے ہیں، سارا سال سرمایہ کاری رہتی ہے، زمین کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہے، بیٹھے بٹھائے منافع ملتا ہے، پھر منافع کہاں لے جاتے تفصیل پر نہیں لے جاتا، اس پر ٹیکس لگایا، سو ارب آمدنی کی توقع ہے،

    وزیرِاعظم سے برطانوی ایجوکیشنسٹ اور برطانوی وزیرِاعظم کے ڈیلیوری یونٹ کے سابق سربراہ سر مائیکل باربر کی زیرِ قیادت وفد کی ملاقات
    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے برطانوی ایجوکیشنسٹ اور برطانوی وزیرِاعظم کے ڈیلیوری یونٹ کے سابق سربراہ سر مائیکل باربر کی زیرِ قیادت وفد کی ملاقات ہوئی ہے،وفد میں برطانوی فارن، ڈویلپمنٹ اور کامن ویلتھ آفس کی ڈائریکٹر جو موئیر، اور سینئر گورننس ایڈوائزرز نوید عزیز اور میٹ کلینسی شامل تھے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے تاریخی دو طرفہ تعلقات ہیں جو کہ دہائیوں پر محیط ہیں اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ برطانیہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے اور پاکستان کا اہم شراکت دار ہے ہم برطانوی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے آپس کے روابط کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔حکومت پاکستان کی معاشی بحالی کے لئے مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔تمام ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔حکومتی اخراجات میں کمی کے حوالے سے غیر فعال اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے اور ڈاؤن سائیزنگ کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ برآمدات اور ٹیکس بیس میں اضافے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔پاکستان سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت سے متعلقہ برآمدات کے حوالے سے بے پناہ استعداد ہے۔

    وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے حوالے سے ٹاسک مینیجمنٹ سسٹم کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔سر مائیکل باربر نے حکومت کے معاشی بحالی کے پلان کی تعریف کی اور کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے حوالے سے ٹھیک سمت میں جا رہی ہے۔امید ہے آپ کی موثر قیادت میں پاکستان جلد ہی معاشی مشکلات قابو پانے میں کامیاب ہو گا۔وفد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کو ہر شعبے میں بھرپور مدد اور تعاون فراہم کرے گا۔ پاکستان کی ترقی ہماری ترقی ہے۔ملاقات میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

    موسمیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی، صدر مملکت

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    موسمیاتی تبدیلی،پرواز میں ہچکولے،رخ موڈ دیا گیا، 30 مسافر زخمی

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دینے کی منظوری

    حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دینے کی منظوری

    وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دے دیا

    وفاقی کابینہ نے حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنےکا اختیار دینے کی منظوری دی،منظوری سرکولیشن کے ذریعے دی گئی ہے، اس ضمن میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کال ٹریس کے کی منظوری قومی سلامتی کے مفاد میں کسی جرم کے خدشے کے پیش نظر دی گئی ،کابینہ نے یہ اختیار پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت دیا ہے، ‎ایجنسی جس افسر کو نامزد کرے گی وہ گریڈ 18 سے کم درجے کا نہیں ہوگا۔

    آئی ایس آئی کسی بھی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی ریکارڈنگ کر سکے گی، ایجنسی کو کال ریکارڈ،میسجز اور کال ٹریس کرنے کا اختیار ہو گا،موبائل کال ،واٹس آپ کال میسجز اور دیگر اپلیکیشنز کی ریکارڈنگ ہو سکے گی ،

    کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے سب عدالتوں میں پھرتے نظر آئیں گے، عمر ایوب
    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ حساس ادارے کو کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے کل خود کال ٹریسنگ کی زد میں آئیں گے،کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے جیل جائیں گے، اسی قانون کے ذریعے آصف زرداری، نواز شریف ، شہباز شریف، بلاول اور مریم جیل جائیں گے کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے سب عدالتوں میں پھرتے نظر آئیں گے، فارم 47 کے وزیراعظم شہباز شریف اور اس کی حکومت نے خود اپنا بلیڈ لے کر اپنی شہ رگ کاٹی ہے،بجلی کا یونٹ پی ٹی آئی کے دور میں 17 کا تھا آج 85 کا تھا،ڈالر کی قیمت مصنوعی رکھی گئی ہے، بجٹ میں 30 ارب کی پرائیوٹائزیشن ہے حالانکہ ان اداروں کی قیمت ہزار ارب ہے، 970 ارب کہاں گیا، بین الاقوامی دنیا میں تیل کی قیمت بڑھے گی تو یہ پھر قیمت بڑھائیں گے، لوگ سڑکیں پر نکلیں گے، عمران خان پر سب مقدمے ختم ہونے والے ہیں، عدت کا کیس بھونڈا کیس ہے.

    عمر ایوب کا حساس ادارے کو فون ٹیپنگ کی اجازت کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کرنے اعلان
    قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب نے آئی ایس آئی کو فون ٹیپنگ کی اجازت کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کرنے اعلان کر دیا ،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ فارم 47 والی حکومت کی طرف سے ایس آر او 1005 (I)/2024 نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، اس نوٹیفکیشن میں آئی ایس آئی کو قومی سلامتی کو جواز بناکر کسی بھی شخص کی فون پر گفتگو کو ٹیپ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، ایک فاشسٹ حکومت کی جانب سے ہی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کو شہریوں کی فون ٹیپنگ کا مکمل اختیار دیا جاسکتا ہے،یہ ایس آر او وہ آلہ ہوگا جسے آئی ایس آئی بلاول بھٹو، آصف زرداری، مریم نواز سمیت تمام سیاستدانوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو بلیک میل اور مغلوب کرنے کے لیے استعمال کرے گی،میں اس غیر قانونی نوٹیفکیشن کو اپنے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کے توسط سے عدالت میں چیلنج کروں گا، یہ ایس آر او غیر آئینی اور آئین میں درج بنیادی حقوق کے خلاف ہے،

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،  سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مختصر رہوں گا، پندرہ منٹ میں جواب الجواب مکمل کروں گا،آرٹیکل 218 کے تحت دیکھنا ہے کیا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری شفاف طریقہ سے ادا کی یا نہیں،ثابت کروں گا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری مکمل نہیں کی، موقف اپنا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کروائی، 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن تین مخصوص نشستیں ملیں،الیکشن کمیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق بے ایمانی پر مبنی جواب جمع کروایا،الیکشن کمیشن کے سامنے معاملہ سپریم کورٹ سے پہلے بھی لے کر جایاگیاتھا،الیکشن کمیشن اپنے ہی دستاویزات کی نفی کررہاہے، کیا یہ بےایمانی نہیں؟

    آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، جسٹس عرفان سعادت
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھول جائیں الیکشن کمیشن نے کیاکہا؟ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق قانون پر مبنی تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق مخصوص نشستوں کا فیصلہ چیلنج کیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ دیتا کہ غلطی ہوگئی، الیکشن کمیشن نے ایسا رویہ اختیار کیاجیسے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق فیصلے کا وجود ہی نہیں،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے خیبرپختونخوا انتخابات میں حصہ لیا لیکن سیٹ نہیں جیتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ آپ کا کیس مختلف ہے، سنی اتحادکونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، ابھی دلائل دیں لیکن بعد میں تفصیلی جواب دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی پارٹی اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہوتا ہے،پارلیمنٹ کے اندر جو فیصلے ہوتے ہیں وہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے،ایسے فیصلے سیاسی پارٹی نہیں کرسکتی،پارلیمانی پارٹی پولیٹیکل پارٹی کا فیصلہ ماننے کی پابند نہیں، جیسے وزیراعظم کو ووٹ دینا ہو تو پارلیمانی پارٹی پابند نہیں کہ سیاسی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کرے، وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں،

    آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، چیف جسٹس
    باپ پارٹی! نام عجیب سا ہے! جسٹس جمال مندوخیل کے جملے پر قہقہے گونج اٹھے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی باقی صوبوں میں سیٹ لے اور ایک صوبے میں نہ لے تو کیا ہوگا؟ وکیل فیصل صدیقی نےکہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے دیگر صوبوں میں سیٹ جیتی لیکن خیبرپختونخوا میں کوئی سیٹ نہیں لی، الیکشن کمیشن کا غیرشفاف رویہ ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں سپریم کورٹ جوڈیشل نوٹس لے؟ اگر نہیں تو ذکر کیوں کررہے؟آپ چاہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے حوالے سے کیس لیں تو لے لیتے ہیں، لیکن سپریم کورٹ 2018 انتخابات پر انحصار نہیں کرےگی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن امتیازی سلوک کررہا تو سپریم کورٹ دیکھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی 2018 میں الیکشن کمیشن ٹھیک تھا؟

    کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟ چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یونانی کہتےتھے اگر دلائل سے بات نہیں کرسکتے تو فرد پر اٹیک کردو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یونانی مثال اچھی بات ہے؟ آئینی بات ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اچھی بات نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی منافقت ظاہر ہے، جمیعت علمائے اسلام ف کو بھی اقلیتوں کی مخصوص نشست دی ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام ف نے کہا ہمارے مینی فیسٹو میں ایسا کچھ نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں جمیعت علمائے اسلام ف کا اقلیتوں کے حوالے سے مینی فیسٹو دکھا دیتاہوں، جے یو آئی کو اقلیتی نشست بھی الاٹ کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا جمیعت علمائے اسلام ف کو اقلیتی نشست نہیں ملنی چاہیے؟ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ کامران مرتضیٰ اس پر وضاحت دے چکے ہیں کہ مس پرنٹ ہوا تھا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کامران مرتضیٰ کی وضاحت ہوا میں ہے، جے یو آئی کی کی ویب سائٹ سے آئین ڈائون لوڈ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل میں صرف سنی شامل ہوسکتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں تمام مسلمان شامل ہوسکتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باقیوں کو آپ مسلمان سمجھتے ہیں؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ آئین کے ٹیکسٹ پر بات چاہتے ہیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں آئین کے ٹیکسٹ سے ہی فیصلہ چاہتا ہوں، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا ٹیکسٹ میں لکھا ہے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دے دیں ؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئین کے ٹیکسٹ میں ایسا نہیں لکھا ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جواب الجواب دلائل نہیں دے رہے نئے نکات اٹھا رہے ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں انہی نکات پر بات کر رہا ہوں جو بار بار یہاں اٹھائے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار پی ٹی آئی کی طرف سے بات کرنے لگتے ہیں آپ سنی اتحاد کونسل پر رہیں، متناسب نمائندگی کے حساب سے تو سنی اتحاد کونسل کو زیرو نشست ملنی چاہئے، آپ کی تو عام انتخابات میں زیرو نشست تھی،

    ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، چیف جسٹس کا وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیا 18 جنرل سیٹیں جیتنے والی کو 30 مخصوص نشستیں ملنی چاہیے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی لاجک کے مطابق آپ کو تو پھر صفر سیٹ ملنی چاہیے کیونکہ آپ کوئی سیٹ نہیں جیتے، آپ تحریک انصاف کے کیس پر دلائل دےرہے، آپ سب باتیں اپنے خلاف کررہےہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جنہیں آزادامیدوار کہہ رہے وہ آزادامیدوار نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل مان لیں تو آپ کا کیس ہی نہیں، آپ سمجھ جائیں گے جلد، ہم آپ کے دلائل مان لیتے ہیں تو مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو مل جائیں گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحادکونسل کو ملے گی جو پارلیمنٹ میں موجود ہے،

    2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ووٹ کے حق پر کوئی بات نہیں کررہا، عوام نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دیا،انتخابات کو شفاف بنانا ضروری ہے، صورتحال کے مطابق ایک بڑی سیاسی جماعت کو ووٹ ملا جس کو انتخابی عمل سے نکال دیا گیا، بات سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کے حق کی ہے، 2018 میں بھی انتخابات پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، الیکشن کمیشن پر بھی سوالات اٹھے تھے، کیا خاموش رہیں؟ عوام کا حق پامال ہونے دیں؟

    فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں،جسٹس عرفان سعادت
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اسی وقت کہہ دیتا آپ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہیں ہو سکتے، الیکشن کمیشن کا مسلسل ایک ہی موقف رہتا تو بات سمجھ آتی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ فیصل صدیقی آپ کی جماعت کو تو بونس مل گیا، آپ کی جماعت نے الیکشن نہیں لڑا اور اسی نوے نشستیں مل گئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا الیکشن نارمل حالات میں اور شفاف ہوئے تھے؟کیا ایک بڑی سیاسی جماعت کو اپنے امیدوار دوسری جماعت میں کیوں بھیجنے پڑے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ آزاد امیدواروں نے کیسے پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی،پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کو آزاد امیدواروں کی شمولیت کے حوالے سے بتانا ہوگا،آزاد امیدوار کی بھی مرضی شامل ہونی چاہیے،الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت کا ممبر ہے تو اسی سیاسی جماعت کا نشان اسے ملنا چاہیے،کسی سیاسی جماعت کو چھوڑے بغیر نئی جماعت میں شمولیت نہیں ہوسکتی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بلے کے نشان کا فیصلہ آنے سے پہلے حامد رضا پی ٹی آئی کے نامزد تھے،الیکشن کمیشن نے غلط تشریح کی جس وجہ سے تنازع پیدا ہوا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جسٹس عرفان سعادت نے کہا تھا ہمیں مفت نشستیں ملیں، اس پرمرزا غالب کا شعر سنانا چاہتا ہوں، غالب نے کہا تھا مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مرزا غالب کو چھوڑیں، آپ تشریف رکھیں، سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کے جواب الجواب دلائل مکمل ہو گئے.

    سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟جسٹس جمال مندوخیل کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ واپس بھی لے لیا گیا تھا،ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،الیکشن کمیشن نے مکمل دستاویزات جمع نہیں کروائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 13 جنوری کا ڈیکلریشن آپ نے تحریک انصاف نظریاتی کا ظاہر کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیس بہت اہم ہے، سنجیدہ سوالات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری پر اٹھے ہیں، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سامنے ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ثابت کرنا چاہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اپنا ہی ریکارڈ دبانے کی کوشش کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں جو تحریک انصاف کے ہوتے ہوئے سنی اتحادکونسل میں گئے وہ ٹھیک گئے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر آزاد امیدوار ڈیکلیئر کیا ہے تو سنی اتحادکونسل میں شامل ہوسکتے، سنی اتحادکونسل کے علاوہ کسی پارٹی میں شامل کونے کی کوئی آپشن نہیں تھی،اس سے پہلے جو ہوا وہ الیکشن کمیشن کی غلطی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر عدالت آئینی تشریح سے ایسے نتیجے پر پہنچے تو مجھے انکار نہیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 51 میں کہاں لکھا کہ مخصوص نشستیں لینے کے لیے ایک سیٹ جیتنا ضروری ہے،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کیا آپ کی دلیل وکیل فیصل صدیقی کے کیس کو نقصان نہیں پہنچا رہی، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اپنے دلائل مکمل اور شفاف دوں گا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بات ہو رہی تو ووٹ کے حق کی بات ہورہی،الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے نکالا،کیا ایسے عمل کو سپریم کورٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے؟

    سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا،تمام فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ سنانے سے متعلق آپس میں مشاورت کریں گے،فیصلہ کب سنایا جائے گا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے،

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • تین سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو ڈوب مرنے کا مقام ہے،وزیراعظم

    تین سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو ڈوب مرنے کا مقام ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں بلوچستان کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق بلوچستان سےمل کرصوبے کے 28 ہزارٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرے گا ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہر سال70 سے 80 ارب روپے بجلی کے بلز کی مد میں ادا کئے جارہے ہیں، بلوچستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں جس کی کی وجوہات ہیں، اگر500 ارب کی سبسڈی کا پیسہ بلوچستان کی ترقی خوشحالی پر لگا ہوتا تو یہاں ترقی ہوتی،بلوچستان کے27 ہزار ٹیوب ویلوں پر پورا دن بجلی آنی چاہئے، بلوچستان سے 1 ہزار افراد زرعی ٹریننگ کے لیے چین بھجوائیں گے، بلوچستان کے نوجوان اعلی تعلیم یافتہ ہوں گے تو ترقی میں اہم کردارادا کریں گے، چین میں آئی ٹی کی تربیت میں بھی بلوچستان کے طلبا کے لیے 10 فی صد اضافی کوٹہ ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں، اگر انہوں نے 3 ماہ میں کام کرلیا تو انکی عوامی پذیرائی کروائیں گے، وفاق نے بلوچستان میں دانش اسکولوں کے لیے بجٹ میں فنڈز رکھے ہیں،بلوچستان میں فاصلے بہت ہیں اس کے لیے وسائل چاہئیں، جو بلوچستان اور پاکستان کی خیرخواہی چاہتا ہے تو ہم اس کو گلے لگائیں گے، ہم نے عام آدمی کو ریلیف دینا ہے، وفاق، بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے آپ کے ساتھ ہے، اگر بلوچستان اور کے پی میں سرمایہ کاری لانی ہے تو سکیورٹی ہماری سب سے پہلی ضرورت ہے، ہم دہشت گردی کے ناسور کو مل کر ختم کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری تھی، قرضوں نے ہماری نسلوں کو بھی گروی رکھ دیا ہے، قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے وفاق، صوبے اور متعلقہ ادارے کام کریں گے تو آنے والی نسلیں دعائیں دیں گے، اگر تین سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے،ہم سب مل کر چیزوں کو بہتر کریں گے، ہم نے اسی ماہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرنا ہے، تلخ فیصلہ نہ کیے تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کی محرومیوں کو دور کرکے اسکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔بلوچستان کیلئے وفاقی حکومت نے دانش سکولوں کے قیام کے لیے حالیہ بجٹ میں فنڈز مختص کر دیئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ دانش سکولوں کو صوبے کی ڈویژنل سطح تک وسعت دی جائے تاکہ اس سے پورے صوبے کے طلباء مستفید ہوں۔امید ہے کہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں پوری صوبائی کابینہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں مزید کردار ادا کرینگے

    بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کو صوبے کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی خوشحالی اور یہاں کے مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔

    وزیرِاعظم محمدشہبازشریف نےبلوچستان کےتمام زرعی ٹیوب ویلزکی سولرآئیزیشن کاتاریخی اجراء کر دیا،وفاقی حکومت بلوچستان حکومت کےساتھ مل کربلوچستان کےتقریباً 28ہزاربجلی پرچلنےوالےٹیوب ویلز کوسولرپرمنتقل کرے گی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 55ارب روپے کےاس منصوبےکا70 فیصدوفاقی جبکہ30 فیصد بلوچستان حکومت اداکرےگی

    وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر، وزیراعلیٰ بلوچستان کی الگ الگ ملاقات
    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں گورنر بلوچستان نے وزیرِاعظم کی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں خصوصی دلچسپی پر انکا شکریہ ادا کیا۔گورنر بلوچستان نے وزیرِاعظم کو صوبے کے انتظامی امور اور امن و امان کی صوتحال سے بھی آگاہ کیا۔

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِاعلیٰ بلوچستان، سرفراز احمد بگٹی کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے وزیرِاعظم کو صوبے کے انتظامی امور اور امن و امان کی صورتحال سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے کیلئے کوئٹہ پہنچ گئے۔کوئٹہ پہنچنے پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور وزیرِاعلی بلوچستان سرفراز احمد بگٹی نے وزیرِاعظم کا استقبال کیا۔وزیرِاعظم سے کوئٹہ میں بلوچستان کی کابینہ اور ارکانِ پارلیمان ملاقات کریں گے۔وزیرِاعظم کوئٹہ میں بلوچستان کے کسانوں کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی اور بلوچستان حکومت کی جانب سے ایک تاریخی پیکیج کا بھی اعلان کریں گے۔وفاقی وزراء جام کمال خان، اعظم نذیر تارڑ سردار اویس خان لغاری، عطاء اللّٰہ تارڑ، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک وزیرِاعظم کے ہمراہ ہیں

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کے ہائیکورٹ کی جسٹس سیٹلا موٹوکو نے ارشد شریف قتل کیس میں پولیس کے غلط شناخت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ملوث ملزمان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دے دیا

    ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ کی درخواست پر کینیا کی ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کی، آج عدالت نے پولیس کے خلاف کاروائی کا حکم دیا،جسٹس سٹیلا موٹوکو نے ارشد شریف پر فائرنگ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیرقانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ارشد شریف پر فائرنگ کرنے والوں کیخلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔عدالت نے خاندان کو ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا.عدالت نے ارشد شریف کی فیملی کو 2 کروڑ 17 لاکھ ہرجانہ دینے کا حکم دیا،عدالت نے کہا کہ درخواست میں جن حکومتی اداروں کا نام لیا گیا وہ اپنی ذمے داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتے،عدالت نے گولی چلانے والے پولیس افسر کے خلاف فوجداری کارروائی کا بھی حکم دیا

    عدالتی فیصلہ کے بعد ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں اور آپ سب کینیا میں ارشد شریف کا کیس جیت گئے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائلز کیخلاف کیس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائلز کیخلاف کیس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائلز کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی.

    سات رکنی بینچ نےکیس پر سماعت کی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شاہد بلال حسن 7رُکنی بینچ کا حصہ ہیں،

    درخواست گزار اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے اور کہا کہ 5 ہفتے سے فوجی تحویل میں موجود قیدیوں کی انکے خاندان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی،ان قیدیوں کو قابل رحم حالت میں رکھا گیا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ کی ملاقات ہوئی ہے؟ آپ کو کیسے پتہ کہ قیدیوں کو قابل رحم حالت میں رکھا گیا ہے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کچھ خاندانوں کو ملنے دیا گیا ہے، ملزمان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے ، کھانا بھی نہیں دینے دیا گیا،

    حفیظ اللہ نیازی نے آئین پاکستان ہاتھ میں اٹھا لیا اور کہا کہ میرا بیٹا گیارہ ماہ سے جسمانی ریمانڈ پر ہے،بتائیں آئین میں یہ کہاں لکھا
    حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میرے بیٹے سے جو آخری ملاقات ہوئی اس عدالت کی مہربانی سے ہوئی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ آپکا حق تھا اسے عدالت کی مہربانی مت کہیں، جاگر جیسے بتایا گیا ہے ملزمان کو ویسے رکھا گیا ہے تو غلط ہے،بہتر ہوگا اس کیس کو چلا کر فیصلہ کریں، حفیظ اللہ نیازی نے عدالت میں کہا کہ مولانا ابو الکلام نے کہا تھا سب سے بڑی نا انصافی جنگ کے میدانوں میں یا انصاف کے ایوانوں میں ہوتی ہے، حفیظ اللہ نیازی نے آئین پاکستان ہاتھ میں اٹھا لیا اور کہا کہ میرا بیٹا گیارہ ماہ سے جسمانی ریمانڈ پر ہے،بتائیں آئین میں یہ کہاں لکھا ہے؟ نیب کے تین ماہ کے ریمانڈ کو عدالتوں نے کالا قانون قرار دیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جن ملزمان کی ملاقاتیں کرائی گئی وہ بیڑیوں میں تھے،اعتزاز احسن نے کہا کہ جالب نے جیل میں ایسی ہی ملاقات پر کہا تھا "حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی”،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ شعر و شاعری تو ہمیں نہیں آتی اصل کیس چلنے دیں،

    حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ درخواست ضمانت کو رجسٹرار آفس نمبر بھی الاٹ نہیں کر رہا،، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم اس وقت اپیل سن رہے ہیں، جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کی درخواست لی تو نہ جانے اور کتنی درخواستیں آجائیں اصل کیس رہ ہی جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصلے میں تاخیر ہماری وجہ سے نہیں ہو رہی، اس مقدمہ میں بینچ پر اعتراضات کئے گئے درخواستیں دائر کی گئیں اور مقدمہ کو چلنے نہیں دیا گیا،مرکزی کیس چلنے دیں تو فیصلہ جلد ہوسکتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہر بار بنچ پر اعتراض آ جاتا ہے،

    عدالت نے جواد ایس خواجہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو بینچ پر اب اعتراض تو نہیں؟وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہم اس بینچ سے خوش ہیں، استدعا ہے کہ کیس چلا کر فیصلہ کیا جائے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ دیکھیں،اس فیصلے کی روشنی میں بتائیں اس اپیل کا اسکوپ کیا ہے؟ کیا ایسی اپیل میں ہم صوبوں کو سن سکتے ہیں؟ حامد خان صاحب آپ کی فریق بنے کی درخواست کیسے سنی جا سکتی ہے؟ حامد خان نے کہا کہ میں نے لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دی ہے،

    انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ اٹارنی جنرل نے پڑھ کر سنایا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ہم نے اس کو نظر ثانی کے اسکوپ میں ہی دیکھنا ہے یا مکمل اپیل کے طور پر؟ سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق رولز بنانے تھے جو ابھی نہیں بنے،یہ رولز اب تک بن جانے چاہیے تھے،انٹرا کورٹ اپیل کو لاء ریفارمز ایکٹ کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا،جو چیزیں اصل کیس میں فیصلہ دینے والے بنچ کے سامنے نہیں تھی وہ اب آپ دلائل میں نہیں اپنا سکتے، خیبر پختونخوا حکومت نے اپیل واپس لی تو اٹارنی جنرل آپ نے کہا کہ یہ پہلے کابینہ منظوری لائیں،جن صوبوں نے یہ اپیلیں دائر کی ہیں کیا انہوں نے کابینہ سے منظوری لی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری نظر میں اپیل کے لیے کابینہ منظوری نہیں چاہیے،اگر کابینہ منظوری لازم ہوئی تو پھر ٹیکس مقدمات میں بھی چاہیے ہوگی، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ رولز میں سے بتا دیجیے گا کہ کیسے اپیل ہوتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کو ہم ویسے معاون کے طور پر سن لیں گے،جآپ بار کی جانب سے کیوں فریق بننا چاہتے ہیں؟ حامد خان نے کہا کہ بار کی ایک اپنی پوزیشن ہے اس معاملے پر، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسا ہے تو آپ کو پہلے اصل کیس میں سامنا آنا چاہیے تھا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیلوں میں تو صوبوں کو بھی نہیں سنا جانا چاہیے تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ ہمارا وقت ضائع نہ کریں اصل کیس چلنے دیں، آپ نے بات کرنی ہے تو دیگر وکلاء کی معاونت کر دیجیے گا،

    عدالت نےوکیل فیصل صدیقی سے استفسارکیا کہ حامد خان کو فریق بنانے پر آپ کیا کہتے ہیں؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے اس مشکل میں نہ ڈالیں، میں نے اس کیس کو براہ راست نشر کرنے کی متفرق درخواست دائر کی ہے، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ براہ راست نشر کرنے کی سہولت صرف کورٹ روم ون میں ہے، فیصل صدیقی نے براہ راست نشر کرنے کی درخواست واپس لے لی اور کہا کہ عدالت اس کیس کا جلد فیصلہ کرے میں ایسی درخواست کی پیروی نہیں کرتا،

    حامد خان کی فریق بننے کی درخواست پانچ دو سے منظورکر لی گئی،حامد خان لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے پیش ہوئے

    زیارت میں قائداعظم ریزیڈنسی کو آگ لگائی گئی تھی، زیارت واقعہ پر شہداء فاونڈیشن کہاں تھی؟جسٹس جمال مندوخیل
    پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے وڈیو لنک پر دلائل دئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل ایک اندرونی انتظام ہے، اس کا اسکوپ اپیل سے زیادہ نظر ثانی کے قریب تر ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نےشہدا فاونڈیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کل رات کیس کا ریکارڈ دیکھ رہا تھا،ریکارڈ کے مطابق جناح ہائوس لاہور کو بھی آگ لگائی گئی تھی،یہ بعد میں دیکھیں گے کہ قائداعظم جناح ہائوس میں کتنے دن رہے، زیارت میں قائداعظم ریزیڈنسی کو آگ لگائی گئی تھی، زیارت واقعہ پر شہداء فاونڈیشن کہاں تھی؟ کتنی درخواستیں دائر کیں؟ شہدا فاونڈیشن کے فریق بننے کی درخواست منظور کر لی گئی.

    اٹارنی جنرل ملزمان کی فیملیز کی شکایات کا ازالہ کریں،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت 11 جولاٸی جمعرات تک ملتوی کر دی ،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائلز کیس کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا،حکمنامہ میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار کی فریق بننے کی استدعا منظور کی جاتی ہے، فیصل صدیقی نے بتایا کہ وہ براہ راست نشریات کی درخواست کی پیروی نہیں چاہتے، حفیظ اللہ نیازی نے بتایا ان کے بیٹے گرفتار ہیں،فریقین نے بتایا کہ ملزمان سے فیملی کی ملاقات نہیں ہو رہی،اٹارنی جنرل ملزمان کی فیملیز کی شکایات کا ازالہ کریں، خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی جاتی ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے سویلنز کا فوجی ٹرائل روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجو ع کیا تھا۔پانچ رکنی لارجر بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو فوجی عدالتوں میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دیا تھا.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

  • عدالت پیشی کے بعد شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل روانہ کر دیا گیا

    عدالت پیشی کے بعد شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل روانہ کر دیا گیا

    9 مئی کے کیسز میں شاہ محمود قریشی جیل ٹرائل کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں پیش ہو گئے عدالت نے ملزمان کو حاضری کیلئے طلب کررکھا تھا، حاضری کے بعد شاہ محمود قریشی کو واپس اڈیالہ جیل روانہ کر دیا گیا،

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو نو مئی جلاؤ گھیراؤ اور کور کمانڈرز ہاؤس حملہ کیسز میں جیل ٹرائل کے لیے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پیش کیا گیا۔شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت پیش کیا گیا، پیشی کے دوران شاہ محمود قریشی کو چالان کی نقول فراہم کی گئیں،عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر لیا۔ کوٹ لکھپت جیل میں پیشی کے بعد شاہ محمود قریشی کو واپس اڈیالہ جیل راولپنڈی بھجوا دیا گیا۔ شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    میرے دل میں پاکستان کے بہت سے راز ہیں میں نے پاکستان کی خدمت کی ،شاہ محمود قریشی
    شاہ محمود قریشی کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں دس بار ممبر پارلیمان رہ چکا ہوں،مجھے قیدیوں کی وین میں قیدیوں کی طرح اسلام آباد سے لاہور لائے، ایک وین میں ایک بنچ تھا اور بہت مشکل سفر رہا یہ سب سیاسی مقاصد کے لیے کیا جارہا ہے، میرے دل میں پاکستان کے بہت سے راز ہیں میں نے پاکستان کی خدمت کی ، بانی پی ٹی سے وفا کرنے کی وجہ سے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے، ہم وفا کرتے رہیں گے چاہے جو مرضی کر لیں،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے لاہورکوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے،شاہ محمود قریشی کو سخت سیکورٹی میں الصبح منتقل کیا گیا، شاہ محمود قریشی پر لاہور میں 9 مئی کے متعدد مقدمات درج ہیں، لاہور پولیس جیل میں 9 مئی مقدمات میں شاہ محمود قریشی سے تفتیش بھی کر چکی ہے،

    نومئی واقعات کے بعد شاہ محمود قریشی کو گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں سائفر کیس میں سزا کے بعد شاہ محمود قریشی کو گرفتارکیا گیا تھا، بعد ازاں سائفر کیس میں ضمانت ملنے کے بعد شاہ محمود قریشی کو نومئی کے مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا تھا، شاہ محمود قریشی کی ایک بار ضمانت ہوئی انہیں جیل سے رہا کیا گیا تا ہم اڈیالہ سے نکلتے ہی انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا،

    لاہور پولیس نے شاہ محمود قریشی کے خلاف چالان عدالت میں جمع کروا دیا ،اے ٹی سی لاہور نے شاہ محمود قریشی کی طلبی کانوٹس جاری کردیا ،پولیس کی جانب سے چالان میں شاہ محمود قریشی پر 9 مئی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے،لاہورپولیس کی جانب سے چالان میں 50 سے زائد گواہان کی لسٹ بھی شامل ہے،چالان میں سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پر لوگوں کو اکسانے کا بھی الزام ہے،تھانہ شادمان جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ پولیس نے درج کررکھا ہے

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب دوبارہ بھی بتار ہا ہوں کہ اگلے دو ماہ بہت بھاری ہیں ۔ ایک طرف افغانستان کے بارڈ ایریا ز میں سورش ، دوسری طرف مشکل معاشی صورتحال ، پھر چین سمیت سعودی عرب سے پیسوں کا نہ ملنا ۔ اوپر سے ملکی سیاسی صورتحال میں بھونچالی کیفیت نے ملک کا بٹھا بیٹھا دیا ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی نے وہ کہتے ہیں نا کہ چوتھا گیئر لگا دیا ہے ۔ جو کچھ وہ کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں ۔ کہ کسی طرح عمران خان کو اب جیل سے باہر نکالا جائے ۔ اسی لیے بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے اور عمران خان نے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کے اظہار سمیت بھوک ہڑتال کا اعلان کرکے اپنا آخری کارڈ بھی کھیل دیا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی پیش رفت کا عمران خان کو کتنا فائدہ ہو گا یا نقصان ۔ پر اس صورتحال کو دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی بھانپ لیا ہے اور اسی لیے آج نواز شریف نے ملک بھی ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم چلانے کا فیصلہ کر لیا ۔جس سے یہ تاثر ضرور ملا ہے کہ کچھ پک ضرور رہا ہے ۔ پر ایک چیز ہے کہ عمران خان نے بڑی چالاکی سے وہاں وہاں چوٹ ماری ہے کہ اس کی تکلیف ہو ۔ سب سے پہلے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے جہاں ان کو متنازع کرنے کی کو شش ہے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ اب جو بھی فیصلے آئے وہ ان کو نہیں مانیں گے جبکہ بھوک ہڑتال کا اعلان صرف اپنے ورکرز سمیت سوشل میڈیا وارئیرز کے لیے نیا نقطہ فراہم کیا ہے کہ وہ عمران خان کو نیلس منڈیلا سے تشبیہ دے کر اس ملک سمیت عالمی لیڈ ر ثابت کر دیں ۔ مگر اصل چوٹ عمران خان نے ریاستی اداروں کو افغانستان پر بات کرکے کی ہے ۔ اور ایک بار پھر انھوں نے طالبان کے لیے سافٹ کارنر ظاہر کرکے دکھتی رگ کو چھیٹر دیا ہے ۔ کہ وہ اپنی سیاست کے لیے ملکی سلامتی کے ساتھ کھیلتے رہیں گے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری نظر میں عمران خان کی تمام باتوں میں تضاد ہے کہ جس روک ٹوک ، پابندیوں اور سہولتیں نہ دینے کا ذکر وہ کر رہے ہیں ۔اگر اس سب کو سچ مان لیا جائے تو ان کو اس طرح پیشی پر میڈیا سے گفتگوکرنے کی اجازت نہیں ہونے چاہیئے تھی ۔ آپ خود فیصلہ کرلیں کون سی ایسی چیز ، بات یا الزام ہے جو انھوں نے نہیں لگایا ۔ یہاں تک چیف جسٹس سے چیف آف آرمی سٹاف تک سب کا نام لے کر بات کی ۔ اور بغیر کسی ثبو ت کے الزامات کی بوچھاڑ بھی کر دی ۔ مگر ان کی کوئی بھی بات سینسر نہیں ہوئی ۔

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت بڑے اچھوں اچھوں کے بجلی اور مہنگائی نے کڑاکے نکال دیے ہیں ۔ جس سے پوچھو وہ بجلی کا بل پکڑ ے رو تا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اپنا زیور بیچ رہا ہے ۔ کوئی کولر ، کوئی اے سی ،کوئی فریج، غرض بجلی کا بل دینے کے لیے اب عوام کو چیزیں بیچنا پڑ رہی ہیں ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے اور گاڑی ہاتھ سے چھوٹ رہی ہے۔ غریب زندہ رہنے کی جستجو میں ہے۔ بجلی کے بل دیکھ کر ملک میں درجنوں افراد ہارٹ اٹیک کا نشانہ بن چکے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے مطابق کراچی میں شدید لوڈ شیڈنگ پر نہ صرف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں بلکہ جہانگیر روڈ، پٹیل پاڑہ کا رہائشی نوکری پیشہ شخص تاج محمد کو لوڈ شیڈنگ کے باعث رات تین بجے دل کا دورہ پڑا، جس سے وہ انتقال کر گیا جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا اور کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔ مگر حکومت نے بےحس ہو کر کل پھر بجلی بم گرا دیا ہے ۔ میں بتاوں یہ ایک لاوا پک رہا ہے ۔ اور آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ اس وقت عوام کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ احتجاج کہاں اور کس کے خلاف کرنا ہے ۔ ابھی تو صرف بجلی دفاتر کے باہر ہی دھاوے بولے جا رہے ہیں لائن مین سمیت ایس ڈی اوز کو مارا جا رہا ہے ۔ پر یو نہی اگر اشرفیہ عوام کا معاشی قتل کرتی رہی تو کچھ بعید نہیں کہ سری لنکا یا حالیہ کینیا جیسے احتجاج پاکستان میں بھی ہوجائیں ۔ کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ بجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف اڑتالیس روپے چوراسی پیسے مقرر کیا گیا ہے اس میں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس ڈالیں تو ستاون روپے اور ایڈجسمنٹ کے بعد فی یونٹ پنسٹھ روپے کا ہو جائے گا ۔ اب اتنی مہنگی بجلی سے اشرافیہ تو کوئی فرق نہیں پڑنا کیونکہ ان کی بجلی، گیس، پیٹرول ،علاج ،گھومنے پھرنے کے تمام خرچے توعوام کی جیبوں سے نکالے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے ہین ۔ پر عوام نے اب یا تومر جانا ہے یا پھر اپنا رخ اس اشرافیہ کر طرف کر لینا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو دنیا بھر کے ممالک کی اشرافیہ بےرحم ہوتی ہے۔ مگر پاکستانی اشرافیہ گمینگی کے کسی اعلی ترین درجے پر فائز ہے ۔ اب تو میرے جیسوں کے گھر بھی اے سی چلتا ہے تو پسینہ خشک ہونے کے بجائے مزید پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے ساتھ ہی دل کی ڈھرکنیں تیز ہوجاتی ہیں ۔ پھر ملک کے غریبوں کی خبریں تو میڈیا پر آتی ہی نہیں مگر اداکارہ نشو بیگم بھی اپنے بجلی کے بل پر سخت سیخ پا ہیں جن کا ایک ماہ کا ایک لاکھ روپے کا بجلی بل آیا ہے۔ مشہور اداکار راشد محمود نے تو اپنا بجلی کا بل دیکھ کر اللہ سے موت مانگ لی ہے اور کہا ہے کہ اگر حکمران ہمیں کچھ نہیں دے سکتے تو ہم سے ہماری زندگیاں کیوں چھین رہے ہیں۔ سوچیں بجلی بلوں کے باعث یہ مشہور لوگ بھی بلبلا اٹھے ہیں اور کروڑوں غریب جن کی میڈیا میں خبریں نہیں آتیں ان کا کیا حال ہے۔ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اسی لیے تو میں میڈیا پر حیران ہوں کہ سب کے سب فلاسفر بنے ہوئے ہیں ۔ سیاست کی ماں بہن ایک کر رہے ہیں حالانکہ اصل ایشو یہ ہے ۔ کہ اس پر بات کی جائے حکومت سمیت آئی پی پیز اور وزیر خزانہ کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ۔ ان کے کپڑے اتارے جائیں ۔ رپورٹرز سمیت اینکرز کو چوکوں چوراہوں میں جا کر عوام کے دکھ ، درد اور تکالیف کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھے لوگوں تک پہنچنا چاہیئے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب کل میں نے بھارت کی سٹرکوں پر ورلڈ کپ جیتنے پر جشن اور پاکستان میں عوام کو پیڑول پمپوں کے باہر لائنوں میں لگے دھکے کھاتےدیکھا ہے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی ابھی نہیں لگائی، مطلب لگائی ضرور جائے گی۔ لیوی نہ لگانے کے باوجود حکومت نے یکم جولائی سے مہنگائی کے ستائے عوام پر پٹرول بم گرانے سے گریز نہیں کیا اور پٹرول ساڑھے سات روپے، ڈیزل ساڑھے نو روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں دس روپے اضافہ کر دیا ہے۔ آپ دیکھیں وزیر خزانہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ نئے ٹیکسوں سے لوگ دباؤ میں ہیں۔ پر کرتے کچھ نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کو چاہیئے کہ قوم کو بتائیں کہ وہ جس شدت کے ساتھ ٹیکس لینے کی بات کر رہے ہیں اس کے جواب میں ٹیکس ادا کرنے والوں کو کیا دے رہے ہیں، کیا وزیر خزانہ قوم کو بتائیں گے کہ مخصوص شعبوں کو ٹیکس میں رعایت دینے سے خزانے پر بڑھنے والا بوجھ کون اٹھائے گا۔ کیا وزیر خزانہ قوم کو بتا سکتے ہیں کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کیوں نہیں کیے، کیوں اربوں کے فنڈز اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو جاری ہوں گے، کیا خون پسینے کی کمائی ٹیکس میں اس لیے جمع کروائی جائے گی کہ وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنا سکیں۔ کیا یہ تنخواہ دار طبقے پر حکومتی ظلم نہیں ہے۔ جو ٹیکس دیتا نہیں حکومت میں اس سے ٹیکس لینے کی طاقت نہیں اور جو ٹیکس دیتے ہیں ان پر مزید بوجھ کے سوا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں تو پھر یہ نظام حکومت کس کام کا ہے، کیا یہ عوام کے لیے ہے یا پھر یہ مخصوص طبقے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھاکہ حقیقت میں لوگ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور حکومت ان پر ٹیکسوں کا مزید دباؤ بڑھاتی جا رہی ہے۔ دیگر حکومتی ٹیکسوں کے برعکس بجلی کے بلوں پر ہی تیرہ چودہ ٹیکس حکومت پہلے ہی وصول کر رہی ہے۔ حکومت کے ادارے بجلی عوام کو فروخت کر کے بھاری منافع کما رہے ہیں۔ اس لیے ڈرنا چاہے اس وقت سے جب خیبر سے گوادر تک پاکستان کے بیشتر شہروں میں مختلف مقامات پر بجلی متاثرین ٹولیوں کی صورت میں جمع ہونا شروع ہوں گے ۔ پھر پولیس کے بس میں بھی ان ٹولیوں کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔ عام آدمی ٹیکس دیتا رہے ، حکمران اور سرکاری افسران مراعات لیتے رہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عام آدمی دھکے کھاتا رہے اور حکمران طبقہ مزے کرتا رہے۔ اب بجٹ میں جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے کیا ملک کے کروڑوں لوگ اس بوجھ کو اٹھانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ یقینا یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔اگر حکومتی اخراجات، مراعات پر بات کی جائے تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے۔ کہ حکومت کو عوام پر ٹیکس لگانے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے چاہییں۔ قرضہ لیکر پانچ سو ارب روپے ایم این اے اور ایم پی ایز کو بانٹا جائیگا جو ماضی میں بھی غلط تھا، ان پیسوں میں سے ایک تہائی کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔ ڈیزل اور ایل پی جی کی اسمگلنگ روک کر ٹیکس جمع کریں تو کوئی اور ٹیکس لینے کی ضرورت نا پڑے، ملک میں ایک طبقہ ہے جس کی آدھی آمدن حکومت لے جائے گی، ایسا دنیا میں وہاں ہوتا ہے جہاں پیدائش سے لیکر مرنے تک کی انسان کی تمام بنیادی ذمہ داریاں حکومت لیتی ہے۔

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی اداروں کی حمایت کی جانی چاہیے،نواز شریف

    دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی اداروں کی حمایت کی جانی چاہیے،نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے صدر سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے

    مری میں میڈیا سے بات کرتے ہوئےنواز شریف کا کہنا تھا کہ مخلص اور محنتی قیادت مشکلات پر قابو پالے گی،دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی اداروں کی حمایت کی جانی چاہیے۔ عدم استحکام پیدا کرنے اور بیرون ملک پاکستان کو بد نام کرنے والے عناصر کو جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ،2018 میں ملکی تباہی وبربادی کا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے مسائل پیدا کیے، امن وامان کا گہرا تعلق سرمایہ کاری اور ترقی و خوش حالی سے ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف نے محرم الحرام کے بعد سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کر دیا، پہلے مرحلے میں وہ پنجاب کے مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے اور پارٹی رہنماوں و کارکنان سے ملاقاتیں کریں گے.

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے