Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نئی سیاسی جماعت”عوام پاکستان”لانچ،ن لیگ،ایم کیو ایم، پی ٹی آئی کے سابق رہنما شامل

    نئی سیاسی جماعت”عوام پاکستان”لانچ،ن لیگ،ایم کیو ایم، پی ٹی آئی کے سابق رہنما شامل

    عوام پاکستان پارٹی کا تاسیسی اجلاس ہوا

    اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سردار مہتاب عباسی، مفتاح اسماعیل شریک ہوئے،سابق وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور زعیم قادری بھی اجلاس میں شریک ہوئے،ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین بھی عوام پاکستان پارٹی کے اسٹیج پر موجود تھے،

    نئی سیاسی جماعت عوام پاکستان پارٹی کا نعرہ ’’بدلیں گے نظام‘‘ رکھا گیا ہے، عوام پاکستان پارٹی کے جھنڈے کا رنگ سبز اور نیلا رکھا گیا جس میں پارٹی کا نام سفید رنگ سے تحریر ہے، رکن آگنائزنگ کمیٹی فاطمہ عاطف کا کہنا ہے کہ پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن 19 جون کو ہوئے، شاہد خاقان عباسی کو پارٹی کا کنوئینر جبکہ مفتاح اسماعیل کو سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے.

    آپریشن کی بار بار ضرورت کیوں پڑتی ہے کیونکہ آپ غربت ختم نہیں کر سکتے،مفتاح اسماعیل
    عوام پاکستان پارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان سب سے پیچھے اسلئے رہ گیا ہے کیونکہ یہاں کا نظام درست نہیں یہ ایک پریڈیٹر ظالمانہ ریاست بن چکی ہے۔ یہاں کے حکمران سمجھتے ہیں وہ شکاری ہیں اور عوام شکار ہیں۔آج پاکستان کا بچہ بھوکا سو رہا ہے، اگر یہ ملک غریب رہے کیا آگے بڑھ سکتا ہے، 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی کمزور ہیں، تیسری دنیا کے بہت سے ممالک ہم سے آگے ہیں، ہم سوڈان سے بھی پیچھے ہیں، افغانستان کے علاوہ ہم خطے کے ہر ملک سے پیچھے رہ گئے ہیں، 95-1994ء میں ہم اپنے پڑوسی ممالک میں سب سے آگے تھے،ہماری حکومت کیا ایسٹ انڈیاکمپنی چلارہی ہے؟ اس طرح کا پاکستان ہمیں منظور نہیں ہے،مڈل کلاس پاکستانی کو مارا جا رہا ہے،یہاں پچاس ہزار تنخواہ پر بھی ٹیکس مانگا جاتا ہے، دو ہزار ایکڑ اراضی ہو تو کوئی بات نہیں، بجٹ میں آپ نے نوکری پیشہ لوگوں کے ٹیکس ڈبل کر دیے، آپ نے ایک لاکھ اور 75 ہزار کمانے والے کے ٹیکس ڈبل کر دیئے ہیں، یہ نظام نہیں چل سکتا اسے بدلنا ہو گا، یہ شکاری اور شکار کا نظام اب نہیں چل سکتا، آج ہم ایک اور آپریشن عزم استحکام کرنے جا رہے ہیں، ان آپریشن کی بار بار ضرورت کیوں پڑتی ہے کیونکہ آپ غربت ختم نہیں کر سکتے، بجٹ حکمرانوں کی ترجیحات کی بہتری عکاسی کرتا ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ڈبل ہو گیا ہے، پاکستان میں دہرا نظام نہیں چل سکتا، اسے ہم چلنے نہیں دیں گے، جو نیا نظام لا رہے ہیں اس میں ہر پاکستانی کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا،قائداعظم نے اس لئے پاکستان آزاد نہیں کرایا تھا کہ جہالت اور بھوک کی قید میں رہیں،

    جن کی شہرت اچھی نہیں وہ عوام پاکستان جماعت کا حصہ نہیں بن سکیں گے،شاہد خاقان عباسی
    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عوام پاکستان پارٹی میں شمولیت کیلئے صلاحیت اور اچھی شہرت ہونی چاہیے۔ جن کی شہرت اچھی نہیں وہ عوام پاکستان جماعت کا حصہ نہیں بن سکیں گے، ایسے لوگ دوسری جماعتوں کو مبارک ہوں،آج تاریکی ہی تاریکی ہے۔ اس تاریکی میں کوئی تو ملک کی بات کرنے کے لیے ہو اور وہ عوام پاکستان پارٹی ہے۔دودھ پر ٹیکس لگا کر مہنگا کرنے والے بتاٸیں کہ وہ خود اپنی اربوں روپے کی پراپرٹیوں پر کتنا ٹیکس دیتے ہیں،لوگ پوچھتے ہیں کہ اسٹیبلشمںٹ آپ کے ساتھ ہے۔ یہ پاکستان کی ناکامی کی دلیل ہے کہ آپ یہ سوچتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے بغیر سیاست نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا مستقبل آئین کے ساتھ اور پارلیمانی جمہوریت کے ساتھ جڑا ہے۔اسلام ہمارا دین اور پاکستان ہماری پہچان ہے اور عوام کی خدمت یہی ہماری آئیڈیالوجی ہے،یہ نہیں ہو سکتا کہ آئین توڑا جاتا رہے اور ملک چلتا رہے،ہم ہر قیمت پراقتدار نہیں ڈھونڈ رہے دوسری جماعتوں کو مبارک ہو،عوام پاکستان میں کچھ لینے والےنہیں دینے والے لوگ ہونگے، ہرقیمت پر اقتدار کی سیاست ہو تو اس کاحصہ رہنا مشکل ہے،جس شخص کی شہرت ٹھیک نہیں اسکی عوام پاکستان پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔ اس ملک میں صرف نیب کو علم نہیں کہ کرپٹ کون ہے، باقی سب جانتے ہیں۔

    تین چار ہفتے بعد پارٹی کانظریہ سامنے لائیں گے،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ تین چار ہفتے بعد پارٹی کانظریہ سامنے لائیں گے، ہم نے ملکی مسائل کو حل کرنا ہے بڑھانا نہیں ، کوئی چیز علیحدگی میں ٹھیک نہیں ہو سکتی ، ہم بغیر پڑھے قانون پاس کرتے ہیں ، ملک کو آئین کے مطابق چلانا پڑے گا ، ہم شخصیاتی یا خاندانی سیاست کو پروان نہیں چڑھانا چاہتے ، ہماری جماعت میں کسی شخص کو دو بار سے زائدعہدہ نہیں دیا جائے گا ، ہم نے کسی کو دعوت نہیں دی لوگ مرضی سے آئے ہیں ، ہر کوئی اپنی سوچ اور ملک کیلئےکام کرنے کیلئے آیاہے ،کیا پاکستان میں سیاسی اورمعاشی استحکام ہے؟ملک تکلیف میں ہے حکمرانوں کو پرواہ نہیں ، آج مشکلات پر بات کرنا ہی گوارہ نہیں کیا گیا ، آج سب تماشائی بنے بیٹھے ہیں ،سوچا نہیں تھا کہ پاکستان کا یہ حال ہو گا ،

    ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی اکثریت الیکشن میں ہارچکی ہے، شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ لوگ سوال کرتے ہیں نئی جماعت کی ضرورت کیوں ہے ، ایسے لوگ تو ہونے چاہیے جو اقتدار کی کرسیاں تلاش نہ کریں ،ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی اکثریت الیکشن میں ہارچکی ہے، آج لوگوں کو کرسیوں کی پرواہ ہے ملک کی نہیں ، عوام پاکستان ایک غیر روایتی جماعت ہے ،یہاں پر جماعتیں مخصوص مقاصد کیلئے بنائی جاتی ہیں ، ہماری جماعت الیکٹ ایبلز کی نہیں سوچ کی ہے ، ہم نے ملک کو نیا راستہ دینے کی کوشش کرنی ہے،ہم آئین کو ایک کاغذ کا ٹکڑ ا سمجھتے ہیں ، ملک کا وزیراعظم آرمی چیف کے تابع نہیں ہو سکتا ، ملک کا بیوروکریٹ اور جج کسی کے تابع نہیں ہو سکتا ،وزیراعظم ، آرمی چیف ، جج اور بیوروکریٹ سب آئین کے تابع ہیں ، جو کوئی آئینی عہدہ رکھتا ہے وہ ہر روز آئین توڑ رہا ہوتاہے ،ہر غیر آئینی عمل نے کرپٹ ترین سیاستدان ملک کو دئیے ہیں ، ملک میں بنائےجانے والے 95فیصد قوانین حکومت کےمفاد میں ہوتے ہیں، ملک میں بنائےجانے والے 95فیصد قوانین عوام کے مفاد میں ہی نہیں ہوتے ،ملک لوگوں سے ٹیکس اکھٹا نہیں کر سکتا ، اسمگلنگ نہیں روک سکتا ،

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    جن لوگوں میں وفا جیسی صفت نہ ہو،وہ اقدار کی سیاست کیا کریں گے؟عطاتارڑ کا عوام پاکستان پارٹی پر ردعمل
    وفاقی وزیراطلاعات ونشریات عطاتارڑ نےعوام پاکستان پارٹی پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج ارب پتی سرمایہ کاروں کا اکٹھ تھا جس میں پرانی ٹیپ چلائی گئی، آج تضادات سےبھرپور تقریریں سننے کو ملیں، تقریریں کرنے والے ماضی میں اقتدار کی کرسی سے بھرپور لطف اندوز ہوتے رہے،عوام کا سوال ہے جب کرسی پر براجمان تھے تب آپ کیوں خاموش تھے؟آج اعلانات کرنے والے اقتدار میں ہوتے ہوئے عمل کیوں نہ کرسکے،جن لوگوں میں وفا جیسی صفت نہ ہو،وہ اقدار کی سیاست کیا کریں گے؟کہتے ہیں اقتدار ہماری منزل نہیں اور ساتھ ہی اپنے آپ کو مسیحا بھی قراردیتے ہیں،

  • پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    تحریک انصاف نے ڈیجیٹل دہشت گردی کا اہتمام کیا، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام اور افراتفری پیدا کرنا تھا جسے سیاسی سرگرمی کے نام پر کیا گیا۔ جذباتی استحصال اور برین واشنگ کے ذریعے، پی ٹی آئی نے ایک سیاسی فرقہ پیدا کیا ہے ، ایک جدید قسم کی عوامیت پسندی جہاں رہنماؤں کا اپنے پیروکاروں پر اثر عقل سے بالاتر ہے۔

    پی ٹی آئی کی فرقہ پرستی کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی
    مذہبی فخر کو ابھار کر پیروکاروں میں برتری کا احساس پیدا کرنا۔
    مظلومیت کا احساس پیدا کرنا ، مظلومیت کا بیانیہ پی ٹی آئی کے حامیوں کو ایک مظلوم گروہ کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے ہمدردی اور حمایت ملتی ہے۔
    حریفوں سے تباہی یا لوٹ مار کا خوف پیدا کرنا ، جس کا مقصد عوام کا دوسرے جماعتوں پر اعتماد کم کرنا ہے۔
    پی ٹی آئی کے رہنما کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کر کے، پی ٹی آئی خود کو ملک کے مسائل کا واحد حل قرار دیتی ہے۔

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا نیٹ ورک دو اہم سیٹ اپس پر مشتمل ہے: “ایک مرکزی سیٹ اپ اور ایک پھیلاؤ (پرولیفریشن )کا سیٹ اپ جو دنیا بھر کے رضاکاروں پر مشتمل ہے” اور بیرون ملک سے مالی مدد حاصل کرتا ہے۔

    مرکزی سیٹ اپ: جبران الیاس، اظہر مشوانی، عمران لالیکا، اور سالار سلطانزی کے زیرِ قیادت
    ▪️ مقام – امریکہ
    ▪️ کام: –
    ▫️ مواد کی تخلیق / پروڈکشن۔
    ▫️ جذباتی تجزیہ۔
    ▫️ بیانیہ بنانا۔
    ▫️ جذباتی تجزیے کے مطابق کورس کی اصلاح۔

    سرکاری مواد کے تخلیق کار
    ▪️ اروبا کمال فیس بک لیڈ ہیڈ
    ▪️ اے جے شفقت کریٹو ٹیم ہیڈ

    علاقائی سربراہان
    ▪️ موسی ورک پنجاب لیڈ
    ▪️ اکرام کھٹانہ کے پی لیڈ

    پھیلاؤ کا سیٹ اپ
    ▪️ دنیا بھر کے رضاکاروں پر مشتمل
    ▪️ ایکٹیو انصافین
    ▪️ ٹیم پاکستان پاور

    بیرون ملک کے ارکان
    ▪️ احمر مراد امریکہ
    ▪️ مدیحہ حمید برطانیہ
    ▪️ کام: –
    ▫️ مرکزی سیٹ اپ سے ہدایت یافتہ مواد کو پھیلانا۔
    ▫️ ابھرتے ہوئے مواقع کا فائدہ اٹھا کر مواد بنانا۔
    ▫️ حریف مواد کو دبانا/جواب دینا۔
    ▫️ بوٹ نیٹ ورکس کا استعمال کر کے مطلوبہ رسائی/رجحانات حاصل کرنا۔

    پی ٹی آئی کی حکمت عملی کی مہم
    ▪️ ٹویٹر:* تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقے کے لوگوں کو ہدف بنانا۔
    ▪️ واٹس ایپ چینلز، فیس بک، اور انسٹاگرام: پاکستانی عوام کے مختلف طبقوں اور درمیانی طبقے کے لوگوں کو ہدف بنانا۔
    ▪️ ٹک ٹاک: نچلے متوسط ​​طبقے کو متاثر کرنے کے لئے حکمت عملی کے تحت استعمال کرنا۔

    اے آئی ذرائع/حکمت عملی برائے بڑے پیمانے پر حمایت حاصل کرنا
    ریلیاں : ایکس (ٹویٹر اسپیس) اور ٹک ٹاک (لائیو اسٹریمنگ) جیسے پلیٹ فارمز پر۔
    جنریٹیو اے آئی: عمران خان کے پیغامات کو مصنوعی آوازوں کے ذریعے پھیلانا۔
    ویب سائٹس اور چیٹ بوٹس: خان کے فیس بک پیج پر قائم کیے گئے۔
    آن لائن سروے اور پولز : ڈیٹا جمع کرنے کے لئے کئے گئے۔
    ذاتی ایس ایم ایس مہمات: قومی اداروں کو کمزور کرنے والی ضد ریاستی بیان بازی کو پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے بیرونی تعلقات
    پاکستان اور اس کے اداروں کو نشانہ بنانے والی سوشل میڈیا مہم کو پی ٹی آئی اور بھارت کے مفادات کے درمیان تعاون کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ٹویٹر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق پی ٹی آئی نے "امپورٹڈ حکومت” مہم کو ایک دن میں 924 اکاؤنٹس کے ذریعے شروع کیا، جن میں سے صرف 177 انسانی طور پر منظم تھے اور 532 جعلی اکاؤنٹس تھے۔ 2022 کی ایک تحقیقات نے مزید انکشاف کیا کہ 529 پاکستانی اکاؤنٹس، 18 بھارتی اکاؤنٹس، اور 33 دیگر ممالک کے اکاؤنٹس شامل تھے۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلقات
    را، سی آئی اے، صہیونی لابی، اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں جیسے ٹی ٹی پی اس مواد کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گزشتہ سال 9 مئی کے فسادات میں، ٹی ٹی پی کے کلیدی کمانڈر سربخاف محمند نے پی ٹی آئی کی ملک گیر احتجاج کی تائید کی۔ محمد اقبال، جو مولانا صوفی محمد کے سابق ترجمان تھے، کی پی ٹی آئی کے ساتھ شمولیت اس ہم آہنگی کی مثال ہے۔

    مالی معاونت اور بیرونی مداخلت
    پی ٹی آئی کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو غیر ملکی اداروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے، جس میں سی آئی اے، صہیونی لابی، را، اور دیگر دشمن انٹیلی جنس ایجنسیز شامل ہیں ۔ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ ​​کے ذریعے پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف قابلِ ذکر لابنگ کر رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کا بھی دعویٰ ہے کہ انہیں امریکی ایوان نمائندگان میں بھارت اور اسرائیلی ذرائع کے ذریعے پاکستان کے خلاف قراردادیں جمع کرانے کے ثبوت ملے ہیں ۔ عاطف خان (امریکہ): انکشاف کیا کہ پارٹی نے فروری 2023 میں ایک پی آر فرم کے ساتھ تین ماہ کا معاہدہ کیا ہے۔ رابرٹ لارینٹ گرینیئر (2021) : پی ٹی آئی نے پہلے اسلام آباد میں سابق سی آئی اے اسٹیشن چیف رابرٹ لارینٹ گرینیئر کی خدمات حاصل کی تھیں۔

    ▪️ فینٹن/آرلوک (اپریل 2022): پی ٹی آئی نے اپریل 2022 میں ایک اور لابنگ فرم، فینٹن/آرلوک کو 25,000 ڈالر ماہانہ کے حساب سے عوامی تعلقات کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے مشغول کیا۔
    ▪️ پرائیہ کنسلٹنٹس ایل ایل سی (فروری 2023) : فروری 2023 میں، پی ٹی آئی نے اپنے لابنگ کوششوں کو وسعت دی اور واشنگٹن کی ایک فرم، پرائیہ کنسلٹنٹس ایل ایل سی کو 8,333.00 ڈالر ماہانہ کے حساب سے چھ ماہ کے لئے ہائر کیا۔

    عمران خان حقیقی قوتوں سے بے خبر ہیں جب کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں، جنہیں دشمن ایجنسیز کے ایجنڈے سے تقویت ملتی ہے۔ جب پاکستان ان چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ بیرونی اثرات کو پہچانا اور ان کا مقابلہ کیا جائے ۔

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

  • پیپلز پارٹی بھی اے پی سی میں شرکت کرے گی، بلاول

    پیپلز پارٹی بھی اے پی سی میں شرکت کرے گی، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ ایسے منصوبے ہیں جب کی تعریف کرنا چاہوں گا ، کچھ ایسے منصوبے ہیں جن پر عملدر آمد ہوا تو بلوچستان کی خدمت ہوگی ، اسکالر شپ سے متعلق وزیر اعلٰی بلوچستان کا منصوبہ بہترین ہے

    کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا دورہ انتہائی مفید رہا،صحت کے شعبے میں پیپلزپارٹی نے سندھ میں بہت کام کیا ہے،خواہش ہے کوئٹہ میں این آئی سی وی ڈی جیسا ادارہ بنے، بلوچستان کے نوجوانوں کی اسکالر شپ میں اضافہ کیا جائے گا، روٹی، کپڑا اور مکان پیپلزپارٹی کا فلسفہ ہے،
    کوشش کریں گے پنگ بس سروس کوئٹہ میں شروع کریں اور مزید پھیلائیں ،معاشی بحران سے ہر پاکستان کا مسئلہ مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری ہے ، حکومت کی جانب سے سولرائزیشن میں سپورٹ فراہم کریں گے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سولر پارک بنا کر عوام کو بجلی فراہم کرینگے،بلوچستان میں بھی خواتین کو بلا سود قرض دلوائیں گے، بلوجستان کے10اضلاع میں ریکسیو 1122کی سہولت شروع کر رہے ہیں،گمبٹ کے اسپتال جیسا اسپتال نصیر آباد میں بنانے کا ارادہ ہے جسے بعد میں یونیورسٹی میں بدل دیا جاۓ گا۔

    بلاول زرداری کامزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے امن ومان سے متعلق اے پی سی بھی بلائی ہے ، پیپلزپارٹی اے پی سی میں شرکت کرے گی .ہم سے بجٹ پر مشاورت کی جاتی تو اچھے مشورے دیتے ، امید ہے اگلے پی ایس ڈی پی میں ہم سے ضرور مشاورت ہوگی ،غریب طبقے پر اس بجٹ میں زیادہ ٹیکسز لگے ہیں، جو ٹیکس سلیب دی گئی ہے اس میں غریبوں پر مزید ٹیکس لگادئیے گئے ہیں، ہم کہتے ہیں غریبوں پر اس قسم کے ٹیکس نہیں لگنے چاہئیں،

    بلاول بھٹو زرداری سے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے ملاقات
    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے میں شرکت کی، بلاول بھٹو زرداری نے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے ملاقات کی، بلوچستان کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا،ظہرانے میں بلوچستان کے گورنر جعفر خان مندوخیل، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، اے این پی کے پارلیمانی سربراہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے شرکت کی، ظہرانے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، مسلم لیگ ن کے رہنما اور صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبدالرحمان کیتھران نے شرکت کی، ظہرانے میں پاکستان پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین اسمبلی نے شرکت کی.

    بلاول کی وزیراعلی بلوچستان کو تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کی ہدایت
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سینیٹر بلال مندوخیل کی سربراہی میں بلوچستان کی کاروباری برادری کے افراد کی ملاقات ہوئی ہے، بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان اور پی پی پی بلوچستان کے صدر موجود تھے، بلاول بھٹو زرداری زرداری کو بلوچستان کی تاجر برادری نے صوبے میں کاروباری افراد کو پیش آنے والے مسائل سے آگاہ کیا، بلاول بھٹو زرداری اور بلوچستان کی تاجر برادری کے درمیان صوبے میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے امکانات پر بات چیت کی گئی، بلاول بھٹو زرداری اور بلوچستان کی تاجر برادری کے درمیان معدنیات کی برآمدات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان کو تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی، بلاول بھٹو زرداری سے کوئٹہ چیمبر آف اسمال انڈسٹریز کے صدر ولی محمد اور پاک ایران چیمبر آف کامرس کے نائب صدر اسد خان نورزئی کی ملاقات ہوئی، ژوب چیمبر آف کامرس کے صدر امیر احمد اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے نائب صدر احد آغا کی ملاقات ہوئی،کوئٹہ چیمبر آف اسمال انڈسٹریز کے سابق صدر ڈاکٹر ارشاد علی شاہ، نائب صدر نوید یوسف راجپوت، سیکریٹری منظور احمد، ایگزیکٹو اراکین عطاءاللہ مینگل اور دوست محمد آغا سے ملاقات ہوئی،

    بلاول سے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ 10 پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کی ملاقات
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ 10 پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کی ملاقات ہوئی، بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ عائشہ غضنفر، دوسری پوزیشن ہولڈر سعدیہ طاہر کامران اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبہ سیدہ سمرین آغا کو شاباش دی،بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی و دیگر موجود تھے، بلاول بھٹو زرداری نے پوزیشن ہولڈر عطاءاللہ، یاسمین بی بی، فاطمہ محبوب، قیام الدین، زبیدہ بی بی، عتیقہ نیاز، ثنااللہ، عتیقہ خان، خانسہ کاکڑ، اسفندیارخان، کرشمہ دیوی اور مبشر احمد کو بھی سراہا، بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان انٹرمیڈیٹ بورڈ میں ٹاپ 10 پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں الیکٹرک بائیکس تقسیم کیں.

    بلاول بھٹو زرداری سے پیپلز لائرز فورم کے وفد کی ملاقات
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پیپلز لائرز فورم کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے، بلاول بھٹو زرداری کو پیپلزلائرز فورم کے وفد نے وکلاء کے مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان کو ترجیحی بنیادوں پر وکلاء کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی، بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وزیراعلی بلوچستان، پی پی پی بلوچستان کے صدر اور سیکریٹری اطلاعات ودیگر موجودتھے، پیپلز لائرز فورم کے وفد میں صدر بہرام ترین، جنرل سیکریٹری علی اصغر اور سیکریٹری اطلاعات عبدالرحیم کاکڑ شامل تھے، پیپلز لائرز فورم کے وفد میں مبشر ابابکی، زین الدین کاکڑ، سید سلطان شاہ، ناصر حسین جمالی، عندلیب قیصرانی، سید ظہور آغا، ملک تنویر اسلم شاہوانی، جمال شاہ اور نعیم کولاچی شامل تھے،

    بلاول بھٹو زرداری سے مزدور رہنماؤں کے وفد کی ملاقات
    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مزدور رہنماؤں کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے،بلاول بھٹو زرداری کو بلوچستان کے مزدوروں بالخصوص کان کنوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی بلوچستان کو مزدوروں کے مسائل کے براہ راست حل کے حوالے سے میکنزم تشکیل دینے کی ہدایت کی، بلوچستان کے مزدور رہنماؤں کے وفد کی سربراہی مرکزی جوائنٹ صدر آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اینڈ واپڈا لیبر یونین حاجی رمضان اچکزئی نے کی، بلوچستان کے مزدور رہنماؤں کے وفد میں محمد یار علیزئی، باقی لہڑی اور محمد قاسم شامل تھے،

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

  • پاکستانی عوام کے پیسوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں  کو معاف نہیں کیا جائے گا،وزیراعظم

    پاکستانی عوام کے پیسوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا ایف بی آر کی اصلاحات پر اعلی سطحی جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس کو ایف بی آر کی اصلاحات اور ڈیجیٹائیزیشن کے عمل پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایات پر عمل تیزی سے جاری ہے. ایف بی آر کے موجودہ نظام اور افرادی قوت کے حوالے سے جائزہ اپنے حتمی مراحل میں ہے. اجلاس کو ابتدائی اقدامات کے نتائج کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قریباً 4 ہزار کمپنیوں کی جانب سے جعلی اور اندر انوائس والے سلیز ٹیکس ریفنڈز کی نشاندہی کرکے انہیں روکا جا چکا ہے جبکہ 45 لاکھ کے قریب ایسے افراد کی نشاندہی کی جا چکی ہے جو ٹیکس دینے کی استعداد رکھتے ہیں مگر ٹیکس میں نہیں ہیں.

    45 لاکھ کے قریب افراد کی نشاندہی جو ٹیکس دینے کی استعداد رکھتے ہیں مگر ٹیکس میں نہیں
    وزیرِ اعظم نے ایف بی آر کی ڈیجیٹائیزیشن اور اصلاحات کے حوالے سے معینہ اہداف کے ساتھ جامع لائحہ عمل آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا.اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے کورڈینیٹر رانا احسان افضل، چیئرمین ایف بی آر، پاکستان بزنس کونسل کے سی ای او احسان ملک، کارنداز کے سی ای او وقاص الحسن اور متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر شمشاد اختر، نوید اندرابی، آصف پیر اور علی ملک نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ نان فائلر جو ٹیکس دینے کی استعداد رکھتے ہیں اور گوشوارے جمع نہیں کرواتے انہیں فوری طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے.وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کسٹمز اپریزرز کا صوابدیدی اختیار فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کی ،وزیرِ اعظم نے چیئرمین ایف بی آر کو آئندہ چوبیس گھنٹے میں ان ہدایات کے نفاذ کو یقینی بنا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی

    چند ہفتوں میں 3 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نے اپنے گواشورے جمع کروائے
    اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ایف بی آر کے جاری ڈیجیٹائیزیشن کے عمل اور اصلاحات پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ چند ہفتوں میں 3 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نے اپنے گواشورے جمع کروائے. گزشتہ دو ہفتوں میں انڈر انوائسنگ اور جعلی سیلز ٹیکس ریفنڈز کرنے والی 4 ہزار کمپنیوں کی نشاندہی کرکے ریفنڈز روکے جاچکے ہیں.

    ٹیکس کے حوالے سے عالمی سطح پر رائج بہترین نظام کو پاکستان میں نافذ کیا جائے گا،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ٹیکس چوری میں ملوث لوگوں کے ساتھ ساتھ اس جرم میں ان کا ساتھ دینے والے افسران و اہلکاروں کو بھی سزا دی جائے گی. پاکستانی عوام کے پیسوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں اور انکا ساتھ دینے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا. ایسے ٹیکس دہندگان جو بروقت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں انکی اس امر کیلئے پزیرائی کی جائے گی. بندرگاہوں پر جدید اور بین الاقوامی معیار کے اسکینرز لگائے جائیں جس سے نظام میں شفافیت اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا. ٹیکس چوری کا تخمینہ اور اسکی روک تھام کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے. اربوں روپے کی ٹیکس چوری کو روکنے کیلئے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹائیزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے. ٹیکس نظام کی ڈیجیٹائیزیشن اور اصلاحات کے نفاذ پر پیش رفت کی نگرانی کیلئے فوری طور پر ایک ڈیش بورڈ بنایا جائے.ٹیکس کے حوالے سے عالمی سطح پر رائج بہترین نظام کو پاکستان میں نافذ کیا جائے گا. ٹیکس پالیسی کی تشکیل کیلئے پیشہ ورانہ طور پر اچھی شہرت کے حامل افسران اور ماہرین کی تعیناتی کی جائے.

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

  • جعلی ڈگری،جسٹس طارق  جہانگیری کے خلاف  ریفرنس دائر

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کی وجہ سے سپریم جوڈیشیل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا

    جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ ریفرنس دائر کرنیوالے شہری کا موقف ہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہے ،جامعہ کراچی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی توثیق نہیں کی، جسٹس طارق محمود جہانگیری کے رول نمبر میں بھی تضاد ہے، جسٹس طارق محمود کا رول نمبر ریکارڈ کے مطابق امتیاز احمد کا تھا، جسٹس طارق جہانگیری نے ایل ایل بی کا پہلا حصہ جس رول نمبر سے مکمل کیا وہ امتیاز احمد کو جاری ہوا تھا،درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی کہ جسٹس طارق محمد جہانگیری کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، یونیورسٹی کسی بھی طالبعلم کو ایک ہی رجسٹریشن نمبر جاری کرتی ہے دو نہیں،جج کے معزز عہدے کے لئے قانون کی ڈگری بنیادی ضرورت ہے تا ہم جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہے،یہ دھوکہ دہی ہے، اور گھناؤنا جرم ہے، حقائق اور معلومات سامنے آنے کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیر ی کے خلاف کاروائی کی جائے،جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 کی شق 5 کی ذیلی شق (b) کے مطابق آزادانہ تفصیلی انکوائری شروع کی جائے۔ ان کے عہدے سے ہٹا یا جائے کیونکہ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 209 کی شق (6) کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی تھی۔ طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کی بنیاد پر فوجداری کارروائی شروع کی جائے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج طارق محمود جہانگیری کی ڈگری مبینہ طو ر پر جعلی نکلی،کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری (اسلام آباد ہائی کورٹ) کی ایل ایل بھی کی ڈگری کو جعلی قرار دیا۔ کراچی یونیورسٹی کے مطابق داخلہ کسی اور نام (امتیاز احمد) سے ہوا اور ریزلٹ طارق جہانگیری کے نام سے جاری ہوا۔ڈگری جعلی ہونےکا انکشاف جامعہ کراچی نےاپنے خطوط میں کیا،طارق محمود جہانگیری نے 1991 میں گورنمنٹ اسلامیہ لا کالج کے ذریعے جامعہ کراچی سے ایل ایل بھی کی ڈگری حاصل کی،ڈگری 2 مختلف انرولمنٹ نمبروں کے ذریعے لی گئی،1989 میں انرولمنٹ نمبر اے آئی ایل 5968 بنام طارق طارق جہانگیری ولد محمد اکرم کی نام سے ایل ایل بی پارٹ ون پاس کیا،1991 میں انرولمنٹ نمبر اے آئی ایل 7124/87 بنام طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم کے نام سے ایل ایل بھی پارٹ 2 پاس کیا،جامعہ کراچی کے ریکارڈ کے مطابق انرولمنٹ نمبر اے آئی ایل 5968 امتیاز احمد ولد محمد الہیٰ کو جاری ہواتھا،جامعہ کراچی کے ریکارڈ ٹیبولیشن کے مطابق انرولمنٹ نمبر 5968 اور 7124 طارق محمود اور طارق جہانگیری کے نام سے استعمال ہوا،جامعہ کراچی کو 23 مئی 2024 کوطارق محمود 2 مختلف انرولمنٹ نمبروں سے ایل ایل بی کی ڈگری کی تصدیق کیلئے درخواست موصول ہوئی،جامعہ کراچی کی جانب سے 4 جون 2024 کو انرولمنٹ نمبر5968 دراصل امیتاز احمد کاہے،پارٹ ون کی مارک شیٹ میں رول نمبر 4069 طارق جہانگیر کے نام پر جاری ہوا،ایل ایل بی پارٹ 2 انرولمنٹ نمر 7142 اور رول نمبر 22857 طارق محمود کو جاری ہوا،جامعہ کراچی کے اعلیٰ ذرائع نے اپنے تمام خطوط کی تصدیق کی ہے،جامعہ کراچی کسی بھی طالبعلم کوڈگری کیلئے ایک ہی انرولمنٹ نمبر جاری کرتی ہے۔

  • اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے گھٹنے ٹیک دیئے، حکومت کے ساتھ بیٹھے کا اعلان کر دیا، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد جیل میں قید عمران خان نے بھی لچک کا مظاہرہ کیا، حکومت کی جانب سے بلائی گئی اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ کر لیا.

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں گفتگو کی ہے،عمران خان نے وزیراعظم کی بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی وزیراعظم کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گی، یہ ملکی ایشو ہے،ملک کی خاطرہم اے پی سی میں شرکت کریں گے،ہماری پارٹی حکومت کا موقف سننے کیلئے اے پی سی میں جائے گی،وقت کے یزید کی کبھی غلامی نہیں کروں گا،جیل میں مرنے کے لئے تیار ہوں، جب تک زندہ ہوں لڑوں گا، مریم نواز،نواز شریف ،خواجہ اصف کے بیانات کی ویڈیوز موجود ہیں، کے پی حکومت کو کہوں گا انکی ویڈیوز نکال کر ان پر خیبر پختونخوامیں ایف آئی آرز درج کریں،جب تک افغانستان سے تعلقات بہتر نہیں ہوتے ہم ٹی ٹی پی سے نہیں جیت سکتے،آپ طالبان کے خلاف آپریشن کریں گے وہ بھاگ کر افغانستان کے اندر چلے جائیں گے، جب تک آپ کو افغانستان سے تعاون نہیں ملے گا آپ اس آپریشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے،بلاول بھٹو اور ہمارا وزیر خارجہ افغانستان کیوں نہیں گیا؟ جب تک افغان حکومت ساتھ نہ دے طویل بارڈر پر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں، ہمارے دور میں این ڈی ایس اور غنی حکومت آپس میں ملے تھے، میں اس کے باوجود افغانستان گیا اور بات چیت کی،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت کیسز کی سماعت کے دوران پسند نا پسند نہیں ہونی چاہئے، پی ٹی آئی اور میرے مقدمات کے ہر بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیسے آجاتے ہیں؟ میرے وکلا نے قاضی فائز عیسیٰ کی ہر بینچ میں موجودگی پر اعتراض کیا ہے، اب ہمیں شک ہے کہ ہمیں انصاف نہیں ملنا،جسٹس گلزار کے پانچ رکنی بینچ نے بھی کہا تھا کہ قاضی فائز عیسی ہمارے کیس نہیں سن سکتے ،ہمارے وکلا کا خیال ہے کہ ہمیں انصاف نہیں ملے گا اس لیے ہمارے کیسز کسی اور کو سننے چاہیے

    عمران خان کی بھوک ہڑتال کی دھمکی
    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران بھوک ہڑتال کی دھمکی بھی دی، عمران خان کا کہنا تھا کہ جیل میں میرے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، کل پارٹی کے لوگ ملنے آئے لیکن ملاقات نہیں کروانے دی گئی، انہیں واپس بھیج دیا گیا،عمران خان کا کہنا تھا کہ مشاورت کے بعد بھوک ہڑتال کی تاریخ دوں گا،جیل میں بیٹھے کرنل اور میجر سارا نظام چلا رہے ہیں ،کل مجھے اپنی ٹیم سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اگر ملاقات ہوتی تو میں ان کے اختلافات ختم کروا دیتا ،سپرٹینڈنٹ نے جیل میں بیٹھے کرنل کے کہنے پر میری ٹیم سے ملاقات نہیں کروائی،میں بھوک ہڑتال کرنے کے بارے میں مشاورت کر رہا ہوں اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں بھوک ہڑتال کروں گا

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے پاکستان ہائبرڈ تھا اب اتھرٹیٹو پر چلا گیا ہے اب ملک میں ڈکٹیٹر شپ ہے ، ساری دنیا کو پتہ ہے پاکستان میں کیا ہو رہا ہے یہ کانگرس اور اقوام متحدہ کی قرارداتوں کی باتیں کرتے ہیں ،یہ کہتے ہیں ہم افغانستان پر حملہ کر دیں گے جبکہ ان کے کرنل اور میجر یہاں جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں ،سپرٹینڈنٹ جیل ان کی نوکری کر رہا ہے یہ جب کہتے ہیں وہ میری میٹنگ کینسل کر دیتا ہے ،یہ پاگل ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ میری پارٹی کمزور ہوگی انہیں پتہ ہی نہیں جس پارٹی کا ووٹ بینک ہو وہ کمزور نہیں ہوتی ،ن لیگ اور پیپلز پارٹی
    کے ساتھ وہ ہو گیا ہے جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیے ،میں جیل سے پارٹی قائدین کو پیغام دے رہا ہوں کہ اپنے اختلافات عوام میں لے کر نہ جائیں،اگر آپ اختلافات عوام میں لے کر جائیں گے تو آپ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جائیں گے ،ایس ائی ایف سی ملک ٹھیک نہیں کر سکتی ملک کے مسائل کا حل صاف شفاف انتخابات میں ہے ،برصغیر میں 1990 تک پاکستان سب سے آگے تھا لیکن آج سب پاکستان سے آے ہیں اور ہمارا ملک میانمار کی طرف بڑھ رہا ہے،موجودہ بحران سے صرف وہ پارٹی ملک کو نکال سکتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو ،ملک میں ایلیٹ کا بجٹ اگیا ہے لوگ پٹ گئے ہیں ملک کو صرف ایلیٹ کنٹرول کر رہی ہے ،صدر کا کیا کام ہے کہ وہ صدر ہاؤس کے اخراجات بڑھا دے بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے ،

    صحافی نے سوال کیا کہ عام تاثر ہے کہ اپ کے پارٹی قائدین نے عہدے حاصل کر لیے لیکن اپ کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہے،جس پر عمران خان نے کہا کہ میرے حوالے سے قومی اسمبلی میں عمر ایوب، سینٹ میں شبلی فراز سمیت علی امین گنڈا پور بڑے تگڑے بولے اور کوشش کی،مذاکرات اور بات چیت کا وقت آٹھ فروری کو گزر گیا ہے ،اوپر بیٹھے طاقتور یہ چاہتے تھے کہ میں گارنٹی دوں کہ اقتدار میں ا کر ان پر ہاتھ نہیں ڈالوں گا،،مذاکرات تب ہوتے ہیں جب کسی مسئلے کا حل نکلے ہم شہباز شریف سے مذاکرات کریں گے ان کی حکومت چلی جائے گی،پورا ملک کہہ رہا ہے کہ سب سے بڑا فراڈ الیکشن کروایا گیا لیکن چیف جسٹس فائز عیسی الیکشن کمیشن کی تعریف کر رہے ہیں،جس الیکشن کمیشن نے ملک کا سب سے فراڈ الیکشن کرایا ہمیں انصاف کے لیے اسی کے پاس بھیجا جا رہا ہے ،اگر اس فراڈ الیکشن کی تحقیقات ہو جاتی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6لگ جائے گا،جیل والے پریشان ہیں کہ مجھے حمود الرحمن رپورٹ اڈیالہ جیل کے اندر کیسے مل گئی وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں ،ایک سال ہونے والا ہے مجھے چکی میں ٹھہرایا ہوا ہے سخت گرمی کے باوجود میں اس کی شکایت نہیں کروں گا

    عمران خان کیخلاف اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 10جولائی تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے آئندہ سماعت پر سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان،پرویز خٹک،زبیدہ جلال اور بنی گالہ کے پٹواری عباس کوطلب کر لیا، سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت پیش کیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ و زیراعظم شہباز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا فیصلہ کیا ہے ،اے پی سی میں وزیراعظم شہباز شریف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے، مشاورت کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کو آپریشن عزم استحکام پر اعتماد میں لیں گے۔

    گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں انسداد دہشتگردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی۔نیشنل ایکشن پلان سے متعلق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک تھے۔پاکستان تحریک انصاف نے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کی ہے اور ایوان سے منظور کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام نے بھی آپریشن کی مخالفت کی۔بعدازاں وزیراعظم آفس نے عزم استحکام آپریشن کے حوالے سے وضاحت کی کہ بڑے پیمانے پر کسی فوجی آپریشن پرغور نہیں کیا جا رہا ہے جہاں آبادی کی نقل مکانی کی ضرورت ہوگی اور عزمِ استحکام کا مقصد پہلے سے جاری انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسلح کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقما ن نے کہا ہے کہ ایک طرف امریکہ ہو یا یو این ورکنگ گروپ کا مطالبہ کپتان کے لیے اچھی خبریں آرہی ہیں ۔ مگر دوسری جانب پی ٹی آئی میں لوگ لڑ لڑ پاگل ہورہے ہیں بلکہ یوں کہا جا ئے کہ ۔ایٹ کتے کی لڑائی جاری ہے ۔ویسے اس میں لڑائی میں کتے کا تو مجھے پتہ ہے ایٹ کا آپ نے پتہ کرنا ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلے خوش خبریوں پر بات کر لیتے ہیں ۔ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ بھی عمران خان کے حق میں کھول کر سامنے آگیا ہے یار دوست اس کو پی ٹی آئی کی خوش قسمتی قرار دے رہے ہیں حالانکہ میری نظر میں عمران کےا چھے رابطوں سمیت ان کی پہنچ کہاں کہاں تک ہے ۔ اس کی زندہ مثال ہے ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ پاکستان کے چہرے پر کالک تھوپنے کے اس منصوبے میں پی۔ٹی۔آئی کو بھارت، امریکہ اور اسرائیل کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔ ایک چیز میں پہلے بتا دوں کہ میں موجودہ حکومت کا حمایتی نہیں ہوں۔ پر نواز شریف کے برعکس، سی پیک اور بی۔آر۔آئی کو عمران خان نے سرد خانے میں ڈال کر چین دشمن طاقتوں کے دل میں نرم گوشہ پہلے ہی بنا رکھا ہے۔ جبکہ زلفی بخاری اور شہباز گل تو چین دشمنی کے سرخیل ہیں ۔ پی ٹی آءی کی حکومت میں ان کے چین میں کسی وفود کے ساتھ جانے پر بھی پابندی تھی ۔ اور یہ پابندی چین کی جانب سے تھی ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹوری کی طرف واپس آئیں تو بتایا جا رہا ہے کہ یو این ورکنگ گروپ کا یہ بیان ذلفی بخاری کی کارکردگی کی وجہ ہے جو انھوں نے نامور لا فرم کے ذریعے اقوام متحدہ میں پٹیشن دائر کروائی اور اس کے بعد کا رزلٹ آپکے سامنے ہے ۔ جبکہ امریکہ میں جو پاکستان کے خلاف بل پاس کیا گیا اس کے پیچھے شہباز گل کے ہاتھ بتائے جاتے ہیں ۔ بہرحال وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کی گرفتاری اور مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا ہے ۔ جبکہ عون چوہدری نے تمام تانے بانے وہاں ملا دیے جو کہ اکثر عمران خا ن پر الزام لگتا رہتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سینئرزکو کہنا چاہتا ہوں ان مگرمچھوں کو بے نقاب کریں، مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آپ کے لنکس کس کےساتھ ہیں؟ آپ کون ہوتے ہیں پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے؟ یہ لوگ پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف مہم چلاتے ہيں۔ پی آر فرم حاصل کرنے کے پیسے کہاں سے آتے ہیں ؟ جہاں سے آپ کو پیسہ مل رہا ہے ایک ایک اکاؤنٹ کو عوام کے سامنے لاؤں گا، پی ٹی آئی کے لوگوں کو کہ رہا ہوں کہ آپ استعمال ہورہے ہیں، ان کو مقصد صرف اتنا ہے کہ ملک میں انتشار پھیلے آگ لگے ۔ یہ بڑے سنگین الزام ہیں اس پر تحریک انصاف کو ضرور ردعمل دینا چاہیے ۔ کیونکہ پیسے کے حوالے سے فارن فنڈنگ کیس میں پہلے بھی باتیں ہوتی رہیں کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت انڈیا اور اسرائیل سے فنڈنگ آتی رہی ہے جبکہ ان کے مخالفین یہاں تک الزام لگاتے رہے ہیں کہ شوکت خانم کے ذریعے اکٹھی کی جانی والی فنڈنگ سیاست کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے ۔ پر یہ جواب تب ہی دیا جا سکتا ہے جب پی ٹی آئی میں آپسی رسہ کشی ختم ہو ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ڈ ب و کو کوئی ٹاسک ملا ہوا ہے،کوئی بعید نہیں اس سب کے پیچھے خود عمران خان ہے، جتنا میں عمران خان کوجانتا ہوں اتنا کوئی نہیں جانتا، عمران خان نے دو گروپس کو بلایا مجھے نہیں لگتا معاملہ حل کرے گا، 22 سال جہانگیر ترین، قریشی اور علیم کی لڑائی ختم کروائی تھی، جب ایران سعودی عرب کی صلح کروانے جا رہا تھا تو میں نے کہا تھا پہلے ترین اور قریشی کی لڑائی تو ختم کر وا دو، چالاکیاں اس کی دیکھیں،جیل میں بیٹھ کر کیا کر رہا ہے،دو روز قبل تحریک انصا ف کی کور کمیٹی نے اعلان کیا تھا جو بھی پارٹی قیادت پر تنقید کرتا ہے سخت جواب دیا جائے گا، پارٹی چھوڑنے والوں کو پارٹی پر تنقید ،تبصرے کرنے کا کوئی حق نہیں، رؤف حسن پر الزام لگ رہے وہ تو خود 5 لاکھ تنخواہ لے رہے، شیر افضل مروت نے فواد کو جواب دیا اور کہا کہ ایسے بھاگ رہا تھا جیسے ہتھنی بھاگ رہی تھی، بات تو صحیح کی ہے شیر افضل مروت نے،یہ ایٹم سانگ چلتے رہیں گے، جس طرح کا یہ بندہ ہے فواد عنقریب بات گالم گلوچ تک جائے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے لیے ایک خطرہ بڑھتا دیکھ رہا ہوں کہ بجلی کے بلوں پر کچھ جماعتوں نے سیاست کرنے ٹھان لی ہے ۔ اور یہ وہ جماعتیں ہیں کہ ویسے تو یہ اتنی سیٹیں نہیں جیتیں ۔ مگر ان کے ورکرز دھرنا دینے ، جلاو گھیراو کرنے ، جلسے کرنا ، جلو س نکالنے میں بڑے تیز ہیں ۔ اور ایک بار یہ اسلام آباد پہنچ گے تو حکومت کے لیے بڑا درد سر بن جایں گے ۔ ابھی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بارہ جولائی کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی مسلم لیگ ان کا بھی اس سے ملتا جلتا اعلان میں نے سنا ہے ۔ فرض کریں اگر یہ اسلام آباد میں اچھا پاور شو کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور دوسرے مرحلے میں جے یوآی سمیت دیگر مذہبی سمیت اپوزیشن جماعتیں اس میں شمولیت کا اعلان کر دیتی ہیں ۔ تو بات بجلی کے بلوں سے سیاسی مطالبات تک بھی پہنچ سکتی ہے کیونکہ جے یو آئی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے ۔ تو اگلے دوماہ میں کب کیا ہوجاے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کےحوالے سے پالیسیز پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے،یوسف رضاگیلانی

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ پاکستان مسترد کرتا ہے، دفتر خارجہ

    امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ پاکستان مسترد کرتا ہے، دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے متعلق رپورٹ کو پاکستان مسترد کرتا ہے، ان رپورٹ کی تیاری میں شفافیت نہیں ہے۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی کے متعلق حکومت پاکستان کی جانب سے لیے گئے اقدامات کو نظر انداز کیا. اس طرح کے رپورٹ انسانی حقوق کو پروموٹ نہیں کرتے،پاکستانی شہری قانون و آئین کے تحت مذہبی آزادی سے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، یہ آزادیاں انہیں آئین و قانون کے تحت میسر ہیں، امریکی رپورٹ پر وزارت قانون و انصاف اپنا مؤقف دے چکی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے خلاف قومی اسمبلی پاس قرارداد قراداد زیر غور ہے ۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مختلف معاملات پر مسلسل رابطہ رکھتے ہیں،

    پاکستان کو افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کے سپورٹ کے متعلق تحفظات ہیں،دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تحفظات پر دوحہ میں بات چیت ہوئی ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں کے سپورٹ کے متعلق تحفظات ہیں اور اس سے افغان حکام کو آگاہ کیا گیا ہے، پاکستان میں کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کارروائی خود مختار فیصلہ ہے، وزارت داخلہ ایسی کسی کارروائی کے بارے میں بتا سکتی ہے، پاکستان افغان عبوری حکومت کیساتھ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کیلئے رابطے میں رہا ہے، ہم افغان حکام سے خطے میں امن کیلئے ان اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں

    پاکستان کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں ،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہناتھا کہ سال 2024 ایس سی او کے تعلقات کے لیے اہم ہے. پاکستان ایس سی او کی ہیڈ آف سٹیٹ کی میٹنگ کی میزبانی اس سال اکتوبر میں کرے گا، پاکستان کسی بھی بلاک کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی بلاک کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا، ہم باہمی احترام کے ساتھ تعلقات پر یقین رکھتے ہیں،پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی مثبت تعلقات ہیں گزشتہ سالوں میں باہمی تعاون میں اضافہ ہوا ہے،

    غزہ کے طالب علموں کو پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم دی جائے گی،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ غزہ کے طالب علموں کو پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم دی جائے گی۔اس سلسلے میں بیس سے تیس بیجز کومیڈیکل کی تعلیم دی جائے گی۔غزہ کے طلبہ 20 سے 30 کے بیجز میں پاکستان میں میڈیکل تعلیم مکمل کریں گے، حکومت پاکستان نے غزہ کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی، پاکستان میڈیکل و ڈینٹل کونسل نے غزہ کے طلبہ کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا،

    عمران خان نے جیل کو حجرے ،پی ٹی آئی دفتر میں تبدیل کردیا ،پرویز رشید

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

  • اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے ، وزیراعظم

    اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے ، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےشنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کے تحت خطے کے لوگوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا .

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن و سلامتی کے قیام، معاشی ترقی ،غربت کے خاتمے اور ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے ،ایس سی او فلسطین کی صورتحال پر آواز اٹھائے ،اسرائیل نے غزہ میں ظلم کے پہاڑ توڑے،فلسطین میں 37 ہزار کے قریب معصوم لوگوں کو شہید کیا جا چکا ہے جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ،اسرائیل کی جانب سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کیا گی، پاکستان فلسطین کے مسئلے کا 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی طرز پر دو ریاستی حل کا حامی ہے جس کے تحت فلسطینی ریاست کا قیام ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو

    پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ،ہر قسم کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتا ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے ، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی, چاہے وہ ریاستی دہشت گردی ہو یا کسی تنظیم یا فرد کی جانب سے، کی پر زور مذمت کرتا ہے ،اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے ، پاکستان اس سال اکتوبر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی کے لئے پر عزم ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف نے چین کو شنگھائی تعاون تنظیم کی سال 2024-2025 کی صدارت ملنے پر چینی صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی،وزیراعظم نے بیلاروس کو شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت ملنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا.

    pm shehbaz

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں سے ملاقات ہوئی ہے،وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات ہوئی ہے،وزیراعظم کی ترکیہ کے صدر عزت مآب رجب طیب اردوان ، آذر بائیجان کے صدر الہام علییوف ، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان ، کرغزستان کے صدر سدیر جاپروف سے بھی بات چیت ہوئی ہے،ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی.شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کے اختتام پر وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سمیت تنظیم کے تمام رکن ممالک کے سربراہان نے اجلاس کے اعلامیے، آؤٹ کم ڈاکیومنٹ پر دستخط کیے۔
    Astana : Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meets with President of the Republic of Belarus H.E. Aleksandr Lukashenko on the sidelines of Shanghai Cooperation Organisation Summit on 4 July 2024.

    آستانہ میں ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے وزیرِاعظم کی ملاقات
    آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے درمیان ملاقات ہوئی۔ سیاسی تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی مسائل سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہِ خیال کیا گیا۔ وزیرِاعظم نے بیلاروس کی شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت پر صدر لوکاشینکو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تنظیم مزید مضبوط ہو گی۔دونوں رہنماؤں نے گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان اور بیلاروس تعلقات کے تمام پہلوؤں میں مثبت نمو پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی فائدہ مند تعاون اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِاعظم نے بیلا روس کے صدر کو حکومت پاکستان کی برآمدات پر مبنی نمو، عوامی مالیات کی مضبوطی اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی بحالی کی پالیسی کے بارے بتایا۔دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہِ خیال کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے تحت کام کے مختلف پہلوؤں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیرِاعظم نے پرامن اور مستحکم خطے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور خواہشات کا اظہار کیا۔

    پاکستان-ترکیہ-آذربائیجان سہ فریقی سربراہی سمٹ کا افتتاحی اجلاس
    قبل ازیں قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان-ترکیہ-آذربائیجان سہ فریقی سربراہی سمٹ کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، ترکیہ کے صدر عزت مآب رجب طیب اردوان اور جمہوریہ آذربائیجان کے صدر عزت مآب الہام حیدر علییف نے شرکت کی ، وزیراعظم محمد شہبازشریف نے سربراہی اجلاس کی سطح پر پاکستان-ترکیہ-آذربائیجان سہ فریقی سمٹ کے افتتاحی اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسے تینوں برادر مسلم ممالک کے درمیان سہ فریقی تعلقات کی پیشرفت قرار دیا جو باہمی دلچسپی کے معاملات اور مسائل پر یکساں نقطہء نظر رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان آذربائیجان اور ترکیہ کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو گہری قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ گہرے ثقافتی، تاریخی اور مذہبی رشتوں کے ساتھ ساتھ بنیادی مسائل پر ایک دوسرے کے لیے باہمی احترام اور حمایت پر مبنی ہیں۔ 2017 میں باکو میں ہونے والے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے پہلے سہ فریقی اجلاس کے بعد سے سیاسی، پارلیمانی اور دفاعی شعبوں میں سہ فریقی تعاون کو سراہتے ہوئے، انہوں نے سہ فریقی تعاون کو مزید مضبوط اور کثیر جہتی بنانے کے حوالے سے ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے اقتصادی، توانائی، سیاحت، ثقافتی، تعلیمی، ٹیکنالوجی اور اختراع، صحت کی دیکھ بھال اور ماحولیاتی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے پاکستان-ترکیہ-آذربائیجان سہ فریقی اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اور خاص طور پر اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں سہ فریقی ادارہ جاتی میکانزم قائم کرنے کی تجویز دی۔ تینوں ممالک کے درمیان دوستی کے مضبوط بندھن اور عوام سے عوام کے مضبوط روابط پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ثقافت، سیاحت، اکادیمیہ کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون پر زور دیا ، پاکستان، ترکیہ اور آذر بائیجان اس سے قبل وزرائے خارجہ، پارلیمنٹ کے اسپیکروں اور دفاعی عملے کی سطح پر سہ فریقی مشاورت کر چکے ہیں-

    pm

    قبل ازیں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان کی روس کے صدر سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں پاکستان روس بین الحکومتی تعاون کا اگلا اجلاس جلد ماسکو میں بلانے پر اتفاق کیا گیا،وزیراعظم نےدونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے کثیر جہتی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مضبوط کرنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،وزیراعظم نے روسی صدر کو جلد از جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی،وزیراعظم محمد شہبازشریف اور رشین فیڈریشن کے صدر ولادیمیر وی پیوٹن کے درمیان آج آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کونسل کے اجلاس کے موقع پر پرجوش اور خوشگوار ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارتی و اقتصادی تعلقات، توانائی کے شعبے ، اہم علاقائی اور عالمی امور پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کا احاطہ کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر تبادلہء خیال کیا۔ وزیراعظم نے روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ان تعلقات کی مسلسل نمو پر اطمینان کا اظہار کیا جو کہ باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم پر مبنی ہیں۔ وزیراعظم نے تجارت، توانائی، دفاع اور سلامتی سمیت باہمی فوائد کے تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے کثیر جہتی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مضبوط کرنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں پاکستان روس بین الحکومتی تعاون کا اگلا اجلاس جلد ماسکو میں بلانے پر اتفاق کیا گیا۔

  • الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    الیکشن ٹریبونل تشکیل سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ٹریبونل تعیناتی نوٹیفیکیشن معطل

    سپریم کورٹ،الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی.

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ پر پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض کر دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس امیدالدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں،دورانِ سماعت تحریکِ انصاف کے امیدواروں کے وکیل نیاز اللّٰہ نیازی نے تشکیل شدہ بینچ پر اعتراض کر دیا،نیاز اللّٰہ نیازی نے روسٹرم پر آکر کہا کہ ہم اپنا اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں،وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہمارا کیس کو کسی اور بینچ میں بھیجا جائے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی جن کے وکیل ہیں انہوں نے فریق بننے کی استدعا کر رکھی ہے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوبھی معاونت کیلئے نوٹس جاری کیا تھا، عدالت نے فریق بننے کی استدعا منظور کر لی تھی،عدالت نے گزشتہ حکم نامہ میں دیگر صوبوں میں ٹربیونلز کی تشکیل کا ریکارڈ مانگا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بینچ میں شمولیت پر وکیل نیازاللہ نیازی نے اعتراض اٹھایا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سلمان اکرم راجہ جو کہ کیس میں مرکزی فریق ہیں، ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو بھی میری بینچ میں شمولیت پر اعتراض ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں اعتراض نہیں کیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا نیاز اللہ نیازی نے گزشتہ سماعت پر درخواست دی، ہم نے منظور کی،درخواست منظور ہونے کے بعد اعتراض عائد کردیا،کیا ہم انکا کیس پاکستان بار کونسل کو بھیج دیں؟ عدالت نے نیاز اللہ نیازی کا وکالت لائسنس سے متعلق معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجنے پر اپنی رائے محفوظ کر لی

    کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب بس بہت ہوگیا،عدالت کو پہلے ہی بہت زیادہ اسکینڈلائز کیا جاچکا ہے مزید سکینڈلائز کرنا بند کریں، بینچز اب اکیلے چیف جسٹس نہیں تین رکنی کمیٹی بناتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم یہاں اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں؟ہم یہاں اپنی بے عزتی کرانے کیلئے بیٹھے ہیں؟نیازی صاحب جب پہلے دو رکنی بینچ تھا تو آپکو اعتراض نہیں تھا اب آپکو اعتراض ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکار
    وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ صرف مجھے نہیں جو اس وقت جیل میں ہے اسے بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض ہے، الیکشن ٹریبونل کیس میں نیاز اللہ نیازی نے عمران خان کے اعتراض سے متعلق بنچ کو بتایا تو جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا لوگوں کی خواہشات پر عدالتیں نہیں چلتیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جن کی آپ بات کرہے ہیں انہوں نے جیل سے درخواست دی تھی کہ انہیں سنا جائے،عدالت نے انہیں اجازت دی اور جیل سے پیشی یقینی بنا کر انہیں سنا،اب آپ جاکر بیٹھ جائیے، ہمیں آپکو نہیں سننا،سوچیں گے کہ آپ کے خلاف ایکشن کے لئے پاکستان بار کونسل کو لکھیں یا نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اوپر پی ٹی آئی کا اعتراض مسترد کردیا، بینچ سے الگ ہونے سے انکارکر دیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اعتراض سن لیا ہے تشریف رکھیں، یہ الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس کے درمیان معاملہ ہے،کسی پرائیویٹ شخص کا اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی پرائیویٹ پارٹیز کو آپ نے فریق کیسے بنا دیا ،

    کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ کیا کوئی صدارتی آرڈیننس آیا ہے ٹریبونل کی تشکیل سے متعلق؟اٹارنی جنرل نے آرڈینینس سے متعلق تفصیلات بارے عدالت کو آگاہ کر دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈینینس میں ترمیم کی گئی ہے،بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں پہنچ چکا ہے، الیکشن ایکٹ کی سیکشن 140 کو کو اسکی اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بل اور آرڈینینس عدالت میں پیش کر دیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرڈیننس کا کا اس کیس پر اثر ہو گا،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 15 فروری کا خط جمع کرائیں وہ بہت ضروری ہے،آپ نے پینل مانگا تھا اس کا کیا مطلب ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ججز کی فہرست درکار تھی تو ویب سائٹ سے لے لیتے؟ کیا چیف جسٹس الیکشن کمیشن کی پسند نا پسند کا پابند ہے؟کیا چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا، کیا اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں بھی پینل مانگے گئے تھے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن چیف جسٹس سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کر سکتا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے اچھے طالبان اور برے طالبان کی بات ہوتی تھی اب کیا ججز بھی اچھے برے ہونگے؟

    الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے،جسٹس عقیل عباسی
    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بطور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جو نام دیے وہ قبول کر لئے گئے،پنجاب میں الیکشن کمیشن نے کیوں مسئلہ بنایا ہوا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ آپ کے نکات سے مکمل متفق ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے متفق ہونے کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن کا پہلا موقف درست نہیں تھا،کیا متفقہ طور پر ٹربیونلز کو کام جاری رکھنے اور حتمی فیصلہ نہ سنانے کا حکم دیدیں؟جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عقیل عباسی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹربیونل کے جج کا پینل مانگنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا،چیف جسٹس کو معلوم ہے کون سے جج کو کہاں لگانا ہے، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مشورہ دیا کہ آپ اب جا کر چیف جسٹس سے مشاورت کرلیں، ابھی مشاورت میں کیا رکاوٹ ہے؟

    سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کو واپس بھیجنے کا عندیہ دیدیا ! ریمار کس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ بیٹھ کر حل نکال لیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام ججز اچھے ہیں سب کا احترام کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے آپس میں لڑیں تو ملک تباہ ہوتا ہے،ججز تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کب ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتائوں گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس کو کہا جاتا کہ کن علاقوں کیلئے ججز درکار ہیں وہ فراہم کر دیتے، ملتان کیلئے جج درکار ہے وہ اس رجسٹری میں پہلے ہی جج موجود ہوگا، کیا لازمی ہے کہ ملتان کیلئے لاہور سے جج جائے جبکہ وہاں پہلے ہی جج موجود ہے،الیکشن کمیشن پینل نہیں مانگ سکتا تھا۔

    کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں دو آئینی اداروں میں لڑائی ہو، کیا آئینی اداروں میں لڑائی ملک کے مفاد میں ہے، ہم کیس زیر التوا رکھ لیتے ہیں تب تک الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ شاید حل نکال لیں،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کی لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن ٹریبیونلز کا فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ابھی معطل نہیں کرسکتے، ہم ججزآپس میں مشاورت کر لیتے ہیں، مشاورت کیلئے مختصر وقفہ لے لیتے ہیں

    دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ وکیل الیکشن کمیشن نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو لکھا 27 جون کا خط دکھایا، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چاروں ہائی کورٹس کو پہلے ٹربیونل تعیناتی کے لیے بھی خطوط لکھے، ریکارڈ کے مطابق پہلے دو ٹربیونلز لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ مل کر بنائے گئے تھے جو ناکافی تھے، اس کے بعد چھ مزید ججز کے نام بطور ٹربیونل لاہور ہائی کورٹ نے بھیجے، الیکشن کمیشن نے 6 میں سے دو ججز کو ہی ٹریبیونل تعینات کیا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا ابھی مشاورت نہیں ہوئی،الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے درمیان فیس ٹو فیس ملاقات ہوتی تو معاملہ شاید حل ہو جاتا،

    سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 26 اپریل کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ،الیکشن کمیشن نے لاہور ہاٸیکورٹ سے پینل مانگنے کا خط بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی مشاورت پر چھوڑ دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا رہے گی،اٹارنی جنرل نے بتایا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی تعییناتی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ہے، پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملاقات ممکن ہے،

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان