Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ریاست مخالف بیانیہ،عمران خان کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی منظوری

    ریاست مخالف بیانیہ،عمران خان کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی منظوری

    عمران خان کےریاست مخالف بیانیےپرپنجاب حکومت کی کارروائی کی منظوری کا معاملہ،صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    صوبائی کابینہ کی دستاویزات میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف آنے والی درخواست کو وجہ بنایا گیا،کابینہ دستاویزات کے مطابق بانی پی ٹی آئی پاکستان کو توڑنے کی منظم سازش کررہے ہیں، سیاسی مقاصد کیلئے بانی پی ٹی آئی، پی ٹی آئی ورکرز ریاست مخالف کام کر رہے ہیں،بانی پی ٹی آئی موجودہ صورتحال کو مشرقی پاکستان اور 1971 کی سیاسی صورتحال سےتشبیہ دے رہے ہیں،پی ٹی آئی لیڈر منظم سازش کے ذریعے موجودہ صورتحال کو 1971 کا ریفرنس دے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماوں کو پاکستان مخالف بیانیے کا ٹاسک سونپا،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی اڈیالہ جیل کے باہر ریاست مخالف بیان دیے،گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد مشرقی پاکستان کی بات دہرائی،بانی پی ٹی آئی اور دیگر ارکان کا عمل بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ، بانی پی ٹی آئی کےبیانات سے عوام میں منفی پروپیگنڈہ پیدا ہوا ہے،بانی پی ٹی آئی کے بیانات، میڈیا ٹاک پر کاروائیاں ہوں گی،قومی اداروں، عدلیہ، سنئیر افسران کے خلاف جھوٹے بیانات پر کیس بنیں گے،

    بانی پی ٹی آئی، پی ٹی آئی لیڈر نے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشنز کی خلاف ورزی کی، پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 121،121اے ،123اے، 131،153 کی دفعات کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے،بانی پی ٹی آئی کے جرم میں ملوث ہونے پر کابینہ نے کارروائی کی منظوری دی،پی ٹی آئی کو کریمنل لاء ایکٹ کے تحت غیرقانونی جماعت بھی قرار دیا گیا،پنجاب کابینہ نے کریمینل پروسیڈنگ کوڈ 1898 کے سیکشن196 کےتحت بانی پی ٹی آئی و پارٹی لیڈرزکے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ،ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن کمشنر آفس راولپنڈی کو کریمینل کمپلینٹ فائل کرنے کا اختیار سونپا گیا،

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات

    آستانہ: وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں دو طرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات ہیں، کئی برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، آپ کے تجربےسے مزید فائدہ اٹھا کر تجارت کو بڑھانا چاہتے ہیں، دونوں ملکوں کی باہمی تجارت ایک ارب ڈالر کے قریب ہے، پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو مستقبل میں مزید بڑھانا چاہتا ہے، آج وہ وقت ہے کہ ہم تجارت کو بڑھا کر تعلقات کو مزید مستحکم کریں،پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کسی اور ملک کی وجہ سے متاثرنہیں ہوں گے،

    دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کی بدولت دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ،روسی صدر
    روسی صدر نے وزیراعظم پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے دوبارہ مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے، دو سال پہلے ہم شنگھائی تعاون تنظیم کے ہی اجلاس کے موقع پر سمر قند میں ملے تھے؛ ہم نے دو طرفہ امور کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی تھی ،پاکستان اور روس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کی بدولت دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے ،توانائی اور زراعت کے شعبوں میں ہم اپنے تعاون کو بڑھا سکتے ہیں ،غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے .

    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچے،آستانہ کے نور سلطان نذر بائیوف بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قازقستان کے وزیرِاعظم اولہاز بیکٹونوف، قازقستان کے نائب وزیرِاعظم علی بیک بیکایوف، آستانہ شہر کے میئر زہینس قاسم بیک، قازقستان میں تعینات پاکستان کے سفیر نعمان بشیر اور دیگر سفارتی عملے نے وزیرِاعظم کا استقبال کیا۔وزیرِاعظم 3 اور 4 جولائی 2024 کو آستانہ، قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس (CHS) اور ایس سی او پلس SCO Plus کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔وزیرِاعظم سربراہی اجلاس کے موقع پر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کی کونسل کے اجلاس میں وزیرِاعظم اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے نقطہِ نظر پیش کریں گے۔ وزیرِاعظم ایس سی او پلس سمٹ سے بھی خطاب کریں گے.وزیرِاعظم اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کریں گے۔ وزیرِاعظم ایس سی او خطے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔وزیرِاعظم سربراہی اجلاس کے موقع پر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔آج پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی بات چیت کا دور کا دور ہو گا جس میں وزیرِاعظم کی شرکت بھی متوقع ہے۔وزیرِاعظم آج شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکائیوف کی جانب سے دیئے جانے والے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف سے تاجکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے چیئرمین کی ملاقات
    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے تاجکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے چیئرمین کی ملاقات ہوئی ہے،تاجکستان کی مجلس اولیٰ (تاجک پارلیمنٹ) کی مجلسی نموینداگون (ایوانِ زیریں) کے چیئرمین جناب محمد طائر زاکر زادہ نے آج دوشنبہ میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی سطح پر تعاون کے حوالے اطمینان کا اظہار کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کے لیے پہلے سے قائم پارلیمانی فرینڈشپ گروپس اور باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اراکینِ پارلیمنٹ دونوں ممالک کی عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے اراکینِ پارلیمنٹ کی مسلسل بات چیت اور روابط کی اہمیت پر زور دیا۔وزیرِاعظم نے جمہوریہ تاجکستان کے آئین کی 30 ویں سالگرہ پر چیئرمین کو مبارکباد بھی دی۔ وزیراعظم تاجکستان کے صدر عزت مآب امام علی رحمٰن کی دعوت پر تاجکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہیں۔

  • پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے  یہاں کون آئے گا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

    پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے یہاں کون آئے گا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،20 سال سے لاپتہ ایبٹ آباد کے شہری عتیق الرحمن کی بازیابی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ہاجرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جبری گمشدگی کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد کا حکم دیا جائے، عدالت نے جبری گمشدگی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے کیسز میں ہم پر بہت بوجھ ہوتا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دیگر کیسز کی بات الگ ہے لیکن ان کیسز میں یہ رویہ برداشت نہیں کرونگا، یہ کس قسم کا آپ کمیشن ہے؟ رجسٹرار جبری گمشدگی کمیشن نے کہا کہ یہ کیس سپریم کورٹ میں 2007 سے چلتا رہا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی پوزیشن دیکھنا چاہتا ہوں کہ اُنکی پوزیشن کیا ہے، کیا اُنکی یہ پوزیشن ہے کہ جنیں ہم اٹھاتے ہیں اٹھاتے رہیں گے، کیا حکومت کی یہ پوزیشن ہے کہ جو مر جاتا ہے تو مرتا رہے جو زندہ ہے وہ زندہ ہے ہم یہ کرتے رہیں گے، پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یہاں کون آئے گا؟ آپ امید کر رہے ہیں ڈالر 280 سے نیچے آئے گا، کیوں آئے گا جب یہاں یہ ہو رہا ہے، کمیشن کہتا ہے ہمارے پاس پروڈکشن آرڈرز پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں، وزیراعظم کو بتائیں کہ یا تو گمشدگی کمیشن کو ختم کر دیں یا اسے مضبوط بنائیں، کمیشن میں کوئی ایسے لوگ آئیں جو پاکستان کو بدنامی سے تو بچائیں، ججز جب قانون کے تحت کام کرتے ہیں تو ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں کہ تم نے قانون کے مطابق کیسے کام کیا،

    پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے پر کمیشن نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کیوں نہیں کی؟عدالت
    ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ پھر پریس کانفرنسز بھی ہو جاتی ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہر چیز کے لیے تیار ہیں ہم یہاں پبلک سروس کے لئے بیٹھے ہیں، جبری گمشدگی کمیشن نے کہا کہ اِس شخص کو انٹیلی جنس ایجنسی نے اٹھایا ہے،پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے پر کمیشن نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کیوں نہیں کی؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ توہین عدالت کسی انفرادی شخص کے خلاف ہوتی ہے ادارے کے خلاف نہیں ہوتی،عدالت نے استفسار کیا کہ پھر آپ آرڈر پر عمل درآمد کیسے کراتے ہیں؟ وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ جبری گمشدگی کمیشن کو بند کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

    شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تک 2200 سے زائد لوگ مسنگ پرسن ہیں جن کا کچھ نہیں پتہ

    چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5،5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا گیا

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • راولا کوٹ،فرار ہونے والے قیدی تاحال گرفتار نہ ہوسکے، ماسٹر مائنڈ غازی شہزاد

    راولا کوٹ،فرار ہونے والے قیدی تاحال گرفتار نہ ہوسکے، ماسٹر مائنڈ غازی شہزاد

    آزاد کشمیر کے شہر راولا کوٹ کی جیل سے قیدی فرار ہوئے تین رو زگزر چکے تاہم پولیس بھی تک فرار ہونے والے قیدیوں کو گرفتار نہ کر سکی،

    جیل سے قیدی بھاگنے کا منصوبہ کب سے بنا رہے تھے اور کس نے انکی مدد کی، ابھی تک کچھ معلوم نہ ہو سکا، تحقیقات جاری ہیں،راولا کوٹ جیل سے 30 جولائی کو 19 قیدی فرار ہوئے جو ابھی تک پولیس کے لئے چیلنج بنے ہوئے ہیں،حکومت نے قیدیوں کی اطلاع دینے پر انعام دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے تا ہم فرار ہونے والے قیدیوں کی کوئی خبر نہیں ہے.

    کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق اتوار کو گنتی کے عمل کے دوران قیدیوں کو بیرک میں بند کیا گیا اور اسی دوران کسی کو بھی جیل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی اسی دوران ایک حوالاتی اور سارے واقعہ کے منصوبہ ساز غازی شہزاد نے ایک گارڈ کو بہانے سے قریب بلایا اور اسے قابو میں کرکے بیرک کی چابیاں حاصل کر لیں،اسی دوران جیل کی چھت سے ایک پستول پھینکا گیا، جس کی مدد سے جیل کا تالہ توڑا گیا اور قیدی فرار ہوئے، جب قیدی بھاگے تو پولیس اور انکے مابین فائرنگ بھی ہوئی، ایک قیدی فائرنگ سے زخمی ہوا جو بعد ازاں چل بسا، اسکے قبضے سے پستول برآمد ہوا تھا، باقی قیدی فرار ہو گئے تھے.

    ڈی ایس پی راولا کوٹ سردار طارق محمود کے مطابق اطلاع ملتے ہی 10 منٹ کے اندر پولیس موقع پر پہنچی تاہم کچھ قیدی فرار ہوچکے تھے تاہم مزید قیدیوں کے فرار کی کوشش کو ناکام بنا دیا اب تک کی تفتیش کے مطابق اس منصوبے کا سرغنہ غازی شہزاد نامی ملزم تھا، دہشتگردی اور قتل کے مختلف مقدمات کا سامنا کرنے والے غازی شہزاد سمیت باقی سب کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے،غازی شہزاد کو گزشتہ سال سی ٹی ڈی نے 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا، غازی شہزاد کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے ہے، اس نے الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا تاہم ہار گیا تھا، بعد ازاں اس نے لشکر طیبہ سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی تنظیم بنالی، ریاست کی کشمیر پالیسی کے خلاف کام کرنے پر اسے حراست میں لیا گیا تھا.

    راولاکوٹ جیل سے خطرناک قیدی فرار اطلاع دینے والے کو دس کروڑ انعام
    جیل سے فرار قیدیوں کے بارے میں معلومات دینے پر حکومت نے کروڑوں روپے کے انعامات کا اعلان بھی کیا ہے،محکمہ اطلاعات آزادکشمیر کی جانب سے اس ضمن میں اشتہار جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مفرورں کی اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، انعام قیدیوں کی گرفتاری پر معاونت اور گرفتار کروانے والوں کو دیا جائے گا، فرار ہونے والوں میں سے 6 کے سر پر ایک ایک کروڑ روپے انعام رکھا گیا ہے، فرار ہونے والے ثاقب، عثمان، فیصل، ناظر، شمیر اور عامر سزائے موت کے قیدی تھے، 25 سال سزا کے 2 مفرور قیدیوں نعمان اور ثقلین پر 50،50 لاکھ انعام رکھا گیا ہے جبکہ جیل توڑ کر فرار ہونے والے دیگر 10 قیدیوں پر 30،30 لاکھ انعام رکھا گیا ہے۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    qiadi

  • پاکستان کے  جے ایف 17 طیارے نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی،امریکی دعویٰ

    پاکستان کے جے ایف 17 طیارے نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی،امریکی دعویٰ

    پاکستان کے جے ایف 17 طیارے نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی،

    بھارت نے فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارے شامل کیے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاکستانی فضائیہ بھی اپنے JF-17 ‘تھنڈر’ کو جوہری مشن کے لیے اپ گریڈ کر رہی ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے مسلسل ابہام برقرار رکھا ہے۔JF-17 لڑاکا طیارہ، جسے چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، طویل عرصے سے یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ اسے جوہری مشن سونپا گیا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک تصویر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں تیار کیے گئے لڑاکا طیارے درحقیقت ٹیکٹیکل نیوکلیئر میزائلوں سے لیس ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دیرینہ حکومتی رازداری کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا تجزیہ غیر یقینی صورتحال سے بھرا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ معلوم ہے کہ پاکستان کئی دیگر جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے ساتھ اپنی جوہری صلاحیتوں کو جدید بنا رہا ہے اور نئے ہتھیاروں کے نظام کو فیلڈ کر رہا ہے، ان منصوبوں یا اس کے ہتھیاروں کی حیثیت کے بارے میں بہت کم سرکاری معلومات جاری کی گئی ہیں۔ان بہت سے سوالات میں سے ایک جو محققین پاکستان کے جوہری صلاحیت کے حامل ہوائی جہاز اور اس سے منسلک ہوائی جہاز سے چلنے والے کروز میزائل (ALCM) کی جدید کاری سے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ یہ طویل عرصے سے فرض کیا جاتا رہا ہے کہ معراج III اور V لڑاکا بمبار دو طیارے ہیں جو پاکستان ایئر فورس (PAF) میں نیوکلیئر ڈیلیوری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ معراج V کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے جوہری کشش ثقل بموں کی محدود فراہمی میں ایک سٹرائیک رول ہے، جب کہ میراج III کو پاکستان کے دوہری صلاحیت کے حامل Ra’ad-I (Hatf-8) ALCM کے ٹیسٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    یہ خبر سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی 2024 کی سالانہ کتاب کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پہلی بار بھارت نے ایٹمی وار ہیڈز کے معاملے میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بھارت کے پاس کل 172 جوہری ہتھیار جبکہ پاکستان کے پاس 2024 تک 170 جوہری ہتھیار تھے،

    ایک امریکی تھنک ٹینک، فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس (FAS) نے 2023 میں حاصل کی گئی تصاویر کا تجزیہ کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ RAAD I، پاکستان کا واحد جوہری صلاحیت کے حامل ایئر لانچڈ کروز میزائل (ALCM) کو JF-17 کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ایئر ڈیٹرنس کا کردار اب تک معراج III/Vs نے ادا کیا ہے۔ RAAD ALCM کا پہلا تجربہ 2007 میں کیا گیا تھا اور اسے "روایتی یا جوہری” دونوں کرداروں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان اپنے پرانے معراج III اور V طیاروں کو ریٹائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور JF-17 اپنے فضائی نیوکلیئر ڈیٹرنس رول کو سنبھال لے گا۔ JF-17 کی پہلی تصویر 2023 میں یوم پاکستان پریڈ کی ریہرسل میں سامنے آئی تھی۔ FAS نے یہ معلوم کرنے کے لیے اصل تصویر خریدی کہ آیا JF-17 امیج پر تعینات راڈ واقعی جوہری صلاحیت رکھتا ہے۔

    "ان مشاہدات سے، یہ امکان ہے کہ پاکستان نے اپنے JF-17 طیاروں کو اس صلاحیت سے لیس کرنے کی طرف اہم پیش رفت کی ہے جو آخرکار معراج III/Vs کے جوہری اسٹرائیک کردار کی تکمیل اور ممکنہ طور پر جگہ لے سکتی ہے،

    JF-17 ‘تھنڈر’ نہ صرف پاکستان ایئر فورس (PAF) کا بنیادی مرکز ہے بلکہ ملک کی دفاعی برآمدی مصنوعات بھی ہے۔JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کی چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔ 2003 میں اس کی پہلی پرواز کے بعد، JF-17 ایئر فریم ابتدائی طور پر صرف چین میں تیار کیے گئے تھے۔ اس وقت پاکستان 58 فیصد طیارے بناتا ہے جبکہ باقی 42 فیصد چین میں تیار کیا جاتا ہے۔

    JF-17 تھنڈر ایک واحد انجن والا، ہلکا پھلکا، ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جس میں چینی ایئر فریم اور ویسٹرن ایونکس روسی انجن سے چلتا ہے۔ پی اے سی کامرہ نے 2009 سے اب تک تقریباً 120 JF-17 بلاک I اور II لڑاکا طیارے پی اے ایف کو فراہم کیے ہیں۔

  • وزیرِ اعظم   کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم کا مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مون سون سے پیدا ہونے والی متوقع سیلابی صورتحال کی خود نگرانی کا فیصلہ کیا ہے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مون سون کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کر دی،وزیرِ اعظم نے مون سون کے حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم کر دی.وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے تمام صوبائی حکومتوں و متعلقہ اداروں کی مون سون کے حوالے سے معاونت کرے. ہنگامی صورتحال میں متوقع طور پر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کی فراہمی یقینی بنائی جائے. کسانوں اور دریاؤں و ندی نالوں کے گردونواح کے لوگوں کو روزانہ کی بنیادوں پر میڈیا و دیگر ذرائع سے پیشگی اطلاعات دی جائیں.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مون سون کی پیش گوئی اور اس سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں این ڈی ایم کی جانب سے مون سون کی اب تک کی پیش گوئی اور متوقع خطرے سے دوچار علاقوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. جس میں بتایا گیا کہ جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں چاروں صوبوں میں مون سون کی شدید بارشیں متوقع ہیں،رواں برس مون سون بارشوں کا سلسلہ پاکستان میں جنوب مشرق سے ہوتا ہوا شمال کی جانب بڑھے گا. جولائی کے پہلے ہفتے میں پوٹھوہار اور پنجاب کے مشرقی حصے میں بارشیں متوقع ہیں. جولائی کے دوسرے ہفتے میں راولپنڈی، سرگودھا، گجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں موسلادھار جبکہ بہاولپور، ملتان، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں کہیں کہیں بارشوں کا امکان ہے. اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ستلج، چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال متوقع ہے.ان دریاؤں کے گرد و نواح میں آبادیوں کو نہ صرف پیشگی اطلاعات اور نقل مکانی کیلئے تیاریاں مکمل ہیں بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری کی جا چکی ہے. سندھ میں جولائی کے دوسرے اور چوتھے ہفتے میں کراچی، میر پور خاص، نواب شاہ، سکھر و حیدرآباد میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں. تھر پارکر، بدین ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں اگست کے تیسرے ہفتے بھی مون سون بارشوں کی توقع ہے. خیبر پختونخوا میں جولائی میں ہزارہ، مالاکنڈ، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ اگست کے تیسرے ہفتے تک متحرک رہنے کا امکان ہے.بلوچستان میں جولائی کے دوسرے، چوتھے اور اگست کے پہلے دو ہفتوں میں ساحلی و سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا امکان ہے. اگست کے تیسرے ہفتے میں لسبیلہ، ارماڑہ، خضدار، بارکھان، سبی اور ژوب میں بڑے پیمانے پر بارشوں کا امکان ہے.گلگت بلتستان میں جولائی میں جزوی بارشیں جبکہ اگست کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر بارشوں کی توقع ہے جس میں سکردو، ہنزہ، چلاس اور غزر میں بارشوں کا امکان ہے. آزاد کمشیر میں جولائی کے پہلے تین ہفتوں میں بڑے پیمانے پر موسلادھار بارشوں اور لینڈ سلائیدنگ کا خطرہ ہے.

    اجلاس کو ستلج اور چناب کے کناروں پر آبادیوں کے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور ریلیف کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ پورے ملک میں کشتیوں، خیموں، نکاسی آب کیلئے پمپس، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ رکھا گیا ہے.مون سون کے حوالے سے تیاری رواں برس جنوری جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشقیں مارچ سے جاری ہیں. ریسکیو اداروں، پی ڈی ایم ایز، افواج پاکستان کے دستوں اور این ڈی ایم اے مسلسل متوقع طور پر متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ پر ہیں.مون سون الرٹ اور موسم کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پیشگی اطلاعات کیلئے این ڈی ایم اے نے ایک موبائل ایپ متعارف کرائی ہے جو لوگوں کے استعمال میں ہے. مون سون میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی مون سون کنٹنجینسی پلان مرتب کرکے متعلقہ اداروں و صوبائی حکومتوں کو بھیجا جا چکا ہے.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مون سون کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کو قومی نشریات کا حصہ بنایا جائے.کسانوں کو باقاعدگی کے ساتھ موسم کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے. کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کسانوں کی بھرپور معاونت کی جائے.

    اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹیرز نے اپنے صوبوں میں مون سون اور اس حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل پر بریفنگ دی. اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، رانا تنویر حسین، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز ویڈیو لنگ کی ذریعے شریک تھے.

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں بارے کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ ، سُنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بنچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ وکیل مخدوم علی خان نے بتایا آئین کے مطابق سیٹیں سیاسی جماعتوں کو ملیں گی نہ کہ آزاد امیدواروں کو، سیاسی جماعتیں تب مخصوص نشستوں کی اہل ہوں گی جب کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہوگی ،میرے پاس ریکارڈ آگیا ہے، 2002 اور 2018 میں مخصوص نشستوں سے متعلق بھی ریکارڈ ہے،2002 کی قومی اسمبلی میں 14آزاد اراکین تھے، 14آزاد اراکین کو نکال کر باقی مخصوص نشستوں کا فارمولا نکالا گیا،ان 14آزاد اراکین کی مخصوص نشستیں دو سیاسی جماعتوں میں بانٹی گئیں، ایک اسمبلی میں بلوچستان میں 20فیصد آزاد اراکین تھے، آزاد اراکین کو ہمیشہ الگ کیا جاتا رہا،

    کیا سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آزاد اراکین کو پولیٹیکل پارٹیز سے الگ رکھنے کے نتائج کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ اسمبلی میں تقریباً 33فیصد اراکین اسمبلی آزاد ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 51کی زیلی شق چھ کی اصل لینگویج تک خود کو محدود رکھ رہا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے باہر کردیا، کیا سپریم کورٹ کی آئینی زمہ داری نہیں کہ وہ آئینی خلاف ورزی کو مدنظر رکھے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی یہی سوال کیا گیا تھا،میں آخر میں آرٹیکل 187پر دلائل دونگا ،

    جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق 2002 میں آرٹیکل 51 لایا گیا، 2002 میں مخصوص نشستوں کی تعداد 10 تھی،2018 میں 272 کل نشستیں تھیں تین پر انتخابات ملتوی ہوئے اور 13 آزاد امیدوار منتخب ہوئے، 9 امیدوار سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے مخصوص نشستوں کا فارمولا 265 نشستوں پر لاگو ہوا، 2018 میں 60 خواتین کی اور 10 اقلیتی سیٹیں مخصوص تھیں،2002 کے انتخابات میں بلوچستان میں 20 فیصد آزاد امیدوار منتخب ہوئے تھے، مخصوص نشستوں کے تعین میں آزاد امیدواروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا،جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہماری آئینی ذمہ داری نہیں کہ پہلے الیکشن کمیشن کی غلطی کو درست کریں؟ الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی ،بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کے ناطے کیا یہ ہماری زمہ داری نہیں کہ اسے درست کریں،

    کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟جسٹس منیب اختر
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہے کیا آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحادکونسل میں آزادامیدواروں کی شمولیت ہوسکتی ہے، کیا سنی اتحادکونسل مخصوص نشستوں کی اہل ہے یا نہیں؟جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آزاد امیدواروں کی تعداد 2024 میں بہت بڑی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق کسی صورت کوئی نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں کبھی آزاد اراکین کا معاملہ عدالت میں نہیں آیا، اس مرتبہ آزاد اراکین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کیس بھی آیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر اسمبلی مدت ختم ہونے میں 120 دن رہ جائیں تو آئین کہتا ہے انتخابات کرانے کی ضرورت نہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے، سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے؟ جن کو آپ آزاد کہہ رہے وہ آزاد نہیں انکو الیکشن کمیشن نے فیصلے سے آزاد کیا۔

    آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں،آپ پھر اس پوائنٹ پر اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں کہ نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں، موجودہ سچوئشن بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا یہ ان کا کام ہے، آئین میں کیا کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے،بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصل صدیقی نے کہا تھا اگر سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں ملتی تو خالی چھوڑ دیں، پارلیمانی پارٹی کےلیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت نے انتخابات میں نشست جیتی ہو،
    پارلیمانی پارٹی ارکان کے حلف لینے کے بعد وجود میں آتی ہے،پارلیمانی پارٹی کی مثال غیرمتعلقہ ہے کیونکہ اس معاملے کا تعلق انتخابات سے پہلے کا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کا ذکر آئین میں کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ذکر صرف آرٹیکل 63 اے میں ہے، آرٹیکل 63 اے کے اطلاق کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی موجود ہو،

    پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کر چکا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس اختیار کے تحت پارلیمانی پارٹی ڈیکلئیر کرتا ہے؟ پارلیمانی پارٹی قرار دینے کا نوٹیفکیشن کیسے آیا؟ وہ نوٹیفکیشن سنی اتحاد کونسل نے ریکارڈ پر رکھا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جواب الجواب دلائل میں وہ خود بتا دیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وہ نہیں، آپ بتائیں الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن پر کیا کہتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل کو دکھادیا،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا نوٹیفکیشن بھی دکھا دیا ،وکیل فیصل صدیقی نے کہ کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نوٹیفکیشن سے زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر بھی بنا چکا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار پارلیمانی پارٹی نہیں بنا سکتے،آزادامیدواروں نے اسی میں شامل ہونا ہوتا ہے جو پارٹی ایک سیٹ کم سے کم جیت کر آئی ہو،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی سیاسی جماعت کے جیتے ہوئے امیدوار ہوں تو سیاسی پارٹی آٹومیٹکلی پارلیمانی پارٹی بن جاتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آزادامیدوار پارٹی بنا لے تو آرٹیکل 51 نافذ نہیں ہوگا، آزادامیدوار کی اسمبلی سے باہر تو پارٹی تصور کی جائےگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزادامیدوار کسی ایسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا جو پارلیمانی پارٹی نہ ہو،

    نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس نوٹیفکشن کی حیثیت کیا ہے؟ ڈپٹی رجسٹرار کے خط کو سپریم کورٹ کا موقف کیسے مانا جا سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سرکاری طور پر ہونے والے کمیونکیشن کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سے ان نوٹیفکیشنز کا تعلق نہیں، اٹارنی جنرل منصوراعوان نے علامہ اقبال کے بانگ درا کے شعر کا حوالہ دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں، میرا شوق دیکھ اور میرا انتظار دیکھ،

    الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ،جسٹس منیب اختر
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کی تشریح مان لیں تو پارلیمان میں بیٹھے اتنے لوگوں کا کوئی پارلیمانی لیڈر نہیں ہوگا؟ موقف مان لیا تو کسی کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے تحت منحرف ہونے پر کارروائی ممکن نہیں ہوگی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے،اب الیکشن کمیشن کا ہی ریکارڈ ان لوگوں کو سنی اتحاد کونسل کا مان رہا ہے،بتائیں نا الیکشن کمیشن انہیں پارلیمانی پارٹی مان کر کیسے نشستوں سے محروم کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کو بتا رہا ہے کہ ہمارے ریکارڈ میں یہ پارلیمانی جماعت ہے، ریکارڈ کسی وجہ سے ہی رکھا جاتا ہے ناں؟

    اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایسا ہوسکتا کہ سیاسی جماعت اگر پارلیمانی پارٹی نہ ہو لیکن سیٹ جیتے تو پارلیمانی پارٹی تصور کی جاسکتی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات ہی تعین کریں گے کہ پارلیمانی پارٹی کون ہوگی،آزادامیدوار اگر ہوں تو پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو سکتے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں آزادامیدوار کے بارے میں نہیں پوچھ رہی، میں انتخابات میں حصہ لینے کے حق کے حوالے سے پوچھ رہی، آپ کے مطابق سیاسی جماعت ہی پارلیمانی پارٹی بنے گی، ابھی تو ہم دیکھ رہے آزادامیدوار سیاسی جماعت ہیں یا نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں،لیکن ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد پارلیمانی پارٹی بن چکی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر سنی اتحاد ضمنی انتخابات میں جیتتی ہے تو پارلیمانی پارٹی بن سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی؟

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک آئینی ادارے نے غیر آئینی تشریح کی اور سپریم کورٹ توثیق کرے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں، ہر فیصلے نے آئین کو فالو کیا، کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا کیس،سپریم کورٹ نے سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • جسٹس بابر ستار کی ذاتی معلومات لیک کرنے پر ایکس انتظامیہ کو خط

    جسٹس بابر ستار کی ذاتی معلومات لیک کرنے پر ایکس انتظامیہ کو خط

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے ایکس (ٹویٹر) انتظامیہ کو خط لکھ کر جسٹس بابر ستار اور اُنکی فیملی کی ذاتی معلومات لیک کرنے سے متعلق پاکستانی تحقیقاتی اداروں کو معلومات فراہم کرنے کی درخواست کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کی ہدایت پر رجسٹرار نے وزارت خارجہ اور امریکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ایکس انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار اور اُنکی فیملی کا ڈیٹا ایکس پر لیک کرنے لیک ہوا ہے، ایکس اُس متعلق پاکستانی تحقیقاتی اداروں کو معلومات فراہم کرے، اگر اپنا نمائندہ ہائی کورٹ کے سامنے بھیجنا چاہے تو بھیج سکتا ہے، ایسا کیا جائے تو قابل تعریف عمل ہو گا، ایکس ڈیٹا لیک کرنے والے کے اکاؤنٹ کی شناخت میں معاونت کریں، اگر منظم مہم تھی تو اس کے لنکس کے حوالے سے بھی ایکس معاونت کرے، ایکس کی جانب سے یوکے اور بھارتی حکومتوں کو اس سے قبل معاونت دینے کا حوالہ بھی دیا گیاہے،ملکی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے نشاندہی کیے گئے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی خط کیساتھ منسلک ہیں.

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانی طور پر قید کیا گیا ہے۔

    جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے صوابدیدی حراست سے متعلق ورکنگ گروپ کاکہنا ہے کہ مناسب یہ ہوگا کہ مسٹر خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق معاوضے دیئے جائیں، انکی حراست کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے،عمران خان کی قانونی پریشانیاں، اُن کے اور تحریک انصاف کے خلاف جبر و زیادتی کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے،2024 کے عام انتخابات سے پہلے عمران خان کی پارٹی کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اُن کی سیاسی ریلیوں کو روکا گیا،ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عمران خان کی حراست کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی اور ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد انہیں سیاسی عہدے کے لیے نااہل قرار دینا تھا عمران خان کے خلاف کارروائیاں شروع سے ہی قانون کی بنیاد پر نہیں تھیں اور مبینہ طور پر ان کارروائیوں کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن میں بڑے پیمانے میں فراڈ ہوا اور درجنوں پارلیمانی نشستیں چوری کی گئیں،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ورکنگ گروپ نے عمران خان کے خلاف مقدموں میں کئی قانونی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا حوالہ دیا اور یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستان سے اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تھا تا ہم حکومت نے کسی قسم کو کوئی جواب نہیں دیا.

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد ابھی تک حکومت پاکستان کا کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا،عمران خان ابھی بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، 2022 کے ماہ اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تھا جس کے بعد سے انہوں نے پی ڈی ایم حکومت اور اداروں کے خلاف تحریک چلائی، نومئی کا واقعہ بھی ہوا جس میں پاکستان دشمنی کا کردار ادا کرتے ہوئے عسکری اداروں کو نشانہ بنایا گیا،نومئی کے بعد پی ٹی آئی رہنما پارٹی چھوڑنے لگے، کئی گرفتار تو کوئی روپوش ہو گئے،انتخابات ہوئے تو آزاد امیدوار جنہیں پی ٹی آئی کی حمایت تھی وہ جیتے جس کےبعد پی ٹی آئی کے روپوش رہنما سامنے آنے لگے،تاہم مراد سعید ابھی تک روپوش ہیں، میاں اسلم اقبال سامنے آئے تھے تا ہم پھر روپوش ہو گئے، حماد اظہر بھی سامنے آنے کے بعد پھر روپوش ہو گئے ہیں

    عمران خان کو اڈیالہ جیل میں تین مقدمات میں سزائیں سنائی گئی تھیں، توشہ خانہ کیس، سائفر کیس کی سزا معطل ہو چکی ہے تا ہم گزشتہ ہفتے عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی ،

    عمران خان پر نومئی، القادر ٹرسٹ سمیت دیگر کیسز بھی ہیں، شاہ محمود قریشی بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی دوران عدت کیس میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    عمران خان کی گرفتاری پر پہلے بھی کہہ چکےیہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ
    اقوام متحدی ورکنگ گروپ کی عمران خان سے متعلق رپورٹ پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کے معاملے پر امریکا پہلے بھی کہہ چکا یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اقوام متحدہ اپنی رائے کی وضاحت خود کر سکتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے امریکی کانگریس میں پاکستان کے انتخابات میں مداخلت کی تحقیقات کی قرار داد کے حوالہ سے بھی سوال کیا گیا جس کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ کانگریس امریکی حکومت کی ایک علیحدہ شاخ ہے، اس کی قانون سازی پر بات نہیں کر سکتے،

  • پیٹرولیم ڈیلرز کی 5 جولائی کو ہڑتال،جماعت اسلامی کا 12 جولائی کو اسلام آباد دھرنے کا اعلان

    پیٹرولیم ڈیلرز کی 5 جولائی کو ہڑتال،جماعت اسلامی کا 12 جولائی کو اسلام آباد دھرنے کا اعلان

    بجلی، گیس،پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے پر جماعت اسلام نے 12 جولائی کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر دیا .

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اس ضمن میں پریس کانفرنس کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ حکومتی اقدامات کے خلاف 12 جولائی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے،حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ "دھرنا ٹیکس اور بجلی بلوں میں کمی کیلئے ہوگا”بجلی بلوں میں ٹیکسز اور اووربلنگ کیخلاف عوام کو نکلنا ہوگا،ٹیکس کم کرو، اسکے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں، ہم وہاں بیٹھیں گے،یہ حق دو عوام کی تحریک ہے، جو جماعت اسلامی نےشروع کر دی ہے، ہم جو سیاست کرتے ہیں عوام کی بنیاد پر کرتے ہیں، ہماری سیاست نفرت کی نہیں بلکہ عوام کے حق کی خاطر ہے، 12 جولائی کو تاریخی دھرنا ہوگا، تاجروں، صنعتکاروں سے کہتا ہوں، تنخواہ دار طبقہ،ہماری تحریک کا حصہ بنے، جماعت اسلامی اپنا فرض ادا کر رہی ہے، پاکستان کسی انارکی، افرا تفری کا متحمل نہیں ہو سکتا.

    حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں شدید بحران ہے ، بجلی کے بل بموں کی طرح آ کر گرے ہیں ، خواتین زیورات بیچ کر بل ادا کر رہی ہیں، 15 جولائی سے مزید مہنگائی میں اضافہ ہو گا ، عوام کو مزید ٹیکسز کے بوجھ تلے دبانا چاہتے ہیں جاگیرداروں سے ٹیکس نہیں لیا جا رہا ، آئی پی پی والوں کی عیاشیاں لگی ہوئی ہیں ،ہزاروں ارب روپے لوٹ لیے گئے ہیں ۔وزیر اعظم اعزاز سے کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر بجٹ بنایا، عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر نہیں چھوڑ سکتے، ملک گیر ہڑتال پر مشاورت کر رہے ہیں ، حکومت ہوش کے ناخن لے ،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا پریس کلب کے باہر بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی اپیل پر بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایل پی جی مافیا کیخلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں ملی رکشہ یونین سول سوسائٹی تاجر برادری سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جس پر حکومت مخالف نعرے درج کئے گئے تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، ملی رکشہ یونین پنجاب کے صدر رانا شمشاد سمیت دیگر عہدیداران نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نااہلی کا پول کھل چکا ہے۔ مزدور کرائے کے گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اس کا بجلی بل 2 لاکھ روپے آرہا ہے۔ ایل پی جی مافیا نے رکشہ ڈرائیورز کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ 160 روپے میں ملنے والی ایل پی جی 380 روپے میں بلیک میں مل رہی ہے اور دوسری جانب آئے روز پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔آج حکومت نے پوری قوم کو آئی ایم ایف کی بھٹی میں جھونک کر رکھ دیا ہے۔ پاکستانی قوم کب تک اپنے خون پسینے کی کمائی ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتی رہے گی۔ مرکزی مسلم لیگ آج پورے ملک میں مزدور کی نمائندہ جماعت ہے۔ ہم مزدور طبقے کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر حکومت سے ملک نہیں چل رہا تو خدارا ہماری جان چھوڑ دے۔ آئی ایم ایف کا گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ ہماری آزادی کا سلب کرنے کے مترادف ہے۔ قومی اسمبلی میں 2024-25 پیش ہونے والا آئی ایم ایف کی جانب سے بنا کر دیا جانے والا بجٹ ہے۔ ملی رکشہ یونین کے صدر رانا شمشاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 12.7 فیصد اور سود کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ آج قوم کے علاوہ صرف حکمرانوں کی معاشی حالت بہتر ہوتی جارہی ہے جو آئے دن پانامہ اور دبئی لیکس کی شکل سامنے آرہی ہے۔ حکومت کا اپنے شاہانہ خرچوں اور اسمبلی ممبرز کی مراعات میں اضافہ ناقابل برداشت ہے۔
    pmml

    علاوہ ازیں پیٹرولیم ڈیلرز نے 5 جولائی کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبد السمیع خان کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 0.5 فیصد ایڈوانس ٹرن اوور ٹیکس لگایا گیا ہے، پیٹرول پمپ کے کاروبار پر اس ٹیکس کے اثرات کے بارے میں تشویش ہے حکومت نہ جانے کیا کر رہی ہے، ہر چیز پر ٹیکس لگا رہی ہے، ہمارا تو فکس منافع ہے، عوام کے لئے بہت پریشانی کی بات ہے فنانس بل کی یہ شق ختم کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کی درخواست ہے، وزیراعظم، وزیر پیٹرولیم، وزیرخزانہ ایڈوانس ٹرن اوور ٹیکس کا فیصلہ واپس لیں۔کوئی حل نہ نکلا تو پانچ جولائی کو پورا ملک بند ہو جائے گا، ہم مکمل ہڑتال کریں گے،بڑی مشکل سے معاملات طے ہوئے تھے لیکن ہرجگہ ٹیکس لگانے سے اب کوئی حل نہیں، حکومت سے مذاکرات کے لئے کل ایک وفد اسلام آباد جائے گا، معاملہ حل ہوا تو ٹھیک نہیں تو 5 جولائی کو ملک بھر میں 1 3 ہزار پٹرول پمپ بند کر دیں گے.

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ