Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فارمیشن کمانڈرز کانفرنس:9 مئی کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ

    فارمیشن کمانڈرز کانفرنس:9 مئی کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں ایک بار پھر 9 مئی کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا-

    باغی ٹی وی :آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 83ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے بھی شرکت کی، فورم کی شہداء کے ایصال و ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی،فورم نے ملک کی حفاظت، سلامتی اور خود مختاری کے لیے مسلح افواج کے افسران و جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں سمیت شہداء کی عظیم قربانیوں کو زبردست خرا ج عقیدت پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کو جیو اسٹریٹجک حالات، قومی سلامتی کے لیے اُبھرتے چیلنجز سے آگاہ کیا گیا اور ملٹی ڈومین خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی حکمت عملی کے بارے میں بھی بتایا گیا، جبکہ پاک فوج کو جدید بنانے اور فیلڈ فارمیشنز کے لیے لاجسٹک سپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے نئی تکنیکی تخلیقات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

    اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت دی …

    فورم کا کہنا تھا کہ قانون کی عمل داری کو قائم کرنے اور 9مئی کے مجرمان کے خلاف فوری اور شفاف عدالتی اور قانونی کارروائی کے بغیر ملک ایسے سازشی عناصر کے ہاتھوں ہمیشہ یرغمال رہے گا۔

    فورم نے افغانستان کی سرحد پار سے مسلسل خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے دہشتگردی کی منصوبہ بندی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا، انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کے دشمن پاکستان کے اندر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

    فارمیشن کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق پاکستانی قوم جھوٹ اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے مذموم اور مکروہ عزائم سے پوری طرح باخبر ہے، پراپیگنڈے کا مقصد قومی اداروں بالخصوص افواج پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے، مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈا سے پاکستانی قوم میں مایوسی پیدا کرنا ہے لیکن اِن ناپاک قوتوں کے مذموم ارادوں کو مکمل اور یقینی شکست دی جائے گی ، انشاء اللّٰہ۔

    پنجاب حکومت کا کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم کرانے کا فیصلہ

    آئی ایس پی آر اعلامیے کے مطابق پراپیگنڈہ کرنے والوں کی پشت پناہی غیر ملکی اسپانسرڈ پراکسیوں کے ذریعےکی جاتی ہے، اس پشت پناہی کا مقصد ہےکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو امن وترقی سے دور رکھا جا سکے۔

    آئی ایس پی آر اعلامیے کے مطابق مشرقی سرحد پر موجودہ صورتحال اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے تازہ ترین واقعات کا جائزہ لیا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ فورم نے بھارت میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بڑھتے ہوئے فاشزم پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کی، غزہ پٹی کے اندر رفح آپریشن اور دیگر تمام آپریشنز کو روکنے کے لیے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی حمایت کی۔

    غزہ میں اسرائیلی حملے،برازیل نے احتجاجاً اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مختلف مشقوں کے دوران فارمیشنز کی اعلیٰ و معیاری تربیت کے ساتھ انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں افسران اور جوانوں کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور فارمیشنز کے بلند حوصلے اور ہمہ وقت آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہا، فورم نے ملکی سلامتی اور استحکام کو درپیش خطرات کو قوم کی مکمل حمایت سے ناکام بنانے کا اعادہ کیا اور یوم تکبیر پرپاکستان کو حاصل اہم سنگ میل اور خطے پر اس کے مستحکم اثرات کو سراہا۔

    فورم نے پائیدار اقتصادی ترقی اور غیر قانونی سرگرمیوں بشمول اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کو روکنے، وَن ڈاکومنٹ رجیم، غیر قانونی غیر ملکی تارکین کی باعزت وطن واپسی سمیت قومی ڈیٹا بیس کی حفاظت کے لیے مختلف شعبوں میں حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کا عزم کیا۔

    نیب ترامیم کیس: عمران خان ویڈیو لنک پر پیش،سپریم کورٹ نے لائیو سماعت درخواست …

    شرکاء کانفرنس نے حاضر سروس، ریٹائرڈ افسران اور جوانوں کی تربیت، انتظامیہ اور فلاح و بہبود کے لیے فوجی سطح پر کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا،کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ’’ملک کی سلامتی اور استحکام کو درپیش تمام خطرات کو قابل فخر قوم کی مکمل حمایت سے ناکام بنا دیا جائے گا۔‘‘

  • نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل 5رکنی بینچ کاحصہ تھے ،جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی لارجر بینچ میں شامل تھے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی ویڈیو لنک کےذریعے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب ترامیم کرنا حکومتی پالیسی کا فیصلہ ہے،حکومتی پالیسی میں عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی، پارلیمنٹ کے اختیارات میں عدلیہ مدا خلت نہیں کرسکتی،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی بات کرتا ہوں،میں میڈیا سوشل میڈیا دیکھتا اور اخبارات پڑھتا ہوں،وزیر اعظم نے کالی بھیڑیں کہا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو کہیں کہ جوڈیشری میں کالی بھیڑیں نہیں ہیں، اگر عدلیہ میں کالی بھیڑیں ہیں تو وزیراعظم ریفرنس فائل کریں ،اٹارنی جنرل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ موجود ججز کےلیے استعمال نہیں کیے گئے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب قانون ان لوگوں پر لاگو ہوتا رہا جو حکومت سے باہر رہے،عدالت نے کہا کہ پھر وہی لوگ جو حکومت میں آتے ہیں تو دوسرے لوگ نیب کی زد میں آجاتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب ترامیم کیسے آئین سے متصادم تھیں وجوہات کیا بتائی گئیں؟قانون میں طے کردہ کرپشن کی حد سےکم کیسز دیگر عدالتی فورمز پر چلانے کا ذکر ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پانچ پانچ لاکھ روپے کے مقدمات بلوچستان ہائیکورٹ میں چلتے رہے،پارلیمنٹ سزا کم رکھے یا زیادہ خود فیصلہ کرے یہ اس کا کام ہے،جسپریم کورٹ تو صرف قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا نیب ترامیم سے مجرموں کو فائدہ پہنچایا گیا ؟وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ نیب ترامیم سے جرائم کی نوعیت کو واضح کیا گیا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا کچھ لوگوں کی سزائیں نیب ترامیم کے بعد ختم نہیں ہوئیں؟کیا نیب سیکشن 9 اے پانچ میں تبدیلی کر کے نواز شریف کی سزا ختم نہیں کی گئی؟ نواز شریف کا کیس اثاثوں کا تھا جس میں ثبوت والی شق تبدیل کی گئی، نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کی گئیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخو ا حکومت اپنے صوبے میں یہ قانون لاسکتی ہے ؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ خیبرپختونخو ا حکومت ایسا کرسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخو ا حکومت اپنے طور پر قانون بنا سکتی ہے ،خیبرپختونخو ا میں احتساب ایکٹ اس لیے ختم ہوا کہ وہاں نقصان ہورہا تھا،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی وزراء پریس کانفرنسز کرکے نیب قانون کے خلاف بیانات دیتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی تو آسان دلیل ہے کہ اقلیتی فیصلے کو اکثریتی فیصلہ کردیں،وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کسی قانون کی سزا کو مکمل ختم بھی کردے تب بھی اسے یہ اختیار حاصل ہے پارلیمنٹ عدالتوں پر بوجھ کم کرنے کےلیےقانون سازی کرسکتی ہے،اکثریتی فیصلے میں 100 ملین روپے کی کرپشن تک نیب کو کارروائی کاکہا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کرپشن کی حد کا اصول عدلیہ کیسے طے کرسکتی ہے؟اقلیتی رائے میں کہا گیا ریٹائرڈ ججز اورجرنیلوں کو نیب قانون سے استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے، کیا آپ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں ؟وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میری رائے ایسی ہی ہے لیکن اٹارنی جنرل بہتر جواب دے سکتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہ کہ پرویز مشرف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب تحقیقات کی بات کی،کسی جج کو نیب قانون سے کیسے استثنی ٰ دیا جاسکتا ہے؟ہم ججز مقدس گائے کیوں ہیں؟ کسی کو بھی قانون سے ماورا نہیں ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سروس آف پاکستان کی تعریف میں ججز نہیں آتے، ججز آئینی عہدے ہیں،

    مجھے یہاں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،میرے پاس مقدمے کی تیاری کا کوئی مواد نہیں،عمران خان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سماعت ملتوی کرتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ 8فروری کو ملک میں ڈاکہ ڈالا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات اس وقت نہ کریں، ابھی نیب ترامیم والا کیس سن رہے ہیں،عمران خان نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق 2درخواستیں آ پ کے پاس ہیں، چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ اس میں آپ کے وکیل کون ہیں؟عمران خان نے کہا کہ ان درخواستوں میں میرے وکیل حامد خان ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں، انہوں نے باہر جاناتھا توا ن کو مقدمے میں تاریخ دی ،عمران خان نے کہا کہ جیل میں ون ونڈو آپریشن ہے جس کو ایک کرنل چلاتے ہیں، آپ ان کو آرڈر کریں کہ میری قانونی ٹیم سے ملاقات کروانے دیں،مجھے یہاں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،میرے پاس مقدمے کی تیاری کا کوئی مواد نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو ساری چیزیں مہیا کردی جائینگی،ہم آپ کے سامنے آرڈر کردیتے ہیں، آپ کونسی لیگل ٹیم ملنا چاہتے ہیں ؟ عمران خان نے کہا کہ میں خواجہ حارث سے ملنا چاہتا ہوں،عدالت نے کہا کہ خواجہ حارث سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرسکتے ہیں،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔جسٹس اطہر من االلہ نے سماعت لائیو نشر کرنے کی حمایت کر دی اور ریمارکس دئیے کہ کیس پہلے لائیو چلتا تھا تو اب بھی لائیو چلنا چاہیے، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا کہنا تھا یہ کیس عوامی مفاد اور دلچسپی کا ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ کیس ٹیکنیکل ہے، اس میں عوامی مفاد کا معاملہ نہیں، لائیو اسٹریمنگ پر تھوڑی دیر تک بتاتے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے، سماعت براہ راست دکھائی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ عوامی مفاد کا مقدمہ نہیں آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، بعد ازاں بینچ نے مشاورت کے بعد براہ راست نشریات کی درخواست چار ایک کے تناسب سے مسترد کردی، جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ انتظار کروانے پر معذرت خواہ ہیں، بینچ نے کوئی جلدی میں فیصلہ نہیں کیا، تمام ججز سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی درخواست دائر کر رکھی ہے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ویڈیولنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے علاوہ ازیں خیبر پختو نخوا حکومت نے بھی سماعت لائیو دکھانے کیلئے درخواست دائر کی ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کو بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر کالعدم قرار دیا تھا تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • اڈیالہ جیل میں بھارتی سفارتخانے کے وفد کی کن قیدیوں سے ہوئی ملاقات؟

    اڈیالہ جیل میں بھارتی سفارتخانے کے وفد کی کن قیدیوں سے ہوئی ملاقات؟

    بھارتی سفارتخانے کے وفد نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا اور قیدیوں سے ملاقات کی تھی

    بھارتی سفارتخانے کے وفد نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کن قیدیوں کے وفد سے ملاقات کی، تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، بھارتی سفارتخانے کے تین رکنی وفد نے سخت سیکورٹی میں اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا جہاں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی قید ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں،بھارتی سفارتخانے کے وفد کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار دو بھارتی قیدیوں سے ملاقات ہوئی ہے، دونوں بھارتی شہریوں کو گلگت بلتستان سے 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا، پاکستان نے بھارتی جاسوسوں کو سفارتی رسائی فراہم کی ہے.

    بھارتی سفارتخانے کے وفد کی پیر کی روز اڈیالہ جیل میں بھارتی جاسوسوں سے ملاقات ہوئی ہے، پاکستانی دفتر خارجہ نے اس ضمن میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تا ہم میڈیا پر بھارتی وفد کے اڈیالہ جیل کے دورے کی خبریں نشر ہو چکی ہیں، بھارتی شہریوں فیروز احمد لون اور نورمحمد وانی دونوں گریز کے رہائشی ہیں، انہیں پاکستان نے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں منتقل کیا تھا،بھارت نے دونوں جاسوسوں کے لئے سفارتی رسائی مانگی تھی ،پاکستان نے بھارتی مطالبے پر جاسوسوں سے ملاقات کروائی.ملاقات کے دوران پاکستانی وزارت داخلہ کے حکام بھی موجود تھے

    بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بھی پاکستان کی حراست میں ہے، کلبھوشن کو پاکستان نے بلوچستان سے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا، کلبھوشن یادیو کو کہاں رکھا گیا ہے، اس بارے کوئی اطلاع نہیں،کلبھوشن کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا.کلبھوشن کو عدالت نے سزائے موت سنا رکھی ہے،

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    عمران خان کا سوشل میڈیا اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

  • لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہو گئے ہیں

    نواز شریف نےن لیگ کا صدر منتخب ہونے کے بعد خطاب کیا،نواز شریف نے اپنے خطاب میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے لندن پلان بارے انکشافات کی تصدیق کی، مبشر لقمان کے انٹرویو بارے نواز شریف نے اپنے خطابات میں ذکر کیا اور جو بات مبشر لقمان نے کہی تھی وہی بتائی، نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کے خلاف سچے کیسز ہیں، کونسا ایسا کیس ہے جو غلط ہیں، جھوٹ ہے، ذرا مجھے بتائیں آپ یعنی عمران خان نے تو سیاست ہی ان کے کندھوں پر بیٹھ کر شروع کی، آج آپ وہ ٹیپ سنیں، میں نے بنی گالا میں عمران خان کو کہا کہ آئیں مل کر ملک کی خدمت کریں، مجھے ان کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ان کے پاس گیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن پلان کا ذکر کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے ویڈیو کے بارے بھی بات کی جس میں مبشر لقمان نے لندن پلان کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں، مبشر لقمان نے نیا دور کو ایک انٹرویو دیا تھاجس میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "لندن پلان کے سلسلے کی کئی میٹنگز میں میں خود موجود تھا 2013 میں اسلام آباد میں ملک ریاض کی رہائش گاہ پر وہ، محسن بیگ اور ایک حاضر سروس فوجی افسر موجود تھے جب ملک ریاض کو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کا فون آیا اور وہ اٹھ کر ان سے ملاقات کے لیے چلے گئے کچھ دیر بعد واپس آئے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ جنرل ظہیر الاسلام کا پیغام لے کر وزیر اعظم نواز شریف کے پاس جا رہے ہیں،نواز شریف سے ملاقات کر کے لوٹے تو ملک ریاض کے چہرے کے رنگ اڑے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ میں نے نواز شریف کو جنرل ظہیر الاسلام کا پیغام دیا کہ استعفیٰ دے دیں ورنہ گرفتاریاں ہوں گی اس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ جو کرنا ہے کر لو، میں استعفیٰ نہیں دوں گا، ملک ریاض جب واپس آئے تو غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ نواز شریف آرام سے بیٹھا ہوا ہے اور اسے کوئی فکر ہی نہیں ہے”۔

    نواز شریف نے مبشر لقمان کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لندن چلے گئے جہاں لندن پلان بنا، صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ میں خود اس میٹنگ میں تھا، میں نے ہی اس ہوٹل کا بل ادا کیا تھا، اس میں طاہر القادری، عمران خان، چوہدری پرویز الہی اور ایک جنرل صاحب تھے، اس کے بعد انہوں نے دھرنا دے دیا ،اس کے بعد دھرنوں کے دوران میرے پاس ایک بندہ بھیجا گیا کہ نواز شریف آپ استعفی دیں اور گھر جائیں، یہ میں آپ کو وہ بتا رہا ہوں جو وزیراعظم پر گزر رہی ہے، ہمارے وزیراعظم ایسی ایسی چیزوں سے گزرے ہیں اور مجھے کہا گیا کہ آپ تیار رہیں، آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جائیگا جس کو آپ یاد رکھیں گے،میں نے انہیں کہا کہ آپ نے جو کرنا ہے کرلیں، نواز شریف کبھی استعفی نہیں د ے گا، اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ میں اس میٹنگ میں بھی موجود تھا، وہ شخص جب آپ سے بات کرنے گیا تو واپس آکر کہتا ہے کہ نواز شریف تو مطمئن اپنی جگہ پر بیٹھا ہے، وہ کہتا ہے جس نے جو کرنا ہے، کرلے، اس کے بعد وہ موصوف جو لندن گئے تھے ظہیر الاسلام کہتے ہیں کہ ہم نے مختلف پارٹی کو ٹرائی کیا، ہم نے تیسری قوت کو اجازت دی، وہ تیسری وقت ہمیں لگا کہ شاید ڈیلیور کرسکتی ہے، وہ سسٹم ہمیں پی ٹی آئی کے اندر نظر آیا۔

    نواز شریف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان باقی سب باتوں کو چھوڑیں، ہمیں طعنہ دینے اور ہم پر انگلی اٹھانے سے پہلے بتائیں کیا وہ تیسری قوت آپ نہیں تھے، اگر وہ آپ نہیں تھے میں سیاست سے ریٹائر ہو کر گھر جانے کو تیار ہوں، میں سیاست چھوڑ دوں گا، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تیسری قوت کا اشارہ آپ کی طرف نہیں تھا تو میں سیاست بھی چھوڑنے کو تیار ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ انہی لوگوں نے آپ کی سیاست کی بنیاد رکھی، ہماری حکومت کا تختہ بھی آپ نے الٹوایا ان کی لوگوں کی مدد سے، ان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے تھے کہ وزیراعظم ہاوس کے سامنے دھرنا ہو رہاہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف تمھارے گلے میں رسہ ڈلا کر کھینج کر تمہیں باہر لائیں گے، کس کی ایما پر اتنی بڑی بڑی دھمکیاں دے رہے تھے، کیا یہ وہی ایمپائر کی انگلی نہیں تھی جس کا عمران خان بار بار ذکر کرتے ہیں۔ عمران خان ان باتوں کا جواب دیں گے تو اس کے بعد آپ ہم سے بات کرنا، آپ کے کیس میں کوئی میرٹ نہیں، آپ ان لوگوں کی پیداوار ہیں، 2018 کے الیکشن میں جو ہوا، ان لوگوں کے ساتھ ساتھ اس کے بھی آپ ذمہ دار ہیں، ہم 28 مئی والے ہیں، 9 مئی والے نہیں ہیں۔

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • اقوام متحدہ کا امن مشن،پاکستان کے  فوجی دستوں کی تعداد سب سے زیادہ

    اقوام متحدہ کا امن مشن،پاکستان کے فوجی دستوں کی تعداد سب سے زیادہ

    دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے قیام امن کے لیے تعینات فوجی دستوں کا دن منایا جا رہا ہے
    اقوام متحدہ کے امن مشن میں تعینات پاکستانی خواتین نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند کردیا،پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جن کے فوجی دستوں کی تعداد اقوام متحدہ کے امن دستوں میں سب سے زیادہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اس وقت تقریباً تین ہزار امن دستے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، جنوبی سوڈان، قبرص، مغربی صحارا اور صومالیہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، 1960 کے بعد سے پاکستان نے دنیا کے تقریباً تمام براعظموں سمیت 29 ممالک میں، اقوام متحدہ کے 48 مشنز میں، اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں 235,000 فوجیوں کا تعاون کیا ہے۔

    پاکستانی خواتین کے امن دستے بھی دنیا کے مختلف جنگ زدہ خطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،پاکستان کے امن فوجی دستے اس وقت اقوام متحدہ کے مختلف بڑے مشنوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان فوجی دستوں کی اکثریت ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو (ڈی آر سی)، سوڈان کے علاقے دارفور اور وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) میں تعینات ہے،ان دستوں کے فرائض میں عام شہریوں کی حفاظت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والے فلاحی کاموں کو سرانجام دینا ہے، مختلف پروگراموں کے تحت پاکستانی امن فوجی دستے مقامی آبادی کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر وغیرہ کی بنیادی تعلیم بھی فراہم کر رہے ہیں،پاکستان کی زیادہ تر خواتین امن فوجی طبی خدمات سرانجام دے رہی ہیں،اقوام متحدہ کے امن دستوں میں پاکستانی خواتین کا کردار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے،2020 کے دوران کانگو میں پاکستانی خواتین پر مشتمل امن فوجیوں کے 15 رکنی دستے کو بہترین کارکردگی پر میڈل سے نوازا گیا ہے،اس15 رکنی دستے میں ماہر نفسیات، ڈاکٹرز، نرسز، انفارمیشن آفیسر، لاجسٹک آفیسر سمیت دیگر افسران شامل تھیں جنہوں نے انتہائی لگن اور انتھک محنت کے ساتھ دیار غیر میں پیشہ وارانہ کارکردگی سے دنیا کو متاثر کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ،اقوام متحدہ نے پاکستانی خواتین پیس کیپرز کی ان خدمات کو خوب سراہا ہے

    181 پاکستانی امن دستوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان کی قربانیاں دیں،ترجمان پاک فوج
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کو اقوام متحدہ کے قیام امن کے لیے اپنی دیرینہ وابستگی پر فخر ہے۔ ہمارے امن فوجیوں نے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے، مجموعی طور پر 181 پاکستانی امن دستوں نے فرائض کی ادائیگی میں اپنی جان کی قربانیاں دی ہیں،امن کے اس عالمی دن پر، ہم عالمی امن کے عظیم مقصد کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،پاکستان یونیفارم میں خواتین کی بہتر نمائندگی کے لیے اقوام متحدہ کی یکساں صنفی برابری کی حکمت عملی سمیت سیکریٹری جنرل کے ایکشن فار پیس اقدام، جو ان کی صلاحیت کو بڑھا کر اقوام متحدہ کے امن مشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک کوشش ہے، کے لیے بھی پرعزم ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کی شراکت بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ہماری قوم کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور پاکستانی امن دستے شورش زدہ علاقوں میں مقامی کمیونٹیز کی بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کا عالمی دن ہر سال 29 مئی کو منایا جاتا ہے، اس موقع پر اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان سمیت امن مشن میں شامل دیگر ممالک کی امن کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا جاتا ہے۔

    پاکستانی امن دستوں میں شامل خواتین اہلکاروں نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔وزیراعظم
    وزیرِاعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن پرپیغام میں کہا ہے کہ امن مشن کا شورش زدہ علاقوں میں قیامِ امن اور شہریوں کے تحفظ کیلئے کلیدی کردار ہے۔پاکستان کے امن دستوں کو خراجِ تحسین، جن کی خدمات نمایاں ہیں، دو لاکھ 30 ہزار امن اہلکار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔پاکستانی امن دستوں میں شامل خواتین اہلکاروں نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔ عالمی امن کی خاطر 181 اہلکار شہید ہوئے، ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔پاکستان امن وانصاف کے حصول کیلئے پر عزم ہے، ہم پُرامن اور انسانیت کی فلاح پر مبنی مستقل کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    امن مشن کی 75 ویں سالگرہ،شہداء پاکستان کیلئے اعزازات کا اعلان

    اقوام متحدہ امن مشن میں کتنی پاکستانی خواتین اہلکار ہیں؟ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتا دیا

    افغانستان میں جنگ بہت ہو چکی، اب امریکا کی کیا خواہش ہے؟ زلمے خلیل زاد بول پڑے

  • برطانیہ بھی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے،سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کو خط

    برطانیہ بھی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے،سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کو خط

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے، خط رجسٹرارسپریم کورٹ کی جانب سے لکھا گیا ہے، رجسٹرار کا کہنا ہے کہ خط چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر بھیجا گیا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمہویت اور کھلے معاشرے کی بات کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے برطانیہ بھی غلطیوں کا ازالہ کرے،خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیہ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے.

    سپریم کورٹ رجسٹرار نے خط پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر جین میریٹ کے نام بھجوایا، خط میں کہا گیا ہے کہ عاصم جہانگیر کانفرنس میں آپ کی پرجوش تقریر میں جمہوریت کی اہمیت، انتخابات اور کھلے معاشرے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے،پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا، لیکن انتخابات اس لئے بر وقت نہیں ہو سکے تھے کیوں کہ صدر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان متفق نہیں تھے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار کس کو ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ صرف 12 دنوں میں حل کر دیا، اور 8 فروری 2024 کو پورے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل، پاکستان میں الیکشن لڑنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں کو تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں ایماندار اور قابل اعتماد (‘صادق’ اور ‘امین’) نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، ایک بڑے سات رکنی بنچ نے پہلے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعہ نافذ کردہ قانون (انتخابات ایکٹ، 2017) وقتاً فوقتاً انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد آمریت کو روکنے کے لئے اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اس جمہوری اصول کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں ہوگی۔ ایک سیاسی جماعت (جس نے خود اس قانون میں ووٹ دیا تھا) نے لازمی انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قانون نے کیا کہا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقیدبلاجواز تھی۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوامی اہمیت کے مقدمات براہ راست نشر ہونے لگے کیونکہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مقدمات لائیو نشر کرنے کی اجازت دی. جس کے بعد پاکستانی عوام سپریم کورٹ کی کاروائی کو مکمل طور پر دیکھ سکتی ہے تا کہ عوام کو بھی مقدمات کی شفافیت اور فیصلوں بارے علم ہو،نٹرا پارٹی انتخابات اور پارٹی نشانات کے بارے میں فیصلہ بھی براہ راست نشر کیا گیا تھا

    خط میں مزید کہا گیا کہ یہ بات خوش آئند تھی کہ آپ نے بارہا ‘اوپن سوسائٹیز’ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ متحرک جمہوریتوں کے لیے ضروری ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ سپریم کورٹ نے معلومات کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اسے خود پر بھی لاگو کیا ہے۔ اس کے فیصلے کی کاپی ساتھ منسلک ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے خط میں مزید کہا گیا کہ ماضی کی پرتشدد غیر جمہوری غلطیوں پر قائم رہنا موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ٹھیک نہیں۔ آئیے سچائی کو اپنائیں،کیا 1953 میں محمد مصدق کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا، ایرانی تیل پر قبضہ کرنا، سات دہائیوں سے زیادہ چھپنے کے بعد ظاہر نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہ مجرم اور مظلوم کے لیے بہتر نہیں ہوگا؟ کیا یہ اعتماد، ممکنہ طور پر دوستی اور امن کو جنم نہیں دے گا؟جسے اس نے ‘یہودی صیہونی خواہشات’ کے طور پر بیان کیا ہے، برطانوی حکومت نے 2 نومبر 1917 کو اپنے شہری کو خط لکھا جس میں ایک آباد کار نوآبادیاتی ریاست کے قیام کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس فیصلے کو علاقے کے لوگوں نے جو اس سے متاثر ہوئے اور نہ ہی آپ کے لوگوں نے ووٹ دیا، برطانوی حکومت نے یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ کیا۔ بالفور اعلامیہ وہ بنیاد بن گیا جس پر ایک نسلی ریاست قائم ہوئی۔ جو لوگ ہمیشہ وہاں رہتے تھے اس نسلی ریاست سے نکال دیئے گئے۔ان پر وحشیانہ تشدد ہوا اور کئی مارے گئے،معذو ر ہوئے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے خط میں مزید کہا گیا کہ آئیے ہم آبادکاروں کی نسلی برتری کے دہانے سے پیچھے ہٹیں ۔ ہم سب اٹھ کھڑے ہوں اور برابری، امن اور انسانیت کے لیے شمار کیے جائیں۔آئیے ایماندار بنیں اور کھلے پن کے جذبے کے ساتھ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کریں، سپریم کورٹ کی جانب سے جاری خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو تسلیم کیا ہے، ان کا تفصیل سے ازالہ کیا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں کہ ان کا اعادہ نہ ہو۔ چونکہ کنگ چارلس تھری کی حکومت نے کھلے معاشروں اور جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں پر تنقید کی پیشکش کی ہے، اس لیے باہمی تعاون قابل قبول ہوگا۔

    برطانوی ہائی کمیشن کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ یہ خط چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایات پر لکھا گیا ہے، جو آپ اور آپ کے ملک کے عوام کے لیے کھلے پن اور جمہوریت کے لیے اپنی تڑپ اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

  • دوران عدت نکاح کیس،اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    دوران عدت نکاح کیس،اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ دوران عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سماعت سلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی، دوران سماعت عدت نکاح کیس میں پی ٹی آئی وکلا نعیم پنجو، خالد یوسف اور دیگر پیش ہوئے جبکہ کہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہرخاورمانیکا بھی کمرہ عدالت میں آئے۔

    کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلا اور خاورمانیکا کے درمیان شدید تلخ کلامی
    کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلا اور خاورمانیکا کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی دوران سماعت خاور مانیکا نے عدالت کو بتایا کہ مجھے کچھ کہنے کے لیے 10 منٹ دئیے جائیں، میں بتانا چاہتا ہوں گا کہ میں کس دکھ سے گزر رہا ہوں، جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ اپنے وکیل سے کہیں کہ آپ کی بات بتائیں، جس پر خاورمانیکا نے کہا کہ میرے احساسات میرا وکیل نہیں بتا سکتا، مجھے معلوم ہے کیا فیصلہ ہونا ہے۔ جس پر وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ خاورمانیکا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں،جس پر خاورمانیکا نے کہا کہ میں تم سے بات نہیں کررہا، عدالت سے کر رہا ہوں، خاور مانیکا نے بتایا کہ میں دیہات سے تعلق رکھتا ہوں میں غریب آدمی ہوں، میری سن لیں۔ خاورمانیکا کے جملے پر پی ٹی آئی کارکنان نے نعرے بازی کی۔

    خاورمانیکا کمرہ عدالت میں آبدیدہ ،بولے ، بچوں کو بتایاکہ مجھے طلاق ہوگئی تو بچے بہت روئے،
    خاور مانیکا نے بتایا کہ میرے 2 وکیل ہیں جو میرے علاقے سے ہیں، ہر روز میرے بارے میں باتیں پھیلائی جارہی ہیں میری بیٹی کی طلاق کے بارے میں باتیں پھیلائی جارہی ہیں، جعلی طلاق لیٹر بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے کچھ دنوں سے چہ میگوئیاں ہورہی ہیں آج یہ بات ہورہی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم ہے، اس کی عزت ہے تو غریب آدمی کی کیوں نہیں؟خاورمانیکا کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ جب بچوں کو بتایاکہ مجھے طلاق ہوگئی تو بچے بہت روئے، میری ماں دکھ سے وفات پا گئی، اللہ و رسول کے نام پر بانی پی ٹی آئی نے دھوکا دیا، چار سال تک کسی نے نہیں پوچھا آپ کا مسلہ تو نہیں ہوا، سب نے کاموں کیلئے مجھ سے رابطہ کیا، پرویز الہی اپنے بچے کے کام کے لیے میرے پاس آیا، میری بیٹی کوطلاق ہوگئی ہے، گھرسے فارغ ہوکربیٹھی ہے، بشریٰ بی بی کہتی میرے لیے میرے بچے مرگئے۔

    خاور مانیکا نے اپنا وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کردی
    خاور مانیکا نے عدالت میں کہا کہ میں نے یکم جنوری کا نکاح نامہ عدالت میں دیکھا مجھے دھمکیاں دی جا رہی ہیں غریب آدمی کی بات بھی سنیں مجھے اس عدالت پر یقین نہیں ہے، مجھے صرف اللہ پر یقین ہے مجھے غریب سمجھ کر سوچیں کہ میرے گھر کے ساتھ کیا ہوا ہے، میرا گھر تباہ ہوگیا، میں آپ سے فیصلہ نہیں کروانا چاہتا مجھے لگتا ہے آپ انفلوئنس ہوئے پڑے ہیں آپ فیصلہ نہ دیں، رضوان عباسی دلائل نہ دیں، اس موقع پر خاور مانیکا نے اپنا وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کردی۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے کوئی بات قانون کے مطابق نہیں کی آپ کیس کی کارروائی مکمل کرچکے ہیں، جج نے رضوان عباسی کو ہدایت کی کہ آپ مانیکا صاحب کے ساتھ بات کرلیں، جس پر خاور مانیکا نے کہا کہ میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتا، آپ ہمارا کیس ٹرانسفر کردیں، جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ اس اسٹیج پر میں کیس ٹرانسفر نہیں کر سکتا، خاور مانیکا نے کہا کہ ہمارا بچا ہوا گھر بھی تباہ کیا جا رہا ہے، ہاتھ باندھ کر کہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر فیصلہ دیں ۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بندہ جیل میں بیٹھا ہے، ہمیں عدالت پر یقین ہے جو عدالت کا فیصلہ کرے ٹھیک ہے،جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ ان کے بیان کے بعد جو بھی فیصلہ آیا وہ متنازع ہوجائے گا، اس موقع پر جج کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے جب کہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کی خواتین نے خاور مانیکا کے خلاف نعرے لگانے شروع کردئیے۔

    ہائیکورٹ ان اپیلوں کو نمٹانے کے لیے ٹائم فریم فکس کرے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج
    بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے خاور مانیکا کی جانب سے کیس منتقل کرنے کی استدعا کے حوالے سے ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ اس کیس کے مدعی خاور مانیکا نے عدالت میں مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے مدعی مقدمہ خاور مانیکا نے کھلی عدالت میں عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جب کہ مدعی کی اسی طرح کی ایک اپیل پہلے بھی مسترد ہوچکی ہے،خاورمانیکا کے دوبارہ عدم اعتماد پر اپیلوں پرفیصلہ سنانا درست نہ ہوگا-جج نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ مدعی مقدمہ اور ان کے وکیل کیس میں بلاوجہ تاخیر کے مرتکب ہوئے ہیں اعتراض کے بعد درخواست کی جاتی ہے کہ اس کیس کو کسی اور جج کے پاس ٹرانسفر کیا جائے، ہائیکورٹ ان اپیلوں کو نمٹانے کے لیے ٹائم فریم فکس کریں-

    خاور مانیکا پر احاطہ عدالت میں حملہ
    پی ٹی آئی وکیل کی جانب سے خاور مانیکا پر حملہ کیا گیا،خاور مانیکا پر کمرہ عدالت میں بھی خواتین نے بوتلیں پھینکیں، کمرہ عدالت کے اندر خاتون کارکن نے خاور مانیکا کو تھپڑ رسید کیا،کمرہ عدالت کے باہر خاور مانیکا پر پی ٹی آئی وکلا نے تھپڑوں کی بارش کر دی،خاور مانیکا پر وکیل کے تشدد کے بعد ان کے ساتھ موجود وکلا نے انہیں بچایا اور عدالت میں لے گئے،عدالت میں جج کے چیمبر میں جانے کے بعد بھی پی ٹی آئی وکلا نے کمرہ عدالت میں خاور مانیکا کو بوتلیں ماریں۔

    واضح رہے کہ عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر آج فیصلہ سنایاجانا تھا جو نہ سنایا جا سکا،سلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عدت نکاح کیس کے حوالے سے 23 مئی کو دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے محفوظ کیا تھا،عدت نکاح کیس میں وکیل عثمان گِل نے سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے-ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے دوران عدت نکاح کیس کی سزا کے خلاف سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت کی تھی۔

    خاور مانیکا نے عدالت میں فحش باتیں کیں، شبلی فراز
    عدت میں نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ نہ سنائے جانے پر تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ردّعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جج پر کیس نہ سننے کے لیے دباؤ ڈالا گیا،تحریک انصاف کے رہنماؤں شبلی فراز اور عمر ایوب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ک خاور مانیکا نے عدالت میں نامناسب الفاظ کا استعمال کیا، آج 9 بجے فیصلہ ہونا تھا، پراسیکیوٹر موجود نہیں تھا، خاور مانیکا نے کمرۂ عدالت میں غلط الفاظ استعمال کیے،جج صاحب کو کہا گیا یہ کیس آپ نہیں سنیں گے، جج نے کہا میں ہائی کورٹ کو خط لکھوں گا، شبلی فراز کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا نے عدالت میں فحش باتیں کیں، انصاف کے منصب پر بیٹھ کر ججز کو انصاف کرنا چاہیے ، سیاسی طور پر بنائے گئے کیسز میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے خواتین پر جھوٹے سیاسی کیس بنائے اس سے خواتین کی توہین ہوئی، عدالتوں پر یقین ہے ہمیں ضرور انصاف ملے گا۔

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • نیب کی ٹیم کا  معروف نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے راولپنڈی دفتر پر چھاپہ

    نیب کی ٹیم کا معروف نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے راولپنڈی دفتر پر چھاپہ

    قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے معروف نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے راولپنڈی دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔ ذرائع کے مطابق چھاپہ القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے مارا گیا، پولیس اور نیب کی ٹیم بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے فیز ٹو آفس میں موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق نیب ٹیم بحریہ ٹاؤن کے دفتر کے مختلف حصوں کی تلاشی لے رہی ہے جبکہ عملے سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملزم نامزد ہیں۔
    واضح رہے کہ 2 روز قبل بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری زندگی مجھے اپنے اصول پر قائم رہنے کی رہنمائی کی ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں سیاسی فریق نہ بنوں۔ اب ایک سال سے زیادہ عرصے سے مجھ پر سمجھوتا کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے، لیکن میں کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے پیادے کے طور پر استعمال کرے۔

  • سابق وزیراعظم نواز شریف  ایک بار پھر پارٹی  صدر بن  گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر پارٹی صدر بن گئے

    لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف 6 سال بعد ایک بار پھر پارٹی کے صدر بن گئے۔

    باغی ٹی وی : (ن) لیگ کے سابق صدر شہباز شریف کے پارٹی عہدے سے استعفے کے بعد نئے صدر کے چناؤ کے لیے الیکشن ہوا جس میں پارٹی صدر کے عہدے کیلئے نواز شریف کے 8 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے، نواز شریف کے چاروں صوبوں سے الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔

    آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے بھی نواز شریف کے کاغذات نامزدگی جمع کرائےگئے، سندھ سے (ن) لیگ کے صدر بشیر میمن، خیبرپختونخوا سے امیر مقام اور بلوچستان سے سردار یعقوب نے نواز شریف کے کاغذات جمع کرائے، کاغذات نامزدگی کی جانچ دن2 بجے تک کی گئی۔

    بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ، شارٹ فال 5319 میگاواٹ تک پہنچ گیا

    پارٹی چیف الیکشن کمشنر رانا ثنا اللہ نےتجویز کنندگان اور تائید کنندگان کو طلب کیا اور نواز شریف کے کاغذات کی جانچ کی، بعد ازاں نواز شریف کے پارٹی صدر کے لیے کاغذات منظور کرلیے گئے اور وہ بلامقابلہ (ن) لیگ کے صدر منتخب ہوگئے۔

    سی پیک کے اگلے مرحلے کے حوالےسے بھرپور تیاری کر رہے ہیں،وزیراعظم

  • 28 مئی  پاکستان کے جوہری تجربات کی تاریخی کامیابی کی یاد دلاتا ہے،آئی ایس پی آر

    28 مئی پاکستان کے جوہری تجربات کی تاریخی کامیابی کی یاد دلاتا ہے،آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: پاک فوج نے یوم تکبیر کی 26ویں سالگرہ پر قوم کو مبارک باد پیش کی ہے-

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے یوم تکبیر (28 مئی) کی مناسبت سے جاری پیغام میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور افواج نے “یوم تکبیر” کی 26ویں سالگرہ پر قوم کو مبارکباد پیش کی ہے،یہ اہم موقع 1998 میں پاکستان کے جوہری تجربات کی تاریخی کامیابی کی یاد دلاتا ہے، جس نے کامیابی سے قابل اعتبار کم از کم ڈیٹرنس قائم کیا اور خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا-

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج اور قوم ان تمام لوگوں کی غیر متزلزل لگن اور بے لوث قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اس شاندار کارنامے میں اپنا حصہ ڈالا، اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والے سائنسدانوں، انجینئرز اور حکام قوم اور اس کی مسلح افواج کے شکر گزار اور تعریف کے مستحق ہیں۔

    زیر اعظم شہباز شریف سے اوور سیز کشمیریوں کے وفد کی ملاقات

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے اس اہم دن پر پاکستان کی مسلح افواج مادر وطن کے دفاع، اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور ملکی سلامتی کو ہر حال میں اور کسی بھی قیمت پر یقینی بنانے کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔

    پوری قوم دہشتگردی کےخلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،وزیراعظم