Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سپریم کورٹ، نومئی کے ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، نومئی کے ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، نو مئی کے 6 ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کردیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے املاک کو کیا نقصان پہنچایا، کیا ملزمان سے اسلحہ برآمد ہوا، ملزمان پر کیا دفعات لگائی گئی ہیں،وکیل ملزمان نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کی جتنی شقیں ہیں ساری لگا دی گئی ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی کیا لگائی گئی ہیں،وکیل ملزمان نے کہا کہ جی وہ دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ واقعہ نو مئی کا ہے لیکن ایف آئی آر دس مئی کو درج ہوئی،وکیل ملزمان نے کہا کہ ملزمان کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار نہیں بلکہ دکاندار ہیں

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے شناخت کرکے ملزمان کو پکڑا گیا، کیا ملزمان سے انکے موبائل فونز برآمد کیے گئے، وکیل ملزما ن نے کہا کہ عدالت نوٹس کرکے مکمل ریکارڈ منگوا لے،عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ججز کی خالی آسامیوں پر تقرری کیلئے رولز میں ترامیم پر غور کررہے ہیں،چیف جسٹس

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

  • عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

    عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان سے جیل ملاقاتوں پر 12 مارچ پابندی کے آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ کئی سو درخواستیں آرہی ہیں ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں یہ طے ہو گیا ہے ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ آرڈر یہ ہوا تھا کہ وکلا کے علاؤہ چھ افراد کو ملنے کی اجازت ہو گی ، میرے پاس سات ہزار قیدی ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر چھ افراد کو ملنے کی عدالت نے اجازت دی جو ہمارے لئے ممکن نہیں ؟جسٹس ارباب محمد طاہر نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر روز کسی نئے اعتراض کے ساتھ ہمارے پاس آجاتے ہیں ، ان آرڈرز کے فیلڈ میں ہوتے ہوئے آپ نے دیکھنا ہے ،کیا آپ ان آرڈرز کی خلاف ورزی چاہ رہے ہیں ؟ کونسے ایسے لوگ ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا ؟ شیر افضل مروت ، قومی اسمبلی کے ممبران ، سینیٹر آپ ان کو چیک کریں ، اگر عدالتی حکم پر عمل نہیں کریں گے تو کیوں نا سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ہو ؟

    سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں کہا کہ میں کورٹ کے حکم پر بھی عمل کرتا ہوں یہ محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن بھی ہے ،عدالت نےسپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ٹرمز پر ان کو ہم نے منا کر طے کیا تھا کہ یہ کب کب ملیں گے ، پہلے ہی آپ کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں زیر التوا ہیں ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور وکلاء کو میکنزم بنانے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ دونوں فریق بیٹھ کر ایک میکنزم بنائیں اور 12 بجے آگاہ کریں ،

    ہر بندہ آ کر کہتا میں وکیل ہوں،ملاقات کرنی، جیل حکام عدالت میں پھٹ پڑے
    بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے میکنزم طے کر لیا ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ہم یہ پٹیشن زیر التوا رکھ رہے ہیں آپ ایس او پیز بنا لیں ،عدالت نے شیر افضل مروت کو ہدایت کی کہ آپ فوکل پرسن مقرر کر دیں، شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم آج چار لوگ اور منگل کو دوبارہ ملاقات کے لیے جائیں گے،جسٹس اربا ب طاہر نے کہا کہ ہم آپ کو یہ نہیں کہہ رہے کہ سب لوگوں کو جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دیں،جیل سریڈینٹ نے کہا کہ یہ پرابلم اس وجہ سے آ رہی ہے کہ دنیا جہان کا ہر آدمی کہہ رہا ہے کہ وہ وکیل ہے اور ملاقات کرنی ہے، بیس وکیل سماعت پر آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اندر جانا ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ کو بانی پی ٹی آئی نے جن چھ وکلا کے نام دیے صرف وہی ملاقات کریں گے، جیل سپریڈنٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں سے ملاقات پر پابندی کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکشن ہیں، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ وہ آپ کو ڈائریکٹ نہیں کر سکتے، یہ آپ کی صوابدید ہے،

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستار نے سماعت کی،موبائل کمپنیز کے وکیل کی جانب سے دلائل دیئے گئے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کہہ رہی ہے ہم کسی کو مجاز نہیں کرتے ، وکیل موبائل کمپنیز نے کہا کہ سسٹم بھی لگا ہوا ہے چابی بھی ان کے پاس ہے وفاقی حکومت کا اختیار ہے گورنمٹ اور ایجنسیز کو سسٹم تک رسائی ہے وہ سسٹم ان کے دائرہ اختیار میں ہے ، ہم سسٹم تک پی ٹی اے کو رسائی دے دیتے ہیں وہ جس ایجنسی کو چاہتی ہے وہ دے دیتے ہیں ، پی ٹی اے اس حوالے سے بہتر جواب دے سکتا ہے ، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کسی موبائل کو ٹریس کرنے کے لیے آپ کا کیا کردار ہوتا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ یہ معلومات میں حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کروں گا ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ابھی تک مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ یہ سب کس قانون کے تحت ہو رہا ہے ؟ کسی ایجنسی کو اتھارٹی دی گئی آپ کو معلوم نہیں ، سسٹم جہاں لگا ہے آپ کی وہاں تک رسائی نہیں ہے ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت میں اپنی رپورٹ میں جو کہا تھا کہ رسائی نہیں دی گئی وہ اس آڈیو کال کی حد تک تھا ،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ دوگل صاحب ایسی بات نا کریں اٹارنی جنرل نے یہاں آکر کہا ہے کہ کسی کو کوئی اجازت نہیں دی گئی ، آٹھ ماہ سے پوچھ رہا ہوں کس فریم ورک کے تحت آپ کام کر رہے ہیں ،آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس آڈیو کال کی بات کر رہے تھے ،چار سیکریٹریز نے بیان حلفی جمع کرائے ہیں ، اگر کسی نے عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ، کل کو عام بندہ آپ کے پاس آجائے تو آپ اس کو مجاز ایجنسی تو نہیں کہیں گے ، آپ کو پتہ تو ہونا چاہیے نا کہ مجاز ایجنسی کون سی ہے جس کو آپ رسائی دے رہے ہیں اگر کوئی تفتیشی افسر آپ سے معلومات مانگے تو آپ دے دیں گے ؟ آپ کی طرف سے معلومات کیسے شئیر ہوتی ہے اس حوالے سے عدالت سمجھنا چاہتی ہے ، پی ٹی اے وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر کیسے لیگل انٹرسیپشن کی شقیں شامل کر سکتا ہے؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ قومی سلامتی یا کسی بھی جرم کے خدشے پر وفاقی حکومت فون ٹیپنگ کی اجازت دے سکتی ہے، فون ٹیپنگ کی اجازت دینا وفاقی حکومت کا اختیار ہے پی ٹی اے کا نہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے لیگل انٹرسیپشن کی کوئی اجازت نہیں دی، کیا وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر ٹیلی کام آپریٹرز کسی ایجنسی کو اجازت دے سکتے ہیں؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ اگر پی ٹی اے کے پاس ایسی کوئی شکایت آئے تو ریگولیٹر کے طور پر ایکشن لیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نیشنل سیکیورٹی کیلئے لیگل انٹرسیپشن کی اجازت دینے میں تو مسئلہ نہیں،آپ کا موقف ہے کہ پی ٹی اے نے لیگل انٹرسیپشن کیلئے کبھی خط و کتابت نہیں کی؟

    مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے،چیئرمین پی ٹی اے
    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا کہ میں بات کر سکتا ہوں؟ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جی بالکل، آپکو انا کی تسکین کیلئے نہیں بلکہ عدالتی معاونت کیلئے طلب کیا ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی اے کسی ایجنسی کو کوئی سہولت فراہم کر رہی ہے؟ چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پی ٹی اے نے یہ شق ڈالنی ہوتی ہے اس پر عملدرآمد ہوتا ہے یا نہیں اس سے ہمارا تعلق نہیں، لیگل انٹرسیپشن کے علاوہ لائسنس کی تمام شقوں پر پی ٹی اے عملدرآمد کراتا ہے،میں گزشتہ ہفتے بارسلونا میں ٹیلی کام سے متعلق کانفرنس میں Keynote Speaker تھا،90 فیصد موبائلز میں وائرس ہوتا ہے، کیمرہ بھی آپریٹ کیا جا سکتا ہے،اسرائیل کی ایک کمپنی نے پیگاسس سافٹ ویئر بنایا جو موبائل کو متاثر کرتا ہے، یہ مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے جسٹس بابر ستار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فون میرے پاس چھوڑ کر واش روم جائیں تو اتنی دیر میں اپنا موبائل کنکٹ کر کے مکمل رسائی لی جا سکتی ہے، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے کہہ رہے ہیں کہ غیرقانونی انٹرسپشن ایک سمندر ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب غیرقانونی فون ٹیپنگ ہو رہی ہے؟

    ٹیلی کام آپریٹرز کے وکیل کو آئندہ سماعت تک تحریری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،چیئرمین پیمرا مرزا سلیم بیگ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،اور کہا کہ پیمرا اس متعلق ایڈوائزری جاری کر سکتا ہے، آڈیولیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت آئیندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،سنی اتحاد کونسل کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے،علی ظفرنے گزشتہ روز پیش نہ ہونے پر عدالت سے معذرت کی اور کہا کہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی سے بلّے کا نشان لیا گیا، پشاور ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر بلّا واپس کردیا تھا، سپریم کورٹ نے دوبارہ الیکشن کمیشن کے حق میں فیصلہ دے کر نشان واپس لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، الیکشن کمیشن نے ہماری سیٹیں ایک طرف کر کے باقی سیاسی جماعتوں کو دے دیں،عدالت نے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ یہ کیس کس حد تک ہم سن رہے ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ کیس قومی اسمبلی اور کے پی اسمبلی حد تک محدود ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ ان 78 سیٹوں کا ہم فیصلہ کریں گے، الیکشن کمیشن کو 6 درخواستیں موصول ہوئیں کہ سنی اتحاد کونسل حقدار نہیں، پہلا نکتہ سنی اتحاد سیاسی جماعت نہیں، دوسرا سنی اتحاد کونسل نے لسٹ نہیں دی، تیسرا نکتہ یہ کہ سیٹیں اگر ان کو نہیں ملتیں تو ہمیں دے دیں، کچھ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دیں کہ یہ سیٹیں انہیں دے دیں، درخواستیں دینے والی سیاسی جماعتیں تھیں، درخواست گزاروں نے اپنے لیے سیٹیں مانگ لیں، الیکشن کمیشن نے 2 وجوہات پر فیصلہ دیا کہ سنی اتحاد سیاسی پارٹی نہیں اور لسٹ نہیں دی، الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کی مخالفت کی، 4 نے حمایت کی، سنی اتحاد کونسل رجسٹرڈ پارٹی ہے اور اس کا انتخابی نشان بھی ہے، الیکشن میں حصہ نہ لینا اتنی بڑی بات نہیں، بعض اوقات سیاسی جماعتیں انتخابات سے بائیکاٹ کر سکتی ہیں، سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے،

    جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ اگر انتخابات میں حصہ نہیں لیتے پھر کیا ہو گا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں پہلے اس پر بات کر رہا ہوں کہ میں سیاسی جماعت ہوں، میں سیاسی جماعت ہوں تو میرے بنیادی آئینی حقوق کیا ہیں؟ آرٹیکل 17 کے تحت میرے کئی بنیادی حقوق بنتے ہیں، آئین کہتا ہے کہ جس جماعت نے جتنی سیٹیں جیتی ہیں، اس کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائینگی، ہم نے الیکشن کمیشن کا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ چیلنج کیا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے سیکشن 104 کو بھی چیلنج کیا ہے، الیکشن کمیشن نے سیکشن 104 اور 51 کی غلط تشریح کی ہے، سوال آیا کہ سیاسی پارٹی؟ میرے خیال میں جماعت وہ ہے جو ان لسٹ ہے، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 210 اور 202میں سیاسی پارٹی کا ذکر موجود ہے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا لیکن یہ ضروری نہیں، بائیکاٹ بھی الیکشن کا حصہ ہوتا ہے، عدالت نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اگر ایک پارٹی الیکشن نہ لڑے تو پھر پولیٹیکل پارٹی ہوتی؟ پولیٹیکل پارٹی تو سیٹیں جیتنے کیلئے الیکشن میں حصہ لیتی ہے، علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے پاس انتخابی نشان ہے اور الیکشن لڑنے کا اختیار ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی پارٹی الیکشن میں حصہ نے لے تو وہ پارٹی رہتی ہے یا نہیں ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے، کوئی سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں لے سکتا جب تک سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہو، آئین میں پولیٹیکل جسٹس کا ذکر واضح لکھا ہوا ہے، ہر وہ شہری جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے یا کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے، آرٹیکل 72 کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کئی حقوق حاصل ہیں، سیاسی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں،حکومت بنا سکتی ہے، مخصوص نشستیں حاصل کر سکتی ہے،

    جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے،عدالت
    عدالت نے کہا کہ پاکستان میں 100 سے زائد سیاسی جماعتیں ہیں،کل تو ہر کوئی بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑے گا، کامیاب ہونے کے بعد پھر وہ بھی مخصوص نشستیں مانگے گا، مخصوص نشستیں کیوں دوسری جماعتوں کو نہ دی جائیں؟ علی ظفر نے کہا کہ پہلی بار لوگوں نے شخصیات کو ووٹ دیا ہے، جس نے جتنی سیٹیں جیتیں اسے اسی تناسب سے سیٹیں ملتی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ انکی سیٹیں بڑھا دی جائیں، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اگر یہ سیٹیں نہیں دی گئیں تو پارلیمنٹ پوری نہیں ہو گی؟علی ظفر نے کہا کہ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ آپ آئین کی ایسی تشریح کریں کہ یہ خلا پیدا نہ ہو، یہ کہیں نہیں لکھا کہ آپ لسٹ دوبارہ نہیں دے سکتے، یہ دوسرا شیڈول بھی جاری کر سکتے ہیں، جنرل الیکشن کا بھی انہوں نے سیکنڈ شیڈول جاری کیا، یہ کہنا کہ آپ لسٹ اب نہیں دے سکتے یہ غلط ہے، عدالت نے کہا کہ جو پارٹیاں الیکشن میں حصہ نہیں لیتی ان کا حق نہیں بنتا ،زیرو کے ساتھ جو بھی جمع کریں وہ زیرو ہی ہوتا ہے، علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ لسٹ کب دینی ہے،بہتر سمجھ یہ ہو گی کہ انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کا الیکشن شیڈول آ جائے، سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک دن مخصوص ہو گا، یہ نہیں لکھا کب ہوگا، دوسری لسٹ پر کوئی پابندی نہیں کہ آپ لسٹ نہیں دے سکتے، سیکشن 104 ہم سے ہمارے آئینی حقوق نہیں چھین رہا،

    آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،علی ظفر
    جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کو انکا مخصوص نشست کا حصہ مل چکا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ جو حالات بن گئے پہلی مرتبہ ایسا ہوا، جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کیا یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہنی چاہئیے، علی ظفر نےکہا کہ بلکل خالی بھی رہنی چاہئیے اور دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسا کبھی پہلے ہوا ہے، علی ظفر نے کہا کہ باپ پارٹی کو 2018 میں مخصوص سیٹ الاٹ کی گئیں ہیں ،جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا ہے کہ آپ نے وہ دستاویزات نہیں دیئے، علی ظفر نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ باب کا حق تو زیادہ ہے۔ جس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا، علی ظفر نے کہا کہ ہمیں پھر آپ بیٹا سمجھ لیجیے، کے پی میں اکثریت کو کیسے اپنے مخصوص نشستوں سے محروم رکھا جائے، آئین کو وقت کی ضرورت کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے،یہاں پر پارٹی کو ووٹ ملا ہے, جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ پارٹی کو ووٹ ملا ہے،

    سکندر بشیر نے کہا کہ یہ درخواستیں تمام اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے لیے ہیں جو کہ اس عدالت کے دائرہ اختیار سے بھی باہر ہیں،سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں ان درخواستوں سے مماثلت رکھتی ہیں،تمام درخواستوں میں ایک ہی درخواست گزار ہے،درخواستوں میں ایک ہی پیٹرن کو فالو کیا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں بھی لارجر بینچ کے لیے استدعا کی گئی ہے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ پہلی درخواست ہمارے سامنے موجود ہیں, دیگر صوبوں کےہائیکورٹ اپنے فیصلے دیں گے،الیکشن کمیشن کے وکیل کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مبشر عدالتی معاونت کے لیے روسٹرم پر آگئے،ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل اسی کیس میں پہلے وکیل ہونے کے باعث عدالتی معاون نہیں ہوسکتے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کیا تو پھر وہ پارلیمنٹری پارٹی بن گئی،پولیٹکل پارٹی کی تعریف یہ ہے کہ اس نے الیکشن میں حصہ لیا ہو.

    مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست خارج کر دیا ہے،پشاور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنادیا ،پانچ رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کا کیس خارج کردیا

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، بیرسٹر علی ظفر، عثمان گل اور ظہیر عباس چودھری عدالت میں پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،جیل حکام نے صرف 6 وکلاء کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔جیل حکام نے صرف 6 صحافیوں کو پروسیڈنگز کور کرنے کی اجازت دی۔شاہ محمود قریشی کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی بھی ملاقات کیلئے جیل کے باہر موجود تھے،میڈیا کو جیل سے دو کلو میٹر دور کوریج کی اجازت دی گئی ہے۔جیل کے اندر اور اطراف سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔وکلاء کی بڑی تعداد جیل کے باہر موجودتھی،

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس کی سماعت 16 مارچ تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے نیب کے تین گواہان کے بیانات قلمبند کرلئے۔گواہان کا تعلق فارن آفس، اسٹیٹ بینک، کیبنیٹ ڈویژن اور القادر یونیورسٹی سے ہے۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔نیب کے پراسیکیوٹر عرفان بھولا ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔دوران سماعت وکلاء کے تاخیر سے آنے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ صبح دس بجے سے آئے ہوئے ہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہمیں جیل کے اندر پوری دستاویزات لانے کی بھی اجازت نہیں،

    دوسری جانب مشعال یوسفزئی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم صبح 9 بجے سے اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں ہمیں اندر جانے نہیں دِیا جارہا ہے۔ باقی روٹین کی موومنٹ چل رہی ہے ، مخالف وکیل ،پراسیکیوٹر سب پروٹوکول کے ساتھ اندر باہر جارہے ہیں، شاید ہم ہی وہ دہشت گرد ہیں جس سے اڈیالہ جیل کو خطرہ ہے اور جس سے پنجاب کی مینڈیٹ چور چیف منسٹر خوف کا شکار ہے۔عمران خان جیل میں بیٹھ کر اس ملک کے پورے نظام پر بھاری ہے۔

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان
    سابق وزیراعظم عمران خان نےاڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے،الیکشن نتائج فراڈ جاری ہوئے،اداروں کی ساکھ ختم کر دی گئی،سیکورٹی تھریٹ فریب اور جھوٹ ہے،سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے،ادارے تباہ ہو چکے ہیں،انتخابات میں پی ٹی آئی کو میدان میں نہیں آنے دیا گیا،ووٹر نے پولنگ ڈے پر ان سے بدلہ لیا،لیکن ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا گیا،انھوں نے مینڈیٹ چھین کر قوم کی امید ختم کر دی ہے،میری ساری پیشگوئیاں سچ ثابت ہوئیں،اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ہے
    کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی،وکلا تک سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں،اب مہنگائی میں اضافہ ہو گا،عوام باہر نکلے گی
    ہمارا پرامن احتجاج کا سلسہ جاری رہے گا،ہم انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ بھی جائیں گے ،سینٹ الیکشن میں پھر پیسہ چلنے والا ہے،گزشتہ سینٹ انتخابات میں گیلانی کا بیٹا پکڑا گیا،آج تک سزا نہیں ہوئی

  • آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے ساتھ ماحولیات کی فنڈنگ پر بھی بات ہو سکتی ہے، ماحولیات کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف کچھ ممالک کو کوٹے سے زیادہ قرض دیتا رہا ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے بڑا اور طویل مدت کا پروگرام لینا چاہتے ہیں، پاکستان اپنے کوٹے کے حساب سے بڑا پروگرام لینے کی کوشش کرے گا، آئی ایم ایف پروگرام میں تسلسل رہیں گے تو معاشی نظم و ضبط رہے گا،معیشت کی بہتری آئی ایم ایف سے زیادہ ہماری حکومت کا ہدف ہے، وزیراعظم شہباز شریف معیشت کی بہتری کے لیے کلیئر وژن رکھتے ہیں، وزیراعظم نے معاشی نظم و ضبط قائم رکھنے کی سخت ہدایت کی ہے، آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آئی ایم ایف نے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں 1.1 ارب ڈالر دینے ہیں، آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام کا ابتدائی خاکہ تیار کر رہے ہیں، معاشی استحکام آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کا مشترکہ ہدف ہے،آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے ساتھ ماحولیات کی فنڈنگ پر بھی بات ہو سکتی ہے، ماحولیات کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف کچھ ممالک کو کوٹے سے زیادہ قرض دیتا رہا ہے

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا معیشت کی بہتری کے لیے نگران حکومت نے توجہ سے کام کیا، نجکاری کے معاملات فواد حسن فواد نے بڑی دلچسپی اور محنت سے چلائے، ٹیکس آمدن کو ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرنا چاہتے ہیں،یکس نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، قومی آمدنی میں ٹیکسوں کا حصہ 10 فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں.

  • کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟  عدالت کا استفسار

    کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ عدالت کا استفسار

    پشاور ہائی کورٹ ، مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا

    جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قاضی انور، اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے ، پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فیصل کریم کنڈی اور فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا تھا؟ جسٹس ارشد علی نےکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے تو خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، قاضی انور نے کہا کہ بالکل انکا کوئی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا، آزاد امیدواروں نے قانون کے مطابق 3 روز میں سنی اتحاد کونسل جوائن کی،

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کے بعد لسٹ دی، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مخصوص نشستیں خالی چھوڑ دی جائیں تو پھر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہو گی،قاضی انور نے کہا کہ مخصوص نشستیں دوسری پارٹیوں کو نہیں دی جا سکتیں، اگلے الیکشن تک خالی رہیں گی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی پہنچ گئے، بیرسٹر ظفر نہیں آئے،سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ مجھے وقت دیں کہ میں تھوڑی تیاری کر لوں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ ہر وقت تیار رہتے ہیں، ہم انٹیرم ریلیف واپس لے لیں گے،پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کل سینیٹ کے انتخابات بھی ہیں

    کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے؟ عدالت
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، سیاسی جماعت انتخابات میں نشستیں لینے کے بعد پارلیمانی جماعت بن جاتی ہے۔عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیلئے لسٹ فراہمی کا طریقہ کار الیکشن ایکٹ میں موجود نہیں ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی میں مکس ممبران کی نمائندگی کا قانون ہے، اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے قبل مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع کروانی پڑتی ہے، جنرل الیکشن میں درخواست گزار پارٹی نے حصہ نہیں لیا،عدالت نے کہا کہ لسٹ کا طریقہ کار قانون میں واضح نہیں، کیا سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور کیا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن کے متعدد سیکشنز کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں یہ دیکھنا ہے، قانون کے مطابق جو سیاسی پارٹی جنرل الیکشن میں حصہ لے، کوئی سیٹ جیتے تو مخصوص نشستیں اسے ملیں گی، سیاسی پارٹی جب کوئی سیٹ جیت جائے اور پھر آزاد امیدوار شمولیت اختیار کریں تب ہی اسے مخصوص نشستوں کا فائدہ ہو گا، عدالت نے کہا کہ آپ کے دلائل کے مطابق سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل سیٹ جیتنے کے تناسب سے سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 15 ڈی پر بحث کریں تاکہ واضح ہو جائے، کیا سنی اتحاد کونسل ایک پارٹی ہے یا نہیں؟ کیا وہ صدارتی، سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے؟ کیا سنی اتحاد کونسل اپوزیشن لیڈر بنا سکتی ہے؟

    سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون میں سیاسی جماعت کو کم از کم جنرل الیکشن میں سیٹ جیتنا لازمی ہے،عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا ایسا کیس کبھی سامنے نہیں آیا ہے، یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو،عدالت نے کہا کہ ایک اور قانون بھی ہے کہ آزاد امیدواروں کو 3 دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنی ہو گی، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی پارٹی میں کوئی آزاد امیدوار چلا جائے تو کیا ہو گا؟ الیکشن کمیشن کے ایکٹ 2017 کو پاس کرتے وقت پارلیمنٹ مخصوص نشستوں کا معاملہ زیر غور نہیں لائی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لسٹ جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہوتا ہےالیکشن سے قبل لسٹ جمع کرانا لازمی ہوتا ہے، مخصوص نشستوں کو شائع کیا جاتا ہے، ووٹر مخصوص نشستوں کی لسٹ دیکھ کر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیتا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی جماعت مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہ کرائے؟ اگر وہ جماعت پاکستان کی بڑی جماعت ہو تو الیکشن ایکٹ اس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت لسٹ جمع کراتی ہے الیکشن سے قبل کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ یہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کریگی، کسی بھی جماعت کو مخصوص نشستیں لسٹ کے مطابق ملتی ہیں، اگر کوئی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو مخصوص نشستوں کے حصول سے انہیں نکالا جائے گا،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ صورتحال ہے کہ آزاد امیدواروں نے پارٹی جوائن کر رکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جنرل سیٹس کے علاوہ مخصوص نشستوں کا سوچ بھی نہیں سکتے،جسٹس عتیق شاہ نے اسفتسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹی ہے لیکن پارلیمانی پارٹی نہیں کیونکہ کوئی سیٹ نہیں جیتی،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ قانون میں اس بات کا ذکر تو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں یہ بات واضح ہے، رولز کے مطابق سیٹ جیتنے والی پارٹی کو مخصوص نشستوں کی لسٹ پہلے جمع کرانی ہوتی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ایک جماعت 12 اور دوسری 18 جنرل نشستیں جیت جائے؟ آزاد امیدوار 12 جنرل نشستیں جیتنے والی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو پھر کیا ہوگا؟اس صورت میں تو وہ پارٹی آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد بڑی پارٹی بن جائیگی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پھر بھی امیدواروں کی لسٹ جمع کرانے کی شرط پوری کرنی پڑے گی، عدالت نے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اگر آزاد امیدوار کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں تو کیا اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ دی جاسکتی ہیں لیکن اگر پارلیمان میں اس پارٹی کی کوئی نمائندگی ہو تب، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو گئے.

    الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند کے دلائل شروع ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو سپورٹ کرتا ہوں، سنی اتحاد کونسل سیکشن 51 ڈی کے مطابق ایک سیاسی جماعت نہیں،سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں، مخصوص نشستوں کے امیدوار پورے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مخصوص نشستوں کیلئے 3 مختلف سیکشنز پورے کرنے لازمی ہوتے ہیں، اگر کوئی جماعت اس میں ایک بھی پورا نہ کرے تو وہ سیاسی جماعت تصور نہیں ہو گی، قانون کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کو ملیں گی جو الیکشن میں حصہ لے گی، اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی جماعت کو ہی مخصوص نشستیں ملیں گی، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا، اگر سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تو اس کا کیا مطلب ہوا، کسی جماعت کو تب ہی مخصوص نشستیں ملیں گی جب کم از کم ایک جنرل نشست جیت جائے، پولیٹیکل پارٹی جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہو اسے مخصوص نشستیں ملیں گی، آرٹیکل 51 d اور سیکشن 104 کہتا ہے کہ ایک جنرل نشست ہوگی تو ان کو ملے گی،کاغذات نامزدگی کے آخری دن سے پہلے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی دینی ہوتی ہے، سنی اتحاد کونسل کی کوئی جنرل نشست نہیں ہے اور نہ مخصوص لسٹ پہلے جمع کرائی ہے، قانون میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے لیکن ابھی یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، : تشریح یہی ہے کہ کم از کم ایک سیٹ جیتنی لازمی ہے، اب یہ فیصلہ بنچ نے کرنا ہے کہ تشریح درست ہے یا نہیں

    مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، فاروق ایچ نائیک
    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مخصوص نشستیں اسی پارٹی کو ملتی ہیں جو الیکشن لڑتی ہے، جب کوئی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیتی تو لسٹ کیوں دے گی،مخصوص نشستوں کی فہرست میں اس وقت اضافہ ہوگا جب اس میں نام کم پڑتے ہیں، کوئی فہرست نہ دینے کی صورت میں پارٹی مقابلے سے باہر ہو جاتی ہے، فاروق ایچ نائک کے دلائل مکمل ہو گئے

  • ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: چترال میں اراضی تنازعہ کیس،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مفروضوں پر کیس نہیں چلا سکتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ثبوت ہیں تو دکھا دیں، دوران سماعت وکیل درخواست گزار کی جانب سے پارٹیشن کے الفاظ پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارٹیشن کے بجائے آزادی کے بعد کے الفاظ استعمال کریں،پارٹیشن کے الفاظ ہندوستان والے کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ کبھی حکمران نہیں رہے، ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے،

    سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کردی.اس سے قبل درخواست گزار سول کورٹ اور ہائیکورٹ میں بھی جائیداد کی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہا

  • عمران خان سے ملاقات ،دو ہفتے کے لئے پابندی

    عمران خان سے ملاقات ،دو ہفتے کے لئے پابندی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی

    عمران خان سے ملاقات پر پابندی کا فیصلہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کیا گیا ہے،عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ،عدالتی احکامات پر جیل انتظامیہ نے منگل اور جمعرات کا ملاقاتوں کے لیے مختص کر رکھا تھا ،وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سمیت دیگر سیاسی افراد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر چکے ہیں ،فیصلے کے بعد جیل انتظامیہ نے جیل کے گیٹ نمبر 5 کے سامنے میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی،سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی مین عمران خان سمیت تمام قیدیوں کی ملاقاتوں و جیل وزٹس پر دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے،فیصلہ دہشت گردوں کی جانب سے جیل کو نشانہ بنانے کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے آئی جی جیل خانہ کو احکامات دے دیئے،

    پولیس نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کوریج پر پابندی لگادی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج ملاقاتوں کا دن ہے، میڈیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والوں کی کوریج کرتا ہے،راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل گیٹ نمبر 5 کے باہر میڈیا گاڑیوں کی پارکنگ پر بیرئیر لگادئیے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کیمروں والی جگہ پر قناتیں لگادی گئی ہیںَ موقع پر موجود سیکورٹی اہلکار کہتے ہیں کہ میڈیا کو آج کوریج کی اجازت نہیں، میڈیا ٹیمیں جیل سے 2 کلومیٹر دور چلی جائیں،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں‌قید ہیں، تین مقدمات میں انہیں سزا ہو چکی ہے، عمران خان سے جیل میں ملاقات کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اور انکے وکیل، عمران خان کی بہنیں، میڈیا سے بات چیت کرتی ہیں تا ہم آج معمول سے ہٹ کر ایسا ہوا کہ پولیس کی جانب سے میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ہے.

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر سپریٹنڈنٹ جیل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی،مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی،وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی اور انچارج پولیٹیکل افیئرز اسد عباس شاہ بھی پٹیشنرز میں شامل ہیں، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی آرڈر کے ساتھ اڈیالہ جیل گئے مگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی،جیل حکام کو آٹھ مارچ کا آرڈر دکھایا تو انہوں نے انتظار کرنے کا کہا، گیارہ مارچ کو صبح نو بجے سے شام چار بجے تک انتظار کرانے کے باوجود ملاقات نا کرائی گئی، عدالتی احکامات کی مصدقہ کاپی دکھانے کے باوجود پٹیشنرز کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر جیل سپریٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے.

    وہ جو دہشتگرد پکڑے گئے تھے کیا انکی شناخت ہوئی تھی انسے کیا برآمد ہوا؟ عمر ایوب
    تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر لوگ عدالتی حکم کو ماننے سے انکاری ہیں، میں خود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے گیا ہوں پر نہیں ملنے دیا جا رہا، جس شخص کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر وزیر داخلہ بنایا گیا ہے اس کی ذمہ داری بنتی ہے، بحیثیت اپوزیشن لیڈر میں یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے،اڈیالہ جیل کے باہر ماحول بلکل پر امن تھا ،یہ سب صرف ڈھونگ ہے، اس کا مقصد صرف بانی پی ٹی آئی کو تنہا کرنا ہے،وہ جو دہشتگرد پکڑے گئے تھے کیا انکی شناخت ہوئی تھی انسے کیا برآمد ہوا،اڈیالہ جیل کے اطراف سے پکڑے جانے والے دہشتگرد کی کوئی شناخت ہوئی؟کیا بتایا گیا ان کا تعلق کس تنظیم سے تھا، کیا یہ بتایا گیا ان دہشتگردوں سے کون سے ہتھیار اور بارود برآمد ہوا، یہ سب ایک ڈھونگ رچایا جا رہا ہے،اس طرح کی سرگرمیوں کو دیکھ کر تو جیل خانہ جات کے افسران کو فارغ کر دینا چاہیے تھا،لیکن اس کو پس پردہ رکھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے،جیل کی سیکورٹی دیکھیں اس کی دیواریں دیکھیں وہاں اتنے سیکورٹی اہلکار مامور ہیں یہ تو خود جیل کی سپریڈنٹ کی نا اہلی اس سے ثابت ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی کو اس کیس میں اندر رکھا ہوا ہے جو توشہ خانہ جو گھڑی انکی اپنی تھی بیچی ،اس کے مطابق تو آصف علی زرداری جو کہ صدر اور نواز شریف ایم این اے انہوں نے گاڑیاں لی ہیں انکو اس وقت جیل میں ہونا چاہئے،

    ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا جائے،بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے دس وکیلوں کی لسٹ دی تھی، ہمیں رولز کے مطابق موقع نہیں ملا، ہماری جب بھی ملاقات ہوتی تھی اچانک ہوتی تھی، آج نہ فیملی کی ملاقات ہو سکی نہ وکیلوں کی ملاقات ہو سکی، یہ بتایا گیا ہے کہ دو ہفتوں کے لئے ملاقات پر پابندی لگائی گئی ہے،وجہ دہشتگردی کا خدشہ بتایا گیا ہے،ہم اس کی مزمت کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو لاحق خطرات پوری دنیا کو پتا ہے، بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے،کل تک ہماری ملاقات کے لئے کوئی طریقہ بنایا جائے،ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا جائے، بتایا جائے کہ یہ سمری کہاں سے موو ہوئی ہے، ہم اس کی مزمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کل تک ملاقات ہو جائے،

  • سائفر کیس،عمران خان کی  سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ اپیل قابل سماعت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قانون کے مطابق بتائیں کہ اپیل قابل سماعت کیسے نہیں؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ 1923کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ اپیل نہیں ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں اپیل کا کوئی حق موجود ہی نہیں ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا ضابطہ فوجداری کے تحت بھی اپیل نہیں ہو گی؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ سی آر پی سی اس حوالے سے خاموش ہے، اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل قابل سماعت ہی نہیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ہمارادوسرا اعتراض یہ ہے کہ اپیل 2رکنی بنچ نہیں سن سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ آپ متبادل اعتراض کررہے ہیں؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ پہلی استدعا ہے کہ اپیل قابل سماعت نہیں، دوسرا اعتراض 2رکنی بنچ پر ہے،یہ اپیل ہائیکورٹ کا سنگل بنچ سن سکتا ہے، 2رکنی بنچ نہیں،

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں ابھی اپیل سے متعلق پروسیجرل طریقہ کار سے بتائیں کہ طریقہ کار کیا ہوگا؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت کے سامنے اسپیشل کورٹس کے ججز کی تعیناتی کے قوانین عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پروسیجرل لاء تمام سی آر پی سی تو نہیں، ایک شق ہے،سیکشن 10 کو دیکھیں تو اس نے طریقہ کار سے متعلق بتایا ہے،کیا یہ اپیل سیکشن 10 کے تحت ہے یا سی آر پی سی کے تحت دائر ہوئی ہے؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہ اپیل سی آر پی سی کے سیکشن 410 کے تحت دائر کی گئی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر نےایک بار پھر اسپیشل کورٹس کے ججز کی تعیناتی بارے قوانین کے حوالے دیئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جو سوالات پوچھے گئے انہیں پر دلائل دیں، کچھ قوانین کا استعمال بارڈر کے اس پار بھی استعمال ہورہے ہیں،

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل سکندر ذولقرنین نے اسپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایکٹ میں پراسیکیوٹر کا ذکر نہیں ہے تو یہ کونسل کیسے بنے ہوئے ہیں ،ایف آئی اے نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر پراسیکیوشن کے بنیادی اعتراضات پر دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی