Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سیاسی معاملات  اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    سیاسی معاملات اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    پاکستان تحریک انصاف کے خط پر آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹرپیرز کا اہم بیان سامنے آیا ہے

    آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹرپیرز کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط 28 فروری کو موصول ہوا، تحریک انصاف کا خط پاکستان کے قرض پروگرام کے بارے ہے،آئی ایم ایف سیاسی معاملات کو اندرونی معاملہ سمجھتا ہے،ایسے معاملے میں عالمی ادارہ مداخلت نہیں کرتا، آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا معاشی مسائل تک مینڈیٹ محدود ہے،ہم ادارہ جاتی معاشی استحکام اور ترقی کیلئے انتخابی تنازعات کے شفاف اور پرامن حل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،پاکستان کیساتھ سینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے دوسرے جائزے پر مذاکرات کے منتظر ہیں،حکومت پاکستان درخواست کرے تو نئے وسط مدتی اقتصادی پروگرام کی حمایت کریں گے،آئی ایم ایف کا مقصد معاشی ترقی کے استحکام کو گہرا کرنا ہے،چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے کیلئے محصولات کے حصول کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،توانائی کے شعبے کی عملداری اور ادارہ جاتی نظم ونسق میں اصلاحات پاکستان کیلئے ناگزیر ہیں،ہم نئی پاکستانی حکومت کیساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد اپنا مشن بھیج رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے جس میں عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا حب الوطنی نہیں،شرجیل میمن

  • وزیراعظم مظفر آباد پہنچ گئے، آزاد کشمیر کے وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم مظفر آباد پہنچ گئے، آزاد کشمیر کے وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے درمیان ملاقات ہوئی ہے

    آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے منصب سنبھالنے پر وزیراعظم شہباز کو مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کو پاکستان کی جموں و کشمیر کیلئے غیر مشروط حمایت کی یقین دہانی کروائی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کی جد وجہد میں ہم ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے،آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے عہدہ سنبھالتے ہی آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کرنے پر وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج آپ کا بارشوں سے متاثرہ افراد کے ساتھ ملاقات کے لیے یہاں آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں

    وزیراعظم کا دورہ آزاد کشمیر،بارشوں سے نقصانات،مالی امداد کا اعلان
    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورہ پر مظفرآباد پہنچے تو مظفرآباد ہیلی پیڈ پر وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے وزیر اعظم کا استقبال کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے مظفر آباد میں‌تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفت سے آزاد کشمیر کے 8 افراد شہید ہوئے،بارشوں اور برفباری کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوئے،متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،وزیر اعظم نےجاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے فی کس 20لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا اور کہا کہ زخمی افراد کو 5لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں گے،منہدم ہونے والے مکانات کیلئے 7لاکھ، جزوی تباہ ہونے والے مکانات کیلئے ساڑھے 3لاکھ دیئے جائیں گے،رقوم کی تقسیم شفاف انداز میں کی جائے گی،این ڈی ایم اے کی مدد سے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا،این ڈی ایم اے کو ہدایت کررہا ہوں کہ جہاں ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہو استعمال کریں، جہاں وزیراعظم آزاد کشمیر کہیں وہاں ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جائے، جموں کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہمارے بھائی بہن مشکل کی اس گھڑی میں اپنے آپ کو اکیلے نہیں پائیں گے

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • آرمی چیف کا آواران کا دورہ،شہداء کے اہلخانہ، مقامی عمائدین سے ملاقات

    آرمی چیف کا آواران کا دورہ،شہداء کے اہلخانہ، مقامی عمائدین سے ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو ضلع آواران کے دورے کے دوران سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کوپاک فوج کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے کوششوں پر بھی بریفنگ دی گئی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہدا کے اہل خانہ، مقامی عمائدین اور کسانوں سے بات چیت کی۔ اور شہدا کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، ان کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے فوج کی بے مثال حمایت کا یقین دلایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مقامی عمائدین، کسانوں کو سلامتی اور فلاح وبہبود کیلئےفوج کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے زراعت کی اہمیت اور گرین پاکستان انیشیٹو کے لیے فوج کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو ہر قسم کی زرعی سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں آسان زرعی قرضوں کی فراہمی، بیج، کھاد، سولر ٹیوب ویل اور ماہرین زراعت کی رہنمائی شامل ہے، تاکہ وہ اپنی زمینیں کاشت کر سکیں اور پاکستان کی ترقی میں شراکت دار بن سکیں۔

    بلوچستان کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔آرمی چیف
    بعد ازاں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کیڈٹ کالج آواران کا افتتاح کیا اور فیکلٹی ممبران اور طلباء سے بات چیت کی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے علاقے کے لوگوں کے لیے بلوچستان میں ایک اور کیڈٹ کالج کے قیام کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج متعلقہ سول محکموں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں ترقیاتی اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔ پاکستانی عوام کو بلوچستان کے ان بہادر لوگوں پر فخر ہے جو تمام مشکلات کے مقابلے میں ڈٹے رہے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن اور خوشحالی کے لیے بلوچستان کے عوام کی حمایت میں اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے۔ قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر بلوچستان کور نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

  • جسٹس مظاہر نقوی  مس کنڈکٹ  کے  مرتکب قرار

    جسٹس مظاہر نقوی مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش اور اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔رواں سال 10 جنوری کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفا دے دیا تھا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا 29 فروری اور یکم مارچ کو اجلاس ہوا، جس میں جسٹس مظاہر نقوی پر بطور جج سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک ججز نے ان الزامات اور صفائی پیش نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔اعلامیے کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ٹھہرے۔ مذکورہ جج کے خلاف 6 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے پانچ پر معزز اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے 14 روز میں جواب جمع کرانے کی مہلت دی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش کر دی سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کو پنشن اور مراعات نہیں ملیں گی
    سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے یہ بات آئی کہ مظاہر نقوی آئین کے آرٹیکل 209 (6) کے مرتکب ہوئے ہیں اور مجرم قرار دیے گئے لہذا صدر مملکت انہیں عہدے سے برطرف کریں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیرِسماعت تھی جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے، اس کے علاوہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔گزشتہ ہفتے سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس (ر) مظاہر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی مکمل کی تھی۔
    سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز پر الزامات لگا کر ان کی تشہیرکی گئی،کئی ججز نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے اپنے رول 5 میں ترمیم کی ہے، رول 5 میں ترمیم کے بعد الزامات پر وضاحت دینے کا حق ججز کو دے دیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق ججز کا مؤقف ہے کہ بےبنیاد الزامات پر جواب سے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 کی خلاف ورزی ہوگی، کونسل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بےبنیاد الزامات کا جواب دینے سے شق 5 کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، ججز کی تشویش کے باعث ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 میں ترمیم کی گئی ہے۔

  • آرمی چیف کی حیدر ٹینک پراجیکٹ کی رول آؤٹ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت

    آرمی چیف کی حیدر ٹینک پراجیکٹ کی رول آؤٹ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے حیدر ٹینک پراجیکٹ کی رول آؤٹ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی،تقریب میں چینی سفیر، پاک فوج کے اعلٰی حکام نے شرکت کی ، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حیدر ٹینک چین اور پاکستان کے اشتراک سے مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے،حیدر ٹینک جدید ترین ٹیکنالوجی اور جنگی صلاحیتوں کا حامل ہے،حیدر ٹینک پاکستان کی دفاعی صنعت کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو حیدر ٹینک کی تکنیکی صلاحیتوں سمیت مقامی تیار کردہ اسلحے اور ہتھیاروں میں پیش رفت کے بارے میں تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ہیوی انڈسٹریل کمپلیکس کے دیگر شعبوں اور تنصیبات کا بھی دورہ کیا اور ایک اور سنگ میل میں کامیابی پر افسران اور افرادی قوت کے عزم کو سراہا،قبل ازیں آمد پر چیئرمین ایچ آئی ٹی نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا استقبال کیا

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

  • القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیب کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواست پر سماعت کی،ٹرائل کورٹ نے عمران خان کی درخواستِت ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کر دی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر نیب کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے قرار دیا کہ آفس فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے درخواست پر نیب کو نوٹس جاری نہیں ہوئے،پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو ضمانت بعد از گرفتاری کا کیس ہے، درخواست گزار جیل میں ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی

    عمران خان کو پیش نہ کرنے پر سپرینڈینٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
    دوسری جانب عمران خان کی6 اور بشری بی بی کی ایک درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی،سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی،دوران سماعت عدا لت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل جواب جمع کروائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ عدالت کی بار بار ہدایت پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں لگوائی گئی، عدالت نے سپرینڈینٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردی

    انٹر نیٹ بڑا بدمعاش ہو گیا ہے،جج طاہر عباس سپرا کے ریمارکس
    دوران سماعت جج طاہر عباس سِپرا اور عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا ،عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے شکوہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی حاضری لگائی گئی نہ عدالت میں پیش کیا گیا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو چاہیے کہ عمران خان کو عدالت میں پیش کریں،جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ عمران خان کو اصولی طور پر عدالت میں پیش کرنا چاہیے، انہیں تحفظ دینا ریاست کی ذمے داری ہے،وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ اب انٹر نیٹ بھی بند کر دیا گیا ہے، کچہری میں نیٹ کام نہیں کرتا،جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ انٹر نیٹ بڑا بدمعاش ہو گیا ہے،جج طاہر عباس سِپرا کے اس جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،

    جیل گئے تو آپ کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا،عمران خان کے وکیل کا جج سے مکالمہ
    جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ آج عمران خان اور بشریٰ بی بی کی حاضری لگا کر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کر دوں گا، اگر ویڈیو لنک پر حاضری نہ لگائی تو مجھے خود فائل اٹھا کر اڈیالہ جیل جانا پڑے گا،وکیل نعیم پنجوتھا نے جج طاہر عباس سِپرا سے کہا کہ جیل گئے تو آپ کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا،جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ ایسا نہ کہیں، میں کچھ نہیں بولوں گا،وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ متعدد بار پروڈکشن آرڈر کے باوجود سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عمران خان کو پیش نہیں کرتے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو طلب کرنا چاہیے،جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب نہ دیا تو توہینِ عدالت کی کارروائی ہو گی،وکیل آمنہ علی نے جج طاہر عباس سِپرا سے کہا کہ عدالتیں ہی آخری امید ہوتی ہیں،جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ آپ درست کہہ رہی ہیں،قانون ہی آخری امید ہوتا ہے،

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    عمران نے کہا ووٹ چوروں کے ساتھ مفاہمت نہیں ہو سکتی،علیمہ خان

  • میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملک بھر میں ممنوعہ اسلحے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ممنوعہ اسلحہ لائسنس رکھنے کی کیٹیگری میں میری اجازت کے بغیر میرا نام بھی شامل کیا گیا، میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس معاملے پر ایک خط بھی لکھا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا، کلاشنکوف کوئی کھلونا یا کنگھی نہیں ہوتی، پبلک سرونٹ کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے، اسکولوں میں جائیں تو وہاں سیکیورٹی گارڈز اسلحہ لیے کھڑے ہوتے ہیں، غریب کے بچوں کے اسکولوں کے باہر تو گارڈز نہیں ہوتے، اسلحہ اٹھائے شخص کے بارے میں کیسے پتہ چلے گا کہ وہ دہشت گرد ہے یا نہیں، شام کو اسلام آباد میں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی اجازت ہے کہ وہ اپنی ٹیبل پر اسلحہ رکھ کر بیٹھیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ شادی کی تقریبات میں اسلحے کی نمائش کی جاتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ امید ہے نئی حکومت اس معاملے پر کواقدامات اٹھائے گی، کوئی بھی ملک کے عوام کا نہیں سوچتا، سوشل میڈیا پر اسلحے کی نمائش کی ویڈیوز موجود ہیں، اسلحہ لیے بڑی مشہور شخصیات کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز موجود ہیں، ہم کسی کا نام لے کر اسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتے، ہم نے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے، آئی جی بھی پولیس کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا ہے، کب تک قانون کے ساتھ مذاق ہوتا رہے گا؟ جب بم پھٹ رہے ہوں تو دیواریں اونچی کر دی جاتی ہیں۔

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات،منصب سنبھالنے پر دی مبارکباد

    وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات،منصب سنبھالنے پر دی مبارکباد

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر , نشان امتیاز (ملٹری) کی وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے وزیراعظم شہباز شریف کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ اور سیکورٹی امور سے متعلق بات چیت کی گئی.

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دو روز قبل ایوان صدر میں حلف اٹھایا تھا، حلف برداری کی تقریب میں بھی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شرکت کی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز گوادر کا دورہ بھی کیا اور بارش متاثرین سے ملاقات کی، امدادی پیکج کا اعلان کیا،آج وزیراعظم شہباز شریف پشاور کا دورہ کر رہے ہیں

    بھارتی وزیراعظم مودی کی شہباز شریف کو مبارکباد

    ملائشیا کے وزیراعظم کا شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ،منصب سنبھالنے پرمبارکباد

    نقصان میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائیگی، وزیراعظم

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین  وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکیس سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سنادی

    سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے متفقہ طور پر صدارتی ریفرنس میں رائے دی،سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے جواب دے دیئے،سپریم کورٹ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی بھٹو کیس میں کاروائی بنیادی انسانی حقاق کے مطابق نہیں تھی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے اس معاملے پر متفق ہے، ہم ججز پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں، سپریم کورٹ کی رائے متفقہ ہو گی، جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کو درست نہیں کر سکتے، ریفرنس میں 5 سوالات اٹھائے گئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو آئین کے مطابق فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، بھٹو کے ٹرائل میں بنیادی حق پر عمل نہیں کیا گیا،بھٹو کیس میں فئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ذولفقار علی بھٹو ٹرائل میں قانونی راستہ نہیں اپنایا گیا،لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فئیر ٹرائل اور آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا،ذولفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ نے مختصر رائے سنا دی،تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائینگی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی جو اب سنا دی گئی ہے،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سپریم کورٹ میں موجود تھے، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان،فیصل کریم کنڈی و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،بلاول
    عدالتی فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،تفصیلی فیصلے کے بعد اپنے وکلاء سے بات کریں گے،عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کے لئے یہ فیصلہ سنا رہے ہیں،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان ترقی کر سکے گا،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی عوام انصاف کی امید رکھے بیٹھے تھے،اس فیصلے کے بعد عوام کو اس ادارے سے انصاف کی امید ہو گی،اس فیصلے کے بعد نظام صحیح سمت میں چلنا شروع ہو جائے گا،

    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شیری رحمان
    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا،تاریخ عدالتی رائے کو یاد رکھے گی،چیف جسٹس اور 9 رکنی بینچ نے بڑے تحمل سے سب کو سنا،
    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شہید بھٹو کے کیس میں عدالت نے ماتھے پر کاری ضرب لگائی،انصاف اور قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی نظام نہیں چل سکتا،ایک مقبول نمائندے کا عدالتی ٹرائل کے ذریعے قتل کیا گیا،چاہتے ہیں عدالت اس بات کو تسلیم کرے کہ فیصلے میں غلطی ہوئی ،ذوالفقار بھٹو نے ڈکٹیٹر سے سمجھوتہ کرنے سے منع کیا تھا،امید ہے لوگ بلاول بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کو سمجھیں گے،آصف زرداری ایک بارپھر صدر کی کرسی پر بیٹھیں گے،پیپلزپارٹی کی حمایت پر تمام اتحادیوں کے شکرگزار ہیں.

    تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی روایت قائم ہوئی ،وزیراعظم
    وزیر اعظم شہباز شریف نےسابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل نہ ملنے کی سپریم کورٹ کی رائے پر بلاول بھٹو زرداری، نامزد صدر آصف علی زرداری، پی پی پی قیادت اور کارکنوں کو مبارک دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی تاریخ ایک نئی روایت قائم ہوئی ہے. عدالت سے ہونے والی زیادتی کو عدالت کا درست کرنا مثبت پیش رفت ہے.بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کی متفقہ رائے قومی سطح پر تاریخ کو درست تناظر میں سمجھنے میں مددگار ہو گی. ماضی کی غلطیوں کی درستگی اور تلخیوں کے خاتمہ سے ہی قومی اتحاد اور ترقی کا عمل تیز ہوسکتا ہے.

    ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق عدالتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے پر پی ٹی آئی کا ردّعمل سامنے آیا ہے، ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں اس حقیقت تک پہنچتے پہنچتے کہ انہیں فیئر ٹرائل نہیں ملا سپریم کورٹ کو 50 سال لگ گئے،بانی پی ٹی آئی کو فیئر ٹرائل کے بنیادی دستوری حق کی دستیابی کیلئے کیا اب قوم کو مزید 50 سال انتظار کرنا ہوگا، ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں عدالتی رائے صرف اسی صورت میں معنی خیز ہو سکتی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ آج لاقانونیت کی راہ روکنے کیلئے پوری قوت سے بروئے کار آئے، فراہمی انصاف کا آفاقی اصول ہے کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے“، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سمیت تحریک انصاف کے اسیر قائدین اور ہزاروں بے گناہ کارکنان کو قیدِ ناحق سے فوراً رہا کیا جائے اور فیئرٹرائلز کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کے فیصلے کئے جائیں،

    دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو ،فاطمہ بھٹو کا صدارتی ریفرنس رائے پر ردعمل
    سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے بھٹو سزائے موت ریفرنس کیس میں عدالتی رائے پر ردعمل دیا ہے، سوشل میڈیا پر فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ نے پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کے خلاف کی گئی تاریخی ناانصافی کا اعتراف کیا ہے، ہم عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو تاکہ اس ملک کے شہری، یہ جان کر خود کو محفوظ سمجھیں، ملکی نظامِ انصاف میں تاخیرتو ممکن ہے لیکن پاکستان اور اس کے بچوں سے کبھی انصاف سے انکار نہیں کیا جائے گا،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوئیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ آج سنا دیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کی التواء کی درخواست مسترد کر دی

    عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ مجھے اس کیس میں مقرر کیا گیا ہے، تیاری کے لیے وقت چاہیے،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر واضح کیا تھا کہ اس میں التواء نہیں ملے گا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ ابھی اس کیس کی پیپر بُکس بھی تیار نہیں، کیس ایک بار شروع ہو گیا تو غیر ضروری التواء نہیں مانگا جائے گا، مجھے پہلے اس کیس کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ابھی تو اپیل کنندہ کے وکیل دلائل کا آغاز کر رہے ہیں، کونسا یہ دلائل ایک دن میں ختم ہو جائیں گے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیئے،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر لگائے گئے الزامات عدالت میں پڑھے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 24 سال سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی کو اکتوبر 2022 میں پہلی بار ایف آئی اے نے نوٹس جاری کیا،سائفر کی آمد اور غلط استعمال سے متعلق انکوائری کی گئی، 28 مارچ کو بنی گالہ میٹنگ کو سازش قرار دینے کا الزام عائد کیا گیا، مقدمہ میں لکھا گیا کہ سائفر سکیورٹی سسٹم کو کمپرومائز کیا گیا، سائفر کیس میں 25 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے گئے، سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بھی گواہ بنایا گیا، اس ایف آئی آر میں چار ملزمان کو نامزد کیا گیا جن میں اعظم خان بھی شامل ہے، اسد عمر اور اعظم خان دونوں نے ضمانت کی درخواست دی اور بعد میں واپس لے لی، اعظم خان جیسے ہی 161 کا بیان دیتا ہے اسی دن مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان ریکارڈ کروا لیا جاتا ہے، وعدہ معاف گواہ بھی نہیں کہا جا سکتا،

    ڈیفنس کونسل نے اعظم خان کے مبینہ اغواء سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ شریکِ ملزم نے پراسکیوشن کی فیور میں بیان دیا ، اعظم خان کا نام چالان میں ملزم کے طور پر لکھا گیا یا نہیں ، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ جب ملزم بیان دے دیتا ہے تو اس کو ریلیف دے دیا جاتا ہے ،ایف آئی آر میں چار اور چالان میں صرف دو لوگوں کا نام ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا 164 کے تقاضے پورے کیے گئے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں پورے نہیں ہوئے، اسد عمر اور اعظم خان کو خانوں میں بھی نہیں ڈالا گیا، ایف آئی آر کہتی ہے اعظم خان ملزم ہے چالان کہتا ہے وہ گواہ ہے، کسی ملزم کو وعدہ معاف گواہ بنانے کا قانون میں ایک طریقہ کار طے ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان پر جرح ہوئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نے نہیں کی، ڈیفنس کونسل حضرت یونس نے کی، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ڈیفنس کونسل نے اعظم خان کے مبینہ اغواء سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں، یہ سوال نہیں کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو ڈیفنس کونسل مقرر کیا جاتا ہے تو اس نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوتی ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا اسٹیٹ کونسل نے تمام حقائق جانتے ہوئے بھی اس متعلق سوال نہیں کیا؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ڈیفنس کونسل نے 48 گھنٹوں میں 21 گواہوں پر جرح مکمل کی، کرمنل کیسز میں شکایت کنندگان اہم ہوتے ہیں ، جب گواہان پر بحث ہونی تھی تو کم وقت دیا گیا ، ایک دن اسکندر ذوالقرنین عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، عدالت نے حق دفاع ختم کردیا ، جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے سب سے پہلے اس کی سٹوری آتی ہے ، اس کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ دیکھا گیا اور لفظوں کو مدنظر رکھ کر کیس بنایا گیا ، اس قانون کو پڑھ کر اس قانون کے لفظوں کا غلط استعمال کیا گیا ،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی