Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عادل راجہ اور حیدر مہدی سے پی ٹی آئی کا لاتعلقی کا اعلان

    عادل راجہ اور حیدر مہدی سے پی ٹی آئی کا لاتعلقی کا اعلان

    پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنیوالے عادل راجہ اور حیدر مہدی سے پی ٹی آئی نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر اور شیر افضل مروت کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہوں‌نے حیدر مہدی اور عادل راجہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عادل راجہ اور حیدر مہدی کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں،ویڈیو بیان اسد قیصر اور شیر افضل مروت نے جاری کیا،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ عوام عادل راجا اور حیدر مہدی پر اعتماد نہ کرے، تحریک انصاف کا اپنا میڈیا اور اپنے ترجمان ہیں صرف پی ٹی آئی میڈیا اور ترجمان سے جاری بیانیہ ہی تسلیم کیا جائے،چند دن سے شیر افضل مروت کے خلاف یوٹیوبر باہر سے بیٹھ کر کمپین چلا رہے ہیں، یہ یوٹیوبرز شاہ محمود قریشی اور پرویز الہٰی کے خلاف بھی کمپین کرتے رہے،ہ آئین اور قانون سے متعلق ہماری جدوجہد جاری رہے گی، ہم نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کا بیان ہے کہ ملک اور فوج میری ہے۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم آئین و قانون کی بالادستی اور سول سپرمیسی چاہتے ہیں، عادل راجہ اور حیدر مہدی کے پروپیگنڈے پر اعتماد نہ کریں، تحریک انصاف کا ان یوٹیوبرز سے کوئی تعلق نہیں ہےتحریک انصاف کا اپنا ترجمان اور اپنا بیانیہ ہے، اسے سامنے لایا جائے۔

    واضح رہے کہ عادل راجہ اور حیدر مہدی بیرون ملک مقیم ہیں اور افواج پاکستان کے خلاف آئے روز پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ورکر بھی ان دونوں کے بیانیے کو پروموٹ کرتے رہتے ہیں،

    عادل فاروق راجہ پر فوجی اہلکاروں میں بغاوت پر اکسانے کا جرم ثابت 

    یوٹیوبر عادل راجہ اور حیدر مہدی غدار وطن ہے، شیر افضل مروت

    جمائما سے ملنے والے 5 ملین ڈالرز کی "بندر بانٹ” پر پی ٹی آئی کے اوورسیز یوٹیوبرز میں عادل راجہ سب سے آگے

    عادل راجہ پکڑا گیا، غداروں کے گرد گھیرا تنگ

    عادل راجہ ستمبر تک ضمانت پر

    عادل راجہ کو بڑی رقم پہنچ گئی، پٹھان فلم سے تعلق

    پاکستان مخالف بیانیہ؛ میجر (ر) عادل راجہ کی پنشن مکمل طور پر روک دی گئی

     پاک فوج کے بھگوڑے عادل راجہ کے بارے میں اصلیت قوم کو بتائی

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ججز کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیارات حاصل نہیں، قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں

    سابق صدر پرویز مشرف (مرحوم) کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا،عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خصوصی عدالت کو کالعدم قرار د ے کر لاہور ہائیکورٹ نے پورے عدالتی نظام کو نیچا دکھایا،مصطفیٰ ایکٹ کیس کے فیصلے کا اطلاق خصوصی عدالت پر نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصی عدالت کی شق 9 کے تحت ملزم کا ٹرائل غیر حاضری میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہائیکورٹ نے مشرف کو وہ ریلیف بھی دیا جو مانگا ہی نہیں گیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ ہی میں ہو سکتی ہے۔ مشرف کے ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ سے 2 مرتبہ رجوع کیا گیا، ججوں کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیار نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں۔ ججوں کو غیر متزلزل خود مختار صوابدیدی اختیار حاصل نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کے محافظ ہوتے ہیں۔ ججز کو چاہیے کہ وہ طے شدہ قانون اور اصول کے تحت فیصلے کریں۔ ججز کو ذاتی مفاد اور ذاتی خواہشات کے بجائے طے شدہ عدالتی نظائر اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کیوں کہ مشرف نے پی سی او جی ایچ کیو راولپنڈی سے جاری کیا اس لیے لاہور ہائی کورٹ کیس سن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ پی سی او کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ پرویز مشرف کیخلاف غداری کی شکایت اسلام آباد میں درج ہوئی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    پیپلز پارٹی معاشی استحکام کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی،آصف زرداری

    وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی گزشتہ شب ملاقات ہوئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شامل تھے،وفد نے وزیراعظم کو وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی و خوشحالی کیلئے حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خدائے بزرگ و برتر اور عوام کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کیلئے ایک مرتبہ پھر سے موقع دیا. خادم پاکستان منتخب کرنے کیلئے ایوان میں اپنی اتحادی جماعتوں کے اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں. خدا کے کرم اور اپنی محنت سے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات کام کرنے کیلئے پر عزم ہیں. ملاقات میں سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی بھی موجود تھے۔

  • بھارتی وزیراعظم مودی کی شہباز شریف کو مبارکباد

    بھارتی وزیراعظم مودی کی شہباز شریف کو مبارکباد

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مودی نے وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد دی، مودی کا کہنا تھا کہ ” شہباز شریف کو پاکستان کے وزیر اعظم بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں”. ایکس پوسٹ میں بھارتی وزیر اعظم نے شہباز شریف کو ٹیگ بھی کیا تھا

    اس سے قبل سعودی ولی عہد، ایران، فلسطین، ترکیہ اور چین کے صدور بھی شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دے چکے ہیں،

    گزشتہ روز نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ صدر عارف علوی نے ان سے حلف لیا تھا،ایوان صدر میں حلف برداری کی تقریب ہوئی تھی،

  • نقصان میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائیگی،  وزیراعظم

    نقصان میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائیگی، وزیراعظم

    اسلام آباد: ‏وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حلف اٹھانے کے چند گھنٹوں بعد ہی ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا گیا-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم کو سیکرٹری خزانہ کی طرف سے ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، دوران اجلاس وزیراعظم نےمعاشی صورتحال کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی کہا کہ ہمیں ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے اور یہی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے –

    ‏وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھرپور طریقے سے کام کرے گی، جبکہ وزیراعظم کو بریفنگ میں وزیراعظم کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 65 ارب روپوں کے ٹیکس ریفنڈز کلئیر کر دیئے ،جس پر وزیراعظم نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے حوالے سے آئی ایم ایف سے بات چیت کو فوری طور پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی-

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    انہوں نے کہا کہ ایسے ٹیکس پئیرز جو کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت میں ویلیو ایڈیشن کے لئے کام کر رہے ہیں وہ ہمارے سروں کا تاج ہیں ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں،اچھے ٹیکس پئیرز کی حکومتی سطح پر پذیرائی کی جائے گی ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں شفافیت لانے کے لئے آٹومیشن نا گزیر ہے، ایف بی آر اور دیگر اداروں کی آٹومیشن پر فی الفور کام شروع کیا جائے : وزیراعظم کی ہدایت

    وزیراعظم نے کہا کہ نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائیگی تاکہ یہ ادارے ملکی معیشت پر مزید بوجھ نہ بنیں،انہوں نے وزیراعظم کی حکومتی بورڈز کے ممبران کی مراعات میں کمی کے لئے واضح حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے اور پاور اور گیس سیکٹرز کی اسمارٹ میٹرنگ پر منتقلی کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی –

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

    انہوں نے کہا کہ اسمارٹ میٹرنگ سے لائین لاسز کم کرنے مدد ملے گی تمام بینکس اور مالیاتی ادارے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لئے حکمت عملی تیار کریں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد مل سکے، حکومتی حجم کم کیا جائے گا ؛ ایسے ادارے جن کی ضرورت نہیں انہیں یا تو ضم کر دیا جائے یا پھر بند کر دیا جائے؛ اس حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے –

    وزیراعظم نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ملک میں معاشی استحکام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قدم ہے جس کو مزید مستحکم کیا جائے گا،وزیراعظم کا اگلا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حوالے سے منعقد کیا جائے گا ،عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے،کاروباری برادری، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں –

    ایکس کے بندش کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل سماعت ہوگی

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد

    سنی اتحاد کونسل کو بڑا جھٹکا، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی۔

    الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل اور دیگر درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں۔،خواتین اور اقلیتوں کی یہ مخصوص نشستیں دیگر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو تفویض کی جائیں گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا. فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بروقت ترجیحی فہرستیں جمع نہیں کروائی گئیں۔الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی سمیت تمام پارلیمانی پارٹیوں کو دینے کا حکم دے دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی،سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی کسی نشست پر الیکشن نہیں لڑا،چئیرمین سنی اتحاد کونسل نے بھی اپنا انتخابی نشان ہونے کے باوجود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا،الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت فیصلہ سنایا،چیف الیکشن کمشنر،ممبر سندھ،پنجاب اور بلوچستان نے نشستیں اکثریتی فیصلے کی حمایت کی،ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔نوٹ میں کہا کہ "معزز ممبران کے ساتھ اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو الاٹ نہیں کی جاسکتیں، یہ مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم تک خالی رکھنی چاہئیں ".

    8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے تھے، بلے کا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑے اور جیت کر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،جس کے بعد سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کے لئے درخواست دائر کی تھی جس پر باقی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص سیٹوں کے لئے فہرست جمع نہیں کروائی جس کی بنیاد پر انہیں سیٹیں نہیں دی جا سکتیں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو بھی اس کیس میں سنا تھا، اور فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ،صدارتی ،سینیٹ انتخاب ملتوی کیے جائیں،علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر کا الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل سامنے آیا ہے، علی ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ افسوس ناک ہے، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرے گی،الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوریت کے دل پر آخری خنجر ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ مخصوص سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو نہیں مل سکتیں،الیکشن کمیشن کافیصلہ غیرآئینی ہے،صدارتی انتخاب اورسینیٹ الیکشن میں ہمیں نقصان ہوگا،الیکشن کمیشن نےہمیں مخصوص نشستوں کےحق سےمحروم کیاہےہماری جماعت کو مخصوص نشستیں ملنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے تک صدارتی الیکشن اور سینیٹ کے انتخابات نہیں ہوسکتے،صدارتی اور سینٹ کے الیکشن ملتوی کیے جائیں ،پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اگر صدارتی انتخابات اور سینٹ کے انتخابات ہوئے تو ہم اس کو قبول نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن جانبدار ہے، اپنی ذمہ داریاں آئینی طریقے سے پوری نہیں کی، وہ فوری مستعفی ہو اور ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے، ہم مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ جائیں گے اور وہاں سے فیصلہ آنے تک وزیراعظم، سینیٹ اور صدارتی انتخاب قابل قبول نہیں۔الیکشن کمیشن نے فیصلہ وزیر اعظم کے الیکشن سے پہلے جاری نہیں کیا،پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑسکی، آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا، لوگ کنفیوژ نہیں ہوئے ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ لوگوں کو ووٹ دیا ،آئین کہتا ہے فری اینڈ فیئر الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، آج ہاوس کے سامنے مطالبہ ہے کہ پورا الیکشن کمیشن مستعفی ہو،

    الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ ،چیلنج کریں گے،شعیب شاہین
    تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ درست ہے،
    امید ہے ہائیکورٹ سے ریلیف ملے گا ، سپریم کورٹ جانے کا حق رکھتے ہیں ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے ، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کیخلاف ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے رابطے شروع کردیئے، پی ٹی آئی نے سینئر قیادت کا اجلاس طلب کرلیا، تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب نے اجلاس طلب کرلیا ،اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے بارے گفتگو کی جائے گی،پی ٹی آئی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی،اجلاس میں فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوگی

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی تھی،بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

  • نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھا لیا،عارف علوی نے حلف لیا

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھا لیا،عارف علوی نے حلف لیا

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری ہوئی

    وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی، تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے منصب کا حلف اٹھالیا،صدر مملکت عارف علوی نے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف سے حلف لیا۔

    تقریبِ حلف برداری میں پڑھی جانے والی آیات کا ترجمہ
    مسلمانو، اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو

    وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں غیر ملکی سفارتکار، سینئر سرکاری حکام اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک تھے،تقریب میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی شریک ہیں،سابق صدر آصف زرداری، نوازشریف، بلاول بھٹوزرداری، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی شریک تھے ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور نے وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی،سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی تقریب حلف برداری میں موجود تھے.

    حلف اٹھانے کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف وزیرِ اعظم ہاؤس گئے، جہاں ان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر کی تقریب منعقد ہوئی ،مسلح افواج نے وزیراعظم شہباز شریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا، بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم آفس کے عملے کا تعارف کرایا گیا اس دوران وزیراعظم نے عملے سے مصافحہ کیا

    گریڈ 21 کے اسد الرحمٰن گیلانی وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری تعینات
    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے حلف لیتے ہی اہم تعیناتی کر دی گئی،گریڈ 21 کے اسد الرحمٰن گیلانی وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری تعینات کر دیئے گئے،اسد الرحمٰن گیلانی اس سے قبل سیکرٹری انچارج وزارت پیٹرولیم تعینات تھے،گریڈ 22 کے کیپٹن ریٹائرڈ خرم آغا کو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا کر سیکرٹری کامرس تعینات کردیا گیا

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اسلام آباد پہنچ گئیں ،قومی اسمبلی پہنچنے پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا پرتپاک خیر مقدم کیا،وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو گلے لگا کر شفقت کا اظہار کیا ،وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو تھپکی د ی ، اس موقع پر پرویز رشید، سلمان شہباز شریف اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے.

    دوسری جانب شہباز شریف کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے بعد نگراں وفاقی کابینہ کو سبکدوش کر دیا گیا،تمام 25 وفاقی وزراء، معاونین اور مشیران سبکدوش ہو گئے،کابینہ ڈویژن نے وفاقی کابینہ کے سبکدوش ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا،آئین کے آرٹیکل (5) 91 کے تحت شہباز شریف کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انوار الحق کاکڑ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے،منتخب وزیراعظم شہباز شریف کے وزیراعظم آفس سنبھالنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا،آرٹیکل (5) 91 کے تحت وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد شہباز شریف نے وزیراعظم کی ذمہ داری سنبھال لی،

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران رضا ربانی نے دلائل دیئے،رضا ربانی نے کہا کہ بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے، اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے، اس وقت استغاثہ جنرل ضیاء تھے، اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟رضا ربانی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے،رضا ربانی نے کہا کہ احمد رضا قصوری پر حملوں کے 1976 تک چھ مقدمات درج ہوئے کسی ایف آئی آر میں بھٹو کو نامزد نہیں کیا گیا،رضا ربانی نے کہا کہ اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ رضا ربانی صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ ہم نے آج سماعت مکمل کرنی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ ہمیں پھانسی کے بعد منظر عام پر آنے والے تعصب کے حقائق کی تفصیلات تحریری طور پر دے دیں

    رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور صنم بھٹو کے وکیل رضا ربانی نے دلائل مکمل کر لیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دے سکتی ہے؟عدالتی معاون رضا ربانی نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کیلئے آرٹیکل 187 کا استعمال کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ہم نے آرٹیکل 187کا استعمال کیا وہ رائے کے بجائے فیصلہ ہوجائے گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے محمود مسعود کے بارے میں پوچھا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم ریکارڈ ڈھونڈ رہے ہیں، نادرا کے پاس بھی پرانا ریکارڈ نہیں ہے، تین وزارتوں کو ہم نے ریکارڈ کے حصول کیلئے لکھا ہے،بھٹو کیس میں پرائیویٹ کمپلینٹ 1977 میں دائر کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ قتل 1974 کا تھا آپ نے اتنا وقت کیوں لیا؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ پہلے کیس بند ہوگیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس بھی کافی پہلے بند ہوا آپ تبھی کیوں نہیں گئے کہ ناانصافی ہوگئی، آپ نے تین سال کیوں لیے تھے اس کا جواب کیا ہوگا؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس وقت زوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے صورتحال ہی ایسی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے اور کتنے بہن بھائی موجود تھے 1974 میں؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ ہم چھ بھائی ہیں کوئی بہن نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا ایک اچھی اثر رسوخ ،تعلقات اور وسائل والا خاندان تھا، آپ جیسا بااثر خاندان کیسے کمپلینٹ فائل کرنے میں اثر لیتا رہا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے انکوائری بند ہونے کا آرڈر بھی چیلنج نہیں کیا تھا،

    ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس پر کارروائی مکمل،سپریم کورٹ نے رائے محفوظ کر لی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج نہیں، مگر کسی روز دوبارہ شاید اپنا فیصلہ سنانے بیٹھیں،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات منظور

    صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال،الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کے موقع پر میڈیا کو باہر نکال دیا،

    صحافی الیکشن کمیشن گئے تو سیکورٹی اہلکاروں نے کہا کہ میڈیا کا داخلہ ممنوع ہے، چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات ہیں،کہ صحافیوں‌کو نہ آنے دیا جائے، جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ انتخابات کے موقع پر بھی ایسے ہی ہوتا تھا صحافیوں کو میڈیا روم تک بھی رسائی نہیں دی جاتی تھی،الیکشن کمیشن صحافیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگا سکتا،

    صدارتی انتخابات کے لئے7 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی،آصف زرداری، محمود خان اچکزئی اور عبدالقدوس کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی،اصغر علی مبارک، سرفراز، اقتدار حیدر اور ایاز فاروقی کا کاغذات کی بھی جانچ پڑتال کی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں،محمود اچکزئی کے کاغذات بھی منظور کر لئے گئے ہیں،عبدالقدوس، اصغر علی مبارک، سرفراز قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے ہیں،اقتدار علی حیدر اور ایاز فاروقی کے کاغذات بھی مسترد کر دیئے ہیں،آزاد امیدواروں کے تجویز اور تائید کنندگان نہ ہونے کے باعث کاغذات مسترد کیے گئے

    سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے صدارتی امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے تھے جنہیں جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیا گیا،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخابات کے ریٹرننگ افسر ہیں انہوں نے اسکروٹنی کے بعد سابق صدر کے کاغذات منظور کیے،

    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی کے لئے الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،محمود خان اچکزئی عامر ڈوگر، شیخ وقاص اکرم اور دیگر کے ہمراہ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تھے،علی محمد خان بھی انکے ہمراہ تھے،اس موقع پر علی محمد خان نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات لگتے رہتے ہیں، 1500 سال میں کسی کو پہلی بار نکاح پر سزا ملی ہے، بانیٔ پی ٹی آئی نے جیل سے سیاسی استحکام کا دیاپیغام ہےقوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کو آئین کے مطابق چلائیں.

    محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائد
    سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی پر صدارتی امیدواروں کی جانب سے اعتراض عائدکیا گیا ہے ،اعتراض میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی اداروں، ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں، سنی تحریک کونسل نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بنانیے کی وجہ سے ان کو صدارتی امیدوار بنایا، محمود خان اچکزئی پاکستان کے پختون علاقوں کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں محمود خان اچکزئی پاکستان مخالف آدمی ہیں، انہوں نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک نے محمود اچکزئی پر اعتراضات عائد کئے،ریٹرننگ آفسر نے دلائل کے بعد اعتراض سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب سنا دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے اعتراضات مسترد کر دیئے اور محمود اچکزئی کے کاغذات منظور کر لئے.

    دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی صدراتی انتخابات کیلئے پولنگ سٹیشن قرار دے دی گئی،صدارتی انتخابات کے لیے اسمبلی کو پولنگ سٹیشن قرار دینے کی تحریک وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پیش کیا،9 مارچ کو اسمبلی ہال میں پولنگ ہوگی، ممبران نے کثرت رائے سے منظوری دیدی

    صدارتی امیدوار آصف زرداری کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ
    علاوہ ازیں صدارتی انتخابات میں ووٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا ہے،آصف زرداری نے خالد مقبول صدیقی سے فون پر گفتگو کی، دونوں رہنماؤں کے مابین صدارتی الیکشن، سیاسی صورتحال اور سندھ کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی، آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم سے ووٹ کی درخواست کی جس پر خالد مقبول صدیقی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ مشاورت کے بعد جلد جواب دیں گے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    پیپلز پارٹی کےچیئرمین سابق وزیر خارجہ بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہےکہ محمود اچکزئی کے گھر پر ریڈ ہوا،محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہیں،بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔کیونکہ اس معاملےکی وجہ سے صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنانےکی کوشش کی گئی۔قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنا ٹائم محمود خان اچکزئی کو دے دیا۔

    ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،بلاول
    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، پہلے سانحے اور پھر تماشے کی صورت میں ،اپنے خاندان کی تیسری نسل کا نمائندہ ہوں جو اس ہاؤس میں دوسری بار منتخب ہوا، بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسے فیصلے لیں کہ یہ ہاؤس مضبوط ہو،قائد حزب اختلاف نے یہ اعتراض کیا کہ ان کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کیا گیا تو میں یہ کہوں گا کہ ہمیں خان صاحب کی اس روایت کو ختم کرنا چاہیئے، پارلیمان نہ میرا ہے ، نہ انکا ہے، یہ ہم سب کا ہے،شہباز شریف اور سرفراز بگٹی سے اپیل کروں گا کہ محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی تحقیقات کروائی جائیں، کل دونوں جانب سے تقاریر کے دوران جو گالیاں دے رہے تھے ،افسوس ہو رہا تھا، انہوں نے اپنے ہی ادارے ، ملک و جمہوریت کو کمزور کر دیا، اس ہاؤس تک پہنچنے کیلئے ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،پاکستان کے عوام نے پیغام دیا کہ وہ لڑائیوں سے تھک چکے ہیں، اگر آپ کو مخصوص نشستیں مل بھی جائیں آپ پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے، ووٹ اس لئے نہیں ملا کہ ایوان میں گالم گلوچ اور شور شرابہ کریں،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں بنیادی نکات عوام تک نہیں پہنچ سکے،فارم 47 یا 45 کی وجہ سے نہیں کارکنوں کے خون پسینے کی وجہ سے یہاں آئے ہیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت میں پیپلز پارٹی کے وزراء نہیں ہیں، جمشید دستی نے بلاول کو لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء ہونے چاہئیں،بلاول زرداری نے جواب دیا کہ آپ آ جائیں تو ہم بھی آ جائیں گے،بلاول زرداری کاکہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا،اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق میں کچھ وزارتیں تحلیل نہیں ہو سکیں، 18 وزارتوں کو 2015 میں تحلیل ہونا چاہئیے ، ان 18 وزارتوں کا سالانہ خرچہ 328 ارب روپے ہے،سالانہ 1500 ارب روپے کی اشرافیہ کو سبسڈی ملتی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے 18 اضافی وزارتوں اور 1500 ارب روپے کی سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

    انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی اور انتخابی اصلاحات کی فی الفور ضرورت ہے،اگر عدالتی اور انتخابی اصلاحات ہوتی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی جمہوریت کو کمزور نہیں کر سکتی،بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو عدالتی اور انتخابی اصلاحات پر مل کر قانون سازی کرنے کی پیشکش کر دی اور کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دھاندلی کا مسئلہ حل ہو تو مل کر بیٹھنا ہو گا، ہم سمجھتے ہیں مل بیٹھ کر انتخابی اصلاحات پر بات کرنی چاہئیے، اگلی بار شہباز شریف یا قیدی نمبر 804 انتخابات جیتے توکوئی انگلی نہ اٹھا سکے،بلاول بھٹو زرداری کے ریمارکس پر سنی اتحاد کونسل نے ڈیسک بجائے.

    بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے دوران جمشید دستی نے شور شرابہ کیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دستی صاحب مجبور نہ کریں کہ میں آپ کے خلاف ایکشن لوں،بلاول زرداری نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی جو بھی کرے گا اس کو سزا دی جائے، اگر عدم اعتماد کے وقت یہ ایوان تحلیل ہوا تو آئین کی خلاف ورزی ہوئی،اگر آپ آئین کی بات کرتے ہیں تو میں کہوں گا کہ آپ ہوتے کون ہیں؟

    قومی اسمبلی اجلاس، سنی اتحاد کونسل کے گوزرداری گو کے نعرے،یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے،بلاول
    بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل اراکین نے ایوان میں ہنگامہ کر دیا،سنی اتحاد کونسل اراکین نے گو زرداری گو کے نعرے لگائے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین بلاول بھٹو زرداری کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے، جس پر بلاول زرداری نے کہا کہ یہ بہت جذباتی لوگ ہیں میں کیا کہوں، یہ ایک جملے پر چیخ اٹھے، عوام تنگ آ چکے ہیں، آپکو گالی دینے کے لیے عوام نے ووٹ نہیں دیا۔شورشرابے کے لئے ووٹ نہیں دیا، ووٹ اس لئے دیا کہ ہم معاشی بحران سے بچائیں،اگر یہ لوگ یہاں آئین اور قانون کی باتیں کررہے ہیں تو میں ان کو کہونگا کہ who the hell are you to talk to me like this.میں اس شخص کا نواسہ ہوں جس نے پھانسی چڑھنا پسند کیا لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، بلاول زرداری نے اپوزیشن کو کارٹون قرار دے دیا اور کہا کہ ہم پر اور ان کارٹون پر فرض ہے کہ ہم ملکر اپنا فرض ادا کریں ،اس سے پہلے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرنا شروع کر دیں،شہباز شریف کو اگر آپ وزیراعظم نہیں مانتے تو آپکو انکی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا،سنی اتحاد کونسل کے اراکین سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے الفاظ حذف کرنے کی درخواست کی گئی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جو الفاظ حذف کرنا ہوں گے میں کروں گا،بلاول کا کہنا تھا کہ میں خود مانتا ہوں میرے الفاظ حذف کریں ،ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا،

    سائفر گمشدگی کی تحقیقات اور سزاہونی چاہئے، 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،بلاول

    جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،تحقیقات اور سزا ہونی چاہئے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنے گھر میں سیکرٹ کاغذات رکھے تو امریکی ایجنسیوں نے اسکے گھر پر چھاپہ مار کر وہ کاغذات برآمد کیے تھے۔اور کیس بنایا، ہم نے یہ نہیں کیا، نہ ہی تجویز دی، قانون کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے، آئین اور قانون کے مطابق گھر پر چھاپہ مار کر سائفر برآمد کیا جا سکتا ہے ،عمران خان کی گرفتاری کے بعد سائفر انٹرنیشنلی پبلش ہوگیا.مسئلہ تب شروع ہوا جب خان صاحب کو گرفتار کیا جاتاہے صحیح یا غلط وہ کیس لڑیں،سائفر کی گُمشدگی قومی سلامتی کو کمپرومائز کر سکتی ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات اور سزا ہونی چاہئیے،سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس اور دیگر اداروں کو جاتی ہے،سوائے وزیراعظم ہاؤس جانے والی کے دیگر کاپیز کا حساب موجود ہے،عمر ایوب صاحب درست کہہ رہے ہیں وزارت خارجہ میں سائفر کی ایک کاپی ہوتی ہے،یہ کاپی اگر کسی دشمن کو مل جائے تو وہ ہمارے کوڈٹریک کرسکتے ہیں، سائفر معاملے کو ذوالفقار علی بھٹو سے منسلک کرنے پر مذمت کرتا ہوں،میں وزیرخارجہ رہا ہوں میں جانتا ہوں سائفر کیا ہوتا ہے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے خود مانا کہ ان سے سائفر کی کاپی گم ہوئی،جان بوجھ کر کسی نے سائفر کی کاپی کو غیرملکی جریدے میں چھپوایا،سائفر کے معاملے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تذکرہ ہوا، بھٹو نے کہا تھا وہ پاکستان کے بارے میں بہت راز جانتے ہیں، بھٹو نے کہا کہ وہ یہ راز اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے،امریکہ سے آنے والے سائفر کی وزیر اعظم ہاؤس والی کاپی کی حفاظت نہیں کی جا سکی، خان صاحب نے خود کہا کہ سائفر گم ہوگیا، اگر ایک سائفر دشمن کے ہاتھ لگ جائے تو وہ سارے سائفرز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے،

    بلاول نے 9 مئی واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کوئی ہمارے ادارے پر حملہ کرے اور پاکستان اُس کو بھول جائے، وزیراعظم شہبازشریف سے اپیل ہے 9 مئی سانحے پر جوڈیشل کمیشن بنائیں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا، جنہیں سزا ملنی چاہئے انہیں سزا ملے،

    ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سائفر کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنائے، ایک امریکی ڈیپلومیٹ نے حکومت پاکستان کو ڈکٹیٹ کیا، سائفر کو بنیاد بنا کر عمران خان پر مقدمات بنائے گئے، انہیں سزائیں دی گئیں، سنی اتحاد کونسل نے بھی سائفر معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ڈرانے والوں کو بتانا چاہتا ہوں خوف کا وقت گزر چکا،عمران خان کے ساتھ 29 سال گزارے، انہوں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، نہ ہمارا لیڈر جھکا، نہ ہم جھکیں گے،میں مر جاؤں گا عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، یہاں جو فارم 47 والے بیٹھے ہیں انھیں انکے بچے بھی ایم این اے نہیں مانتے ، جنکو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کوئی آفر قبول کر لے گا تو وہ سن لیں ایسا کچھ نہیں ہوگا، ہمارا کل بھی ایک ہی مقصد اور آج بھی ہم اسی مقصد پر قائم ہیں کہ پاکستان میں آئین و قانون کی علمبرداری ہو

    پنجاب میں ہمارا ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مریم نواز پر بات کرنے لگے تو ان کا مائیک بند کر دیا گیا، جس پر عمر ایوب اور پی ٹی آئی کے ارکان اسپیکر ڈائس پر چلے گئے جس کے بعد اسپیکر نے ان کو دوبارہ بات کرنے کی اجازت دے دی،عمر ایوب نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہمارا ایک نو عمر سیاسی ورکر زخمی ہوا، آئی جی پنجاب کو ہٹایا جائے، اس معاملے پر ذمے داری وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر عائد کی جائے،میری تقریر براہ راست نہیں دکھائی گئی، میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار تھا، کل میری تقریر بار بار روکی گئی، شہباز شریف کی تقریر نہیں روکی گئی، کیا وہ آسمان سے اترے تھے ان کی تقریر نہیں کاٹی گئی، اس پر میں تحریک استحقاق پیش کر رہا ہوں،جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ قواعد کے مطابق آپ یہ نہیں کر سکتے،عمر ایوب نے کہا کہ گزشتہ رات صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، ان کے گھر پر چھاپے کے خلاف قرار داد پیش کریں گے اور اس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہاؤس کس طرح چلتا ہے اس کے قواعد لکھ کر ٹیبل پر رکھ دیے ہیں، اس سے زیادہ بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی،

    ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے،خالد مقبول صدیقی
    قومی اسمبلی اجلاس، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نظام کوبدلنے کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، تجارتی خسارہ اس وقت خطرناک صورتحال اختیار کرچکا، ہمیں خطرہ ہے پاکستان مالی طور پر دیوالیہ نہ ہو جائے ، 2024 کی اسمبلی میں جو ہو رہا ہے 2018 میں بھی یہی ہوا، یہ شور شرابہ اور احتجاج ثابت کر رہا ہے کہ جمہوریت اپنا وجود کھو رہی ہے،بلاول بھٹو زرداری نے وفاق سے مزید تحلیل کی درخواست کی ہے، اٹھارہویں ترمیم طاقت کی تحلیل کی بجائے طاقت کی مرکزیت کیسے ثابت ہوئی،

    جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل جمہوریت کے لئے بہت ہی افسردہ دن تھا،جمہوریت کا درس دینے والے خود اپنے نانا کی سیاست دفن کر چکے، جب ہماری عورتیں جیل میں گئیں کیا جمہوریت کا درس دینے والوں نے ایک لفظ بھی بولا؟ ہمارے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، ہمارے لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی صدارت کے لائق نہیں ہے؟ جمہوریت ایسے نہیں چلتی، عوام کو ان سے کوئی توقع نہیں، عمران خان کا کوئی بھانجا بھتیجا اس وقت یہاں نہیں بیٹھا، ہمیں پی ٹی وی پر ٹائم نہیں دیا جا رہا، ہمیں بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے،ہماری اصل بات لوگوں تک پہنچ جائے یہی ہمارا مدعا ہے،چیخ و پکار پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے،جب ہم ایوان کے ممبر کی حیثیت سے تقریر کرتے ہیں تو وہ لائیو دکھانا چاہئیے، یہ لوگ ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتے ،ہمارا کہنا ہے کہ ہماری تقریر کو میوٹ کیا جاتا ہے ، ہمارے گھروں پر پولیس گردی ہوئی ہے، ہمارے کارکنوں کو جیلوں میں رکھا گیا ہے،ہمیں ٹارچر کیا گیا ہے، صرف اس لئے تاکہ ہم عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیں، عمران خان کے خلاف سارے کیسز جعلی ہیں، زرداری اور نواز شریف کے خلاف بھی گاڑی لینے پر احتساب ہونا چاہئے،لیول پلینگ فیلڈ بنائیں،

    بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ، نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا ،بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی عدالت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی ہے کون محب وطن ہے۔ ہم سب سے زیادہ محبت وطن ہے ہمارا لیڈر سب سے زیادہ محب وطن ہے،ہم شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتے، انہوں نے کل نہیں کہا کہ ہماری خواتین کو رہا کرینگے، ان سے تو یوسف رضا گیلانی بہتر تھا جس نے کہا تھا ججز کو آزاد کرائوں گا، یہ جمہوری نہیں،عمران خان نے موروثی سیاست کو ختم کیا، میرے جیسا کارکن چیئرمین تحریک انصاف بنا، انہوں نے ایک ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھنے والوں میں عہدے تقسیم کیے، کیا پیپلز پارٹی میں زرداری کے علاوہ کوئی اور صدارت کا اہل نہیں، یہ جمہوریت نہیں ہے،ہمیں تو درس دیتے ہیں اپنے گریبانوں میں جھانکیں، پی ڈی ایم ون حکومت نے پچاس ارب کے کیس معاف نہیں کروائے، یہ حقیقت ہے، کیا آج یہ کہہ سکتے ہیں؟ اتنا ہی گھمنڈ ہے جمہوریت پر تو بتائیں ایک لفظ ہماری گرفتار خواتین بارے بولا ہے،قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا کیا انہوں نے ایک لفظ بولا،بلاول ابھی نانا کی سیاست دفن کرکے گیا ہے نام کیساتھ بھٹو لگانے سے انسان بھٹو نہیں بن جاتا بھٹو کی سیاست اب گزر چکی ہے.وہ ہار کہاں گئے جو سوئس میں پڑے تھے، یہ ہمیں 30 نشستیں بھی نہیں دے رہے تھے، جو 91 آئے ہیں اس لیے آئے کہ یہاں دھاندلی کرنا ممکن نہیں تھا، ہمارے تجویز تائید کنندہ گرفتار ہوئے، قیصرہ الہیٰ کا دوپٹہ چھینا گیا، کیا تب بولے.

    لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا،راجہ پرویز اشرف
    پیپلزپارٹی کے ارکان نے بیرسٹر گوہر کی تقریر کے دوران احتجاج کیا،اس دوران راجہ پرویز اشرف بیرسٹر گوہر پر برس پڑے، راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جس مقصد کے لیے آئے ہیں وہ پورا کریں یا دنیا کو تماشا دکھائیں،اگر کسی کے لیڈر کے بارے میں غلط بات کریں گے تو آپ کی قیادت کو بھی کوئی نہیں بخشے گا، اپنے دوستوں کو طریقہ اور سلیقہ سکھائیں،ایسے ہی رہا تو یہ کمپنی چلتی نظر نہیں آ رہی۔

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ