Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، آڈیو لیکس کیس،نجم الثاقب اور بشری بی بی کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نےسماعت کی،ڈی جی ایف آئی اے عدالتی حکم پر عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،پی ٹی اے کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ یہ کیس غیرموثر ہو چکا، نمٹا دیا جائے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے سامنے دو الگ درخواستیں ہیں،چیئرمین پی ٹی اے کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے بارسیلونا گئے ہوئے ہیں، تین چار دن میں واپس آ جائیں گے،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری آڈیو جو لیک ہوئی وہ اوریجنل تھی ، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ڈیجٹیل میڈیا اتنا بڑا سمندر ہے فیس بک یوٹیوب ہماری ایجنسیز کے دائرے اختیار سے باہر ہیں ، مرحوم جج ارشد ملک کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی پھر پانامہ کیس کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے ، جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ یہ پوزیشن لے رہی ہے کہ کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ،یہ آپ نے بتانا ہے کہ شہریوں کی پرائیویسی محفوظ ہے یا نہیں، وکیل ٹیلی کام کمپنیر نے کہا کہ پالیسی ، ایکٹ ، لائسنس کچھ اور کہتے ہیں ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟کیا ٹیلی کام آپریٹرز فون ٹیپنگ کی اجازت دے رہے ہیں؟

    اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر،آڈیو لیکس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں،ڈی جی آئی بی
    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ امریکہ، یوکے اور جرمنی میں بھی آڈیولیکس کے واقعات ہوتے ہیں، ایسی ڈیوائسز موجود ہیں جن سے یہ سب کرنا آسانی سے ممکن ہے، ہم کسی پر ذمے داری فکس نہیں کر سکتے جب تک تحقیقات نہ ہوں، آڈیو ٹیپ کرنے کی کنفرمیشن یا تردید نہیں کر رہے، اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں، اس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں۔وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ان لائسنسز میں قانون کی یہ شقیں کیوں رکھی جاتی ہیں یہ دیکھنا ہے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم بھی یہی سمجھنا چاہتے ہیں،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ پی ٹی اے نے کسی کو ہدایات جاری نہیں کیں، سرکاری افسران آپ سے گھبرا جاتے ہیں، میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

    کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی؟ جسٹس بابر ستار
    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کتنا عجیب جواب ہے کہ سیکشن 19 میں یہ مان رہے ہیں یہ جرم ہے، یہ پورا پورا دن ٹی وی چینلز پر چلاتے رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ مستقبل میں اسے کیسے روکا جا سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم سب کی پرائیویسی خطرے میں ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کلائنٹ سے بات کر رہا ہوں اور اسے کوئی اور بھی سن رہا ہو،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ کیا کوئی فریم ورک ہے؟ کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آٹھ فروری کو تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کھوسہ صاحب آٹھ فروری کو درمیان میں لے کر مت آئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہم سوموٹو کر رہے ہیں، آٹھ فروری سے متعلق ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کر لیے.عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • چینی صدر ،وزیراعظم ،ایران کی شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    چینی صدر ،وزیراعظم ،ایران کی شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے۔

    باغی ٹی وی :چینی خبررساں ادارے ژنہوا کے مطابق چینی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں یقین ہے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کی نئی حکومت کی قیادت میں اور پاکستان کے تمام حلقوں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان یقیناً ملک کی ترقی کے نصب العین میں نئی اور مزید زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔

    شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور پاکستان کو روایتی دوستی کو جاری رکھتے ہوئے تمام شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا اور مشترکہ طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اپ گریڈڈ ورژن تعمیر کرنا ہوگا، چین اور پاکستان کو چین پاک چار موسموں کےاسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید گہرا کرتے ہوئے نئے عہد میں ایک قریب تر چین پاک ہم نصیب معاشرہ تشکیل دینا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے مزید فوائد پہنچائے جا سکیں۔

    وزیر اعظم کے تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما سوتے رہے

    ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے باہمی تعلقات میں اضافے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے بیان میں کہا کہ شہباز شریف کو 24 واں وزیرِاعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور پاکستان میں امن و سلامتی کے لیے دعا گو ہوں،اسلامی جمہوری ایران پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ تمام سطح پر باہمی تعلقات اور تعاون بڑھانے کا عزم کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اتحادی جماعتوں کے نامزد کردہ امیدوار شہباز شریف دوسری بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 24 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے جبکہ انہوں نے قائد ایوان کی نشست بھی سنبھال لی، شہباز شریف نے 201 ووٹ لیے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ امیدوار عمر ایوب کو 92 ووٹ ملے جبکہ کارروائی کے دوران ایوان گھڑی چور اور ووٹ چور کے نعروں سے گونجتا رہا، جبکہ کل 293 ووٹ کاسٹ ہوئے۔

    انٹرا پارٹی انتخابات : بیرسٹر گوہر علی خان پی ٹی آئی کے بلامقابلہ …

  • شہباز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتے،یہ فارم 47 کی پیداوار ہے، عمر ایوب

    شہباز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتے،یہ فارم 47 کی پیداوار ہے، عمر ایوب

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن قومی اسمبلی عمر ایوب خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شہباز شریف کے کاغذات کو چیلنج کیا تھا، بیرسٹر گوہر اور میں نے اس ہاؤس میں نقظہ اٹھایا کہ یہ ہاؤس مکمل نہیں۔ یہاں جو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا الیکشن ہوا، یا جو آج وزیر اعظم کا الیکشن ہوا ہے یہ غیر قانونی ہے، ہم نے آئین کے تحت جو پوائنٹ اٹھایا تھا کہ ہاؤس کو ان آرڈر کرائی ، عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ اس حکومت میں آئیڈیالوجی ہی نہیں ہے، یہاں پر مسلم لیگ ن اور پارٹی پارٹیوں کے ایم این ایز فارم 47 کی پیداوار ہیں، فارم 45 کے ایم این اے آتے تو آج ہماری تعداد 180 ہوتی، جو ریزرو سیٹ ملا کر 200 سے زائد تھی۔
    یہ پی ڈی ایم کی حکومت کا تسلسل ہے اور ایک فاشسٹ حکومت ہے، اس حکومت کا کوئی نظریہ نہیں بلکہ صرف ایک چیز ہے لوٹ مار کرنا۔جو مخصوص نشستیں ہمیں ملنی چاہئیں وہ ہمیں نہیں ملیں اس لیے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کا الیکشن غیر قانونی ہوگیا ہے۔ ہم نے آئین کے تحت جو نقطہ اٹھایا تھا کہ یہ ہاؤس ان آرڈر نہیں ہے لیکن راجہ پرویز اشرف نے اس نقطے کو بلڈوز کیا۔عمر ایوب خان کا مزید کہنا تھا کہ ہاں جو مسلم لیگ ن کے لوگ بیٹھے ہیں اور باقی پارٹیوں کے ان کے چہرے مرجائے ہوئے ہیں، جیسے کسی جنازے میں آئے ہوئے ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ ان کے پاس جو مینڈیٹ ہے وہ چوری شدہ ہے، آپ کو ان کے چہروں سے ڈر نظر آئے گا، خوف نظر آئے گا۔ نئی حکومت سے متعلق عمر ایوب خان نے کہا کہ میں واضح کر دوں کہ یہ حکومت جو مختلف دعوے کرتی ہے، جو حکومت پی ڈی ایم کی حکومت تھی، اس کا تسلسل ہے۔کل ہم نے پورے ملک میں ہر امن مظاہرے کیے۔ اسی سے زائد ہمارے ورکرز کو گرفتار کیا گیا۔ اس طرف تو یہ کہتے ہیں ہم جمہوری ہیں، یہ فاشسٹ کا چہرہ ہے۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جو اسرائیل فلسطین میں جینو سائڈ کر رہا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ہم اس پر ایک قرار داد لائیں گے۔ اس ہی ڈی ایم حکومت جو چور مارکہ ون حکومت تھی نے ہمارے محبوب قائد کو گرفتار کیا، مگر ہم کھڑے رہے، انہوں نے ہمارے گھروں پر ریڈ کیے۔
    ہماری خواتین کو حراساں کیا، ہم کھڑے رہے، ہمارہ انتخابی نشان چھین لیا مگر ہم کھڑے رہے، ہم اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک عمران خان وزیر اعظم کا حلف نہیں اٹھا لیتے۔صحافی ارشد شریف سے متعلق عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف قتل کر دیا گیا، اس کی کاروائی کیوں روک دی گئی، جبکہ زمان پارک میں ظلے شاہ جیسے معصوم شاہ کو قتل کر دیا گیا۔نو مئی کو ہمارے معصوم لوگوں کو گولی ماری کر شہید کر دیا گیا، ہم ڈیمانڈ کرتے ہیں ایک غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہیئے، اور حقائق سامنے آنے چاہیئے۔ جاوید ملک، ذاکر سمیت درجنوں شہداء کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔اس وقت میرے قائد وزیر اعظم عمران خان کو سیاسی قیدی کے بطور کو گرفتار کر رکھا ہے۔ بشری بی بی کو یرغمال بنا رکھا ہے، یہ لوگ نہیں جانتے بشری بی بی عمران خان کی طاقت ہے کمزوری نہیں ہے، انہوں نے اڈیالہ پہنچ کر خود کو جیل حکام کے حوالے کیا۔
    انہوں نے اڈیالہ پہنچ کر خود کو جیل حکام کے حوالے کیا، انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا ہے، ہمارے وائس چیئرمیں اور صدر سیاسی قیدی ہیں۔ ہماری خواتین اور ایکٹیویٹ اس وقت سیاسی قیدی ہیں۔ہمارے دس ہزار سے زائد لوگ گرفتار ہوئے تھے، صرف اس لئے کہ ہم نے حق کی آواز اٹھائی، عمران ریاض خان کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے، اس طور کو پھر گرفتار کر لیا گیا ہے، میڈیا کے حقوق صلب کئے جا رہے ہیں، یہ کنٹرولڈ میڈیا چاہتے ہیں۔

  • مل کر فیصلہ کریں  کہ پاکستان کی تاریخ بدلنی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف   کی اپوزیشن کو دعوت

    مل کر فیصلہ کریں کہ پاکستان کی تاریخ بدلنی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو دعوت

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بننے کے بعد قومی اسمبلی سے اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اسکے پاؤں پہ کھڑا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ،اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے شہباز شریف کے خلاف جبکہ مسلم لیگ ن اور اتحادی اراکین نے ان کے حق میں نعرے بلند کیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے ؛لیکن افسوس اپوزیشن جماعتیں یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، آج ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرہا ہے ، انہوں نے کہا میں گھڑی چوری نہیں کی میں بچلی چوری اور گیس چوری کی بات کرتا ہوں ،جسکا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے، نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے مل کر فیصلہ کرنا ہے، اللہ کو گواہ بنا کرکہتا ہوں سمندر نما چیلنجز کو مل کر عبور کریں گے، پاکستان کو اس کا صحیح مقام دلائیں گے۔انہوں نے اپنے تقریر میں اپوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں شور کے بجائے شعور ہونا چاہئے، نوجوان نسل کو آگے بڑھائے گے،انکے لئے نئے مواقع اور روزگار مہیا کرے گے، مہنگائی پر قابو کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ، جب مہنگائی ختم ہو گی تو غربت میں کمی آئی گی ،
    انہوں نے کہا کہ میرے قائد نوازشریف تین بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے، نوازشریف کی لیڈر شپ میں ترقی و خوشحالی کے انقلاب آئے ، نوازشریف معمار پاکستان ہیں، 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نوازشریف کے دور حکومت میں ختم ہوئی، پاکستان میں ایٹمی قوت کی بنیاد رکھی۔نومنتخب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت ،قانون اور انصاف کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، نوازشریف نے پورے ملک میں ترقی و خوشحالی کے مینار تعمیر کیے، قائد ن لیگ کی تمام عوامی منصوبوں پر تختیاں لگی تھیں۔
    شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، نوازشریف کو سلاخوں کے پیچھے بھجوایا گیا،بےبنیاد کیسز بنوائے، نوازشریف کو جلا وطنی پر مجبور کیا، نوازشریف اور آصف علی زرداری پر مظالم ڈھائے گئے، آصف زرداری کی ہمشیرہ کو جیل میں بھیجا گیا، نوازشریف اور آصف زرداری نے کبھی پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچا۔نومنتخب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے شہدا کے ورثا پر کیا بیتی ہوگی؟ شہدا نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا ، نوازشریف کا فیصلہ تھا پانی سر سے گزر چکا دہشتگردی کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے، افواج کے جوان اپنے بچوں کو یتیم کرگئے لیکن قوم کے بچے محفوظ کرگئے، کیا یہ بات اور چیز قابل معافی ہے ،یہ فیصلہ اس ایوان ،انصاف اور قانون نے کرنا ہے؟
    انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کے بعد ہمارے پاس دوراستے تھے،سیاست بچالیتے اور ملک کو تباہ ہونے دیتے، دوسرا راستہ تھا سیاست کو داؤ پر لگالیتے اور ملک بچالیتے، اتحادی ساتھیوں نے فیصلہ کیا سیاست قربان ہوتی ہے ہوجائے، اتحادی ساتھیوں نے مل کر فیصلہ کیا بطور مسلمان ملک کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔وزیرا عظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ راجہ پرویز اشرف نے بطور سپیکر قومی اسمبلی اپنا شاندار کردار ادا کیا، راجہ پرویز اشرف کو اپنی پارٹی کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاکستان کے پاس بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں، ہمارے پاس دریا اور سمندر موجود ہیں، یہ ایوان بہت قابل لوگوں سے بھرا ہوا ہے، بہت قابل لوگ ہمارے چاروں صوبوں میں بیٹھے ہیں، اس ایوان کے قابل لوگ ملک کی کشتی کو مشکلات سے نکال کر کنارے پر لے جائیں گے۔
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیلنجز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں تاکہ معلوم ہوسکے مشکلات کیا ہیں، بجٹ کے دورانیے میں کل محصولات کا دورانیہ 12ہزار 300ارب روپے ہے، صوبوں کے حصے کی تقسیم کے بعد 7ہزار 300ارب روپے بچتے ہیں، صوبوں کو تقسیم کے بعد سود کی ادائیگی 8ہزار ارب روپے ہے، ہمیں شروع دن سے 700ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر اتنا خسارہ ہوتو ترقیاتی منصوبوں کا پیسہ کہاں سے آئے گا؟ افواج پاکستان کو تنخواہیں کہاں سے دیں گے؟ وفاق میں سرکاری افسران کی تنخواہیں کہاں سے دیں گے، یہ سب باتیں دکھی دل کے ساتھ کہہ رہا ہوں، گزشتہ کئی سال سے یہ نظام قرض لے کر چلایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج شعور کا راج ہونا چاہیے تھا،باقی اپوزیشن کی مرضی، اس ایوان کی کارروائی کے اخراجات بھی قرض سے ادا کیے جارہے ہیں،آپ کی اور اس ایوان کی تنخواہ قرضوں سے ادا کی جارہی ہے، کیا یہ مناسب ہے کہ شور شرابہ کیا جائے یا شعور کو فروغ دیا جائے، اس کا فیصلہ ایوان نے کرنا ہے اور تاریخ کرے گی، ہم آج تک 80ہزار ارب ٹوٹل قرضے لے چکے ہیں۔
    نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ کیا پاکستان اپنے وجود کو قرضوں کے بعد برقرار رکھ سکتا ہے؟ پاکستان اپنے وجود کو بالکل برقرار رکھے گا، ہم نے شعبوں میں بنیادی اصلاحات لانی ہیں، یا تو ہم قرضوں کی زندگی سے جان چھڑا لیں یا سر جھکا کر اپنے آپ کو چلائیں،یہ ممکن نہیں، ہم مل کر پاکستان کو عظیم بنائیں گے، ہم سر فخر سے بلند کرکے آگے چلیں گے۔
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک بڑا چیلنج بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہے، گردشی قرضہ 2300ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، 3800 ارب روپے کی بجلی مہیا کی جاتی ہے لیکن صرف 2800ارب روپے رقم وصول ہوتی ہے، پورے ایک ہزار ارب روپے کا گیپ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اس بات کی سزا دی گئی کہ ملک میں ترقی و خوشحالی کے مینار قائم کیے، ملک کی ترقی پر نواز شریف کی تختیاں لگی ہیں، نواز شریف کی حکومت کا 3 بار تختہ الٹا گیا، کیسز بنے، جلا وطنی پر مجبور کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، بے نظیر بھٹو شہید نے جمہوریت اور قانون وانصاف کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ نہ نواز شریف، نہ آصف زرداری، نہ بلاول نے پاکستان کے مفاد کے خلاف بات کی نہ سوچا، جب بے نظیر شہید ہوئیں تو آصف زرداری نے کہا پاکستان کھپے، ان کی باری آئی تو انہوں نے اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف اور افواج کے خلاف زہر اگلا، نو مئی کو اداروں پر حملے کیے گئے، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دو صوبوں کے وزیروں کو کہا گیا آئی ایم ایف سے کہو پاکستان کی مدد نہیں کرنی۔ نواز شریف، زرداری، بلاول، خالد مگسی نے کہا سیاست قربان ہو لیکن ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • شہباز شریف  پاکستان  کے33 ویں وزیراعظم منتخب

    شہباز شریف پاکستان کے33 ویں وزیراعظم منتخب

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    یوٹیفکیشن کے مطابق میاں محمد شہبازشریف نے 201 ووٹ حاصل کرکےکامیابی حاصل کی ہے،سیکرٹری قومی اسمبلی نے نوٹیفکیشن گزٹ آف پاکستان میں اشاعت کے لیے بھی بھجوادیا،

    قبل ازیں قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو بھاری اکثریت سے قائد ایوان اور ملک کے نیا وزیراعظم منتخب کر لیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے اسپیکر کی ڈائس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا تاہم بعد ازاں اپنی نشستوں پر چلے گئے۔ شہبازشریف دوسری مرتبہ وزیراعظم پاکستان منتخب ہوگئے ۔ ،وزیراعظم کیلئے شہباز شریف اور عمر ایوب مد مقابل تھے ۔شہباز شریف ن لیگ اور پی پی کے مشترکہ امیدوار تھے۔ عمر ایوب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوارتھے۔قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو 16 واں قائد ایوان اور ملک کا 33 واں وزیراعظم منتخب کر لیا۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے لیے ہونے والے انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف 201 ووٹ لیکر وزیراعظم پاکستان منتخب ہو گئے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عمر ایوب خان نے 92 ووٹ حاصل کیے۔

    نعرے بازی
    شہبازشریف کے وزیراعظم منتخب ہونے پرایوان میں دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا کے نعرے لگ گئے ۔قبل ازیں اجلاس کے شروع ہوتے ہی ن لیگ کے اراکین اور اپوزیشن اراکین آمنے سامنے آگئے،دونوں طرف سے شدید نعرے بازی کی گئی ،لیگی ارکان نے شیر شیر کے نعرے لگائے جبکہ اپوزیشن ارکان نےمینڈیٹ چور کے نعرے شروع کردیئے ۔لیگی ارکان نے گھڑی چور کے نعرےجواب میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے تیرا یار میرا یار قیدی نمبر 804 کے نعرے لگائے۔اپوزیشن کے شور وشرابے کی وجہ سے سپیکرقومی اسمبلی نے پیڈ فون لگا کر وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار بتایا۔

    نئے قائد ایوان کے انتخاب کے عمل سے قبل اسپیکر کے حکم پر5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں، گھنٹیاں بجائے جانے کے بعد ایوان کے دروازے بند کر دیے گئے اور اسپیکر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شہباز شریف کے حق میں جو اراکین ہیں لابی اے کی طرف چلے جائیں جبکہ عمر ایوب کے حق میں اراکین لابی بی میں چلے جائیں۔

    جے یو آئی کے اراکین وزیراعظم کے انتخاب کی کارروائی کا حصہ نہ بنے اور قومی اسمبلی ہال کے دروازے بند ہونے سے قبل جے یو آئی کے اراکین ہال سے باہر چلے گئے جبکہ سردار اختر مینگل ایوان میں بیٹھے رہے اور انہوں نے کسی کو بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔حکمران اتحاد کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے منصب کیلئے شہباز شریف امیدوار تھے جبکہ ان کے مد مقابل سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب خان تھے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے شہباز شریف کے قائد ایوان اور وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے کا اعلان کیا۔

  • صدارتی امیدوار محمود اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان سے مدد مانگ لی

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان سے مدد مانگ لی

    جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے سنی اتحاد کونسل کے صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ہوئی،ملاقات میں انتخابات کے بعد کی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی، محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان سے صدارتی انتخاب میں حمایت مانگ لی،

    مولانا فضل الرحمان پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اہمیت اختیار کر چکے ہیں، گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، اس سے قبل پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم اور صدر کے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے،آج محمود اچکزئی کو سنی اتحاد کونسل نے صدارتی امیدوار نامزدکیا جس کے بعد وہ ووٹ مانگنے کے لئے مولانا فضل الرحمان کے پاس گئے اور ووٹ مانگے.

    کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات جمع

    محمود اچکزئی کو نامزد کر کے عمران خان نے زبردست پیغام دیا ،علی محمد خان

    انتخابی دھاندلی، پی ٹی آئی کا احتجاج،کئی رہنما ،کارکنان گرفتار

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

    پی ٹی آئی کی لیڈرشپ چار چار جماعتوں کی منکوحہ رہی،خواجہ آصف

  • کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات منظور

    کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات منظور

    نئے وزیر اعظم کا انتخاب،وزیر اعظم کے کاغذات نامزدگی پر سکروٹنی کا عمل مکمل کرلیا گیا
    شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لئے،سنی اتحاد کونسل نے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ شہباز شریف فارم 45 پر ہارے ہوئے ہیں،شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات رد کردئیے گئے،عمر ایوب نے اعتراض لگایا کہ شہباز شریف اس ایوان کے رکن نہیں، وہ الیکشن ہارے ہیں،سپیکر ایاز صادق نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے اعتراض کو مسترد کر دیا،سنی اتحاد کونسل نے ایوان کے نامکمل ہونے کا اعتراض بھی اٹھایا،عمر ایوب نے کہا کہ نامکمل ایوان میں وزیراعظم کا انتخاب نہیں ہو سکتا، سپیکر نے اعتراضات مسترد کر دیئے،

    قبل ازیں وزیراعظم کا انتخاب، شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات جمع کروا دیئے گئے،وزیراعظم کے انتخاب کے لئے ن لیگ و اتحادی جماعتوں کے امیدوار شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، خورشید شاہ،حنیف عباسی نے جمع کروائے، کاغذات سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کروائے گئے،شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ 7 تجویز کنندہ اور 7 افراد تائید کنندہ ہیں،اس موقع پر عطاء تارڑ، انوشہ رحمٰن، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، رومینہ خورشید عالم، کھیل داس کوہستانی، احسن اقبال، سردار یوسف اور خواجہ آصف بھی موجود تھے۔

    عمران خان کا پرانہ وطیرہ ، جس کو گالی دی بعد میں اس کے ساتھ ہی بغل گیر ہوئے،عطا تارڑ
    اس موقع پر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج محمود خان اچکزئی صاحب کو امیدوار نامزد کیا گی،2014 کے دھرنا میں عمران خان صاحب نے محمود خان اچکزئی کی نقل کی تھی، محمود خان اچکزئی کی پرانی خواہش تھی صدر بننے کی جو پوری ہوگئی، عمران خان کا یہ پرانہ وطیرہ ہے جس کو گالی دی بعد میں اس کے ساتھ ہی بغل گیر ہوئے،

    سنی اتحاد کونسل کے نامزدی امیدوار عمر ایوب خان کے کاغذات نامزدگی بھی سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرا دیے گئے ہیں،عمر ایوب کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان، لطیف کھوسہ، اسد قیصر، عامر ڈوگر، علی محمد اور ریاض فتیانہ پہنچے ،اور کاغذات جمع کروائے،

    ن لیگ کے اراکین مینڈیٹ چور،منہ چھپاتے پھر رہے ہیں،عمر ایوب
    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ابھی بھی انکے خلاف کیسز ہیں، یہ بری نہیں ہوئے عدالت سے، انہوں نے اپنے کیسز ختم کروائے ہیں، چاہے دونوں بھائیوں میں سے کوئی بھی ہو چھوٹا ہو یا بڑا،اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، ظلم کی انتہا کی گئی،پارلیمنٹ میں ہم اپنی آواز اٹھائیں گے،کل بھی احتجاج کیا ، بات بھی کریں گے،یہ ہمارا قانونی حق ہے،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے اراکین منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، وہ مینڈیٹ چور ہیں،عمران خان، بشریٰ بی بی، پرویز الہیٰ، شاہ محمود قریشی، ہماری خواتین، مرد ورکر جو پابند سلاسل ہیں انکو رہا کروائیں گے،جتنے میرے ساتھی یہاں موجود ہیں سب کے خلاف کیسز ہیں،

    وزارت عظمیٰ کے لیے کل شہباز شریف کا عمر ایوب سے مقابلہ ہو گا،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی 3 مارچ کو کسی بھی کارروائی کو چھوڑ کر اپنے نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی، رائے دہی سے قبل اسپیکر امیدواران کے نام پڑھ کر سنائے گا،ایک ہی امیدوار ہونے کی صورت میں اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار وزیراعظم منتخب ہوگا،دو امیدوار ہونے کے صورت میں رائے دہی کرائی جائے گی، اگر کوئی امیدوار مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو دوبارہ رائے شماری ہو گی، رائے دہی سے قبل پانچ منٹ تک اسمبلی ہال کی گھنٹیاں بجائی جائیں گی،گھنٹیاں بجانے کے بعد قومی اسمبلی ایوان کے دروازے مقفل کر دیے جائیں گے، رائے شماری کے عمل کے بعد سیکریٹری تقسیمی فہرست جمع کروائے گا، گنتی کے بعد دو منٹ کے لئے مزید گھنٹیاں بجائی جائیں گی، گھنٹیاں بجنے کے بعد سپیکر نتائج کا اعلان کرے گا

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے، سنی اتحاد کونسل نے عمر ایوب کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے،جے یو آئی وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی،پیپلز پارٹی شہباز شریف کی حمایت کرے گی ، استحکام پاکستان پارٹی، ق لیگ بھی ن لیگ کی حمایت کریں گی

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

  • صدارتی انتخابات، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع

    صدارتی انتخابات، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع

    صدر مملکت کا انتخاب ، حکومتی اتحاد کی جانب سے آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمود اچکزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے گئے ہیں.

    پیپلز پارٹی کی جانب سے پارٹی رہنما فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائیکورٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرائے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی وصول کیے،پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدارتی امیدوار ہوں گے ،بلاول بھٹو اپنے والد آصف زرداری کے تجویز کنندہ اور فاروق ایچ نائیک تائید کنندہ ہیں۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے بھی صدارتی اتنخاب کےلیے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں، رکن قومی اسمبلی، عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے محمود اچکزئی کے کاغذات جمع کروائے،اس موقع پر لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق سے مکالمہ کیا کہ ہم سمجھ رہے تھے آپ چیمبر میں بلا کر چائے وغیرہ پلائیں گے، اسام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چائے تو اس کے بعد بھی آپ کو پلا دیں گے، عمر ایوب اور علی محمد خان صاحب بھی اس عدالت میں پہلی بار آئے ہیں،علی محمد خان نے کہا کہ میں اس عدالت میں انصاف مانگنے آتا رہا ہوں، اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کھوسہ صاحب آپ اپنا پورا نام کیا لکھتے ہیں؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری پارٹی اب زور دیتی ہے کہ نام کے ساتھ سردار لکھوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو نام کے ساتھ سردار ضرور لکھنا چاہیے۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے صدارتی نامزد امیدوار کا اعلان کر دیا، سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمو دخان اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین محمود خان اچکزئی کو صدرکے لئے ووٹ دیں گے،محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، اب صدارتی الیکشن میں مقابلہ آصف زرداری اور محمود خان اچکزئی کے مابین ہو گا،

    صدارتی انتخابات،سینیٹ کی خالی 10 نشستیں بھی اثر انداز ہوں گی، سینیٹ کی دس نشستیں خالی ہو چکی ہیں، سابق صدر آصف زرداری کو ان دس نشستوں کا نقصان ہو گا، ایم کیو ایم نے ابھی تک آصف زرداری کی حمایت نہیں کی تو وہیں پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے، جے یو آئی بھی ابھی تک کسی کی حمایت نہیں کر رہی بلکہ بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے،ایسے میں آصف زرداری کے لئے ایک ایک ووٹ قیمتی ہے،صدارتی انتخاب کے الیکٹو رل کالج میں سینیٹ کی نشستوں کی بہت اہمیت ہے کیونکہ ہر سینیٹر کا ا یک ووٹ ہوتا ہے جب کہ اسمبلیوں کا فار مولا الگ ہوتا ہے ،اگرچہ قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں اس اتحاد کی اکثر یت ہے ،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

    صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
    صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • نواز شریف مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    نواز شریف مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف مولانا فضل الرحمان کو منانے پہنچ گئے

    نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد ہوئی، نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفد میں رانا ثناء اللہ ، احسن اقبال، سعد رفیق اور اسحاق ڈار شامل تھے،جےیوآئی کے مولانا عبدالغفور حیدری، حاجی غلام علی ، اسلم غوری ، نور عالم خان ، عثمانی بادینی شریک تھے، ملاقات میں انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت ہوئی، مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی

    واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی اجلاس میں نواز شریف نے سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا ووٹ ڈالا، جے یو آئی نے الیکشن سے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے، مولانا فضل الرحمان سے گزشتہ روز تحریک انصاف کے وفد نے بھی ملاقات کی تھی،گزشتہ شب بھی ن لیگ اور اتحادی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا تھا، ن لیگ کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کئے جائیں، مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ وہ حکومت سازی کا حصہ نہیں بنیں گے،نہ ہی وزیراعظم، صدر کسی کو ووٹ دیں گے

    ووٹ مانگنے عمر ایوب مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    اپوزیشن میں بیٹھیں‌ گے،کسی کو ووٹ نہیں دیںگے،مولانا فضل الرحمان

    ن لیگ اور پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئیں

    اگر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے تو پھر ان کو حکومت بنانے دیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

  • علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی منتخب

    علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی منتخب

    علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی منتخب ہو گئے ہیں

    نو منتخب اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خیبر پختونخوا کے 22 ویں قائد ایوان کے لیے ووٹنگ ہوئی،آزاد حیثیت میں ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن جیتنے والے علی امین گنڈا پور کو سنی اتحاد کونسل کی حمایت حاصل تھی جبکہ ان کے مد مقابل مسلم لیگ ن کے عباد اللہ خان تھے جنہیں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی حمایت حاصل تھی، ووٹنگ کے بعد اسپیکر کے پی اسمبلی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ علی امین گنڈا پور نے 90 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عباداللہ نے 16 ووٹ حاصل کیے، اس طرح علی امین گنڈا پور 90 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ارباب عثمان نے پارٹی پالیسی کے خلاف انتخاب میں حصہ لیا،ارباب عثمان نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب میں ووٹ ڈالا، باضابطہ آگاہ نہیں کیا گیا کہ ووٹ کا استعمال نہ کروں، ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار ڈاکٹر عباد اللہ خان کو ووٹ ڈالا

    نومنتخب وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ
    وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھاکہ حقیقی آزادی ہماری ضرورت تھی، ہے اور رہے گی، آزاد حیثیت سے وزیراعلیٰ بنا ہوں، اس کا دکھ ہے، عمران خان کے اعتماد پر پورا اتروں گا، بانی پی ٹی آئی کا قصور یہ ہے کہ اس نے پاکستان اور عوام کی بات کی ،بانی پی ٹی آئی نے پاکستان کی خودداری اور کشمیر و فلسطین کے مسلمانوں کی بات کی بانی پی ٹی آئی کو جعلی پرچوں میں جیل میں ڈالا گیا، مینڈیٹ کو چوری کرنا آئین سے غداری ہے۔کوئی یہ سمجتھا ہے کہ ہم حق لینا نہیں جانتے تو اُس کی بھول ہے، ہم حق لینا بھی جانتے ہیں اور چھیننا بھی، ہمیں مجبور نہ کیا جائے،ہم وائی فائی نہیں مفت تعلیم دیں گے وہ بھی اکیلے پشاور کو نہیں پورے خیبر پختونخواہ کو مفت تعلیم حاصل ہو گی،اگر تعلیم ہو گی تو ہی نوجوان وائی فائی اور لیپ ٹاپ چلائیں گے۔بحیثیت وزیر اعلیٰ آئی جی کو سات دن کا وقت دیتاہوں کہ ہمارے ورکرز پہ جعلی ایف آئی آر ختم کرے ورنہ اسکے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔ اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا ہر پاکستانی محفوظ رہے تو ہمیں نظام بدلنا ہوگا،جو ظلم میری پارٹی کیساتھ ہوا ہے پارٹی ورکر کیساتھ ہوا خواتین کیساتھ ہوا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنی اصلاح کریں ہم انتقامی سیاست نہیں چاہتے جو ہمارے ساتھ ہوا کل آپ کیساتھ بھی ہو سکتا ہے۔قوم جان گئی ہے کون بار بار سلیکٹڈ بن کر آتے ہیں ،ایسا نظام چاہتے ہیں کہ کوئی قانون ہاتھ میں نہ لے، نہ کسی سے زیادتی ہو، اپنی اصلاح کریں اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کریں ،بانی پی ٹی آئی کو جلد صاف و شفاف اوپن ٹرائل کر کے رہا کیا جائے ،

    یکم رمضان سے صحت کارڈ بحال، غلطی کی ہے تو آئین کے مطابق سزا دی جائے،علی امین گنڈا پور
    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ذہن بدل کر امن کی طرف لائیں گے ،قرضوں پر قومیں نہیں بنتیں صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،خیبرپختونخوا کے لئے بڑے چیلنجز ہیں، سب سے بڑا چیلنچ دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کو تحفظ دینا ہے، کرپشن کا ناسور ملک کی تباہی کا باعث ہے، کرپشن نہ کرنے کے لئے اراکین کھڑے ہوکر حلف لیں، کسی کی جرات نہیں کہ ہمیں رشوت دیں، جن مقدمات کا ثبوت نہیں وہ ایک ہفتے میں ختم کیے جائیں، جس نے کوئی غلط کیا اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،غریبوں کی بجائے امیروں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالیں گے ،غیر قانونی مائننگ کرنے والوں کو ٹیکس دینا ہوگا ورنہ مائننگ کو بند کردونگا ،یکم رمضان سے صحت کارڈ کو بحال کریں گے ،مجھ پر 9 مئی کی جھوٹی ایف آئی درج کی گئیں، اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے تو آئین کے مطابق سزا دی جائے،چیف الیکشن کمیشن کو استعفی دینا چاہیئے، یہ جو مینڈیٹ چھوری ہوا ہے اس کو سامنے لے کر آؤ گا،

    سینیٹ کی 10 نشستیں خالی ہونے کا معاملہ ، پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا ،

    خیبر پختونخوا،اسد قیصر کے بھائی کی جگہ بابر سلیم سواتی ڈپٹی سپیکر نامزد

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

    علی امین گنڈا پور 90 ووٹ لے کر وزیر اعلی، کے ہی کے منتخب ہو ئے یاد رہے علی امین گنڈاپور گزشتہ روز پی ٹی آئی کے جماعتی انتخابات میں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے بھی صدر منتخب ہوئے تھے،

    خیبر پختونخوا، تحریک انصاف نے ریکارڈ بنا دیا، تیسری بار حکومت مل گئی
    خیبر پختونخوا میں تیسری بار تحریک انصاف نے حکومت بنائی، 2013 میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی نے صوبے میں حکومت بنائی اور پرویز خٹک وزیراعلیٰ بنے،2018 میں پی ٹی آئی نے دوسری مرتبہ حکومت بنائی اورمحمود خان صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی تاریخ میں واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف حکومتیں بنانے کی ہیٹرک مکمل کی بلکہ مسلسل دوسری مرتبہ صوبے میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔علی امین گنڈا پور اس بار وزیراعلیٰ کے امیدوار تھے، عمران خان نے اڈیالہ جیل سے علی امین گنڈا پور کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا،آج علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ کے پی منتخب ہو چکے ہیں.