Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،شہباز شریف اور اسحاق ڈار نواز شریف کے ہمراہ تھے

    اس موقع پر صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کیا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت اکانومی کو ٹھیک کرےگی، خواہش ہے ہر اسمبلی اپنی مدت پوری کرے ہر سینیٹ اپنی مدت پوری کرے، وزیر اعظم اپنی مدت پوری کرے، انشاءاللہ یہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی، معیشت سے ساری معاملات جڑے ہوئے ہیں، سیاسی عدم استحکام کی کوئی بات نہیں ہے، انشاءاللہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی تو سب ٹھیک ہوگا،

    پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہو گیا،اجلاس کے آغاز پر قائد مسلم لیگ ن کی آمد پر ارکان نے پرتپاک استقبال کیا،شہباز شریف تمام ارکان کو فردا فردا سب سے ملے ،اجلاس کی صدارت نواز شریف اور شہباز شریف کررہے ہیں ،اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان شریک ہیں،پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے تقریبا 100 سے زائد ارکان شریک ہیں،نومنتخب ارکان نے پارٹی قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،پارلیمانی پارٹی نےملک کو مشکلات سے نکالنے میں قیادت کا ہر قدم پر ساتھ دینے کا عزم کیا،

    وزیر اعظم شہباز شریف ،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ہوں گے، نواز شریف کا اعلان
    نواز شریف نے وزیرِ اعظم کے لئے شہباز شریف کا نام پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھ دیا،پارلیمانی پارٹی نے شہباز شریف کے نام کی توثیق کر دی،سپیکر قومی اسمبلی کے لئے نواز شریف نے ایاز صادق کا نام دے دیا،پارلیمانی پارٹی نے قیادت کے فیصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا،وفاقی کابینہ کی تشکیل سمیت تمام فیصلوں کا اختیار پارٹی قیادت کو سونپ دیا گیا ،پارلیمانی پارٹی نے ملک کی بہتری ،عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی .جمہوریت کی بالادستی ،پارلیمان کے استحکام کے لئے کردار ادا کے کا عزم کیا گیا، ملک اور قوم کو ملکر مشکلات سے نکالنے کے عزم کا اعادہ کیا،

    پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نواز شریف
    نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے پہلے بھی ملک اور قوم کی بہتری کے لئے کام کیا ،پاکستان کو بھنور سے نکالنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو واپس پٹڑی پر چڑھائیں گے ،تبدیلی لانے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا،اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا ،ملک اب مزید کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا ،پاکستان کو انتشار کی نہیں،اتحاد کی ضرورت ہے ،پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نومنتخب ارکان اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،بھرپور مقابلے کے بعد آپ لوگ یہاں پہنچے ہیں ،
    ہمارے ارکان بہت سخت لڑائی لڑ کر قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں،بانی پی ٹی آئی جب گرے تو میں سب سے پہلے اسپتال پہنچا،ملک کے وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا،ایسے لگتا تھا جیسے غصے میں مجھے نااہل کیا گیا،قوم آج جو دن دیکھ رہی ہے وہ اسی فیصلے کا نتیجہ ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلے دیئے، کہاں ہے وہ آج ؟ ثاقب نثار کے بیٹے کس کی ٹکٹ کیلئے پیسے وصول کررہے تھے ،وہ جج جہاں ہیں جنہوں نے ہمیں سسلین مافیا کہا،ہم نے کیا بگاڑا تھا ہمارے خلاف اتنا غصہ کیوں تھا ،اس سارے کھیل میں اور بھی پلیئر تھے ،مجھے جن ججوں نے فارغ کیا عوام کو پتہ چل گیا کہ انہوں نے کس لئے مجھے نکالا ،مجھے ہٹانے سے نہ میرا نقصان ہوا تھا اور نہ ہی میری پارٹی کا نقصان ہوا تھ تو صرف پاکستان کا ہوا تھا،

    آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،نواز شریف
    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے ہوتے رہے اور ہم بجلی کے کار خانے لگاتے رہے۔2013 میں وزیراعظم بنا تو بنی گالہ عمران خان کے گھر گیا اور کہا کہ سیاسی قوتوں کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔مگر چند ہفتے بعد لندن میں میٹنگ کرکے طے کیا کہ دھرنے ہوں گے،2017 میں لگ رہا تھا کہ مسلم لیگ ن دوبارہ الیکشن جیتے گی۔ساری سیاسی جماعتوں کو سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کرنا چاہئے۔قوم کے بچوں کو تو بدتمیزی اور بدتہذیبی نا سکھاو،ملک کے وزیراعظم کی یہ زبان ہوتی ہے؟4سال میں آپ نے کیا کیا کون سا منصوبہ لگایا۔ عمران خان کے کسی بھی الزام سے نہ ڈرنا چاہیے نہ گھبرانا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیشہ ایسے ہی رونا ہے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہو گئی ،آپ کچھ بھی کر لیں جب بھی آپ جیتیں گے انکا رویہ ایسا ہی ہوگا۔پاکستان کے ہر بڑے منصوبے پر مسلم لیگ ن کی مُہر لگی ہوئی ہے اگر کسی اور نے کوئی منصوبے لگائے ہیں تو سامنے آئیں ہم تسلیم کریں گے،ہم نے پہلے بھی ڈیلیور کیا اب بھی ڈیلیور کریں گے۔میں تو شہباز شریف صاحب کو داد دیتا ہوں پچھلے 16 ماہ میں جس قدر مسائل تھے یہ انہی کا کام ہے جو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا گئے، آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل ہوں گے ہم نے ایک ساتھ رہ کر کام کرنا ہے،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،ہم نے مل کر زخم بھرنے ہیں پاکستان اس وقت بہت زخمی ہے اس سے پہلے میں نے اتنا زخمی پاکستان نہیں دیکھا،ہم نے روپے کی قیمت کو کم کرنا ہے، بجلی اور گیس کے بل کم کرنے ہیں،اگر ہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ چلیں گے تو یقیناً ہم کامیاب ہو جائیں گے

    نو مئی والوں نے ملک کادیوالیہ نکال دیا تھا ،شہباز شریف
    ن لیگ کے صدر شہباز شریف نےبڑے بھائی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پارٹی نے جب بھی جو زمہ داری احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کی پی ڈی ایم حکومت میں بھی ملک کو مشکلات سے نکالا ،نو مئی والوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا ،پی ڈی ایم حکومت نے انتہائی جانفشانی سے ملک کے لئے کام کیا ، پاکستان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے،سب کو محنت کرنا ہو گی،ن لیگ ،نواز شریف کی قیادت میں آپ کی بہت بڑی کامیابی ہے ،ہمارے ارکان اسمبلی اپنے بل بوتے پر جیت کر آئے،جو آزاد اراکین پارٹی میں شامل ہوئے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں ،نواز شریف نے کراچی کا امن بحال کیا، آزاد اراکین کی قوت کے ساتھ ہماری تعداد 104 ہوگئی ہے،سی پیک کے منصوبے لیکر آئے اس کی پوری قوم گواہ ہے ،7 ہزار میگا واٹ بجلی قوم کو مہیا کی، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ،چاروں صوبوں کو موٹرویز کے ذریعے جوڑا،بھٹو کو پھانسی ہوئی، بے نظیر شہید ہوئیں، مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا، جب نواز شریف بیمار ہوئے تو غلیظ زبان استعمال کی گئی مگر انہوں نے صبر کیا،

    آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،خواجہ آصف
    پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور فیض ہم سے قانون سازی کرواتے تھے ،اس ماحول میں کیا ہو سکتا تھا ،اس وقت کا بگاڑ ہم بھگت رہے ہیں،اداروں سے اختلافات نہیں کرنا چاہیے، صدر اس ادارے سے اختلاف کر رہا ہے ،آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،دو بار آئین کی خلاف ورزی کی گئی،پاکستان کا پاور اسٹرکچر کو مل کر بیٹھنا چاہیے کوئی حل نکالنا چاہیے ،اپنی ذاتی انا کو پس پشت ڈالنا چاہیے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کی صدارت ہمارے قائد نواز شریف نے کی، نواز شریف نے باضابطہ شہباز شریف بطور وزیراعظم اور ایاز صادق کو اسپیکر نامزد کیا،نوازشریف کی پارٹی اور ملک کے لئے خدمات ہیں جن پر خراج تحسین پیش کیا گیا،شہباز شریف کو ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا،ہم نے جوعوام کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی کام کئے اس پر پارلیمانی پارٹی میں روشنی ڈالی، پارٹی جو ذمہ داریاں دے گی ان کو نبھاؤں گا،اتحادیوں جماعتوں کے ساتھ آج شام کو مشترکہ پارلیمانی میٹنگ ہے، مشترکہ اجلاس اور عشائیہ پنجاب ہاوس میں ہوگا،

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی غیر آئینی ’سلیکشن‘ سے صوبے میں استحکام نہیں آئے گا،بیر سٹر گوہر

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • گوادر میں بارش سے ہر طرف تباہی،حکومتی مشنری غائب،مکین دربدر

    گوادر میں بارش سے ہر طرف تباہی،حکومتی مشنری غائب،مکین دربدر

    بلوچستان کے علاقے گوادر میں مسلسل بارش سے نظام زندگی درہم برہم ہو گیا، 16 گھنٹے کی مسلسل بارش نے ہر چیز تباہ کر دی، مکین پریشان، حکمران خاموش، کوئی مدد کرنے کو تیار نہیں، کھلے آسمان تلے سرد موسم میں مکین رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں

    گوادر میں 2010 کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر تیز بارش ہوئی ہے ۔تیز بارش کی وجہ سے پانی گھروں اور بازاروں میں داخل ہوگیا ہے ۔شہریوں کا سامان ڈوب گیا، شہری بے بس اور مدد کے منتظر ہیں، ایسے میں بلوچستان حکومت صرف بیانات دے رہی ہے ابھی تک کوئی مدد کو نہیں پہنچا،گوادر شہر اس وقت تالاب بن چکا ہے، مکانات اور گھروں کی چار دیواریاں زمین بوس ہورہی ہیں، شہر کے مکین بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ 90 فیصد گوادر پانی میں ڈوب چکا ہے۔ نکاس کا ناقص نظام، سڑکیں تالاب بن گئیں۔ حکومتی مشینری منظر سے غائب ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔گوادر میں 168.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جب کہ بارش کے باعث شہر کو بجلی کی فراہمی معطل اور کئی علاقوں موبائل نیٹ ورک بند ہوگئے ہیں،ادھر جیوانی کی حالت بھی انتہائی مخدوش ہے جہاں سیلابی صورتحال سے 3 برساتی بند ٹوٹ گئے اور کئی مکانات اور چاردیواریاں گرگئیں۔

    گوادر میں مسلسل بارش کے باعث امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا ہے، گزشتہ کئی گھنٹوں سے بارش کے جاری رہنے والے سلسلے میں مزید اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ کل سے ملک پر نئے سسٹم کے تحت ہیوی اسپیل دکھائی دے رہا ہے، سردیوں کی بارش عموماً اتنی شدت کی نہیں ہوتی، گودار میں اس بار غیر معمولی بارش ہوئی ہے اور گوادر میں ان مہینوں میں اتنی بارش پہلے کبھی نہیں ہوئی، گوادر میں کل دوبارہ تیز بارش کا امکان ہے

    گوادر میں بارشوں سے تباہی،شہباز شریف کا اظہار تشویش
    دوسری جانب نامزد وزیراعظم شہباز شریف نے بارش سے ہونے والی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین سے ہمدردی ہے، مشکل کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) بلوچستان کےکارکنان کو متاثرین کی فوری امداد کرنے کی ہدایت کی ہے

    نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں، رابطہ سڑکیں زیرآب آنے سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے گوادر کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کر دی،اور کہا کہ بارش سے متاثرہ افراد کی مدد کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔

    علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے آج بھی گوادر سمیت بلوچستان کے 14 اضلاع میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کوئٹہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مختار مگسی کے مطابق گوادر میں منگل کو چند گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی

    انتظامیہ گوادر کے شہریوں کی مدد کے لئے فوری اقدامات کرے،بلاول
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گوادر میں بارش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلسل برسات کی وجہ سے گوادر میں ہنگامی صورت حال پیدا ہوچکی ہے،گوادر میں برسات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال ہنگامی امدادی اقدامات کے متقاضی ہے،بارش کی وجہ سے گوادر کے گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہوچکا ہے، شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے مصیبت میں پھنسے گوادر کی شہریوں کی مدد کریں، انتظامیہ گوادر کے شہریوں کی مدد کے لئے فوری اقدامات کرے،

    سابق وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ گوادر میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے،گوادر کو آفت زدہ قرار دیا جائے،

  • لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    لاپتہ بلوچ طلبہ کیس، نگران وزیراعظم عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ، نگران وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ لاپتہ بلوچ طلبہ کیس میں طلب کیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو طلب کر رکھا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بلوچ لاپتہ طلبا کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ، وزیر داخلہ گوہر اعجاز و دیگر عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئین کے اندر رہ کر کام کررہے ہیں، میں قانون کے مطابق جواب دہ ہوں ، آپ نے ہمیں بلایا ہم آگئے ہیں ، میں بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں ، ہم بلوچستان میں مسلح شورش کا سامنا کررہے ہیں،مجھے بلوچستان سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے حالات کا زیادہ علم ہے، بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہو رہی ہے، بلوچستان میں کچھ لوگ نئی ریاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،نان اسٹیک ایکٹرز کی خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ ہوتی ہیں، ہمارے بلوچستان کے ایک سابقہ چیف جسٹس کو مغرب کی نماز کے وقت ان مسلح جتھوں نے شہید کیا تھا، ان چیف جسٹس صاحب نے ایک انکوائری کی سربراہی کی تھی، زندہ رہنے کا حق سر فہرست ہے،

    سسٹم میں کمی اور خامیاں ، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی بالکل ایک مختلف معاملہ ہے، ریاستی اداروں کو معلوم ہے ملک کیسے چلانا ہے،لیکن لوگوں نے حقوق کی خلاف ورزی کرکے ملک نہیں چلانا،یواین کا بھی ایک طریقہ ہے وہ پوچھتے ہیں کون لاپتہ ہوا، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ وہ پوچھتے ہیں آپ جسٹس محسن اختر کیانی ہیں آپ لاپتہ ہو گئے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میں نے جبری لاپتہ ہو جانا ہے؟ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میں مثال دے رہا ہوں، میں انوار کا نام لے لیتا ہوں،یہ بسوں سے اتار کر نام پوچھتے اور چودھری یا گجر کو قتل کر دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ سٹوڈنٹس کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نا کریں ،سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں،ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کر رہے ہیں،وہ ایک نئی ریاست تشکیل دینے کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں،ریاست اخلاقی طور پر خود کو بالادست سمجھتی ہے تو ان کی جوابدہی زیادہ ہوتی ہے،ایسا نہیں ہے کہ خود کش حملہ آور نیک نامی کا باعث بنتے ہیں،90 ہزار افراد آج تک اس ملک میں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں، فرقہ واریت کی بنا پر لوگوں کے نام پوچھ کر قتل کئے گئے ہیں، تم چوہدری ہو گولی، تمہارا نام گجر ہے گولی، یہ سلسلہ ہے، کلاشنکوف اٹھانے والا اور نہتا فرد ایک جیسے نہیں ہو سکتے،مجھے صحافی نے پوچھا کہ آپ بلوچستان واپس کیسے جائیں گے؟

    مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،نگران وزیراعظم
    جسٹس محسن اختر کیانی نے نگران وزیراعظم سے استفسار کیا کہ بلوچستان تو دور یہ آپ کے سامنے مطیع اللہ جان جان کھڑے ہیں، دن دھاڑے اسلام آباد سے انہیں اغواء کر لیا گیا۔لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالہ سے کامیاب اقدامات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے، قانون کی پاسداری ہر شہری کا حق ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ مطیع اللہ جان کو کسی نے اغوا کیا ہے تو بالکل کارروائی ہونی چاہیے ،عدالت نے کہا کہ اس بات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے 59 لوگوں میں سے صرف 8 لوگ رہ گئے ہیں،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پیرا ملٹری فورسز، کاؤنٹر ٹیرارزم کے اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں، پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک نے بڑے بڑے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، سسٹم کمزور ضرور ہے لیکن بے بس نہیں ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میرا بیٹا فوج میں بھرتی ہوتا ہے تو میں کیا چاہوں گا کہ قانون میرے ساتھ کھڑا ہو یا دہشت گردوں کے ساتھ؟بیس سال سے لڑائی چل رہی ہے، آئندہ پارلیمنٹ آئے گی وہ بھی دیکھے گی، آئے روز کے الزامات سے ریاست کو نکالنا چاہیے، ہم نے اس لیے ہتھیار نہیں اٹھایا کہ ریاست نے ہمارے حقوق کی گارنٹی دی ہے،میں صرف لاپتہ افراد کے حوالے سے وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتہ افراد کا پوچھیں تو پانچ ہزار نام دے دیتے ہیں، یہ خود بھی اس ایشو کو حل نہیں کرنا چاہتے،آئین پاکستان مجھ سے غیرمشروط وفاداری کا مطالبہ کرتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ خوبصورت باتیں کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس بہت سی مثالیں موجود ہیں،

    روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،نگران وزیراعظم
    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے، آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ روکنا چاہیے، قانون کو یہ دیکھنا ہوگا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز اور سٹیٹ ایکٹرز کو کیسے دیکھنا ہوگا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بات عدالت ، ایمان مزاری اور آپ کی ایک ہی ہے، ریاست مخالف لوگوں کو کوئی عدالت پروٹیکشن نہیں دے سکتی، کیا اس معاملے پر آپ قانون سازی کرسکتے ہیں؟ نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں نہیں کرسکتا ، نیا پارلیمان کے پاس اختیارات ہونگے وہ کرسکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ پرچہ کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسی ملک میں بڑے بڑے دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں،جن لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے انکو عدالتوں میں پیش کرنا لازم ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ بڑی سیاسی جماعتوں کو اٹھاکر حل کرنا چاہیے، ہمارے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، روزانہ اداروں کے جوان شہید ہورہے ہیں، روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگر ہم خاموش ہیں،آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 میرے سے غیر مشروط وفاداری مانگتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کر دی،جسٹس محسن اختر کیانی نےکہا کہ گرفتاری میں قانون کی خلاف ورزی ہو تو وہ غیرقانونی ہو جاتی ہے، کابینہ کے سامنے معاملہ رکھیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں، عدالت نے کیس کی سماعت 3 اپریل تک ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیراعظم کو پہلے بھی طلب کیا تھا تاہم وزیراعظم عدالت پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے دوبارہ انوار الحق کاکڑ کی طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، آج نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت پیش ہو گئے ہیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، آئی جی اسلام آباد بھی عدالت پہنچ چکے ہیں،پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.

    آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،نگران وزیراعظم کا صحافی سے مکالمہ
    اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ عدالت سے نکلے تو صحافیوں سے بات چیت کی، اس دوران نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت میں جبری گمشدگی کا دفاع بالکل نہیں کیا، جبری گمشدگی کے نام پر جو الزامات لگ رہے ہیں، ان کا دفاع کیا، وزیراعظم اور صحافی کے درمیان سخت سوال و جواب ہوئے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ آپ سے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں آپ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں،صحافی نے سوال کیا کہ یہ افراد سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے تو پہلے کیوں نہیں بتایا گیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ الزام کو الہامی حیثیت دینا چاہتے ہیں،ہم انکوائری کریں گے پھر بتا دیں گے،صحافی نے سوال کیا کہ نگران حکومت نے کس آئین کے تحت 6 ماہ کا وقت لیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 1973 کے تحت،

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں؟ سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،

    بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

    آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کردیں،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اعتراض یہ ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی ،جب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو تشریح کرنی پڑتی ہے ،سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے ،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ جس پارٹی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں کیا اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر وہ پارٹی نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کی فہرست پر ان کا نام اور انتخابی نشان کیوں ہے، ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس پارٹی کی رجسٹریشن ختم کردیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بے شک ختم کردیں لیکن اس کیلئے پراسس کرنا پڑے گا،سیاسی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا لازم ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ شق201میں لکھا ہے کہ سیاسی جماعت وہ ہے جو انتخابات میں حصہ لے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ کے خیال میں سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں تو کیوں رجسٹرڈ کیا؟ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ابھی ہم نوٹس لیکر سنی اتحاد کونسل کو ڈی لسٹ کر دیں ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈی لسٹ کردیں آپکا صوابدیدی اختیار ہے مگر اسکے لئے طریقہ اختیار کرنا ہوگا، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے،آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، سیاسی جماعت کو تحلیل کرنا ہو تو وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجواتی ہے، وفاقی حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعت قومی سلامتی کے خلاف اقدامات میں ملوث ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستیں دینا سنی اتحاد کونسل کا حق ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے تو عام انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی، کیا سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت نہیں ہے، آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت بن گئی ہے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل آزاد ارکان کے بغیر پارلیمانی جماعت بھی نہیں ہے، آزاد ارکان کی بنیاد پر سنی اتحاد کونسل کو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں آگے صدارتی الیکشن آنے والے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ صدارتی الیکشن سے مخصوص نشستوں کا کیا تعلق ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی الیکشن کا مخصوص فارمولہ ہوتا ہے، آزاد ارکان صدارتی الیکشن میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ مخصوص نشستیں کس کو ملنی ہیں یہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا،

    کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ممبر بابر حسن بھروانہ
    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے ترجیحی نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی، کیا سنی اتحاد کونسل الیکشن کے بعد ترجیحی فہرست جمع کراسکتی ہے؟ ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا صرف آزاد ارکان کی بنیاد پر ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستیں دیدیں؟ آزاد ارکان کے بغیر اس وقت سنی اتحاد کونسل کی کوئی حیثیت نہیں، جن جماعتوں کے ارکان نے نشستیں جیتیں ان جماعتوں میں کیوں مخصوص نشستیں تقسیم نہ کریں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت کا پارلیمانی ہونے کی کوئی شرط نہیں،مخصوص نشستیں نہ دینے سے سینیٹ الیکشن میں بھی سنی اتحاد کونسل کو نقصان ہوگا، ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ ترجیحی فہرست کون دے گا پارٹی سربراہ یا پارلیمانی پارٹی کا سربراہ؟ بیرسٹر فاروق نائیک نے کہا کہ ترجیحی فہرست اس وقت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت الیکشن سے پہلے گزر چکا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ترجیحی فہرست جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین اور الیکشن کمیشن کا قانون اس معاملے پر خاموش ہے، پہلی مرتبہ ایسا معاملہ آیا ہے، الیکشن کمیشن اس پر فیصلہ کرے گا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے نہ جنرل الیکشن میں حصہ لیا نہ ترجیحی نشستوں کی فہرست جمع کرائی، سنی اتحاد کونسل نے خط لکھ کر کہا کہ نہ جنرل الیکشن لڑ رہے ہیں نہ مخصوص نشستیں چاہییں،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کا خط بیرسٹر علی ظفر کو دکھا دیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں 21 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دیں تو دوسری جماعتوں میں تقسیم کردیں گے،

    اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،ممبر الیکشن کمیشن
    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے سیٹوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں ملیں گی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میں مخصوص نشستوں کی لسٹ کا ذکر بھی ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں آپ سے اختلاف نہیں کروں گا لیکن آپ فارمولا کو تبدیل نہیں کرسکتے،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے پاس سیٹیں نہیں ہیں تو مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی ،بالکل بھی نہ ملیں لیکن میں ابھی اصول کی بات کررہا ہوں ،اگر آپ کے لوگ سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو فارمولا کیا ہوتا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر ماضی میں نہیں سوچا گیا ، آزاد امیدواروں پر پابندی نہیں کہ کس جماعت کو جوائن کریں کس کو نہیں،بنیادی مقصد کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کا بنانے میں معاونت تھا،آئین میں کہیں نہیں ہے کہ کس جماعت میں شمولیت ہوسکتی ہے اور کس میں نہیں،پہلا سوال تھا سنی اتحاد کونسل منتخب نہیں،آزاد امیدوار شمولیت کربھی لیں تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی،ایک درخواست گزار کا موقف ہے سیاسی جماعت کو پارلیمانی جماعت ہونی ضروری ہے،آئین میں سیاسی جماعت کا ذکر ہے نہ کہ پارلیمانی جماعت کا،پارلیمانی جماعت اور سیاسی جماعت میں فرق متعلق الگ آرٹیکل ہے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعت چاہے غیر پارلیمانی ہو اگر ممبران شامل ہوگئے تو پارلیمانی بن جائے گی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت پارلیمانی بن سکتی ہے جب ممبران اسمبلی شامل ہوں،میرا موقف یہ ہے کہ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کیلئے اہل ہے ،ممبر پنجاب نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارلیمانی پارٹی یا پارٹی ہیڈ دے گا ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی لسٹ پارٹی ہیڈ دے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،فاروق ایچ نائیک
    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے26 جنوری کوالیکشن کمیشن کوخط لکھا، سنی اتحاد کونسل نےکہاجنرل الیکشن نہیں لڑےنہ مخصوص نشستیں چاہیے،آپ کیوں انکومجبورکررہےہیں، بیرسٹرعلی ظفرنےسنی اتحاد کونسل کےخط سےلاعلمی کااظہارکردیا اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ایسے کسی خط سے متعلق نہیں بتایا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص وقت میں ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی،اس وقت الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل سے ترجیحی فہرست نہیں لے سکتا،سیاسی جماعت جمع کرانے کے بعد ترجیحی فہرست میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتی،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کی جائے،
    اگر لسٹ ہی موجود نہیں تو پھر الیکشن ایکٹ104 سیکشن کے مطابق نئی فہرست نہیں دی جاسکتی ،الیکشن ایکٹ سیکشن 104 میں مخصوص نشستوں سے متعلق لکھا ہوا ہے،الیکشن کمیشن وہی کرسکتا ہےجو ایکٹ اور قانون میں لکھا ہوا ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کی شق س 4 کے مطابق ہمیں بتائیں ہمارا کیا اختیار ہے ۔اگر آئین اور ایکٹ میں نہیں لکھا ہوا پھر الیکشن ایکٹ کا سکشن 104 کی شق 4 کے تحت حکم جاری کرسکتے ہیں۔ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ یہ بتائیں اگر 99 آزاد امیدوار ہیں 1 سیاسی جماعت کا امیدوار جیتا ہے تو 26 مخصوص نشستیں کس کو ملیں گے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر بھی کوٹہ کے مطابق ہی مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہوگا ۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے

    المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں،علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر نے دوبارہ غلطی سے کے پی کے بول دیا ،کے پی کے بولنے پر چیف الیکشن کمشنر اور ممبران ہنس پڑے ،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں کے پی کے نہیں خیبرپختونخوا ،لوگ سی ای سی کو بھی کچھ اور کہتے ہیں ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں ،گیارہ بجے انتخابی عذرداریاں کی سماعت بھی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھیں میں حاضر ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں انتخابی عذرداریوں کی سماعت دو بجے کے بعد رکھ لیتے ہیں، قانون میں موجود ہے کہ ترجیحی فہرست دینا ضروری ہے ۔قانون میں یہ تو تحریر نہیں کہ اگر کوئی مقررہ وقت پر فہرست جمع نہیں کرواتا تو وہ بعد میں فہرست دے سکتاہے۔اگر سیاسی جماعت کہتی ہے کہ نہ ہم الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہمیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے آپ کی جماعت نے ہمیں تحریری طور پر بتایا ہے کہ وہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ انہیں مخصوص نشستوں کی ضرورت ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مگر اب صورت تبدیل ہوگئی اور آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو مخصوص نشستیں ملنی چاہیں۔باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تھی مگر آذاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔ممبر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں قانون اور صورت کچھ اور تھی جس کے تحت انہیں مخصوص نشستیں دی گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس حوالے سے ریکارڈ ہے آپ کے پاس ؟ ۔علی ظفر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمیں کوشش کے باوجود ریکارڈ نہیں ملا مگر معاملہ یہ تمام میڈیا میں رپورٹ ہوا۔اس معاملے کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ممبر کمیشن نے کہا کہ خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں کب پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔علی ظفر نے کہا کہ یہ بہت دلچسپ معاملہ ہے۔2002 میں مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا ۔مخصوص نشستوں کا معاملہ بعد میں 18ویں ترمیم کا حصہ بنا۔ہم دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنی سیٹیں نہیں ہڑپنے دیں گے۔المیہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں مگر جب موقع دیکھتے ہیں تو اپنی بیانات سے منحرف ہو جاتی ہیں۔وہی معاملہ ہوتا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی انڈوں کے لئے ذبح کرلو۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جائیداد بے وارث ہے۔علی ظفر نے کہا کہ بالکل درست کہا آپ نے یہی میرا موقف ہے ۔علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے.

    ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.اعظم نذیر تارڑ
    اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے عام انتخابات میں کوئی حصہ نہیں لیا، الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے انتخابی ضابطوں پر عملدرآمد بارے خط لکھا،سنی اتحاد کونسل نے جواب دیا کہ انکی جماعت نے کوئی امیدوار کھڑے نہیں کئے،سیکشن 104میں واضح لکھا ہے کہ جوپارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہو،شق 104میں مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی فہرست کا ہونا لازمی ہے،ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کیاہو تو آزاد اراکین جاکر کیسے مخصوص نشستیں مانگ سکتے ہیں.

    ایم کیو ایم ،جے یو آئی نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی
    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے بھی الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کر دی۔جے یو آئی ف نے بھی سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالفت کردی ، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے وہئے کہا کہ آپ نے آئین، الیکشن ایکٹ شق 104 اور رولز 92 کو دیکھنا ہے،نشستوں کی پوزیشن سے متعلق آرٹیکل 51 کی شق تین دیکھنا پڑے گا، سنی اتحاد کونسل نے کوئی لسٹ نہیں دی اب لسٹ جمع نہیں ہوسکتی، اب یہ سیٹیں ان پارٹیوں میں تقسیم ہوسکتی ہے جنہوں نے لسٹ فراہم کی تھی

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں گی یا نہیں، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹی گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،علی ظفر
    الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے بعد تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، دونوں طرف سے بحث ختم ہو چکی ہے، آئین پاکستان واضح کہتا ہے جیتنے والی سیٹوں کی تعداد کے مطابق مخصوص نشستیں دی جائیں،ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہیں لیکن موقع ملے تو دوسرے کا حق غبن کرتی ہیں،آج مخالف جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ ہم اپنا مخصوص حصہ لے چکے ہیں،قانون میں کہاں قدغن ہے کہ دوبارہ فہرست نہیں دی جا سکتی،اگر ہماری سیٹیں پی پی ، ن لیگ میں بانٹیں گئیں تو دوبارہ سپریم کورٹ جائیں گے،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں کوئی حیرات نہیں ہمارا آئینی حق ہے، ہم نے کہا یہ الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑ سکتا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

  • لانگ مارچ ،توڑ پھوڑ،احتجاج مقدمے میں عمران خان "بری”

    لانگ مارچ ،توڑ پھوڑ،احتجاج مقدمے میں عمران خان "بری”

    سابق وزیراعظم عمران خان کو بڑا ریلیف مل گیا،عدالت نے تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں بری کر دیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 9 مئی 2023 کو احتجاج اور توڑ پھوڑ سے متعلق تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں عمران خان ، فیصل جاوید، اسد عمر اور دیگر کو بری کردیا،جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر نے بریت کی درخواستیں منظور کرنے کافیصلہ جاری کردیا، دوران سماعت وکلاء آمنہ علی،سردار مصروف خان اور محسن غفار عدالت پیش ہوئے، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کی جانب سے249اے کے تحت الگ الگ بریت کی درخواستیں دائر کی گئیں، مقدمہ میں ملزمان کو سزا نہیں سنائی جاسکتی، مقدمہ کا مزید ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہے، عمران خان ،اسدعمر، راجہ خرم شہزاد نواز ، علی نواز اعوان، فیصل جاوید،عابد حسین اور ظہیر خان کی بریت درخواستیں بھی منظور کی جاتی ہیں

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان اسدعمر،علی نواز اعوان اور فیصل جاوید ضمانت پر ہیں، مچلکے واپس لے سکتے ہیں، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ وکیل صفائی کے مطابق عمران خان و دیگر ملزمان کو دفعہ 144 نافذ ہونے کا معلوم نہیں تھا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا،عمران خان و دیگر کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے مقدمہ درج کیا گیا، پراسیکیوٹر کے مطابق عمران خان و دیگر ملزمان نے جان بوجھ کر جی ٹی روڈ کو بلاک کیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن منظرعام پر نہیں آیا، ایس ایچ او تھانہ ترنول مدعی مقدمہ ہے، پولیس افسر کو مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں، 11 گواہان چالان میں شامل تھے، ایک بھی بیان ریکارڈ کرانے عدالت نہیں آیا

    واضح رہے کہ ملزمان پر 26مئی2022کو تھانہ ترنول میں مقدمہ درج کیاگیاتھا،مقدمے میں‌عمران خان و دیگر کو نامزد کیا گیا تھا،

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ 29 فروری کو صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی، یکم مارچ کو صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41 (4) کے تحت صدر پاکستان کا انتخاب عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 30 ایام کے اندر کروانا لازم ہے۔ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 91 اور 130 کے تحت تمام اسمبلیوں کی پہلی نشست انتخابات کے بعد 21 ایام کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔ 29 فروری 2024 کو تمام اسمبلیاں وجود میں آجائیں گی اور اس طرح سے صدر کے انتخاب کیلئے مطلوبہ الیکٹورل کالج کی تکمیل ہو جائیگی۔ الیکشن کمیشن یکم مارچ 2024ء کو صدر کے انتخاب کا شیڈول اور پبلک نوٹس جاری کرے گا۔ آئین کے تحت کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے ایک دن مقرر کیا جائیگا۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق 2 مارچ دن 12:00بجے تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کسی بھی پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جمع کروا سکیں گے۔ لہذا تمام خواہش مند امیدواران آج سے ہی کا غذات نامزدگی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا اور بلوچستان سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید معلومات اور راہنمائی کیلئے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کے ٹیلی فون نمبر 051-9219335 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

  • عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    عمران خان اور بشری پر 190 ملین پاونڈز کیس میں فرد جرم عائد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی،بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ جیل میں عدالت میں پیش کیا گیا، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کی

    عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان صفدر، عمیر نیازی اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے جب کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے دلائل دیے،سماعت کے موقع پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت نے دونوں ملزمان کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا

    دوران سماعت جج نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ پر فریم چارج کیا جارہا ہے آپ بتائیں گلٹی ہیں کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے چارج شیٹ پڑھ کر کیا کرنا ہے مجھے معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا،ملزمان کے وکلاء نے چالان کی نقول دوبارہ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ ملزمان کے وکلاء سلمان صفدر، ظہیر عباس چودھری اور عثمان گل نے عدالت سے سات دن کا وقت مانگا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کو پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں مزید وقت نہیں دے سکتے

    آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،عمران خان
    کیس کی سماعت جاری تھی کہ عمران خان روسٹرم پر آئے اور جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے، آٹھ فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو،جج نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ پہلے بتائیں آپ کے دانتوں کا چیک اپ ہوا کہ نہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ ابھی تک دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا جیل انتظامیہ نے کہا تھا اتوار کو ڈاکٹر آئے گا۔ اب جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے اگلے اتوار کو ڈاکٹر آئے گا،عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور دانتوں کے چیک اپ کیلئے جنرل فزیشن اور ڈینٹسٹ کی فراہمی کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 6 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کے 58 گواہان میں سے 5 گواہان کو شہادتیں ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • کسی بھی جارحیت کا پوری طاقت کے ساتھ ہر دفعہ بھرپور جواب دیا جائے گا،ترجمان پاک فوج

    کسی بھی جارحیت کا پوری طاقت کے ساتھ ہر دفعہ بھرپور جواب دیا جائے گا،ترجمان پاک فوج

    آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی پانچویں سالگرہ، پاکستان کی مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے پیغام میں کہا کہ 27 فروری 2019 ہماری تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے، اس دن پاکستان کے عوام کے عزم اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا گیا، پاکستان نے بھارت کے سیاسی تحفظات اور انتخابی خدشات کے باعث کی گئی بلاجواز جارحیت کا جواب دیا

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارت کی معلومات کو بدلنے کی متعدد کوششوں کے باوجود اس دن کے واقعات نے پاکستان کی مسلح افواج کی مکمل آپریشنل صلاحیتوں کو ظاہر کیا،پاکستان کی مسلح افواج کی استقامت اور قابلیت کا اعتراف دنیا بھر کے عسکری ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کیا اور مؤثر طریقے سے حقائق سے برعکس بھارتی دعوؤں کو رد کیا گیا،اسٹریٹجک دور اندیشی سے امن کی خاطر طیارے کے پائلٹ کی گرفتاری اور مخالف قوت پر غلبہ حاصل کیا گیا، جس کو آج بھی بین الاقوامی برادری کی طرف سے سیاسی پختگی اور اعلیٰ ریاست سازی کی ایک بہترین علامت کے طور پر سراہا جاتا ہے

    آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ امن کے لیے پُرعزم ریاست کے طور پر پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کی اہمیت پر زور دیتا رہے گا، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے خلاف کسی بھی جارحیت کا پوری طاقت کے ساتھ ہر دفعہ بھرپور جواب دیا جائے گا.

    پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرُعزم ہے, نگراں وزیراعظم
    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پیغام جاری کردیا,اپنے پیغام میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلح افواج نے آج کے دن بھارتی دعوے غلط ثابت کر کے آپریشنل برتری کا عملی مظاہرہ کیا, کسی کو کچھ شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرُعزم ہے ہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے

    26 فروری 2019 کو رات کی تاریکی میں کی گئی بھار ت کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا جواب پاکستان کی طرف سے 27 فروری 2019 کو دن کی روشنی میں دیا گیا۔پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 6 عسکری اہداف کا لاک کیا لیکن اپنا ایمونیشن ٹارگٹ سے دور گرا کر یہ پیغام دیا کہ آئندہ کوئی غلطی کی تو اِن اہداف کو تباہ بھی کیا جاسکتا ہے، اِسی دوران دشمن کی طرف سے مقابلے کیلئے طیارے بھیجے گئے تو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ایک ولولہ انگیز معرکے کے دوران دشمن کے دو طیاروں کو تباہ کر دیا۔افراتفری کے عالم میں دشمن ہمارے طیاروں کا تو کچھ نہ بگاڑ سکا البتہ اُس کی طیارہ شکن توپوں نے اپنا ہی ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا، معرکے کے دوران تباہ ہونے والے ایک جہاز کا بھارتی پائلٹ ابھی نندن بھی پاکستان کے ہاتھ لگا لیکن امن کی خواہش کے پیش نظر اُسے واپس اُس کے وطن بھیج دیا گیا۔پاک فضائیہ نے اس کامیابی کو آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کا نام دیا تھا

    27 فروری 2019 کو2 بھارتی طیارے گرانے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے پر آج کے دن کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن کی مناسبت سےقوم پاک فضائیہ کے شاہینوں کے اس مشن اورشاندارفتح پرسلام اورخراج تحسین پیش کرتی ہے،اس تاریخی دن کے موقع پر پاکستان کی صف اول کی ہوابازی کی بنیادی اور مرکزی درس گاہ اسکائی ونگز ایوی ایشن پاک فضائیہ کے شاہینوں کی طرف سے بھارتی غرور کوخاک میں ملانے اوروطن پاک کی سرحدوں‌کی حفاظت کرنے پر آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کوسرانجام دینے والے غازیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے

    27 فروری 2019 کو پاکستان کے جری ہوابازوں نے بھارت کے نام نہاد سورماوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا کر پھر تاریخ رقم کر دی تھی۔ دو بھارتی جنگی جہاززمین بوس ہوئے جبکہ بھارتی ہوا باز ابھینندن گرفتار کر لیا گیا تھا، اس معرکے سے منسوب پاک فضائیہ کی جنگی گیلری آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں ابھینندن کے زیراستعمال یونیفارم اور جنگی ہوابازی میں استعمال ہونے والا سامان دشمن کی پسپائی کی داستان سنا رہا ہے۔گیلری کی ایک دیوار پر ابھینندن کے طیارے کو مارگرانے والے ونگ کمانڈر نعمان علی خان، بھارت کے دوسرے جہاز کو مارگرانے والے سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی جبکہ بھارت کے خلاف اہم مشن میں شامل گروپ کیپٹن فہیم خان کی تصاویر آویزاں ہیں۔ستائس فروری کو پاک فضائیہ کی جرات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین جنگوں کے دوران پاکستان ائیرفورس کی جانب سے دشمن ملک کے ہوابازوں کوناکوں چنے چبوانے اورانھیں کاری ضرب لگانے کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔

    پاک فوج کی بڑی کاروائی، ایل او سی پر بھارتی فوج کا کواڈ کاپٹر مار گرایا

    اپنے طیاروں کا انجام دیکھ لیں،بھارتی وزیر داخلہ کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے دیا منہ توڑ جواب

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 نئے ریڈار کیساتھ مارچ 2020ء تک آپریشنل ہوگا،سربراہ پاک فضائیہ

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

  • پاکستان کی جاسوسی کرنیوالا بھارتی فضائیہ کا کواڈ کاپٹر پاک فوج نے گرا دیا

    پاکستان کی جاسوسی کرنیوالا بھارتی فضائیہ کا کواڈ کاپٹر پاک فوج نے گرا دیا

    پاک فوج کی بڑی کاروائی، ایل او سی پر بھارتی فوج کا کواڈ کاپٹر مار گرایا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کا کواڈ کاپٹر پاکستانی علاقے کی جاسوسی کر رہا تھا اس دوران پاک فوج نے کاروائی کی ، بھارتی فضائیہ کا کواڈ کاپٹر 25 فروری کو دن 12 بج کر 55 منٹ پر لائن آف کنٹرول پر گرایا گیا، کواڈ کاپٹر مار گرانے کےبعد پاک فوج نے اس کی باقیات کی تلاش شروع کردی تھی اور 26 فروری کو ایل او اسی پر پاکستانی علاقے میں کواڈ کاپٹر کی باقیات مل گئی ہیں

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق کواڈ کاپٹر پر بھارتی فوج کے ایک یونٹ کا نشان بھی موجود ہے جو تصدیق کرتا ہےکہ کواڈ کاپٹر بھارتی فوج کا ہے

    واضح رہے کہ پاک فوج نے اس سے قبل بھی بھارت کے کئی جاسوس ڈرون مار گرائے ہیں، 2020 میں‌ریکارڈ کواڈ کاپٹر مار گرائے تھے، پاک فوج نے جاسوسی کرنے والے بھارتی کواڈ کاپٹر کو چن چن کر نشانہ بنایا تھا،9 ستمبر 2020، 26جولائی 2020،8 جون 2020،29 مئی 2020،نو اپریل 2020 کو بھی بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا تھا،

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی اقدامات دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں کی خلاف ورزی ہے،بھارتی فوج کا یہ اقدام سیز فائر سے متعلق2003 کےمعاہدے کی خلاف ورزی ہے

  • مخصوص نشستیں،سنی اتحاد کونسل کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر

    مخصوص نشستیں،سنی اتحاد کونسل کی درخواست الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے آج کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نےسنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں میں تمام جماعتوں کونوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے، الیکشن کمیشن نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس دیا جائے،پیپلزپارٹی کی فریق بننے کی درخواست منظور کر لی گئی،الیکشن کمیشن نےتمام درخواستوں کو یکجا کردیا، الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا،الیکشن کمیشن کل دوبارہ سماعت کریگا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ مخصوص نشستوں کے معاملہ پر آئین قانون و رولز پر تشریح درکار ہے،

    سنی اتحاد کونسل کی جانب مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کو نوٹس جاری کر دیئے ،سنی اتحاد کونسل کی درخواست کل الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی،ایم کیو ایم، مسلم لیگ نون، اور پاکستان پیپلز پارٹی کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقررکر دی گئیں،جمعیت علمائے اسلام پاکستان، جی ڈی اے، استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،الیکشن کمیشن کا فل بینچ کل درخواستوں پر سماعت کرے گا،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کل تک ملتوی
    قبل ازیں الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں سنی اتحاد کو نسل کو مخصوص نشستیں دینے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ میں ان کو نہیں جانتا کہ ان کو تکلیف کیا ہے یہ پہلے بتائیں ۔اعظم نزیر تارڑ نے کہاکہ سیاسی جماعتیں بھی اس کیس میں آجائیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ہم اپنی جماعت کی طرف سے آئے ہیں ذاتی حیثیت میں نہیں آیا ۔فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ کیا سنی اتحاد کونسل مخصوص نشتیں لینے کے قابل ہے کہ نہیں۔ علی ظفر نے کہا کہ پہلے ان کو مخصوص نشتیں لینےکا دعویٰ کرنا ہوگا اس کے بعد ہی یہ پارٹی بن سکتے ہیں، اعظم نذیر تارڑ پارٹی نہیں ہے ان کی پٹیشن قبول نہیں ہوئی ہے مخصوص نشستیں جو لے نہیں سکتے وہ کیس نہیں کرسکتے ۔ پہلے یہ دعوی کریں کہ یہ مخصوص نشستیں ہماری ہیں ۔کوئی دوسرے کا حق نہیں لے سکتا ہے ۔ اگر کل کوئی کہا کہ میں صدر بنانا چاہتا ہوں اور کمیشن میں آجائے کہ مجھے صدر بناؤ کیا بن جائے گا ۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج ہمارا کیس نہیں لگا ہے۔ اعظم نزیر نے کہاکہ ایسی جماعت لےکر آئیں گے جو ایک جماعت جیت کر نہیں آئی ہے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری درخواست میں 86 ایم این ایز ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں لینے کے قابل ہے کہ نہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اس کیس میں سب پارلیمانی جماعتوں کو کمیشن بلائے ۔کیس کو کل تک ملتوی کردیا گیا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    پنجاب اسمبلی کا سیشن غیر قانونی تھا،ہمیں مخصوص سیٹیں دی جائیں، بیرسٹر گوہر
    الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشست دینے کا کیس لگا تھا چھ کیس لگے تھے ان میں چھ لوگوں نے چیلنج کیا ہے مگر سنی اتحاد کونسل کا کیس نہیں لگا ہوا تھا ۔جنرل الیکشن میں سازش کرکے ہمیں الگ کیا گیا ہم سے بلا لیا گیا ۔ہمارے امیدواروں کو بلا نہیں دیا انہوں نے آزاد لڑ کر دوتہائی اکثریت حاصل کی ہے پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے حمایت امیدوار 86 ہیں انہون نے سنی اتحاد کو جوائن کیا ہے ،ہم نے درخواست کی کہ ہمیں مخصوص نشستیں دی جائیں ۔3دن کے اندر ہمارے امیدوارسنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے ۔الیکشن کمیشن عوام کی امنگوں کا خیال رکھے گا ان سیٹوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق ہے ،الیکشن کمیشن سے التجا ہے کہ مخصوص نشستوں کے مکمل کئے بغیر سیشن نہ ہو۔اگر ہوگا تو غیر قانونی ہوگا۔
    پنجاب اسمبلی کا سیشن غیر قانونی تھا .

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا نے کہاکہ ہم تحریک انصاف کے اتحادی ہیں ہماری درخواست نہیں لگائی گئی مگر ہمارے مخالف درخواستوں کولگا یا گیا یہ بنارسی ٹھگ ہیں ۔ان میں کچھ شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے وہ ان میں نہیں ہے ۔ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ،ہم تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں.

    ویمن اور مینارٹیز کی سیٹ کے پی کے میں پی ٹی آئی کا حق ہے، علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بڑا افسوس ہوا کچھ دن سے میڈیا پر باتیں ہورہی ہیں، آئین میں لکھا ہے مخصوص نشستیں قوانین کے مطابق ملیں گی،ویمن اور مینارٹیز کی سیٹ کے پی کے میں پی ٹی آئی کا حق ہے، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کا دعوی کررہی ہیں، ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں جماعتوں جمہوریت کے منافی اقدام کررہے ہیں، اگر ایسا کیا گیا تو یہ آئین اور قانون کے خلاف ہوگا،

    سنی اتحاد کونسل پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں موجود ہی نہیں،عطا تارڑ
    الیکشن کمیشن کے باہرمسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشتوں پر پارلیمان میں موجود جماعتوں کا حق بنتا ہے،سنی اتحاد کونسل پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں موجود ہی نہیں ، سربراہ سنی اتحاد کونسل حامد رضا نے خود آزاد حثیت میں الیکشن میں حصہ لیا ، آپ نے کوئی کاغذات جمع نہیں کرائے ، یہ تو ایسا ہے کہ کوئی جرم ہوا ہی نہیں اور ایف آئی آر ہو ، یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے امید ہے انصاف ہو گا،

    مخصوص سیٹیں،فیصلہ کسی کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں ہو گا ،اعظم نذیر تارڑ
    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ رولز میں واضح ہے کہ جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں انھیں نشستیں دی جائیں ،جنہوں نے الیکشن کے دوران کاغذات جمع کرائے اور ان کی پارلیمان میں موجودگی ہو ان کا حق ہے ، یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ کس کو کتنی سیٹیں ملیں گی ،جو بھی فیصلہ ہو گا قانون کے مطابق ہو گا ،ہم نے کل الیکشن کمیشن کے سامنے دلائل رکھنے ہیں ، فیصلہ کسی کی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں ہو گا ، پی ایم ایل این کے 9 اراکین پنجاب اور قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ،وہ نشستیں چھوڑ کر قومی اسمبلی میں آئیں گے،