Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال ہمارے لئے بھی چیلنج ہے،پاکستان نے کوشش کی ہے تنازع کا سفارتی حل نکلے،ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں۔

    اعظم نذیر تارڑ نے دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، دوست ممالک پر حملوں کے معاملے کو بھی دیکھا گیا، ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،دوست ممالک کی جانب سے بے چینی کااظہار کیا گیا ہے، آرٹیکل 19کے تحت ہر شہری کو اظہاررائے کی آزادی ہے،ہر شخص کو دل کی بات کرنے کا حق ہے لیکن آئین کو بھی دیکھنا ہے،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آرٹیکل 19پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہاکہ قانون کے تحت اظہاررائے میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑیں گے،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،میڈیا کا ذمہ درانہ کردار ادا کرنا ضروری ہے،سوشل میڈیا پر تبصروں کی وجہ سے دوست ملک کی جانب سے بے چینی کا اظہار ہوا ہے اور پوچھا گیا کہ کیا یہ پاکستان کا مؤقف ہے؟ اس لیے میڈیا یا سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے آئین پاکستان کو ذہن میں رکھیں اور بین الاقومی سطح پر جو خارجہ پالیسی ہے اس کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ ہمارے صحافیوں اور پاکستان اور بیرون ملک کے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے آئین کو مدنظر رکھیں۔ اگر اس طرح کے بیانات گروپوں کی طرف سے دیے جاتے ہیں اور دوست ممالک تک پہنچتے ہیں اور انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں تو ان سے گریز کیا جانا چاہیے،

    اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج کل وی لاگز میں، لوگ اکثر ایسی باتیں کہتے ہیں کہ زیادہ آراء یا زیادہ رقم کمائی جائے، یہاں تک کہ دوست ممالک کے بارے میں بھی۔ لیکن میرا آئین اور حلف مجھے پابند کرتا ہے کہ میں اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کروں۔ ہماری پالیسی واضح ہے، پاکستان کے مفادات پہلے آتے ہیں،ویلاگ میں ویوز لینے اور ٹی وی شوز میں تبصرہ میں بہت احتیاط کریں.

  • آپریشن غضب للحق،ارندو، کرم سیکٹر میں   اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا گیا

    آپریشن غضب للحق،ارندو، کرم سیکٹر میں اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا گیا

    آپریشن غضب للحق جاری ،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نےارندو، کرم سیکٹر میں بروقت کارروائی کے دوران اہم پوسٹوں اور مراکز کو تباہ کر دیا، ان موثر حملوں اور جوابی کارروائیوں میں بزدل افغان طالبان پوسٹیں چھوڑ کر بھی فرار ہو گئے،پاک افواج افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں،پاک فوج کی جانب سے دشمن کو بھر پور جواب دیا جا رہا ہے،

  • امریکہ،ایران جنگ محض “مختصر مہم” ہے، ٹرمپ

    امریکہ،ایران جنگ محض “مختصر مہم” ہے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے پہلے ہم نے وینزویلا میں کامیاب آپریشن کیا ،ہم نے ایران کے ڈرونز اور 46 بحریہ کے جہاز تباہ کیے ہیں ،اسرائیل کے ساتھ مل کر ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے جنگ لڑ رہے ہیں ،ایران کے پاس اب بچاؤ کے لیے کچھ نہیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک چھوٹی مہم کی کیونکہ ہمیں کچھ برائی ختم کرنا ضروری محسوس ہوا۔اور میری سوچ ہے کہ آپ دیکھیں گے یہ ایک علاقائی، مختصر مہم ہی رہے گی،فلوریڈا کے شہر ڈورال میں ریپبلکن ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت غیر معمولی کارکردگی دکھا رہا ہے۔ انہوں نے ایران میں جاری کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارا ملک بہت اچھا کر رہا ہے، اس سطح پر جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ہم نے ایک چھوٹی سی مہم شروع کی کیونکہ ہمیں لگا کہ کچھ برائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک مختصر مدت کی مہم ثابت ہوگی۔”اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا “ہماری فوج کتنی شاندار ہے، ہے نا؟”

    ان کے اس جملے پر حاضرین نے زور دار تالیاں بجائیں جبکہ صدر ٹرمپ نے “شارٹ ٹرم” یعنی مختصر مدت کی اصطلاح کو مزید دو مرتبہ دہرایا، جس سے انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جنگ زیادہ طویل نہیں ہوگی۔

    ٹرمپ کے بیان سے چند گھنٹے قبل امریکی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں لکھا تھا:
    “ہم نے ابھی لڑائی شروع ہی کی ہے۔”اس پیغام کو ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر طویل اور شدید فوجی تصادم کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ تہران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران خلیج فارس کے ممالک پر حملوں کو جاری رکھنے پر بھی غور کر سکتا ہے تاکہ امریکہ پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور واشنگٹن کو جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔ٹرمپ
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد اس بات کا کسی کو اندازہ نہیں کہ ملک کی قیادت کون سنبھالے گا،فلوریڈا میں ریپبلکن ارکانِ کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ” رہنما یا تو ختم ہو چکے ہیں یا ان کے ختم ہونے میں چند ہی لمحے باقی ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کی آئندہ قیادت کے بارے میں شدید غیر یقینی پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اس وقت واضح نہیں کہ ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اب کسی کو اندازہ نہیں کہ وہ لوگ کون ہوں گے جو اس ملک کی قیادت کریں گے۔”ایران کے پاس ایٹم بم آ جاتا تو یہ بہت مشکل صورتحال ہوتی ،ایران کے پاس اب کچھ بھی نہیں ہیں ،ایران ایک ہفتے میں حملہ کرنے والا تھا۔ایران کی فوجی اور میزائل صلاحیت کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نہ مانا تو مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔دُنیا اس وقت ہماری جتنی عزت کر رہی ہے، اتنی عزت پہلے کبھی نہیں تھی،ایران کو ایک بڑا اور طاقتور ملک سمجھا جاتا تھا۔اگر ہم بی ٹو بمبار سے حملہ نہ کرتے تو اسرائیل تباہ ہوچکا ہوتا، ہم نے ایران کو بری طرح کچل دیا اور آپ جانتے ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کب ہار مانیں گے، لیکن انہیں تو دو دن پہلے ہی ہار مان لینی چاہیے تھی، ہے نا؟لیکن اب ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔دشمن (ایران) کے بڑے نام مٹ چکے ہیں اور اب کوئی نہیں جانتا کہ ان کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہ دے دیں۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر کے درمیان پیر کے روز ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں ایران سمیت متعدد بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی صدارتی معاون کے مطابق یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور رواں سال دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت تھی۔یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ گفتگو کاروباری انداز، کھلے پن اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جیسا کہ روسی اور امریکی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق صدر پیوٹن نے اس موقع پر ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے جلد سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مختلف تجاویز اور خیالات پیش کیے۔اوشاکوف کے مطابق روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران سے متعلق بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوجی اقدامات کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بارے میں اپنا تجزیہ اور مؤقف پیش کیا، تاہم روسی حکام نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ٹرمپ نے اس بحران کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس حوالے سے مزید وضاحت کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، تاہم تاحال امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس گفتگو پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر قبضے پر غور، ایران کی فوجی طاقت ختم ہونے کا دعویٰ

    ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر قبضے پر غور، ایران کی فوجی طاقت ختم ہونے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پیر کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی حکومت دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز پر ممکنہ طور پر کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہوئی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اس پر قبضہ یا اس کے انتظامی کنٹرول کے امکانات پر “سوچ رہا ہے”۔

    آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت حساس سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس وجہ سے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب منڈلا رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ خلیج کے اہم راستوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کے خلاف جنگ تقریباً مکمل ہونے کا دعویٰ
    انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ جنگ تقریباً اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا“میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ایران کے پاس اب نہ بحریہ رہی ہے، نہ موثر مواصلاتی نظام، اور نہ ہی فضائیہ۔ ان کے میزائل منتشر ہو چکے ہیں اور ان کے ڈرون ہر جگہ تباہ کیے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کی ڈرون بنانے والی فیکٹریاں بھی نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو فوجی لحاظ سے ان کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔”

    انٹرویو کے دوران صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ایکے لیے کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں امریکی صدر نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا “میرا ان کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے، بالکل بھی نہیں۔”

  • گورنمنٹ کالج لاہور میں تحقیقاتی صحافت پر سیمینار ،مبشر لقمان کا خصوصی خطاب

    گورنمنٹ کالج لاہور میں تحقیقاتی صحافت پر سیمینار ،مبشر لقمان کا خصوصی خطاب

    لاہور ( علی رضا)گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز نے ینگ جرنلسٹس سوسائٹی کے تعاون سے "میٹ دی میڈیا ماسٹرو سیریز” کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد طلبہ کو میڈیا انڈسٹری کے عملی تجربات سے روشناس کرانا ہے، جس کے تحت تجربہ کار میڈیا پروفیشنلز کی جانب سے تربیتی ورکشاپس اور انٹرایکٹو لیکچرز کا انعقاد کیا جائے گا۔

    سیریز کے افتتاحی سیشن میں آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ” آرٹ آف پروبنگ ٹروتھ: ماسٹر کلاس اِن انویسٹی گیٹو جرنلزم” کے عنوان سے خصوصی لیکچر دیا۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ تجربات کی روشنی میں تحقیقاتی صحافت کے اہم طریقۂ کار، اخلاقی تقاضوں اور اس شعبے میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پر شعبۂ میڈیا اسٹڈیز کے انچارج ڈاکٹر مختار احمد نے مہمانِ خصوصی کو خوش آمدید کہا اور طلبہ کو نمایاں میڈیا شخصیات کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر فوزیہ غنی نے مہمانِ مقرر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجربات اور رہنمائی نے طلبہ کو تحقیقاتی صحافت کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیا ہے۔

    سیمینار کے بعد سینیئر اینکر پرسن مبشر لقمان کو شیلڈ سے نوازا گیا ، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چودھری سے ملاقات میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور جیسی درس گاہ گی پرانی یادوں پر گفتگو ہوئی۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ کس طرح گورنمنٹ کالج اپنے نام کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

    تحقیقاتی صحافت اور سچ کی آواز کے اس سیمینار میں موجود فیکلٹی ممبران میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مختار احمد، چیئر پرسن ڈاکٹر فوزیہ غنی، ڈاکٹر منیبہ فاطمہ، ڈاکٹر علی بہادر، صحافی عثمان بھٹی اور محترمہ اقدس وحید شامل تھیں، جن کی موجودگی نے طلباء میں ایک حوصلہ شکن اقدام کا سہارا پیدا کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں سیکھنے کیلئے اساتذہ کا سہارا طالب علموں کو تقویت دیتا ہے۔ تحقیقاتی صحافت پر گفتگو کا یہ دن نوجوانوں میں صحافتی ہم آہنگی، صحافتی اصولوں، میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں اور مستقبل میں تحقیقاتی جرنلزم اور سچ کی اہمیت پر ختم ہوا۔

  • ہلمند،القاعدہ سے منسلک غیر ملکی جنگجوؤں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ

    ہلمند،القاعدہ سے منسلک غیر ملکی جنگجوؤں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ

    ہلمند، افغانستان کے ضلع نوزاد میں القاعدہ سے منسلک غیر ملکی جنگجوؤں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    فائرنگ کے اس تبادلے کے دوران کم از کم تین جنگجو ہلاک جبکہ تقریباً دو درجن افراد زخمی ہوئے، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق ان جنگجوؤں کو صرف دو دن قبل افغان طالبان کی جانب سے آبادی والے علاقے میں منتقل کیا گیا تھا، جس کے باعث کشیدگی پیدا ہوئی۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان جنگجوؤں کی موجودگی علاقے کے امن و امان کو خراب کر سکتی ہے کیونکہ پاکستانی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں میں ایسے عناصر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔بعد ازاں طالبان حکام نے اس واقعے کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے دو مقامی گروہوں کے درمیان جھگڑا قرار دیا تاکہ اصل خبر کو چھپایا جا سکے

  • آپریشن غضب للحق،جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی پوسٹ تباہ

    آپریشن غضب للحق،جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی پوسٹ تباہ

    جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال میں آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شوال، جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی ایک پوسٹ کو نشانہ بنایا،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے عناصر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی اس پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا،سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

  • دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر افغانستان میں افغان طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا سامنا

    دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر افغانستان میں افغان طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا سامنا

    افغان طالبان کی دہشت گردوں کی پشت پناہی اور وار اکانومی کے خلاف افغان رہنما کھل کر سامنے آ گئے

    افغان سیاستدان احمد مسعود نے افغان طالبان کی زیرسرپرستی دہشت گردوں کے اڈوں کو بے نقاب کر دیا ، افغان سیاستدان اور نیشنل ریزسٹنٹ فرنٹ کے رہنما احمد مسعود نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آج جو حالات ہیں یہ براہ راست افغان طالبان رجیم کے برے اعمال کا نتیجہ ہے،آج افغانستان اپنے لوگوں کے لئے جہنم جبکہ دہشت گرد گروہوں کے لئے جنت بنا ہوا ہے، جس طرح القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو پناہ دی، آج وہی دوبارہ ہورہا ہے ،افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج) ہی نہیں بلکہ 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں ،افغانستان پر مسلط افغان طالبان رجیم کے خلاف ہماری شدید نفرت کبھی کم نہیں ہو سکتی ،

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو دہشتگروں کو بطور لانچنگ پیڈ کے استعمال کیخلاف افغان عوام میں طالبان رجیم کیخلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے،افغان عوام افغان طالبان کی آمریت اور دہشتگردی پر چلنے والی اس رجیم سے تنگ آچکے ہیں، یہ بات اب قطعی طور پر ڈھکی چھپی نہیں کہ افغانستان دہشتگرد عناصر کیلئے جنت بن چکا ہے

  • 
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

    
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

    ‎ایران میں مجلس خبرگان رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔
    ‎خبر ایجنسی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں اور انہیں قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مجلس خبرگان رہبری نے اجلاس کے بعد ان کے انتخاب کا اعلان کیا اور ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں اتحاد اور نظم و ضبط برقرار رکھیں۔
    ‎مجلس خبرگان رہبری نے عوام سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کریں اور ملک کی استحکام کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

  • تہران پر میزائل حملہ، ایرانی فضائی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی، ویڈیوز منظر عام پر

    تہران پر میزائل حملہ، ایرانی فضائی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی، ویڈیوز منظر عام پر

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران تہران پر ہونے والے میزائل حملوں کی نئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو حملہ آور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی نے ان حملوں سے متعلق چند خصوصی ویڈیوز حاصل کی ہیں، جن میں رات کے وقت آسمان میں دھماکوں اور روشنی کی چمک کے ساتھ دفاعی میزائلوں کو فضا میں داغتے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیوز کے مطابق ایرانی دفاعی نظام نے شہر کی جانب آنے والے متعدد میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی اور کئی اہداف کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

    و یڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی یونٹس حملہ آور میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہیں، ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں تمام میزائلوں کو روکنا ممکن نہیں ہوتا اور بعض حملے دفاعی نظام سے گزر بھی سکتے ہیں۔