Baaghi TV

آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،گریز کیا جائے،وزیر قانون

tarar

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال ہمارے لئے بھی چیلنج ہے،پاکستان نے کوشش کی ہے تنازع کا سفارتی حل نکلے،ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، دوست ممالک پر حملوں کے معاملے کو بھی دیکھا گیا، ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،دوست ممالک کی جانب سے بے چینی کااظہار کیا گیا ہے، آرٹیکل 19کے تحت ہر شہری کو اظہاررائے کی آزادی ہے،ہر شخص کو دل کی بات کرنے کا حق ہے لیکن آئین کو بھی دیکھنا ہے،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آرٹیکل 19پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہاکہ قانون کے تحت اظہاررائے میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑیں گے،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں،میڈیا کا ذمہ درانہ کردار ادا کرنا ضروری ہے،سوشل میڈیا پر تبصروں کی وجہ سے دوست ملک کی جانب سے بے چینی کا اظہار ہوا ہے اور پوچھا گیا کہ کیا یہ پاکستان کا مؤقف ہے؟ اس لیے میڈیا یا سوشل میڈیا پر بات کرتے ہوئے آئین پاکستان کو ذہن میں رکھیں اور بین الاقومی سطح پر جو خارجہ پالیسی ہے اس کو بھی سامنے رکھنا ہے۔ ہمارے صحافیوں اور پاکستان اور بیرون ملک کے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے آئین کو مدنظر رکھیں۔ اگر اس طرح کے بیانات گروپوں کی طرف سے دیے جاتے ہیں اور دوست ممالک تک پہنچتے ہیں اور انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں تو ان سے گریز کیا جانا چاہیے،

اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج کل وی لاگز میں، لوگ اکثر ایسی باتیں کہتے ہیں کہ زیادہ آراء یا زیادہ رقم کمائی جائے، یہاں تک کہ دوست ممالک کے بارے میں بھی۔ لیکن میرا آئین اور حلف مجھے پابند کرتا ہے کہ میں اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کروں۔ ہماری پالیسی واضح ہے، پاکستان کے مفادات پہلے آتے ہیں،ویلاگ میں ویوز لینے اور ٹی وی شوز میں تبصرہ میں بہت احتیاط کریں.

More posts