Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    دہشت گرد گروہ افغان طالبان عالمی امن اور انسانی حقوق کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں

    افغان طالبان رجیم افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر مکمل مفلوج کرنے میں مصروف ہیں،افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق؛انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نےطالبان پر اقوام متحدہ کی کڑی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22اعلیٰ طالبان ارکان پر پابندیاں لگائیں جو کہ انتہائی اہم اقدام ہے ،انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے کہا کہ؛ یہ پابندیاں ثبوت ہے کہ افغان طالبان ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر اب بھی شدید خطرہ ہیں، پابندیوں میں افغان عبوری وزیراعظم محمد حسن اخوند،وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سمیت کئی سینئر عہدیدار شامل ہیں، برطانیہ نے بھی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مطابق اپنی طالبان پر پابندیوں کی فہرست کی توثیق کی ہے، برطانیہ نے سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق طالبان پر عائد پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا ،برطانوی بیان کے مطابق طالبان اب بھی امن کیلئے خطرہ ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں،

    دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسیوں نے افغانستان کو ایک بار پھر شدت پسند گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے،اقوام متحدہ کی پابندیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی برادری طالبان کو ایک ریاست کے بجائے عسکری گروہ کے طور پر دیکھ رہی ہے، طالبان کی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس جنوبی و وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا رہے ہیں،

  • افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    کابل: افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار اور دارالحکومت کابل میں ڈرون اسمبلی سے متعلق متعدد ورکشاپس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں ڈرون بنانے کے ایک اہم نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران صوبہ ننگرہار میں چار جبکہ کابل میں دو ڈرون ورکشاپس کو تباہ کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ورکشاپس میں مختلف جدید پرزوں کی مدد سے ڈرون تیار کیے جا رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق ان مراکز میں استعمال ہونے والے کئی پرزے بھارتی اور اسرائیلی ساختہ تھے، جنہیں استعمال کر کے ڈرون تیار کیے جاتے تھے۔ ان مراکز میں بننے والے ڈرون مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں کے نتیجے میں افغانستان میں ڈرون اسمبل کرنے کی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ان کارروائیوں سے اس نیٹ ورک کے آپریشنز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ڈرون تیاری کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔

  • آپریشن  غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملےکے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانےکا بیان مضحکہ خیز ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ننگر ہار میں بھی کارروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے 4 مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ننگر ہار میں ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، فضائی کارروائیوں میں ایمونیشن، ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

    وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا لہٰذا افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے اور طالبان رجیم کے دعوے کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔

    وزارت اطلاعات نے بتایاکہ 16 مارچ کی رات پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، انفرااسٹرکچر میں تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے دہشت گرد پراکسی کے زیرِ استعمال اسلحے کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کی کارروائیاں نہایت درست اور محتاط ہوتی ہیں تاکہ کولیٹرل نقصان نہ ہو، ان اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دعویٰ سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کو چھپانے کا حربہ ہے، افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا۔

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بر وقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے لیے اقدامات کا نفاذ ہو چکا ہے اور مزید پر کام جاری ہے،

    وزیراعظم کی کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے.وزیراعظم کا کہنا تھاکہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لیے جا رہے ہیں، حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی،اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں موجود تیل کے ذخائر، فیول کی مانگ پوری کرنے لے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات اور عوام کو عالمی کشیدگی کے پیش نظر ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ،بتایا گیا کہ حکومت پاکستان تیل کی متعین قیمت پر فروخت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تیل کی مسلسل فراہمی اور اس کی متعین قیمت پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے پاک ایپ Pak App میں صارفین کے لیے فیچر شامل کر دیا گیا ہے،اب صارفین پاک ایپ Pak App کے ذریعے ملک میں کہیں بھی تیل کی عدم دستیابی یا مہنگے داموں پر فروخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکتے ہیں جس پر حکومت کی جانب سے فوری اقدامات لیے جائیں گے، اجلاس کے شرکاء نے گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم کے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا،اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

  • تیجس کے مسلسل حادثات،بھارتی ناقص دفاعی صلاحیت بے نقاب

    تیجس کے مسلسل حادثات،بھارتی ناقص دفاعی صلاحیت بے نقاب

    بھارت میں تیار جنگی طیارے تیجس کے مسلسل حادثات نے نام نہاد "میڈ اِن انڈیا” دفاعی منصوبے کی ناکامی اور ناقص دفاعی صلاحیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ طیاروں کی تباہی کے ساتھ جنگی جنون میں مبتلا مودی کے وشو گرو بننے کے تمام عزائم کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں کے بڑھتے ہوئے حادثات بھارت کے ایک بڑی فوجی طاقت بننے کے خواب کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 فروری 2026 کو تیجس کے تیسرے حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے خاموشی سے تیجس طیاروں کے 30 جہازوں پر مشتمل پوری فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا۔ ماہرین کے مطابق کسی طیارے کی مکمل فلیٹ کو گراؤنڈ کرنا عام طور پر سنگین تکنیکی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔بی بی سی کے مطابق تیجس پروگرام کا آغاز 1981 میں کیا گیا تھا جبکہ اس کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ 2001 میں ہوئی، تاہم اتنے طویل عرصے کے باوجود بھارت اب تک اس طیارے کے لیے اپنا انجن تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیجس طیاروں میں استعمال ہونے والے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹمز اور ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے درآمد کیے گئے ہیں، جس سے مقامی دفاعی پیداوار کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    مزید برآں بھارت کے پاس اس وقت ففتھ جنریشن جنگی طیارہ موجود نہیں ہے اور روس کے SU-57 میں دلچسپی کے باوجود امریکی ناراضگی کے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔بی بی سی کے مطابق 6 مارچ کو روسی ساختہ SU-30MKI جنگی طیارہ بھی جورہٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو چکا ہے، جس سے بھارتی فضائیہ کے حفاظتی اور تکنیکی نظام پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔عسکری تقاضوں کے مطابق بھارتی فضائیہ کو کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں، تاہم دستیاب اسکواڈرن کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق تیجس طیاروں کی گراؤنڈنگ، اسکواڈرن کی کمی اور دیگر آپریشنل مسائل بھارت کی فضائی طاقت کی ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجس سمیت جنگی طیاروں کے مسلسل حادثات بھارتی فضائیہ کی تکنیکی اور آپریشنل کمزوریوں کو نمایاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تیجس کا حادثہ کسی ایک پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی صنعتی نظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی علامت ہے۔ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ کو اپنی مطلوبہ صلاحیت حاصل کرنے میں ابھی کئی دہائیاں درکار ہو سکتی ہیں۔

  • افغان فورسز کاباجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری، چار بھائی شہید، ایک شخص شدید زخمی

    افغان فورسز کاباجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری، چار بھائی شہید، ایک شخص شدید زخمی

    باجوڑ کی تحصیل سلارزئی، پاک۔افغان سرحدی علاقے لیٹی (تاری پشہ) میں افغان فورسز کی جانب سے مارٹر گولہ باری کے نتیجے میں چار افراد شہید جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا،

    مقامی ذرائع کے مطابق گولہ باری سرحد پار سے کی گئی اور ایک مارٹر گولہ ایک رہائشی مکان پر آ کر گرا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود چار افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ شامل ہیں، جو آپس میں سگے بھائی تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹر گولے باجوڑ کے سرحدی علاقے سلارزئی اور گرد و نواح میں گرے، جس سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں ایک شخص شدید زخمی بھی ہوا جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    صدر باجوڑ پریس کلب حسبان اللہ کا کہنا ہے کہ آج باجوڑ کی تحصیل سالارزئی میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں افغانستان کی جانب سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ ایک مقامی گھر پر آ گرا۔ اس المناک واقعے کے نتیجے میں چار بھائی شہید جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔ ہم اس بزدلانہ اور دردناک سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ہم حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس سانحے پر فوری طور پر اپنا مؤقف پیش کیا اور تعزیتی بیان جاری کیا۔ تاہم یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ تعزیتی بیان سامنے نہیں آیا، جو نہ صرف قابلِ تشویش بلکہ باعثِ افسوس بھی ہے۔باجوڑ پریس کلب کی جانب سے ہم واضح طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی بہادر افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ افواجِ پاکستان ہمارے ان بے گناہ بھائیوں کے خون کا حساب ضرور لے گی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت یابی نصیب فرمائے۔ آمین۔

    شہید افراد کی نماز جنازہ میں سابق سینیٹر مولانا عبدالرشید نےجذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے بعض علماء کی طرف سے جاری کئے گئے جہادی فتوی کیوجہ سے آج معصوم لوگ شہید ہورہے ہیں

  • قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    پاکستان کی جانب سے دشمن کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے جس میں قندھار سے سرحدی علاقوں تک طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا یا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا۔

    اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے دوران قندھار میں طالبان کے اہم تزویراتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور وہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ذرائع کے مطابق ان مراکز کو عسکری اہمیت حاصل تھی اور انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے اہم کردار ادا کیا جبکہ بھاری توپ خانے کی مدد سے بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار سمیت سرحد کے قریب موجود متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائی کا مقصد دشمن کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کا مؤثر اور فوری جواب دینا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران انتہائی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں طالبان کے تزویراتی مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔
    بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار میں موجود طالبان کے گیارہ مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ان کی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق یہ مراکز عسکری لحاظ سے اہم سمجھے جاتے تھے۔
    اس کارروائی کو ایک بڑا اور فیصلہ کن اقدام قرار دیا جا رہا ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ اس کارروائی کو دشمن کی اشتعال انگیزی کے جواب میں کیا گیا جس میں پاکستان کی فضائی اور زمینی عسکری صلاحیتوں کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران قندھار میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز تباہ ہو کر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔

  • ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    ڈرون حملوں کا بدلہ ، پاک افواج نےافغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    افغانستان کے شہر قندھار کے فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے قندھار کے اوپر نچلی پروازیں کیں، جس کے دوران علاقے میں فائرنگ کی تیز آوازیں بھی سنی گئیں عینی شاہدین کے مطابق گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے فضا گونج اٹھی جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہوگئی پاک فضائیہ کی جانب سے قندھار میں مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں طالبان کی خفیہ ایجنسی جی ڈی آئی کے علاقائی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا ایک اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے،علاوہ ازیں قندھار میں افواج پاکستان نے کل ہونے والے ڈرون حملوں کا بدلہ لے لیا، افغان طالبان کا 313 انٹیلیجنس بدری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا

    دوسری جانب افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا-

  • افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا، جنگجوؤں نے اچانک فائرنگ کر کے گاڑی کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔حملہ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا،حملے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ان کے ساتھ موجود دیگر افراد کے بارے میں فوری طور پر واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • افغان رجیم کے  پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

    افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

    وزارت اطلاعات نے افغان رجیم کے وزارت دفاع کی جانب سے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو گمراہ کرنے کےلیے بنایا گیا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان رجیم کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد افغان وزارت دفاع کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے اور نقصان پہنچانے کا دعویٰ من گھڑت ہے، یہ جھوٹا دعویٰ افغان عوام کو گمراہ کرنے کےلیے بنایا گیا۔ افغان عوام خود ان دہشت گردوں کے باعث براہِ راست مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں،پاکستانی وزارت اطلاعات افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے نقصانات اور ہلاکتوں سے اپڈیٹ کرتی رہتی ہے،دہشت گردوں اور معاون ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں احتیاط برتی جارہی ہے، دہشت گردوں اور بھارتی میڈیا، سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے دعووں میں کوئی صداقت نہیں، طالبان رجیم کے بےبنیاد دعووں کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، جب بھی ان دعووں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے تو ہمیشہ غلط ثابت ہوئے۔