Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کی بہنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع

    عمران خان کی بہنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں کی عبوری ضمانت میں 16 مارچ تک توسیع کردی۔

    باغی ٹی وی : انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف 9 مئی مقدمات کی سماعت ہوئی، جج ارشد جاوید نے کیس پر سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے مسلم لیگ (ن) ہاؤس حملہ سمیت 9 مئی کے دیگر مقدمات میں عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانت میں 16 مارچ تک توسیع کا حکم دے دیا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس میں عظمیٰ خان اور علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 12 مارچ تک توسیع کردی، لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما مسرت جمشید چیمہ کو ڈانٹ پلادی، عمران خان کی بہنوں کی کمرہ عدالت میں مسرت جمشید چیمہ سے گفتگو ہوئی، دوران گفتگو مسرت جمشید چیمہ نے عظمیٰ خان اور علیمہ خان کو مقدمات اور روپوشی کے دوران تکالیف سے آگاہ کیا، جس پر دونوں نے مسرت جمشید چیمہ کو ڈانٹ دیا۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب بھائی کو ضرورت تھی تو آپ لوگ چھپے ہوئے تھے، پارٹی پر مشکل وقت تھا تو آپ نے پریس کانفرنس کی اور بانی پی ٹی آئی کو ضرورت تھی تب آپ ساتھ چھوڑ گئیں،آپ بانی پی ٹی آئی کی سب سے قریب ترین تصور کی جاتی تھیں، آج آپ مجھے مجبوریاں سنا رہی ہیں، سیاستدان تو جیل کے بغیر نامکمل تصور کیے جاتے ہیں، مسرت جمشید چیمہ علیمہ خان کی باتیں سن کر خاموش ہو گئیں۔

    واضح رہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی دونوں بہنوں کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاؤن اور نصیر آباد میں مقدمات درج ہیں۔

    ادویات کی قیمتوں کے تعین کا نوٹیفکیشن معطل

    چیف جسٹس کیخلاف سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز مہم چلانے والا شخص گرفتار

    افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گئے

  • جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی،سپریم کورٹ

    جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یامستعفی ججزکیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے

    سپریم کورٹ نے عافیہ شہربانو کیس میں انٹرا کورٹ اپیل جزوی طور پر منظور کرلی،سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، آج سپریم کورٹ نے سماعت مکمل کی تھی، بعد ازاں مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ جج کیخلاف ایک بار کارروائی شروع ہو جائے تو جج کے استعفے سے کارروائی ختم نہیں ہوگی مستعفی جج کیخلاف کارروائی جاری رکھنا جوڈیشل کونسل کا اختیار ہوگا،وفاقی حکومت کی اپیل جزوی طور پر منظور کی جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت و دیگر کی اپیلیں چار ایک سے منظور کیں ، جسٹس حسن اظہر رضوی نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے،فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی جج کے خلاف جب انکوائری شروع ہو جائے تو مستعفی ، ریٹائرمنٹ لینے سے انکوئری میں فرق نہیں پڑے گا اور کیس منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ،جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کیخلاف شکایت پر کونسل کو اجازت مل گئی

    واضح رہے کہ مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی جاری تھی کہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا.مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط

    اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے کامیابی کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط

    اسلام آباد کے تین حلقوں کے انتخابی نتائج اور نوٹیفکیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا نوٹیفکیشن اس عدالت کے سامنے آ چکا ہے،درخواست گزار نے الیکشن ٹربیونلز کا نوٹیفکیشن اس عدالت سے چھپایا، الیکشن کمیشن نے اس جلدبازی میں نوٹیفکیشنز کیوں جاری کیے، معاملہ دیکھیں گے،الیکشن کمیشن خود اسٹے آرڈر جاری کرتا ہے اور خود ہی نوٹیفکیشنز جاری کر دیتا ہے، اس صورتحال سے تو آئینی ادارے کے کام پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں، اگر کمیشن کل شکایات درست قرار دے دیتا ہے تو نوٹیفکیشن کا کیا ہو گا؟کیا عدالت نوٹیفکیشن معطل رکھ کر درخواستیں نمٹا دے؟نوٹیفکیشن کو الیکشن کمیشن کی جانب سے درخواستوں پر فیصلے سے مشروط کر دیتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے تین حلقوں کے کامیاب امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکیشنز کو الیکشن کمیشن کے تحریکِ انصاف کے امیدواروں کی درخواستوں پر فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں،اسلام آباد سے لیگی ایم این ایز طارق فضل چوہدری ، انجم عقیل خان اور راجہ خرم پرویز کی کامیابی کے نوٹیفکیشنز الیکشن کمیشن میں زیر التوا شعیب شاہین ، علی بخاری ، عامر مغل کی درخواستوں کے فیصلوں سے مشروط ہیں الیکشن کمیشن نے درخواستیں منظور کر لیں تو کامیابی کے نوٹیفکیشن کالعدم اور مسترد کر دیں تو کامیابی کے نوٹیفکیشن بحال ہو جائیں گے

    اسلام آباد میں خواتین کی حنیف عباسی،خواجہ سعد رفیق کے ساتھ بدتمیزی

    آبائی نشست سے متوقع ہار ،نواز شریف افسردہ ،ماسک پہن کر ماڈل ٹاؤن سے روانہ،تقریر بھی رہ گئی

    مخلوط حکومت کانام نہ لیں ایک پارٹی کی اکثریت ضروری ہے،نواز شریف

    انتخابات ابھی تک تو پُر امن ہیں،نگران وزیراعظم

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

  • پشاور ہائیکورٹ سے پی ٹی آئی رہنما میاں اسلم کی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ سے پی ٹی آئی رہنما میاں اسلم کی ضمانت منظور

    تحریک انصاف کے رہنما، نامزد وزیراعلیٰ پنجاب میاں اسلم نے ضمانت منظور ہونے کے بعد پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضمانت کیلے حاضر ہوا ہوں مجھ پر ناجائز کیسز بنائے گئے،جس نے ظلم کیا ہے اسے سزا ضرور دیں ناجائز کیسز نہیں ہونے چاہیے،

    میاں اسلم اقبال کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی میں ایک وقت میں مختلف مقدمات بنائے گئے،7 مئی اے ٹی سی سے ضمانت کرانے کے بعد لاہور سے چلا گیا تھا، میری کوئی سی سی ٹی وی، سیف سٹی کی فوٹیج کوئی ایک چیز بتائی جائے، پشاور ہائیکورٹ کے ججز صاحبان کا شکر گزار ہوں، ہم پر امن شہری ہیں، الیکشن لڑتے ہوئے 25 سال ہو چکے ہیں، میرے جیسے بندے پر اتنے زیادہ کیسز؟فائرنگ کر کے قتل تک کا الزام لگایا گیا ہے، الیکٹیبلز کا بیانیہ پی ٹی آئی نے تبدیل کر دیا ہے، اب عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، جب الیکشن آتے ہیں تو ایک دوسرے کی کرپشن کی باتیں کرتے ہیں، بعد میں دوبارہ مل جاتے ہیں، یہ وارداتی ہیں، سولہ ماہ میں انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا جو اب کرنا ہے، انہوں نے ہر ادارے کو تباہ کیا ہے،ریاستی اور پبلک ادارے سمیت سب کو تباہ کیا ہے، پی آئی اے ، ریلوئے خسارے میں چلے گئے ہیں،اسمبلی میں یہ ساری چیزیں بیان کریں گے، ن لیگ کہہ رہی ہے کہ آر او کے ذریعے ہمارے ساتھ شامل ہو جاو ورنہ نوٹیفکیشن کینسل کر دیا جائیگا، چور بٹھا دیا جائے گا تو ملک کیسے چلے گا، لاہور اور پنڈی میں پی ٹی آئی نے کلین سویب کیا ہے،

    میاں اسلم اقبال کا مزید کہنا تھا کہ بندے توڑنے کی عادت انکی پرانی ہے،پارلیمنٹ کی یہ بے توقیری کر رہے ہیں ہمارے جو امیدوار کامیاب اور انکے نوٹفکیشن ہو چکے ان کو ن لیگ کہہ رہی کہ ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ نہیں تو نوٹفکیشن کینسل،ہو رہے ہیں کینسل بھکر،ٹوبہ ٹیک سنگھ، پنڈی سے کینسل ہو چکے، رات کے اندھیرے میں وارداتیں ڈال کر چور بٹھا دیں گے تو ملک کیسے چلے گا، عوام نے جن کو مینڈیٹ دیا انکو آنے دیں، اگر ہم نے پرفارم نہ کیا تو عوام اگلی بار مسترد کر دے گی ، نگران حکومت ،الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ عوام نے ہمیں حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہمیں حکومت کرنے دی جائے،ہمیں وفاق میں سیٹیں واپس کی جائیں، صوبوں میں سیٹیں واپس کی جائیں،کراچی میں مینڈیٹ ہمیں ملا، بلوچستان میں ملا لیکن دھاندلا کر دیا گیا،یہ طریقہ نہیں کہ نتائج ہی بدل دیئے جائیں، ہمیں عدالتوں پر اعتماد ہے،میں ادھر ہی تھا ضمانت مل گئی اب پنجاب جا رہا ہوں،ہم پنجاب میں اپنا نمبر شو کریں گے،ہمارا مینڈیٹ ہمیں واپس کریں تو ہم حکومت بنانے کو تیار ہیں،

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال کی راہداری ضمانت منظورکرلی ہے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ محمد ابرہیم نے میاں محمد اسلم اقبال کی راہداری ضمانت منظور کر لی،میاں اسلم اقبال پشاور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،میاں اسلم اقبال نے راہداری ضمانت کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی،میاں اسلم اقبال کیخلاف 19مقدمات درج ہیں،وکیل کی جانب سے درخواست کی آج ہی سماعت کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    قبل ازیں تحریک انصاف پنجاب کے نامزد وزیر اعلیٰ میاں اسلم اقبال پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئے تھے، راہداری ضمانت کے بعد میاں اسلم متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونگے ۔

    واضح رہے کہ میاں اسلم کو تحریک انصاف نے وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے نامزد کر رکھا ہے، میاں اسلم نو مئی کے واقعہ کے بعد سے روپوش تھے،عدالتوں نے میاں اسلم کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نو مئی کے مقدمات کے ملزمان پشاور ہائیکورٹ میں ہی پیش ہو رہے ہیں اور انہیں ضمانتیں مل رہی ہیں، فیصل جاوید پشاور ہائیکورٹ پیش ہوئے اور انہیں ضمانت ملی، عمر ایوب ، علی امین گنڈا پور بھی پشاور ہائیکورٹ سے ضمانتیں حاصل کر چکے. زرتاج گل کو بھی پشاور ہائیکورٹ سے ضمانت ملی ہے،

    پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ  سے خارج

    انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ سے خارج

    سپریم کورٹ نے آٹھ فروری کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ تھے،سپریم کورٹ نے 19 فروری کو شہری علی خان کو وزارتِ دفاع کے ذریعے نوٹس جاری کیا تھا تاہم درخواست گزار سابق بریگیڈیئر علی خان پیش نہیں ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ علی خان کے گھر پولیس بھی گئی، وزارتِ دفاع کے ذریعے نوٹس بھی بھیجا، علی خان گھر میں نہیں ہیں، نوٹس ان کے گیٹ پر لگا دیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ علی خان کون ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ سابق بریگیڈیئر ہیں جن کا 2012ء میں کورٹ مارشل ہوا تھا،

    شوکت بسرا قرآن لے کر چیف جسٹس کی عدالت پہنچ گئے، چیف جسٹس نے بات نہ سنی بٹھا دیا
    دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا روسٹرم پر آ گئے تاہم عدالت نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت بسرا کو بیٹھنے کا حکم دیا،شوکت بسرا نے عدالت میں کہاکہ میں بہاولنگر سے منتخب رکن اسمبلی ہوں، اس کیس میں پیش ہونا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت بسرا سے استفسار کیا کہ آپ علی خان کے وکیل ہیں؟شوکت بسرانے عدالت میں جواب دیا کہ نہیں میں ان کا وکیل نہیں ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں ہمیں وکیلوں کو سننے دیں، شوکت بسرا نے کہاکہ میں بھی ہائیکورٹ کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ مبارک ہو آپ ہائیکورٹ کے وکیل ہیں مگر آپ تشریف رکھیں ،شوکت بسرا نے استدعا کی کہ میری بات تو سن لیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں ورنہ لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے کر توہین عدالت کا نوٹس بھی کر سکتے ہیں، آپ کا اس کیس سے تعلق کیا ہے؟شوکت بسرا نے کہاکہ میرا اس کیس سے تعلق نہیں لیکن میرے ہاتھ میں قرآن ہے اس کی قسم کھانا چاہتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ نہ کریں ورنہ توہین کا نوٹس کر دیں گے،شوکت بسرا نے کہاکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ تقریر نہ کریں، ہمارے سامنے، پہلے سن لیجیے، بالکل ہی اخلاق چھوڑ دیا ہے،آئندہ آپ نے یہ کیا تو وکالت کا لائسنس منسوخی کا معاملہ بار کو بھیجیں گے،سب نے ملکر سپریم کورٹ کو مذاق بنایا ہوا ہے ،اب اس درخواست گزار کو دیکھیں درخواست دائر کر کے بیرون ملک روانہ ہو گیا،شوکت بسرا کا کنڈکٹ دیکھیں، مجھ سے معافی تک نہیں مانگی، شہزاد شوکت نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کبھی اتنی شفافیت نہیں تھی جنتی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے آنے کے بعد آئی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس نے کسی میڈیا چینل سے بات کی نا ہی درخواست جاری کرائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت سے سوال کیا کہ شوکت بسرا کے خلاف رپورٹ ہونی چاہیے یا بار کونسل کارروائی کرے گی؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ شوکت بسرا والے معاملے کو فیصلے کا حصہ نا بنایا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کہنے پر ان کو چھوڑ رہے ہیں، اگر شوکت بسرا نے باہر جا کر اس کیس سے متعلق میڈیا پر بات کی تو یہ بھی کسی چیز کے لیے تیار رہیں، وکیل شہزاد شوکت نے کہا کہ میں شوکت بسرا کو سمجھا دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ کوئی سازش نہیں ہے کہ ایک دن درخواست دائر کر کے اگلے ہی دن درخواست گزار ملک سے چلا گیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ درخواست گزار خود نا آئے اور دوسری پارٹی کو راستہ دکھائے کہ اس درخواست کے ذریعے عدالت آجاو،

    میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلا کر ریٹنگ لو،چیف جسٹس پھٹ پڑے
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اس ملک کو دنیا کے لیے جگ ہنسائی کا سامان بنا دیا گیا ہے،ہفتے کو ایک مرکزی ٹی وی چینل پر خبر چلی کہ ججز کا اجلاس ہو گیا ہے،میرا ساتھی ججز کے ساتھ کوئی اجلاس نہیں ہوا لیکن یہاں تو میڈیا آزاد ہے،میرے ساتھی ججز مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ بتائیں پھر اجلاس میں کیا ہوا؟ ججز آ کر اب پریس کانفرنس کر کے وضاحتیں تو نہیں دے سکتے، خبر چلانے سے پہلے تصدیق تو کر لیا کریں رجسٹرار کو کال کر کے پوچھ لیں،یہاں جینوین صحافی نوکری سے فارغ ہو رہے ہیں، اب یہ میڈیا چلائے گا نہیں کہ بریگیڈئیر کا کورٹ مارشل ہوا تھا،ہر چیز پر بس ضمیر بیچ دو، گھر بیٹھ کر کچھ بھی چلا دیتے ہیں،سچ بولیں اور سچ بتائیں لیکن نہیں، یہاں میڈیا کو بس اپنی ریٹنگ کی پڑی ہے،اب ہر کوئی آ کر کھڑا ہو جائے کہ درخواست خارج کیوں کر دی، میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلا کر ریٹنگ لو، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ہفتے کو تو یہ خبر بھی چل گئی تھی کہ بنچ بن گیا اور سماعت شروع ہو گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا سے غلطی بھی ہو سکتی ہے لیکن وضاحت بھی تو چلائیں کہ خبر غلط چلی، اگر میڈیا 10 جھوٹی خبریں چلائے گا تو لوگ ان کی خبروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں گے، میں نے ایسا کبھی پہلے نا دیکھا نا سنا، یہ نہیں ہے کہ بس اداروں پر ملامت شروع کر دیں،ملک میں بس دو تین ہی تو ادارے باقی رہ گئے ہیں،ایک سپریم کورٹ ہے ایک پارلیمنٹ اور ایک دو اور ادارے،

    سپریم کورٹ نے 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کر دی جبکہ عدم پیشی پر درخواست گزار پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا

    سپریم کورٹ میں 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست دائر کی گئی تھی، درخواست میں کہا گیا تھاکہ8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت بننے کے عمل کو روکا جائے ،عدلیہ کی زیر نگرانی 30 روز میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا جائے ،درخواست علی خان نامی شہری نے دائر کی تھی

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہوئے جس میں کسی بھی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی،سیاسی جماعتیں دھاندلی کے خلاف بھی سراپا احتجاج ہیں،سندھ میں دھرنا دیا گیا ہے تو تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کیا ہے، ن لیگ بھی کہہ رہی ہے ہماری سیٹیں چھینی گئیں تو پیپلز پارٹی کا بھی یہی دعویٰ ہے

    پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • آصف علی زرداری صدر مملکت ، جبکہ وزیراعظم کا منصب شہبازشریف سنبھالیں گے

    آصف علی زرداری صدر مملکت ، جبکہ وزیراعظم کا منصب شہبازشریف سنبھالیں گے

    پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل کے نمبرز پور ہوچکے ہے، بلاول بھٹو نے کامیاب مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی نے اپنا مزاکراتی کام مکمل کر لیا ،لہذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این حکومت بنانے جا رہی ہے، لہذا دونوں پارٹی اس بات پر متفق ہے کہ صدر پیپلز پارٹی جبکہ وزیر اعظم پی ایم ایل این سے ہو گا، جس کے مطابق صدارت آصف علی زرادری اور وزارت اعظمی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سنبھالے گے،
    بلاول بھٹو کاکہنا تھاکہ ہم نے فیصلے کیے ہیں جلد ان کا اعلان کریں گےاگر پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو ہم نے دوسروں کی نسبت وزارت سازی کا عمل بہت تیز سے طے کیا ہےاس بار بھی ماضی کی طرح مزاکرات ہوئے ہیں ۔جلد عہدوں کے بارے میں اعلان کریں گے۔عوام کو گورنر یا اسپیکر جیسے عہدوں میں اتنی دلچسپی نہیں عوام کو انتظار ہیں کہ کون وزیر اعظم بنے گا اور ان کے مسائل حل کرے گاامید ہے کل سے مارکیٹ بھی بہتر انداز سے ردعمل آئیگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے مل کر ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ،ہم ملک کو کسی بھی چیلنج سے مقابلہ کرنے کے لئے پی ایم ایل این کا ساتھ دے گے،

    مشرکہ پریس کانفر نس سے شہباز شریف نے کہا کہ ہم پی پی پی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہے کہ ملک کو سخت حالات سے نکالنے کے لئے تیار ہے،شہباز شریف نے کہاہمارے پاس نمبرز پورے ہے ہم ملکر حکومت بنانے کے پوزیشن میں آگئے، انہوں نے کہا کہ ہم آصف علی زرادری کو پانچ سال تک صدر منتخب کرنے میں اپنا بھر پور کوشش کرے گے، یہ سفر آسان نہیں ہوگی ،16 ماہ کا جو تجربہ سی کی وجہ سے ہم یہاں بیٹھے ہے،ہم مشاورت کے ساتھ آگے بڑھے گے،شہباز شریف نے کہا کہ آزاد امیدوار بھی اگر اپنی اکثریت دکھائے ہم انکو بھی قبول کرے گے،انہوں نے کہا کہ باریاں لینے کی نہیں ملک کو سنوارنے کی بات ہے، اس اتحاد نے ملک میں مہناگئی کا مقابلہ کرنا ہے،۔ چند روز قبل پہلے ہم نے اور پھر پیپلزپارٹی نے آزاد امیدواروں کو پیغام دیااور کہا کہ اگر وہ حکومت بنا سکتے ہیں تو بنائیں ہم ان کو مبارکباد پیش کریں گے اور آئین کے تحت ہم اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے اور کاروبارزندگی چلائیں گے مگر ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔انہوں نے سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ انتظامات کئے تاہم مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں۔
    سابق صدر آصف زرداری کاکہنا تھاکہ آپ دوستوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری جستجو آپ کیلئے آنیوالی نسلوں اورپاکستان کیلئے ہے جو پاکستانی سن رہے ہیں ان کو دعا کاکہتے ہیں
    قبل ازیں سینیٹراسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر صدر ن لیگ شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی ۔ حکومت سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ملاقات میں اسحاق ڈار ، مراد علی شاہ، قمر زمان کائرہ اور احسن اقبال،مراد علی شاہ،اعظم نذیرتارڑ،سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی تشکیل کے معاملات طے پانے پر دعائے خیربھی کی گئی۔

  • ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد کر دیا گئا

    14 ارکان نے سرعام پھانسی کے سزا کے حق میں، 24 نے مخالفت میں ووٹ دیا،جماعت اسلامی نے جنسی زیادتی پر سرعام پھانسی کا بل سینیٹ میں پیش کیا تھا،پی پی، ن لیگ اور نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے سرعام پھانسی کی مخالفت کی،جماعت اسلامی، ق لیگ، جے یو آئی، پی ٹی آئی کے بیشتر سینیٹرز نے بل کی حمایت کی،مشتاق احمد سمیت مہرتاج روغانی، کامران مرتضیٰ، مولانا فیض محمد، حافظ عبدالکریم، کامل علی آغا اور عبدالقادر نے بل کے حق میں ووٹ دیا،

    سر عام پھانسی سے کسی ملک میں ریپ کا جرم ختم نہیں ہوا ،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرعام پھانسی ملک میں بربریت پھیلاتی ہے، سر عام پھانسی اکیسویں صدی کے معاشرے کو زیب نہیں دیتا،اس بل کی میں نے کمیٹی میں بھی مخالفت کی تھی، ریپ ایک سنگین اور سنجیدہ جرم ہے لیکن سر عام پھانسی سے کسی ملک میں ریپ کا جرم ختم نہیں ہوا ہے،پہلے بھی اس پر بات ہو چکی ہے، سرعام پھانسی مسئلے کا حل نہیں وہ معاشرے میں بربریت پھیلاتی ہے،ہم سب کی ایک ہی سوچ ہے کہ ریپ سے بدتر کوئی جرم نہیں، ہم پولیسنگ، بہتر کریں، سرعام پھانسی سے ریپ کیسز نہیں رک سکتے.

    سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے یہ اہم نہیں اسلام کیا کہتا ہے یہ اہم ہے،پی ٹی آئی نے بھی ریپ ملزمان کو سرعام پھانسی کی مخالفت کر دی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سزائے موت کی حمایت، سرعام پھانسی کی مخالفت کرتے ہیں،

    ایوان بالا میں ملک میں آبی وسائل ،سیلابوں،اور پانی کی بد انتظامی کے حوالے سے تحریک پر بحث کی گئی،سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ 35 سے 50 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، ہمارے پاس دریائے سندھ قدرتی وسائل ہیں لیکن ہم نے انہیں استعمال نہیں کیا ،دریاؤں میں پانی کی کمی کیوں آئی ہے ،کہیں بھارت تو ہمارے وسائل کو استعمال نہیں کر رہا؟ ، دیگر ممالک میں ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے پلاننگ کی جاتی ہے ،2010 میں جو سیلاب ایا تھا اس میں 43 بلین نقصان ہوا تھا ،کیا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ بھارت نے پانی چھوڑ دیا ہے ،ہمارے پاس بہت بڑا ایریا ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں ، نیپرا کہتے ہے 1.2، 1.3 ہیڈرو بجلی استعمال کر رہے ہیں ،سندھ کو پنجاب سے شکایت ہےکہ جب ہم پانی مانگتے ہیں تو گڈو سے پانی پہنچنے تک سات روز لگتے ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک آبادی کا بم ہے اور ایک پانی کا بم ہے،پانی کے حوالہ سے رپورٹس منگوا لیں،پانی کے بحران کو کس طرح حل کرنا ہے، سرتاج عزیز نے ایک رپورٹ بنائی تھی، وہ منگوائیں بڑی اہم باتیں ہیں اس پر عملدرآمد شروع کریں تو پانی کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں،جو بھی حکومت آئے پانی کے مسائل پر سنجیدگی سے کام کرے،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا رپورٹس منگوا کر سب ممبران کو دے دیں،

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کسی بھی جماعت کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا گیا،
    نگران حکومت کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی پر چیئرمین سینیٹ اور اراکین سینیٹ کے مشکور ہیں، نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانا تھی،اس مقصد کے لئے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کا تعاون درکار تھا،نگران حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں تعلقات رکھنے کی کوشش کی،

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ اجلاسوں کو ہموار طریقے سے چلانے میں اہم کردار ادا کیا، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے اراکین سینیٹ کے سوالات کو غور سے سنا اور ان کے تفصیلی جوابات دیئے جس پر ان کے مشکور ہیں،

    تحریک انصاف کے ارکان نےسینیٹ میں چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کیا اور دھاندلی زدہ الیکشن نا منظور کے نعرے لگائے،

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    وزیراعظم نے زیادتی کے مجرم کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی،

    بچوں کے ساتھ جنسی اورجسمانی تشدد کا حل سرعام پھانسی دینا نہیں بلکہ..عدالت نے کیا حل بتایا؟

  • تحریک انصاف کے تمام آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں گے،بیرسٹر گوہرکا اعلان

    تحریک انصاف کے تمام آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں گے،بیرسٹر گوہرکا اعلان

    اسلام آباد: پی ٹی آئی ، سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے،تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر، ایم ڈبلیو ایم کے علامہ ناصر عباس اور سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اس موقع پر رؤف حسن ،عمر ایوب بھی موجود تھے،

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہرعلی خان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سنی اتحاد کونسل، صاحبزادہ حامد رضا صاحب کو بھی خوش آمدید کہتا ہوں ،پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں 180 سیٹیں جیت چکی ہے، ہمیں خوشی ہے کہ علامہ ناصر عباس صاحب اور صاحبزادہ حامد رضا صاحب اکٹھے بیٹھے ہیں، ہمارے امیدواروں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا،ہمارے امیدواروں کو آزاد امیدوار تصور کیا گیا ،ان سب کو ٹکٹس بھی پاکستان تحریک انصاف کا جاری ہوا،، ہم نے سخت حالات میں ایک دوسرے کو کندھا دینا تھا تا کہ ہم قانون و آئین کے مطابق آگے بڑھیں، الیکشن کمیشن نے 3 نوٹیفکیشن جاری کیے، ایک 16 ایک 17 اور ایک 18 کو جاری کیا گیا، ان نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد امیدوار نے 3 دن میں کسی جماعت میں شامل ہونا ہوتا ہے، ہمارے درمیان اتحاد ہے، ہمارے ساتھ علامہ ناصر اور حامد رضا صاحب دونوں بیٹھے ہیں، سب کی باہمی مشاورت سے فیصلے کیے ہیں،

    بیرسٹر گوہر علی خان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے پورے ملک میں تمام آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے،تحریک انصاف کے کامیاب امیدواران پنجاب، خیبر پختون خواہ اور وفاق میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کریں گے،قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے ہمارا معاہدہ ہوا ہے۔ ،پنجاب خیبرپختونخواہ اور وفاق کی مخصوص نشستوں کی درخواست آج دائر کرینگے،ہمارا اتحاد اس ملک کے لیے ہے۔قومی اسمبلی میں 70 مخصوص نشستیں موجود ہیں ، ان نشستوں کے حصول کے لیے ہم معاہدہ کر چکے ہیں،ہمارے امید وار ہمارے پاس بیان حلفی جمع کر چکے ہیں ،

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی ، بشری بیگم کی رہائی کے اقدامات کریں گے،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں چاہتے، ہم اتحاد چاہتے ہیں، یک جہتی چاہتے ہیں،ہمارے جتنے بھی امیدوار کامیاب ہوئے ہیں وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو جائینگے، ریزرو سیٹیں ملنے سے ہماری طاقت میں اضافہ ہوگا، کمشنر راولپنڈی لیاقت چھٹہ نے بتا دیا ہے کہ کیسے الیکش سے پہلے، الیکشن کے دن اور الیکشن کے بعد دھاندلی ہوئی،فارم پینتالیس کے بناء پر فارم 47 بننا چاہیئے، کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم نے ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے، اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہمارے اسی سے زیادہ ساتھیوں نے شواہد رکھے،پی ٹی آئی کی نشستیں 180 ہیں،دھاندلی نہیں دھاندلا کیا گیا،ہمارے امیدواروں کو فارم 45 کے مطابق کامیاب ڈکلیئر کیا جائے، ہم انشاء اللہ مرکز اور صوبوں میں حکومت بنائیں گے، سب سے پہلے دلوں پہ راج کرنے والے بانی چیئرمین پی ٹی آئی ، بشری بیگم ،کی رہائی کے اقدامات کریں گے ،شاہ محمود قریشی ، چوہدری پرویز الٰہی اور پابند سلاسل دیگر خواتین کی رہائی کے لیے بھی اقدامات کریں گے ،تمام تر تکالیف سہہ کر بھی عمران خان کے نظریے کیساتھ کھڑے وہ ورکرز جو بلا جرم قید و بند کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں،

    پی ٹی آئی کا ساتھ دیں گے، اس پر بوجھ نہیں بنیں گے،علامہ راجہ ناصر عباس
    ایم ڈبلیو ایم کے علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنان اور لیڈرشپ نے صبر کرنے کی تاریخ رقم کی، عالمی ایجنڈے کے تحت حکومت کو گرایا گیا اور ظلم کی انتہا کی گئی،جب الیکشن ہوئے تو کس طرح کے ہوئے سب نے دیکھا، جو حکومت چلانے میں ناکام ہو گئے تھے انہیں پھر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پاکستان کو ڈبونے کی پوری کوشش کی گئی، غیر آئینی طور پر الیکشن تاخیر کا شکار کئے گئے،آزاد امیدواروں کو ڈرایا اور دھمکایا گیا،بےڈھنگے طریقے سے انتخابات کرائے گئے،وطن کیلئے اپنی جان دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،پی ٹی آئی کا ساتھ دیں گے، اس پر بوجھ نہیں بنیں گے

    پالیسی تحریک انصاف کی ہی ہو گی جس پر معاہدہ بھی سائن ہو چکا ہے،حامد رضا
    سنی اتحاد کونسل کے حامدرضا کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کا پی ٹی آئی سے اتحاد 7، 8 سال پرانا ہے،سنی اتحاد کونسل ایم ڈبلیو ایم پہلے ہی پی ٹی آئی کیساتھ بطور اتحادی موجود ہے، پاکستان تحریک انصاف کی تمام قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں،الیکشن سے چند روز قبل تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا،یہ ہماری مشاورت اور بانی پی ٹی آئی سے اپروول کے بعد فیصلہ ہوا ہے،مشکل وقت میں بھائی، بھائی کا دست بازو بنتے ہیں،پالیسی تحریک انصاف کی ہی ہو گی جس پر معاہدہ بھی سائن ہو چکا ہے،ملک میں انتشار پھیلانے والی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے،آج نئے پاکستان کی حقیقی تخلیق آپکے سامنے ہے،

    پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • عمران خان کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی چھٹی،نیا جج تعینات

    عمران خان کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی چھٹی،نیا جج تعینات

    عمران خان کو سزا سنانے والے جج کی جگہ دوسرا جج تعینات کر دیا گیا
    جج محمد بشیر نے رخصت کی درخواست دے رکھی ہے، جس کے بعد آج سیشن جج ناصر جاوید رانا احتساب عدالت اسلام آباد کے جج تعینات کر دیئے گئے،وزارت قانون نے احتساب عدالت کے نئے جج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، عمران خان کے القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت اب نئے جج کریں گے،

    جج ناصر جاوید رانا کو 23 جنوری 2027تک احتساب عدالت کا جج تعینات کیا گیا ہے،جج محمد بشیر کی چھٹیوں کے باعث ناصر جاوید رانا کو احتساب عدالت کا جج تعینات کیا گیا،جج محمد بشیر مارچ میں اپنی ریٹائرمنٹ تک چھٹیوں پر جا چکے ہیں،جج ناصر جاوید رانا نے حال ہی میں سارہ انعام قتل کیس کا فیصلہ سنا یا تھا، اب احتساب عدالت کا جج تعینات ہونے کے بعد وہ نیب مقدمات کی سماعت کریں گے

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایک بار پھر چھٹی کی درخؤاست دی تھی،جج محمد بشیر نے چھٹی کی درخواست میں کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ تک چھٹی دی جائے، صحت صحیح نہیں اسلئے چھٹی دی جائے اور درخؤاست منظور کی جائے،جج محمد بشیر نے چند دن قبل بھی چھٹی کی درخؤاست دے دی تھی تاہم بعدمیں انہوں نے واپس لے لی تھی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے توشہ خانہ کیس کی سماعت کی اور انہیں سزا سنائی،

    محمد بشیر ایک اور توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت بھی کر رہے ہیں جو سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کیخلاف اور سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف ہے۔ یہی جج آصف زرداری کیخلاف جعلی اکاؤنٹس کے کیس اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایک نیب کیس کی سماعت بھی کر رہے ہیں۔

    20؍ جنوری کو جج بشیر نے خرابی صحت کو وجہ بتاتے ہوئے 14؍ مارچ کو اپنی ریٹائرمنٹ تک طبی چھٹی کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں کی گئی تھی جس کے بعد جج محمد بشیر نے درخواست واپس لے لی تھی،

    جج بشیر 2012ء سے احتساب عدالت میں کام کر رہے ہیں، 2018 میں انہوں نے ایوین فیلڈ کیس میں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو سزا سنائی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ سال 29 نومبر 2023 کو فیصلے کو ختم کر دیا تھا، جج محمد بشیر 11 سال سے نیب عدالت میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی مدت ملازمت میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف نے 2018 اور عمران خان نے 2021 میں توسیع کی تھی۔ دونوں وزرائے اعظم کو اسی جج نے سزا سنائی جسے دو مرتبہ اپنے اپنے دور میں متعلقہ وزیراعظم نے عہدے میں توسیع دی،جج احتساب عدالت محمد بشیر خود 14 مارچ کو عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • آڈیو لیکس، افسران کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم

    آڈیو لیکس، افسران کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم

    آڈیو لیکس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،
    عدالتی حکم کے باوجود سینئر افسران عدالت میں پیش نہ ہوئے،سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے بیٹے اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کی۔چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ان افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، ان افسران نے خود سے کیسے طے کر لیا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

    سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے بیمار ہیں، پیش نہیں ہو سکے، ڈی جی آئی بی کی جگہ ڈپٹی ڈی جی پیش ہوئے ہیں،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہا کہ جو افسران بیمار ہیں وہ آئندہ سماعت پر اپنی میڈیکل رپورٹس پیش کریں،ایف آئی اے کی جانب سے ڈائریکٹر وقار الدین سید عدالت میں پیش ہوئے

    واضح رہے کہ عدالت نے آڈیو لیکس کیس میں چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی ایف آئی اے کو آج طلب کر رکھا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور سی پی این ای کے نمائندگان کو بھی بلایا تھا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے