Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر

    عمران خان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر

    لطیف کھوسہ نہیں ،عمران خان کی اپیل میں اور سلمان صفدر دائر کریں گے، بیرسٹر علی ظفر
    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان کی لیگل ٹیم میں روابط کا فقدان سامنے آگیا۔عمران خان نے سزاؤں کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے، لطیف کھوسہ کا میڈیا کو بیان، بیرسٹر علی ظفر نے لطیف کھوسہ کی ہی تردید کردی کہا اپیلیں وکیل سلمان صفدر دائر کریں گے، لطیف کھوسہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نہیں ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ کھوسہ صاحب اس کیس میں وکیل نہیں ہیں، سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس کی اپیلیں میں دائر کر رہا ہوں، سلمان صفدر میرے ساتھ ہیں، ہم لوگ فائل کر رہے ہیں میں اسی کے لئے آیا ہوں، اپیل جب فائل ہو جائے گی کاپیاں دے دوں گا کوشش ہو گی کہ منگل تک کیس لگ جائے، اپیل ابھی تک دائر نہیں ہوئے، لطیف کھوسہ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،

    بعد ازاں عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی

    قبل ازیں سائفرکیس، توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف بانی تحریک انصاف نے عدالت سے رجوع کر لیا،تحریک انصاف کے رہنما ،لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں ، سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں ، عدت کیس کی اپیل سیشن کورٹ میں دائر کی ہے،تینوں کیسز میں اپیل دائر کر دی ہیں،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    راولپنڈی اڈیالہ جیل کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور عدلیہ سے درخواست ہے کہ 70 کیسز کا جلد فیصلہ ہو ، تاکہ مینڈیٹ اس کو ملے جس کا ہے،

    عمران خان سے ملاقات کےبعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کاکہنا تھا کہ ہم نے یہ اعلان کیا ہے کہ ن لیگ ، پی پی پی سے اتحاد نہیں کریں گے، بانی چئیرمین کا پیغام ہے کہ پی ٹی آئی کی شئیرنگ کی سیاست نہیں ہے ، اس لیے ہم ان کے ساتھ کوئی پاور شئیر نہیں کریں گے ، اُس وقت تک مضبوط اپوزیشن کریں گے جب تک ہمارا فل مینڈیٹ نہیں آتا،ہمارے پاس پنجاب کے پی اور وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن ہے، پنجاب میں وزیر اعلی کے امید وار میاں اسلم ہوں گے ، بلوچستان میں ہمارے وزیر اعلیٰ کے امیدوار سالار صاحب ہوں گے، وفاق میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا نام پرسوں تک بتائیں گے.

    بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اکانومی کو بہتر کرنے کے لیے منشور پیش کیا تھا،جن لوگوں کو جتوایا گیا ان میں پیشتر کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوئے تھے، جن کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہیں وہ بھی پارٹی کو لے کر چلیں گے،تمام کاغذات ہم نے الیکشن کمیشن کے سامنے بھی رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، لوگ جہاں جہاں ہوں گے وہاں ہی بانی پی ٹی آئی کی کال پر احتجاج ہو گا، ہمارے پاس فارم 45 کے مطابق 180 سیٹیں موجود ہیں،سب کے سامنے فارم 45 بنایا گیا، فارم 45 کے بعد فارم 47 بنایا جاتا ہے، ہم اپنے فارم دیکھانے کو تیار ہیں،ہمارے فارم 45 جماعت اسلامی، تحریک لبیک پاکستان کے پاس بھی موجود ہیں،کراچی میں جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم یہ سیٹ ہار چکے ہیں یہ سیٹ پی ٹی آئی کی ہے،

    انتخابی دھاندلی، تحریک انصاف کا ہفتے کو ملک گیر احتجاج کا اعلان
    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام نہیں ہے، 28 ملین ہم نے قرض کی مد میں لوٹانے ہیں قوم کا فرض ہے کہ احتجاج کی جو کال دی گئی ہے اس میں شامل ہوں، پاکستان نے ایک دفعہ رول آف لاء کے لیے اٹھنا ہے، 9 مئی کے بیانیے سے قوم کو ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے،احتجاج دنیا بھر میں عوام کا پیغام ہو گا، پی ٹی آئی کی 80 سیٹس چوری کی گئی،سیٹیں چوری کر کے کرپٹ حکمرانوں کو ہمارے اوپر مسلط کرنے کی کوشش ہے،پاکستان کے حکمران پاکستان کے عوام ہیں، آج ہمیں کامیاب ہونے کی ضرورت ہے،احتجاج اگر کامیاب نہ ہوا تو معیشت کے لیے اندھیرا ہے،بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر ہفتے کو دن 12 بجے احتجاج کی کال دے رہا ہوں،پاکستانی اگر نہ نکلے تو پاکستان میں جمہوریت کی تدفین ہو جائے گی،اگر ہم پر تشدد کیا گیا تو ہم برداشت کریں گے، ہم نعرے لگاتے رہیں گے، پاکستانیوں کو جمہور، دستور، قانون اور خان کے لیے نکلنا ہو گا،

  • انتخابی عمل اندرونی و خود مختاری کا معاملہ،غیر ملکی نصیحتوں کی ضرورت نہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    انتخابی عمل اندرونی و خود مختاری کا معاملہ،غیر ملکی نصیحتوں کی ضرورت نہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکا کا انتخابی نتائج کی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کردیا

    امریکا کی جانب سے پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے پر دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دولت مشترکہ کی جانب سے پاکستان کے انتخابات کو شفاف قرار دیا گیا ہے،الیکشن سے متعلق غیر ملکی نصیحتوں کی ضرورت نہیں، انتخابی عمل اندرونی و خود مختاری کا معاملہ ہے،پاکستان نے اپنا آئینی فرض سنجیدگی سے ادا کیا ہے،غیر ملکی مبصرین کو بھی دعوت دی گئی تھی، پاکستانیوں کوملک کےسیاسی عمل پر بات کا حق حاصل ہے، اس پرہم تبصرہ نہیں کریں گے،

    بھارتی وزیر اعطم نریندر مودی کو نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں دعوت دینے کے معاملے میں ترجمان دفتر خارجہ ممتا زہرہ بلوچ نے کہا کہ یہ ابھی قبل از وقت معاملہ ہے اس حوالے سے فیصلہ نئی آنے والی حکومت کرے گی ہمیں جیسی ہدایات ہوں گی ہم اس پر عمل کریں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم رفح شہر میں اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، او آئی سی نے بھی اسرائیلی جارحیت پر تنبیہہ کی ہے اور پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹرپر عملدر آمد سمیت فلسطینیوں کا قتل عام روکنےکا مطالبہ کرتا ہے، مزید اموات اور قحط سے متاثر ہونے اور مناسب طبی امداد کی عدم دستیابی کو روکنے کے لیے غزہ کا محاصرہ ختم کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان غزہ کے محصور عوام کی اپنی غیر متزلزل سفارتی، اخلاقی، سیاسی اور انسانی حمایت میں پرعزم ہے۔ 10 فروری کو بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کشمیر کی 15 جائیدادوں پر متعدد چھاپے مارے، یہ چھاپے کشمیری سیاسی تنظیموں کے خلاف جاری کریک ڈائون کا حصہ تھے۔ جماعت اسلامی ان چھ سیاسی تنظیموں میں سے ایک ہے جن پر بھارت نے پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے، ہم بھارتی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ کشمیری سیاسی کارکنوں اور جماعتوں کو ڈرانے دھمکانے اور ظلم و ستم کا سلسلہ بند کریں،پاکستان مسئلہ کشمیرکا حل کشمیریوں کی خواہشات اوریو این قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے،پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا،پاکستان کو خطے میں دہشت گرد عناصر کے سر اٹھانے پر تحفظات ہیں، افغان انتظامیہ سے پاکستان کےخلاف سرگرم دہشتگرد گروہوں پرکارروائی کا کہا ہے، ہمیں افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں پر تشویش ہے،

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

  • وزارت عظمیٰ کیلئے عمر ایوب ہمارے امیدوار ہوں گے،  اسد قیصر

    وزارت عظمیٰ کیلئے عمر ایوب ہمارے امیدوار ہوں گے، اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کے امیدوار عمرایوب ہوں گے،

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سے ملاقاتوں کیلئے مجھے مینڈیٹ دیا گیا ہے، بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، دھاندلی کیخلاف پر امن احتجاج کریں گے، استعفے نہیں دیں گے،علی امین گنڈا پور ہی وزیر اعلیٰ کے پی کے کے امیدوار ہیں جو عمران خان نے فیصلہ کیا ہے وہ ہی ہوگا ،خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر کے امیدوار عقیب اللّٰہ ہوں گے۔قوم کو ملک بھر میں احتجاج کے لیئے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔ہم اسمبلی میں بیٹھیں گے قانونی جنگ بھی لڑیں گے عوام میں بھی جائیں گے ۔آج شام تک تحریک انصاف ملک بھر میں ریلیوں اور احتجاج کی کال دے گی ۔پورے ملک میں احتجاج ہوگا ،یہ الیکشن پاکستان کی تاریخ کا بدترین الیکشن ہوا ہے ۔میں نے موجودہ سیاسی صورتحال عمران خان کے سامنے رکھی، اس بار بغیر شرم کے دھاندلی کی گئی ہے، آنے والی حکومت پاکستانی عوام کے مسائل حل کر سکے گی نہ دنیا میں ملک کی نمائندگی، اس الیکشن کو نہ کوئی پاکستان میں مان رہا ہے نہ عالمی سطح پر کوئی سنجیدہ لے رہا ہے۔

    دھاندلی،عمران خان نے جمعیت علماء اسلام سے بھی بات کرنا کا کہا ہے،اسد قیصر
    اسدقیصر کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے بعد مجھے عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی،آئندہ دو روز میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا،ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ سیاسی استحکام آئے افرا تفری ختم ہو مگر ضروری ہے کہ پہلے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے دھاندلی سے چھینی گئی سیٹیں واپس کی جائیں،جو بھی دھاندلی کیخلاف سراپا احتجاج جماعتیں اُن سے بات ہوگی، اس میں جے یو آئی ف بھی شامل ہے،جمعیت علمائے اسلام سے بھی بات کر کے لائحہ عمل طے کریں گے،مولانا فضل الرحمان، اے این پی اور دیگر جماعتوں سے بات کروں گا،ہم پورے ملک میں احتجاج کریں گے، ہم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جو امریکہ خود کو چیمپئین سمجھتا ہے اس پر خاموش کیوں ہے،ہم چاہتے ہیں اس ملک میں آئین کی پاسداری ہو،چیف جسٹس کو چاہئیے کہ اس کا نوٹس لے،فارم 45 میں لوگ جیتے ہیں اور فارم 47 میں نتیجے تبدیل کردئیے، ہمارے ووٹرز سپورٹرز کو جیلوں میں ڈالا گیا،ہم اختجاج بھی کریں گے اور اسمبلیوں میں بھی بیٹھیں گے،ہمارا لیڈر خان ہے، جو فیصلہ کرتا ہے ہم تسلیم کرتے ہیں،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

  • الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں این اے 55 راولپنڈی کی انتخابی عذرداری کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف الیکشن کمشنر اور ممبر خیبرپختونخوا اکرام اللہ خان نے سماعت کی،این اے 55 سے کامیاب امیدوار ابرار احمد کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ریٹرنگ افسر نے رپورٹ بھجوائی ہے، وکیل ملک ابرار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر این اے 55 کا حتمی نتیجہ جاری کرچکا ہے، الیکشن کمیشن درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرے، مزید تحقیقات کیلئے معاملہ الیکشن ٹریبونل کو بھجوایا جاسکتا ہے، وکیل بشارت راجہ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھی این اے 55 سے بشارت راجہ جیت رہے تھے،

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تو فیصلے نہیں دینے،دھاندلی اور نتائج ردوبدل کے الزامات لگانے والے ثبوت بھی پیش کریں،وکیل بشارت راجہ نے کہا کہ ثبوت الیکشن کمیشن کے پاس ہیں، فارم 45 کھول کر دیکھ لیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا،الیکشن کمیشن نے این اے 55 راولپنڈی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا.

    این اے 57 ،سیمابیہ طاہر کی درخواست،آئندہ سماعت پر ریٹرننگ افسر ذاتی حیثیت میں طلب
    اسلام آباد: آزاد امیدوار سیمابیہ طاہر کی عذرداری درخواست پر سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے سماعت کی، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ این اے 57 کے ریٹرننگ افسر نے رپورٹ بھجوا دی ہے،وکیل سیمابیہ طاہر نے کہا کہ 336 میں سے 317 پولنگ سٹیشنز پر سیمابیہ طاہر کامیاب ہوئیں، ہمارے پاس 333 پولنگ سٹیشنز کے اوریجنل فارم 45 موجود ہیں، سیمابیہ طاہر 51 ہزار ووٹوں سے کامیاب ہورہی تھیں، آر او کی رپورٹ میں لکھا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران ہمیں شامل نہیں کیا گیا، چیف الیکشن کمشنر نےکہا کہ ریٹرننگ افسر نے کہا کہ قانون کے مطابق تمام فریقین کی موجودگی میں نتائج مرتب کیے، الیکشن کمیشن نے این اے 57 راولپنڈی سے آ زاد امیدوار سیمابیہ طاہر کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی،الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر این اے 57 کے ریٹرننگ افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا.

    این اے 126 ، 127،بابر عوان کی استدعا پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی
    این اے 126 اور این اے 127 لاہور سے عذرداری کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے سماعت کی،وکیل بابر اعوان الیکشن کمیشن میں ہوئے اور کہا کہ میں دونوں حلقوں پر اپنی درخواستوں پر کچھ ترمیم کرنا چاہتا ہوں، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دونوں حلقوں کے ریٹرننگ افسران نے رپورٹس بھجوا دی ہیں، بابر اعوان نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کر دی،این اے 126 اور این اے 127 لاہور سے متعلق درخواستوں پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی.

    این اے 242 کے پولنگ اسٹیشن پر توڑ پھوڑ حملہ کیس، آر او نے پولنگ سٹیشن میں توڑ پھوڑ کی تردید کر دی
    اسلام آباد: این اے 242 کے پولنگ اسٹیشن پر توڑ پھوڑ حملہ کیس کی سماعت ہوئی،آر او نے توڑ پھوڑ حملہ کیس کی رپورٹ جمع کروا دی،رپورٹ میں آر او نے پولنگ سٹیشن مین توڑ پھوڑ کی تردید کر دی، رپورٹ میں کہا گیا کہ متعلقہ پولنگ اسٹیشن پولنگ مین کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی،پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ بھی تیار کر کے جمع کروایا گیا، قادر خان مندو خیل نے کہا کہ منظر عام پر آنے والی ویڈیو جعلی ہے،جب میں پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوا بیلٹ پیپرز کھلے تھے،مجھے بتایا گیا ایم کیو ایم کے لوگ پولنگ اسٹیشن میں اندر داخل ہو چکے ہیں،4:30 بجے دروازے بند کر دیئے گئے،آر او نے بھی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی، کمیشن نے قادر مندوخیل کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا،

    قبل ازیں پی پی پی کے رہنما قادر خان مندو خیل الیکشن کمیشن پہنچ گئے،این اے 242 سے پی پی پی کے رہنما قادر خان مندو خیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 242 سے مصطفیٰ کمال کو زبردستی کامیاب کروایا گیا،میرے حلقہ میں حساس پولنگ اسٹیشنز تھے، کئی بار الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا، مگر کوئی انتظامات نہیں کیے گئے، ایم کیو ایم کے غنڈہ عناصر نے پولنگ اسٹیشن میں گھس کر دھاندلی کی، میری استدعا ہے کہ میرے حلقہ میں ری پولنگ کی جائے،پولنگ سٹیشن میں توڑ پھوڑ کیس کی سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

  • این اے 15 ،نواز شریف کو جھٹکا،الیکشن کمیشن میں درخواست مسترد

    این اے 15 ،نواز شریف کو جھٹکا،الیکشن کمیشن میں درخواست مسترد

    اسلام آباد: این اے 15 مانسہرہ،میاں نواز شریف کی انتخابی عذرداری پر سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،نواز شریف کے وکیل سماعت میں پیش نہ ہوئے ،ریٹرننگ افسر این اے 15 مانسہرہ نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی ، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ حلقے کا نتیجہ فارم 45 کے مطابق مرتب کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی ،الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی ،

    نواز شریف کے وکیل تاخیر سے پیش ہوئے، درخواست مسترد نہ کرنے کی استدعا کی، الیکشن کمیشن نے نواز شریف کے وکیل کو دوبارہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کر دی،این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گستاسب کامیاب ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے نواز شریف کی این اے15انتخابی عذرداری کی درخواست مسترد کر دی

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ پر اپنی شکست تسلیم کریں این اے 15 مانسہرہ میں کہیں سےدھاندلی کی شکایت نہیں ملی، وہ خود بھی امیدوار تھے اور سارے حلقے میں ان کے ایجنٹ موجود تھے این اے 15سے وہ خود اور نواز شریف ہارگئے ہیں نواز شریف جس بنیاد پر عدالت جا رہے ہیں وہ بہت کمزور ہے-

    مانسہرہ این اے 15 انتخابی نتائج،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی نتائج چیلنج کیئے تھے،نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے انتخابی نتائج چیلنج کیے،درخواست میں کہا گیا کہ 125 پولنگ اسٹیشن کے نتائج مکمل نہیں ہوئے،آار او نے بقیہ پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے بغیر ہی فارم 47 جاری کر دیا،نواز شریف نامکمل فارم 47 پر ہارے ، انھیں فارم 47 پر تحفظات ہیں،مانسہرہ این اے 15 کے نتائج روکے جائیں،بقیہ پولنگ اسٹیشن کو حتمی نتیجے میں شامل کیے جائیں ،تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے

    این اے 15 مانسہرہ، نواز شریف کو شکست، آزاد امیدوار جیت گیا
    این اے 15 مانسہرہ ، نواز شریف ہار گئے، غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار شہزاد محمد گستاسپ خان نے ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انچاس ووٹ حاصل کئے،نواز شریف نے اس حلقے سے80 ہزار 382 ووٹ حاصل کئے ہیں، نواز شریف نے مانسہرہ میں جلسہ بھی کیا تھا ،کیپٹن ر صفدر بھی مانسہرہ میں نواز شریف کی بھر پور مہم چلاتے رہے، اس حلقے سے اعظم سواتی دستبردار ہو گئے تھے

  • جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا، مولانا کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

    جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا، مولانا کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

    جمعیت علمائے اسلام نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنے کی دعوت دی ہے .

    پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں تو 9مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا ہے کیونکہ عوام نے قوم کے غداروں کو ووٹ دئیے ہیں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوگیا ہے دھاندلی کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے ہمارا اختلاف تحریک انصاف کے جسموں سے نہیں ذہین سے ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا ۔

    بدھ کے روز مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جمیعت علمائے اسلام نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیاہے موجودہ انتخابات نے 2018کی دھاندلی کا بھی ریکارڈ توڑ ڈالا ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال رہا ہے اور پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے انہوں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب فیصلے ایوان میں نہیں بلکہ میدان میں ہوں گے انہوں نے کہاکہ جے یوآئی کی مجلس عاملہ نے مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ جمعیت کی سیاست کے بارے میں فیصلہ کرے اور ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ماحول میں الیکشن کو شفاف بنایا جاسکے، جے یوآئی جان بوجھ کر کو شکست سے دوچار کیا گیا ہمارا جرم یہ تھا کہ ہم افغانستان میں پر آمن حکومت کے قیام اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کر رہے تھے جو امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو قبول نہیں تھے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یوآئی نے فلسطینیوں اور حماس کے موقف کی حمایت کی ہے اسی وجہ سے اسرائیل اور پوری دنیا میں اسرائیلی لابی بھی ہمارے خلاف تھی انہوں نے کہاکہ جے یوآئی ایک نظریاتی قوت ہے جو کسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہوتی اور اپنے عظیم تر مقصد کیلئے تحریک چلائے گی انہوں نے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت کی انہوں نے کہاکہ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے ہیں تو فوج کا 9مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا اور قوم کے غداروں کو مینڈیٹ دیا گیا انہوں نے کہاکہ نتائج میں کامیاب اور شکست خوردہ امیدواروں سے بڑی بری رشوتیں لی گئی ہیں میں مسلم لیگ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئین اور اپوزیشن میں بیٹھ جائیں ،

    انہوں نے کہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم اسمبلی میں بھی رہے اور باہر تحریک بھی چلتی رہی ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے. الیکشن کمیشن کا روز اول سے کردار مشکوک رہا ہے اور اب ہماری درخواستوں پر سماعت سے انکار کرکے درخواستوں کو خارج کر رہا ہے ، 22فروری کو اسلام آباد میں 25فروری کوبلوچستان 27فروری کو پشاور 3مارچ کو کراچی اور 5مارچ کو ہم پنجاب کی صوبائی مجلس عمومی کے ساتھ میٹنگ کریں گے، پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارے اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ہمیں ان کے جسم سے کوئی جھگڑا نہیں ہے ان کے دماغوں سے جھگڑا ہے اور وہ ٹھیک ہوجائے گی ، الیکشن کمیشن دن کو بھی رات ثابت کرنے کی بات کرتا ہے، محمود خان کے مقابلے میں دستبردار امیدوار جو گھر میں سویا ہوا تھا اس کو بتایا گیا کہ آپ جیت چکے ہیں، ہم مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے تابعدار نہیں ہیں،یہ مرکزی مجلس عاملہ کا بیان ہے،ہم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپنی حیثیت کے ساتھ جائیں گے اور کسی بھی پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے،جماعت نے نظرثانی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی ہے ، میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا ہوں اور جو میں نے کہاہے وہ ہم پر گزری ہے ہم نے انتخابی کمپین نہیں کی ہے اور ہمیں دھمکیاں دی جارہی تھی اس قسم کے حالات میں ہم نے الیکشن میں حصہ لیا ہے ہماری بات کسی نے نہیں مانی ہے اور اب ہم بھی کسی کی بات نہیں مانیں گے.

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم میدان میں آئیں گے اور ہم نے کسی اور تیور کے ساتھ بات کی ہے، ہم بلوچستان جائیں گے ہماری جماعت نے حکومت سازی کی بات نہیں کی ہے ہم دیگر جماعتوں کو اپنے موقف سے اگاہ کریں گے ،ہ ہمارے دورہ افغانستان کے حوالے سے یہ تبصرے آرہے ہیں کہ اس کو ہمارا جرم قرار دیا گیا اور ہمیں انتخابات میں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے،ہم اسمبلیوں سے استعفیٰ نہیں دیں گے،ہم اگلی تحریک کا شیڈول اور طریقہ کار جماعت کی مشاورت کے ساتھ جاری کریں گے تاہم موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ہمارا ساتھ دیں اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھاندلی نہیں ہوئی ہے تو بیٹھا رہے ، اہ پشائور میں خالص افغانی باشندے کو جتوایا گیا ہے،اگر اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دستبردار ہوجائے تو ہمارے سروں کا تاج ہے اور اگر سیاست کرے گی تو ہم بھی سیاست سے جواب دیں گے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرنس میں حکومت بنانے کے اعلان کے بعد مولانا فضل الرحمان سے انکی رہائشگاہ جا کر ملاقات کی تھی، شہباز شریف سے صحافیوں نے سوال بھی کیا تھا جس پر انکا کہنا تھا کہ میرا مولانا فضل الرھمان سے رابطہ ہوا ہے وہ پارٹی اجلاس میں مصرو ف تھے اس لئے آج نہیں آ سکے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، آج مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا

    گزشتہ روز حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحاد میں نظر نہیں آئے تھے ، پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود وزیر تھے تو وہیں جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی وزیر تھے تا ہم کل ہونے والے اتحادیوں کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نظر نہیں آئے اور نہ ہی انکا کوئی نمائندہ نظر آیا، انتخابات کے بعد شہباز شریف نے دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، نواز شریف نے بھی دوبار رابطہ کیا لیکن مولانا فضل الرحمان سے ن لیگی قیادت کی ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی،

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

  • آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری منگل کی شب پی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کرتے رہے-

    باغی ٹی وی : بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ ہماری ترجیح ن لیگ کے بجائے پی ٹی آئی ہے، پیپلزپارٹی کے رابطے پر دستیاب پارٹی قیادت کو آگاہ کر دیا تھا کراچی کے تمام حلقوں سے تحریک انصاف جیتی ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے تمام فارم 45 رکھے، الیکشن کمیشن ممبران سے عجیب و غریب لطیفے سننے کو ملے۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح پیغام دیا، نگراں حکومت اسی طرح مینڈیٹ چراتی رہی تو جمہوری عمل پاکستان میں ختم ہو جائے گا، ہم حکومت بنانے کے لالچ میں ان پارٹیوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن سب کا ذمے دار ہے، الیکشن کمیشن کے رویے سے لگ رہا ہے جان بوجھ کر کیس لٹکا رہے ہیں، ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر الیکشنز میں پھینکا گیا تھا، سب کچھ نواز شریف کے لیے کیا گیاوہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دو تہائی اکثریت سے پی ٹی آئی جیتے گی۔

    بھارتی کسانوں کا احتجاج،مودی حکومت نے دہلی کی ناکہ بندی کر دی

    شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا،فیصل کریم کنڈی
    شیر افضل مروت کے بیان پر پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت کو خواب میں بھی آصف زرداری نظر آرہے ہیں،تحریک انصاف کو اگر سرکاری موقف دینا بھی ہے تو کسی سنجیدہ شخص سے دلوائیں، شیر افضل مروت غیر سنجیدہ شخص ہیں ان کا دعویٰ بچکانہ ہے، شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا، شیرافضل مروت کامیڈی شو تو کرسکتے ہیں، لیکن سنجیدہ سیاستدان نہیں بن سکتے، پی ٹی آئی والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب ان کی حکومت نہیں بن رہی،ہ اگر پی ٹی آئی سے رابطہ کرنا ہوتا تو کسی سنجیدہ شخص کے ذریعے رابطہ کرتے، ایک ایسا شخص جس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں اس کے ذریعہ رابطہ کیوں کرتے، کبھی کہتے ہیں 160 سیٹیں ہیں، ہوا میں باتیں کرتے ہیں، انہیں خود بھی نہیں پتہ کتنی سیٹیں ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں دھاندلی والی سیٹیں مل سکتی ہیں تو یہ پیپلز پارٹی یا کوئی اورجماعت نہیں دے سکتی، یہ تو عدالت یا ٹریبونل ہی فیصلہ کرسکتا ہے، وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ 150 سیٹیں جیتی ہیں تو خواہشات اور خواب دیکھنے پر پابندی نہیں، پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کےلیے شہباز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کیا، تو پھر ان سے رابطہ کیوں اور کس لیے کریں

    واضح رہے کہ منگل کی شب ہی آصف علی زرداری چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر شہباز شریف، خالد مقبول، علیم خان اور بی اے پی کے صادق سنجرانی کے ساتھ جمع ہوئے تھے اور اس موقع پر چھ جماعتوں پر مشتمل حکمراں اتحاد کا امکان سامنے آیا تھا۔

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن …

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف …

  • جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جماعت اسلامی کی پی ٹی آئی سے اتحاد کے حوالےسے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی-

    باغی ٹی وی: ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف نے کہا کہ جماعت اسلامی نے طے کیا تھا کہ قومی سطح پر تحریک انصاف سے اشتراک عمل قومی مفاد میں ہو گا ، لیکن تحریک انصاف نے اپنے موقف کو تبدیل کیا ہے ،وہ کے پی میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کر لیں ، جماعت اسلامی کو خوشی ہو گی –

    پی ٹی آئی جس سے چاہے اپنے معاملات طے کرلے، جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔لیاقت بلوچ
    جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے مرکزی مشاورت اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نئی صورتحال میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کرے۔ اس کے فوری بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مرکزی قیادت اور ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کی اور لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پروفیسر محمدابراہیم صاحب امیرجماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا، اور عنایت اللہ خان صاحب نائب امیر صوبہ خیبر پختونخوا پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔ کمیٹی ارکان کا تحریک انصاف کے قائدین بیرسٹرگوہر خان چیئرمین پی ٹی آئی، علی امین گنڈا پور، عمر ایوب خان اور محمد اعظم خان سواتی سے رابطہ ہوا اور ملکی انتخابی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے تحریک انصاف کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا کہ جماعت اسلامی کے انتخابات 2024ء پر بڑے تحفظات ہیں۔ انتخابی نتائج کی تبدیلی اور زور زبردستی، سینہ زوری سے نتائج کو پلٹنا مکروہ اور جمہوریت کے لیے سیاہ گھناؤنا کھیل ہے جس کا نقصان ملک اور جمہوریت کو ہوگا۔ تاہم جماعت اسلامی عوامی مینڈیٹ سے جیتنے والے ممبران اسمبلی کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تحریک انصاف کو اپنے آزاد اُمیدواران اورجو اُن کی حمایت سے جیتے ہیں انہیں پارٹی، آئینی، پارلیمانی تحفظ، عوامی مینڈیٹ کے احترام، پی ٹی آئی کے کارکنان کی مشکل حالات میں ثابت قدمی، محنت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لیے تیار ہے، جس کاپی ٹی آئی قیادت نے خیرمقدم کیا۔ آخری مرحلے میں تحریک انصاف کی قیادت نے پیغام دیا کہ وہ صرف خیبرپختونخوا کی حد تک تعاون چاہتے ہیں، جبکہ قومی سطح پر وہ جماعت اسلامی کے ساتھ اشتراک عمل نہیں کریں گے۔ لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے قائدین کو آگاہ کیا کہ اُن کی طرف سے بدلے ہوئے دوسرے مؤقف پر مشاورت کے بعد جواب دیاجائے گا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشاورت کے بعد جماعت اسلامی نے طے کیا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اشتراک عمل قومی مفاد میں ہوگا لیکن تحریک انصاف نے اپنے مؤقف کو تبدیل کیا ہے تو وہ خیبر پختونخوا میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کرلیں، جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھاکہ صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی نمائندگی نہیں رہی جس کی وجہ سے اب ان کے ساتھ حکومت بنانے کا کوئی جواز نہیں، جماعت اسلامی کےساتھ صرف کے پی میں حکومت سازی پر بات چیت چل رہی تھی، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت سازی کے لیے قانونی طریقہ کار کو دیکھاجا رہا ہے۔

    دوسری جانب جماعت اسلامی خیبرپختونخوا اسمبلی کی مزید دو نشستیں ہار گئی ہے، جس کے بعد آئندہ بننے والی صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی ختم ہوگئی ہے باجوڑ سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 21 کے سرکاری نتیجے کے مطابق کامیاب جماعت اسلامی کے امیدوار سردار خان کی جیت ہار میں تبدیل ہوگئی، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اجمل خان 16712 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار سردار خان 8128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے،اس کے علاوہ پی کے 20 میں بھی ابتدائی نتائج میں کامیاب قرار دیے گئے جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا وحید گل ہار گئے۔

    بھرتی کیس میں پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے ذریعے خصوصی نشستوں کا حصول مشکل ہوگیا،ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے اب تک کوئی ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی گئی ہے اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت ترجیحی فہرست جمع کرانےکاوقت گزرچکا ہے۔

    لیکشن ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتیں کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ تک ترجیحی فہرست جمع کراسکتی تھیں جب کہ کاغذات نامزدگی کی تاریخ گزرنے کے بعد ترجیحی فہرست میں تبدیلی یا اضافہ بھی ممکن نہیں، فہرستوں میں ترجیح تبدیل کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی نام کو نکالا جا سکتا ہے۔

    کے پی میں 16 امیدواروں کی انتخابی نتائج کیخلاف درخواست دائر

    واضح رہے کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے،گزشتہ روز ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو ان کی جماعت کی ضرورت پڑی، تو وہ غیر مشروط طور پر پارٹی ان کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔

  • سابق اتحادی جماعتوں کا ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان

    سابق اتحادی جماعتوں کا ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان

    سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    مفاہمت کے ذریعے چلیں گے ،جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے،آصف زرداری
    سابق صدرآصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج طے کیا ہے ہم مل کر کام کریں گے اور حکومت بنائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں ہمارا معاشی اور دفاعی ایجنڈا مشترکہ ہو۔ ہم مصالحت کیلئے بھی کام کریں گے۔ مفاہمت میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف الیکشن بھی لڑے ہیں۔ ہماری کوئی نظریاتی مخالفتیں نہیں ہیں.ہر مشکل سے پاکستان کو ملکر نکالنا ہے ، تحریک انصاف کو بھی مفاہمت کی دعوت دیتے ہیں،

    صدر کا امیدوار تمام پارٹیاں مل کر طے کریں گی،آصف زرداری
    آصف علی زرداری جب پریس کانفرنس کے بعد واپس جا رہے تھے تو صحافیوں نے انہیں گھیر لیا، صحافی نے سوال کیا کہ صدر کے امیدوار آپ ہی ہوں گے جس پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ صدر کا امیدوار تمام پارٹیاں مل کر طے کریں گی،

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا پہلے بھی ساتھ دیا تھا، اب بھی ساتھ دیں گے،ایم کیو ایم پاکستان نے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں، معاشی ایجنڈا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیئے، ہم میاں صاحب کے ساتھ ہیں، استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا کہ امید کرتے ہیں پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جائیں گے، لوگوں پر اس وقت بہت مسائل ہیں، ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو صرف ملک اور عوام کی خاطر ہوں، شہباز شریف کی حکومت مسائل سے احسن طریقے سے چھٹکارا حاصل کرے گی

    نواز شریف سے درخواست کروں گا کہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں قوم کو آگے لے کر جانا ہے، وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جن کی لیڈرشپ اختلافات کو بھلا دے،ہمارا پہلا چیلنج معیشت ہے، اسے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،انتخابات میں اپنا منشور اور موقف پیش کیا گیا، پارلیمان معرض وجود میں آنے والی ہے، ہماری جنگ ملک کے چیلنجز کے خلاف ہے،چوہدری شجاعت حسین ایک شاندار میزبان ہیں، ہم اس لیے اکٹھے ہیں کہ قوم کو بتا سکیں کے ہم ان کے ساتھ ہیں،یہاں پر موجود پارٹیوں کی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت ہے،پی ٹی آئی کے آزاد امیدواراں کے پاس اکثریت ہے تو وہ حکومت بنائیں، جمہور کا تقاضا یہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو قبول کیا جائے،ملک کے ہر حصے سے اکثریت یہاں آج اکٹھی ہوئی ہے، ہمارے پاس اکثریت ہے، مل کر پاکستان کے مسائل کو حل کریں گے، نواز شریف سے درخواست کروں گا کہ وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں ،وزیر اعلٰی پنجاب کیلئے مریم نواز امیدوار ہوں گی،

    مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا تھا۔چوہدری شجاعت حسین کے گھر ہونے والے اہم اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، شہباز شریف ، خالد مقبول صدیقی ، عبدالعلیم خان سمیت سید یوسف رضا گیلانی شریک ہیں ،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار،سالک حسین ودیگر بھی شریک تھے،گورنر سندھ کامران ٹیسوری،ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار صادق سنجرانی موجود تھے.

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    پی ڈی ایم پارٹ ٹو، مولانا فضل الرحمان غائب،پریس کانفرنس میں نظر نہ آئے
    پی ڈی ایم پارٹ ٹو میں ابھی تک ایک اہم شخصیت نظر نہیں آئی، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحاد میں نظر نہیں آئے ، پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود وزیر تھے تو وہیں جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی وزیر تھے تا ہم آج ہونے والے اتحادیوں کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نظر نہیں آئے اور نہ ہی انکا کوئی نمائندہ نظر آیا، انتخابات کے بعد شہباز شریف نے دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، نواز شریف نے بھی دوبار رابطہ کیا لیکن مولانا فضل الرحمان سے ن لیگی قیادت کی ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی، جے یو آئی کا اسلام آباد میں اجلاس جاری ہے،جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ کے ارکان نے حکومت شامل نہ ہونے کی تجویز دی اور کہا کہ ہمیں پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے، مجلس عاملہ کی تجاویز پر مشاورت کےلیے جے یو آئی کی مجلس عمومی کا اجلاس بلانے کا فیصہ کیا، جو اگلے دس روز میں بلایا جائے گا، اپوزیشن میں بیٹھنے سے متعلق تجویز کی مجلس عمومی کے اجلاس میں منظوری لی جائے گی، اجلاس کے بعد کل مولانا فضل الرحمان ممکنہ طور پر پریس کانفرنس کریں گے اوراپنے فیصلوں کا اعلان کریں گے.