Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اتحادی جماعتوں کی جانب سے واضح حمایت ملنے کے بعد نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کر دیا

    نواز شریف جو چوتھی بار وزیراعظم بننے آئے تھے انکا خواب ادھورا رہ گیا، نواز شریف اتحادی وزیراعظم ہوں گے، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے نوازشریف نے وزیراعلی پنجاب کے عہدے کےلئے مریم نوازکو نامزد کردیا ہے

    پاکستان کو "نواز”دو، ن لیگ کا ووٹر سے دھوکہ، نواز کی بجائے "شہباز” دے دیا
    نواز شریف لندن سے واپس آئے تو اس وقت سے کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم بننے کے لئے آئے، مسلم لیگ ن نے نواز شریف وزیراعظم کے نام پر انتخابی مہم چلائی،منشور میں پاکستان کو نواز دو کا نعرہ لگایا، تاہم انتخابی نتائج آنے کے بعد نواز شریف نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیاالبتہ نواز شریف کا چہرہ اس روز "بجھا بجھا” سا تھا، اس خطاب کے بعد نواز شریف ابھی تک دوبارہ نظر نہیں آئے، آزاد امیدوار جو ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں ان سے شہباز شریف اور مریم نواز ملاقاتیں کر رہے ہیں، اتحادی جماعتوں سے رابطے شہباز شریف کر رہے ہیں تا ہم نواز شریف منظر سے غائب ہو چکے ہیں،این اے 15 سے نواز شریف الیکشن ہار چکے ہیں تو وہیں این اے 130 میں انکی کامیابی کا نوٹفکیشن آج جاری ہو چکا ہے، الیکشن کے دن ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمیں واضح اکثریت چاہئے، تاہم نتائج آنے پر نہ واضح اکثریت ملی اور نہ ہی نواز شریف کو جیت ، لاہور سے ن لیگ سیٹیں ہار گئی، خواجہ سلمان رفیق ہار گئے،روحیل اصغر ہار گئے،ایسے میں نواز شریف انتخابات کے بعد شدید پریشان ہیں، یہ بھی امکان ہے کہ نواز شریف حکومت بننے کے بعد دوبارہ لندن چلے جائیں ،کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف بن رہے تو نواز شریف کا کسی قسم کا کوئی کردار حکومت میں نہیں رہے گا ، صدر آصف زرداری کو بنانا ن لیگ کی مجبوری بن جائے گا کیونکہ وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ لے رہے،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کیلیے مریم نواز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کو امید ہے کہ نمبر گیم کی برتری حاصل کر کے وہ مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں اور پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے.

    واضح رہے کہ سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے،اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

  • میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا امیدوار نہیں ہوں جس کا مینڈیٹ ہے اس کا حق ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس وفاق میں حکومت بنانے کیلئے مینڈیٹ نہیں ہے،خود کو وزیر اعظم کیلئے پیش نہیں کرسکتا،فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینا ہے، وقت آ گیا ہے ہم آج بھی کھپے کا نعرہ لگائیں،مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں نہیں جاسکتےپیپلز پارٹی کیبنٹ کا حصہ نہیں ہوگی البتہ ن لیگ کے وزیراعظم کو ووٹ دیں گے ، مسلم لیگ ن کے حوالہ سے کمیٹی اجلاس میں دوستوں نے کافی اعتراض کئے، لوگوں نے شکایات کیں کہ انکے کام نہیں ہوئے اٹھارہ ماہ کی حکومت میں، ہم کمیٹی بنا رہے ہیں جو مسلم لیگ ن ، دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرے گی، اس الیکشن میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی میں اراکین نے اعتراض شیئر کئے، لیول پلینگ فیلڈ کی بات ہے،تو اس پر ایک یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کے ساتھ تمام نتائج ملک کے لئے قبول کرے گی،ماضی کی طرح بھی الیکشن رزلٹ پر سوالات اٹھائے ،اگر کوئی سیاسی جماعت حکومت نہ بنا سکی تو دوبارہ انتخابات جانا پڑے گا،پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے نیشنل اسمبلی میں ہم سے زیادہ سیٹیں لی ہیں،

    سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،میرا نہیں خیال کہ اپوزیشن لیڈر بن سکوں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے ن لیگ کو ووٹ دیں گے ،صرف مسلم لیگ نے ہی ہم سے رابطہ کیا ہے،سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں،دوبارہ الیکشن کی طرف نہیں جانا چاہتے اگر جائیں گے تو پہلے بھی ہمارے لوگ شہید ہوئے، دوبارہ الیکشن نظر ہو گئے تو بھی کوئی سیاسی جماعت قبول نہیں کرے گی، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ملکر کام کریں،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا، پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ملک کے حالات ہوں عوام پیپلز پارٹی کی طرف دیکھیں ،آج پیپلز پارٹی پاکستان کھپے کا نعرہ لگا رہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی، پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کروائے گی اور اہم معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، اپوزیشن لیڈر میرا نہیں خیال کہ میں بن سکوں،

    صدر زرداری اگلے صدر مملکت پاکستان کے امیدوار ہوں گے، بلاول
    بلاول کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوشش کریں گے کہ پیپلز پارٹی حکومت بنائے، پی ڈی ایم پارٹ ٹو اب نہیں بنے گا، پیپلز پارٹی بجٹ و دیگر معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، پیپلز پارٹی صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر شپ کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، ن لیگ یا کسی بھی جماعت کا وزیراعظم کا امیدوار، وہ انکا ہی فیصلہ ہے،ہمارے فیصلے متفقہ ہوں گے، خواہش ہیں کہ صدر کے الیکشن ہوں تو صدر زرداری حصہ لیں اور صدر بنیں، پاکستان جل رہا ہے اگر کوئی صلاحیت رکھتا ہے اس آگ کو بجھانے کی تو وہ آصف زرداری نہیں ، اس ملک کے لئے ضروری ہے کہ آصف زرداری وفاق کا عہدہ سنبھالیں،

    ن لیگ، تحریک انصاف سمیت سب سیاسی جماعتیں اپنا نہیں ملک کا سوچیں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہیں گے کہ پارلیمنٹ مدت مکمل کرے اور وزیراعظم بھی اپنا ٹرم مکمل کرے،اگر جو بھی ن لیگ کا وزیراعظم کا امیدوار ہے اگر وہ پرانی سیاست کرے گا، نفرت ،تقسیم کی سیاست کرنی ہے تو میرا خیال ہے بہت مشکل ہو گا، اب بہت ضروری ہے کہ نہ صرف مسلم لیگ بلکہ تمام سیاسی جماعتیں، تحریک انصاف بھی اپنے لئے نہ سوچیں، پاکستان کی فکر کریں، جو ماحول بن رہا ہے اس ماحول کا فائدہ ملک کے دشمن اٹھانا چاہیں گے،ہم سیاست کریں ، سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کریں انتہا پسندی کی سیاست چھوڑیں، ذاتی انتقام کی سیاست چھوڑنی پڑے گی، الیکشن مہم کے دوران تنقید کرنی پڑتی ہے، ن لیگ کے خلاف جو مہم چلائی وہ چلانی پڑتی ہے، تنقید کرنا یہ جمہوریت کا حصہ ہے، الیکشن کے دوران ذمہ داری ہے کہ دوسروں کی کوتاہیاں سامنے لائیں، عوام کو بتائیں،اب اگر ن لیگ یا پی ٹی آئی کو بلیک میل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے ، ہم نے جو فیصلہ کیا اس سے ہمیں ضرور نقصان ہو گا، اس فیصلے میں میرا سیاسی نقصان ہوسکتا ہے لیکن ملک کی بربادی نہیں ہونی چاہیےہم نے پاکستان کے عوام کی خاطر فیصلہ کیا میرے کارکنان، خاندان نے شہادتیں دیں،پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک سازش کے تحت ہرایا گیا،پیپلز پارٹی کے ساتھ اس الیکشن میں جو ہوا اس کا فیصلہ کرنا پڑے گا، بار بار ہم جمہوریت کی خاطر قربانی دیتے رہیں اور ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہے، آج فارم 45 کیوں ملتے ہیں، بینظیر نے مشرف کے دور میں یہ فارم 45 والا کام کروایا،کس نے کہا پی ٹی آئی کومیدان چھوڑے، آپ چاہتے ہو پیپلز پارٹی انتہا پسندی کی سیاست کرے، وہ نہیں ہو سکتا، میں نے اپنی مہم اور سیاست میں ثابت کر دیا کہ باقی سیاستدان عمر میں ضرور بڑے ہوں گے لیکن میں نے ملک کے لئے اچھا فیصلہ کیا،

    ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں دیں یا 50 ،کراچی کی ترقی اور امن پر کمپرومائز نہیں کریں گے، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو چلانا ہے اور اسےاستحکام دلانا ہے،پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایسا الیکٹورل سسٹم بنائیں کہ اس پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے،تحریک انصاف آج بھی ایسے فیصلے کررہی ہے جو جمہوریت کے حق میں نہیں ،پیپلز پارٹی ایک سنجیدہ جماعت ہے جو پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے،ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں؟میرا بھی یہ سوال ہے، ہمارے اعتراض ہیں انکا جواب چاہئے، جو دہشت گردی میں ملوث لوگ ہیں مجھے بتایا گیا کہ جو انکے دہشت گرد لوگ تھے انکو بھی الیکشن میں آزاد کروایا گیا ہمارے لوگوں پر حملے ہوئے، فائرنگ ہوئی، آپ انکو 18 سیٹ دیں یا 50 دیں ہم کراچی کے امن اور ترقی پر کمپرومائز نہیں کریں گے، انکو پیغام دیں گے کہ نفرت کی بنیاد پر شہر کو تقسیم نہ کریں،پیپلز پارٹی ملک میں مزید افرا تفری نہیں چاہتی.

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد پر لاتعلقی کا اعلا ن کر دیا،

    جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوا، پی ٹی آئی جس کے ساتھ بھی حکومت بنانا چاہے ان کو اختیار ہے, جماعت اسلامی کا نام استعمال کرنے کا اخلاقاً کوئی جواز نہیں بنتا،

    جماعت اسلامی کے رہنما عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار جماعت اسلامی کو جوائن کر سکتے ہیں ،ابھی صرف ٹیلی فونک رابطے ہوئے ہیں، بیٹھ کر ہی فیصلہ کیا جاسکتا ہے، جماعت اسلامی غیر مشروط بات کرے گی،

    ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کا کہنا ہے کہ فارم 45 کے مطابق کے پی کی تینوں سیٹیں جماعت اسلامی جیتی ہوئی ہے،تینوں نشستوں پر جماعت اسلامی کو واضح بر تری حاصل ہے،ایک غیر جمہوری رویہ جماعت اسلامی کے ساتھ اپنایا جارہا ہے،جماعت اسلامی کے طرف سے اتحاد سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کو حتمی فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے گا،

    رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم تعاون کیلئے تیار ہیں لیکن پہلے اندرونی مشاورت کی جائے گی، فی الوقت کوئی زنانی یا تحریری معاہدہ نہیں ہوا،سینیٹ یا وزیراعظم کے چنائو سے متعلق فی الحال کوئی بات نہیں ہوئی

    مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
    دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کاکہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین اسمبلی کی مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت کے فیصلے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین عمران خان کی اپنی جماعت ہے اور وہ اس جماعت کے حوالے سے جو چاہے فیصلہ کر سکتے ہیں ہم اسے بلامشروط اورمن و عن قبول کریں گے۔ہمارا روز اول سے یہ موقف بھی رہا ہے اور ہم نے اپنے عمل و کردار سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی جماعت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ مشکل وقت میں باوفا دوست بن کر ساتھ نبھاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہمارا اتحاد ، آزاد خارجہ پالیسی، داخلی خودمختاری،سرحدوں کےتحفظ، عالمی طاقتوں کی غلامی سے انکار،مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات اور گلگت بلتستان کے لیے آئینی حقوق کے حصول بیانیہ کی بنیاد پر ہے جو خون کے آخری قطرے تک قائم رہے گا۔عمران خان کی قیادت میں پوری قوم مل کر وطن عزیز کو ایک آزاد، خود مختار اور باوقار ریاست بنانے میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں سے اتحاد کا اعلان کر دیا،
    ترجمان تحریک انصاف رؤف حسن کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم کیساتھ اتحاد ہوگا.خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کریں گے،فارم 45 اور اصل نتائج کے مطابق ہماری قومی اسمبلی میں 180 نشستیں ہیں،کچھ کور کمیٹی کے حوالے سے خان صاحب نے بتایا ہے اس پر بھی عمل درآمدکیا جائے گا،مجھے یہ اہم ذمہ داری دی ہے خان صاحب نے کہ مختلف جماعتوں کے ساتھ رابطہ قائم کروں،ہم دوسرے جماعتوں کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کو تیار ہیں، ایک اور یہ بھی فیصلہ کیا کہ کے پی کے میں علی امین گنڈا پور حکومت بنائے گا،عمران خان نے عامر ڈوگر کو ایک بار پھر قومی اسمبلی میں چیف و ہپ مقرر کر دیا، اور کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن جتنی ہوسکے وہ کروائیں،انٹرا پارٹی الیکشن دس دن میں کرانے کی ہدایت کی گئی،

    اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں،شریفوں اور زرداری سے لڑائی ہے ان سے لڑیں گے،ترجمان تحریک انصاف
    رؤف حسن کا کہنا تھا کہ میز کے آمنے سامنے ہم بیٹھے تھے، سرکار پیچھے بیٹھی تھی، کچھ اہم بات کرنی ہوتی تو وہ کان قریب لاتے ، اشارہ کرتے، لیکن سب کچھ برداشت کرنے کے باوجود عمران خان کی سمائل نہیں گئی، ویسے ہی سمائل کررہا تھا، یہ ناقابل یقین ہے۔موجودہ صورتحال میں مستحکم حکومت کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانا مسئلے کا حل نہیں،مسئلے کا حل اوورسیز پاکستانیز کی سرمایہ کاری ہے، اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں، ان سے نہیں لڑیں گے،شریفوں اور زرداری سے لڑائی ہے ان سے لڑیں گے،عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے مطابق حکومت بنانے دی جائے،

    قبل ازیں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کردی،جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کو حکومت سازی کے لیے اتحاد کا گرین سگنل دے دیا،لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کے تحفظ کیلئے اگر پی ٹی آئی کو جماعت اسلامی کی ضرورت پڑی تو ویلکم کہیں گے،

    ایم کیوایم ،پیپلز پارٹی، ن لیگ سے اتحاد نہیں، چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کریں گے، بیرسٹر گوہر
    ہمیں اصل مینڈیٹ جو عوام نے دیا وہ دیں تو کل حکومت بنا لیں ،بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہم 4 سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں،پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی 180 نشستیں جیتی ہیں، اس مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ،سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کی آراوز عدلیہ سے دیئے جائیں ، عوام نے ہمیں جو مینڈیٹ دیا ہے اس پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، اسلام آباد کی تینوں سیٹیں ہم جیت چکے ہیں،ہمیں اصل مینڈیٹ جو عوام نے دیا وہ دیں تو کل حکومت بنا لیں ،جن لوگوں کو اپروچ کیا گیا انہیں 25 ، 25 کروڑ کی آفر کی گئی، کسی جماعت سے منصوب آزاد امیدواروں کو اپروچ کرنا غیر اخلاقی اور غیر آئینی ہے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے اہم عہدوں کیلئے نام تجویز کیے ہیں،تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 180 سیٹیں جیت چُکی ہے، یہ عوام کا مینڈیٹ ہے، وائٹ پیپر میں فارم 45 جاری کریں گے،5 دن کے اندر اندر 3 سزائیں دی گئیں، 14، سال 10 سال اور 7 سال کی سزائیں دی گئیں ،عوام کو یہ میسج دینے کی کوشش کی گئی کہ خان صاحب اندر چلے گئے اب کسی اور طرف دیکھیں ،ایم کیو ایم کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کریں گے،ہم چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر حکومت بنائیں گے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے،لیڈر شپ جیل میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی،بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کر دیا ہے،اللہ نے ہمیں عوام کی طاقت سے سرخرو کیا ہے،پاکستان میں پہلی بار ایسا الیکشن ہوا کہ لیڈر شپ اور نشان نہ ہونے کے باوجود جیت گئے، جیت کا سرچشمہ عوام ہے اور غلامی نامنطور ہے، عوام نے بڑا مینڈیٹ دیا ہے ،بلوچستان کی 16 سیٹوں میں سے ہم 4 اور پنجاب کی 115 سیٹیں جیت گئے ،

    مریم ، شہباز، نواز ،سب ہارے ہوئے ان کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے ،علیمہ خان
    عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان آج بہت خوش تھے ، اُنہوں نے پوری قوم کے لیے مبارک باد دی ہے، اکثریت پی ٹی آئی کو ملی، لیکن دھاندلی کی گئی، عمران خان ، پی ٹی آئی دو تہائی جیتیں سیٹ چکی ہے، پی ٹی آئی کو حکومت بنانی چاہئے ایک چھوٹا سا مسئلہ آ گیا ہے، امیدواروں کے ہاتھ میں 45 ہے، لیکن 47 میں انہیں ہروا دیا گیا، دو راستے ہیں ،ایک، عمران خان کا خاص پیغام ہے کہ معیشت کو اس طرح کر کے مزید گڑھے میں دھکیل دیں گے، مینڈیٹ چوری ہو گا تو لوگوں کو کون جواب دے گا، ایک راستہ یہی ہے کہ ووٹ چوری رکھیں، چوری مینڈیٹ اور سیٹوں کی یہ ن لیگ، ایم کیوایم نے کی ہے، ایم کیو ایم نے پی ٹی آئی کی ساری سیٹیں اٹھا لی ہیں، پیپلز پارٹی نے بھی چوری کی ہے یہ تینوں جماعتیں پی ٹی آئی کی سیٹیں لے کر شرمندہ ہو ں گے،مریم ، شہباز، نواز ،سب ہارے ہوئے ہیں، سب کو ان کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے ایک اچھے طریقے سے خوش اسلوبی سے یہ سیٹیں واپس کر دیں،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد امیدواروں کی اگر اکثریت ہے تو شوق سے حکومت بنا لیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 میں جیسے آر ٹی ایس بٹھا دیا گیا پہلی بار ہوا تھا کہ دیہاتوں کے رزلٹ پہلے آگئے اور شہروں کے رزلٹ رات دیرتک نہیں آئے،2013 میں سپریم کورٹ نے بول دیا تھا الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی،پی ٹی آئی نے 2013 میں بھی 35 پنکچر کا ڈرامہ رچایا تھا۔انتخابات کے پامن انعقاد میں چیف جسٹس، افواج پاکستان اور الیکشن کمیشن کا کردار اہم ہے۔ چیف الیکشن کمشنر تحسین کے مستحق ہیں، آج میں گزارش کرنا چاہتا ہو ں کہ جس دن الیکشن ریزلٹ آ رہے تھے، اس رات کو دس بارہ فیصد نتائج آنے پر ایک ون سائیڈڈ شور ہوا، بتایا گیا کہ آزاد جیت رہے اور پارٹیاں ہار رہی ہیں، اس پر ایک رائے قائم کر لینا غیر مناسب بات تھی، اس الیکشن میں حقائق کا سامنا کریں تو جواب صاف مل جاتا ہے کہ اس الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا، اگر ایسی بات ہوتی تو خواجہ سعد رفیق نے کھلے دل سے شکست تسلیم کی،یہ کس طرح ہار گئے، فیصل آباد، شیخوپورہ ، ایبٹ آباد میں سینئر رہنما ہمارے ہار گئے، آزاد جیت رہے اور پھر بھی دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن ہو گئے، ن لیگ کے نمبر زیادہ ہیں سیاسی جماعتوں میں ن لیگ نمبر ون ہے، اسکے بعد پیپلز پارٹی ہے، نتائج سامنے آ چکے، اب اگلا مرحلہ شروع ہوا چاہتا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ پارلیمان میں اب سارا عمل معرض وجود میں آئے گا، اگر آزاد اراکین حکومت بنا سکتے ہیں تو بڑے شوق سے بنائیں، صدر نے ان کو دعوت نہیں دینی، جس کی تعداد زیادہ ہے وہی حکومت بنائے گا،آزاد اگر اکثریت دکھا دیں گے تو ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے اور آئینی کردار ادا کریں گے، اگر آزاد حکومت نہیں بنا سکتے تو پھر دوسری پارٹیاں مشاورت سے بنائیں گی، اور کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے، ہمیں اب آگے بڑھنا ہو گا،یکسوئی کے ساتھ آنیوالا مرحلہ طے کرنا ہے، ہمیں جب ہروایا گیا تو ہم نے کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا، پارلیمان میں جا کر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا او ر حلف اٹھایا کون نہیں جانتا کہ بدترین دھاندلی سے الیکشن چرایا گیا تھا، ہم نے تو نہیں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو آگ لگائیں گے، ڈی چوک پر دھرنے دیں گے،نواز شریف کی قیادت میں کبھی ایسا نہیں ہوا، فیٹف کا بل ہم نے منظور کروایا،جب بھی موقع آیا کشمیر کا تنازع، مل بیٹھنے سے انکار کر دیا گیا،دوسرے مراحل کرونا میں مل بیٹھنے سے انکار کیا گیا،جب بھارتی جہازوں نے پاکستانی فضاؤں کو عبور کیا، اور جہاز گرایا گیا، اس رات میٹنگ تھی، ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد سپہ سالار آئے لیکن وزیراعظم میٹنگ میں نہیں آئے، ہم نے پاکستان کے مفاد کو دیکھنا ہے، ماضی کی بھیانک داستان ہمارے سامنے ہے، میں کئی بار بات کر چکا ہوں،ہم نے ریاست بچائی، سیاست قربان کی ،پی ٹی آئی حکومت نے تو ملک کو ڈیفالٹ کر دیا تھا، ہم نے ریاست کو بچایا ہے

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر لیا، اب مہنگائی، غربت ،بے روزگاری کے خلاف مقابلہ ہے، امن قائم کرنا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے،نان سٹیٹ ایکٹر نے لوگوں کو پولنگ سٹیشن پر نہیں آنے دیا، مخصوص لوگوں کو آنے دیا گیا، یہ باتیں سننے میں آ رہی ہیں، پشاور سے برف پوش پہاڑوں تک دن دہاڑے پولنگ سٹیشن پر بندوق برداروں نے ووٹ ڈلوائے،اسکی بھی تحقیقات ہونی چاہئے ،وہ کونسی حکومت تھی جس نے دہشت گردوں کو دوبارہ پہاڑوں پر بٹھایا، جیلوں سے آزاد کروایا،قوم کو اسکا جواب ملنا چاہئے،قوم کے ہوش اڑ جائیں گے جب پتہ چلے گا کہ کون انکو واپس لایا، آج قوم کے زخم پر مرہم رکھنے کا وقت آ چکا ہے، نوا زشریف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت میں ہیں، نواز شریف نے اعلان کیا کہ اس وقت قوم کو جتنی یکجہتی، یکسوئی، محبت پیار بانٹنے کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی، ہمیں دکھوں کو خوشیوں میں بدلنا ہے، تلخیوں کو دفن کر نا ہو گا، مل بیٹھ کر ملک کا حل ڈھونڈنا ہو گا، خدا کے لئے ، دنیا کو دوبارہ جگ ہنسائی کا موقع دیں گے یا بتائیں گے کہ ہم ملکر چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں.

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں ہم حکومت بنائیں گے، ہمارے اراکین زیادہ ہیں، آزاد اگر وفاق میں حکومت بنا سکتے ہیں تو خوشی سے بنائیں ،ورنہ ہم اپنا آئینی کردار ادا کریں گے،مشاورت کا عمل جاری ہے، نواز شریف نے قوم کو بتایا کہ اکثریت ہونے کے باوجود مشاورت کریں گے، نواز شریف کی قیادت میں قوم کو متحد کریں گے،صدر کی انوائیٹ کرنے کی شق ختم ہو چکی، 2018 میں تو صدر نے انوائیٹ نہیں کیا تھا، ہاؤس خود اپنا فیصلہ کرے گا، جس پارٹی کی اکثریت ہے اسکا حق ہے حکومت بنائے،آئین کہتا ہے 21 دن میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ منتقل کرنےکی درخواست پر نوٹس جاری

    بشریٰ بی بی کو بنی گالہ سے اڈیالہ منتقل کرنےکی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر نوٹس جاری کر کے 22 فروری کو جواب طلب کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل عدالت کے روبرو پیش ہوئے،وکیل عثمان گل نے کہا کہ احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14 سال قید کی سزا سنائی،بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچیں تو کہا گیا آپ کو اڈیالہ جیل میں قید کیا جا رہا ہے، بعد میں بتایا گیا کہ بنی گالہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر آپ کو وہاں منتقل کیا جا رہا ہے،چیف کمشنر کا بنی گالہ رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، بشریٰ بی بی کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات جارج کیے جائیں،عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 فروری تک جواب طلب کر لی.

    بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید کی سزا گزارنا چاہتی ہیں فوری بنی گالہ گھر سے جیل منتقل کیا جائے، بشریٰ بی بی نے بنی گالہ کو سب جیل قرار دینے کا انتظامیہ کا 31 جنوری کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کر دی ، بشری بی بی کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی عام قیدی کی طرح سزا اڈیالہ جیل میں پوری کرنا چاہتی ہوں تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں دوسرے سیاسی ورکرز جیلوں میں عام قیدیوں کے ساتھ ہی بنی گالہ سب جیل میں منتقلی مساوی حقوق کے منافی ہے 31 جنوری کو صبح دس بجے سے لیکر رات نو بجے تک مجھے اڈیالہ جیل میں انتظار کروانے کے بعد سب جیل میں منتقل کیا گی، پوچھنے پر مجھے بتایا گیا بنی گالہ رہائش کو سب جیل قرار دے دیا گیا چیف کمشنر آفس اسلام آباد کا اکتیس جنوری کا نوٹیفیکشن کالعدم قرار دیا جائے.

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی گئی تو وہ اڈیالہ جیل آئیں تا ہم بنی گالہ کو سب جیل قرار دے کر بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کر دیا گیا، جس پر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بھی سوال اٹھائے گئے تھے کہ ایسا دوہرا معیار کیوں، یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ کئی ماہ سے جیل میں ہیں اب بشریٰ کو سزا ہوئی تو اسکو جیل میں کیوں نہیں رکھا جا رہا.

    واضح رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،فیصلے سے قبل جج کورٹ روم آئے توجج نے ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا ،اہلیہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

  • لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیر اعظم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بھی اس کام میں ملوث ہیں انکو پھانسی ہونی چاہیے، عام طور پر ایک بار پھانسی ہوتی ہے ان کیسسز میں ملوث افراد کو دو دفعہ پھانسی ہونی چاہیے،ابھی نگران وزیراعظم کو طلب کرتا ہوں اور پھر منتخب وزیراعظم کو بھی طلب کرونگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں اس کیس میں مزید وقت درکار ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ تو میری مہربانی ہے کہ میں دونوں ڈی جیز کو نہیں بلا رہا،عدالت نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو پیر کے روز صبح طلب کرلیا

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • کون بنے گا وزیراعظم؟ بلاول یا شہباز، سیاسی جماعتیں متحرک،اجلاس طلب

    کون بنے گا وزیراعظم؟ بلاول یا شہباز، سیاسی جماعتیں متحرک،اجلاس طلب

    عام انتخابات، کون بنے گا وزیراعظم؟ کس کی بنے گی حکومت، جوڑ توڑ ، رابطے جاری، پانچ دن گزر گئے سیاسی جماعتیں کسی فیصلے پر متفق نہ ہو سکیں،ن لیگ حکومت بنانے کے لئے مسلسل سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے،پیپلز پارٹی کا آج دوسرے دن بھی اجلاس ہو گا وہیں جے یو آئی کا اجلاس بھی آج ہو گا

    اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے، ایم کیو ایم رہنما بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اسلام آباد میں موجود ہے، ، نواز شریف بھی آج مریم نواز کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ جائیں گے،مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت بھی اسلام آباد پہنچیں گے،چوہدری شجاعت حسین کی اسلام آباد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات ہو گی،پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور ایم کیو ایم کے ساتھ ملاقاتوں کا امکان ہے،ملاقاتوں میں حکومت سازی اور اتحاد بنانے سے متعلق امور پر بات چیت ہوگی

    ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان رابطہ ہوا ہے،دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کے مابین آج شام مشاورت کا امکان ہے،رابطے میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے حوالے سے گفتگو کی گئی،ایم کیو ایم پاکستان کا وفد آج شام مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرے گا،ملاقات میں پاور شئیرنگ فارمولے، کراچی کے امور پر بات ہو گی،

    گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شراکت اقتدار سے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوا جس کے بعد اجلاس آج سہ پہر تین بجے پھرہو گا،اسلام آباد میں اجلاس کے بعد شیری رحمان نے کہا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے، پیپلز پارٹی تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے رابطہ کمیٹی بنائے گی جس کے ناموں کا اعلان آج کر دیا جائے گا ، پیپلز پارٹی رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ الیکشن سے متعلق چاروں صوبوں میں تحفظات ہیں، اجلاس میں بہت سی تجاویز آئیں، آج حتمی فیصلہ کریں گے

    ن لیگ کی کوشش ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنیں، پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بلاول وزیراعظم بنیں تا ہم ایک دوسر ے سے اتحاد کئے بغیر وزیراعظم کوئی بھی نہیں بن سکتا شہباز شریف نے الیکشن سے ایک روز قبل کہا تھا کہ کہ اگر سادہ اکثریت نہ ملی تو نواز شریف وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہوں گے،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ ن لیگی وفد بلاول ہاؤس گیا جس میں شہباز شریف، ملک احمد خان و دیگر شامل تھے، وفد نے آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات کی، آصف زرداری نے ن لیگی وفد سے کہا کہ ہماری شرط ہے کہ بلاول کو وزیراعظم بنایا جائے، وفاق میں وزارتیں دی جائیں ،پنجاب آپ رکھ لیں، اگر ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پنجاب او ر بلوچستان کی وزارت اعلیٰ ہمیں دے دیں، ہم آپ کے وزیراعظم کوووٹ دے دیں گے،اب دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا، دونوں کے اعلامیہ میں فرق تھا، ن لیگ نے کہا ساتھ چلنے کو تیار ہیں ،پیپلز پارٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کریں گے پھر بتائیں گے،

    سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کا امکان زیادہ ہے، تحریک انصاف کے مزید ارکان اپنی وفاداریاں تبدیل نہیں کریں گے، حلقے کے عوام لوٹوں کا جینا دوبھر کردیں گے، فیصل واوڈا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جو آزاد اراکین عدالت میں جا رہے ہیں ان میں سے سات آٹھ سیٹیں واپس مل جائیں گی باقی کچھ نہیں ہو گا.

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا نام وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر سامنے آ رہا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت ہے، تو مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گی، تاہم گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے اجلاس میں یہ باز گشت سنائی دی کہ مریم نوازممکنہ طور پر وزیر خارجہ بننا چاہ رہی ہیں، پیپلز پارٹی اجلاس میں یہ تجویز بھی آئی کہ تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے، یہ تجویز ندیم افضل چن نے پیش کی جس کی کسی نے مخالفت نہیں کی، پیپلز پارٹی کا اجلاس آج پھر دوبارہ ہو گا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں.

    حالیہ عام انتخابات پر جمعیت علمائے اسلام ف کے تحفظات،جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء ونظماء کا اہم اجلاس آج ہوگا،جے یو آئی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا،اجلاس کی صدرات جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے۔اجلاس میں قومی انتخابات کا تفصیلی جائزہ لیا جائےگا،اسمبلیوں میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے سے متعلق فیصلہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے،جے یو آئی ایف اجلاس میں حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھنے پر بھی غور کرے گی،اجلاس میں صوبائی جماعتیں انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں گی

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    پنجاب میں ن لیگ کی ہی حکومت بنے گی، احسن اقبال
    سینئر ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کریں گے،ان شاء اللّٰہ تعالیٰ 2024 سے 2029 کا سفر پاکستان میں ترقی کا سفر ہو گا، نوجوانوں کو بہترین ہنر دیں گے اور ان کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے، مسلم لیگ ن کو پنجاب میں بھرپور مینڈیٹ حاصل ہوا ہے، اپنی حکومت قائم کریں گے

    بدقسمتی سے ملک میں کسی کو بھی واضح مینڈیٹ نہیں ملا،مصدق ملک
    مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک کا کہنا ہے کہ ہماری توقعات سے بہت کم نشستیں ملیں، سروے بتا رہے تھے 85 اور 100 کے قریب نشستیں ہوں گی،بدقسمتی سے ملک میں کسی کو بھی واضح مینڈیٹ نہیں ملا، خواہش اور کوشش تھی کسی ایک پارٹی کو واضح مینڈیٹ ملے، ہمیں مینڈیٹ نہیں ملا ہمیں بھی بہت افسوس ہے،سوچنا چاہیے ہم میں کس وجہ سے خوش فہمی ہوئی، جتنے سروے ہو رہے تھے ان سے ہماری نشستیں کم آئیں،سینیٹ میں الیکشن ہوا تو ہم سے نشان لے لیا گیا تھا، ہمیں کہا گیا کسی اور پارٹی کو جوائن کر لیں لیکن کوئی نہیں گیا، پی ٹی آئی کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں شکست کا اعتراف کرنا چاہیے، ہم پہلا قدم اٹھا چکے ہیں، حکومت میں تھے تو شہباز شریف نے میثاق جمہوریت کے لیے کہا تھا،پی ٹی آئی حکومت کے وقت بلاول نے بھی کہا تھا قدم اٹھاؤ ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس وقت بانی پی ٹی آئی نے کہا مر جاؤں گا بات نہیں کروں گا.

  • ابصار عالم پر حملے ،اسد طور پر تشدد میں کون ملوث تھا؟ پولیس رپورٹ عدالت جمع

    ابصار عالم پر حملے ،اسد طور پر تشدد میں کون ملوث تھا؟ پولیس رپورٹ عدالت جمع

    سینئر صحافی ابصار عالم پر حملے اور اسد طور پر تشدد میں فرانس میں مقیم 2 پاکستانیوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے

    اسلام آباد پولیس نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں مبینہ طور پر ملوث 6 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں،حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق ملزم حماد نے پیسوں کے عوض فرانس میں مقیم افراد کے ایما پر حملے کا اعتراف بھی کر لیا ہے، ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے فرانس میں مقیم شاہ نواز اور مرزا زین غیاث سے رقم بینک کے ذریعے وصول کی. پولیس نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم ملزمان کی گرفتاری پر مزید تحقیقات کی جائیں گی جب کہ مطیع اللہ جان نے پولیس کو بیان میں کسی کو نامزد کیا اور نہ ہی کسی پر شک کا اظہار کیا، مطیع اللہ جان کیس میں مدعی نے تعاون نہیں کیا

    واضح رہے کہ ابصار عالم پر 20 اپریل2021 کو اس وقت فائرنگ کی گئی تھی جب وہ اسلام آباد میں اپنے گھر کے قریب پارک میں واک کررہے تھے، واقعے میں ابصار عالم زخمی ہوگئے تھے۔

    ابصار عالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں،چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے تو کہا تھا کہ فیصلے میں کئی غلطیاں ہیں

    فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں التواء کی درخواست

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ الیکشن کا مرحلہ ختم ہو گیا، اب اسکا دوسرا مرحلہ شروع ہوا،جس کے لئے ہر امیدوار نے کروڑوں روپے خرچ کئے، سیاسی پارٹیوں نے اربوں روپے خرچ کئے اقتدار کی جنگ شروع ہو چکی ہے جوڑ توڑ شروع ہے،تیاریاں عروج پر ہیں، ملاقاتیں جاری ہیں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لاہور سیاسی جوڑ توڑ کا مرکز بنا ہوا ہے، محسن نقوی کے گھر زرداری بلاول شہباز کی ملاقات ہوئی، شہباز شریف نے پارٹی کو اس ملاقات کا احوال بتایا اسکے مطابق آصف زرداری نے شہباز شریف کے آتے ہی بلاول کے لئے وزارت عظمیٰ مانگ لی اور کہا کہ بلاول کو وزیراعظم بنائیں،پھر ہم آپ کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہیں کل ایم کیو ایم والوں سے ملاقاتیں ہوئیں انہوں نے سندھ کی گورنر شپ اور اہم وزارتیں مانگ لیں، ن لیگ اب جس پوزیشن میں ہے ہر جماعت اسکو نچوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، ن لیگ مجبور بن چکی، کل بلاول اسلام آباد گئے، اسکی ملاقات امریکی سفیر سے ہوئی، بلاول کو دوبارہ لاہور بلایا گیا، بلاول ہاؤس لاہور میں ن لیگ کا وفد آیا اس میں ن لیگی لوگ شامل تھے، وفد نے آصف زرداری، بلاول سے ملاقات کی، آصف زرداری نے کہا کہ ہماری شرط ہے کہ بلاول کو وزیراعظم بنایا جائے، وفاق میں وزارتیں دی جائیں ،پنجاب آپ رکھ لیں، اگر ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پنجاب او ر بلوچستان کی وزارت اعلیٰ ہمیں دے دیں، ہم آپ کے وزیراعظم کوووٹ دے دیں گے،اب دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا، دونوں کے اعلامیہ میں فرق تھا، ن لیگ نے کہا ساتھ چلنے کو تیار ہیں ،پیپلز پارٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کریں گے پھر بتائیں گے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میاں صاحب الگ سے پریشان ہیں، اگر وفاق پیپلز پارٹی کو دینا وزیراعظم بلاول بننا تو میاں صاحب کو کیوں بلایا، لندن سے وہ یہاں آئے وہیں رہتے اچھے تھے، کافی پیتے، چہل قدمی کرتے، سادہ اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے ن لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہیں، اگر وہ بنتے ہیں تو انکو پنجاب سے وزارت اعلیٰ چھوڑنی پڑے گی اور مریم نواز کا ن لیگ کا وزیراعلیٰ بننے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا،نواز شریف مریم نواز کی ٹریننگ کر رہے تھے، اب اسکا کیا ہو گا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ‌آصف زرداری ن لیگ کو نچوڑ رہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ڈیل نہیں ہوتی تو پیپلز پارٹی تحریک انصاف کی طرف دیکھے گی ، تحریک انصاف کے آزاد اراکین لوٹے بننا شروع ہو گئے ہیں،روحیل اصغر کو ہرانے والے وسیم قادر ن لیگ میں شامل ہو گئے،مریم نواز ماضی میں کہتی تھی کہ لوٹوں کی جگہ غسلخانوں میں ہے تو اب ن لیگ غسلخانہ بن گئی، کیونکہ وہ لوٹوں کی سیاست کر رہی ہے، آزاد امیدوار کسی بھی جماعت میں جا سکتے ہیں پی ٹی آئی کے لئے سب سے بڑا چیلنج سیاسی جماعت میں شامل ہونا اور مخصوص نشستیں لینا ہے،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    5 آزاد ارکان اسمبلی کی شہباز شریف سے ملاقات ، ن لیگ میں شمولیت کا اعلان

  • موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    عام انتخابات، الیکشن کمیشن نے دھاندلی کی تصدیق کر دی، امیدواروں کو متعلقہ فورم جانے کامشورہ دے دیا

    عام انتخابات آٹھ فروری کو ہوئے، آزاد امیدوار، جماعت اسلامی،پیپلز پارٹی، تحریک لبیک سمیت متعدد جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، آراوز نے گنتی کے وقت امیدواروں کو نکال دیا،دھاندلی کے خلا ف ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے،کئی شہروں میں احتجاج کرنیوالوں کےخلاف مقدمے بھی درج ہوئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں اب الیکشن کمیشن نے تسلیم کر لیا ہےکہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تا ہم اکا دکا واقعات سامنے آئے،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "انتخابات کے انعقاد سے پہلے اور انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن کو بے پناہ چیلنجز درپیش تھے جن سے عہدہ براء ہونے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف اقدامات عمل میں لائے گئے۔اس حوالے سے یہ بات زبان زدعام تھی کہ انتخابات کا انعقاد مقررہ تاریخ پر نہیں ہو پائے گا۔ الیکشن کمیشن نے اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے تمام ممکن عملی اقدامات کیے اور انتخابات مقررہ تاریخ پر کروائے۔8 فروری کے انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لیے الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنا، پولنگ عملے کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، پولنگ میٹریل کی بحفاظت نقل و حمل کو محفوظ بنانا اور درست نتائج کی ترتیب و تدوین انتہائی اہم ترجیحات تھیں جنہیں بقیہ تمام عوامل پر مقدم رکھا گیا اور سیکیورٹی کے چیلنجز کے باوجود پر امن پولنگ کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا۔نتائج میں تیزی کی خاطر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا یا نتائج کی درستگی کو مشکوک بنانا نامناسب تھا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے واقعات بالخصوص انتخابات کے نزدیک مختلف مقامات پرسیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت نے انتخابات کے انعقاد کو ایک چیلنج بنا دیا۔ایسی صورت حال میں انتخابی عمل اور بالخصوص نتائج کی تیزی کے لیے انسانی جانوں کو خطرات میں جھونکنے سے پورے انتخابی عمل کے سبو تاژ ہونے کا خطرہ موجود تھا جس کے تدارک کے لیے ترجیحی اقدامات کیے گئے۔سیکیورٹی اداروں کے مشورہ پر وفاقی حکومت کی جانب سے موبائل فون کی بندش کے علاوہ پولنگ کے عمل کو پرامن اورمنظم رکھنے اور پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی حفاظت کے لیے گروپوں کی صورت میں سیکیورٹی کے حصار میں نقل و حمل کو یقینی بنایا گیا۔ تاہم موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث رابطہ نہ ہونے، پولنگ سٹیشنوں کے طویل فاصلوں اور دور دراز جگہوں پر واقع ہونے، رات کے اندھیرے میں سفر ،بعض علاقوں میں موسم کی شدت اور برف کی موجودگی اور بعض مقامات پر شاہراؤں پر ہارنے والے امیدواروں کے حامیوں کے جانب سے دھرنے دیے جانے کے باعث پولنگ عملے کو نقل و حمل میں مشکلات پیش آئیں۔بلوچستان کے بعض علاقوں میں پولنگ عملے اور پولنگ میٹریل کی نقل و حمل کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرنا پڑے۔ملک کے کئی حصوں میں سیکیورٹی کی صورت حال اور کوآرڈی نیشن میں آسانی کے لیے پانچ سے چھ ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر ایک ہی جگہ پر بنائے گے تاہم ان دفاتر پر جہاں پولنگ عملے کی آمد سے رش بڑھا وہاں کئی جگہوں پر ریٹرننگ آفیسرز کے دفاتر کے سامنے بے پناہ ہجوم بھی اکٹھا ہوا جس کے باعث پولنگ عملے کو پولنگ میٹریل جمع کرانے میں مشکلات پیش آئیں جن کا انتخابی نتائج کی ترتیب و تدوین پر بھی فرق پڑا۔تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن علاقوں میں انتخابی نتائج میں تاخیر بھی ہوئی وہاں نتائج کا ملا جلا رحجان رہا اور کسی ایک جماعت کو کسی طور پر فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا۔EMS کا بنیادی کام R.O. کے دفاتر میں پریزائیڈنگ آفیسرزکے ذریعے جمع کرائے گئےنتائج کی تیاری اور تدوین تھا اور فارم۔47 (غیر حتمی نتیجہ) تیار کر کے نتائج کا اعلان کرنا تھا۔پریزائیڈنگ آفیسرز کو پولنگ سٹیشن پر فارم۔45 تیار کر کے اسے اپنے موبائل فون کی مدد سے الیکٹرانک طریقے سے اپنے آر او کو بھیجنا تھا۔نیز الیکشنز ایکٹ2017 کے سیکشن 90 کے تحت پریزائیڈنگ آفیسر نے اپنے ریٹرننگ آفیسر کے دفتر ذاتی طور پر پہنچنا تھا۔یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آ ر اوکے دفاتر میں نصب ای ایم ایس کا نظام کنیکٹوٹی پر منحصر نہیں تھا اور ای ایم ایس نے آر او کے دفتر میں تسلی بخش کام کیا۔ تاہم پریزائیڈنگ آفیسرز کے فونز میں انسٹالڈ ای ایم ایس موبائل ایپ کو فارم۔45 الیکٹرانک طور پر بھیجنے کے لیے سیلو لر کنیکٹوٹی کی ضرورت تھی۔چونکہ سیلولر سگنلز کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا تھا اس لیے پریزائیڈنگ آفیسرز، ریٹرننگ آفیسرز کو الیکٹرانک ڈیٹا بھیجنے سے قاصر رہے۔مزید یہ کہ معمول کی کوآرڈی نیشن اور انتظامی نقل و حمل کے مجموعی عمل کو موبائل سگنلز کی بندش نے بری طرح متاثر کیا، جو کہ مزید تاخیر کا باعث بنا۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ 2018ء کے جنرل الیکشن میں پہلا نتیجہ صبح 4 بجے موصول ہوا جبکہ 2024ء میں پہلا نتیجہ رات 2 بجے موصول ہوا۔اسی طرح 2018 میں نتائج کی تدوین تقریباً 3 دن میں مکمل ہوئی جبکہ اس مرتبہ کچھ حلقوں کے علاوہ ڈیڑھ دن میں انتخابی نتائج مکمل ہوئے۔ان مشکلات اور مسائل کے باوجود الیکشن کمیشن 8 فروری کو الیکشن کے عمل کو پرامن اور منظم رکھنے میں کامیاب رہا۔یہ ایک بہت بڑا آپریشن تھا جو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا جس کا اعتراف سول سوسائٹی تنظیموں، مقامی و عالمی مبصرین اور میڈیا نے بھی کیا اور پولنگ کے انتظامات، پولنگ عملے کی تربیت، پولنگ سٹیشنوں پر نظم و ضبط اور عوام کی ایک بڑی تعداد کے ووٹنگ کےعمل میں شریک ہونے کو سراہا جو انتخابی عمل کی کامیابی کی دلیل ہے”.

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ "الیکشن کمیشن انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے تاہم اکا دکا واقعات سے انکار نہیں جس کے تدارک کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں اور الیکشن کمیشن ان دنوں میں بھی دفتری اوقات اور دفتر کے بعد بھی دیر تک ایسی شکایات کو وصول کر رہا ہے اور ان پر فوری فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں۔الیکشن کمیشن انتخابات کے پرامن انعقاد پر نگران وفاقی حکومت، نگران صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پاک فوج، دیگر اداروں اور پولنگ سٹاف کا شکریہ ادا کرتا ہے”۔

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا