Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • طالبان کی شدت پسند پالیسیوں کے باعث افغانستان بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کا شکار

    طالبان کی شدت پسند پالیسیوں کے باعث افغانستان بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کا شکار

    طالبان کی شدت پسند پالیسیوں کے باعث افغانستان بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کا شکارہو چکا ہے

    طالبان رجیم کی غیر جمہوری اور پرتشدد پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا ہے،طالبان کی انتہا پسند پالیسیوں کے باعث متعدد ممالک افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات معطل کر چکے ہیں،طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان سفارت خانوں کی بندش میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، برطانیہ، ترکیہ اور ناروے کے بعد اب جاپان نے بھی افغان سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے،افغان سفارت خانوں کی مسلسل بندش اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم سفارتی طور پر ناکامی اور عالمی تنہائی کا شکار ہو چکی ہے، افغان جریدے کابل ٹائمز نے بھی جاپان میں افغان سفارت خانے کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ 31 جنوری 2026 سے سفارت خانے میں تمام سیاسی اور اقتصادی امور معطل کر دیے جائیں گے۔کابل ٹائمز نے بھی خبردار کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں کے لیے سفارتی مشنز کی بندش سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے ان کے قانونی اور انتظامی مسائل میں اضافہ ہوگا،طالبان رجیم کی آمرانہ اور شدت پسند سوچ کے باعث کئی ممالک نے افغان شہریوں کے داخلے سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے ہیں

    افغان جریدے آمو کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر روس نے افغان مزدوروں کی بھرتی سے بھی انکار کر دیا ہے،ماہرین کے مطابق افغانی شرپسندوں اور سیکیورٹی خدشات کی بنا پر امریکا، جرمنی، پاکستان، ایران اور دیگر ممالک سے افغان مہاجرین کو بے دخل کیا جا رہا ہے ، طالبان کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے جو انتہائی تشویش کا باعث ہے،

  • پلوامہ حملہ بی جے پی کا رچایا ہوا ڈرامہ تھا،بھارت کے اندر سے اک اور گواہی

    پلوامہ حملہ بی جے پی کا رچایا ہوا ڈرامہ تھا،بھارت کے اندر سے اک اور گواہی

    بھارتی سیاستدان اور سماج وادی پارٹی کے رہنما سنتان پانڈے نے مودی سرکار کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پلوامہ حملہ بی جے پی کا رچایا ہوا ڈرامہ تھا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنتان پانڈے کا کہنا تھا کہ 2019 میں پلوامہ حملہ غیر ملکی نہیں بلکہ بی جے پی کی سازش کا حصہ تھا، بی جے پی نے جھوٹ چھپانےکیلئے پلوامہ کی سازش کا ڈھونگ رچایا، بی جے پی آج تک نہ بتاسکی کہ حملے میں استعمال ہوا آرڈی ایکس کہاں سے آیا، بغیر تحقیقات اور ثبوت کے پاکستان پر الزام لگانا مودی حکومت کی عادت بن گئی ہے، بمبئی اورپلوامہ حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز کیے گئے، ایسےفالس فلیگ آپریشنز مودی حکومت کے مذموم مقاصد کے حصول کا پرانا طریقہ ہے۔

    یاد رہے کہ مودی سرکار نے 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے اور پھر 2025 میں ہونے والے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تاہم پاکستان کی جانب سے ہر بین الاقوامی فورم پر بھارت کے بنیاد اور جھوٹے الزامات کی سختی سے ناصرف تردید کی گئی بلکہ کہا گیا کہ اگر بھارتی حکومت شواہد فراہم کرے تو پاکستان ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے تاہم بھارت کی ہندو انتہا پسند سرکار آج تک ان حملوں سے متعلق کوئی ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کر سکی ہے۔

  • بنوں دہشتگردوں کا راکٹ حملہ،ڈی آئی خان 21 مشتبہ افراد گرفتار،سیکورٹی فورسز کاروائیاں جاری

    بنوں دہشتگردوں کا راکٹ حملہ،ڈی آئی خان 21 مشتبہ افراد گرفتار،سیکورٹی فورسز کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ قلات میں ڈرون حملے کے نتیجے میں اس کے پانچ جنگجو مارے گئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عبدالاحد، اسرار احمد، شعیب احمد، عبیداللہ سیاہ پاد اور فیصل بدینی شامل ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس کارروائی یا جانی نقصان کی کوئی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے بھی حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے نوکنڈی میں کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 179 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ آپریشن سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل و حرکت سے متعلق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو معمول کی چیکنگ اور نگرانی کے دوران روکا گیا۔ تمام زیر حراست افراد کے پاس درست سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس کے بعد انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں گرفتار افغان شہریوں کو تصدیق اور رجسٹریشن کے لیے مخصوص مرکز منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اسکریننگ اور دستاویزی عمل امیگریشن قوانین کے تحت جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی سرحدی داخلے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب نے اوکاڑہ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک کارندے کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ملزم کے قبضے سے انتہاپسند لٹریچر اور پروپیگنڈا مواد برآمد ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس کے کالعدم تنظیم کے لیے بھرتی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک اور روابط کا پتہ چلایا جا سکے۔

    لکی مروت میں نورنگ تھانے کی حدود میں شیرکالا موڑ کے قریب عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک بچہ شہید جبکہ ایک شہری زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ شہید ہونے والا بچہ سب انسپکٹر امتیاز خان کا کمسن بیٹا تھا، جبکہ زخمی شخص ان کا بھائی ہے۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شہید بچہ مکمل طور پر معصوم تھا اور اس کا کسی قسم کے تنازع سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پہاڑپور میں ضلعی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائی تھی جس میں مختلف علاقوں میں بیک وقت چھاپے اور سرچ آپریشن کیے گئے، جن میں سیدو والی، برز والی، علی ونڈا، چندہ، کلی ونڈا، گڑھ پیر امام شاہ، گلوٹی اور پنیالہ شامل ہیں۔ آپریشن کی نگرانی سینئر پولیس اور سی ٹی ڈی افسران نے کی، جبکہ البرق فورس، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران بین الصوبائی سرحد کے قریب پہاڑی علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں گھیراؤ اور سرچ آپریشن کے دوران 21 افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں مبینہ سہولت کار بھی شامل ہیں۔ تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سب ڈویژن حسن خیل کے دہشت گردوں نے بازرگئی گاؤں کے علاقے سے سیکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے، جن کی قیادت اعزاز عرف عمر عثمان کر رہا تھا، سیکیورٹی فورسز کے لانس نائیک ریحان کو اس وقت اغوا کیا جب وہ چھٹی پر اپنے گھر موجود تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اغوا کے بعد اہلکار کو پہاڑی علاقے کی طرف لے جایا گیا۔ اس واقعے سے مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے مغوی اہلکار کی بازیابی کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ مقامی عمائدین بھی سیکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر محفوظ رہائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    دہشت گردوں نے بنوں میں کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) کے علاقے پر راکٹ حملہ کیا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق راکٹ سی ایم ایچ کے قریب کنوائے گراؤنڈ کے علاقے میں ایک خالی احاطے میں گرا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، لیکن کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ راکٹ سے قریبی تنصیبات کو بھی کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ بم ڈسپوزل اور تحقیقاتی ٹیموں نے بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور شہر میں حساس مقامات کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    میران شاہ میں دہشت گردوں کے حملے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا ایک اہلکار شہید ہو گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی آپریٹر عمر نیاز کو منگل کے روز ان کی رہائش گاہ کے قریب مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ شدید زخمی حالت میں عمر نیاز کو قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کا تعلق شمالی وزیرستان کے گاؤں دندے درپا خیل سے تھا۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ ٹارگٹڈ تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  • نئے سال نئے عزم کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا سال نو پر پیغام

    نئے سال نئے عزم کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا سال نو پر پیغام

    وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 کے اختتام پر ہم شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ اپنے سفر کا جائزہ لیتے ہیں اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔

    وزیراعظم نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ گزرا ہوا سال کئی اعتبار سے آزمائشوں سے بھرپور رہا، تاہم اس نے قوم کی اجتماعی طاقت اور خود اعتمادی کو مزید مضبوط کیا۔ استقامت، نظم و ضبط اور مشکل مگر ناگزیر فیصلوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے، اعتماد بحال کرنے اور پاکستان کو معاشی بحالی اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اقدامات کیے گئےیہ کامیابیاں آسانی سے حاصل نہیں ہوئیں بلکہ یہ پاکستانی عوام کی محنت، صبر اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں، جنہیں ان کی ثابت قدمی اور مستقبل پر یقین کے لیے خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    وزیراعظم نے دشمنوں کی جارحیت کے مؤثر جواب اور دہشت گردی کے خلاف بے مثال جرات و بہادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میدانِ جنگ اور مذاکرات دونوں محاذوں پر قوم نے حوصلہ دکھایافیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مثالی عسکری قیادت کو سراہتے ہوئے مسلح افواج پر فخر کا اظہار کیا گیا، جنہوں نے ثابت کیا کہ جنگیں غرور سے نہیں بلکہ حوصلے سے جیتی جاتی ہیں۔

    ایل او سی ،برف پوش مورچوں سے پاک فوج کے جری جوانوں کا سال نو پر پیغام

    بیان میں اقتصادی بنیادوں کو مضبوط بنانے، گورننس بہتر کرنے، سماجی تحفظ میں توسیع اور طویل المدتی ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی وزیراعظم نے کہا کہ مالی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات، سرمایہ کاری، برآمدات اور توانائی کے تحفظ میں پیش رفت کے ذریعے پاکستان نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

    پیغام میں کہا گیا کہ مستحکم، خود انحصار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ہمارا مشترکہ عزم ہے جو ہر شہری کو مواقع اور وقار فراہم کرے۔ اس سال تاریخی سنگِ میل منائے گئے، شہدا اور قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کے عزم کی تجدید کی گئی۔

    وزیراعظم نے تعلیم، مہارتوں، ڈیجیٹل تبدیلی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیا اور زراعت، صنعت، آئی ٹی اور قابلِ تجدید توانائی میں پیداوار بڑھانے، جدت کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    سال نو کی پہلی گرفتاری، ہوائی فائرنگ کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار،2 افراد زخمی

    ثقافتی اور روحانی ورثے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری روایات اور فنون ہماری طاقت اور شناخت ہیں، جنہیں ترقی کے ساتھ ساتھ فروغ دینا ہوگاعوامی فلاح کو تمام کوششوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے سماجی تحفظ، صحت و تعلیم میں بہتری، کسانوں اور محنت کشوں کی حمایت اور جامع ترقی کے عزم کا اظہار کیا گیا، ملک امن، علاقائی استحکام، کثیرالجہتی تعاون اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کے لیے پُرعزم ہے، اور مکالمے، ترقی اور تعاون کو ترجیح دیتا رہے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اتحاد، نظم و ضبط اور محنت سے ہم ایک مضبوط، منصفانہ اور باوقار پاکستان تعمیر کریں گے نیا سال امید اور مواقع کی روشنی لے کر آئے، وطنِ عزیز سربلند رہے، کھیتوں میں فراوانی، گھروں میں امن اور ہر پاکستانی کی زندگی میں مقصد اور کامیابی نصیب ہو۔

    پاکستان میں سال نو کا آغاز،پرتپاک استقبال،فائرنگ،آتش بازی

  • ایل او سی ،برف پوش مورچوں سے پاک فوج کے جری جوانوں کا سال نو پر پیغام

    ایل او سی ،برف پوش مورچوں سے پاک فوج کے جری جوانوں کا سال نو پر پیغام

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اگلے مورچوں میں تعینات پاک فوج کے جوانوں نے نئے سال 2026 کے آغاز پر قوم کے نام خصوصی پیغام دیا ہے۔

    اپنے پیغام میں بہادر جوانوں نے اپنے غیر متزلزل عزم، جذبۂ قربانی اور مادرِ وطن سے بے لوث محبت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید سردی، برف باری اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ ان کے حوصلے اور عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔پاک فوج کے جری جوانوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنے گھروں اور اہلِ خانہ سے دور ہیں، مگر وطن کا دفاع ان کی اولین ذمہ داری ہے، اور وہ برف سے ڈھکے بنکروں میں ڈٹ کر کھڑے ہیں تاکہ سرزمینِ پاکستان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدوں پر پاک فوج کی موجودگی ہی قوم کے امن و سلامتی کی ضمانت ہے، اور واضح پیغام دیا کہ کسی دشمن کو سرحد پار سے بری نظر ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

    فوجی جوانوں نے دشمن کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مارکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ اتحاد، یکجہتی اور پختہ عزم کے ساتھ دشمن کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان کے سپاہی دن رات انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال جرات اور بھرپور لگن کے ساتھ ملکی دفاع کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔جب آپ سو رہے ہوتے ہیں، افواجِ پاکستان جاگ رہی ہوتی ہیں،پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    جیسے ہی سال 2025 اختتام کی جانب بڑھا، پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا، جس میں عسکریت پسند گروہوں نے دوبارہ منظم ہو کر تازہ حملوں کی کوشش کی۔ تاہم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مضبوط اور پُرعزم قیادت میں، پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے اللہ کے فضل و کرم سے اس سال کو دہشت گردوں کے لیے ’’سالِ احتساب‘‘ میں تبدیل کر دیا۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن عزمِ استحکام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی جامع حکمتِ عملی جس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ، فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشنز شامل ہیں،نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی اور بھارت کی پشت پناہی یافتہ گروہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کامیابیوں سے نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی مضبوط ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بڑھا۔

    ایک اہم سنگِ میل پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی غیر مستقل رکنیت کے لیے 2025-2026 کی مدت کے لیے انتخاب ہے، جو جون 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں 182 ووٹ حاصل کر کے ممکن ہوا۔ یہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی آٹھویں مدت ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور کاوشوں کا عالمی اعتراف ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے نمایاں کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی 2025 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی، جس کے ذریعے فیلڈ مارشل منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ اس منصب نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی پالیسی سازی اور ابھرتے خطرات سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، جو ان کی حکمتِ عملی کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔

    دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور ثابت قدم جنگ لڑ رہا ہے۔ بے پناہ چیلنجز کے باوجود، سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور فوج و عوام کے درمیان ناقابلِ شکست رشتہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا رہا ہے۔سال 2025 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تاہم حملوں میں اضافے کے باوجود دہشت گردوں کو پہنچنے والا نقصان تین گنا بڑھ گیا، جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران تقریباً 1,118 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 68 فیصد واقعات خیبر پختونخوا جبکہ 28 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2024 کے مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 2,115 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ شاندار کامیابی فیلڈ مارشل منیر کی عملی اور انٹیلی جنس برتری کو واضح کرتی ہے۔اس کے علاوہ 497 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہے۔

    بدقسمتی سے، تقریباً 664 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 1,025 زخمی ہوئے۔ شہری جانی نقصان میں 580 شہدا اور 982 زخمی شامل ہیں۔یہ قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کے سیکڑوں ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور بارودی مواد تباہ کیا۔خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ (26 واقعات) دیکھا گیا، تاہم 80 فیصد سے زائد حملے ناکام بنا دیے گئے۔ بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آپریشن عزمِ استحکام (جون 2024 میں آغاز) کو ترجیح دی، جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سماجی و معاشی ترقی اور سرحدی سیکیورٹی کو بھی مربوط کیا گیا۔یہ جامع حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم اور رسد کی لائنیں منقطع کی گئیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کاچھی جیسے اضلاع میں ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔ فروری 2025 تک 706 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے تھے۔ صرف بنوں میں 168 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے 170 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جو جدید جنگی مہارت پر فیلڈ مارشل منیر کی دسترس کو ظاہر کرتا ہے۔

    اہم جھلکیاں

    قلات آپریشن (28 دسمبر 2025): بھارت کی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں، 1,500 سے زائد واقعات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔یرہ اسماعیل خان میں دسمبر کے آپریشنز میں 13 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے

    30 دسمبر 2025، افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 45 خوارج کو ناکام بنا دیا گیا۔

    مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران، جو انسدادِ دہشت گردی کی وسیع کوششوں سے جڑی تھی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس پر عالمی سطح پر اسٹریٹجک مہارت کو سراہا گیا۔اس کامیابی سے سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔

    2,115 ہلاک دہشت گردوں میں اکثریت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی، جنہیں مالی وسائل، بھرتی اور لاجسٹکس کو ہدف بنا کر ختم کیا گیا، جو طویل المدتی کامیابی کی بنیاد ہے۔مجموعی طور پر، اگرچہ دہشت گرد سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے دشمن کو 134 فیصد زیادہ نقصان پہنچایا۔ ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، جن میں افغانستان سے سرحد پار دراندازی، ڈیجیٹل دہشت گردی اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکاپاکستان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے دوران امریکا نے بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔

    سعودی عرب نے فیلڈ مارشل منیر کو شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ سلامتی کونسل کی رکنیت کو ان کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا، جس سے عالمی امن میں پاکستان کے کردار کو مزید وسعت ملی۔آنے والے وقت میں ترجیحات میں غیر قانونی افغان باشندوں کی بے دخلی، سوشل میڈیا کی نگرانی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل شامل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رہنمائی میں مضبوط سرحدی باڑ، ڈرون ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پروگرامز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کریں گے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہو کر، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ حملوں میں اضافہ دشمن کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ اندرونی و بیرونی گھیراؤ کی تمام کوششوں کے باوجود، پاکستان کی دانا قیادت اور شہدا کی قربانیوں نے دشمن کے منصوبے چکناچور کر دیے ہیں۔ اللہ کے فضل سے دشمن ہمیشہ شکست خوردہ رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد!

  • وادیٔ تیراہ میں کلیئرنس آپریشن کی تیاریاں مکمل، 10 جنوری تک آبادی کے انخلا کی ہدایت

    وادیٔ تیراہ میں کلیئرنس آپریشن کی تیاریاں مکمل، 10 جنوری تک آبادی کے انخلا کی ہدایت

    خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع خیبر کی حساس وادیٔ تیراہ میں ایک مرتبہ پھر کلیئرنس آپریشن کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، جہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ مجوزہ کلیئرنس آپریشن کا مقصد وادیٔ تیراہ کو دہشتگرد عناصر، منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور حالیہ حالات کے پیش نظر وادیٔ تیراہ میں امن و استحکام کی بحالی اب ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے مرحلہ وار اور جامع حکمت عملی کے تحت کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ آپریشن سے قبل علاقے کو مکمل طور پر آبادی سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔انتظامیہ کی جانب سے مقامی آبادی کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ 10 جنوری تک وادیٔ تیراہ کو مکمل طور پر خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

    متاثرہ افراد کے لیے حکومت نے مالی معاونت اور معاوضے کے جامع پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والی ہر فیملی کو 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی فوری مالی امداد دی جائے گی، جبکہ گھروں کے نقصان کی صورت میں 10 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اپریل تک ہر متاثرہ خاندان کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ بے گھر ہونے والے افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اس سلسلے میں وادیٔ تیراہ میں سیکیورٹی اداروں اور قبائلی مشران پر مشتمل 24 رکنی جرگے کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جرگے نے کلیئرنس آپریشن اور 10 جنوری سے نقل مکانی کے فیصلے پر اتفاق کیا ہے۔ قبائلی مشران نے حکومت کے اقدامات کو علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ریاست وادیٔ تیراہ میں دیرپا امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے بعد علاقے میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں، مقررہ تاریخ تک نقل مکانی یقینی بنائیں اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔

  • وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق نہایت گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خادمِ حرمینِ شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی محبت، خلوص اور گرمجوشی پر ان کا شکریہ ادا کیادونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں کو چھونے والے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا، اس کے علاوہ علا قا ئی صورتحال اور موجودہ پیش رفت پر بھی تبادل خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم نے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

  • بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے 18ویں نیشنل ورکشاپ آن بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات اور گفتگو میں کہا ہے کہ سول سوسائٹی کا پروپیگنڈے کے توڑ میں مثبت اور تعمیری کردار قابلِ تحسین ہے، ذاتی و محدود سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ہوگا،وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عوام دوست اقدامات بلوچستان کی ترقی کا باعث بن رہے ہیں، بلوچستان کی معاشی صلاحیتوں کو عوام کے فائدے کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے، ذاتی اور سیاسی مفادات پر مبنی ایجنڈوں کو مسترد کرنا روشن مستقبل کیلئے ضروری ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عوام دوست پالیسیوں کو سراہتا ہوں،بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، بھارت کے حمایت یافتہ عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،سیکیورٹی فورسز دشمن عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں،پاکستان کی علاقائی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں 18ویں نیشنل ورکشاپ آن بلوچستان کے شرکاء سے تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کی قربانیوں، حب الوطنی اور صوبے کی پاکستان کی ترقی میں کلیدی حیثیت کو اجاگر کیا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی عوامی فلاح پر مبنی ترقیاتی کوششوں، سول سوسائٹی کے مثبت کردار اور پروپیگنڈے کے مؤثر تدارک کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی سرپرستی میں تخریب کاری کو ناکام بنانے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری کے دفاع کے لیے سخت اور فیصلہ کن ردعمل پر زور دیا۔

  • ڈھاکہ میں اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات

    ڈھاکہ میں اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات

    ڈھاکہ: پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھارتی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جہاں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود بھی موجود تھے۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے خود آگے بڑھ کر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی نشست پر جا کر ان سے مصافحہ کیا، جسے سفارتی حلقوں میں خیرسگالی اور مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں مختصر مگر بامعنی گفتگو ہوئی۔دونوں رہنماؤں کے مابین خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا، یہ ملاقات سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر اس وقت ہوئی جب وہاں ان کی نماز جنازہ اور تعزیتی سرگرمیوں کے سلسلے میں غیر ملکی وفود کی آمد جاری تھی۔ ایاز صادق نے پاکستان کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا پیغام بھی پہنچایا۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی یہ ملاقات اگرچہ غیر رسمی تھی، تاہم اس کے سفارتی مضمرات اہم سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ ایسے مواقع پر ہونے والے رابطے مستقبل میں پارلیمانی اور علاقائی سطح پر بات چیت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔