Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سابق جج مظاہر نقوی کیخلاف  سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی 15 فروری تک ملتوی

    سابق جج مظاہر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی 15 فروری تک ملتوی

    سپریم کورٹ،جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کیخلاف شکایات کا معاملہ،چئیرمین سپریم جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں اجلاس ہوا،

    جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس منصور علی شاہ, چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم افغان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی اجلاس میں شریک تھے،سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس انتخابات کے بعد تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ روز عدالت میں شیر بانو کیس فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا،وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپیل دائر کر رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انتخابات سے متعلق اہم معاملے ہمارے سامنے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث کے معاون وکیل سے کہا کہ کونسل کی کاروائی ملتوی کرتے ہیں تو آپکو اعتراض تو نہیں،معاون وکیل نے کہا کہ ہمیں کونسل کی کاروائی ملتوی ہونے پر اعتراض نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت آفیہ شہر بانو کیس میں اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،وفاقی حکومت بھی چاہتی ہے کہ کچھ مہلت دی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم پھر کونسل کی کاروائی انتخابات کے بعد 15 فروری تک ملتوی کر دیتے ہیں،

    اٹارنی جنرل کا ریٹائرڈ ججز کیخلاف کارروائی چلانے پر پابندی کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان
    مظاہر نقوی کے وکیل خواجہ حارث کا جواب رجسٹرار نے پڑھ کر سنایا،خواجہ حارث کے جواب میں کہا گیا کہ کونسل صرف سپریم کورٹ کے جج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے ،ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی،خواجہ حارث صاحب لاہور سے آرہے ہیں،ابھی تک پہنچے نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک اور کیس بھی ہم نے سننا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف شہر بانو کیس کے فیصلے پر ہم اپیل دائر کر رہے ہیں ،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،12ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،12ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی نے اپنے کامیاب سفر کے ساتھ 12 برس مکمل کر لئے

    باغی ٹی وی کے 12 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،باغی ٹی وی کے بارہ برس مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نےبھی مبارکباد کے پیغام بھجوائے ہیں، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،

    قصور ،باغی ٹی وی کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹا گیا
    قصور (نامہ نگار طارق نوید سندھو ) باغی ٹی وی کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹا جس میں مسلم لیگ نون کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم این اے میاں سعد وسیم شیخ، مسلم لیگ نون کے ضلعی جنرل سیکرٹری و امیدوار برائے ایم پی اے مہر یاسر سعید، مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما میاں جنید وسیم شیخ، سینئر صحافی سعید احمد بھٹی، سینئر صحافی عباس علی بھٹی، چوہدری عمران جٹ لاہور بیکری والے، صفدرعلی سبحانی، چوہدری سلیم ایڈووکیٹ، عابد علی بھٹی ، عمران علی بھٹی رانا عرفان باو، ناصر خان لودھی چوہدری علی حمزہ اور قصور کی سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی، اس موقع پر مثبت صحافت کو فروغ دینے پر باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان کو خراج تحسین پیش کیا گیا.

    باغی ٹی وی کی 12 ویں سالگرہ،سیالکوٹ میں کیک کاٹا گیا
    باغی ٹی وی کی 12 ویں سالگرہ پر سیالکوٹ کے بیورو چیف شاہد ریاض نے آفس باغی ٹی وی و پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے دفتر میں کیک کاٹا ، تقریب میں شہر سیالکوٹ کے سینیئر صحافی برادری نے شرکت کی ، اس موقع پر پروفیشنل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے چیئرمین خرم میر ۔ بلال شیخ رپورٹر کے ٹی این نیوز۔ رانا جاوید ڈسٹرکٹ بیورو چیف قومی سفیر ۔ حواجہ ایمان بدر ڈسٹرکٹ رپورٹر قومی سفیر ۔ مدثر رتو سی ای او کیو این این نیوز پلس
    مرزا اسد بیگ 12 نیوز۔ حسنین راجہ ڈسٹرکٹ بیورو چیف ۔ ملک ساجد کیمرہ مین اور دیگر ساتھیوں نے شرکت کیا اور کیک کاٹا اور پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا
    baaghi tv

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 12برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 12 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    باغی ٹی وی کی گیارہویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر منتخب

    سپریم نیشنل برج چیمپئن شپ:باغی ٹی وی ٹیم کی شاندار کاکردگی

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    باغی ٹی وی کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، سینیٹر طلحہ محمود،روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مسلم لیگ ن کی رہنما،سابق رکن اسمبلی مہوش سلطانہ، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،ڈرامہ رائیٹر، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کی سینئر ناب صدر ریحانہ عثمانی،اپوا کی ممبر نرگس نور،سنی تحریک کے رہنما فہیم،المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا،مرکزی مسلم لیگ کےخوشاب سے امیدوار سید جوادہاشمی،لاہور سے صحافی جان محمد رمضان،دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

  • جسٹس اعجاز الاحسن  کا استعفیٰ صدر مملکت نے منظور کر لیا

    جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفیٰ صدر مملکت نے منظور کر لیا

    صدرِ مملکت ڈاکتر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفیٰ منظور کرلیا،

    صدرِ مملکت نے جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفیٰ وزیراعظم کی ایڈوائس پر منظور کیا،گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو ارسال کیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے اکتوبر میں چیف جسٹس آف پاکستان بننا تھا، جسٹس اعجازالاحسن نے آج سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی،جسٹس اعجاز الا حسن کا استعفیٰ کل ہی ایوان صدر کو موصول ہو گیا تھا

    سپریم کورٹ کے جج کے طور پر اپنے فرائض منصبی انجام دینے پر فخر ہے،اعجاز الاحسن کے استعفیٰ کی کاپی سامنے آ گئی
    جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں لاہور ہائیکورٹ کا جج اور پھر لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس رہا، مجھے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر اپنے فرائض منصبی انجام دینے پر فخر ہے،میں اب مزید بطور سپریم کورٹ کے جج کے کام جاری نہیں رکھنا چاہتا، میں اعجازالاحسن سپریم کورٹ کے جج کے طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں، آرٹیکل 206 کی شق 1 کے تحت فوری مستعفی ہو رہا ہوں،
    آرٹیکل 206 کی شق 1 کے تحت فوری مستعفی ہو رہا ہوں،

    جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفے کیساتھ ہی سپریم کورٹ میں اہم تبدیلیاں ،جسٹس منصور علی شاہ آئندہ چیف جسٹس ہونگے، جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی اہم تبدیلیاں ،جسٹس منصور علی شاہ سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بن گئے،جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن کے ممبر بن گئے،اعجاز الاحسن کے استعفیٰ کے بعد جسٹس منصور علی شاہ کی چیف جسٹس کی مدت 2 سال اور تین ماہ سے بڑھ کر تقریبا 3 سال 1 مہینہ ہوگئی ہے اب اعجاز الآحسن کے استعفے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ 25 اکتوبر 2024 سے لیکر 27 نومبر 2027 تک چیف جسٹس رہیں گے

    اعجاز الاحسن کے خلاف بھی ریفرنس دائر ہونے والا تھا،حامد میر کا انکشاف
    جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفیٰ پر سینئر صحافی و اینکر حامد میر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعجاز الاحسن کے استعفے کی وجہ دو ریفرنس جو انکے خلاف تیار ہوچکے ہیں ایک آج کل میں دائر ہونے ولا تھا جس میں 200 صفحات کے سپورٹنگ ڈاکومنٹس لگ چکے ہیں. اور دوسرا ریڈی ہو رہا ہے، فیصلہ لاسٹ ویک ہم خیال ججز کی میٹنگ اسلام آباد میں کیا گیا.اعجازالاحسن نے اس راہ فرار حاصل کی.

    رواں برس 9 جنوری کو جسٹس اعجازالاحسن نے جسٹس مظاہر علی نقوی کے خلاف کارروائی کے معاملہ پر خط لکھا تھا۔ خط میں تحریر کیا کہ کونسل کی جانب سے کارروائی روایات کے خلاف غیر ضروری جلد بازی میں کی جا رہی ہے، کونسل کو اپنے آئینی اختیارات نہایت احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے چاہئیں، کونسل ممبران کی جانب سے اختلاف کی صورت میں جج کے خلاف کارروائی مکمل غور و فکر کے بعد کرنی چاہئے۔جسٹس اعجازالاحسن نے مزید لکھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے بیٹے زیر کفالت نہیں جن کی جائیداد بھی الزامات میں شامل ہے، قانون کی نظر میں لگائے گئے الزامات برقرار نہیں رہ سکتے، 22 نومبر 2023ء کو میں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کے ساتھ اس کارروائی میں بیٹھنے سے انکار کیا تھا جس میں جسٹس سید مظاہر نقوی کو کونسل میں دائر کی گئی شکایات پر دوسرا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔خط میں تحریر کیا گیا جسٹس مظاہر نقوی کے معاملے میں نہ تو غورو فکر کیا گیا اور نہ ہی اس کی اجازت دی گئی، کونسل کے کارروائی چلانے کے انداز سے مکمل اختلاف کرتا ہوں، جسٹس مظاہر نقوی پر لگائے گئے الزامات بغیر مواد اور میرٹ کے برخلاف ہیں، جسٹس مظاہر نقوی پر لگائے گئے زیادہ الزامات جائیداد یا انکی ٹرانزیکشن کے حوالے سے ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے خط میں تحریر کیا کہ میں نے واضح کیا تھا کہ میں اس انکار کی وجوہات بعد میں دوں گا، میں یہ حق رکھتا ہوں کہ کسی بھی وقت شوکاز نوٹس جاری کرنے کے حوالے سے اپنی وجوہات دے سکوں.

    گزشتہ ماہ دسمبر میں سپریم کورٹ میں بینچز کی تشکیل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر تحفظات کا اظہار کیا تھاجس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جسٹس اعجاز الاحسن کو جوابی خط لکھا تھا،چیف جسٹس نے جوابی خط میں کہا کہ میرے دروازے اپنے تمام ساتھیوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، میں انٹر کام اور فون پر بھی ہمیشہ دستیاب ہوں، آپ نے اپنے تحفظات کے لیے نہ مجھے کال کی، نہ ملاقات کے لیے آئے، آپ کا خط ملنے پر فوری آپ کے انٹر کام پر رابطے کی کوشش کی لیکن جواب نہ ملامیں نے اپنے اسٹاف کو آپ کے ساتھ رابطے کا کہا، اسٹاف نے بتایا کہ آپ جمعہ دوپہر لاہور چلے گئے ہیں، ہمیں 6 دن کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی۔ ججز کمیٹی کے 3 اجلاس آپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملتوی ہوئے، ججز روسٹرز پر آپ کے اعتراضات ہیں تو نیا اجلاس بلا کر نئے بینچز کی تشکیل پر غور ہو سکتا ہے۔

    گزشتہ روز مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفی دیا تھا ,صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں  سپریم جوڈیشل کونسل میں انکے خلاف ریفرنس زیر سماعت ہے، آج بھی سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر علی اکبر نقوی کو نوٹس جاری کئے ہیں.

    میاں داود ایڈوکیٹ نے بھی سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی،درخواست میں استدعا کی گئی کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ دوسرے سینئر جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بنایا جائے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایت سننے والی کونسل سے الگ ہونا چاہیے،جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن اور مس کنڈکٹ کا ریفرنس جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے، آڈیو لیکس مقدمات کی فکسنگ اور غلام محمود ڈوگر کیس سے متعلق ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن اس بنچ کا حصہ تھے جس نے غلام محمود ڈوگر کیس سنا،قانونی اور اصولی طور پر غلام محمود ڈوگر کا مقدمہ سننے والا کوئی جج جوڈیشل کونسل کا ممبر نہیں رہ سکتا، جسٹس اعجاز الاحسن کا سپریم جوڈیشل کونسل میں ممبر رہنا آئین کے آرٹیکل 10 اے اور 9 کیخلاف ہے،جسٹس اعجاز الاحسن کا جوڈیشل کونسل کا حصہ رہنا مفادات کے ٹکراو اور شفافیت کے اصول کیخلاف ہے

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،

    کونسل کے ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،جسٹس امیرحسین بھٹی، جسٹس نعیم افغان بلوچ اور جسٹس سردار طارق مسعود شریک ہوئے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کوئی وکیل اجلاس میں پیش نہ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں بیٹھنا نہیں چاہتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفیٰ کا متن پڑھ کر سنایا، متن میں کہا گیا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نے استعفیٰ منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ استعفیٰ سے متعلق آئین کا آرٹیکل 179کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے اجلاس میں آرٹیکل 179بھی پڑھ کر سنایا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ آرٹیکل 209کو بھی استعفیٰ کے تناظر میں پڑھیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ کوئی جج مستعفی ہو جائے تو کونسل رولز کے مطابق اس کیخلاف مزید کارروائی نہیں ہو سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کونسل کی کارروائی میں مختصر وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے ایک ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں، ان کے بعد سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں، ہم جسٹس منصور سے انکی دستیابی کا پوچھ لیتے ہیں، اگر وہ دستیاب ہوئے تو کونسل کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

    وقفے کے بعد چیئرمین جوڈیشل کونسل کی سربراہی میں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو جسٹس منصور علی شاہ بطور ممبر کونسل اجلاس میں شریک ہوگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب معاونت کریں کیا معاملہ ختم ہوگیا،یہ استعفی کونسل کارروائی کے آغاز میں نہیں دیا گیا، کونسل کی جانب سے شوکاز جاری کرنے کے بعد استعفی دیا گیا،ممکن ہے درخواستیں غلط ہوں اور جج نے دباؤ پر استعفیٰ دیا ہو،جج کی جانب سے دباؤ پر استعفی دینے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا،یقینی طور پر جج کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی تو ختم ہو گئی،استعفی دینا جج کا ذاتی فیصلہ ہے، ہمارے سامنے غیر معمولی صورتحال ہے، جج کی برطرفی کا سوال اب غیر متعلقہ ہو چکا ہے، ابھی تک کونسل نے صدر مملکت کو صرف رپورٹ بھیجی تھی اگر الزامات ثابت ہوجاتے تو کونسل صدر مملکت کو جج کی برطرفی کیلئے لکھتی.

    ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے،ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟اپنی تباہ شدہ ساکھ کی سرجری کیسے کریں گے؟کیا آئین کی دستاویز صرف ججز یا بیوروکریسی کیلئے ہے؟آئین پاکستان عوام کیلئے ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوامی اعتماد کا شفافیت سے براہ راست تعلق ہے، کونسل کے سامنے سوال یہ ہے کہ جج کے استعفی کا کاروائی پر اثر کیا ہوگا،جج کو ہٹانے کا طریقہ کار رولز آف پروسجر 2005 میں درج ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثاقب نثار کے معاملے میں تو کاروائی شروع نہیں ہوئی تھی جبکہ اب ہو چکی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے جس کا سامنا سپریم جوڈیشل کونسل کر رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل رائے نہیں دے سکتی، اگر کونسل میں سے جج کا کوئی دوست کاروائی کے آخری دن بتا دے کہ برطرف کرنے لگے اور وہ استعفی دے جائے تو کیا ہوگا؟اٹارنی جنرل کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کاروائی کے دوران جج کا استعفی دے جانا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہاں اپنی خدمت کیلئے نہیں بیٹھے،ہم یہاں اپنی آئینی زمہ داری ادا کرنے کیلئے بیٹھے ہیں،اگر ایک چیز سب سیکھ لیں تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے،عدالت عظمٰی سمیت ادارے عوام کو جوابدہ ہیں،

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی فوری ختم نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا،سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جج پر الزام لگے اور استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں اور تمام مراعات لیتے رہیں ؟ نہ کوئی احتساب نہ کوئی جوابدہی ؟ یہ ادارے کی عزت کا سوال بھی ہے، صرف استعفی دینے سے کیا معاملہ ختم ہوگیا لوگوں کا حق ہے کہ وہ جائیں سچ کیا ہے؟ اگر مظاہر نقوی کے وکلاء نے وقت مانگا تو شکایت گزاروں کو سنا جائے گا،جسٹس ر مظاہر نقوی کل خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہو سکتے ہیں،جسٹس مظاہر نقوی کو استفعی کے باوجود بھی حق دفاع بھی دے دیا گیا، جسٹس (ر) سید مظاہر علی اکبر نقوی کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کرے گا،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں،کیس کی سماعت کل صبح ہو گی

    قبل ازیں الیکشن کمیشن کی بلے کے نشان کیخلاف اپیل پر اعتراض عائد کر دیا تھا سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرتے ہوئے اپیل واپس کر دی تھی،،رجسٹرار آفس نے اپیل کیساتھ منسلک دستاویزات پڑھے جانے کے قابل ہونے کا اعتراض عائد کیا،

    تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر کر دی
    دوسری جانب تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان بلے کی بحالی کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی، تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری نہیں کیا، الیکشن کمیشن کا یہ اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے،توہینِ عدالت کی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر، سیکریٹری اور اراکینِ الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    قبل ازیں ،بلے کا انتخابی نشان، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا تھاالیکشن کمیشن نےپشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن حکام نے اجلاس میں کیا ،اجلاس میں کمیشن کے چاروں ممبران اورسپیشل سیکرٹر نے شرکت کی

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی پارٹی انتخابات اور بلے کا نشان واپس دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موصول ہو گیا، فیصلے کے متن میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے،الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں تھا،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے متعلق سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پر جاری کرے، پی ٹی آئی بلے انتخابی نشان کی حقدار ہے،

    تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ تحریک انصاف کی لیگل ٹیم نے پشاور ہائیکورٹ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • مولانا فضل الرحمان اپنی مرضی سے افغانستان گئے، حکومتی ترجمانی نہیں کر رہے، دفتر خارجہ

    مولانا فضل الرحمان اپنی مرضی سے افغانستان گئے، حکومتی ترجمانی نہیں کر رہے، دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پہلی مرتبہ گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی کانفرنس کا اسلام آباد میں انعقاد ہوا ،اس میں 70 سے زائد وفود نے شرکت کی،

    ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ نگران وزیر خارجہ نے افتتاحی تقریر میں مستقبل کے وبائی امراض کے خلاف عالمی شراکت داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی،کانفرنس کا اختتام آج اسلام آباد اعلامیہ کے ساتھ ہو گا ،پاکستان نے امریکہ کی جانب سے خصوصی تشویش والے ممالک میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ،پاکستان جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ کے فلسطینی عوام کے حق میں اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کو سراہتا ہے ،پاکستان اس حوالے سے جنوبی افریقہ کی حمایت کرتا ہے ،ہم غزہ میں فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کے قتل عام کو رکوانے کا مطالبہ کرتے ہیں ،ہم فلسطین کے دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں ،ایسا حل جس میں فلسطین 1967 سے قبل کی سرحدوں پر القدس بطور دارالحکومت ہو ،

    ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ستر برس سے بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت سے انکار کر رہا ہے ،وزیر اعظم انوارلحق کاکڑ جلد عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے ،مولانا فضل الرحمان کا دورہ افغانستان حکومت پاکستان یا دفتر خارجہ کی جانب سے نہیں ہے،مولانا فضل الرحمان کو دورہ پر جانے سے پہلے دفتر خارجہ نے بریفنگ دی تھی، مولانافضل الرحمان اپنے مرضی سے گئے ہیں حکومت پاکستان کی ترجمانی نہیں کررہے ،افغان وفد کے ساتھ بارڈر سکیورٹی سے متعلق بات چیت ہوئی، ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مزاکرات نہیں ہو رہے، پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروپ اور ٹی ٹی پی سے نمٹنے کیلئے تیار ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • نومئی کے 12 مقدمے،عمران خان کو جوڈیشل کر دیا گیا

    نومئی کے 12 مقدمے،عمران خان کو جوڈیشل کر دیا گیا

    اڈیالہ جیل: بانی چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے 12 مقدمات کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی

    دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی عدالت پیش ہوئے،تفتیشی افسران کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے مزید 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی ،عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کے مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز آصف نے کی

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائیکورٹ سے نو مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، شاہ محمود قریشی ، پرویز الہیٰ بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، مراد سعید، حماد اظہر سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما روپوش ہیں،

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے، نقول فراہمی اور ان کیمرہ سماعت کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، سکندر ذولقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،سائفر کیس میں ایف آئی اے نے جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ کی خدمات حاصل کرلی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کیس سے متعلق تمام آفیشل دستاویزات عدالت کو جمع کریں گے، ٹرائل کورٹ نے کچھ گواہوں کے لیے سماعت ان کیمرہ کرائی تھی، گواہوں کے بیانات کی سرٹیفائیڈ کاپیاں درخواست گزار وکلاء کے پاس موجود ہیں، اس عدالت کے ڈویژن بینچ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرایا گیا تھا، 14 دسمبر کا ٹرائل کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا تو دوبارہ گواہان کا بیان قلمبند کرتے ہیں، اگر اس معاملے پر میرا کولیگ سلمان اکرم راجہ متفق ہے تو درخواست کو نمٹا دیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے دو دفعہ غلط فیصلہ کیا، عدالت نے کہا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، چلیں نئے سرے سے اس کیس کو شروع کریں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاسفندیار ولی کیس کا حوالہ دیا، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل دوبارہ وہاں جانا چاہیے جہاں سے غیر قانونی فیصلہ کیا گیا تھا، عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ چار گواہوں کے بیانات ان کیمرہ قلمبند کرائے گئے تھے، سول لاء، کریمنل لاء سے بہت مختلف ہیں، عدالت نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے سائڈ کے ترجیحات یا مجبوریاں بھی دیکھ لیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تمام 13 گواہان کے بیانات قلمبند کرانے کو دوبارہ تیار ہیں، ایف آئی اے پراسیکیوشن نے کہا کہ اس کیس میں 25 گواہان ہیں جن میں 12 کے بیانات ابھی رہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں حکم امتناعی ختم کردیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر فیصلہ محفوظ کرلیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 14 دسمبر کے آرڈر کے بعد کی کاروائی کالعدم قرار دی جائے ، انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ 14 دسمبر کا آرڈر درست نہیں تھا،اٹارنی جنرل نے 14 دسمبر کے بعد کی کاروائی از سر نو کرنے کی یقین دھانی کروا دی

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر تھی اور ان کے خلاف آج 11 جنوری کو دن 1 بجے سماعت ہونا تھی اب استعفی کے بعد کاروائی نہیں ہو سکے گی۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیر سماعت ہے جس سلسلے میں انہوں نے کونسل کو اپنا تفصیلی جواب جمع کرایا تھا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوایا جس میں کہا گیا ہےکہ میرے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں، میں نے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیئے،

    غلطی سے غلط تاریخ لکھ دی، استعفیٰ منظور کیا جائے، جسٹس مظاہر نقوی کا صدر مملکت کو مراسلہ
    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفے پر غلط تاریخ درج ہونے پر ان کے سیکرٹری نے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ بھیج دیا جس میں کہا گیا کہ تاریخ غلطی سے غلط لکھی گئی، استعفیٰ منظور کیا جائے،جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے استعفے پر تاریخ کی جگہ 2024 کی جگہ 10 جنوری 2023 لکھا تھا،تا ہم اب جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے سیکرٹری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ روانہ کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ تاریخ غلطی سے 2023 لکھی گئی، استعفے پر غیردانستہ طورپر 2024 کے بجائے 2023 لکھا گیا،تاریخ 2024 تصور کرتے ہوئے استعفیٰ منظور کیا جائے

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی میں بڑی غلطی سامنے آگئی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی پر سال 2023 لکھا ہوا ہے،استعفیٰ پر تاریخ دس جنوری 2023 لکھی ہوئی ہے جبکہ تاریخ 10 جنوری 2024 لکھی ہونی چاہئے تھے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے سٹاف کا ٹائپ کردہ استعفی سائن کیا،بطور جج انہوں نے اپنے استعفی کا متن بھی نہ پڑھا بلکہ ویسے ہی دستخط کر دیئے،استعفیٰ کی کاپی صدر مملکت اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھجوائی گئی ہے،استعفی پر تاریخ درست نہیں ہے، جہاں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے دستخط ہیں وہاں بھی تاریخ کا اندارج نہیں ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ اعتراف جرم قوم کی جیت،سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، میاں داؤد ایڈوکیٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والے وکیل میاں داؤد ایڈوکیٹ کا ردعمل سامنے آیاہے، میاں داؤد ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ کرپٹ ترین جج جسٹس مظاہر نقوی کا استعفی پوری قوم اور پاکستان کے وکلاء کی جیت ہے تاہم ابھی منزل باقی ہے۔ جسٹس نقوی کا استعفی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کرپٹ جج جب رنگ ہاتھوں پکڑا جائے تو استعفی دے کر گھر چلاجائے اور عوام کے پیسوں پر پنشن لیکر عیاشی کرتا رہے،پہلی بار ہوا کہ سپریم کورٹ کے جج کا احتساب ہوا، ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی آگے بڑھی، میری شکایت کو متنازعہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن ٹھوس شواہد تھے، جسٹس مظاہر نقوی کے پاس دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا، مظاہر نقوی کا استعفیٰ ان کا اعتراف جرم ہے،ہم اس استعفیٰ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،انکی پنشن بند ہونی چاہئے، ریفرنسز چلنے چاہئے لوٹی ہوئی دولت برآمد ہونی چاہئے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ "استعفیٰ کی منظوری کافی نہیں ہو گی۔ اثاثوں کی چھان بین سیاستدان کیطرح جج صاحب اور انکی آل اولاد سب کی ہونے چاہئیے ۔ ترازو پکڑنے والے ہاتھ کا حساب آخرت میں تو اللہ کی صوابدید ہے۔ مگر دنیا میں نہیں کرینگے تو ہم سب برابر کے گناہ گار ہونگے”

    قبل ازیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ،جسٹس مظاہر نقوی نے خود پر عائد الزامات کی تردید کر دی، جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کیخلاف معلومات لے سکتی ہے کسی کی شکایت پر کارروائی نہیں کر سکتی، سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولز کی توہین کے مترادف ہیں، رولز کے مطابق کونسل کو معلومات فراہم کرنے والے کا کارروائی میں کوئی کردار نہیں ہوتا،

    میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،جسٹس مظاہر نقوی
    جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل کی بطور پراسیکیوٹر تعیناتی پر بھی اعتراض کر دیا اور کہا کہ کونسل میں ایک شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل بھی ہے،اٹارنی جنرل شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ہیں،بار کونسلز کی شکایات سیاسی اور پی ڈی ایم حکومت کی ایماء پر دائر کی گئی ہیں، پاکستان بار کی 21فروری کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،شہباز شریف سے ملاقات کے روز ہی پاکستان بار کونسل نے شکایت دائر کرنے کی قرارداد منظور کی،شوکاز کا جواب جمع کرانے سے پہلے ہی گواہان کو طلب کرنے کا حکم خلاف قانون ہے، یہ الزام سراسر غلط ہے کہ مجھ سے کوئی بھی شخص باآسانی رجوع کر سکتا ہے، غلام محمود ڈوگر کیس خود اپنے سامنے مقرر کر ہی نہیں سکتا تھا یہ انتظامی معاملہ ہے، غلام محمود ڈوگر کیس میں کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا تھا، لاہور کینٹ میں خریدا گیا گھر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ ہے، ایس ٹی جونز پارک میں واقع گھر کی قیمت کا تخمینہ ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا گیا تھا، اختیارات کا ناجائز استعمال کیا نہ ہی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا،گوجرانوالہ میں خریدا گیا پلاٹ جج بننے سے پہلے کا ہے اور اثاثوں میں ظاہر ہے، زاہد رفیق نامی شخص کو کوئی ریلیف دیا نہ ہی انکے بزنس سے کوئی تعلق ہے،میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،دونوں بیٹے وکیل اور 2017 سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں،جسٹس فائز عیسی کیس میں طے شدہ اصول ہے کہ بچوں کے معاملے پر جوڈیشل کونسل کارروائی نہیں کر سکتی، پارک روڈ اسلام آباد کے پلاٹ کی ادائیگی اپنے سیلری اکائونٹ سے کی تھی،الائیڈ پلازہ گجرا نوالہ سے کسی صورت کوئی تعلق نہیں ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایات خارج اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے یا مسترد ہونے پر الیکشن ٹریبونل میں فیصلوں کا آخری روزہے۔ ریٹرننگ افسران امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست کل جاری کریں گے ،12جنوری کو امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے،12جنوری کو ہی امیدواروان کی حتمی فہرست جاری کردی جاۓ گی،13جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے جائیں گے

    این اے 130 ، نواز شریف کے خلاف اپیل خارج،کاغذات نامزدگی درست قرار
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کردی گئی،الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنادیا اور نواز شریف کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیے،نواز شریف کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی کے خلاف الیکشن اپیل ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا گیا،نواز شریف کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ اقامہ میں نا اہل ہونے کے بعد نواز شریف الیکشن لڑنے کے اہل نہ تھے،آر او نے غیر قانونی انکے کاغذات نامزدگی منظور کیے،

    کاغذات نامزدگی،مریم کیخلاف اپیل خارج، جمشید چیمہ،مسرت جمشید کے کاغذات منظور،رانا ثناء اللہ کے مد مقابل پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات مسترد
    فیصل اباد سے سابق وفاقی وزیر،ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کے مدمقابل امیدوار تحریک انصاف ڈاکٹر نثار جٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،اوکاڑہ: پی پی190 سے مہر عبدالستار کی بیگم شاہرہ بی بی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پی پی 190 سے رہنما پاکستان تحریک انصاف مہر عبدالستار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،

    مریم نواز کے حلقہ این اے 119سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیدیئے ،پی ٹی آئی امیدوار ندیم شیروانی نے مریم نواز کے کاغذات منظوری کے خلاف اپیل دائر کی تھی

    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ ،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ایڈووکیٹ آصف شہزاد ساہی امیدوار کی طرف سے پیش ہوئے،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ نے این اے 121 اور پی پی 153 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،
    دونوں میاں بیوی پر اشتہاری ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا

    پرویز الٰہی کے 4صوبائی اور دو قومی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،پرویز الٰہی کے این اے 64گجرات، پی پی32,34, این اے69منڈی بہاوالدین ، پی پی42منڈی ، این اے59تلہ گنگ، پی پی23 تلہ گنگ سے کاغذات مسترد ہوئے تھے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنایا،مونس الہٰٗی کے دوقومی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج ہو گئی،مونس الہی کے این اے64گجرات،پی پی32,34 این اے69منڈی بہاوالدین کاغذات مسترد ہوئے تھے

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا
    حماد اظہر نے ٹرببونل کے فیصلے کے خلاف درخواست داٸر کر دی ، درخواست میں کہا کہ ریٹرننگ افسر اور ٹریبونل نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے ،قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود کاغذات مسترد کیے گئے،عدالت کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے ، حماد اظہر نے حلقہ این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،

    ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات پی پی 56 سے منظور
    لاہور ہائیکورٹ: ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن ایپلیٹ بنچ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،ایپلیٹ بنچ نے حلقہ پی پی 56 نارووال سے مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے.

    کاغذات نامزدگی مسترد،شاہ محمود قریشی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی کی نامنظوری ہائیکورٹ میں چیلنج کردی، شاہ محمود قریشی کے پی پی 218، این اے 151 اور 150 سے کاغذات مسترد کیے گئے تھے،شاہ محمود قریشی نے تین حلقوں سے کاغذات مسترد کیے جانے کے اقدام پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ شاہ محمود کی درخواست پر سماعت کرے گا

    صدر عارف علوی کے بیٹے سمیت تحریک انصاف کے 4 امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت
    سندھ ہائیکورٹ، این اے 241 سے تین پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنادیا،عدالت نے خرم شیر زمان،مزمل اسلم اور اواب علوی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ،اپیلیٹ ٹربیونل نے بھی اعتراض کنندہ کے اعتراضات مسترد کردئیے تھے ،تینوں امیدواروں کے خلاف محمد دوست نے درخواستیں دائر کررکھی تھیں، دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار محمد دوست کون ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دوست محمد محب وطن پاکستانی ہے، ان کا مقصد کرپٹ لوگوں کو اسمبلی میں جانے سے روکنا ہے،جس پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ” اچھا پھر تو ہماری بھی ان سے ملاقات سے کروایئےگا” دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے این اے 236 سے عالمگیر خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے تماشا لگا رہے ہیں، کس طرح الیکشن کروارہے ہیں،کراچی NA-236 سے عالمگیر خان کے کاغذات نامزدگی ٹربیونل بینچ نے منظور کر لیے.

    حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    جلال پور بھٹیاں: حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغزات نامزدگی منظور ہو گئے، حلقہ PP-37سے محمد آصف چھٹہ کے کاغزات نامزدگی آر او نے مسترد کیے تھے ،لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ سنادیا حلقہ PP-37سے آصف چھٹہ کی اپیل منظورہو گئی،

    پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور
    لاہور ہائیکورٹ اپیلٹ ٹریبونل نے تحریک انصاف پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور کرلیے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریٹرننگ افسر کے اعتراض مسترد کردئیے،عدالت نے علی امتیاز وڑایچ کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے دیا،

    حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 سے پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چنیوٹ کے نوجوان محمد ثاقب خان کے قومی اسمبلی حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کیجانب سے مسترد کرنیکے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹربیونل نے اپیل پر سماعت کے بعد آر او کےاعتراضات ختم کردیئے۔ محمد ثاقب خان کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،محمد ثاقب خان کی طرف سے نامور وکیل میاں اشفاق علی نے الیکشن اپیل کی پیروی کی

    کاغذات نامزدگی مسترد،صنم جاوید کے والد نے لاہور ہائیکورٹ میں کی درخواست دائر
    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،صنم جاوید کے والد نے ٹریبونل کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریبونل اور آر او نے قانون کے منافی فیصلہ سنایا ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ،
    پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور کے پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،ٹریبونل کے جج جسٹس احمد ندیم نے اپیل منظور کرلی ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے قانون کے منافی کاغذات مسترد کیئے، منظور کئے جائیں،

    اعظم خان نیازی کی پی پی 160 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کرلی گئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ٹریبونل کے جج جسٹس محمد طارق ندیم نے اپیل پر سماعت کی

    فیصل آباد سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر حافظ ممتاز کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورکر لئے گئے،این اے 98 پی ٹی آئی آئی امیدوار حافظ ممتاز احمد کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،شانگلہ سوات سے امیدوار تحریک انصاف عبدالمنعم کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورہو گئے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ