Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے پر فیصلوں‌کا آخری دن

    عام انتخابات،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے یا مسترد ہونے پر الیکشن ٹریبونل میں فیصلوں کا آخری روزہے۔ ریٹرننگ افسران امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست کل جاری کریں گے ،12جنوری کو امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے،12جنوری کو ہی امیدواروان کی حتمی فہرست جاری کردی جاۓ گی،13جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے جائیں گے

    این اے 130 ، نواز شریف کے خلاف اپیل خارج،کاغذات نامزدگی درست قرار
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کردی گئی،الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنادیا اور نواز شریف کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیے،نواز شریف کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی کے خلاف الیکشن اپیل ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا گیا،نواز شریف کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ اقامہ میں نا اہل ہونے کے بعد نواز شریف الیکشن لڑنے کے اہل نہ تھے،آر او نے غیر قانونی انکے کاغذات نامزدگی منظور کیے،

    کاغذات نامزدگی،مریم کیخلاف اپیل خارج، جمشید چیمہ،مسرت جمشید کے کاغذات منظور،رانا ثناء اللہ کے مد مقابل پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات مسترد
    فیصل اباد سے سابق وفاقی وزیر،ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کے مدمقابل امیدوار تحریک انصاف ڈاکٹر نثار جٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،اوکاڑہ: پی پی190 سے مہر عبدالستار کی بیگم شاہرہ بی بی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پی پی 190 سے رہنما پاکستان تحریک انصاف مہر عبدالستار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،

    مریم نواز کے حلقہ این اے 119سے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیدیئے ،پی ٹی آئی امیدوار ندیم شیروانی نے مریم نواز کے کاغذات منظوری کے خلاف اپیل دائر کی تھی

    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ ،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے گئے،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ایڈووکیٹ آصف شہزاد ساہی امیدوار کی طرف سے پیش ہوئے،جمشید اقبال چیمہ اور مسرت جمشید چیمہ نے این اے 121 اور پی پی 153 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،
    دونوں میاں بیوی پر اشتہاری ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا

    پرویز الٰہی کے 4صوبائی اور دو قومی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،پرویز الٰہی کے این اے 64گجرات، پی پی32,34, این اے69منڈی بہاوالدین ، پی پی42منڈی ، این اے59تلہ گنگ، پی پی23 تلہ گنگ سے کاغذات مسترد ہوئے تھے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلہ سنایا،مونس الہٰٗی کے دوقومی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج ہو گئی،مونس الہی کے این اے64گجرات،پی پی32,34 این اے69منڈی بہاوالدین کاغذات مسترد ہوئے تھے

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا
    حماد اظہر نے ٹرببونل کے فیصلے کے خلاف درخواست داٸر کر دی ، درخواست میں کہا کہ ریٹرننگ افسر اور ٹریبونل نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے ،قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود کاغذات مسترد کیے گئے،عدالت کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے ، حماد اظہر نے حلقہ این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،

    ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات پی پی 56 سے منظور
    لاہور ہائیکورٹ: ن لیگی رہنما دانیال عزیز کی بیوی مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن ایپلیٹ بنچ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،ایپلیٹ بنچ نے حلقہ پی پی 56 نارووال سے مہناز اکبر عزیز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے.

    کاغذات نامزدگی مسترد،شاہ محمود قریشی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی کی نامنظوری ہائیکورٹ میں چیلنج کردی، شاہ محمود قریشی کے پی پی 218، این اے 151 اور 150 سے کاغذات مسترد کیے گئے تھے،شاہ محمود قریشی نے تین حلقوں سے کاغذات مسترد کیے جانے کے اقدام پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ شاہ محمود کی درخواست پر سماعت کرے گا

    صدر عارف علوی کے بیٹے سمیت تحریک انصاف کے 4 امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت
    سندھ ہائیکورٹ، این اے 241 سے تین پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنادیا،عدالت نے خرم شیر زمان،مزمل اسلم اور اواب علوی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ،اپیلیٹ ٹربیونل نے بھی اعتراض کنندہ کے اعتراضات مسترد کردئیے تھے ،تینوں امیدواروں کے خلاف محمد دوست نے درخواستیں دائر کررکھی تھیں، دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار محمد دوست کون ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ دوست محمد محب وطن پاکستانی ہے، ان کا مقصد کرپٹ لوگوں کو اسمبلی میں جانے سے روکنا ہے،جس پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ” اچھا پھر تو ہماری بھی ان سے ملاقات سے کروایئےگا” دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے این اے 236 سے عالمگیر خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے تماشا لگا رہے ہیں، کس طرح الیکشن کروارہے ہیں،کراچی NA-236 سے عالمگیر خان کے کاغذات نامزدگی ٹربیونل بینچ نے منظور کر لیے.

    حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    جلال پور بھٹیاں: حلقہ PP-37سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغزات نامزدگی منظور ہو گئے، حلقہ PP-37سے محمد آصف چھٹہ کے کاغزات نامزدگی آر او نے مسترد کیے تھے ،لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ سنادیا حلقہ PP-37سے آصف چھٹہ کی اپیل منظورہو گئی،

    پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور
    لاہور ہائیکورٹ اپیلٹ ٹریبونل نے تحریک انصاف پی پی 156 سے علی امتیاز ورائچ کی اپیل منظور کرلیے،جسٹس احمد ندیم ارشد نے ریٹرننگ افسر کے اعتراض مسترد کردئیے،عدالت نے علی امتیاز وڑایچ کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے دیا،

    حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 سے پی ٹی آئی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور
    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چنیوٹ کے نوجوان محمد ثاقب خان کے قومی اسمبلی حلقہ این اے93 اور صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی97 کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کیجانب سے مسترد کرنیکے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹربیونل نے اپیل پر سماعت کے بعد آر او کےاعتراضات ختم کردیئے۔ محمد ثاقب خان کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،محمد ثاقب خان کی طرف سے نامور وکیل میاں اشفاق علی نے الیکشن اپیل کی پیروی کی

    کاغذات نامزدگی مسترد،صنم جاوید کے والد نے لاہور ہائیکورٹ میں کی درخواست دائر
    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،صنم جاوید کے والد نے ٹریبونل کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریبونل اور آر او نے قانون کے منافی فیصلہ سنایا ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،صنم جاوید کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ،
    پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور کے پی پی 166 سے خالد محمود گجر کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،ٹریبونل کے جج جسٹس احمد ندیم نے اپیل منظور کرلی ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے قانون کے منافی کاغذات مسترد کیئے، منظور کئے جائیں،

    اعظم خان نیازی کی پی پی 160 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کرلی گئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ٹریبونل کے جج جسٹس محمد طارق ندیم نے اپیل پر سماعت کی

    فیصل آباد سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر حافظ ممتاز کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورکر لئے گئے،این اے 98 پی ٹی آئی آئی امیدوار حافظ ممتاز احمد کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،شانگلہ سوات سے امیدوار تحریک انصاف عبدالمنعم کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورہو گئے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،درخواست گزار وکلاء ایمان مزاری، عطاء اللہ کنڈی اور ہادی چھٹہ عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 68 افراد کو بازیاب کرایا گیا،بازیاب افراد کی لسٹ میڈم ایمان مزاری کے ساتھ شئیر کی گئی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آخری سماعت پر انہوں 28 افراد کی بازیابی کرنے کا کہا تھا،ایمان مزاری نے کہا کہ اب تک 56 افراد کو بازیاب کرلیا گیا جبکہ 12 تاحال لاپتہ ہیں،عدالت نے وزارت داخلہ کو متاثرہ لوگوں کے لواحقین سے ملاقات کا کہا تھا،وزارت داخلہ کا متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات افسوناک رہی،اٹارنی جنرل آفس یا کسی اور آفس سے اب تک کوئی خاص پراگریس نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے مطابق 15 تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے مطابق 12 لاپتہ ہیں،ایمان مزاری نے کہا کہ درخواست گزار فیروز بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ انکو ریلیز کردیا گیا،آج صبح فیروز بلوچ کے فیملی سے بات ہوئی وہ تاحال لاپتہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ ان لوگوں کو ریلیز کردیا یا گھر پہنچایا؟ وفاقی حکومت کا undertaking دینے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں؟کیا ہم بھی وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع سے بیان حلفی لیں؟ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ و دیگر بڑے دفاتر یہاں بیان حلفی دیں کہ آئندہ کوئی لاپتہ نہیں ہوگا،ریاست کے اداروں کو قانون کی پاسداری پر یقین کرنا چاہیے،ریاستی ادارے عدالتوں پر یقین نہیں کرتے اسی لیے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے،ہمارے سامنے پولیس کا ادارہ ریاست کا فرنٹ فیس ہے،

    ایمان مزاری نے سابق نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ناروا سلوک کی شکایت کی،اور کہا کہ نگران وزیر داخلہ نے خواتین کو کہا اگر آپ کے پیارے کو مارا گیا تو آپ کو بتا دیں گے،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسکے اداروں کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہو گا،ریاست اور اسکے ادارے رول آف لاء کو نہیں مانتے اس لیے جبری گمشدگیاں ہوتی ہیں،پولیس ریاست کا فرنٹ فیس ہے، دوسرے ادارے فرنٹ فیس نہیں ہیں،کیا مشکل ہے کہ پولیس ایک ضمنی لکھ کر انٹیلی جنس کے افسروں کو ملزم بنا دے گی،وقت آئے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پراسیکیوٹ ہونگے، اگر تھانے پر چھاپہ ماریں اور کوئی بندہ بازیاب ہو تو پولیس والے کی تو نوکری چلی جاتی ہے،دوسری طرف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے متعلق صورتحال بالکل مختلف ہے،میرے سامنے کوئی مسنگ بلوچ بازیابی کے بعد نہیں آیا جس سے میں سوال کر سکوں؟جو لوگ بازیاب ہوئے پتہ نہیں وہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں، انکی صحت کی صورتحال کیا ہوگی،مسنگ پرسنز کا تصور صرف ہمارے جیسے ملکوں میں ہی ملتا ہے باقی ملکوں میں نہیں، آج آپ نہ کریں لیکن ایک وقت میں اعلی ترین عہدیدار بھی پراسیکیوٹ ہونگے،دہشتگردوں کا ٹرائل بھی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ہوتا ہے،کیا امر مانع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کا ٹرائل بھی انہی عدالتوں میں ہو، بلوچستان میں اپنی انسداد دہشتگردی عدالتیں فعال کریں ٹرائل ہو سکتا ہے،سسٹم پر اعتماد کریں، کیا امر مانع ہے کہ دہشتگرد کا ٹرائل نہ ہو سکے اور وہ بری ہو جائے،یہ درخواست گزار بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ دہشتگردوں کو پروٹیکٹ کریں،ریاست کا سپاہی مرتا ہے تو آپ ان کے لیے شہدا پیکج کا اعلان کرتے ہیں،جو لوگ ریاست کے لیے قربانی دیتے ہیں وہ پولیس ہو،فوج ہو یا کوئی بھی شہری ہو،حق سب کا ہے،مغرب میں تو بڑے سےبڑے قاتل کو بھی ضمانت دیتے ہیں یہاں ہم نہیں کرتے،تین تین سال تک ہم ٹرائل مکمل نہیں کرتے،جن لوگوں کا لسٹ آپ نے مہیا کیا، ان میں کتنے لوگ ہیں جن کے خلاف کریمنل کیسسز ہیں؟،اس سائڈ کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کس کے خلاف مقدمہ درج کریں یا کسی عدالت پیش کریں،مسلہ یہ ہے کہ جو لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں ان کے خاندان والے انکو پھر کبھی دیکھتے ہی نہیں،

    وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ فیملیز کے مطابق سی ٹی ڈی اٹھاتے ہیں اور بعد میں مقدمہ درج ہوتا ہے،سی ٹی ڈی نے جن لوگوں کو اٹھایا اور عدالتوں میں پیش کیا وہ بری ہوگئے، عدالت نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک اس قسم کے معاملات کو برداشت نہیں کرسکتا،بلوچستان سے لوگ اسلام آباد آئے ہیں اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے، نیشنل پریس کلب کے باہر اگر یہ بیٹھے ہیں تو انکو سہولیات مہیا کرنا ہوگی،ایمان مزاری نے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کے زریعے مظاہرین کو دھمکایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ کیا ہے ؟ ایمان مزاری نے کہا کہ یہ حکومتی سرپرستی میں ایک سکواڈ ہے جو لوگوں کو مارتے ہیں،اٹارنی جنرل نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے دھمکیوں پر آپ درخواست دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ نام سے ہی سمجھ آتا ہے،ان بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں، یہ پاکستانی ہیں،ہم نے ان کو دیکھنا ہیں کیونکہ ہمارے سامنے کوئی لاپتہ شخص کھڑا نہیں،ان نو سالوں میں میرے سامنے ایک بازیاب شخص آیا تھا جس نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے مجھے اٹھایا تھا،ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں آپکی یہ بیان حلفی جمع کرائی گئی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں بیانی حلفی ابھی جمع نہیں ہوئی مگر جلد جمع کریں گے،عدالت نے کہا کہ وزارتوں کے لوگ موجود ہیں یہ چیزیں پاکستان کی بہت بڑی بدنامی بنی ہے، ہم معاشی مسائل کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کررہے ہیں، جن 12 لاپتہ افراد کی لسٹ اٹارنی جنرل کو دیں اور آپ نے دیکھنا ہے،

    عدالت نے سمی دین بلوچ سے استفسار کیا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے؟ سمی دین بلوچ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر وزیراعظم نے فواد حسن فواد کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی،کمیشن نے بتایا کہ جو لوگ دس سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں انکا کچھ نہیں بتاسکتے،عدالت نے کہا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال ہو یا پندرہ سال سے انکی معلومات حکومت فراہم کریگی،اگر کوئی زندہ ہے یا مرے ہیں حکومت اپکو معلومات فراہم کریں گی، سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے والدین مرتے وقت بھی اپنے لاپتہ بچوں کو یاد کرتے ہیں،ہم اس چیز سے نکلنا چاہتے ہیں،ابھی ایک شخص نو سال بعد بازیاب ہوا مگر ان کے گھر والوں سے کہا گیا کہ کسی سے بات نہیں کرنی،ہمیں وفاقی وزرا نے بھی کہا تھا کہ اگر آپ کے لاپتہ افراد سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں کریں گے، عدالت نے کہا کہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لی ہے اسی کا دیکھا جائے گا، عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دونوں مظاہرین کے سیکورٹی انتظامات فراہمی کی ہدایت کر دی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے، وزیراعظم، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریز کو بیان حلفی دینا ہو گا کہ جبری گمشدگی کی ہے ، نہ آئندہ ہو گی،جو افراد لاپتہ ہیں چاہے دس سال سے زائد ہوگیا انہیں بتانا پڑے گا، وہ افراد زندہ ہیں یا مر گئے بتانا پڑے گا

    بلوچ خاتون نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں امید دے دیں ورنہ شاید ہم کبھی مڑ کر واپس نہ آئیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن پر الزام ہے انہی سے ہم نے کہنا ہے ،بلوچ خاتون نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے پیاروں سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں مچائیں گے،

    عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

     ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    بلے کا انتخابی نشان، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست واپس لےلی

    سپریم کورٹ،انتخابی نشان بلے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست ہوئی

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، چئیرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر روسٹرم پر آگئے اور بیرسٹر گوہر علی خان نےکہا کہ انتخابی نشان بلے کی درخواست واپس لیتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں درخواست گزار کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا حامد خان صاحب آپ نے پرسوں کہا تھا آپ وکیل ہیں، حامد خان نے عدالت میں کہا کہ ہمارا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کھڑےنہیں ہوئے، یہ بتائیں آپ وکیل نہیں ہیں اس کیس میں؟ حامد خان نے کہا نہیں میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی آکریہ دعویٰ کر دے کہ ہم نے درخواست واپس نہیں لی تھی توپھر؟ علی ظفرکہاں ہیں، انہیں تو اعتراض نہیں درخواست واپس لینے پر؟ حامد خان نے کہا نہیں، علی ظفر کو اعتراض نہیں، وہ اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہیں.سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے کسی وکیل نے درخواست واپس لینے پراعتراض نہیں کیا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا آج فیصلہ آیا تو پی ٹی آئی امیدوار پارٹی ٹکٹ لے سکیں گے، تاخیر ہوئی تو چاہے فیصلہ ان کے حق میں ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا فیصلے میں تاخیر سے تحریک انصاف انتخابی نشان سے محروم ہو جائے گی، آج ہماری سپریم کورٹ میں درخواست لگی ہوئی تھی لیکن ہمارا مرکزی کیس پشاور ہائیکورٹ میں بھی لگا ہوا ہے آج 11 بجے سے پہلے پشاور ہائیکورٹ سے آرڈر آجائے گا، اس لیے ہم نے سپریم کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کا انتخابی نشان بلا واپس لینے کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے،تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،بیرسٹر گوہر علی خان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے،

    واضح رہے کہ  پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

    پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ،عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی
    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا معاملہ ،بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 6 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، فیصلہ کالعدم نہیں ہوتا تو مقدمہ لاہور ہائیکورٹ منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، اسمبلی رکنیت اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہونے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، کوئی بھی عدالت مقدمہ واپس نہ کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی، درخواست میں الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

  • این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل خارج

    بانی پی ٹی آئی عمران خان این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب نہیں لڑسکیں گے

    لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ کے ٹریبونل نے بانی پی ٹی آئی کے کاغذاتِ نامزدگی پر فیصلہ سنادیا ،بانی پی ٹی آئی این اے 89 میانوالی سے بھی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے،بانی پی ٹی آئی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے نکات سامنے آگئے ،بانی چئیرمین پی ٹی آئی پر سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 36 لاکھ 88 ہزار 680 روپے واجب الادا ہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف رقم جولائی 2022 سے اکتوبر 2023 تک واجب الادا تھی ،بانی پی ٹی آئی عدالت سے سزا یافتہ اور الیکشن کمیشن سے بھی نااہل ہیں، بانی پی ٹی آئی نے غلط ڈیکلریشن دی جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا، بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے،بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط بھی غلط اور فرضی ہیں،

    این اے 122 عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ملی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے آراو کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس دوران این اے 122سے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے آر او کے فیصلے کے خلاف بھی اپیل پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان نااہل ہوچکے ہیں اور ان کے تجویزہ کنندہ کا تعلق بھی این اے 122 سے نہیں جب کہ مسلم لیگ ن کے وکیل نے بھی عمران خان کی اپیل کی مخالفت کی،الیکشن ٹربیونل کے جج نے آر او کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عمران خان کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا.

    این اے 122، کاغذات مسترد ہونے پرعمران خان کی لیگل ٹیم کا ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ
    این اے 122 سے سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف اپیل خارج کرنے کا معاملہ ،سابق چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لیگل ٹیم نے ٹریبونل کا فیصلہ ہائیکورٹ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات بحال کروانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررہے ہیں ،ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست میں استدعا کی جائے گی .

    آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد
    لاہور ہائیکورٹ اپیلیٹ ٹریبونل،آزاد امیدوار برائے پی پی 168 شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل خارج کر دی گئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا ،اثاثے چھپانے کے الزام میں شبیر کھوکھر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے ،آزاد امیدوار شبیرکھوکھر نے پلاٹ اور گاڑی چھپائے تھے

    نواز شریف کے مقابلےمیں یاسمین راشد کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت
    اپیلٹ ٹربیونل نے سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل کےجج جسٹس طارق ندیم نے یاسمین راشدکےکاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے آر او کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی،الیکشن ٹربیونل نے یاسمین راشد کے کاغذات مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور این اے 130 سے ان کے اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،الیکشن ٹربیونل کے روبرو ڈیپٹی کمشنر اور ریٹرننگ افسر پیش ہوگئے،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ احکامات کے باوجود این اے 130 کا ریٹرنگ افسر کل ٹریبونل میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے ریٹرننگ افسر کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ میری گزشتہ روز طبعیت خراب ہوگئی تھی، طبعیت ناساز ہونے پر چلا گیا تھا،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ آپ غیر سنجیدہ ہین جس کی وجہ سے آج بھی اپیلوں ہر سماعت کر رہے ہیں،آج تمام اپیلوں پر فیصلے کرنا ہیں،ہم صبح سے رات گئے بیٹھ کر اپیلیں سن رہے ہیں،ٹریبونل نے آر او کا میڈیکل سرٹیفکیٹ مسترد کردیا

    واضح رہے کہ ،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے،ن لیگی رہنما، درخواست گزار میاں نصیر احمد کے وکیل نے کہا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل ہوئی ہے جرم نہیں ، ان کا جرم برقرار ہے لہذا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بانی تحریک انصاف کے تائید کنندہ اس حلقہ سے نہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں جو کسی کو سزا دے سکے ،عمران خان پر اس فیصلے کی وجہ سے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ،اہلیت کا سوال تب اٹھتا ہے جب کسی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو ، الیکشن کمیشن کی سزا کے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ،تائید کنندہ این اے 122کا ہی ووٹر تھا ، وکیل محمد خان کھرل نے کہا کہ 15دسمبر کے بعد یہ حلقہ تبدیل ہوا ، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ حلقہ بندی کے حوالے سے ہائی کورٹ نے حکم دیا جس پر تبدیلی ہوئی ،جب یہ حلقہ بندی تبدیل ہوئی اس وقت الیکشن کا شیڈول آ چکا تھا ،الیکشن کمیشن چار ماہ پہلے حلقہ بندیوں میں ردو بدل نہیں کر سکتا ، رات کے اندھیرے میں سب کچھ کیا گیا ،یہ بانی تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے ،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آئی تھی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں،

  • شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، ایک دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، ایک دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار

    شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا،فائرنگ کے تبادلے میں حوالدارمحمد ظاہر نے جام شہادت نوش کیا،علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے،آپریشن کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں،ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ کی ملاقات

    امام کعبہ کا پاکستان آنا پاکستانی عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

  • امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    امریکی سفیر کی زرداری ہاؤس آمد، بلاول سے ملاقات

    پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم نےپیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری سے اہم ملاقات کی ہے

    ملاقات کے حوالے سے امریکی سفارتخانہ کے قائم مقام ترجمان تھامس منٹگمری نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے وسیع تر سیاسی شراکت داروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے تسلسل میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلَوم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، ملاقات کا مقصد آزادانہ ، منصفانہ اور شمولیت پر مبنی انتخابات کی اہمیت سمیت موجودہ سیاسی اُمورپر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ فریقین نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کی اہمیت اور یو ایس پاکستان گرین الائنس فریم ورک میں پیشرفت کے موضوعات پر بھی گفتگو کی،

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی زرداری ہاؤس آمدہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں فروغ کے حوالے سے بات چیت ہوئی، بلاول بھٹو زرداری اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے درمیان پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    بحرین کے فرمانروا نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنے کے اعتراف میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس سے بھی نوازا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر بحرین کے2روزہ سرکاری دورے پر بحرین گئے ہیں، دورے کے دوران آرمی چیف کی بحرینی فرمانروا، ولی عہد اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں ہوئی ہیں، ملاقاتوں میں‌دوطرفہ فوجی اور سکیورٹی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نےبحرینی فرمانروا حماد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن حماد الخلیفہ، بحرین ڈیفنس فورسز کے کمانڈر فیلڈ مارشل خلیفہ بن احمد الخلیفہ اور بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقاتیں کیں، بحرینی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں اور علاقائی امن و استحکام کے لئے جاری کوششوں کو سراہا۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بحرین نیشنل گارڈ کے 27ویں یوم تاسیس کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، بحرین نیشنل گارڈ کے یوم تاسیس کی تقریب میں انسداد دہشت گردی کی تربیتی مشق سے متعلق شاندار مظاہرے کا پیش کیا گیا،کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ نے بحرین نیشنل گارڈ کو ملٹری اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

  • تاحیات نااہلی کالعدم قرار، نوازشریف اور جہانگیر ترین کی سزا ختم

    تاحیات نااہلی کالعدم قرار، نوازشریف اور جہانگیر ترین کی سزا ختم

    سیاستدانوں کی نااہلی تاحیات نہیں ہوگی، سپریم کورٹ کا 62 ون ایف کی تشریح کیس کا فیصلہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختصر فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی ختم کر دی اور یہ فیصلہ 6 ایک کی اکثریت سے سنایا گیا۔سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ بھی ختم کردیا ہے
    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا اور سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کو کالعدم قراد دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلہ سنانا شروع کردیا ہے، اپنے مختر فیصلے میں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی ختم کردی ہے۔

    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کیس کا فیصلہ 6 ایک کے تناسب سے سنایا، جس میں کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں کی تاحیات نا اہلی نہیں ہوگی، الیکشن لڑنا شہریوں کا بنیادی حق ہے، اور سپریم کورٹ کے پاس آئین کے آرٹیکل 184(3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں ہے۔

    فیصلے میں سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کے خلاف فیصلہ ختم کردیا ہے، اور فیصلے کے بعد ن لیگ کے قائد نوازشریف اور استحکام پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کی نااہلی ختم ہوگئی ہے۔

    7 رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس یحی آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، تاحیات نااہلی کا فیصلہ پانچ جنوری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

    سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں چار سماعتیں ہوئیں جس کے بعد جمعہ کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ لارجر بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل تھے۔

    کیس میں اہم ریمارکس
    پورا پاکستان 5 سال نااہلی کے مدت کے قانون سے خوش ہے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    5 جینٹلمین کی دانش 326 کی پارلیمان پر کیسے غالب آ سکتی ہے، پارلیمنٹ کے فیصلے کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے، آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نااہلی کی سزا تاحیات ہو گی، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جب موڈ میں ہوں تو تاحیات نااہل کر دیں اور جب موڈ نہیں ہے تو نااہلی ختم کر دیں: چیف جسٹس
    پارلیمنٹ نے مدت نہیں لکھی تو نا اہلی تاحیات کیوں؟ تاحیات نااہل کرنااسلام کیخلاف ہے: چیف جسٹس

    قانون آچکا ہے اور نااہلی 5 سال کی ہوچکی تو تاحیات والی بات کیسے قائم رہےگی؟ جسٹس منصور

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں آئین کی تشریح غلط کی: اٹارنی جنرل

    دسمبر کے وسط میں سپریم کورٹ نے نااہلی کی مدت سے متعلق تمام مقدمات ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا۔

    گزشتہ سماعتوں کے دوران 62 ون ایف سے متعلق تشریح کیلئے عدالتی معاونین اور اٹارنی جنرل نے دلائل دیے، جبکہ 62 ون ایف کا دوبارہ جائزہ لینے کیلئے تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز نے اٹارنی جنرل کے مؤقف کی تائید کی تھی۔

    سپریم کورٹ نے عدالتی معاونین اور اٹارنی جنرل کے دلائل سننے کے بعد جمعہ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  • واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے،بنچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، جبکہ کیس کی کارروائی براہ راست نشر کی جارہی ہےسماعت شروع ہوئی تو سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آگئے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالتی معاون ہیں؟رضا ربانی کہا کہ میں عدالتی معاون نہیں لیکن بختاور اور آصفہ کا وکیل ہوں، ہم نے کیس میں فریق بننے کی درخواست جمع کرائی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہوگیا، اس درخواست کو دیکھتے ہیں۔

    اس کے بعد عدالتی معاون بیرسٹر صلاح الدین احمد روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میری اہلیہ نواب احمد قصوری کی نواسی ہیں، عدالت فریقین سے پوچھ لے کہ میری معاونت پر کوئی اعتراض تو نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اہلیہ نے اعتراض اٹھایا ہے تو پھر بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔

    وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا کو بیرسٹر صلاح الدین پر اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میرے والد ڈی جی ایف ایس ایف مسعودمحمود کےبھٹو کیس میں وکیل تھےاگر میرےاوپر بھی کسی کو اعتراض ہو تو بتا دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پر کسی فریق کو اعتراض نہیں آپ فئیر ہیں اس کا یقین سب کو ہے، عدالتی معاون مخدوم علی خان نے عدالت کو کہا کہ ہم نے کچھ متعلقہ مواد جمع کرایا ہے۔

    اس کے بعد احمد رضا قصوری روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، پہلے عدالتی معاون کو بات مکمل کرنے دیں، آپ کو ان کی کسی بات پراعتراض ہے تو لکھ لیں، عدالتی معاون نے بتایا کہ اس صدارتی ریفرنس میں چار سوالات پوچھے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے آپ آئین کا آرٹیکل 186 پڑھیں جس کے تحت یہ ریفرنس بھیجا گیا، کیا ہمارے پاس صدارتی ریفرنس کو نہ سننے کا آپشن ہے؟، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر تو عدالت کے پاس ریفرنس پر رائے دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، مگر صدارتی ریفرنس میں پوچھا گیا سوال مبہم ہو تو عدالت کے پاس دوسرا آپشن موجود ہوگا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت کی رائے ہو کہ سوال مبہم ہے تو بھی عدالت کے پاس آپشن رائے دینا ہی ہوگا، مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے یہ ایک منفرد کیس ہے، چیف جسٹس نے اسی کیس میں ایک انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر رکھا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی طور پر اس ریفرینس کی بنیاد سابق جج نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ مجھے بھیجا گیا جو وقت کی کمی کے باعث میں نہیں پڑھ سکا اس کے بعد مخدوم علی خان نے سید شریف الدین پیرزادہ کا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی بہن نے صدر مملکت کو رحم کی اپیل کی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے بذات خود کوئی رحم کی اپیل دائر نہیں کی تھی-

    عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو چار تین کے تناسب سے پھانسی کی سزا دی گئی، بعد میں ایک جج نے انٹرویو میں کہا کہ میں نے دباؤ میں فیصلہ دیا، عدالت کے سامنے سوال بھٹو کی پھانسی پر عمل کا نہیں ہے، بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ریورس نہیں ہو سکتی، عدالت کے سامنے معاملہ اس کلنک کا ہے۔

    جس پر بینچ میں شامل جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر اس کیس میں عدالت نے کچھ کیا تو کیا ہر کیس میں کرنا ہو گا؟اس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس ریفرنس کی بنیاد جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز نے انٹرویو کی کاپی بھیجی ہے، انٹرویو شاید ہارڈ ڈسک میں ہے، سربمہر ہے ابھی کھولا نہیں، چیف جسٹس کی اسٹاف کو انٹرویو کی کاپی ڈی سیل کرنے کی ہدایت کردی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمارے سامنے قانونی سوال کیا ہے؟ کیا ایک انٹرویو کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے کر رائے دے دیں؟ کیا عدالت ایک انٹرویو کی بنیاد پر انکوائری کرے؟ انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بنچ میں دیگر ججز بھی تھے، کیا ہم انٹرویو سے متعلقہ لوگوں کو بلا کر انکوائری شروع کریں؟

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف ایک انٹرویو کی ویڈیو دیکھ کر تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہوا تھا، آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں بھٹو ریفرنس میں آخر قانونی سوال پوچھا کیا گیا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا پورا انٹرویو نہیں سن سکتے متعلقہ پارٹ لگا دیں، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں نے جو سی ڈی جمع کرائی اس میں صرف وہی حصہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق ہے، اس کے بعد عدالت نے فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائی گئی سی ڈی لگانے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس وقت ایک شخص کی عزت اور تاریخ کی درستگی دیکھ رہی ہے، عدالت بہتر مثال قائم کرنا چاہتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک جج کے انٹرویو سے پوری عدالت کے بارے یہ تاثر نہیں دیا جاسکتا کہ تب عدلیہ آزاد نہیں تھی، دوسرے ججز بھی تھے جنہوں نے اپنے نوٹس لکھے اور اختلاف کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں ایک جج کی رائے کو نظرانداز نہیں کرسکتےذوالفقار علی بھٹو کیس میں بنچ کا تناسب ایساتھا کہ ایک جج کی رائےبھی اہم ہےایک جج کےاکثریتی ووٹ کے تناسب سے ایک شخص کو پھانسی دی گئی، جج صاحب کا یہ انٹرویو کب لیا گیا؟ نوٹ کرلیں 3 دسمبر 2003 کو یہ انٹرویو چلایا گیا۔

    ویڈیو دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق نا ئیک صاحب آپ نے جو ویڈیو فراہم کی وہ غیر متعلقہ ہے، پریشر والی بات کا آپ کی ویڈیو میں کہیں ذکر نہیں، جس پر فارق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو یوٹیوب سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے،عدالت نے جیو ٹی وی کی فراہم کردہ ویڈیو کی کاپی فاروق ایچ نائیک کو دینے کی ہدایت کردی۔

    معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف سے زیادتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اس میں سپریم کورٹ قصور وار ہے؟ یا پھر پراسیکیوشن اور اس وقت کا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر؟

    دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میری نظر میں ہمیں اپنی تاریخ کو درست کرنا چاہیے، کلنک ایک خاندان پر نہیں لگا بلکہ اداروں پر بھی لگ چکا ہے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آپ نے بالکل درست بات کی ہے،چیف جسٹس نے معاون مخدوم علی خان کو کہا کہ آپ تحریری معروضات بھی جمع کرا دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس کو انتخابات کے بعد نہ رکھ لیں؟ کیا ہم اگلی سماعت عام انتخابات کے بعد کریں؟

    جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے قبل سماعت دوبارہ ہو، جتنی جلد ہو سکے عدالت دوبارہ سماعت کرے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نائیک صاحب پہلے ہی دو الیکشنز گزر چکے ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں صدارتی ریفرنس پر سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی-