Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان سے کلاشنکوف کلچر کو ختم کرنا ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز  عیسیٰ کا بڑا حکم

    پاکستان سے کلاشنکوف کلچر کو ختم کرنا ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بڑا حکم

    سپریم کورٹ، چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان سے کلاشنکوف کلچر کو ختم کرنا ہوگا،

    ملک بھر میں ممنوعہ اسلحے کے کتنے لائسنس جاری ہوئے متعلقہ حکام سے تمام تفصیلات طلب کر لی گئی، سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ، تمام صوبائی ہوم سیکرٹریز، انسپکٹرز جنرل پولیس کو نوٹس جاری کردیا ،اٹارنی جنرل، صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے حکمنامہ کی کاپی بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس کے گھر سے اسلحہ چوری ہوا پولیس نے اس سے لائسنس تک کا نہیں پوچھا، مالک خود اقرار جرم کررہا ہے دو کلاشنکوف، دو کالا کوف اور ایک پسٹل سمیت دیگر قیمتی چیزیں چوری ہوئیں، مجھے بھی آفر کی جاتی رہی کہ آپ کلاشنکوف کا لائسنس لیں،منشیات اور کلاشنکوف نے پاکستان کو تباہ کردیا،اسطرح کالے شیشے لگا کر بڑی بڑی گاڑیوں میں کلاشنکوف لیکر دنیا میں کہیں کوئی نہیں گھومتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس کلاشنکوف کہاں سے آیا، آئی جی ایسے کلاشنکوف کے کاغذ دے رہے ہی تو کیوں نہ ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے؟ ہم سیکرٹری داخلہ کو لکھ دیتے ہیں تمام کلاشنکوف اور ان کے لائسنس واپس کریں، سکول اور بازار جاو تو لوگ کلاشنکوف لیکر کھڑے نظر آتے ہیں، ڈرتے ہیں تو گھروں میں رہیں، باہر اسلئے نکلتے ہیں کہ لوگوں کو ڈریا جائے اور اپنا اثر رسوخ دکھا سکیں،اسلام آباد میں کلاشنکوف لیکر گھروں کے باہر گارڈ کھڑے ہیں، کالے شیشے کے ساتھ لوگ کلاشنکوف لیکر جاتے ہیں پولیس کی ان سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی،کیسے پتہ ہوگا کلاشنکوف والےدہشت گرد تھے یا کوئی اور تھے،

    چوری شدہ اسلحے کا لائسنس بارے انکوائری میں نہ پوچھنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پی پولیس پر برہم ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بغیر لائیسنس کا اسلحہ رکھنا جرم ہے اور پولیس نے انکوائری میں مالک سے پوچھا تک نہیں، سپریم کورٹ نے چوری پر نامزد ملزم کاشف کی پچاس ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منطور کرلی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    8 فروری کے انتخابات ملتوی ہونے کی وارننگ

    انتخابی نشانات کی تبدیلی سے اجتناب کریں۔

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

     سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں

     (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

  • ایران کا پاکستانی بلوچستان میں میزائل حملہ

    ایران کا پاکستانی بلوچستان میں میزائل حملہ

    تہران:ایران نے پاکستان کے اندر بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ایران نے پاکستان کے اندر بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا ہے۔

    https://x.com/TRTWorldNow/status/1747322995230515451?s=20

    برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ دونوں ٹھکانے ڈرونز اور میزائل حملے میں تباہ ہو گئے مذکورہ گروپ نے پاکستانی سرحد سے متصل ایرانی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے بڑھا دیے تھے۔

    پاکستانی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ‏ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ایران سے فائر کیے گئے 2 راکٹ/میزائل ایک دور افتادہ سرحدی گاؤں میں پاکستان میں گرے ہیں جس سے جانی نقصان ہوا ہےپاکستان حالات/تفصیلات، جوابی آپشنز پر غور کر رہا ہے، اور اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور طریقے پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے کسی کو ہماری خودمختاری کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ، سنگین نتائج نکل سکتے ہیں،دفتر خارجہ
    دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر لیا،دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے ایران پر عائد ہوگی، پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی خطے کے تمام ممالک کیلئے مشترکہ خطرہ ہے جس کیلئے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے، اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور یہ دو طرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں، پاکستان ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی اور پاکستانی حدود میں حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، پاکستانی فضائی حدود میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہوئی تھیں، یہ بات اور بھی تشویشناک ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز موجود ہونے کے باوجود یہ غیرقانونی عمل ہوا ہے،دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے پہلے ہی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ میں متعلقہ سینیئر عہدیدار کے پاس شدید احتجاج درج کرایا جا چکا ہے، ایرانی ناظم الامور کو بھی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی خودمختاری کی اس صریح خلاف ورزی کی شدید مذمت کی جائے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے پاکستان پر حملے کی خبر کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کی جانب سے دو میزائل داغے گئے ہیں-

    چین کی ایران اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل
    ایران کی جانب سے پاکستان پر میزائل حملے کے بعد چین کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،چین نے موجودہ صورتحال میں ایران اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کردی،چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے فریقین سے کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کا مطالبہ کیا گیا ہے،چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ملک مل کر کام کریں


    قبل ا زیں ا یران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے گذشتہ سال 25 دسمبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں جیش العدل کے پولیس سٹیشن پر حملے میں 11 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھےسیستان بلوچستان کے قصبے رسک میں ہونے والی جھڑپوں میں جیش العدل کے متعدد ارکان بھی مارے گئے۔

    علاوہ ازیں 23 جولائی 2023 کو زاہدان شہر میں ایک ’دہشت گرد‘ حملے میں کم از کم چار ٹریفک پولیس اہلکاروں کی موت واقع تھی دریں اثنا 8جولائی، 2023 کو مسلح افراد اور خود کش حملہ آوروں نے زاہدان کے ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کیا تھا، جس میں دو پولیس افسران اور چار حملہ آوروں کی اموات ہوئی تھیں۔

  • عدلیہ مخالف مہم، وفاقی حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

    عدلیہ مخالف مہم، وفاقی حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

    اسلام آباد: جے آئی ٹی میں حساس اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے-

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف مہم کا معاملہ، وزرات داخلہ نے 6 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردیایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ،جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی میں حساس اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے-

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کمیٹی کے کنوئنئیر ہوں گےکمیٹی میں گریڈ 20 کے آئی بی اور آئی ایس آئی کا رکن بھی شامل ہوگا کمیٹی میں اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی بھی بطور ممبر شامل ہوں گے پی ٹی اے کا نمائندہ بھی کمیٹی میں شامل ہوگا-

    ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی مہم میں ملوث ذمہ داران کا تعین کرے گی، کمیٹی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تجاویز بھی مرتب کرے گی، کمیٹی 15 روز میں وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ جمع کروائے گی، ایف آئی اے ہیڈکوارٹر بطور کمیٹی سیکرٹریٹ استعمال ہوسکے گا-

    یو اے ای میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ

    دوسری جانب وکلا تنظیموں نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف اسلام آباد میں پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کے نمائندگان نے پریس کانفرنس میں پی ٹی اے اور ایف آئی اے سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    صدرسپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کا کہنا تھا کہ ہم ججزکے ساتھ کھڑے ہیں، فیصلے پر تنقید کرنے کے بجائے ججز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وکلا ججز پر تنقید برداشت نہیں کریں گے، جب فیصلے میں درج ہے کہ انتخابات نہیں کرائے تو کرانے چاہیے تھے۔

    رواں ہفتے موسم بارشیں ہوں گی یا نہیں، محکمہ موسمیات نے بتا دیا

  • ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے “عوامی معاشی معاہدہ” کا اعلان کردیا

    پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے بیگم نصرت بھٹو آڈیٹوریم میں “عوامی معاشی معاہدہ” کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیمی عہدیداروں اور کارکنان کے ساتھ ساتھ میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس انقلابی دستاویز کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں، جو قوم کو درپیش تمام چیلنجز پر قابو پانے اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی راہ پر گامزن کرنے کی چابی ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کے ذریعے “عوامی معاشی معاہدہ” کا مسودہ پوری قوم کو پڑھ کر سنایا:
    عوامی معاشی معاہدہ
    معاشی بحران
    اس وقت ہمارے ملک میں جو بلند ترین سطح کی مہنگائی اور مکمل اور جزوی بے روزگاری دیکھنے میں آرہی ہے وہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ غربت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ ہمارے محنت کش پہلے سے کئی زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی آ مدنی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ہمارے شہری اور خصوصی طور پر ایسے شہری جن کا تعلق غریب طبقے سے ہے وہ غیر محفوظ ہیں اور ہمارے نوجوان اپنے موجودہ حالات کے بارے میں شدید عدم تحفظ اور اپنے مستقبل کے بارے میں ا تنی غیر یقینی کیفیت سے کبھی دو چار نہیں رہے ہیں ،غذائی اشیاءکی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے ۔ صرف پانچ سال قبل آٹے کے دس کلو گرام کے بیگ کی قیمت 400 روپے سے کم تھی ۔ آ ج اسی بیگ کی قیمت 1400 روپے سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران دودھ ، خوردنی تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بالترتیب 113 فیصد، 217 فیصد اور 353 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہانہ 50 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں 277 فیصد کا ضافہ ہوا ہے ۔ اسی مدت کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے ،آٹھ سال قبل ایک غریب گھرانہ جس کی مشترکہ آمدنی ماہانہ 35000 ہوا کرتی تھی وہ اپنی اس انتہائی محدود آ مدنی میں بھی آٹے ، خوردنی تیل ، دودھ اور دوسری غذائی اشیاء کی اچھی خاصی مقدار خرید سکتا تھا تا کہ اس کے خاندان کے تمام افراد پیٹ بھر کر غذا حاصل کر سکیں ، دوکمروں کی مکانیت کے گھر میں رہ سکیں ، بچوں کو اسکول بھیج سکیں ، دکھ، بیماری اور تھوڑی بہت سیر و تفریح کے لئے کچھ رقم پس انداز کرسکیں ۔ آج کی مہنگائی کے دور میں ایک خاندان کو ان تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کم از کم 70000 روپے ماہانہ کی ضرورت ہوگی ۔ اخراجات زندگی میں اس اضافے اور اجرتوں کی حقیقی قدر میں ایسی کمی اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور یہ سرا سر ناقابل قبول ہے ،مہنگائی ، بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غربت اور مسلسل عدم استحکام اور معاشی ترقی کی گرتی ہوئی شرح کے ماحول میں نئے مواقع روزگار کا پیدا ہونا دشوار تر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں انتہائی کم اجرت والی نوکریوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہماری آ بادی کے دس فیصد غریب ترین افراد صرف 14500 روپے ماہانہ کی قلیل ترین اجرت پر کام کرنے پر مجبورہیں ،آج پاکستان کی آبادی کے 93 ملین افراد جو کہ ہماری کل آبادی کے 40 فیصد ہیں خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ اوران میں سے 15 ملین افراد وہ ہیں جو 2018 اور 2023 کے پانچ سال کے د وران خط غربت سے نیچے گئے ہیں ،اگر ایک جانب ہم ایک تاریخی معاشی بحران کا شکار ہوچکے ہیں تو دوسری جانب ہم ایک شدید ترین ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تباہی کا شکار ہیں جو نہ صرف ہماری معیشت کے لئے ناقابل برداشت مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی اور خوشحالی کے لئے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے ۔ شدید ترین سیلاب یا مہیب خشک سالی جو پہلے 100 سال میں ایک دفعہ وقوع پذیر ہوتے تھے اب اس ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بار بار وقوع پزیر ہورہے ہیں ۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر واقع براعظم اینٹارٹیکا کے بعد قدرتی برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں ہے ۔ سائنسدانوں نے قدرتی برف کے اس ذخیرے کو ‘‘ تیسرے قطب ’’ (Third Pole) کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ پاکستان اس نئے ماحولیاتی بحران کی صف اول میں ہے ۔ سائنسی اندازوں کے مطابق پاکستان میں رہنے والے 24.1 ملین افراد پہلے مرحلے میں تباہ کن سیلابوں اور ان سیلابوں کے بعد کبھی نہ ختم ہونے والی طویل خشک سالی سے دو چار ہونے کے خطرے میں ہیں ۔ جب کہ اس عالمی موسمیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر 1 فیصد سے بھی کم ہے ،ہمیں اپنی ترقیاتی ترجیحات میں بڑے پیمانے پر اور مکمل اصلاحات لانی ہوں گی ۔ ہمیں موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے ، بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور توانائی کے ذرائع تبدیل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ اور یہ سب ہمیں اس انداز سے کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں معاشی ترقی میں سب کی شمولیت ہو ، جس سے ماحول دوست مواقع روزگار پیدا ہوں اور جس سے نہ صرف ماحولیاتی بحران کا مقابلہ ہو سکے بلکہ ہم روز افزوں مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت کا بھی مقابلہ کرسکیں ،ہمیں عام محنت کشوں ، خواتین ، مردوں اور نوجوانوں کو مرکزیت دینی ہوگی اور دانش مندی کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔ صوبوں ، مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کو زیادہ با اختیار بنانا ہو گا اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا ۔

    ہمارے 10 وعدے
    اجرت پر کام کرنے والوں کی حقیقی آمدنی کو دوگنا کرنا ۔
    ۔ کم سے کم اجرت میں ہر سال حقیقی معنوں میں 8 فیصد اضافہ کرنا،تاکہ ہم ایک گزارے کے قابل اجرت کی سطح تک پہنچ سکیں ۔
    ۔ سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری میں دو گنا اضافہ کرکے مواقع روزگار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ،تاکہ بے روزگاری اور جزوی بے روزگاری میں کمی کی جاسکے ۔
    ۔ مقامی شہریوں کی ضرورتوں کے مطابق سرمایہ کاری اور مواقع روز گار پیدا کرنا۔
    ۔صوبائی اور مقامی سطحوں پر سماجی اور پیداواری شعبوں میں سرکاری اور نجی شعبے میں اشتراک ( پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ)
    ۔ نجی ملکیت کے مکانوں کی تعمیر میں کثیر اضافے کی بنیاد پر غریب طبقے کے مکانات کی تعمیر کے لئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ۔
    ۔ زراعت اور چھوٹے کاروبار میں سرمایہ کاری اور اصلا حات کو فروغ دینا ۔

    گرین نیو ڈیل (Green New Deal )
    موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ

    ۔ سرکاری شعبے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے شعبے اوربیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
    ۔ سڑکوں اورشاہراہوں ، مواصلات ، صحت ، آبپاشی ، زراعت میں پاکستان کے سرکاری شعبے کے انفرا اسٹرکچر کی سرمایہ کاری میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔
    ۔ یہ سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر فروغ ، نئے مواقع روزگار پیدا کرنے اور موسمیا تی تبدیلی کے نقصانات سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔

    ملکی ذرائع سے پیدا ہونے والی گرین انرجی
    ۔ قابل استطاعت نرخوں پر الیکٹرسٹی تک رسائی ہر شہری کا حق ہے ۔
    ۔ بجلی کے موجودہ نرخوں اور تقسیم کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور ہمارے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا ۔
    ۔ ہم بجلی کے موجودہ بحران سے نجات پانے کے لئے ملکی ذرائع اور قابل تجدید توانائی کی بنیاد پر پائیدار حل مہیا کریں گے ۔
    ۔ ہم اپنے شہریوں کے لئے قومی الیکٹرسٹی گرڈ سے علیحدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پورے پاکستان میں گرین انرجی پارک تعمیر کرکے ان کی گرین انرجی کی ضروریات پوری کریں گے ۔
    ۔ انرجی کے پیداواری نظام میں تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لئے ہم غریب ترین گھرانوں کو ہر ماہ 300 یونٹ تک بجلی مفت فراہم کریں گے ۔ اس پروگرام میں درکار سرمایہ ہم کاربن کریڈٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کریں گے ۔

    تعلیم سب کے لئے
    ۔ ہم اسکول جانے کی عمر تک کے تمام بچوں اور بچیوں کے لئے آئین کی شق 25 A کے الفاط اوراصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے سب بچوں کی اسکولوں میں تعلیم کو یقینی بنائیں گے۔
    ۔ ہم گھروں سے زیادہ سے زیادہ 30 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری پرائمری اسکولوں کے قیام اور زیادہ سے زیادہ 60 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کے قیام کو یقینی بنائیں گے ۔
    ۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہنے والے طلبا کو تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے ۔
    ۔ پاکستان کے ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

    سب کے لئے علاج کی سہولت
    ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے لئے اس کے شہریوں کی اچھی صحت سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس مقصد کے لئے ہم سندھ کے صحت کے شعبے میں کی جانے والی پیش رفت کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کریں گے ۔
    ۔ ہم پورے ملک میں پرائمری سطح کے علاج معالجے کی مفت سہولتیں اور مفت دوائیں مہیا کریں گے ۔
    ۔ بنیادی صحت کے مراکز کو پوری طرح اور ہمہ وقت موثر کیا جائے گا ۔
    ۔ سرکاری شعبے اور سرکاری نجی شعبے کے اشتراک سے چلنے والے اسپتالوں میں دائمی نوعیت کے امراض ، امراض قلب ، جگر اور گردوں کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا ۔

    مکان ایک حق
    غریبوں ، بے زمینوں اور محنت کشوں کے لئے رہائشی مکانات کی فراہمی ۔
    ۔ تمام صوبوں اور علاقوں کے دیہی اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کی اسکیمیں جن کو پانچ مرلہ اسکیم اور سیلاب متاثرین کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے کامیاب ماڈل کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا ۔
    ۔ ہر بے گھر خاندان کو رہنے کے لئے گھر فراہم کیا جائے گا ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے کم از کم تیس لاکھ مکان تعمیر کئے جائیں گے جن کی قانونی ملکیت خاتون خانہ کے نام ہوگی ۔
    ۔ کچی آبادیوں کو ریگیولرائز کیا جائے گا اور مکینوں کو قانونی ملکیت دی جائے گی ۔
    ۔ کچے کے علاقوں کے رہنے والوں کو قانونی طور پر دی گئی زمینوں کا مالک بنایا جائے گا ۔
    ۔ مکانات کی تعمیر کے لئے قرضوں کی فراہمی ، نچلے متوسط طبقے اور محنت کشوں کے لئے رہن پر رہائشی قرضہ جات کی فراہمی کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کو متحرک کیا جائے گا ۔

    غربت مٹاؤ ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع
    ۔ ایسے مزیدافراد کو جو موجودہ مہنگا ئی ، بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کے لئے اس پروگرام کو مزید توسیع دی جائے ۔ غربت کی بنیاد پر دی جانے والی براہ راست مالی اعانت کے علاوہ بھی ہم پروگرام میں مندرجہ ذیل جہتوں کا اضافہ کریں گے :
    ۔ وسیلہ حق (WEH) پروگرام جو کہ غریب خواتین کو چھوٹے قرضے فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار کو توسیع دے کر غریبی کے چنگل سے باہر نکل سکیں ۔ہم نے صوبہ سندھ میں پیپلز پاورٹی ایلیوئیشن پروگرام سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے اشتراک سے کامیابی کے ساتھ چلایا ہے اور بہت اچھے نتائج حاصل کئے ہیں ۔
    ۔ وسیلہ تعلیم (WET) پروگرام جو کہ خاندان کے ہر مستحق بچے کو خاندان میں مستحق بچوں کی تعداد سے قطع نظر نقد مالی امداد فراہم کرے گا ۔ یہ نقد مالی امداد اس بات سے مشروط ہوگی کہ امداد حاصل کرنے والے بچے کی اسکول میں حاضری کم از کم 70 فیصد ہو ۔
    اسکول کی حاضری کو سہ ماہی بنیاد پر جانچا جائے گا ۔
    ۔ وسیلہ روزگار (WER) پروگرام جو پروگرام میں شامل ہر خاندان کے ایک منتخب باصلاحیت فرد کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا ۔ منتخب ہونے والے افراد کو ان کے ذاتی حالات اور ان کے اپنے ضلع میں اپنا روزگار خود پیدا کرنے کے مواقع کے لحاظ سے ایک سال کی پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی ۔
    ۔ وسیلہ صحت (WES) پروگرام جو پروگرام میں رجسٹر ہونے والے خاندانوں کو بیماریوں کے علاج میں ہونے والے کثیر اخراجات سے تحفظ فراہم کرے گا ۔

    خوشحال کسان ۔ خوشحال پاکستان
    زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں زرعی شعبے اور بالخصوص چھوٹے کسانوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہم مندرجہ ذیل اقدامات کریں گے :
    ۔ ہاری کسان کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے عورتوں اور مردوں ، چھوٹے کسانوں ، کسان اور ہاریوں اور زرعی مزدوروں کو ان کی بحیثیت کسان شناخت دینا ۔
    ۔ مندرجہ ذیل اشیاءکے حصول کے لئے کسان کارڈ کے ذریعے رعایت فراہم کرنا ۔
    ۔ بہترین اقسام کے بیج
    ۔ ڈی اے پی اور یوریا کھاد جیسی ان پٹ ۔
    ۔ فصلوں کی مارکٹنگ ۔
    ۔ زمین کی بہتری اور آبپاشی کے لئے درکار پانی کا انتطام ۔
    ۔ مویشیوں کی افزائش کے سلسلے کی خدمات ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ کے لئے بہترین طریقہ کار کی فراہمی ۔
    ۔ فصلوں کا انشورنس ۔
    ۔ زرعی پیداوار میں تنوع کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے مختلف اجناس کی امدادی قیمتوں کو یقینی بنانا ۔
    ۔ Tenancy اور لیبر قوانین میں اصلاحات، تاکہ زراعت میں مزید سرمایہ کاری ہوسکے اور ترقی کے عمل میں ہر ایک شریک ہوسکے ۔

    مزدور کو محنت کاصلہ
    ۔ ہمارے غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو نہ تو روزگار کا تحفط حاصل ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ تک رسائی حاصل ہے ۔ ان تک یہ سہولتیں پہنچانے کے لئے :
    ۔ ان کی محنت کے مطابق اجرت کی ضمانت، جو کہ آگے چل کر سب کو گزارے کے قابل اجرت فراہم کرسکے ۔
    ۔ مزدور کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے مزدوروں کو جن میں غیر رسمی شعبے کے مزدور ، خود روزگار حاصل کرنے والے مزدور اور زرعی مزدور شامل ہوں سماجی تحفظ فراہم کرنا جس کے تحت وہ:
    ۔ اپنے بچوں کی اسکول کی فیسیں ادا کرسکیں گے ۔
    ۔ اپنے لئے اور اپنے افراد خاندان کے لئے ہیلتھ انشورنس حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اولڈ ایج بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ معذوری کے بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔

    جوان مستقبل
    دنیا بھر میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد کا تناسب سب سے زیادہ ہے ۔ آ بادی کے اس تناسب کو کام میں لانے اور ملک کی ورک فورس میں ان کی بلا رکاوٹ شمولیت کے لئے ہم نوجوان کارڈ (Youth Card) متعارف کروائیں گے جس کے ذریعے ؛
    ۔ تعلیم یافتہ ، مستحق نوجوان مرد اور خواتین ملازمت حاصل کرنے کی مدت میں ایک سال تک وظیفہ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے قرضے حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ نجی اور سرکاری شعبے میں انٹرن شپ اور تربیتی ملازمتوں کے لئے روابط قائم کرسکیں گے ۔
    ۔ تمام شعبوں میں نوجوانوں کی قیادت میں نئے کاروبار کا آغاز کرسکیں گے جس کے لئے ہم ضروری انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انفرا اسٹرکچر مہیا کریں گے تاکہ نوجوان ملک بھر میں تیز ترین رابطے قائم کرسکیں ۔
    پورے ملک میں یوتھ سینٹر قائم کئے جائیں گے تاکہ لائبریریوں اور ڈیجیٹل لائیبریریوں تک مفتWiFiکے ذریعے رسائی ہوسکے ۔ ان مراکز میں کھیلوں ، ثقافتی سرگرمیوں ، تفریحی سرگرمیوں ، پیشہ ورانہ تربیت ، صلاحیتوں اور مختلف زبانیں سیکھنے کی کلاسیں ، کیریر اور ملازمتوں کے حصول میں سپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔

    بھوک مٹاؤ
    غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لئے ہمارا عزم ہے کہ ہم رعایتی قیمتوں پر صحت بخش غذائی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم غذائی اشیاءکی اندرون ملک پیداوار میں اضافہ کریں گے ، مقامی پروڈیوسر کو سبسڈی فراہم کریں گے اور خواتین کو ان کے اپنے کاروبار کے ذریعے مارکٹ معیشت سے منسلک کریں گے ۔
    اس کے علاوہ ہم :
    ۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے غذائی حقوق کا قانون منظور کروائیں گے ۔ اس قانون کے تحت ہر مستحق خاندان رعایتی قیمتوں پر ضرورت کی غذائی اشیاءخرید سکے گا ۔
    ۔ ہم حاملہ اور پہلی بار کی زچگی کی خواتین کے لئے 1000 دنوں کی مدت پر مشتمل صحت بخش غذائی پروگرام متعارف کروائیں گے تاکہ سٹنٹنگ (stunting ) ، ویسٹنگ (wasting) اور کم عمر بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے ۔
    ۔ تمام اسکول جانے والے بچوں کو مفت کھانا فراہم کریں گے ۔

    یہ سب ہم کس طرح سر انجام دیں گے ؟
    PTI , PML (N) اور مشرف دور کی کھپت (consumption) میں اضافہ کرکے معاشی ترقی حاصل کرنے کی حکمت عملی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تناسب کو دنیا میں سب سے کم سطح پر لاکھڑا کیا ہے اور آج ہم اپنے آپ کو مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی کے شدید ترین بحرانوں کی زد میں پاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے 12 فیصد کی بلند سطح سے گر کر2023 میں صرف 2 فیصد کی سطح تک آچکی ہے ۔
    سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم طویل مدت کی پائیدار اور مشترکہ ترقی کے سفر کا آغاز کریں گے جو پاکستانی نوجوانوں کے لئے روزگار کے بےشمار نئے مواقع پیدا کرے گا ۔ سرمایہ کاری کے ہمارے منصوبوں کی دو جہتیں ہوں گی ۔ ایک جانب تو ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کے دور کا نیا آغاز کریں گے جس کا کامیاب تجربہ ہم سندھ میں پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ دوسری جانب ہم موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ حکمت عملی کے منصوبوں میں بہت بڑی سرمایہ کاری کریں گے ۔ہم عوامی میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لئے درکار مالی وسائل کو حاصل کرنے کے لئےکئی طریقے عمل میں لائیں گے ۔۔ ہم وفاق میں اٹھارویں ترمیم کے باوجود 17 نئی قائم کی جانے والی وزارتوں کو ختم کرکے 328 بلین سے زیادہ رقم ہر سال بچائیں گے ۔ ہم اشرافیہ کو دی جانے والی بے مقصد سبسیڈیز کو ختم کریں گے ۔ اس وقت ان سبسیدیز کے ذریعے اشرافیہ کو ہر سال 1500 بلین کا فائدہ پہنچایا جارہا ہے ۔ یہ پس انداز کی ہوئی رقومات عوام کو سماجی تحفظ فراہم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عوام دوست منصوبوں پر خرچ ہوں گی ۔ زراعت اور مکانات کی تعمیر کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لائیں گے جس میں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی جس کے بعد ہم بین الاقوامی طور پر موسمیاتی تبدیلی سے مقابلے پر خرچ کی جانے والی رقومات سے زیادہ حصہ حاصل کرسکیں گے ۔ ان رقومات میں COP 27 میں متعارف کیا جانے والا Loss and Damage Fund اور مزید کئی دوسرے رعائتی نرخوں پر دئیے جانے والے قرض اور کاربن کریڈٹ شامل ہیں ۔ ملک میں سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کے نظام کو پائیدار طور پر ترقی دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریونیو میں اضافہ کیا جائے ۔ دو دہائیوں پر مشتمل ریونیو کی وصولی میں تنزل اس بات کا متقاضی ہے کہ ریونیو جمع کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں ۔ تنزلی کے اس دور میں ہمیں صرف ایک روشن مثال ملتی ہے اور وہ صوبائی سطح پر ریونیو بورڈ تشکیل دینے کی پالیسی ہے جس میں سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے ۔ ہم اشیاء پر وصول کئے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس (GST on Goods) کی وصولی کو FBR کے بجائے صوبائی ریونیو بورڈز کے حوالے کریں گے جس سے نہ صرف پاکستان کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیاء پر لاگو جنرل سیلز ٹیکس کو یکجا کرنے میں بہتری آئے گی ۔
    ہمارے یہ پروگرام اور یہ وعدے وہ واحد طریقےہیں جن سے ہم نہ صرف اپنے عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری اورغربت کے لامتناہی سلسلے سے نجات دلا سکتے ہیں بلکہ موسمیا تی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی موثر طور پر نمٹ سکتے ہیں ۔ ہمیں صرف طبقہ بالا کے مفادات کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی فلا ح و بہبود کے لئے اپنے عوام میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی .

    قبل ازیں بھٹو ہاؤس، نوڈیرو میں کارکنان اور عہدیداران کے اعزاز میں پیپلز پارٹی نے ظہرانہ دیا،ظہرانہ میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شرکت کی

    اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں ایک جانب معاشی بحران ہے تو دوسری جانب معاشرتی اور سیاسی بحران، جبکہ امن وامان کی صورتحال کے اثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔اس وقت کسی کو کوئی فکر نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔اس بار ہم انشاء ﷲ ملک کو بچائیں گے، 8 فروری کو پاکستان کے عوام ایک نئی سوچ چنیں گے۔ ایک ایسی سوچ جو پورے پاکستان کو متحد کرکے نہ صرف ان تمام مسائل کا مقابلہ کرے گی بلکہ اس میں فتح بھی حاصل کرے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اگر ہم جدوجہد، قربانی اور خدمت کرتے ہیں تو عوام کیلئے کرتے ہیں جبکہ دوسرے سیاست دان صرف اور صرف اپنے لیئے سوچتے اور اپنے لیئے ہی کام کرتے ہیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام ساتھ دیں گے تو میں ملک کا نوجوان وزیر اعظم بنوں گا،ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے، ہم نے سوچا ہی نہیں پاکستان کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا،کسی کو احساس نہیں کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل میں ہیں، انکو اندازہ نہیں اسلام آباد میں کئے گئے فیصلوں کا اثر کیا ہوتا ہے، اندازہ نہیں کہ انکے فیصلوں کی وجہ سے جو تاریخی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اسوقت پاکستان میں ہے اسکا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، ہر پاکستانی تکلیف محسوس کر رہا ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں جتنا آج معاشی بحران ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا،اگر ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،پیپلزپارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہے سازش ہورہی تھی ایک بار پھرون یونٹ قائم کیاجائے،ہم نے مل کے اس سازش کوناکام بنایا،ہم نےان تمام قوتوں کامقابلہ کیاجوعوام کےحق پرڈاکہ مارناچاہتی تھیں، سیلکٹڈ راج کو ہم نے پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز کیا، تب سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کی جدوجہد کر رہی ہے، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، ہم نے تمام قوتوں کا مقابلہ کیا جو عوام کے حق پر ڈاکہ مارنے جا رہے تھے، ہم نے سازشوں کو ناکام بنایا ،آمرانہ دور میں پیپلز پارٹی ڈٹ کر کھڑی رہی، ہم نے امیر المومنین بننے کی سازش ناکام کی، جو سیلکٹڈ دور تھا اسکا بھی مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی کے جیالوں نے مقابلہ کیا،

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • آپ  اعتبار نہیں کرتے،ریلیف بھی مانگتے ہیں،چیف جسٹس کا لطیف کھوسہ سے مکالمہ

    آپ اعتبار نہیں کرتے،ریلیف بھی مانگتے ہیں،چیف جسٹس کا لطیف کھوسہ سے مکالمہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آ گئے

    لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ نااہلی کیخلاف درخواست مقرر کرنے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئےکہا کہ لطیف کھوسہ صاحب آپ باہر جاکر الزامات لگاتے ہیں،ایک طرف آپ عدلیہ پر اعتبار نہیں کرتے دوسری طرف ریلیف بھی مانگتے ہیں،جلد سماعت کی درخواست دائر کر دیں،قانون کے مطابق جو ریلیف ہوگا وہ دیں گے،چیف جسٹس اور لطیف کھوسہ کا مکالمہ ملازمت سے متعلق کیس کے دوران ہوا

    واضح رہے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے لطیف کھوسہ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست واپس لے لی تھی،لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا تھا کہ جمہوریت اور عوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ، مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپکی عدالت میں کیس نہیں چلانا چاہتے، آپ کے پاس آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت اختیار ہیں آپ احکامات دے سکتے ہیں، ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا گیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی، اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیا گیا، آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات کریں گے ،

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل 

    رؤف حسن بانی پی ٹی آئی مخالف صحافیوں کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

  • رؤف حسن  اپنے بھائی فوادحسن فوادکیلئےکام کررہا ہے،شیر افضل مروت

    رؤف حسن اپنے بھائی فوادحسن فوادکیلئےکام کررہا ہے،شیر افضل مروت

    عمران خان کےجیل میں ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف میں آئے روز اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں، تحریک انصاف کی قیادت ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں،شیر افضل مروت جو پارٹی کارکنان کو متحرک رکھتے ہیں، خیبر پختونخوا میں پارٹی کنونشن کئے، کراچی ،حیدرآباد میں پروگرام کئے، لاہور آئے تو گرفتار کر لئے تا ہم عدالت نے رہائی دی، وہ بیان دیں تو پی ٹی آئی لاتعلقی کا اعلان کر دیتی ہے،شیر افضل مروت نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نہیں عمران خان نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ چیف جسٹس پر اعتماد نہیں، بیرسٹر گوہر نے اسی دن پریس کانفرنس کی تو شیر افضل مروت نے اسی مقام پر الگ پریس کانفرنس کی،

    اب تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے شیر افضل مروت کے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ شیر افضل مروت کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں، پارٹی ان کے کسی بیان کو اون نہیں کرتی، شیر افضل مروت نے رؤف حسن کے اس بیان پر ردعمل میں پارٹی ترجمان رؤف حسن کو سازشی قرار دے دیا، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پارٹی کے ترجمان روف حسن نے الیکٹرانک میڈیا پرمیرے خلاف 4 بار بات کی، رؤف حسن سازشی ہیں اور اکثرپارٹی میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف رہتے ہیں، میرے خلاف یہ مہم سندھ کی کامیاب مہم کونیچا دکھانے کیلئےشروع ہوئی ہے، میری عمران خان سے درجن بھر وکلا اور بہنوں کے ہمراہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، رؤف حسن بانی پی ٹی آئی مخالف صحافیوں کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی اور جے یو آئی شیرانی گروپ الائنس ختم کرایا، رؤف حسن نگران حکومت میں موجود اپنے بھائی فوادحسن فوادکیلئےکام کررہا ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

     ایسا ریکارڈ نہیں جس سے شیر افضل مروت کے خلاف کوئی کرپشن چارجز ہوں

  • پی ٹی آئی کی چیف جسٹس پر تنقید،ٔپاکستان،سپریم کورٹ بار میدان میں آ گئیں

    پی ٹی آئی کی چیف جسٹس پر تنقید،ٔپاکستان،سپریم کورٹ بار میدان میں آ گئیں

    پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کے نمائندگان نے موجودہ ملکی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ بلے کے انتخابی نشان سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی سے نشان واپس لے لیا گیا،ہمیشہ پاکستان میں جمہوریت کو آمریت نے دبایا ہے،جو طاقتیں پی ٹی آئی کو لائی تھیں وہی پی ٹی آئی کو واپس لے گئیں،پی ٹی آئی کا سربراہ جمہوری نہیں تھا تو اسے تحریک عدم اعتماد سے گھر بھیجا گیا،سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خلا ہے تو دیکھا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم ہے تو بتائیں، سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف سینئر وکلاء کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں کہ یہ جج فلاں فلاں ہے،آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو اس پر اعتراض کیا جارہا ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ اداروں کو کمزور کیا ہے،کچھ سینئر وکلا اور پی ٹی آئی کے رہنما ججز پر تنقید کر رہے ہیں،پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے جس پر انکے خلاف کاروائی ہوئی،پی ٹی آئی نے گمنام گاؤں میں انٹرا پارٹی الیکشن کرائے،وکلا اور پی ٹی آئی کے کارکنان سے گزارش ہے ججز پر بے جا تنقید نہ کی جائے،

    سپریم کورٹ تنقید کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے،حسن رضا پاشا
    چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو عدالت نے معصوم کہا تو ایک جماعت کی جانب سے ٹرولنگ شروع ہو گئی، جب تک کسی پر جرم ثابت نا ہو وہ قانون کی نظر میں معصوم ہی ہوتا ہے،سائفر مقدمے میں ابھی جرم ثابت نہیں ہوا تو کہہ دیا گیا کہ سپریم کورٹ معصوم ڈکلئیر کر رہی ہے، نو گھنٹے کی سماعت میں پی ٹی آئی کے وکلاء کی تیاری نہیں تھی،جب پوچھا گیا کہ انتخابات کہاں کرائے تو چمکنی کے گاوں کا بتایا، سب سے بڑی بات کہ پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کا ذکر نہیں کیا،ایک ہائیکورٹ میں درخواست زیر التوا ہونے کا ذکر دوسری عدالت میں نا کیا جائے تو عدالتیں کیا برتاو کرتی ہیں سب کو پتا ہے،پی ٹی آئی کا حق ہے کہ نظر ثانی دائر کرے، اس فیصلے کا ایک پہلو اخلاقی اور ایک قانونی ہے، اخلاقی طور پر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملنا چاہیے،قانونی طور پر انٹراپارٹی انتخابات کرائے بغیر ریلیف ملنا ممکن نہیں تھا، سینئیر وکلاء کو جس عدالت سے ریلیف لینا ہے اس کے بارے الفاظ کے چناو میں محتاط ہونا چاہیے،سینئیر وکلاء کی جانب سے بلا وجہ تنقید کو بار کونسلز برداشت نہیں کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف مہم کی پرزور مذمت کرتے ہیں، پی ٹی اے اور ایف آئی اے چیف جسٹس کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف خاموش تماشائی نا بنیں،سپریم کورٹ اپنے خلاف نام لے لے کر تنقید کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے،

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سپریم اور پاکستان بار سمیت وکلاء ججز پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان لیا تو پشاور ہائیکورٹ نے واپس دیا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، سپریم کورٹ میں دو دن مسلسل کیس کی سماعت ہوئی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کی، جس پر سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر تنقید کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے وکلا بھی چیف جسٹس پر تنقید کر رہے ہیں،

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

     سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں

     (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

  • جس طرح جیل میں ملزم (عمران خان)  نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا،ممبر الیکشن کمیشن

    جس طرح جیل میں ملزم (عمران خان) نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا،ممبر الیکشن کمیشن

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے سماعت کی، شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں تو سماعت کا معلوم ہی نہیں، کوئی نوٹس نہیں ملا۔ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ کمیشن نے جیل ٹرائل نہیں کرنا،سماعت کمیشن میں ہونے کا نہیں پتا تھا۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ جیل میں گزشتہ سماعت میں تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا۔ شعیب شاہین نے کہا کہ یہ زیادتی ہے، ہمیں لیول پلئینگ فیلڈ بھی نہیں مل رہی۔ ہمارے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ آپ ہمیں گالیاں نکالیں تو ہم آگے سے کچھ نہ کریں؟شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے خلاف پی ڈی ایم جماعتیں کیا کچھ نہیں بولیں انہیں تو کسی نے نہیں بلایا۔ رحیم یار خان میں ہمارے 150 لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ دییے گئے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ تو آپ کیوں حملے کرتے ہیں انتخابی عملہ پر۔ شعیب شاہین نے کہا کہ عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ممبر سندھ نے کہا کہ جس طرح جیل میں ملزم نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا۔

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اس کیس کو ملتوی کر دیں، آپ ہم سے تنقید کا حق بھی چھین رہے ہیں، بلّے کا نشان بھی چھین لیا، اب الیکشن کے دنوں میں ہمارے لیڈر پر توہین الیکشن کمیشن کی سزا ہو جائے گی،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے چھینا نہیں، آپ کو دیا نہیں تھا، اس کیس کو دو سال ہو گئے ہیں، اس وقت آپ کی حکومت تھی،شعیب شاہین نے کہا کہ اللہ کرے فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو، ہمارے اندر لاوا پکا ہوا ہے، ہم اس کا اظہار نہ کریں،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ رحیم یار خان میں آپ کے وکلاء نے حملہ کیا تنقید ہونی چاہیے گالی تو نہیں ہونی چاہیے، یہ کیسز 2021 سے پڑے ہیں، آپ نے کیس کو اتنا طول دے دیا جیل میں جو ہوا اس پر ہم خاموش رہے جیسے ملزم نے جیل میں کیا ایسا ہم نے پہلے نہیں دیکھا، ہم بہت کچھ کر سکتے تھے،الیکشن کمیشن نے کیسز کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر اڈیالہ جیل میں الیکشن کمیشن نے توہینِ الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اور فواد چوہدری پر فردِ جرم عائد کر دی تھی،

    چارج شیٹ کے مطابق عمران خان اور فواد چوہدری نے 2022ء میں الیکشن کمیشن کے خلاف منصوبہ بندی سے تضحیک آمیز مہم کا سلسلہ شروع کیا ملزمان نے ایک نہیں متعدد بار الیکشن کمیشن اور سربراہ کے خلاف متعصبانہ اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی، ملزمان نے 12جولائی 2022ء کو بھکر میں عوامی جلسے کے دوران الیکشن کمیشن کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی ملزمان نے 18جولائی اور 27 جولائی کو عوامی جلسوں میں الیکشن کمیشن اور سربراہ پر من گھڑت الزامات عائد کیے،ملزمان نے 4 اگست اور 10 اگست 2022ء کو الیکشن کمیشن کو اسکینڈلائز کیا، عمران خان اور فواد چوہدری نے جلسوں میں آئینی ادارے کو تضحیک کا نشانہ بنایا ،مطلوبہ شواہد، ویڈیوز اور دستاویزات کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کیا جائے ملزمان نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توہین کی سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے تحت الیکشن کمیشن ملزمان کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے.

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 اگست کو عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو نوٹسز جاری کیے تھے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں نے مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے دوران الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر الزمات عائد کیے تھے

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • بشریٰ بیمار ہے، وکیل،میرا کوئی رابطہ نہیں،فون ہی کروا دیں،عمران خان

    بشریٰ بیمار ہے، وکیل،میرا کوئی رابطہ نہیں،فون ہی کروا دیں،عمران خان

    غیر شرعی نکاح کیس میں آج بھی فرد جرم عائد نہ ہوسکی، کارروائی کل تک مؤخر کر دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی،سینئر سول جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سماعت کی،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگائی گئی، بشریٰ بی بی آج بھی پیش نہ ہوئیں، بشریٰ بی بی کے وکلاء کی جانب سے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی،وکیل مدعی راجہ رضوان عباسی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کی گئی،رضوان عباسی نے کہا کہ آخری سماعت پر میڈیکل پیش کیا گیا نہ اس سماعت پر میڈیکل پیش کیا گیا، ملزمان کی جانب سے مقدمے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، استثنیٰ کی درخواست مسترد کی جائے اور وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، وکیل صفائی نے کہا کہ آپ حکم دیں تو میڈیکل رپورٹ بھی پیش کردی جائے گی،

    دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ یہ مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، انہیں کہیں لینڈ لائن سے ہی مجھے ٹیلی فون کرنے دیں، میں ایک رات پہلے ہی سب ارینج کرلیا کروں گا،

    دوران سماعت وکلا صفائی کی جانب سے بشریٰ بی بی کی آئندہ سماعت پر حاضری کی یقین دہانی کروائی گئی،عدالت نے وکلاء کی یقین دہانی پر بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی ،عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،غیر شرعی نکاح کیس میں کل ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی

    بلاول کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں،چیف جسٹس قرآن کے پانچریں پارہ کی آٹھویں آیت پڑھیں، عمران خان
    دوسری جانب عمران خان نے صحافیوں سے جیل میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سے کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کے پانچویں پارہ کی 8 ویں آیت پڑھ لیں ،قران میں ہے کہ دشمنوں سے بھی اتنی نفرت نہ کرو کہ انصاف نہ کر سکو،بلے کے کیس کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ ہونا چاہیے تھا ،سب کچھ لندن پلان کے تحت ہو رہا ہے،عمران خان کا جیل میں ہونا پی ٹی ائی کا خاتمہ اور نواز شریف کے کیس معاف ہونا لندن پلان کا حصہ ہے،سب کچھ یہ بتانے کے لیے ہو رہا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں،توشہ خانہ ریکارڈ پر ہے کہ نواز شریف نے چھ لاکھ میں مرسیڈیز گاڑی لی مریم نواز نے بی ایم ڈبلیو گاڑی لی،ان کے سارے کیسز بند ہیں ہمارا ایک کیس ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے،ڈونلڈ لو اور جنرل باجوا کو ایکسپوز کرنے کی سزا دی جا رہی ہے،سپریم کورٹ بھی لندن ایگریمنٹ کے تحت چل رہی ہے،واحد آدمی ہوں جس نے 27 سال جدوجہد کر کے پارٹی کو اس جگہ پہنچایا،ان کو پبلک کے غصہ کا اندازہ نہیں ہے،سوشل میڈیا کے دور میں کوئی چیز چھپ نہیں سکتی،آج پیش گوئی کر رہا ہوں کہ ان کو دھچکا لگنے والا ہے،پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے نہیں دی جا رہی،انہیں لوگوں کا غصہ آٹھ فروری کو نظر ائے گا،پارٹی اس وجہ سے کرش نہیں ہوئی کیونکہ عوام ساتھ کھڑی ہے،لوٹوں کی حالت بھی آٹھ فروری کو نظر آئے گی،پی ٹی آئی کے 850 ٹکٹ تھے مشاورت کے لیے رجسٹر بھی جیل نہیں آنے دیا گیا،بلاول کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں ہو سکتا،نواز شریف نے جانبدار امپائرز کے بغیر کبھی میچ نہیں کھیلا،نواز شریف نے ابھی بھی دو امپائر کھڑے کیے ہوئے ہیں،ایک ایمپائر نے نو بال دے دی ہے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل ضرور دائر کریں گے، بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل ضرور دائر کریں گے، بیرسٹر گوہر

    رہنما تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    بیرسٹر گوہر علی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تین دنوں کے اندر اپنے امیدوار کی انتخابی نشانات کیساتھ لسٹ جاری کریگی،عوام سے اپیل ہے پی ٹی آئی کے منتخب کردہ نمائندوں کو ووٹ دیگر کامیاب بنائیں ،جو سیٹیں پینڈنگ میں رکھی تھی وہ جلدی فائنل ہو جائینگی،سپریم کورٹ کے بلے کے فیصلے سے 25کروڑ عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ،یہ جمہوریت کیخلاف ایک سازش کامیاب ہوئی ہے، جمہوریت کا ایک بڑا نقصان ہوا ہے اس سے کرپشن کی ایک ابتدا ہو گی ،ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کرینگے ،سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ہر صورت دائر کرنی ہے آئین کے تحت کیا کسی پارٹی سے نشان واپس لیا جا سکتا ہے یا نہیں ،قانون کے تحت اس کیس کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نہیں پانچ رکنی بینچ کو سننا چاہیے تھا ،بانی پی ٹی آئی کا ووٹرز کو یہ مسیج ہے کہ گھبرانا نہیں ہے اپنے ووٹ کی حفاظت کرنی ہے ،8 فروری کو جیت ہو گی پر امن رہنا ہے،

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، پی ٹی آئی سے بلا چھن گیا،جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں‌کو دیگر انتخابی نشان الاٹ کر دیئے ہیں، آج صبح پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست بھی واپس لے لی ہے،