Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الیکشن التوا کی قرارداد،سیاسی جماعتوں کا ردعمل،الیکشن کمیشن کا مؤقف

    الیکشن التوا کی قرارداد،سیاسی جماعتوں کا ردعمل،الیکشن کمیشن کا مؤقف

    سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد پیش کی گئی جو منظور کر لی گئی

    قرارداد پیش کرتے وقت سینیٹ میں صرف 14 اراکین موجود تھے، قرارداد سینیٹ کے ایجنڈے کا حصہ بھی نہیں تھی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایجنڈا معطل کر کے سینیٹر دلاور خان کو قرارداد لانے کی اجازت دی، عموماً نمازِ جمعہ کے بعد سینیٹ اجلاس نہیں ہوتا، آج ہوا۔ قرارداد 2018میں ن لیگ کے ووٹوں سے سینیٹر بننے والے دلاور خان نے پیش کی، بلوچستان عوامی پارٹی سے منسلک اور فاٹا ارکان نے قرارداد کی حمایت کی، نواز لیگ کے افنان اللہ، پیپلز پارٹی کے بہرہ مند تنگی، تحریک انصاف کے گردیپ سنگھ نے مخالفت کی۔

    آج سینٹ میں جو ہوا، شرم آنی چاہئیے چئیرمین سینٹ کو،نثار کھوڑو
    پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ذوالفقار بھٹو کے بعد بے نظیر بھی عوام میں نکلی اور بے نظیر بھی ہم سے چھین لی گئی,بلاول کہتا ہے میرے ساتھ صرف عوام کے ساتھ ہے کیونکہ وہ مانتا ہے طاقت کا سرچشمہ عوام ہے, تھوڑی سے ببھکی ملی تو لوگ عمران خان کو چھوڑ گئے,نواز شریف مشرف کے دور میں ملک سے بھاگا تو لوگ اسے بھی چھوڑ گئے, آج سینٹ میں جو ہوا، شرم آنی چاہئیے چئیرمین سینٹ کو, صرف 14 لوگ تھے سینٹ میں، کورم 25 لوگوں کا ہوتا ہے, ہم شدید مذمت کرتے ہیں اس قرارداد کی, کئی مسئلے آئے پاکستان میں, لیکن کبھی الیکشن ملتوی نہیں ہوئے, یہ صرف پیپلز پارٹی ہے جو کہہ رہی ہے الیکشن کرواؤ, نواز شریف، عمران خان کوئی نہیں کہہ رہا الیکشن کرواؤ,

    سینیٹر بہرہ مند تنگی کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری
    پیپلزپارٹی نے سینیٹر بہرہ مند تنگی کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ،پیپلز پارٹی نے بہرہ مند تنگی سے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا ،شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ سینٹ نے آج 8 فروری کے انتخابات سے متعلق قرار داد پاس کی ،آپ نے قرارداد کے حق میں تقریر بھی کی ،پیپلز پارٹی انتخابات بروقت چاہتی ہے ، آپ نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کیوں کی ،

    سات آٹھ سینیٹرز کی رائے کو ایوان بالا کی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا،عرفان صدیقی
    مسلم لیگ ن کی منشور کمیٹی کے چئیرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ الیکشن ملتوی کرنے کی نام نہاد قرارداد ،سینیٹ میں موجود کسی جماعت کی نمائندگی نہیں کرتی،100کے ایوان میں سات آٹھ سینیٹرز کی رائے کو ایوان بالا کی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا،مسلم لیگ ن نہ تو اسے سینیٹ کی آواز سمجھتی ہے، نہ ہی انتخابات کا التوا ملکی مفاد میں خیال کرتی ہے

    قرارداد کو پاس کرنے والے تمام سینیٹرز پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے،شیر افضل مروت
    الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد منظور ہونے پر پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں آج آئین کو پامال کیا گیا ہے، آئین میں کوئی شق ہی نہیں کہ انتخابات ملتوی ہوں سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کرنا آئین پر حملہ ہے،اس قرارداد کو پاس کرنے والے تمام سینیٹرز پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے، سینیٹ آئین کے منافی کوئی قرارداد منظور ہی نہیں کرسکتا.

    سینیٹ سے آئین کیخلاف قرارداد منظور کی گئی،بیرسٹر علی ظفر
    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ قرارداد پاس کرکے سینیٹ اور پاکستانیوں کاوقار مجروح کیاگیاہے، آئین کہتاہے کہ ملک میں انتخابات 90دن میں کرائے جائیں،آج سینیٹ سے آئین کیخلاف قرارداد منظور کی گئی،سینیٹ میں 8 فروری کو انتخابات کرانے کی قرارداد لائیں گے۔

    الیکشن میں التوا کی قرارداد کی منظوری کے وقت ایوان میں تحریک انصاف کے صرف سینیٹر گردیپ سنگھ سینیٹ میں موجود تھے جنہوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی،بہرہ مند تنگی کا کہنا ہے کہ مجھ سمیت کسی کو پتہ نہیں تھا کہ آج قرارداد پیش کی جا رہی میں نے اور افنان اللہ نے مخالفت کی،

    سینیٹ میں قرارداد کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 8 فروری 2024 کو ہی ہوں گے، سینیٹ کی قرارداد کا الیکشن شیڈول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، سپریم کورٹ کے احکامات کے سوا کوئی احکامات الیکشن شیڈول پر اثر انداز نہیں ہو سکتے

    الیکشن میں ایک روز کی تاریخ بھی پاکستان کیلئےبہت نقصان دہ ہوگی،جاوید لطیف
    سابق وفاقی وزیر، مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ سینیٹ سے قرارداد کے ذریعے الیکشن ملتوی کرانے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی نہ ہی اس قرارداد کی کوئی اہمیت ہے۔الیکشن میں ایک روز کی تاریخ بھی پاکستان کیلئےبہت نقصان دہ ہوگی ، پاکستان کےساتھ پہلے ہی بہت کھلواڑ ہوچکا معاشی تباہی اور بربادی ہوچکی ملک مزید کسی ایڈونچرکا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    بےنظیر کی شہادت کے بعد بھی ملک میں الیکشن ہوئے،التوا نہیں چاہتے، شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی رہنما، سابق وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں منظور ہونے والی قرار داد پر پیپلز پارٹی ارکان کےدستخط نہیں ہیں،نہیں چاہتے الیکشن ملتوی کرنےکی کسی قرارداد میں ہماری آواز شامل ہوں،سینیٹ کی ویڈیو دیکھ کربہرہ مند تنگی سے وضاحت لیں گے،ہم وقت پر الیکشن چاہتے ہیں،بےنظیر کی شہادت کے بعد بھی ملک میں الیکشن ہوئے،دہشت گردی کا سب سے بڑاہدف پیپلز پارٹی رہی ہے،پیپلز پارٹی وقت پر الیکشن چاہتی ہے، ہماری انتخابی مہم جاری ہے،ہم نے وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار کا بھی اعلان کر دیا ہے،بلاول ہمارے وزیراعظم ہوں گے،سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ آ چکا ہے، ملک میں کوئی غیر یقینی کی کیفیت نہیں ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جمہوری عمل کے لیے الیکشن کے ساتھ مزید آگے بڑھیں

    الیکشن التوا سے متعلق سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد آئین سے بغاوت ہے،شہادت اعوان
    پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ الیکشن التوا سے متعلق سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد آئین سے بغاوت ہے، الیکشن کا التوا وہ چاہتے ہیں جنہیں اپنی ہار صاف نظر آرہی ہے،ہم ہر صورت الیکشن چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی کسی صورت الیکشن کا التوا نہیں چاہتی ہے، یہ موٹیویٹڈ موو تھا یہ سازش تھی الیکشن ہر صورت بر وقت ہونے چاہئیں،یہ سب پلان کے تحت ہوا، آج آرڈر آف دا ڈے میں یہ بات شامل نہیں تھی، پیپلز پارٹی الیکشن کے لئے مکمل تیار ہے

    چیئرمین سینیٹ نے آج سازشی کردار ادا کرکے سینیٹ کو سازش کا گڑھ بنا دیا،تاج حیدر
    پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ نے آج سازشی کردار ادا کرکے سینیٹ کو سازش کا گڑھ بنا دیا، سینیٹ میں پاس کی گئی قرارداد جمہوریت کے خلاف سازش ہے، قرارداد کی صورت میں اسرائیل کی طرح سینیٹ پر بم گرایا گیا ہے، سینیٹ میں پیش کی گئی قرارداد ایجنڈے میں شامل نہیں تھی، قرارداد کے خلاف سینیٹ میں قرارداد پیش کرکے اس قرارداد کو رد کروایا جائے گا،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • کرکٹ ذکا اشرف کی "ہابی” پھر پی سی بی چیئرمین کیوں بنایا گیا؟ سینیٹ میں سوال

    کرکٹ ذکا اشرف کی "ہابی” پھر پی سی بی چیئرمین کیوں بنایا گیا؟ سینیٹ میں سوال

    چئرمین پی سی بی ذکا اشرف کی آڈیو اور انکی تقرری بارے سینیٹ میں بحث ہوئی

    چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئیں،سینیٹ کے اجلاس میں وزارتِ بین الاصوبائی رابطہ نے اس ضمن میں تحریری جواب پیش کر دیا، تحریری جواب میں کہا گیا کہ ذکاء اشرف ایک معروف بزنس مین ہیں اور اس وقت چیئرمین پی سی بی ہیں،ذکاء اشرف اس وقت چیئرمین اشرف گروپ آف انڈسٹریز ہیں،ذکاء اشرف اس وقت چیئرمین شوگر ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ اور ممبر چیف منسٹر پنجاب ایگریکلچر ٹاسک فورس ہیں، ذکاء اشرف کے تجربے میں چیئرمین پی سی بی اور چیئرمین ایشین کرکٹ کونسل ڈیولپمنٹ کمیٹی ہے، ذکاء اشرف کے مشغلے میں کرکٹ، زراعت،ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ہے

    چیئرمین پی سی بی کی تقرری، سینیٹ میں بھی گونج،آڈیو لیک کا بھی تذکرہ
    سینیٹ میں بھی چیئرمین پی سی بی کی تقرری کی گونج سننے میں آئی، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیاست میں آڈیو لیکس کا سنا تھا اب کرکٹ میں میں آڈیو لیکس آنے لگی ہیں،میں نے چئیرمین پی سی بی کی تقرری کا طریقہ پوچھا تھا،بتایا گیا وہ شوگر مل کے چئیرمین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور صادق پبلک اسکول کے ممبر رہے ہیں؟انہوں نے کرکٹ کو مشغلہ کے طور پر لکھا ہے،ان کا کرکٹ کا تجربہ کچھ نہیں،ا اگر مشغلہ ہو گا تو پھر یہ کرکٹ کا یہی حال ہو گا، کھیلوں کا تجربہ نہیں تو چیئرمین کیوں بنایا گیا، ہماری اولمپکس اور ہاکی کی بھی تباہی ہو چکی ہے،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر جواب میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی، وہ پہلے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں انکی کارکردگی چیک کی جا سکتی ہے موجودہ نگران حکومت نے ان کے اختیارات محدود کر دیئے ہیں،وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں لے سکتے اور جو الیکشن ہیں اس کا حکم بھی دیا ہے،

     ٹی ٹونٹی کو ختم کرنا ہوگا،ٹی ٹونٹی سے پیسہ بن سکتا ہے پلیئرز نہیں

    چئیرمین پی سی بی ذکا اشرف کی آسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات 

    پاکستانی کھلاڑی طلحہ کے کنٹرول میں،ذکا اشرف کی آڈیو لیک

  • الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی، جس وقت قرارداد پیش کی گئی اسوقت سینیٹ میں چودہ اراکین موجود تھے،ن لیگی سینیٹر افنان اللہ خان نے قرارداد کی مخالفت کردی، قرارداد کی منظوری کے وقت پی پی کے بہرمند تنگی،پی ٹی آئی کےا گردیپ سنگھ، ن لیگ کے افنان اللہ ،مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا ودیگر ایوان میں موجود تھے،آزاد گروپ کےدلاور خان،ہدایت،اللہ ہلال الرحمن ،باپ کےمنظور کاکڑ،ثمینہ زہری، احمد خان، ثناء جمالی کہودہ بابر،پرنس احمد عمر،نصیب اللہ بازائی ایوان میں موجود تھے

    سینیٹر دلاور خان نے اس موقع پر کہا کہ میں نے ایک بل سینیٹ سیکریٹریٹ کو ایک بل دیا ہوا ہےمیں ایک قرارداد پیش کرنا چاہتا ہوں,الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے شفاف الیکشن کروائےالیکشن کمیشن کا کام ہے کہ الیکشن میں اچھا ٹرن آؤٹ ہوسیاسی جماعتیں کی لیڈرشپ پر حملے کئے جارہے ہیں,مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری ہورہے ہیں,یہ تھریٹ الرٹ مختلف ایجنسیز نے جاری کئے8 فروری کو ہونے والے الیکشن ملتوی کئے جائیں,

    ایوان میں وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے مخالفت کی تو قراداد دوبارہ پیش کی گئی جس پر سینیٹر افنان اللہ،سینیٹر گردیپ سنگھ نے مخالفت کی باقی سب نے حمایت کی ،پہلی بار صرف افنان اللہ نے مخالفت کی تھی

    سینیٹ اجلاس کے آغاز پر سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی مغفرت کیلئے دعا کرائی گئی،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعائے مغفرت کرائی،سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ سرتاج عزیر کی ملک کیلئے وسیع خدمات رہی ہیں، مرحوم تعلیم،معشیت اور زرعی حوالے سے ماہر تھے، سرتاج عزیز نے فاٹا مرجر متعلق قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا،مرحوم محب وطن پاکستانی اور آخری دم تک پاکستان کی بہتری کیلئے کوشاں رہے، ایوان بالا کی طرف سے تعزیت کا خط انکے خاندان کو جانا چاہیے،

    چیئرمین پی سی بی کی تقرری، سینیٹ میں بھی گونج،آڈیو لیک کا بھی تذکرہ
    سینیٹ میں بھی چیئرمین پی سی بی کی تقرری کی گونج سننے میں آئی، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیاست میں آڈیو لیکس کا سنا تھا اب کرکٹ میں میں آڈیو لیکس آنے لگی ہیں،میں نے چئیرمین پی سی بی کی تقرری کا طریقہ پوچھا تھا،بتایا گیا وہ شوگر مل کے چئیرمین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور صادق پبلک اسکول کے ممبر رہے ہیں؟انہوں نے کرکٹ کو مشغلہ کے طور پر لکھا ہے،ان کا کرکٹ کا تجربہ کچھ نہیں،ا اگر مشغلہ ہو گا تو پھر یہ کرکٹ کا یہی حال ہو گا، کھیلوں کا تجربہ نہیں تو چیئرمین کیوں بنایا گیا،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر جواب میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی، وہ پہلے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں انکی کارکردگی چیک کی جا سکتی ہے موجودہ نگران حکومت نے ان کے اختیارات محدود کر دیئے ہیں،وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں لے سکتے اور جو الیکشن ہیں اس کا حکم بھی دیا ہے،

    آئن لائن کھیلوں میں جوئے کےسائٹس اور کرکٹ میچوں میں جوئے کیلئے پاکستانیوں کا استعمال پر سینیٹ میں تحریری جواب جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا کہ ویب سائٹس بعض غیرملکیوں کی جانب سے کنٹرول کیے جاتے ہیں،پلیٹ فارمز پاکستان میں خدمات کی پیشکش تو نہیں کررہے

    سعودی عرب سے رہا قیدیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے 4 ہزار 130 پاکستانی قیدی رہا ہوئے،وزارت خارجہ نے تفصیلات سینیٹ میں پیش کردیں، وزارت خارجہ نے تحریری جواب میں کہا کہ اکتوبر 2019 کے بعد سے اب تک 4130 پاکستانی سعودی عرب سے رہا ہوئے ہیں، سال 2019 میں 545, 2020 میں 892, 2021 میں 916 پاکستانی، 2022 میں 1331 اور سال 2023 میں 447 پاکستانی قیدی سعودی عرب سے رہا ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ رہائی پانے والوں میں سے کتنے سعودی حکومت کی اعلان کردہ نرمی کی وجہ سے رہا ہوئے ہیں.

    ادویات کی قیمتوں‌میں اضافہ، سینیٹ میں بحث،ہم نے اضافہ نہیں کیا، نگران وزیر صحت
    سینیٹ اجلاس میں ادویات کی قلت ،قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،سینیٹر مشتاق احمد نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق بات کی،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے،صرف مرگی کی دوا کی قیمت میں کافی اضافہ ہوا ہے مجھے پتہ ہوتا تو ادویات ساتھ لے آتا، نگران وزیر صحت ندیم جان نے ایوان میں کہا کہ ” ہماری حکومت میں سات پیسے دوا مہنگی نہیں ہوئی یہ اضافہ سی پی آئی پالیسی کے تحت اضافہ ہوا ہے ہم نے خود نہیں کیا، اگر کوئی ثبوت آپکے پاس ہے تو لے آئیں دس سے پندرہ قسم کی دوا متعلق ڈریپ نے بتایا کہ فارما کو نقصان ہورہا ہے ہم نے ڈریپ کو کہا ہے فارما سے بات کریں، آئن لائن سروس اور پورٹل سروس سے مانیٹرنگ ہورہی ہےاب تک 77 شکایات درج ہوئیں جس پر ایکشن ہوا ہم روزانہ کی بنیاد پرذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی پر کارروائی کررہے ہیں”

    سینیٹر بہرامند تنگی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، بہت سی اہم ادویات کافی مہنگی ہوگئی ہیں، اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے،سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ ادویات مہنگی ہونے کے باوجود صحت حکام کو پتہ تک نہیں بتایا جائے اسپتال کی مد میں کتنی ادویات جارہی ہیں اور کتنے کی خریدی جارہی ہیں؟ نگران وزیرصحت ندیم جان نے کہا کہ ادویات کی شارٹیج ہے لیکن اتنا نہیں کہ کنٹرول نہ ہوسکے، ہم ادویات کو دیکھ رہے ہیں آپ بھی ہماری آواز بنیں،سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ کہا گیا عالمی ادارہ صحت اور یونیسف ہمیں فنڈز نہیں دیتے،کیا آپکے کہنے پر وہ فنڈز دیتے ہیں؟ ضروریات کیا آپ بتاتے ہیں؟نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ہم انہیں اپنی ضروریات بتاتے رہتے ہیں، جسے وہ اپنے اسٹاک سے مہیا کرتے ہیں، ہمارا سسٹم بہت کمزور ہے اس پر سرمایہ کاری ہونی چاہیے،سینیٹر بہرامند تنگی نے کہا کہ غیر معیاری اور جعلی ادویات کی روک تھام متعلق کیا حکمت عملی ہے؟ اگر سب بہترین وسائل موجود ہیں تو ملک میں ایک نمبر دو نمبر نہیں بارہ نمبر ادویات کیوں ہیں؟ نگران وزیر صحت ندیم جان کا کہنا تھاکہ 262 دوائیاں آئیں کہ ان کی قیمت بڑھائیں،لیکن ہمیں عوام کی قوت خرید کا پتہ ہے، ہماری پالیسی کے مطابق دوائی مہنگی نہیں ہوئی، 2018 میں پالیسی بنی کہ فارما کمپنی سات فیصد اور دس فیصد تک قیمتیں بڑھا سکتی ہیں پھر 2021 میں اس کو بڑھایا گیا، سی پی آئی کے تناظر میں قیمتیں بڑھیں ، اسکے علاوہ اگر کوئی اضافہ ہوا تو سامنے لائیں،ہم ایکشن لیں گے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے پمز اور پولی کلینک میں ادویات کی قلت کا معاملہ اٹھادیا، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت ادویات کی قلت کو کیوں ختم نہیں کر رہی،وزارت صحت نے تحریری جواب میں کہا کہ پمز کو چند ادویات کی کمی کا سامنا ہے، ایک تو بجٹ کم ہونے کے باعث ادائیگی کے مسائل کی بابت ادویات کی قلت ہے، دوسرا مہنگائی کے باعث طلب اور رسد میں غیر مطابقت واقع ہو جاتی ہے، پمز کے ساتھ ساتھ پولی کلینک ہسپتال میں بھی بعض ادویات کی قلت کا انکشاف سامنے آیا ہے،پولی کلینک ہسپتال میں اینٹی ریبیز کی ویکسینیشن بھی دستیاب نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا، سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ پمز کے حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے ہیں،سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مرگی کی دوائی آٹھ دس مہینے سے مارکیٹ میں نہیں ہے،

    کرونا کی نئی قسم، سینیٹ میں سوال،ابھی کوئی کیس پاکستان میں نہیں، جواب
    سینیٹر محسن عزیز نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ پاکستان میں کوئی نئی قسم کا کورونا آیا ہے، کیا یہ سچ ہے اور اس کے لئے حکومت کیجانب سے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں؟ جس پر نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ابھی تک کوئی بھی کورونا کا نیا کیس پاکستان میں نہیں آیا، ہم اس معاملے پر ریڈ الرٹ پر ہیں، ہم نے تین مرتبہ ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ پیمرا سے گزارش ہے کہ ایڈوائزری کو چلائیں، ایڈوائزری میں واضح کہا ہے کہ کوئی نیا کیس نہیں آیا تاہم احتیاط کی جائے.

    یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے
    سینیٹ میں یوریا کھاد کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ کہ زراعت ہماری معیشت کا ایک چوتھائی ہے ،ہم جتنے منصوبے بنارہے ہیں وہ زراعت کے بغیر نہیں چل سکتے ،دولاکھ بیس ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کی گئی ہے ،یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے ،باہر سے کھاد منگوانے کا فیصلہ لیٹ کیا گیا جس کی وجہ سے کھاد مہنگی ہوئی ہے ،صوبوں کو یوریا کھاد کی سپلائی بڑھائی ہے،مافیاز کے خلاف ایف آئی آر ز کا اندراج بھی کروائے ہیں ،یوریاد کھاد کی قیمت چار ہزار روپے ہے

    سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گلوبلی ہمارا سوشل سیکٹر پر بہت کم خرچ ہے، تمام صوبوں کی یہاں نمائندگی ہے، صوبوں کے وسائل ان کے پاس ہیں،کہاجاتا ہے وزیراعظم ہونے سے بہتر ہے صوبے میں چیف منسٹر ہوں،صوبے مل کر وفاقی حکومت کے ساتھ طے کریں کہ صحت اور تعلیم پر خرچ میں کئی گنا اضافہ ہونا چاہئے،

    حماس کے ترجمان خالد قدومی سینیٹ اجلاس کے دوران گیلری میں موجود تھے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہمیں فلسطینی بھائیوں پر فخر ہے، پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کرتا ہے،پاکستانی عوام فلسطین کے ساتھ ہیں، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیل کسی بین الاقوامی قانون کو خاطر میں نہیں لاتا،او آئی سی اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرے، او آئی اسی پبلک ہیئرنگ کرے،امریکہ نے اسرائیل کو سپورٹ دی ہے، عالمی برادری اس کا نوٹس لے

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کا وقت ختم ہو چکا، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 15،اعظم سواتی الیکشن سے "آؤٹ” شعیب شاہین،عامر مغل کے اسلام آباد سے کاغذات منظور
    اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،عامر مغل کے کاغذات نامزدگی این اے 46 اور 47 سے منظور ہو گئے، پی ٹی آئی رہنما زبیر فاروق ، چوہدری الیاس مہران ، عامر فاروق ، نیاز اللہ نیازی کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے

    این اے 15، اعظم سواتی کی پٹیشن خارج،الیکشن نہیں لڑ سکتے،
    اعظم خان سواتی کی الیکشن ٹربیونل نے پٹیشن خارج کر دی ، اعظم خان کے کاغزات آر او نے این اے 15 سے مسترد کئے تھے ،اعظم سواتی نے الیکشن ٹربیونل میں آر او کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا ،الیکشن ٹربیونل نے آر او کے فیصلہ کو بحال رکھ کر اپیل خارج کر دی،سینیٹر اعظم سواتی این اے 15 سے پی ٹی ائی کے امیداور تھے، این اے 15 سے نوا ز شریف الیکشن لڑ رہے ہیں، اعظم سواتی نے نواز شریف کے مقابلے میں کاغذات جمع کروائے تھے

    مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری
    لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل پر اعتراض ہٹا دی، جسٹس رسال حسن سید نے این اے 117 کے ریٹرنگ افسر کو نوٹس جاری کردیا، جسٹس رسال حسن سید نے کہا کہ ریٹرنگ افسر کل ریکارڈ لے کر عدالت میں پیش ہوں، مریم نواز کے کاغذات کی منظوری کے خلاف ندیم شیروانی نے اپیل دائر کر رکھی ہے، اپیل میں این اے 119 کے ریٹرننگ افسر کو فریق بنایا گیا ہے، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ، مریم نواز نے کاغذات میں درست حقائق بیان نہیں کیے ، اپیلیٹ ٹریبونل مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے.

    خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مستر د ہونے پر نوٹس جاری
    لاہور 122این اے سے سردار خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف الیکشن اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپیلٹ بنچ نے اپیل پر آر اوکو نوٹس جاری کرتے ہوے جواب طلب کرلیا ، وکیل اپیل کنندہ نے کہا کہ تجویز کنندہ کا ووٹ 15 دسمبر کو تبدیل کر دیا گیا ،اس وقت الیکشن شیڈول جاری ہو چکا تھا ،الیکشن شیڈول آنے کے بعد ووٹ تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔اپیل کنںدہ کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے،جسٹس رسال حسن سید پر مشتمل الیکشن اپیلٹ بنچ نے سردار خرم کھوسہ کی اپیل پر سماعت کی

    جمشد چیمہ اور مسرت چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،الیکشن اپیلٹ بنچ نے الیکشن اپیل پر ار او کو نوٹس جاری کرتے ہوے 7جنوری کو ریکارڈ طلب کر لیا

    الیکشن کمیشن نے آر اوز کو پرائیویٹ وکیلوں کی خدمات سے روک دیا
    عام انتخابات 2024 سکروٹنی کے بعد اپیلوں پر سماعت،ریٹرنگ افسران کے اپیلٹ ٹربیونلز میں پیش نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کا نوٹس،الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو ہدایات جاری کردیں،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام ریٹرنگ افسران اپنے فیصلوں سے متعلق اپیلٹ ٹربیونلز میں پیش ہوں،ریٹرننگ افسران کی طرف سے اپیلٹ ٹربیونلز میں پیش نہ ہونا تشویشناک ہے،متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ آر اوز اپیلٹ ٹربیونلز پیش ہوں، الیکشن کمیشن نے آر اوز کو پرائیویٹ وکیلوں کی خدمات سے روک دیا، الیکشن کمیشن نے ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن لا افسران آر اوز کی معاونت کرسکتے ہیں

    الیکشن ٹریبونل،بلوچستان ہائیکورٹ ،اپیلیٹ کورٹ میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ہوئی،اپیلیٹ ٹریبونل کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 44 کے امیدوار عبدالستار کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 44 کے امیدوار محمد علی مہر کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 50 کے امیدوار قیام الدین کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 45 کے امیدوار غلام حسین کی اپیل خارج کردی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 45 کے امیدوار محمد یوسف کی اپیل خارج کردی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے این اے 264 کے امیدوار عادل عمران کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے این اے 262 کے امیدوار حکمت اللہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی

    نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف اپیل پر سماعت ملتوی
    این اے 15، سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹریبونل نے اپیل پر سماعت 8 جنوری تک ملتوی کر دی، نواز شریف کی طرف سے بیرسٹر جہانگیر جدون ٹربیونل میں پیش ہوئے،الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ ممبرانِ پارلیمنٹ کی اہلیت کا کیس سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی این اے 15 مانسہرہ سے سابق وزیر ،پی ٹی آئی رہنما اعظم خان سواتی نے چیلنج کر رکھے ہیں

    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی اپیل،آر او سے ریکارڈ طلب
    لاہور ہائیکورٹ: پی پی 150اور این اے 119سے صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف الیکشن اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپیلٹ بنچ نے متعلقہ آر او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل ریکارڈ سمت طلب کر لیا،جسٹس رسال حسن سید پر مشتمل الیکشن اپیلٹ بنچ نے صنم جاوید کی الیکشن اپیل پر سماعت کی ، اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ جلاو گھیراو مقدمہ سمت تمام مقدمات میں اسکی ضمانتوں کو منظور لیا گیا۔پولیس نے سیاسی بنیادوں پر اسکے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو سکروٹنی کے لیے پیش نہ ہونے دیا ،آر او نے اسکے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے ۔عدالت آراو کا فیصلہ کالعدم قرار دے، عدالت اسکو الیکشن لڑنے کی اجازت دے،

    راجہ بشارت کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کے خلاف اپیل کا معاملہ ،سابق وزیر قانون راجہ بشارت کے کاغذات نامزدگی کی اپیل منظور کر لی گئی،الیکشن ٹریبونل نے سابق صوبائی وزیر کو دونوں حلقوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،الیکشن ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کے اعتراضات مسترد کر دئیے،راجہ بشارت نے حلقہ این اے 55 اور پی پی 15 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے

    پرویز الہیٰ ،قیصرہ،مونس کی اپیلوں پر سماعت 8 جنوری تک ملتوی
    سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی ،قیصرہ الہی اور مونس الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف الیکشن اپیلوں پر سماعت ہوئی،الیکشن اپیلٹ بنچ نے اپیلوں پر سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی ،الیکشن اپیلٹ بنچ نے الیکشن اپیلوں پر آر او ز کو کاغذات نامزدگی کا اصل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ،جسٹس راحیل کامران شیخ نے الیکشن اپیلوں ہر سماعت کی،اپیل کنندہ کی طرف سے شہزاد شوکت ایڈووکیٹ پیش ہوئے،وکیل اپیل کنندگان نے کہا کہ پرویز الہی قیصرہ الہی اور مونس الہی کو این اے 64 گجرات پی پی 32گجرات . این اے 69 اور پی پی 34 سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔آر,اوز نے سیاسی بنیادوں پر انکے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے ،عدالت آراوز کے آرڈر کالعدم قرار دے،پرویز الٰہی ۔قیصرہ الہی اور مونس الٰہی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے،

    شوکت بسرا، زلفی بخاری، نعیم حیدر پنجوتھا، عمر تنویر بٹ، میاں غوث،علی اعجاز بٹر کے کاغذات منظور
    تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا اور ان کی اہلیہ کے این اے 163 سے کاغذات نامزدگی ٹربیونل نے بحال کردئیے ،سابق چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا کے سرگودھا سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جج اسجد جاوید گھرال نے اپیل پر سماعت کی ،نعیم پنجوتہ کے پی پی 80 ،این اے 82 اور پی پی 71 سے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے.زلفی بخاری،میجر لطاسب ستی،عمر تنویر بٹ کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،این اے 170 رحیم یارخان امیدوار تحریک انصاف میاں غوث محمد کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظور ہوگئے،این اے 117 سے پی ٹی آئی امیدوار اور عمران خان کے وکیل علی اعجاز بٹر کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،

    عمر ایوب، فوزیہ بہرام،بابر نواز، عنصر اقبال کے کاغذات نامزدگی منظور
    پی ٹی آئی امیدوار عنصر اقبال کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کیخلاف اپیل منظور کر لی گئی،عنصر اقبال این اے 83 پی پی 73,74،76 سے امیدوار ہیں،ایبٹ آباد این اے 18 تحریک انصاف کے امیدوار عمر ایوب کے خلاف دائر پٹیشن خارج کر دی گئی، الیکشن ٹربیونل نے این اے 18 سے بابر نواز کے خلاف اعتراضات مسترد کر دئے،عمر ایوب اور بابر نواز دونوں الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار دے دیئے گئے،حلقہ پی پی بائیس پی ٹی آئی کی متوقع امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،فوزیہ بہرام کے کاغذات پر اعتراضات اپیلٹ ٹریبونل کے غلط قرار دے دیے، این اے 58 سے پی ٹی آئی کے ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،

    پشاور۔الیکشن ٹربیونل نے این اے 21 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار مجاہد علی خان کی اپیل منظور کرلی.الیکشن ٹربیونل نے پی کے 92 کوہاٹ سے پی ٹی آئی امیدوار شفیع اللہ جان،پی کے 56 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار امیر فرزند ، این اے 22 اور پی کے 58 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار عبدالسلام آفریدی، پی کے 54 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار عدنان خان، پی کے 88 سے پی ٹی آئی امیدوار میاں عمر کی اپیل منظور کرلی. الیکشن ٹربیونل نے سابق صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی کی اپیل منظور کرلی،الیکشن ٹربیونل نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اپیل منظور کر لی

    پی ٹی آئی کے عارف عباسی، ببلی خان، عالمگیر خان کی اپیلیں مسترد
    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے عارف عباسی کی پی پی 19سے اپیل مستردکر دی گئی،اپیلٹ ٹریبونل نے کہاکہ عارف عباسی اشتہاری ہیں، کسی عدالت میں سرنڈر بھی نہیں کیا،حلقہ پی پی 85 عیسیٰ خیل سے پی ٹی آئی کے امیدوار ببلی خان کی اپیل مسترد ہو گئی،ببلی خان نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کی تھی،الیکشن ٹریبونل کے جج چوہدری عبد العزیز نے اپیل مسترد کی،سابق ایم پی اے پر اعتراض تھا کہ وہ 9 مئی کے واقعہ میں روپوش اور اشتہاری ہیں،این اے 236 سے امیدوار عالمگیر خان کی اپیل کی سماعت ہوئی،الیکشن ٹریبونل نے عالمگیر خان کی اپیل مسترد کردی،ریٹرننگ افسر نے عالمگیر خان کے کاغذات نامزدگی ٹیکس نادہندہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کئے تھے،

    عاطف خان کے کاغذات منظور، الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس شکیل احمد نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
    سابق صوبائی وزیر عاطف خان کی اپیل پر سماعت ہوئی،سماعت الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس شکیل احمد نے کی، جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ میرے خیال میں الیکشن میں عوام بہترین جج ہوتے ہیں۔ عوام جس کو چاہتے ہیں ان کو منتخب کرتا ہے, قانون تو سب کو فالو کرنا ہوتا ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے حضرت محمد(ص) کے علاوہ کوئی صادق اور آمین نہیں ہوسکتا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار کے کاغذات اس بنا پر مسترد کئے گئے ہیں کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے۔ مردان میں ایک موٹر سائیکل کو لوگوں نے تھوڑا اور اس کی ایف آئی آر میں عاطف خان سمیت مردان کے تمام ممبران اسمبلی کو نامزد کیا گیا۔ریٹرننگ افسر نے بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کاحوالہ دیکر کاغذات مسترد کئے۔بلوچستان ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں پر لاگو ہوتا ہے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیداروں پر نہیں۔جسٹس شکیل احمد نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ اشتہاری کے کاغذات مسترد ہوسکتے ہیں۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کی ججمنٹ ہے وہ جرم ثابت ہونے کا ہے۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ایک ججمنٹ بلوچستان کا ہے لیکن وہ لوکل گورنمنٹ کے لئے ہے،آپ ججمنٹ کی کاپی دے دیں۔ عاطف خان کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ، جو اب سنا دیا گیا ہے

    مرزا اختیار بیگ کو این اے 241 سے الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت
    پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ کو این اے 241 سے الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت دے دی ،جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ اگر دہری شہریت ختم ہوچکی ہے تو بیان حلفی جمع کرائیں ، اگر بیان حلفی غلط ثابت ہوا تو الیکشن جتنے کے بعد کامیابی منسوخ ہوجاۓ گی،

    ٹریبونل نے ظفر علی شاہ کو پیر تک واجبات کلئیر کرنے کی ہدایت کردی
    اسلام آباد ہائیکورٹ: کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں،پی ٹی آئی رہنما سید ظفر علی شاہ کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،ٹریبونل نے ظفر علی شاہ کو پیر تک واجبات کلئیر کرنے کی ہدایت کردی ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس اور دو گاڑیوں کا معاملہ ہے پیر کو سنیں گے ،ظفر صاحب آپ نے سی ڈی اے کے کچھ واجبات ادا کرنے ہیں،ظفر علی شاہ نے کہا کہ ادارہ ہمیں کچھ بتائے تو سہی ہمیں نوٹس بھی نہیں ملا، ہمارے علم میں ہی نہیں تھا کہ ہمارے اوپر رقم واجب الادا ہے، سکروٹنی کے وقت کہا گیا کہ آپ کے واجبات کلیئر ہیں، الیکشن ٹربیونل نے استفسار کیا کہ کون سے ڈیوز بقایا ہیں؟الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ ڈیوز پراپرٹی ٹیکس ہیں،ظفر علی شاہ نے کہا کہ میں نے 50 الیکشن لڑے ہیں، آج تک کاغذات مسترد نہیں ہوئے ، الیکشن ٹربیونل نے استفسار کیا کہ آپ کتنے دن میں یہ رقم ادا کردیں گے؟ظفر علی شاہ نے کہا کہ میں 2 سے 3 دن میں کلیئر کردوں گا ، عدالت نے کہا کہ اس کو پیر کے لیے رکھ لیتے ہیں، پیر تک اگر آپ ڈیوز کلیئر کرسکتے ہیں تو کرلیں ، 2 گاڑیوں اور سی ڈی اے کی رقم ادا کرنی ہے، پیر کو ہم آپ کو سنیں گے، عدالت نے پیر تک سماعت ملتوی کردی۔

    شاہ محمود قریشی، زین قریشی، حلیم عادل شیخ کے کاغذات نامزدگی منظور
    پی ٹی آئی کے رہنماء شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ،شاہ محمود قریشی نے این اے 214 تھر پارکر سے کاغذات جمع کروائے تھے،زین قریشی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،زین قریشی نے این اے 214 سے کاغذات جمع کروائے تھے ،پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،حلیم عادل شیخ نے این اے 238 سے کاغذات نامزگی جمع کروائے تھے ۔پی ٹی آئی کے ارسلان خالد کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،ارسلان خالد نے این اے 241 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ۔

    این اے 132،سابق وزیراعظم شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جج رسال حسن سید نے شہری شاہد کی اپیل پر سماعت کی

    حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر نوٹس جاری
    پی ٹی آئی کے امیدوار حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپیلیٹ نے آر او کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جج رسال حسن سید نے اپیل پر سماعت کی،اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریٹرنگ افسر نے قانون کے منافی کاغذات نامزدگی مسترد کیے ،کاغذات منظو رکئے جائیں،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید،اعجاز الحق، فردوس شمیم نقوی،اعظم نیازی،ایمان طاہر،علی ناصر بھٹی، ناز طاہر ،راجہ راشد حفیظ،اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان،سردار اختر مینگل، این اے 72 سے پی ٹی ائی امیدوار غلام عباس، این اے 262 پر پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری سالار خان کاکڑ کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے تھے

  • تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بینچ کا حصہ ہیں،عدالتی کاروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھائی جارہی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے، اس وقت قانونی اور آئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتے سنیں گے، ہو سکتا ہے تب تک ہمارا اس کیس میں آرڈر بھی آچکا ہو، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کیمطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا،کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی،کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟

    ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں،ہم آئینی تاریخ کو ، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں،آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیا گیا، مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں،کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے، اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ پاکستان کی پارلیمان کا جو امتحان ہے، کیا وہ دنیا کی کسی پارلیمان کا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے،اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا دو سال ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے،کیا سزا تاحیات ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا دس سال کرائی گئی، آئین وکلاء کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے،آئین کو آسان کریں،آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، فلسفانہ باتوں کے بجائے آسان بات کریں،اگر کوئی سونا چند گرام لکھوایا تو کیا ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کر دے تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کا عدالت دوبارہ کیسے جائزہ لے سکتی ہے؟جو مقدمات قانونی چارہ جوئی کے بعد حتمی ہوچکے انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکا ہے تو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہونگے؟
    مدت پانچ سال طے کرنے کا معاملہ عدالت آیا، کیا ہم 232 تین کو ریڈ ڈاون کرسکتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ بہت مشکوک نظریہ ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ 232تین کو اسطرح طے کرے کہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی تو سزا پانچ سال ہوگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے، 232 تین کو اگلی پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے،عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں، اگر سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم سیکشن 232 دو کو کیسے کالعدم قرار دیں وہ تو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا زکر نہیں ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈیکلریشن رہے گا نااہلی رہے گی،

    پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا کیس میں آپکا کیا خیال ہے ، جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ وہاں ڈکلیریشن نہیں تھا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پارلیمنٹ نے نا اہلی کی مدت طے کرائی تو یہ سوال تو اکیڈمک سوال ہوا کہ نا اہلی کی مدت کیا ہو گی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو کالعدم قرار دیں تو سزا کتنی ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ کہہ چکا ہے نا اہلی 5 سال ہو گی ، کیا سمیع اللہ بلوچ کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا گیا تھا؟ ریکارڈ منگوا لیں , جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 232 دو عدالتی معاون کے مطابق سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو بے اثر کر دیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دیکھے ، سیکشن 232 تین چیلنج ہی نہیں ، امریکہ میں قانون کالعدم ہو تو کانگرس نیا قانون بنا لیتی ہے، امریکی کانگرس اپنی عدالت کو قائل کرتی ہے کہ اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس ہونے تک مدت کم نہیں ہوسکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں، اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں کیونکہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، سربراہ پی ٹی آئی کو نا اہل نہیں کیا گیا ،شکیل اعوان، خواجہ آصف، شیخ رشید کیسز دیکھیں تو تا حیات نا اہلی کا فیصلہ لکھنے والے جج آہستہ آہستہ مؤقف بدلتے رہے ،

    نواز شریف کا نام لینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لیں،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی فیس نہ ملی ہو
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ایسی کوئی مثال ہے سمیع اللہ بلوچ کے بعد کیس کو تا حیات نا اہل کیا گیا ہو ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ڈکلیریشن کو ختم کیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ثناء اللہ بلوچ کے لیے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں کچھ کہا گیا ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کو نا اہل کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لینا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تنخواہ لینے کا سہارا لے کر نا اہلی کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ بات نا کریں جو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں ،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی اسے فیس نہ ملی ہو ،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے تک ہر شخص کی صادق اور امین ہوگا، ایک دو غلطیوں سے کسی کو بے ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا،اگر کوئی غلطی ہو بھی تو پانچ سال کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، ایسا کوئی ڈیکلریشن آج تک نہیں آیا کہ کوئی صادق اور امین نہ ہو، جرائم پیشہ افراد کو ایماندار اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا، نااہلی کا ڈیکلریشن شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتیں،

    تاحیات نااہلی کیس، وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز، اٹارنی جنرل کے دلائل
    دوبارہ وقفے کے بعد سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے 2015 کے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کورٹ آف لا کیا ہو گی 2015 میں سات رکنی بنچ نے یہ معاملہ اٹھایا، سمیع اللہ بلوچ کیس نے کورٹ آف لا کے سوال کا جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا، جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے، اس کے بعد مگر یہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے؟ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ آف لاء سے متعلق سمیع اللہ بلوچ نے فیصلہ نہیں کیا لیکن اسحاق خاکوانی کیس میں 2015 میں یہ معاملہ اٹھا تھا، اسحاق خاکوانی کیس میں 7 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کی ڈکلئیریشن پر سوالات اٹھائے، اسحاق خاکوانی کیس میں یہ کہا گیا کہ نااہلی سے متعلق سوالات کا آئندہ کسی کیس میں عدالت فیصلہ کرے گی، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو سوالات اسحاق خاکوانی کیس میں اٹھائے گئے ان کا فیصلہ ہم کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہو گا،عدالت فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈکلیریشن کس نے دینی ہے،عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لاء کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسحاق خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ فیصلہ کر چکا تھا تو پانچ رکنی بنچ نے وہ فیصلہ کیوں نہ دیکھا؟سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے ماضی کے فیصلے کو نظرانداز کر کے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کر دیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سابق جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ تھا، سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بنچ تھا،سات رکنی بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجر بنچ دیکھے گا، بعد میں پانچ رکنی بنچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پانچ رکنی بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟یاتو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، میں اس نوٹ سے اختلاف کر نہیں پا رہا انہوں نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے ابھی ہم نے پہلی رکاوٹ ہی عبور نہیں کی، ڈیکلیریشن کا طریقہ کار کیا ہو گا یہ ہم کیسے طے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے طے کر دی ہے پانچ سال کی مدت، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے صرف نااہلی کی مدت کا تعین کیا ہے،نااہلی کی ڈکلئیریشن اور طریقہ کار کا تعین ابھی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منصور صاحب اس کا جواب یہ دیں کہ پارلیمنٹ آئندہ یہ بھی طے کر لے گی،عدالتیں قانون نہیں بناتیں، عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتا ہے کہ قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں، آئین بنانے کے ماہرین نے 1973 کا آئین بنا دیا،پھر ٹہلتے ہوئے آئے کہا ایسی چیزیں ڈال دیں کہ سر نہ اٹھا سکیں،جس کو چاہیں نااہل کردیں ،صحیح یا غلط باسٹھ ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا،نااہلی کی مدت کا تعین نہ کرنا انکا فیصلہ تھا میں کیوں کروں، مبشر حسن کیس میں سترہ ججز نے 62 ون ایف کو خود سے لاگو ہونے نہ ہونے کا کہا، آج ہم سب بھی بیٹھ جائیں تو سترہ ججز نہیں بنتے

    تاحیات نااہلی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خوش آمدید،کب سے انتظار کر رہے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کے لیے کی گئی، آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق آئینی ترمیم لازمی ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ میں خامیاں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سے مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں،تحریک انصاف نے ہمارے سامنے کوئی درخواست دائر نہیں کی، جسٹس مندوخیل نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم تو آج کل دیر ہی کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مختصر فیصلہ جلد سنایا جائیگا،ممکنہ طور پر آج فیصلہ نہیں سنایا جائیگا،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • پی ٹی آئی چیف جسٹس پر اعتماد بارے تقسیم،بیرسٹر گوہر اور شیر افضل کی الگ الگ پریس کانفرنس

    پی ٹی آئی چیف جسٹس پر اعتماد بارے تقسیم،بیرسٹر گوہر اور شیر افضل کی الگ الگ پریس کانفرنس

    تحریک انصاف کی قیادت میں ایک بار پھر لڑائی، وکلا تقسیم ہو گئے، بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا تو شیر افضل مروت نے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا، بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس کی تو شیر افضل مروت اپنی پریس کانفرنس کرنے پہنچ گئے

    تحریک انصاف کے مرکزی دفتر میں دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب بیرسٹر گوہر خان نے پریس کانفرنس کی تو اسکے بعد شیر افضل مروت پہنچ گئے اور کہا کہ میں نے بھی پریس کانفرنس کرنی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور شیر افضل مروت آمنے سامنے آ گئے، شیر افضل مروت نے کہا کہ میں اپنی پریس کانفرنس کروں گا،بیرسٹر گوہر نے شیر افضل مروت کو پریس کانفرنس سے روک دیا،شیر افضل مروت پریس کانفرنس کے لئے پریس روم میں پہنچ گئے اور کہا کہ اپنے خان صاحب سے ملکر آیا ہوں،جو بھی میں کہہ رہا ہوں یہ خان صاحب اور پی ٹی آئی کا بیانیہ سمجھیں

    قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس باجوہ نے بنوایا،فیض حمید کا کردار تھا، شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ،ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ڈرتے نہیں ،چیف جسٹس فائز عیسی پر عدم اعتماد ہے،ان کا رویہ جانبدرانہ ہے،جسٹس فائز عیسی کےخلاف ریفرنس جنرل باجوہ نے بنوایا، فیض حمید کا مرکزی کردار تھا،جب فائز عیسی چیف جسٹس بنے تو ہم نے ریفرنس کے اقدام پر شرمندگی کا اظہار کیا،ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم پر چلیں،پی ٹی آئی میں ایک گروپ ہے اور وہ عمران خان کاہے،نواز شریف کا کیس تو لگ گیا خان صاحب کا کیس نہیں لگا رہے،چیف جسٹس فائز عیسی کی عدالت سے انصاف کےلیے مایوس ہوچکے ہیں،ہمارے وکلاء پارٹی کا تمسخر بند کیا جائے،ہم جیلوں میں ہیں اور مزید رہنے کو تیار ہیں

    عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد نہیں،بیرسٹر گوہر
    قبل ازیں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد نہیں،ویڈیوز میں جو آپ نے دیکھا یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے،یہ ریاستی ظلم و تشدد ہے ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے،تجویز کنندہ یا ووٹر کو آخر کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے،ہمارے سکروٹنی کے عمل میں 873 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے،اس طرح سے کاغذات مسترد ہوئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی حیران ہو گئی،ایک ہی طریقے سے تین تین کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے،ہماری وفاقی کابینہ کے تمام ممبران کے کاغذات نامزدگی مسترد کروائے گئے، اس سب کے باوجود کوشش جاری ہے کہ ہمارے پاس نشان بھی نہ رہے،تمام سروے دیکھ لیں ہماری پالولرٹی 70 فیصد سے زائد ہے،اس عمل سے پی ٹی آئی کو نکالنے کی کوشش جاری ہے،ہمیں اطمینان ہے کہ عدلیہ بہت جلد ایکشن لے گی،اگر اسی طریقے سے الیکشن ہونگے تو یہ فری اینڈ فئیر انتخابات پر سوال ہوگا،سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ لیول پلئینگ فیلڈ کے لیے کردار ادا کریں

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    انتخابی نشان بلے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

  • فیض حمید نے فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرا دیا

    فیض حمید نے فیض آباد دھرنا کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرا دیا

    فیض آباد دھرنا کمیشن،لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید نے کمیشن کو بیان رکارڈ کرادیا ،

    فیض حمید نے کمیشن کی طرف سے دیے گئے سوالوں کے جواب دے دیئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق
    فیض حمید نے جواب میں کہا حکومت کی ہدایت پر تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات کیے ،فیض حمید نے حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے، فیض حمید کے لئے ایک سوال نامہ تیار کیا گیا تھا، فیض حمید نے تمام سوالوں کے جواب جمع کروا دیئے ہیں، فیض حمید نے حکومت کیخلاف سازش کے الزام کا انکار کیا اور کہا کہ دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذاکرات حکومت کے کہنے پر کئے تھے، اسوقت شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، احسن اقبال وزیر داخلہ تھے، کابینہ اجلاس میں مشترکہ ہدایت کے بعد دھرنے والوں سے فیض حمید نے مذاکرات کئے تھے

    لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو دسمبر کے دوسرے ہفتے میں بھی طلب کیا گیا تھا ،پہلا نوٹس بر وقت وصول نہ ہونے سے فیض حمید کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہو سکے، کمیشن کی جانب سے جنوری کے دوسرے ہفتے اپنی رپورٹ مکمل کیے جانے کا امکان ہے، اس سے قبل سابق وزیر داخلہ احسن اقبال , فواد حسن فواد اور اس وقت کے ایس ایس پی اسلام آباد بھی اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں ۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشن کے بعد کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

  • نیب سزا یافتہ کی دس سالہ نااہلی بحال،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

    نیب سزا یافتہ کی دس سالہ نااہلی بحال،اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،نیب سزا یافتہ کی دس سالہ نااہلی کم کرکے پانچ سال کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    سنگل بینچ کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے معطل کردیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب سزا یافتہ کے لئے 10 سالہ نااہلی کی مدت بحال کر دی ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ ڈویژن بنچ نے معطل کر دیا ، سنگل بنچ نے نااہلی کی مدت دس سال کی بجائے 5 سال کا فیصلہ دیا تھا،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے حکم امتناع جاری کیا

    نیب کیسز میں سزا یافتہ ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر فائق جمالی کی اہلیت کیخلاف نیب کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے نااہلی کی مدت سے متعلق درخواست پر سماعت کی، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سزا یافتہ شخص کے جیل سے رہا ہونے کے بعد اس کی نااہلی کی مدت شروع ہوگی،فائق جمالی کو سنائی گئی سزا میں دس سال کی نااہلی بھی شامل تھی، سپریم کورٹ تک فائق جمالی کی سزا برقرار رہی ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ سوال ہی نہیں ہے جس پر آپ دلائل دے رہے ہیں ، سزا تو متنازع نہیں ہے، آئین میں ذیلی قانون سازی کیا آئین میں دی گئی تشریح سے مختلف ہوسکتی ہے ؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون ایچ میں جنرل بات کی گئی ہے، نیب آرڈیننس ایک اسپیشل لا ہے ،اس میں دس سال کی نااہلی کی سزا موجود ہے ،خالد لانگو کیس میں سپریم کورٹ نے نااہلی کی سزا برقرار رکھی ،

    نیب ریفرنس میں سزا یافتہ مجرم فائق علی جمالی کی نا اہلی کی مدت سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ نیب نے سزا یافتہ افراد کے الیکشن لڑنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،نیب نے عدالت سے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ الیکشن لڑنے کے لیے نیب سزا یافتہ کی 10سال نااہلی کی مدت بحال کریں نیب کا مؤقف ہے کہ نیب کے سزا یافتہ افراد الیکشن لڑنے کے لیے ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں،نیب کا کہنا ہے کہ جون میں سنگل بینچ نے نیب نااہلی کی مدت 10کے بجائے 5 سال کر دی تھی، سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، الیکشن لڑنے کے لیے سنگل بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیا جا رہا ہےنیب نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت انٹرا کورٹ اپیل میں سنگل بینچ کا فیصلہ فوری معطل کرے۔

  • کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس

    سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کا معاملہ ،نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان شامل ہیں،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہراورجسٹس مسرت ہلالی بینچ کا حصہ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عزیر بھنڈاری کہاں ہیں؟ عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آ گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے تین عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،ریما عمر نے اپنا تحریری جواب بھیجوایا ہے، گزشتہ سماعت پر ہم نے ریما عمر ،عزیز بھنڈاری اور فیصل صدیقی کو عدالتی معاون مقرر کیا تھا،سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا روسٹرم پر آ گئے، گزشتہ سماعت پر خرم رضا نے تاحیات نااہلی کے حق میں اپنی رائے دی تھی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ یہ اپیلیں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں،کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی گئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی درخواست تک محدود رہیں،آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لا کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بالکل درست ، کیا 62ون ایف ٹریبونل کو بھی تاحیات نااہلی کا اختیار دیتا ہے؟ یا تاحیات نااہلی کا یہ اختیار سیدھا سپریم کورٹ کے پاس ہے؟

    اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی ڈکلئیریشن دینے کا اختیار الیکشن ٹریبونل کا ہے،آرٹیکل 62 ون ایف میں کورٹ آف لاء درج ہے، سپریم کورٹ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بہتر ہو گا ہمیں الیکشن ٹریبونل کے اختیارات کی طرف نہ لے کر جائیں، آرٹیکل 99 ہائیکورٹ کو آرٹیکل 184/3 سپریم کورٹ کو ایک اختیار دیتا ہے،
    سوال یہ ہے کیا آرٹیکل 62ون ایف سپریم کورٹ کو کوئی اختیار دیتا ہے؟ وکیل خرم رضا نے کہا کہ ٹریبونل سے آنے والے فیصلے کیخلاف کیس سپریم کورٹ اپیل کے دائرہ اختیار میں سنتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آئینی عدالت اور سول کورٹ میں فرق کو نظر انداز نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ آئینی عدالتیں ہیں جہاں آئینی درخواستیں دائر ہوتی ہیں، الیکشن کمیشن قانون کے تحت اختیارات استعمال کرتا ہے، اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کر سکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہو گا،

    کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے عوامی نمائندگی ایکٹ کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنی ہی معروضات کی نفی کرنے والی بات کر رہے ہیں، جب62ون ایف کے تحت کوئی ٹریبونل نہیں کرتا تو سپریم کورٹ کیسے کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ الیکشن معاملے میں اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کرتی؟اضافی اختیار تاحیات نااہلی والا یہ کہاں لکھا ہے؟وکیل خرم رضا نے کہا کہ سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، جن کیسز میں شواہد ریکارڈ ہوئے ہوں وہاں سپریم کورٹ ڈیکلیریشن دے سکتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو آپ سمیع اللہ بلوچ کیس کی حمایت نہیں کر رہے، وکیل خرم رضا نے کہا کہ میں ایک حد تک حمایت کر رہا ،

    ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شروع میں تو مسلمان صرف دو چار ہی تھے، اسلام میں توبہ کا تصور موجود ہے، اسلامی احکامات کے خلاف تو کوئی استدعا یا دلیل نہیں سنیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے آئین میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی، الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے صرف قانون کو واضح کیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک الیکشن میں کوئی گریجویٹ نہ ہونے پر نااہل ہوا اور اگلی بار گریجویشن کی شرط ہی نہیں تو اگلی بار نااہل کیسے ہو گا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتی ڈیکلیریشن کسی نہ کسی قانون کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، وہ قانون اب کہتا ہے یہ مدت پانچ سال ہو گی،وکیل خرم رضا نے کہا کہ پارلیمانی بحث میں تسلیم کیا گیا 62 ون ایف مدت پر خاموش ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی کی یہ شقیں ایک ڈکٹیٹر نے شامل کیں درست یا غلط؟ یا تو ہم پھر ڈکٹیٹر شپ کو ٹھیک مان لیں،ایک ڈکٹیٹر آیا، دوسرا آیا، تیسرا آیا سب کو اٹھا کر پھینک دیا، منافق کافر سے بھی زیادہ برا ہوتا ہے،کافر کو پتہ نہیں ہوتا، منافق سب جان کر کررہا ہوتاہے،پارلیمنٹ نے ایک قانون کتاب بنا کر ہمیں دی، ایک شخص ٹہلتا ہوا آتا ہے کہتاہے نہیں یہ سب ختم ،آمروں نے صادق و امین والی شرط اپنے لئے کیوں نہ ڈالی،

    منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، چیف جسٹس
    وکیل خرم رضا نے آئینی ترامیم کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رہنے دیں، ترامیم بھی گن پوائنٹ پر آئیں، کچھ لوگوں نے کہا چلو آدھی جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے،آئین کا تقدس تب ہو گا جب اسے ہم مانیں گے، یا تو ہم کہہ لیتے ہیں کہ بندوق کا تقدس مانیں گے،یہاں بیٹھے پانچ ججز کی دانش ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں سے زیادہ کیسے ہو سکتی ہے؟ جب تک کوئی جھوٹا ثابت نہیں ہوتا ہم کیوں فرض کریں وہ جھوٹا ہے،آپ اراکین اسمبلی کو جتنی بھی حقارت سے دیکھیں وہ ہمارے نمائندے ہیں، آپ ڈکٹیٹرز کی دانش اراکین اسمبلی کی دانش پر فوقیت نہیں دے سکتے،جنرل ایوب نے آکرسب کو باہر پھینک دیا اور اپنے قوانین لائے، منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، پارلیمنٹرینز نےآئین بنایا، ڈکٹیٹروں نے آکر سیاست دانوں، آئین کو باہر پھینک دیا ، واضح کیا تھا کہ انتخابات قریب ہیں ریٹرننگ افسران کا کام متاثر ہوگا، کوئی ریٹرننگ افسر عدالتی فیصلہ مانے گا اور کوئی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم، ریٹرننگ افسران وکیل نہیں بیوروکریٹ ہیں، کوشش ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے تاکہ ریٹرننگ افسران کنفیوز نہ ہوں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا جعلی ڈگری پر نااہلی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہوگی؟ وکیل محمد کاشف نے کہا کہ جعلی ڈگری پر فوجداری کارروائی ہونی چاہیے نااہلی نہیں،

    آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وکیل خرم رضا سمیت جو تاحیات نااہلی کی حمایت کر رہے وہ اپنے نکات بتا دیں، تین وکلا نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی تھی،عثمان کریم صاحب اور اصغر سبزواری صاحب کیا آپ خرم رضا کے دلائل اپنا رہے،وکیل اصغر سبزواری نے کہا کہ تاحیات نااہلی اگر ڈکٹیٹر نے شامل کی تو اس کے بعد منتخب حکومتیں بھی آئیں، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی "جج میڈ لاء” ہے ،جہانگیز ترین جیسے کیسز کی انکوائری ہونا چاہئے جہاں ٹرائل کے بغیر تاحیات نااہل کر دیا گیا،وکیل عثمان کریم روسٹرم پر آ گئے ،اور کہا کہ کوالیفیکیشن ہو یا ڈسکوالیفیکش، مقصد آرٹیکل 62 اور 63 کا ایک ہی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ صادق اور امین کی کیا تعریف ہوگی، کوئی قتل کرکے آجائے، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ نان مسلم بھی صادق اور امین لگایا گیا ہے، یہاں امین کا مطلب اسلام والا نہیں لیا جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین تو انگلش میں تھا کیا آئین سازوں کو صادق اور امین کا انگریزی معلوم نہیں تھی،جنرل ضیاء یا انکے وزیر کو امین کا مطلب نہیں معلوم تھا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسکا مطلب امین کا مطلب اسلامک ہی ہوگا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ اگر اسلامک مطلب دیکھیں گے تو پھر یہ نان مسلم پر نہیں لگے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کون تعین کرے گا کس کا کردار اچھا کس کا نہیں،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ حتمی طور پر تعین اللہ ہی کرسکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ تحریر کرنے والے جج نے فیصل واڈا کیس کا فیصلہ بھی دیا،کیا دونوں فیصلوں کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے؟ سمیع اللہ بلوچ فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات کی تشریح کرنے والے جج نے فیصل واوڈا کیس میں تشریح کیسے بدل دی،وکیل عثمان کریم نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف صرف کاغذات نامزدگی کی حد تک ہے،

    آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب قانون آچکا ہے اورنااہلی پانچ سال کی ہوچکی توتاحیات والی بات کیسے قائم رہے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست دان عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں،آمروں اورسیاست دانوں کوایک ساتھ نہیں پرکھا جاسکتا،آمرآئین توڑ کر حکومت میں آتا ہے منتخب ہوکرنہیں آتا،سیاست دانوں کوایسے برا نہ بولیں وہ عوامی رائے سےمنتخب ہوتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 الگ الگ لانے کی ضرورت کیا تھی؟ ایک آرٹیکل کہتا ہے کون کون اہل ہے دوسرا کہتا ہے کون نااہل،دونوں باتوں میں فرق کیا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی دوسری شہریت لیتا ہے تو وہ 62 میں نہیں 63 میں پھنسے گا، وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2013 کے اللہ دینو بھائیو کیس کے فیصلے میں 62 ون ایف کی نااہلی دی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی متعارف کرائی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 2020 میں اللہ دینو بھائیو نظر ثانی کیس میں نااہلی کالعدم قرار دے دی،جسٹس بندیال نے 2020 کے اللہ دینو بھائیو فیصلے پر انحصار کر کے فیصل واوڈا کیس کا فیصلہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی آپ کے مطابق جسٹس بندیال نے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر اپنے ہی موقف کی نفی کی؟ وکیل عثمان کریم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 62 ون ایف کا سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ اس لیے چلے گا کیونکہ پانچ رکنی بنچ کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اچھی تیاری کر کے آئے ہیں، اور بھی معاونت کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل عثمان کریم کی تعریف کی اور کہا کہ الیکشن سر پر ہیں ہم نے یہ مسئلہ حل کرنا ہے،

    فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس
    تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہو گئی،عدالتی معاون عزیر بھنڈاری روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ریٹرنگ آفیسر کے سامنے دو مختلف فیصلے ہونگے،ایک فیصلہ تاحیات نااہلی کا دوسرا الیکشن ایکٹ کے تحت پانچ سال نااہلی کا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت پانچ سال کر دی ہے،کچھ وکلا کہہ چکے ہیں کہ نااہلی پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوگی،کچھ وکلا نے کہا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ تاحیات رہے گا،ہم اس نکتے کو دیکھ رہے ہیں کہ تاحیات نااہلی کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ واپس لیا جائے یا نہیں،عزیز بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ اٹھارہویں ترمیم کرنے بیٹھی تو 62ون ایف کو نہیں چھیڑا تھا،پارلیمنٹ کو علم بھی تھا کہ 62 ون ایف کی ایک تشریح آچکی ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس کے کچھ پہلو ضرور دوبارہ جائزے کے متقاضی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنا پوائنٹ بتائیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس نااہلی کے مکینزم کی بات نہیں کر رہا،18ویں ترمیم کے بعد بھی کئی آئینی ترامیم ہوئیں،کسی بھی آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62ون ایف کی بات نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فارم میں تبدیلی پر پورا پاکستان بند کر دیا گیا تھا، شاید اس لئے اس معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہو،ریاست نے سوچا ہو گا ان لوگوں سے کون ڈیل کرے گا،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہ غالب جیسی بات ہے کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا، کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر کے پاس جاتے ہیں جو نااہلی کا ڈیکلریشن نہیں دے سکتا،الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر نااہلی کا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، ڈیکلریشن کون دے سکتا ہے یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں نہیں لکھا ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی عدالت کسی کے سچے اور راست گو ہونے کا ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ایمانداری ، امین اور فضول خرچ نہ ہونے کا تعین عدالتیں کیسے کر سکتی ہیں؟تاحیات نااہلی کیس میں تو سب کچھ سپریم کورٹ نے ہی کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے سپریم کورٹ ایسا ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک فوجداری یا سول کیس میں ایک گواہ جھوٹ بولتا ہے،کیا اس بنیاد پر تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل دس اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، ریٹرننگ افسر ڈیکلریشن نہیں دے سکتا، ریٹرننگ افسر کورٹ آف لاء نہیں ہے، الیکشن ٹربیونل تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر ڈیکلریشن دے سکتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے ہی دلائل کی نفی کر رہے ہیں، ایک جج کہے گا نااہلی ہوتی ہے دوسرا جج کہے گا نااہلی نہیں ہوتی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈیکلریشن کہاں سے آئے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جعل سازی پر ڈیکلریشن کون دے گا، کچھ الفاظ ایسے ہیں جو محض کاغذ کے ٹکرے کے سوا کچھ نہیں،

    ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میں عدالتی معاون ہوں،کراس سوال نہ کریں، ججز مسکراتے رہے،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں اپنے سوالات واپس لے لیتا ہوں، تسلیم شدہ حقائق پر سپریم کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،سول کورٹ بھی ڈیکلریشن دے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے چیزوں کو آسان بنانا ہے مشکل بنانا نہیں، ہم نے آر او کیلئے آسانی لانی ہے مشکل نہیں لانی، ہمیں صرف بتائیں سزا تاحیات ہوگی یا پانچ سال،آپ نے تو ریٹرننگ افسر کو کورٹ آف لا بنا دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک شخص کوالیفائی کر کے رکن بن گیا اور بعد میں وہ خراب ہو گیا تو کیسے نکالیں گے؟ نااہل کرنے والے آرٹیکل 63 میں تو 62 ون ایف کا زکر نہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں تو وارنٹو کی رٹ لائی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بھنڈاری صاحب میں بات نہیں سمجھ پا رہا، عزیز بھنڈاری نے کہا کہ میں پھر معذرت کر لیتا ہوں، ڈیکلیریشن کہاں سے آنا ہے اگر یہ سوال ہے ہی نہیں تو چھوڑ دیتے ہیں،جسٹس یحییٰ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل اپنی ترتیب سے جاری رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں مگر ہم نے کیس ختم بھی کرنا ہے، ہم نے اپنا آرڈر لکھنا بھی ہے،اس مقدمہ کو طول نہیں دے سکتے، انتخابات کا شیڈیل مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ بھی لکھنا ہے، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہائی کورٹ کو اختیار ہے کہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن جاری کرے، بے ایمانی کا فیصلہ تو عدالت کسی بھی کیس میں دے سکتی ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے سول کورٹ سے ڈیکلریشن لینا لازمی ہے،ہر عدالتی فیصلہ منتخب نمائندے کیخلاف ڈیکلریشن نہیں ہوسکتا،

    جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جھوٹ بولنے والا تاحیات نااہل اور بغاوت کرنے والا پانچ سال نااہل کیسے ہوسکتا؟اس نکتے کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا،پارلیمنٹ نے یہ ترامیم مرضی سے نہیں کیں، ان پر تھوپی گئی ہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کسی نے تھوپی نہیں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورے پاکستان کو یرغمال بنانے والے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں،آئین میں یہ سب چیزیں کہاں سے آئیں یہ کوئی نہیں بتا رہا، کوئی وکیل بھی ڈکٹیٹر کیخلاف بات نہیں کرتا، ڈکٹیٹر کہتا ہے یہ ترامیم کرو نہیں تو میں پچیس سال بیٹھا رہوں گا، آمر کو ہٹانے کیلئے پارلیمان اس کی بات مان لیتی ہے،عدالتی معاون عذیر بھنڈاری نے دلائل مکمل کر لیے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت انتخابات کیلئے کسی کے حقوق متاثر نہیں کرنا چاہتی،سماعت میں وقفہ کرینگے تاکہ ہمارے خلاف کوئی ڈیکلریشن نہ آ جائے،

    سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا،عدالتی معاون فیصل صدیقی
    دوسرے وقفہ کے بعد سماعت ہوئی،عدالتی معاون فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سمیت دیگر وکلا سے درخواست ہے دلائل مختصر رکھیں،وقت کی کمی کیوجہ سے مختصر دلائل سنیں گے،فیصل صدیقی نے کہا کہ 50 فیصد دلائل کم کر دیئے مختصر دلائل دونگا،تاحیات نااہلی کے فیصلے کی موجودگی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم بے سود ہے، عدالتی فیصلے کا اثر کسی سادہ قانون سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لئے بغیر پانچ سال نااہلی کا قانون غیرآئینی ہوگا،سپریم کورٹ کو تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لینا ہوگا، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی عدالتی ڈیکلریشن کی بنیاد پر دی تھی،لازمی نہیں کہ عدالتی ڈیکلریشن ہمیشہ کیلئے ہو، ڈیکلریشن ختم ہوتے ہی نااہلی کی معیار بھی ختم ہوسکتی ہے، سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ نااہلی کی مدت کا تعین کر رہا ہے،عدالت نے دیکھنا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کرنے کی نیت سے کی گئی یا نہیں، اگر الیکشن ایکٹ کی ترمیم برقرار رکھنی ہے تو سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم ہونا ہو گا،نااہلی کی مدت، طریقہ کار اور پروسجر کا تعین ہونا ضروری تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے پہلے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا تو عدالت کیوں اپنے فیصلے کو ختم کرے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ کی آئینی تشریح ختم نہیں کر سکتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلے چلے گا یا الیکشن ایکٹ،پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت کم سے کم پانچ سال کرتے وقت الیکشن ایکٹ ترمیم کا اطلاق اٹھارویں ترمیم سے کیا، سمیع اللہ بلوچ کا ایسا فیصلہ دیا جس پر آئینی خلا تھا، سمیع اللہ بلوچ فیصلہ اس لیے آیا کہ آئینی خلا پر ہو سکے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں خلا کہ صورت میں یہی کیوں سمجھا جاتا ہے کہ اس کو پر کرنے کے لیے عدالتی تشریح ہی ہو گی؟ آئین جن چیزوں پر خاموش ہے اس کا مقصد قانون سازی کا راستہ کھلا رکھنا بھی ہو سکتا ہے نا کہ عدالتی تشریح، آئین میں تو قتل کی سزا بھی درج نہیں اس لیے تعزیرات پاکستان لایا گیا،

    کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،چیف جسٹس
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے الیکشن ایکٹ اور عدالتی فیصلے کی موجودگی میں تیسرا راستہ نکالا جائےوہ نظریہ بتائیں جو اس صورتحال سے باہر نکالے،کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑ دے؟پارلیمنٹ خود دیکھے جو ترمیم کرنی ہے کر لیں،ایکٹ آف پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کو ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ ختم نہ ہونے کی صورت میں آئینی تشریح کے معاملے میں مسائل ہوں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون ساز خلا اس لئے چھوڑتے ہیں کہ بعد میں اس پر قانون بن سکے، اس بنیاد پر الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 ختم نہیں کیا جاسکتا، کیا آئین قتل کی سزا کا تعین بھی کرتا ہے؟اگر قانون سازوں نے کوئی خلا چھوڑا ہے اسے کیسے پر کیا جائے گا؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر قانون ساز خلا پر نہیں کرتے تو عدالت بھی کرسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالت بھی تشریح کردے اور قانون سازی بھی ہو جائے کونسا عمل بالا ہوگا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈکلیریشن کی مدت پانچ سال تک رکھنا الگ بات ہے،قانونی ترمیم سے شاید وہ اس سے تھوڑا آگے چلے گئے،نااہلی کی مدت کو پانچ سال تک کرنا ایک آئینی چیز کو کنٹرول کرنے جیسا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارے معاملے کا حل اسلام میں موجود ہے،قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ انسان کا رتبہ بہت بلند ہے،انسان برا نہیں اس کے اعمال برے ہوتے ہیں،کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے،62 ون ایف انسان کو برا کہہ رہا ہے،اگر کوئی شخص گناہ سے توبہ کر لے تو معافی مل سکتی ہے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے آرٹیکل 62 ون ایف کی اہلیت کا معیار ججز کےلئے نہیں، میں تو ڈر گیا ہوں شکر ہے پارلیمان نے یہ معیار ہمارے لئے مقرر نہیں کیا، اگر ججز کےلئے ایسا معیار ہوتا تو کوئی بھی جج نہ بن سکتا،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ کل صبح نو بجے تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کریں گے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کردی،سپریم کورٹ بار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نااہلی صرف پانچ سال کی ہو جو الیکشن قانون بن گیا وہ درست ہے،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کا وقت ختم ہو چکا، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 72 سے پی ٹی آئی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور ہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹربیونل نے این اے 72 سے پی ٹی ائی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،عدالت نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے، کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات خلاف قانون ہیں،عدالت ریٹرنگ افسر کے اعتراضات کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات منظور کرنے کا حکم دے،

    این اے 264، اختر مینگل کی اپیل منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    کوئٹہ کے الیکشن ٹربیونل نے سردار اختر مینگل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، کاغذات نامزدگی منظورکر لئے، سردار اختر مینگل نے این اے 264 کوئٹہ 3 کے آر او کے فیصلے کیخلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا تھا،اس موقع پر اختر مینگل کے وکیل کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کی اپیل دائر کی تھی، این اے 264 پر اسکو ٹربیونل نے منظور کر لیا ہے، ہماری ابھی تین درخواستیں پینڈنگ ہیں، بلوچستان کے ایک نامور سیاستدان جو بلوچستان کی پہچان ہے اسکو الیکشن لڑنے کا موقع ملا، بدنیتی کی وجہ سے کاغذات آر او نے مسترد کئے تھے،دوسری جانب این اے 262 پر پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری سالار خان کاکڑ کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے.

    این اے 15، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات منظوری کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی گئی، تحریک انصاف کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی نے نواز شریف کے این اے 15 سے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر اپیل دائر کی تھی، الیکشن ٹربیونل نے اعظم سواتی کی اپیل منظور کر لی اور سماعت کے لئے مقرر کر دی، اعظم سواتی کی نواز شریف کیخلاف اپیل پر سماعت کل ہو گی،الیکشن ٹربیونل نے نوٹس جاری کر دیا، اپیل پر سماعت الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس کامران حیات اپیل کریں گے

    پشاور،کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیلوں پر الیکشن ٹریبونل کے جسٹس شکیل احمد نے171 اپیلوں پر سماعت کی،اسد قیصر، شیر افضل مروت،تیمور سلیم جھگڑا، شہرام ترکئی، محمود جان،شیر علی، افتخار مشوانی، عبدالسلام، عاطف خان اور شاندانہ گلزار سمیت 171 اپیلوں پر نوٹسز جاری کر دیئے گئے، 5 سے 9 جنوری تک نوٹسز پر سماعت ہوگی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی اپیل منظور کر لی،ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سبطین خان کو صوبائی حلقہ پی پی 88 میانوالی سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پر تمام اعتراضات ناقص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیئے

    سندھ ہائیکورٹ: ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، فہمیدہ مرزا، کی اپیل پر سماعت ہوئی،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن اور اور رٹرنگ افسران کو 8 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیئے ،ریٹرنگ افسر نے فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا این اے 223 بدین سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے تھے

    سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتار
    ملتان: سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتارکر لئے گئے،ا شبیر علی قریشی کو انکے وکیل طارق محمود ڈوگر کے چیمبر سے گرفتار کیا گیا ،وکلاء کے موبائل فون اور گاڑی کی چابیاں بھی چھین لی گئی۔ شبیر علی قریشی الیکشن ٹریبونل میں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر پیش ہوئے تھے

    اعظم نیازی،ایمان طاہر،علی ناصر بھٹی، ناز طاہر ،راجہ راشد حفیظ کےکاغذات منظور
    راولپنڈی،این اے 90 میانوالی سے اعظم خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی،ریٹرنگ افیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، گیا،اعظم خان نیاِزی کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،حلقہ این اے 56 اور پی پی 17 سے تحریک انصاف کے راجہ راشد حفیظ کی اپیل منظور کر لی گئی،حلقہ این اے 58 اوع پی پی 20 چکوال سے علی ناصر بھٹی کی اپیل منظور کر لی گئی،میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کی دو بیٹیوں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات مسترد کاغذات نامزدگی منظور ،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افس کے جانب سے عائد کردہ اعتراض مستردکر دیئے ،حلقہ این اے 50 سے ایمان طاہر اور ناز طاہر نے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی تھی

    این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے کاغذات منظور
    الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس خادم حسین تنیو نے این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی اپیل کی سماعت کی،الیکشن ٹریبونل نے فردوس شمیم نقوی کی اپیل منظور کرلی ،الیکشن ٹریبیونل نے ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے نامزدگی فارم بحال کردیے ،فردوس شمیم نقوی کے کاغزات منظور کرلیے ،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کاغذات سیاسی بنیادوں پر مسترد کیے جارہے تھے اسلئے ایک سے زیادہ کاغزات جمع کراۓ، جسٹس خادم حسین نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی تقریرنا کریں آپ صرف قانون کی بات کریں ، وکیل نے کہا کہ پارٹی کا نشان نہ ہونے پر کاغزات مسترد کیے گئے ،جسٹس خادم حسین نے کہا کہ یہ تو پارٹی بعد میں فیصلہ کرے گی کون امیدوار ہوگا، جانچ پڑتال کے مرحلے پر کیسے مسترد ہوگئے،قانون بتائیں کس شق کے تحت کاغزات نامزدگی کے وقت انتخابی نشان ہونا ضروری ہے ؟ کیا تحریک انصاف نے امیدوار سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ؟ اعتراض کنندہ نے کہا کہ بیان حلفی میں پارٹی کا تعلق بتانا ضروری ہے جو فردوس شمیم نقوی نے نہیں کیا ، جب بیان حلفی میں ہی غلط معلومات دی گئی ہیں تو کاغزات کیسے منظور ہوں گے ؟الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ آپ کو کیسے پتا ان کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں ہے ؟ فردوس شمیم نقوی این اے 236 سے ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے

    پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری
    پرویز الہی، مونس الہی اور قیصرہ الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،جسٹس راحیل کامران نے ریٹرننگ آفیسر سے کل جواب طلب کرلیا ،ٹربیونل نے اپیلوں پر رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،رجسٹرار آفس نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کی کاپی ساتھ نہ لگانے کا اعتراض لگایا تھا ، پرویز الہی مونس الہی اور قیصرہ الہی نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف ایپلٹ ٹریبیونل میں اپیلیں دائر کی، درخواست میں‌مؤقف اپنایا کہ ریٹرننگ افسران نے خلاف قانون کاغذات نامزدگی مسترد کی ہے ، ٹربیونل ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کو کلدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے.

    اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر نوٹسسز جاری
    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبونل ،عام انتخابات کے لیے اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،پی ٹی آئی کے الیاس مہربان، عامر مغل، شیراز کیانی، زبیر فاروق و دیگر کی اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری، کل تک جواب طلب کر لیا گیا،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،الیکشن کمیشن کی جانب سے ضیغم انیس عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شیراز کیانی کی جانب سے رضوان شبیر کیانی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف اعتراض ہے کہ موٹر سائیکل اور گاڑی کا نہیں بتایا،موٹر سائیکل اور گاڑی تین سال پہلے بیچ دی ہیں،عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام کیسسز میں کل کےلئے نوٹسسز کرونگا،

    آپ تو اشتہاری ہیں ناں؟ عدالت کا امیدوار سے مکالمہ
    عامر مغل کی جانب سے عادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ اعتراض ہے کہ آپ دو مقدمات میں نامزد ہیں، عدالت نے وکیل عامر مغل سے استفسار کیا کہ آپ تو اشتہاری بھی ہیں ناں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ متعلقہ عدالت کے سامنے سرنڈر کر چکا ہوں، ان دو مقدمات کا علم نہیں تھا،

    عدالت نے الیاس مہربان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے کہ آپ کے خلاف مقدمات درج ہیں، وکیل الیاس مہربان نے کہا کہ کہا گیا کہ میرے خلاف تین مقدمات درج ہیں،تینوں ایف آئی آرز کی کاپیاں میرے پاس ہیں مگر کہیں پر میرا نام نہیں،وکیل زبیر فاروق نے کہا کہ میرے کاغذاتِ پر تین اعتراضات ہیں، مقدمات ، انکم ٹیکس اور اثاثے نہ بتانے کا اعتراض میرے کاغذات پر لگایا گیا ،مقدمات میں 2019 میں بری ہوچکا ہوں، گاڑی کا حوالہ دیا جو بیچ چکا ہوں، انکم ٹیکس جون تک میرا کلئیر ہے اور اثاثے بھی ڈکلیئر ہیں،الیکشن اپلیٹ ٹریبونل نے تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کل تک کےلئے ملتوی کردی

    خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر اعتراض، نوٹس جاری
    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی نایاب علی کے کاغزات منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اس معاملے کو ریٹرننگ افسر کے پاس اٹھایا تھا؟ آپکی درخواست ہی مکمل نہیں، اس درخواست کو میں یہاں پر خارج کرسکتاہوں،آپ نے جو اعتراضات اٹھائے تھے کیا وہ تحریری تھے یا زبانی تھے؟ عدالت نےفریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے اورپیر تک کے لئے جواب طلب کر لیا

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے کاغزات نامزدگی منظور
    الیکشن ٹربیونل نے شیخ رشید کی اپیل منظور کر لی ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،حلقہ این اے 56 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔تمام اعتراضات مستردکر دئے گئے،حلقہ این اے 57 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔اعتراضات مسترد کر دئے گئے،الیکشن ٹریبونل کے جج مرزا وقاص رئوف نے اپیل پر فیصلہ سنا دیا

    مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی بھی منظور
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ضیاء الحق شہید کے سربراہ اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئیے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے اعجاز الحق کے کاغذات پر ریٹرننگ افسر کے اعتراضات کو مسترد کردیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ