Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کا بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کا بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ڈھلوں نے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، گزشتہ روز عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج عدالت نے سنا دیا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر سماعت کی جسے عدالت نے ناقابل سماعت قرار دیدیا،عدالت نے عمر ڈھلوں کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے خارج کردیا۔

    تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ جو معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے وہاں لاہور ہائیکورٹ دخل اندازی نہیں کر سکتی۔انتخابی نشان کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ ایک ہی معاملے پر دو جگہ سماعت سے تضاد کے باعث الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔اس موقع پر درخواست یہاں قابل سماعت نہیں ہے۔ جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ ،جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض خان کا کل فون آیا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر تحفظ دے تو میں عدالت میں آ کر سب بتائونگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا کسی کے لیے ریڈ کارپیٹ بیچھائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آپ تحفظ تو دے سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی فوج ہے جو تحفظ دیں،

    شعیب شاہین نے صحافی مطیع اللہ جان کیس کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل تو آپ مطیع اللہ جان کا نام نہیں لے رہے تھے آج ان کے کیس کا حوالہ دے رہے ہیں،اس وقت جس کی حکومت تھی کیا اس نے ذمہ داری لی ؟شعیب شاہین نے کہا کہ اس وقت کی حکومت کی مداخلت سے ہی وہ پہلے دن رہا ہوگئے، عمران ریاض 4 ماہ لاپتہ رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں ایسا بالکل نہیں ہوا تھا یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے آپکی،مطیع اللہ جان واقعے کی ویڈیو ریکارڈ ہوگئی تھی جس وجہ سے رہا کرنا پڑا،مطیع اللہ جان کیس ایک ریکارڈڈ دستاویزی کیس تھا، شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض والے واقعے کی بھی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رک جائیں مجھے اب بات کرنے دیں،اگر اس وقت آپ لوگ سامنا کرتے تو آج والے واقعات نہ ہوتے، اگر مطیع اللہ جان کی رہائی میں آپکی کوئی مداخلت تھی تو ریکارڈ پر لائیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض کی کل مجھے کال آئی ، عمران ریاض کا پیغام ہے کہ اگر عدالت انہیں سیکورٹی دے تو وہ آکر سب بتانے کو تیار ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر اس فورم کا سیاسی استعمال کرہے ہیں، ایک واقعہ ابصار عالم کا ہوا تھا، ہم نے کہا میڈیا پر بات کرنے کی بجائے عدالت آکر بولیں، وہ آئے اور انہوں نے ادھر بات کی۔ جو آپکو فون کرکے کہہ رہا ہے اسکے لیے کیا ریڈ کارپٹ بچھایا جائے اور پھر وہ ادھر آئینگے، آپ اسکو سیاسی اکھاڑا نہ بنائیں،شیخ رشید نے آپکو کیا کہا؟ الیکشن کیس میں شیخ رشید عدالت آ سکتے ہیں تو اس میں کیوں نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جو اپنے لیے بات نہیں کر سکتے تو وہ کسی کیلئے کیا بات کرینگے،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایجنسیوں کے کردار پر فیض آباد دھرنا کیس میں بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس سے لاپتہ افراد کا کیا تعلق ہے؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ لاپتہ افراد کا براہ راست ذکر نہیں لیکن ایجنسیوں کے آئینی کردار کا ذکر موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے میں قانون کے مطابق احتجاج کے حق کی توثیق کی گئی ہے،کچھ دن پہلے مظاہرین کو روکا گیا تھا اس حوالے سے بتائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عدالت نے سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حیرت ہے آپ فیض آباد دھرنا کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، پہلے دن سے ہی فیض آباد دھرنا فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں،

    پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟چیف جسٹس کا آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ
    آمنہ مسعود جنجوعہ عدالت پیش ہوئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتی ہیں، آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ میں سچ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے خاوند کو کس نے غائب کیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ کے شوہر کیا کرتے تھے اور اس وقت حکومت کس کی تھی؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ مشرف کی حکومت میں میرے بزنس مین شوہر کو اٹھایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کارباری شوہر کا حکومت یا ریاست سے کیا تعلق تھا؟ ریاست کس وجہ سے آپ کے شوہر کو اٹھائے گی؟پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے میرے شوہر کو 2013 میں مردہ قرار دیدیا تھا،میرے شوہر دوست سے ملنے پشاور کیلئے نکلے لیکن پہنچے نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار آمنہ جنجوعہ سے پوچھا کہ لوگوں کو اب بھی لاپتہ کیا جارہا ہے؟ آمنہ جنجوعہے ہاں میں جواب دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آبزرویشنز دیں کہ؛ "لوگوں کو 2002 سے لاپتہ کیا جارہا ہے، ماضی میں لاپتہ کئے گئے لوگوں کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر نہیں آتی، ہم پرانا مسئلہ تو حل نہیں کرسکتے، شائد اب رکوا دیں یہ سلسلہ، آج ہی ہم حکم جاری کردیتے ہیں کہ اب سے لوگوں کو نہ اٹھایا جائے، اٹارنی جنرل صاحب آپ وفاقی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آئندہ لوگوں کو لاپتہ نہیں کیا جائے گا؟ اٹارنی جنرل بولے بالکل یہ یقین دہانی کرواتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ اگر آپ کی یقین دہانی کے بعد لوگ لاپتہ ہوئے تو اس کے نتائج ہونگے۔”

    سپریم کورٹ نے آمنہ مسعود جنجوعہ کی درخواست پر وزارت داخلہ اور دفاع سے جواب مانگ لیا ،عدالت نے کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے کیس کو سنجیدگی سے لیا جائے،اٹھارہ سال گزر گئے ہیں سچائی جاننا آمنہ جنجوعہ کا حق ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیرستان میں 6 حجاموں کے قتل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کیا قتل کرنے والے کو خدا کا خوف نہیں ہوتا؟6 نائی قتل کر دیے گئے لوگوں کو خوف ہی نہیں ہے،قتل کرنے والے یہاں سزا سے بچ سکتے آخرت میں تو جواب دینا ہوگا،بلوچستان میں 46 زائرین کو مار دیا جاتا ہے،عدالت کا کام نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلے،

    لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،اعتزاز احسن
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں سپیشل بنچ بنا چکی ہے جو کمیشن کارروائی کو سپروائز کرتا تھا،سپیشل بنچ نے وہ کیسز دیکھنے تھے جن میں پروڈکشن آرڈر پر عمل نہیں کیا گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمیشن کو جب علم ہی نہیں کہ بندا کہاں ہے تو پروڈکشن آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کمیشن ابتدائی انکوائری میں تعین کرتا ہے کہ کیس جبری گمشدگی کا ہے بھی یا نہیں،لاپتہ افراد کمیشن کے احکامات پر حکومت عملدرآمد نہیں کرتی، کمیشن نے 700 پروڈکشن آرڈر جاری کیے عملدرآمد صرف 51 پر ہوا،اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ریٹائر جج سربراہ ہوگا تو شاید وہ عملدرآمد نہ کروا سکے، لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی ایشو ہوتا ہے تو ہم اپنے ہی جج کیخلاف کاروائی یا پوچھ کیسے کریں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر جواب دینا چاہیے، کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تمام پروڈکشن آرڈر بارے تفصیلی رپورٹ دیں،آج جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے پشاور ہائی کورٹ کے ججز کے حوالے سے،آج مزید سماعت کرنا ممکن نہیں ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمیشن نے کیا کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اختر مینگل نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں کسی کے ذاتی مسائل نہیں سنیں گے، عدالت نے منگل تک لاپتہ افراد کمیشن سے تمام مقدمات کی تفصیلات مانگ لیں ،عدالت نے کمیشن کو تمام پروڈکشن آرڈرز اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ اٹارنی جنرل آگاہ کریں پروڈکشن آرڈرز کے حوالے سے حکومت کا کیا موقف ہے،

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو پریس کلب کے سامنے بیٹھے لاپتہ افراد کے لواحقین کو ہراساں کرنے زبردستی اٹھائے جانے اور ان کی کسی بھی پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے روک دیا۔اور کہا ہم امید کرتے ہیں ان کو تنگ نہیں کیا جائے گا کیونکہ احتجاجا کرنا ان کا قانونی اورآئینی حق ہے۔لاپتہ افراد کیس میں ذاتی مسئلے نہیں سنیں گے، لاپتہ افراد کیس کی سماعت 9جنوری تک ملتوی کر دی گئی.

    لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے،چیف جسٹس
    وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کیخلاف دائر اپیلیں واپس لے لیں ، عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہوچکا ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا معاملہ زاتی نہیں بلکہ ایک نیا پیٹرن شروع ہوا ہے، لاپتہ کرنے کا اب نیا طریقہ متعارف کروایا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے، جو گھر واپس آ چکا ہے وہ مجاز قانونی فورم کا استعمال کرے، اعتزاز صاحب اگر متفق نہیں ہیں تو رجسٹرار اعتراضات کالعدم قرار نہیں دینگے، سپریم کورٹ نے پروڈکشن آرڈرز کے اجراء اور ان پر عملدرآمد سے متعلق اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کرلیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا، درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے.

    شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تک 2200 سے زائد لوگ مسنگ پرسن ہیں جن کا کچھ نہیں پتہ

    چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5،5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا گیا

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • شمالی وزیرستان، محسن داوڑ کی گاڑی پر فائرنگ

    شمالی وزیرستان، محسن داوڑ کی گاڑی پر فائرنگ

    میرانشاہ :شمالی وزیرستان میں چئیرمین این ڈی ایم محسن داوڑ کے قافلے پر حملہ ہوا ہے

    انتخابی مہم کے دوران میران شاہ تپی کے علاقے میں محسن داوڑ کے قافلے پر فائرنگ کی گئی ہے، گولیاں گاڑی کے فرنٹ اور سائیڈ شیشوں پر لگیں، محسن داوڑ گاڑی میں سوار تھے تا ہم بلٹ پروف گاڑی کی وجہ سے حملے میں محفوظ رہے ،پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے،ڈی پی او شمالی وزیرستان روحان زیب کا کہنا ہے کہ محسن داوڑ پر فائرنگ کرنے والے شدت پسندوں پر جوابی فائرنگ کی گئی ہے،محسن داوڑ کے پاس پولیس سیکیورٹی موجود تھی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہو گئے ہیں،محسن داوڑ کو فل پروف سیکیورٹی فراہم کی ہے، وہ بالکل محفوظ ہیں، نامعلوم شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے

    سابق صوبائی وزیر اجمل خان وزیر کا کہنا ہے کہ محسن داوڑ پر شمالی وزیرستان الیکشن کمپین کے دوران حملہ افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے . شمالی اور جنوبی وزیرستان آئیے روز ٹارگٹ کلنگ ہورہے ہیں، محسن داوڑ بُلٹ پروف گاڑی کی وجہ سے محفوظ رہے ایسے حالات میں الیکشن کمپین کرنا انتہائی مشکل ہے حملے کی فوری تحقیقات کیا جائے۔

    نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کی چیئرپرسن کے پی بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ ہم نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیرمین اور این اے 40 کے امیدوار محسن داوڑ پر شمالی وزیرستان کے علاقے تپی میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ چیرمین محسن داوڑ اور ہمارے دیگر ساتھی حملے میں محفوظ رہے۔ وزیرستان اور پختونخوا میں دہشتگردی بڑھتی رہی ہے۔اس طرح کے دہشتگرد حملوں اور خطرناک ماحول میں چیرمین محسن داوڑ کو لیول پلیئنگ فیلڈ کس طرح سے فراہم کی جاۓ گی؟ ہم اس حملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو امیدواروں کی سیکیورٹی کے انتظامات کرنا ہونگے۔ ہم الیکشن کمیشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پختونخوا میں امیدواروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے فوری طور پر ایمرجنسی میٹنگ بلاۓ۔

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

    محسن داوڑ نے چمن میں ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا 

  • سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست  پیر تک ملتوی

    سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست پیر تک ملتوی

    پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ میں الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی سماعت کر رہے ہیں،پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے لطیف کھوسہ کے نام کیساتھ سردار لکھنے پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار،نواب اور پیر جیسے الفاظ اب لکھنا بند کر دیں،1976 کے بعد سے سرداری نظام ختم ہوچکا ہے،یا تو پاکستان کا آئین چلائیں یا پھر سرداری نظام،آئین پاکستان کیساتھ اب مذاق کرنا بند کر دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے شناختی کارڈ پر سردار لکھا اس لیے عدالت میں بھی سردار لکھا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سردار اور نوابوں کو چھوڑ دیں اب غلامی سے نکل آئیں،سردار لکھ کر اپنا رتبہ بڑا کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،سرداری نظام ختم ہو چکا ہے یہ سردار نواب عدالت میں نہیں چلے گا ،آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا آپ کے بیٹے بھی سردار ہو گئے ہیں ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ مجھے پریکٹس کرتے ہوئے 55 سال ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ باتیں نہ کریں ناں،

    لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ،سپریم کورٹ میں کہا کہ لیول پلینگ فلیڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے،جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں،مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا،آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے،الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟ یہ توہین عدالت کا کیس ہے کوئی نئی درخواست نہیں،الیکشن کمیشن نے جو توہین کی آپ کے مطابق وہ بتائیں، آپ کو آرڈر کیا دیا؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے اتنے لوگوں کو اس میں فریق بنایا،آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں،اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا،آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں،آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں،کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں اپیل دائر کرنے کے لیے آراو آرڈرز کی نقل تک نہیں دے رہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، لطیف کھوسہ نے کہا کہ 3 دن تک آرڈر کی کاپی نہیں ملی،اپیل کہاں کریں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے لوگوں کے نام کی جگہ میجر فیملی لکھا ہوا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میجر طاہر صادق کا ذکر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں،آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹرابیونل میں درخواست دیں،ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظور کر لیں،ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں،عدالتیں الیکشن کیلئے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،آپ ٹربیونل میں اپیلیں دائر کریں اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے، ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج آخری دن ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کھوسہ صاحب ٹربیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں اور وہ اس کیس سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر الیکشن گزر جائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا،آپ ہر بات کے جواب میں سیاسی جواب دے رہے ہیں، یہ قانون کی عدالت ہے،آپ اپنی درخواست میں توہین عدالت کے مرتکب ہونے کا الزام آئی جی پر لگا رہے ہیں،انتخابات آئی جی،چیف سیکیریٹریز یا سپریم کورٹ نے کرانے ہیں؟ہر ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونل بن چکے وہاں جائیں، بارہا کہہ چکے کہ عدالتیں جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ مجھے بھی سن لیں میں 55 سال سے وکالت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 22 دسمبر کے حکم پر 26 دسمبر کو مفصل عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ دیکھنے کے لیے کل تک کا وقت دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا روز آپ کے کیس سنتے رہیں گے،عدالت کوئی اور کام نا کرے؟اکھاڑا نہیں یہ عدالت ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ صوبائی الیکشن کمیشن کا خط بھی تو دیکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے خط 24 دسمبر کو لکھا جبکہ الیکشن کمیشن نے عملدرآمد رپورٹ 26 کو جمع کرائی،الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کے بعد کچھ کیا ہو تو بتائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ویڈیو لگانے کی اجازت دیں، پوری دنیا نے میڈیا پر دیکھا جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا کیونکہ میں میڈیا نہیں دیکھتا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا،کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبرا ہو گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ توہین عدالت کے سکوپ تک رہیں،یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامہ پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا،الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرامد رپورٹ ہمیں بھیج دی،

    سردار لطیف کھوسہ نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے،آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھیں ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے دنیا نے سب کچھ دیکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ صرف کاسمیٹک عملدرآمد نہیں آپ بنیادی حقوق کے محافظ ہیں آپ نے شفاف الیکشن یقینی بنانے ہیں،میں ہائیکورٹ یا دیگر عدالتوں میں جا کر وقت ضائع نہیں کر سکتا جب سپریم کورٹ نے پہلے ہی انتخابات سے متعلق حکم دے رکھا ہے،عدالت لیول پلیئنگ فیلڈ کی فراہمی یقینی بنائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی وہ شکایات دکھا دیں جو الیکشن کمیشن میں دائر کیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ ان کو لیول پلئینگ فیلڈ فراہم نہیں کر رہے؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل کر رہے ہیں، ان کی 30 شکایات موصول ہوئیں جن کو الیکشن کمیشن نے حل کیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہزاروں کے حساب سے درخواستیں ہیں اور الیکشن کمیشن 30 شکایات کی بات کر رہا ہے،جو کچھ ہو رہا ہے یہ کبھی ملکی تاریخ میں نہیں ہوا،ملک میں بدترین صورتحال پر کوئی آنکھیں کیسے بند کر سکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے پچھلی بار بھی دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا سپریم کورٹ کا ٹائم ضائع کیا پھر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا،چیف الیکشن کمشنر ہم نے تو نہیں لگایا ہے آپ نے لگایا ہے،

    پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی کو نوٹس جاری
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہمی کیلئے دائر توہین عدالت کی درخواست،پی ٹی آئی وکلاء نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں،پی ٹی آئی کے 668 ٹاپ لیڈرز کے کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کردیا گیا،اضافی دستاویزات میں کہا گیا کہ 2000 کے قریب حمایت یافتہ اور سیکنڈ فیز کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،پی ٹی آئی رہنماوں کے کاغذات نامزدگی چھیننے کے 56 واقعات پیش آئے،پی ٹی آئی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا تیسرا اور آخری دن ہے، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    فہمیدہ مرز کےمخصوص نشستوں پر بھی کاغذات نامزدگی مسترد،نااہل قرار
    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رہنما ،سابق وفاقی وزیر و سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے مخصوص نشست پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، الیکشن کمیشن نےفیصلےمیں کہا کہ فہمیدہ مرزا الیکشن کے لیے نا اہل قرار دی جاتی ہیں،فہمیدہ مرزا کے 2 ملین روپے کی نادہندہ ہونے کا اعتراض سعدیہ جاوید نے داخل کیا تھا،اسٹیٹ بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ فہمیدہ مرزا کی کمپنی نادہندہ ہے، وہ ذاتی طور پر نادہندہ نہیں. فہمیدہ مرزا پر آئین کےآرٹیکل 63 ون این کا اطلاق ہوتا ہے

    پیپلز پارٹی کے حلقہ این اے 56 سے امیدوار میاں خرم رسول کی اپیل سماعت کیلئے منظور
    ریٹرننگ آفیسر نے بنک ڈیفالٹر اور نیب کیس سزا کی بنیاد کاغزات نامزدگی مسترد کئے تھے،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی امیدوار کی سزا معطل ضمانت پر رہائی ہوچکی ۔امیدوار کسی مالیاتی ادارہ کا ڈیفالٹر نہیں ہے۔ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ۔الیکشن ٹربیونل نے 6 جنوری کو ریٹرننگ آفیسر سے جواب اور ریکارڈ طلب کر لیا

    تحریک انصاف کے 2620 امیدوار،1996 کاغذات نامزدگی منظور،624 مسترد ہوئے
    تحریک انصاف کا ایک اورجھوٹ بےنقاب، صحافی وقار ستی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور اورصوبائی اسمبلیوں سے تحریک انصاف کےکل 2620امیدوارنےکاغذات نامزدگی جمع کروائےان میں سے1996امیدواروں کےکاغذات نامزدگی منظور جبکہ 624 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے۔جو76اشاریہ18فیصد ہے۔کئی دنوں سےشورتھاکہ80فیصد لوگوں کےکاغذات مستردکر دیےگئےہیں۔

    تحریک انصاف کے بلوچستان میں قومی اسمبلی کے لئے 39 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جس میں سے17کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 22 کے منظور کیے گئے،بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کے لئے 90 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، جس میں سے 37 منظور جبکہ 53 مسترد ہوئے ہیں

    تحریک انصاف کے پنجاب اور اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے لئے 389 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،جن میں سے 127کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 262 منظور ہوئے،پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کے 769 امیدواروں میں سے 601 کے کاغذات منظور جبکہ 168 کے مسترد کئے گئے،تحریک انصاف کے سندھ میں قومی اسمبلی کے لئے 181 امیدواروں میں سے 46 کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 135 کے منظور کیے گئے،سندھ کی صوبائی اسمبلی کے لئے 423 امیدواروں میں‌سے 346 کے منظور اور77 کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے، خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے234 میں سے 55 امیدواروں کے کاغذات مسترد اور 179 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،کے پی کی صوبائی اسمبلی کے لئے 495 امیدواروں میں سے 414 کے کاغذات منظور جبکہ 81 کے مسترد ہوئے ہیں.

    عمران خان کے میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل دائرکر دی گئی،اپیل کو 160/24 نمبر لگا دیا گیا۔ اپیل کی سماعت کل جسٹس چوہدری عبدالعزیز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کریں گے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی 1 نشست سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی۔

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری انتخابات کی دوڑ سے باہر
    قاسم سوری کی جانب سے آر اوز کے فیصلے کے خلاف ایپلٹ ٹربیونل میں درخواست جمع نہیں کرائی گئی،ایپلٹ ٹربیونل میں آج اپیل دائر کرانے کا آخری روز تھا،شام چار بجے تک پی ٹی آئی کی جانب سے قاسم سوری سے متعلق کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی،قاسم سوری نے این اے 263پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے،جانچ پڑتال کے دوران آر اوز کی جانب سے انکے کاغذات مسترد کئے گئے تھے،قومی اسمبلی کے اسی حلقے سے 2018 کے انتخابات میں قاسم سوری کامیاب ہوئے تھے،سال 2018 کے انتخاب میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ان کے مدمقابل تھے

    مریم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل ٹریبونل میں دائر
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے کاغذات کی منظوری کے خلاف ندیم شیروانی نے اپیل دائر کی ،اپیل میں این اے 119 کے ریٹرننگ افسر کو فریق بنایا گیا ،مؤقف اختیار کیا گیا کہ مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ،مریم نواز نے کاغذات میں درست حقائق بیان نہیں کیے ،اپیلیٹ ٹریبونل مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے.

    اشتہاری ملزم نے سرنڈر نہ کیا ہو تو اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟ ہائیکورٹ
    راولپنڈی ۔کاغذات نامزدگی مسترد خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی،ٹی ایل پی،پی پی سمیت کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ہم نے آئیں اور قانون کو دیکھنا ہے میرٹ پر چلیں گے۔اشتہاری ملزم ہو اور عدالت میں سرنڈر بھی نا کیا ہو۔اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟کوئی سزا یافتہ ہے یا نہیں؟مگر اشتہاری ہے اور عدالت بھی پیش نہیں ہوا وہ نااہل ہوگا۔الیکشن ٹربیونل نے این اے 60 سے تحریک لبیک کے اشفاق اور این اے 89 میانوالی سے عامر خان کی اپیلیں خارج کر دیں،،الیکشن ٹربیونل جج چودہری عبدالعزیز نے فیصلہ سنا دیا

    کوئٹہ،آر او کے فیصلے کالعدم، متعدد امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی ملی اجازت
    کوئٹہ؛ اپیلیٹ کورٹ میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے درخواستوں پر سماعت کی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 44 سے آزاد امیدوار سردار خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 42 آزاد امیدوار جمعہ خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 49 سے پی ٹی آئی امیدوار سید عبدالحئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ میپ کے امیدوار علی پراچہ کی اپیل پر سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کے کاغذات پی بی 42 سے مسترد ہوئے تھے،

    ریٹرننگ افیسران کے فیصلوں پر ٹربیونل نے اظہار برہمی کیا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جمہوریت میں ایسے فیصلے نہیں کئے جاتے، سیکوٹنی کے لئے اس ہی لئے وقت دیا جاتا کہ آر اوز چیزیں مکمل کرسکے،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ہدایت کی کہ فوری طور پر متعلقہ آر او کو طلب کریں، حلقہ پی بی 41 سے مولانا محمد ایوب ایوبی کے کاغذات نامزدگی فارم منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،پی بی 42 سے اسلم رند ، پی بی 40 سے دوست محمد ،پی بی 39 سے عالمگیر خان ، پی بی 40 سے آزاد امیدوار خادم حسین کو انتخاب لڑنے کی اجازت مل گئی،جمعیت علماءاسلام کے امیدوار میر ظفر زہری کے 2 اپیلوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دئے گئے،میر ظفر زہری نے بی پی 18 اور پی بی 35 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کی تھی، بی پی 16 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار فائق جمالی کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیئے گئے،بی پی 36 سے بی اے پی کے امیدوار روبینہ عرفان کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیا گیا، این اے 266 سے پی ٹی آئی کے امیدوار عصمت اللہ کی کاغذات نامزدگی منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،این اے 263 سے بی این پی کے امیدوار میر مقبول لہڑی کی کاغذات نامزدگی منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،

    این اے 130، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونےکیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
    این اے 130 ، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،اپیلیٹ ٹریبونل نے اپیل پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،ایپلیٹ ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اشتیاق احمد نے اپیل دائر کی ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جسٹس رسال حسن سید نے اپیل پر سماعت کی.

    عمران خان کے وکیل کے کاغذات مسترد ہونے پر نوٹس جاری
    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کو نوٹس جاری کر دئیے،جسٹس راحیل کامران نے بطور ایپلٹ ٹربیونل سماعت کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،استدعا

    این اے 89،90،بیرسٹر عمیر نیازی کے کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں قائم الیکشن ٹربیونل جسٹس چوہدری عبد العزیز نے ریٹرننگ افسران کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی کے این اے 89 اور 90 میانوالی سے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی آر اوز نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر کاغذات کیوں مسترد کئے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف مقدمہ درج ہے مگر مجھے معلوم نہیں، عدالت نے پیپلز پارٹی امیدوار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مقدمے کو کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کیا؟ وکیل نے کہا کہ یہ چوری کا کوئی گمنام مقدمہ ہے جس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف امیدوار محمد امجد کی اپیل پر سماعت ہوئی ،وکیل نے کہا کہ میرے کاغذاتِ نامزدگی انکم ٹیکس کی وجہ سے مسترد ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر کے پاس ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے اختیارات ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس اس طرح کا کوئی اختیار نہیں،ریٹرننگ افسر کا کام صرف کاغذات کی جانچ پڑتال کرنا ہے، وکیل درخواست گزار

    کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف فرزند حسین شاہ کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لینڈ لائن کا 8 ہزار کا بل تھا جو جمع نہیں تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے، عدالت نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس تو یہ اختیار ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو خود کلئیر کریں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف جمشید محبوب کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دو گاڑیوں کے حوالے سے ہمارے خلاف دو مقدمات درج تھے جن کا ہمیں پتہ نہیں تھا، اس وقت ہم دونوں مقدمات میں ضمانت پر ہیں،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف محمد رفیق کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹیکس ڈیمانڈ اور لینڈ لائن بل کا معاملہ تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے تینوں حلقوں سے یہی اعتراض ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی تینوں حلقوں میں بل اور ٹیکس ڈیمانڈ کا اعتراض ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف چوہدری واجد ایوب کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے پر بجلی بل جمع نہ کرنے کا اعتراض ہے،بجلی بل جمع کرایا، اور ٹیکس بھی جمع ہے، وکیل درخواست گزار

    امیدوار چوہدری آصف کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میری پراپرٹی تھی جو میں فروخت کرچکا ہوں، جس پراپرٹی کو بیچ چکا اسی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے،

    ملک نوید اعوان کا کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اعتراض یہ ہے کہ میں متعلقہ حلقے کا ووٹر نہیں،حالانکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے خود مجھے این اے 48 کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،اپلیٹ ٹریبیونل نےا الیکشن کمیشن کو آر آوز سے ریکارڈ اور پیراوائز کمنٹس جمع کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے تمام اپیلوں پر سماعت 5 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی

    شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل پر فیصلہ محفوظ
    اسلام آباد:الیکشن ٹریبونل،پی ٹی آئی رہنما ایڈوکیٹ شعیب شاہین کے نامزدگی فارم مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹربیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ ریٹرنگ افسر نے آپ کو سنا نہیں ؟ شعیب شاہین نے کہا کہ میں نے میڈیا کی موجودگی میں کہا مجھ پر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کیا ریٹرنگ افسر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ امیدوار کو مناسب وقت دے گا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے اپنی پچھلے 3 سال کی ٹیکس ریٹرن میں اپنے آپ کو پراپرٹی کا آنر ظاہر کیا ، عدالت نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے ؟؟ جس میں آر او امیدوار کو وقت دے؟کوئی ایسی ججمنٹ ہے آرٹیکل 63 کے حوالے سے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نثار کھوڑو اور عمران نیازی کی ججمنٹ پر انحصار کر رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ 29 اور 30 دسمبر سکروٹنی کی آخرج تاریخ تھی؟ سیکورٹی کے اس سارے عمل سے کیا تعلق ؟شعیب شاہین نے کہا کہ 30 کو جب سکروٹنی کے لیے گیا تو تینوں آر اوز نے کہا کہ آپ کے خلاف کچھ نہیں ہے، مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس نہیں آیا ،عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا،وکیل الیکشن کمیشن ثمن مامون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر درخواست گزار کو ٹیکس ریٹرن یا دیگر بقایاجات کا نہیں پتہ تو کاغذاتِ نامزدگی مسترد نہیں ہوگی، اگر چھ ماہ سے زائد کے بقایاجات اگر جمع نہیں تو پھر کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوگی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کے فارم میں موجود ہیں؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کاغذات نامزدگی سے متعلق تمام چیزیں فارم 17 میں موجود ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا آپکو پتہ ہے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا مجھے علم ہے مگر میں یہاں اس پر دلائل نہیں دونگی، درخواست گزار نے تین سالوں سے اس پراپرٹی کو اپنی ملکیت ظاہر کردی، درخواست گزار خود کہہ رہے ہیں کہ میں نے خود چیک کیا اور کہا کہ مجھے پتہ تھا،اب اگر کوئی تین سالوں تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کریں گے تو یہ انکا مسئلہ ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں ایسا کوئی قانون ہے کہ ریٹرننگ افسر درخواست گزار کو بقایاجات کلئیر کرنے کے لیے وقت دیں؟ آپ کے پاس آرٹیکل 62 ون ایف کے حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے؟ یعنی ہم یہ کہیں کہ درخواست گزار کو پتہ تھا کہ وہ ٹیکس نادہندہ ہے؟ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل دینے والے عدالتی فیصلوں کو جمع کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی بقایاجات نہ ہو تو اس پر آپ کے کیا دلائل ہونگے؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کہ مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس آیا اور نہ ہی میں ڈیفالٹر ہوں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ جمعہ کو آپ ججمنٹس کے ساتھ آئیے گا ، شعیب شاہین کے حلقہ این اے 46 47 48 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوں گے یا نہیں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ، جسٹس ارباب محمد طاہر فیصلہ سنائیں گے.

    اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟جسٹس ارباب محمد طاہر
    پی ٹی آئی رہنما سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی،سید ظفر علی شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ خود الیکشن لڑ رہے ہیں ؟سید ظفرعلی شاہ نے کہا کہ جی میں خود لڑ رہا ہوں، پوچھا گیا کس جماعت سے تعلق ہے، واضح لکھا ہے کہ پی ٹی آئی سے ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کے خلاف ایک گاڑی کے حوالے سے اعتراض ہے، سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ گاڑی میں نے 3 سال پہلے بیچ دی تھی ، عدالت نے کہا کہ آپ کوئی ایفیڈیوٹ یا ٹرانسفر لیٹر جمع کروائیں ،جمعہ کے لیے نوٹس کردیتے ہیں،جمعہ کو اس کیس کو میرٹ پر سنیں گے ،جن امیدواروں کے بلز یا دیگر ادائیگیاں نہیں ہوئیں ریٹرننگ افسر اُنہیں اعتراض دور کرنے کیلئے وقت دینے کا مجاز تھا. اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟

    این اے 122، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کی اپیل دائر
    این اے 122 سے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ،عمران خان نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ،اپیل میں‌مؤقف اپنایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ٹریبونل ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے .

    الیکشن ٹریبونل نے این اے 214 سے تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود قریشی اورزین قریشی کی اپیل پر الیکشن کمیشن،آر او اور دیگر سےجواب طلب کرلیا ،ٹریبونل نے این اے 238 سے پی ٹی آئی امیدوارحلیم عادل شیخ، این اے 241 پیپلزپارٹی امیدوارمرزا اختیار بیگ اور این اے 234 سے ایم کیو ایم امیدوار صادق افتخارکی اپیل پربھی ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کرلی ،این اے 241 سے پی ٹی آئی امیدوار ارسلان خالد کی اپیل پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا ہے جب کہ الیکشن ٹریبونلز نے الیکشن کمیشن اور دیگر سے 5 جنوری تک جواب طلب کرلیا ،

    ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں قائم الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں دائر کرنے کا آج آخری دن،بیشتر امیدواروں کی پہلے ہی سے اپیلیں دائر ہیں جن پر آج اور کئی کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ،شیخ رشید کے این اے 56/57 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی کی اپیل پر سماعت آج الیکشن ٹریبونل راولپنڈی میں ہوگی۔اسسٹنٹ ڈاِئریکٹر الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عمیر نیازی سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی آج تک کیلئے مہلت مانگی تھی ۔اٹک سے میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر کی اپیلوں پر سماعت الیکشن ٹربیونل میں کل 4 جنوری کو ہوگی ۔سابق وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ کے این اے 55 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت کل 4 جنوری کو ہوگی ۔پی ٹی آئی سابق ایم پی اے راجہ راشد حفیظ اور پیپلز پارٹی کے بابر جدون کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ۔پی ٹی آئی کے تین امیدواروں کی اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔اپیلیں دائر کرنے والوں میں این اے 55 اور پی پی 15 سے امیدوار زیاد خلیق، ایرج شاہنواز، انعم زاہد شامل ہیں،چوہدری پرویز الٰہی نے بھی الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کے منظور یا نامنظور ہونے بارے آج فیصلہ ہوگا ۔

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بلے کا نشان واپس لئے جانے کے فیصلہ آنے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا
    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کیخلاف کل سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے،تحریک انصاف سے بلا لینے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا، آپ ہم سے انتخابی نشان بلا لیں گے تو دنیا کبھی الیکشن قبول نہیں کرے گی،سپریم کورٹ کہہ چکی کہ پارٹی سےانتخابی نشان لینا اسے تحلیل کرنے کے مترادف ہے سپریم کورٹ تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال نہیں کرتی تو ہر امیدوار الگ الگ نشان پر لڑے گا جس سے کنفیوژن پیدا ہوگی،اس سے آپ کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھیں گے

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس، الیکشن کمیشن کی ہائیکورٹ کے 26 دسمبر آرڈر پر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے حکم امتناع واپس لے لیا،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل منظور کی اور الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا،

    جسٹس اعجاز خان نے سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہنمد اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل اتمانخیل عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپکے دلائل ہم نے سنے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں سماعت سننے کے لئے آیا ہوں، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سینئر وکیل قاضی انور آرہے ہیں پھر دلائل پیش کریں گے، ہمیں تھوڑا وقت دیا جائے، عدالت نے کہا کہ ٹھیک ہے جب آپکا مین کونسل آجائے پھر سن لیں گے

    الیکشن کمیشن کیخلاف آپکی توہین عدالت کی درخواست نہیں آئی،پشاور ہائیکورٹ کے جج کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ
    دوبارہ سماعت ہوئی، تو پی ٹی آئی کے سینئر وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ پیش ہو گئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ قاضی انور ایڈووکیٹ میرے استاد ہیں، میں نے وکالت کی پریکٹس ان کے ساتھ شروع کی تھی،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں اور بیرسٹر گوہر اس کیس میں وکیل ہیں،سیاسی جماعتوں نےعدالت میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑی ہیں،جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ سے سیکھا ہے کہ قانون کے لیے یہ باتیں بے معنی ہیں عدالت سے باہر کیا ہوتا ہے اس کا سماعت کے ساتھ کچھ کام نہیں،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری موجود ہے، ادھر آتے ہوئے مجھے روکا گیا،میری تلاشی لی گئی، کیا الیکشن کمیشن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت آ سکتا ہے؟ ان کی رٹ ٹھیک نہیں ہے، 26 دسمبر کو فیصلہ آیا، اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا، الیکشن کمیشن نے اب تک ویب سائٹ پر انٹرا پارٹی انتخابات سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ کیا اس کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کی ہے۔ آپ کی طرف سے کوئی توہین عدالت درخواست نہیں آئی۔ قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے الیکشن کمیشن بتائے انھیں نے کیا کیا۔9 جنوری کو سماعت کے لئے مقرر ہے, 9 جنوری میں کتنے دن باقی ہیں،الیکشن کمیشن نے استدعا کی ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے۔یہ کیس 9 تاریخ کو ڈویژن بینچ نے سننا،جب انہوں نے ویب سائٹ پر سرٹیفکیٹ پبلش نہیں کیا تو ان کو مسئلہ کیا ہے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ یہ اب ان سے ہم پوچھیں گے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایک سیاسی جماعت کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا، الیکشن کمیشن کو اس آرڈر سے مشکلات ہے۔جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ؟

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس کو پہلے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کیا تھا پھر یہاں آگئے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس کا مجھے پتہ نہیں ہے، معلومات کروں گا، اس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل والے بھی پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا ہے ہم اس میں فریق نہیں ہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ اس دن پیش ہوئے لیکن پھر بعد میں ان کو پتہ چلا، اور ان کو کسی نے بتایا کہ آپ کا کام نہیں ہے، اس دن ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک گھنٹے سے زائد دلائل دیے، ہم کہتے رہے آپ دلائل پیش نہ کریں آپ کا کام نہیں،

    عدالت نےفریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کےپاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینےکااختیار نہیں،پی ٹی آئی نے 2013 اور 2018 انتخابات بلےکے نشان پر لڑے ہیں،

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تاحیات نا اہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ کا حصہ ہیں جسٹس مسرت ہلالی بھی 7رکنی بینچ میں شامل ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں کتنی درخواستیں ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں( جو کہ 5 سال ہے) اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا موقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے،

    میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی،وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ درخواست گزار ثناء اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کر دی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ ایڈوکیٹ جنرلز نے اٹارنی جنرل کی موقف کی تائید کردی،صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کر دی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 1 ایف میں نااہلی کی معیاد کا ذکر نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا جب تک عدالتی فیصلہ موجود ہے نااہلی تاحیات رہے گی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قتل اور ملک سے غداری جیسے سنگین جرم میں آپ کچھ عرصے بعد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 میں فرق کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ممبران کی اہلیت جبکہ 63 نااہلی سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 62 کی وہ ذیلی شقیں مشکل پیدا کرتی ہیں جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہیں، کسی کے کردار کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟کیا اٹارنی جنرل اچھے کردار کے مالک ہیں؟ اس سوال کا جواب نا دیجیے گا صرف مثال کے لیے پوچھ رہا ہوں، اٹارنی جنرل کے اسپورٹرز کہیں گے آپ اعلی کردار جبکہ مخالفین بدترین کردار کا مالک کہیں گے، اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھرایا نہیں جا سکتا،ہم تو گنہگار ہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں، آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیریشن اپنی جگہ قائم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہو چکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی،جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا آ سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا، عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے،اسلیے نااہلی کم ہے،عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن باسٹھ ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، ایک مسلمان "صادق” اور "امین” کے لفظ آخری نبی کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا،اگر میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے جاوں اور کوئی اعتراض کرے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو مان لوں گا،کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ڈی کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اچھے کردار کا مالک ہو اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی نا کرے تو اہل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا کردار کیا ہوتا ہے؟اگر اچھے کردار والا اصراف نہیں کرسکتا تو پھر وضو کے وقت پانی ضائع کرنے والا بھی نااہل ہے،الیکشن لڑنے کے لئے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے،ہم گنہگار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں،صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا،بڑے بڑے علماء روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتی تو قائداعظم بھی نااہل ہو جاتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر فوجداری مقدمات میں عدالت کسی شخص کو جھوٹا قرار دے کہ اس نے عدالت کو گمراہ کیا ہے، کیا اس پر آرٹیکل 62 1 ایف لگے گا؟کل وہ شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا کہ کوئی اعتراض کردے گا تمہیں عدالت نے جھوٹا قرار دیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت صاحب سول کیسز کے ماہر ہیں ان سے رائے لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ شہزاد شوکت صاحب آپ قانون کی حمایت کرہے ہیں یا مخالفت ، صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ میں قانون کی حمایت کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کرہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،وکیل درخواست گزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تاحیات نااہلی کے حق میں ہیں یا مخالفت میں ؟ عثمان کریم نے کہا کہ میں تاحیات نااہلی کے تب تک حق میں ہوں جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،

    مسٹر مخدوم علی خان، آپ روسٹرم پر آ جائیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ میں موجودہ کیس میں جہانگیز خان ترین کا وکیل ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا ، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یعنی جنرل ضیاء الحق نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں ، کیا ضیا الحق کا اپنا کردار اچھا تھا ؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں،جس شخص نے حلف اٹھانے کے بعد آئین توڑا وہ اعلی کردار کا مالک کیسے ہوسکتا؟ایک ڈکٹیٹر نے آرڈیننس کے تحت 1985 میں آئین میں شقیں ڈال دی،ان شقوں کے تحت تو قائد اعظم کو بھی تاحیات نااہل کیا جاسکتا تھا،مخدوم صاحب کیا آپ کسی ایسے فریق کو جانتے ہیں جو تاحیات نا اہلی کا حامی ہو؟شعیب شاہین کہاں گئے شاید ان کے پاس کوئی پوائنٹ ہو،

    عدالت نے ویڈیو لنک پر وکلا کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اس کیس میں سنجیدہ ہیں تو اسلام آباد آئیں،ہم آج اس کیس کو ملتوی کریں گے ،بڑے بڑے علما روز آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں ،وکیل درخواستگزار عثمان کریم روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آسکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کررہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں ،ایک مارشل لا ڈکٹیٹر کیخلاف الفاظ ادا کرنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ایک شخص کو کرپشن کے مقدمے میں جیل ہو گئی اور وہ سزا مکمل کر کے پانچ سال بعد الیکشن کے لیے اہل ہو گیا مگر کسی کو عدالت نے کرپٹ قرار دیا مگر جیل نہ ہوئی تو وہ عمر بھر کے لیے نااہل ہو گیا؟

    تاحیات نا اہلی کیس کی سماعت پرسوں 4 جنوری تک ملتوی کر دی گئی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو اس معاملے پر معاونین کی خدمات درکار ہوگی یہ تاثر نہ دیا جائے کہ تاحیات نااہلی کے حوالے سے عدالتی کارروائی کسی مخصوص جماعت یا امیدوار کیلئے ہو رہی،کوئی سیاسی جماعت یا انفرادی شخص کی بات نہیں ہم صرف آئینی و قانونی حیثیت دیکھ رہے ہیں

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں  چیف جسٹس

    مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں کوہاٹ پی کے 91 ریٹرننگ افسران معطل کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں ،جو ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں ،ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا،پشاور ہائی کورٹ نے ٹھک کر کے تقرری کنیسل کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور ہائیکورٹ میں ریٹرنگ افسر تبدیلی کی پٹیشن فائل کرنے والے پٹشنر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں نوٹس کئے بغیر ہی اپوائٹمنٹ کنسیل کر دی،پشاور ہائی کورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ،سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن کو سنے بغیر کیسے عدالتیں فیصلے کر رہی ہیں؟ یہ بڑی عجیب بات ہے، کیا آپ چاہتے ہیں پورا الیکشن ہی رک جائے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا؟ بلاوجہ کی درخواستیں کیوں دائر کی جا رہی ہیں،ابھی آرڈر کر دیتے ہیں ریٹرننگ آفیسرز سکروٹنی جاری رکھے، پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظورکر لی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی تھی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا دوسرا دن ہےکاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 132، شہبا ز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 132 سے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج کر دی گئی،
    شاہد اورکزئی کی جانب سے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم سپریم کورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں، شہباز شریف نے ہی ورکرز کے ذریعے سپریم کورٹ پر حملہ کروایا، قانون کے مطابق انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شاہد اورکزئی نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور ٹریبونل تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے ووٹ منسوخ کرنے کا حکم دے.

    پی ٹی آئی رہنما عاطف خان، محمود جان، شہرام ترکئی، افتخار مشوانی اور عبدالسلام آفریدی سمیت 50 امیدواروں کی کاغذات نامزدگی مسترد یا منظوری کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لی گئیں،الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس شکیل 4 جنوری سے سماعت کرینگے

    ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی،ظفر علی شاہ، سہیل احمد ودیگر کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں سماعت کیلیے مقرر
    اسلام آباد کے حلقوں این اے 46,47,48 سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی کی اپیل کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ظفر علی شاہ اور سہیل احمد کی اپیلیں بھی کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئیں،پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی ریٹرننگ آفسر کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر کل اپیلوں پر سماعت کریں گے

    کوئٹہ،پی بی 42سے عبدالخالق ہزارہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی،آر او نے کاغذات نامزدگی کے بینک اسٹیٹمنٹ نہ لگانے کااعتراض کیاتھا

    زرتاج گل وزیر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ملتوی کر دی گئی،آر پی او ڈیرہ غازی خان اور اینٹی کرپشن سے رپورٹ طلب کرلی اگلی سماعت 4 جنوری کو ہوگی

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کے وکیل نے کی اپیل دائر
    ‏ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ لاہور ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ،اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،

    کاغذات نامزدگی منظوری اور منسوخی کیخلاف الیکشن ایپلٹ ٹربیونل میں اپیلیں دائر ہونے کا سلسلہ جاری ہے،این اے 99 اور پی پی 107 کے امیدوار عمر فاروق نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائرکر دی، اپیل میں مؤقف اپنایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے امیدوار ہوں،ریٹرننگ آفیسر نے سیاسی بنیادوں پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ریٹرننگ نے امیدوار کے موجود نہ ہونے پر کاغذات مسترد کیے،دستخط شناختی کارڈ کے مطابق نہ ہونے کا الزام لگایا،کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی تصدیق شدہ نہ ہونے کا الزام لگایا،ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں،تمام الزامات کے تحریری ثبوت درخواست کے سات منسلک کر دئیے ہیں،عدالت ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے الزام کو کالعدم قرار دے،

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف شعیب شاہین کی درخواست پر نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ ، الیکشن ٹربیونل ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کی اپیلوں پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے الیکشن کمیشن کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دئیے ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے آپ نے ایک پراپرٹی کا ٹیکس جمع نہیں کرایا ؟65 ہزار روپے ٹیکس آپ کے ذمہ تھا ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پراپرٹی میرے نام ابھی ٹرانسفر نہیں ہوئی ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے سماعت کل تک ملتوی کردی ،شعیب شاہین کے اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی نشستوں سے کاغذات مسترد ہوئے ہیں

    این اے 236،پی ٹی آئی امیدوار عالمگیر خان نے ریٹرننگ افسر کے خلاف اپیل دائر کردی،ریٹرننگ افسر نے عالمگیر کے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

    این اے 112، رانا جمیل نے اپیل دائر کر دی
    پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا معاملہ ،پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ، اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی کا امیدوار ہوں.کاغذات نامزدگی پر کسی نے اعتراض عائد نہیں کیا ،ریٹرنگ آفیسر نے خود سے کاغذات نامزدگی میں اعتراضات عائد کر کہ کاغذات نامزدگی مسترد کردیے،ریٹرنگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں،

    این اے 47، نیازاللہ نیازی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل دائر کر دی
    تحریک انصاف کے رہنما نیاز اللہ نیازی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،نیاز اللہ نیازی نے این اے 47سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کا فیصلہ ایپلیٹ ٹریبونل میں چیلنج کردیا ،نیاز اللہ نیازی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغزات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر کردی ،نیاز اللہ نیازی کے این اے 47 اسلام آباد سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی دور حکومت میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد تعینات رہ چکے ہیں

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    پشاور: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس،الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز خان نے اپیل پر سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر مہمند نے دلائل دیئے، الیکشن کمیشن وکیل نے جسٹس کامران حیات کا فیصلہ عدالت میں پڑھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چھٹیوں کے دوران اس عدالت کے جج نے فیصلہ معطل کیا، پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کا انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،ہائیکورٹ کا فیصلہ یکطرفہ کارروائی ہے، الیکشن کمیشن کو نہیں سنا گیا، الیکشن کمیشن کیس کا بنیادی فریق ہے، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سنا جو صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں،

    جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کوئی ایسا آرڈر دیا کہ کیا ایک ہائیکورٹ کا حکم پورے ملک کیلئے ہوتا ہے، اخبار میں پڑھا تھا، کیا ایسے کوئی حکم ہے بھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل سپریم کورٹ نے آر اوز سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا تھا، پہلا پوائنٹ یہ ہے کہ یکطرفہ کارروائی کے تحت فیصلہ معطل کیا گیا، دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیس میں اصل درخواستگزار کہاں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھ ےمعلوم نہیں، شاید وہ خود پیش نہیں ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نہیں کہہ رہا ہے کہ کوئی فیصلہ دیا جائے، صرف معطلی کا فیصلہ واپس لیا جائے، کیس پر پھر ڈویژن بنچ کے سامنے دلائل دینگے، 9 جنوری تک معطلی کا واپس لیا جائے،ڈویژن بینچ قائم کیا جائے تاکہ کیس کی سماعت صحیح طریقے سے ہو سکے، دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے

    ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے، ہماری نگراں صوبائی حکومت ہے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں اس کیس سے نکالا جائے، اگر ہمیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو پھر عدالت کی معاونت کریں گے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا بھی یہی مؤقف ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہمارا بھی یہی مؤقف ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ صرف صوبے تک فیصلہ کر سکتی ہے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہوئے ہیں،دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.