Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سائفر کیس، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر،کل پیشی کا امکان

    سائفر کیس، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر،کل پیشی کا امکان

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری ہو گئی

    جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ہی قید رکھا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں،30 اگست کو عدالت پیش کیا جائے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سپریٹنڈٹ اٹک جیل کو مراسلہ ارسال کر دیا،

     سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے، سزا معطلی کی درخواست منظور کرکے 5 اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے، درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے،ٹرائل کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ پر سزا کا فیصلہ سنایا

    سزا معطلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قائم علی شاہ کیس کا حوالہ بھی شامل،اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے،عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے،” سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر کیس میں سزا معطل ہو ، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے ، اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے ، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے ، سزا معطلی کی درخواست منظور کر کے پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی، عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہفیصلہ باضابطہ طور پر کمرہ عدالت میں نہیں سنا رہے، عدالت نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا کہ تحریری فیصلے میں سزا معطلی کی وجوہات بتائی جائیں گی ،

    عدالت نے فیصلہ سنایا تو وکلا کی بڑی تعداد عدالت کے اندر موجود تھی، عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان اور علیمہ بھی کمرہ عدالت میں آئیں تا ہم 12 بج کر پچاس منٹ پر عمران خان کی بہنیں فیصلہ سنے بغیر ہی واپس چلی گئیں،،اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر بھی تعینات کی گئی تھی،درخواست پر 9 کو اگست پہلی سماعت ہوئی تھہ آج 20 روز بعد فیصلہ سنایا گیا، عدالت نے فیصلہ سنانے کا وقت گیارہ بجے کا مقرر کیا تھا مگر فیصلہ تاخیر سے سنایا گیا،

    فیصلے کے انتظار کے دوران وکلا کمرہ عدالت میں ویڈیو بناتے رہے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی عملے کی جانب سے تنبیہ کی گئی اور کہا گیا کہ ویڈیو نہ بنائیں، موبائل سائلنٹ کردیں، سیٹوں پر بیٹھ جائیں، کچھ ہی دیر میں ججز آنے والے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    عمران خان نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی جانب سے لطیف کھوسہ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ ایک دن میں فیصلہ کریں تا ہم ایک دن میں فیصلہ نہ ہو سکا، آج عدالت نے فیصلہ سنایا ہے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے،شہباز شریف
    عدالتی فیصلے پر سابق وزیراعظم، ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس کا "گُڈ ٹو سی یو” اور "وشنگ یو گڈ لک” کا پیغام اسلامآباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتہ ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔ اعلی عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟

    سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی،مجرم ابھی بھی مجرم ہے
    صحافی فیصل عباسی کہتے ہیں کہ سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی ہے اور کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔ مجرم ابھی بھی مجرم ہے اور الیکشن کے لیے نااہل ہے۔ قانون کے مطابق ٹرائل کورٹ سے تین سال کی سزا تک کو اعلی عدلیہ اس وقت تک معطل کر سکتی ہے جب تک اس کیس کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔ اس عمل میں سزا پھر بھی قائم رہتی ہے اور مجرم ، مجرم ہی رہتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت عمران خان کی سزا تب تک معطل کرے گی جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ سیکشن 426 کے مطابق یہ معطلی صرف اُس وقت تک ہے جب تک اسکی مین اپیل کورٹ میں پینڈنگ ہے.

  • اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جون کے بعد مخدوم علی خان سے ملے ہیں،ہم نے درخواست گزار سمیت دیگر وکلا کی تحریری معروضات دیکھی ہیں،اس کیس میں بہت وقت لگ چکا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد مختلف درخواستیں دائرہوئی ہیں،

    چیف جسٹس نے پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ سے متعلق گزشتہ عدالتی حکمنامے پڑھنا شروع کردیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی وکیل مخدوم خان کا مدعا ہم سمجھ چکے ہیں، مخدوم صاحب توآج کل سب کے بارے میں ہی بڑے تنقیدی ہوگئے ہیں،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ میں خامیاں ہیں، اٹارنی جنرل نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق یکم جون کومطلع کیا،اٹارنی جنرل نے جون میں کہا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو اسمبلی دیکھے گی، اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا،نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت کا اس قانون سے متعلق موقف کیا ہے، کیا معطل شدہ قانون کو اتنی اہمیت دی جائے کہ اس کی وجہ سے تمام کیسز التوا کا شکار ہوں؟ اٹارنی جنرل نے ایکٹ پردوبارہ جائزے کیلئے دو مرتبہ وقت کیوں مانگا؟وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ اٹارنی جنرل اپنی پوزیشن کے دفاع کیلئے یہاں موجود نہیں ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مبشرحسن کیس کے فیصلے میں وجوہات دی گئی ہیں،آٹھ ممبرز بنچ کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں سن سکتے،اگرآپ کوکوئی اعتراض ہے تونئی درخواست دائرکرکے آجائیں، کیا سپریم کورٹ اپنا کام بند کر دے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ اعتزازاحسن کیس میں کسی قانون سازی کوکالعدم نہیں قراردیا گیا، اعتزازاحسن کیس میں کہا گیا کہ قانون سازی غیرموثررہے گی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یکم اورآٹھ جون کا فیصلہ اس لیے پڑھ کرسنایا ، تاکہ حکومت نے خودتسلیم کیا ناقص قانون سازی کی گئی، عدالتی حکم سے معطل شدہ قانون سازی کےتحت کاروائی متاثرتونہیں کی جا سکتی، خواجہ حارث نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اس وقت ان فیلڈ نہیں معطل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو قانونی نکات اُٹھائے گئے انھیں ہم سمجھ رہے ہیں، موجودہ کیس میں حکومت پاکستان نے خود اس کیس کو التواء میں ڈالنے کی استدعا کی،ہم یہاں آئین اور قانون کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں، کیس سننے کے لیے ہم میں سے ایک ممبر کو بیرون مُلک سے واپس آنا پڑا، میری ذاتی رائے یہ ہے اس کیس کو چلایا جائے، 2023 والی نیب ترامیم تو مخص ایک ریفائن کرنے کی کوشش تھی اصل نیب ترامیم تو 2022 میں آئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ 2023 والی ترامیم سے متعلق بھول جائیں، چھٹیاں چل رہی ہیں ہم صرف اس کیس کے لیے واپس آئے ہیں، آپ اپنے دلائل کو 2022 والی ترمیم تک محدود رکھیں، لگتا ہے یہ کیس ای او بی آئی بنتا جارہا ہے جو ختم نہیں ہونا، ای او بی آئی کیس میں چھ چیف جسٹس گزارے تھے،

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ 8 رکنی بنچ نےقانون سازی پرحکم امتناع دے رکھا ہے، میں نے اپنے نوٹ میں آٹھ رکنی بنچ کے اسٹے آرڈرپراعتراض نہیں کیا میرا سوال صرف اتنا ہے کیا یہ کیس اسی بنچ کوسننا چاہیے یا فل کورٹ تشکیل دینا چاہیے یہ نیٹ فلیکس سیزن تھری بن گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس مقدمے کا 2022 کی ترامیم کے حوالے سے فیصلہ کر دیتے ہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023ء میں چھوٹی ترامیم ہوئی جیسا کہ مقدمہ منتقلی کے حوالے سے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں صرف بتائیں کہ 2022ء والی ترامیم میں کیا کیا شامل ہوا تاکہ کیس کو ختم کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2023 والی ترامیم سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ترمیمی درخواست دائر نہیں کی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں ان کی درستگی کروا دوں گا عدالتی حکمنامے میں موجود ہے کہ میں نے 2023 والی ترامیم کا معاملہ اُٹھایا، عدالت نے مجھے متفرق درخواست دائر کر کے اور کاپی مخالف فریق کو دینے کا کہا اور یہ میں کر چُکا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم سے کچھ لوگون کو استثنی مل گیا، خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ بے نامی کا تصور بدل دیا گیا ہے،مخدوم علی خان نے کہا کہ 200 سال پہلے برطانیہ میں سات سو جرائم پر سزائے موت تھی، قوانین میں ترامیم سے ان سزاوں کو نرم کیا گیا،جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ بنیادی حقوق سے متعلق قانون ساز ترامیم کرسکتے ہیں، مخدوم علی کی جانب سے عدالت کے سامنے خلافت عثمانیہ اسلامی قوانین اور تاریخی کتب کے حوالے دئے گئے ،مخدوم علی خان نے کہا کہ ہاشم کمالی کی ایک کتاب کا حوالہ بھی پیش کروں گا ،جسٹس منصور شاہ نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ آپ نے یہ کتاب سم شاپنگ سے خریدی یا کہیں سے منگوائی تھی ؟مخدوم علی خان نے کہا کہ برسوں پہلے میں نے یہ کتاب ایمازون سے منگوائی تھی ،جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ میں ایمازون پر اس کتاب کو ڈھونڈ لوں گا ،مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے قانون بھی سلطان بناتا تھا اور قاضی کی تعنیاتی بھی سلطان کرتا تھا اب ویسا سلطنت والا تصور موجود نہیں قانون ساز پر اعتبار کرنا چاہئے

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ،نیب ترامیم کیس، جسٹس منصور علی شاہ نے ایک بار پھر فل کورٹ بنانے کی تجویز دے دی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد اٹک جیل روانہ

    بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد اٹک جیل روانہ

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی

    بشریٰ بی بی توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد میں ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے پیش ہوئیں ،بشریٰ بی بی اپنے وکلاء لطیف کھوسہ اور انتظار پنجوتھہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے رخصت پر ہونے کے باعث ڈیوٹی جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے درخواست پر سماعت کی

    احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی 5 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی

    بشریٰ بی بی عدالت سے اٹک روانہ ہو گئی ہیں وہ اٹک جیل میں اپنے شوہر عمران خان سے ملاقات کریں گی، بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں، ملاقات کے لئے منگل کا دن مقرر ہے، آج بشریٰ بی بی کی عمران خان سے چوتھی ملاقات ہو گی

    بشری بی بی کو دوبارہ نیب نے نوٹس بھیجے تھے ،آج نیب نے بھی بشریٰ بی بی کو طلب کر رکھا تھا تا ہم بشریٰ بی بی نیب میں پیش نہیں ہوئیں، نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کو غیر ملکی معززین کی جانب سے نہایت قیمتی اورلاکھوں روپے مالیت کے تحائف ملے جو انھوں نے کم دام ادا کر کے اپنے پاس رکھ لیے بشری بی بی نے بطور تحفہ 2019 میں ملنے والا ایک لاکٹ اور چین، ایک جوڑا بُندے، دو عدد انگوٹھیاں اور ایک بریسلیٹ جبکہ 2020 میں ہیروں سے جڑا سونے کا ایک ہار، ایک بریسلیٹ، ایک انگوٹھی اور بُندوں کا ایک جوڑا، جبکہ 2021 میں ایک ہار، ایک جوڑا بُندوں کا، ایک انگوٹھی اور ایک ہاتھ میں پہنی جانے والی گھڑی اپنے پاس رکھی ، یہ تمام تحائف سرکار کی ملکیت تھے جنھیں آپ نے سرکاری طور پر توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا گیا اور نہ ہی ان کو ملکی قوانین کے مطابق حاصل کرنے کے لیے قیمت لگوائی گئیم سابق وزیر اعظم عمران خان اوران کی اہلیہ نے نہ صرف ان سرکاری حیثیت میں ملنے ولے تحائف کو اپنے پاس رکھا بلکہ ان سے مالی فائدہ بھی حاصل کیا گیا۔ نوٹس میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس میں درج سوالوں کے سچائی اور یمانداری پر مبنی جوابات جلد از جلد جمع کروائے جائیں

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جیل قوانین کے مطابق 48 گھنٹوں میں تمام سہولیات ملنی تھیں جو ابھی تک نہیں دی گئیں، بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پرائیویٹ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کی بھی استدعا کی اور کہا کہ شوہر کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات نہ دینے پر قانونی انکوائری کا مطالبہ کرتی ہوں میرے شوہر کو بی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی، پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    nab notice

  • سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے نیا قانون توثیق کیلئے صدر پاکستان کے پاس ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بے شک نیا بن جائے ہائی کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا، ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ توشہ خانہ تحائف عوامی ملکیت ہیں، عوامی ملکیت کے حامل تحائف کی نیلامی میں ہر شخص حصہ لے سکتا ہے، تحائف عوامی ملکیت ہیں تو ایسا ممکن نہیں کہ صرف مخصوص افراد ہی خرید سکیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق درست ہے، سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی پیروی کرنے یا نہ کرنے پر وقت مانگ لیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک جاویدنے حکومت سے ہدایات لینے کی استدعا کر دی،سپریم کورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہورہائیکورٹ احکامات کیخلاف دائر اپیل واپس لے لی ، سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ احکامات کے خلاف دائر اپیل واپس لے لی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ نئے رولز کی روشنی میں اپیل واپس لینا چاہتے ہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رولز پر نہ جائیں، توشہ خانہ پر پہلے ہی بہت شرمندگی ہو چکی ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص لوگوں کے لیے توشہ خانہ کی اشیاء کی نیلامی کی حکومتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا.

    پی ٹی آئی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف 2021 میں اپیل دائر کی تھی، جبکہ توشہ خانہ یا اسٹیٹ ریپازیٹری کا نام تو آپ نے اس سارے معاملے کے دوران بار بار سنا ہو گا۔ یہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔

    خیال رہے کہ کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جبکہ یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پاک فوج ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گی. آرمی چیف

    پاک فوج ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گی. آرمی چیف

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیرِ صدارت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا چوتھا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا جبکہ نگران وزیرِ اعظم کی صدارت اور عبوری حکومت میں SIFC کی ایپکس کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس تھا.

    اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف، عبوری کابینہ، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، صوبائی وزراء اور اعلی حکام نے شرکت کی اور اجلاس میں کابینہ کو SIFC کے قیام کے بعد اس قلیل مدت میں جاری منصوبوں اور مکمل شدہ اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    جبکہ وزیرِ اعظم نے SIFC کی اب تک کی بہترین کارکردگی اور Whole of the Government اپروچ کے ذریعے مختلف محکموں اور اداروں کے مابین تعاون کو سراہا، اپیکس کمیٹی نے SIFC کے بین الاقوامی سطح پر تعاون کی کوششوں کو سراہا.

    کمیٹی نے برادرانہ ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے اعلی سطحی وفود جن میں سعودی عرب اور اسلامی تنظیم برائے غذائی تحفظ (IOFS) شامل ہیں، کے دوروں کو بھی سراہا اور اپیکس کمیٹی نے SIFC کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ملکی معیشت کی بحالی کیلئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی.

    اپیکس کمیٹی نے زراعت/لائیو اسٹاک، کان کنی/معدنیات، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے گزشتہ حکومت کے منظور کردہ منصوبوں کی توسیق کی، وزیرِ اعظم نے SIFC کے تحت سرمایہ کاری کیلئے تیار موزوں ماحول سےبھرپور فائدہ اٹھانے اور تعین شدہ منصوبوں کی تکمیل کی ہدایت کی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر 302 روپے کا ہوگیا
    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ
    نوازشریف ہی عوام کومہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچائیں گے،مریم نواز
    چیف آف آرمی اسٹاف نے ملکی معیشت کی بحالی اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے پالیسیوں کے تسلسل میں نگران حکومت کے ساتھ پاک فوج کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور انہوں نے کہا کہ پاک فوج ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گی.

  • بلوچستان ہائیکورٹ ،عمران خان کے خلاف  ایف آئی آر منسوخ

    بلوچستان ہائیکورٹ ،عمران خان کے خلاف ایف آئی آر منسوخ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے جلاؤ گھیراؤ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ایف آئی آر کو منسوخ کردیا ہے

    بلوچستان ہائیکورٹ ںے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ،بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل بینچ نے فیصلہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر سنایا،جلاؤ گھیراؤ کیس میں عمران خان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کر دیا گیا ہے، وارنٹ بھی ختم کر دیئے گئے ہیں

    تاہم دوسری جانب وکیل قتل کیس میں ابھی تک عمران خان کے خلاف مقدمہ ختم نہیں ہوا ،سینیر وکیل عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ کے قتل کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ ون نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے ،وکیل قتل کیس سپریم کورٹ میں بھی چل رہاہے،عمران خان نے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی،،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم

    وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم

    نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے بجلی کے بلوں کے معاملے پر عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے اقدامات کی ہدایت کر دی ہے جبکہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت بجلی کے جولائی کے مہینے میں زائد بلوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کا پہلا دور اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے اور اس اجلاس میں عبوری کابینہ کے وفاقی وزراء شمشاد اختر، گوہر اعجاز، مرتضی سولنگی، مشیر وزیرِ اعظم ڈاکٹر وقار مسعود، سیکرٹری پاور، چئیرمین واپڈا، چیئرمین نیپرا اور دیگر متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس کو بجلی کے شعبے کے مسائل، زائد بلوں کے حوالے سے تفصیلات، بجلی چوری اور اسکی روک تھام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ وزیر اعظم نے اجلاس کو پیر تک ملتوی کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات اور پلان تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
    اعلامیہ میں بتایا گیا وزارت پانی و بجلی کے حکام نے بتایا کہ بجلی کے ٹیرف کا تعین نیپرا کرتا ہے، کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل ہوتا ہے، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے بھی بجلی کی قیمتوں میں فرق پڑتا ہے۔، پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ درآمدی کوئلے کی قیمت بھی 51 ہزار سے 61 ہزار روپے فی میٹرک رہی، آئندہ سال 2 کھرب روپے صرف کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادائیگیاں کرنی ہیں۔

    علاوہ ازیں حکام کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فرق 400 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں پر لاگو ہوا، 63.5 فیصد ڈومیسٹک صارفین کیلئے ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا گیا، 31.6 فیصد ڈومیسٹک صارفین کیلئے قیمتوں میں 3 سے 6.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا جبکہ صرف 4.9 فیصد ڈومیسٹک صارفین کیلئے 7.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔ جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک صارفین کیلئے اوسطاً ٹیرف میں 3.82 روپے کا اضافہ ہوا، دیگر کیٹیگریز میں آنے والے صارفین کیلئے 7.5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا، جولائی 2022 میں زیادہ سے زیادہ بجلی ٹیرف 31.2 روپے فی یونٹ تھا، جبکہ اگست2023 میں 33.89 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے۔

    اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں، ایسا ممکن نہیں کہ عام آدمی مشکل میں ہو اور افسر شاہی اور وزیرِ اعظم انکے ٹیکس پر مفت بجلی استعمال کریں، متعلقہ وزارتیں اور متعلقہ ادارے مفت بجلی حاصل کرنے والے افسران اور اداروں کی مکمل تفصیل فراہم کریں، میں عام آدمی کی نمائندگی کرتا ہوں، وزیرِ اعظم ہاؤس اور پاک سیکریٹریٹ میں بجلی کا خرچہ کم سے کم کیا جائے، اگر میرے کمرے کا اے سی بند کرنا پڑا تو بے شک بند کر دیں۔

    جبکہ نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بجلی کی بچت کے اقدامات کے نفاذ اور جولائی کے زائد بلوں کے مسئلے پر صوبائی وزراء اعلی کے ساتھ تفصیلی مشاورت بھی کل کی جائے گی، تقسیم کار کمپنیاں بجلی چوری کی روک تھام کا روڈ میپ پیش کریں، بجلی کے شعبے کی اصلاحات اور قلیل، وسط اور طویل مدتی پلان جلد از جلد پیش کیا جائے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں بجلی کے زائد بلز میں کمی کیلئے ٹھوس اقدامات مرتب کر کے پیش کئے جائیں، جلد بازی میں کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے، ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس سے خزانے پر اضافی بوجھ نہ ہو صارفین کو سہولت ملے۔ تاہم خیال رہے کہ بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کیخلاف ملک کے مختلف شہروں میں عوام کا احتجاج جاری ہے ،شہر شہر ریلیاں نکالی جارہی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے، اضافی ٹیکس واپس لیئے جائیں ورنہ احتجاج جاری رہے گا۔

  • سائفر مجھ سے گم ہو گیا ،عمران خان کا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اعتراف

    سائفر مجھ سے گم ہو گیا ،عمران خان کا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اعتراف

    تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان سے اٹک جیل میں سائفر کے حوالہ سے تحقیقات کی گئی

    سائفر گم کرنے اور مبینہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات کی ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،

    ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی بھی گرفتار ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سائفر جلسے میں لہرایا تھا اور پھر کہا تھا کہ وہ گم ہو گیا ہے، سائفر کی ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں، چند روز قبل ایک امریکی ویب سائٹ نے سائفر شائع کرنے کا دعویٰ کیا ہے،عمران خان نے سائفر کو ہی بنیاد بنا کر امریکہ کے خلاف تحریک چلائی تھی،عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی سائفر کے حوالہ سے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں، اعظم خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، اعظم خان اور عمران خان کی ایک آڈیو بھی سائفر کے حوالہ سے لیک ہوئی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے عمران خان کو طلب کیا تھا تا ہم عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور تحقیقات رکوانے کی کوشش کی، گزشتہ سماعت پر عدالت نے تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا،

    سائفر انکوائری اور مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے پانچ کیسز پر سماعت

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

     اعظم خان نے سائفر ڈرامہ بے نقاب کر دیا

    عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کروایا تھا، اعظم خان نے کہا کہ عمران خان نے مجھ سے سائفر 9 مارچ کو لیا اور پھر کہا سائفر گم ہو گیا ہے، ایک خفیہ سرکاری دستاویز کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور جھوٹا بیانیہ بنایا،سائفر کے جھوٹے بیانیے کا پلان عمران خان، شیریں مزاری اور دو مزید لوگوں نے بنایا

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے 30 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ دھمکی آمیز خط شاہ محمود قریشی نے خود دفتر خارجہ کے سفارت کار سے لکھوایا،علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے ڈپلومیٹ نے شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ خط وزیر خارجہ شاہ محمود کو بھجوایا,ڈپلومیٹ سے خود ساختہ خط موصول ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو خط پہنچایا,اس معاملے کے حقائق جلد قوم کے سامنے آئیں گے, شاہ محمود قریشی اور فارن آفس اس جعلی سازی کے اصل کرادر ہیں,شاہ محمود قریشی اور فارن آفس لیڑ گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنس چکے ہیں,ہم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور فارن آفس کے ملوث کرداروں کو اس کیس سے نہیں نکلنے دیں گے

  • حماد اظہر،قاسم سوری،فواد،علی زیدی،اعظم سواتی پر ایک اور مقدمہ درج

    حماد اظہر،قاسم سوری،فواد،علی زیدی،اعظم سواتی پر ایک اور مقدمہ درج

    ملکی سلامتی کے اداروں اور سرکاری عہدیداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    مقدمہ تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر،قاسم سوری، عمر سرفراز چیمہ، اعظم سواتی، مسرت جمشید چیمہ پر درج کیا گیا ہے، فواد چودھری، علی زیدی پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے،فواد اور علی تحریک انصاف چھوڑ کر جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے درج کیا ہے،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف جھوٹی مہم چلائی ،

    ایف آئی اے حکام کے مطابق ان تمام افراد کو گزشتہ ماہ وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن طلبی کے باوجود ابھی تک کوئی بھی پیش نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نے جواب جمع کروایا،جس کے بعد شواہد اور بیانات کی روشنی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں،

    نو مئی کے بعد حماد اظہر روپوش ہیں، عدالت نے انہیں اشتہاری بھی قرار دے رکھا ہے تا ہم وہ پیش نہیں ہوئے، حماد اظہر ٹویٹرپر ایکٹو ہیں،اعظم سواتی بھی منظر عام سے غائب ہیں،البتہ انکے بھی ویڈیو پیغام جاری ہوتے رہتے ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت