Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہم نے بچوں کو نہیں پاکستان کے مستقبل کو بچایا ہے،وزیراعظم

    ہم نے بچوں کو نہیں پاکستان کے مستقبل کو بچایا ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد .بٹگرام میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والوں کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا

    نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بٹگرام واقعے کی اطلاع جب پہنچی تو ہر پاکستانی پریشان تھا ، بار بار اپنے بیٹے کا چہرہ میرے ذہن میں آرہا تھا ، ذہن میں آرہا تھا اگر میرا بیٹا ڈولی میں ہوتا تو کیا ہوتا ،چیئر لفٹ ریسکیو آپریشن میں کامیابی پر سب کو سلام پیش کرتا ہوں،چیئر لفٹ میں موجود بچے میرے لئے ہیروز ہیں ،کریڈٹ فوج ، پی ڈی ایم اے ، مقامی افراد کا نہیں سب کا اجتماعی ہے،بچوں نے کہا دور سے فوجیوں کو دیکھا تو کہا اب ہم بچ جائیں گے ، یہی وہ رشتہ ہے جو فوج اور سوسائٹی کے درمیان ہونا چاہیے،ہمارے گھر کا نظام بااختیار اور باصلاحیت لوگوں کے ہاتھ میں ہے،

    قبل ازیں بٹگرام میں چیئرلفٹ والا واقعہ پیش آنے کے بعد چیئر لفٹ کے مالک اور آپریٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے،پولیس حکام کے مطابق بٹگرام میں چیئرلفٹ کے مالک، آپریٹر کو گرفتار کیا گیا ہے اور اسکے ساتھ چیئرلفٹ کنٹرول روم کو سیل کر دیا گیا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔چیئر لفٹ میں گزشتہ روز آٹھ افراد پھنس گئے تھے، رسی ٹوٹ گئی تھی، پاک فوج کے جوانوں نے مقامی افراد کے ساتھ ملکر ریسکیو آپریشن کیا اور رات کو پھنسے افراد کو نکال لیا گیا تھا، آرمی ایوی ایشن کے پانچ اور پاک فضائیہ کے 2 ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا تھا ، لفٹ میں 8 لوگ موجود تھے ،پھنسنے والوں میں ابرار عبدالغنی ،عرفان عمر عزیز،گلفراز حاکم داد،اسامہ شریف شامل ہیں، رضوان عبدالقیوم،عطااللہ،نیاز محمد،شیر نواز تھے

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

    بٹگرام میں آلائی جھنگڑئے پاشتو کے مقام پر رسی ٹوٹنے سے چئیر لفٹ دریا کے بیچوں بیچ بلندی پر پھنس گئی تھی ،چیئر لفٹ پر سکول کے بچے اور استاد سوار تھے،ریسکیو 1122 اور ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے پیش آیا، لفٹ کا رسہ ٹوٹنے کے واقعہ کے بعد والدین اور اہل علاقہ موقع پر پہنچ گئے تھے، ریسکیو آپریشن مکمل ہوا تو فضا نعرہ تکبیر کے نعروں کے ساتھ گونج اٹھی تھی، شہریوں نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے

  • چیف الیکشن کمشنر نے  صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوا دیا

    صدر مملکت کی جانب سے 12 نومبر کو عام انتخابات کی تاریخ کی خبریں آئیں تو اسکے فوری بعد ایوان صدر سے واضح تردید تو نہیں آئی تا ہم یہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک تاریخ طے نہیں ہوئی

    صدر پاکستان عارف علوی نے 12 نومبر بروز اتوار کو پورے پاکستان میں الیکشن کی تاریخ دے دی، صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو آج ملاقات کے لئے بلایا تھا تا ہم چیف الیکشن کمشنر ملاقات کے لئے نہ گئے ، بلکہ جواب دے دیا،الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں قانونی ٹیم نے بریفنگ دئ،لیگل ٹیم نے تجویز دی کہ صدر مملکت سے عملی مشاورت کے بجائے بذریعہ خط جواب دیا جائے،صدرمملکت کا خط اختیارات سے تجاویز ہے،الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،آرٹیکل 51کے تحت حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے،آئینی طور پرآئندہ عام انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہیں،

    الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر صدرمملکت سے ملاقات نہیں کریں گے۔ صدر کے خط کا جواب دے دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے صدر کو جوابی خط بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر صاحب آپ نے قومی اسمبلی ائین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت تحلیل کی ہے۔اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔صدر مملکت اگر قومی اسمبلی 58 ٹو بی کے تحت کرتے تو اختیار آپ کے پاس تھا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے خط میں الیکشن ایکٹ میں حالیہ ترامیم کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے پہلے الیکشن کمیشن صدر مملکت سے مشاورت کا پابند تھا ،الیکشن ایکٹ کی سیکشن ستاون میں ترمیم کے بعد صدر سے مشاورت کا اختیار ختم ہو گیا ہے ،نئی ترمیم کے تحت انتخابات کی تاریخ طے کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدید ہے ،آئین ارٹیکل 582, 48_5 اور آرٹیکل 58 ون کے تحت ایوان صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ،حلقہ بندیوں کا الیکشن ایکٹ کی سترہ ٹو کے تحت ضروری ہے

    دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر الیکشن کے حوالے سے صدر پاکستان سے منسوب نومبر 12 کی تاریخ میں کوئی صداقت نہیں ۔ ابھی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ،

    ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خط پر وزارت ِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی ،ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے پر رائے مانگی ،ایوانِ صدر نے صدر مملکت کے کل کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے مؤقف پر رائے مانگی ہے ،ایوانِ صدر کی جانب سے خط وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام لکھا گیا ہے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی اور ضمانت کے خلاف اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےکی،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین سمیت دو درجن سے زائد وکلا عدالت پیش ہوئے، الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز و دیگر عدالت پیش ہوئے،،دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ہمیں موصول ہوا ہے، سپریم کورٹ نے آج سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کا کہا ہے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ سب سے پہلے عدالت نے دائرہ اختیار کو طے کرنا ہے، اس کیس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن ڈسڑکٹ الیکشن کمشنر کو اتھارٹی دے رہا ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن آگے اختیار نہیں دے سکتا۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صدر پاکستان نے 14 اگست کو قیدیوں کی 6 ماہ سزا معاف کی،عمران خان کی 6 ماہ کی سزا معاف کی جا چکی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کا حکم مل گیا ہے ہم آج فیصلہ دینے کے پابند ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے

    سردار لطیف کھوسہ نے خواجہ حارث کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ دائرہ کار کا معاملہ تا حال طے نہیں ہوا۔الیکشن کمیشن شکایت کر سکتی ہے ،یہاں ایک پرائیویٹ سیکریٹری نے شکایت کی ،الیکشن ایکٹ کے مطابق سیکرٹری کمشین کی تعریف پر پورا نہیں اترتا،عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب ماتحت عدلیہ سے غلطی ہوئی ہے تو اس کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ مائی لارڈ بس غلطی؟ سیشن کورٹ ڈائرکٹ کمپلینٹ نہیں سن سکتی،الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔چیئرمین الیکشن کمیشن اور چار ممبران کمیشن ہی شکایت دائر کرنے کا مجاز ہے۔میرے موکل کے خلاف شکایت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دائر کی۔سیکرٹری کو یہ اختیار نہیں۔ آپ کی معزز عدالت نے دو بار کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا مگر ٹرائل کورٹ نے آرڈر کو اگنور کر دیا۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر ایک پولیس والا بیٹھا تھا، میں نے پوچھا تو خان صاحب نے کہا میں تو اپنی اہلیہ سے بھی علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، یہ سر پر بیٹھا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیے بغیر اپنے پہلے آرڈر کو ہی درست قرار دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نہیں مانا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے ہم نے کیا کرنا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ہمیں سُن تو لیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائر کرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل، وہ اجازت نامہ درست نہیں ہے، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بہت غلطیاں ہیں،میں اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈرز کا حوالہ دیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو 8 سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیئے بغیر اپنے پہلے فیصلے کو ہی درست قرار دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل منظوری کا فیصلہ 4 اگست کی شام ملا، 5 اگست کو خواجہ حارث کے منشی کو اغواء کیا گیا، خواجہ حارث کا بیانِ حلفی موجود ہے،خواجہ حارث نے وجہ لکھی کہ کیوں وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہو سکے،ہم سیشن کورٹ کی جانب سے ٹرائل کو تو چیلنج ہی نہیں کر رہے، ٹرائل سیشن کورٹ ہی کرے گی لیکن براہ راست نہیں کر سکتی، اس کیس کو سیشن کورٹ میں کیوں لیکر جایا گیا ؟ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کے کیس مجسٹریٹ کے پاس جائیں گے پہلے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپکو میں بتاتا ہوں کہ کس طرح ہمایوں دلاور کا کیس سننا نہیں بنتا تھا آپ کتاب کھولیں اور سیشن 190(2) اور 193 پڑھیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی ٹھیک، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں آپکو سپریم کورٹ کی ججمنٹ دیتا ہوں ،2022 SCMR 356،

    کمرہ عدالت میں رش کے باعث اے سی کام کرنا چھوڑ گئے،گرمی کے باعث لطیف کھوسہ نے معاون وکیل کو قانونی نکات پڑھنے کیلئے بلا لیا،چیف جسٹس عامر فاروق نے اے سی کے وینٹ کے سامنے سے وکلا کو ہٹنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اے سی کے وینٹ کے سامنے سے تو جگہ چھوڑ دیں، کچھ تو ہوا آئے گی، لطیف کھوسہ صاحب کو پانی پلائیں، لطیف کھوسہ کی معاون خاتون وکیل نے قانونی نکات پڑھنا شروع کر دیئے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے مطابق گواہان کا تعلق انکم ٹیکس معاملات سے ہے، عدالت نے کہا کہ یہ عدالت انکم ٹیکس کا معاملہ نہیں دیکھ رہی، عدالت نے کہا وکیل دفاع گواہان کو کیس سے متعلقہ ثابت کرنے میں ناکام رہے،اس بنیاد پر ٹرائل عدالت نے گواہان کی فہرست کو مسترد کیا، جج صاحب نے کہا گواہان آج عدالت میں بھی موجود نہیں،گواہ اس روز کراچی میں موجود تھے، عدالت نے پوچھا آپ کیوں پیش کرنا چاہتے ہیں گواہان کو؟میرے گواہ ہیں، میں اپنے خرچے پر پیش کر رہا ہوں، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ میں نے پچاس سال میں ایسا کام ہوتے نہیں دیکھا جو ٹرائل جج نے کیا ہے،حق دفاع کی ہماری درخواست آج بھی آپ کے پاس زیر التوا ہے۔ معذرت کے ساتھ آپ نے بھی ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ دینے سے نہیں روکا ،چیف صاحب حیران کن بات یہ ہے کہ ہمایوں دلاور نے 30 منٹ میں 30 صفحات کا فیصلہ کیا، 30 منٹ میں 30 صفحات سن کر چیف جسٹس عامر فاروق مسکرا دئیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج ہمایوں نے اس وقت شارٹ آرڈر لکھوایا اور 12 بج کر 34 منٹ پر خان کو اٹھا لیا گیا خان نے مجھے کل بتایا کہ انہوں نے کہا میں آرہا ہوں وہ نہا رہے تھے واش روم کا دروازہ توڑا گیا،4 اگست کو آپ کا آرڈر آیا، آپ نے قابل سماعت کا معاملہ ریمانڈ بیک کیا، 5 تاریخ کو میں نے آپ کا آرڈر سپریم کورٹ چیلنج کردیا، خواجہ حارث کے کلرک کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، خواجہ حارث نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام درخواست لکھی اور معاملہ بتایا،خواجہ صاحب 12 بج کر 15 منٹ پر ٹرائل کورٹ پہنچ گئے، جج صاحب نے کہا اب ضرورت نہیں، آپ آرڈر سنیں، 12 بج کر 30 منٹ پر جج صاحب نے شارٹ آرڈر سناتے ہوئے تین سال کی سزا سنا دی،12 بج کر 35 منٹ پر پتہ چلا لاہور پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی،جج ہمایوں دلاور نے اپنا جوڈیشل مائنڈ استعمال ہی نہیں کیا۔

    لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوئے تو وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ میرے نکاح کے گواہ ہیں ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پھر اہم گواہ بن گئے ہیں اور یہ غیر متعلقہ بھی نہیں،جس پرعدالت میں قہقے گونج اٹھے

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے وقفے کے بعد دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو سزا سنائی گئی،8 اگست کو فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے،انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ ڈویژن بینچ ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ملزم 342 کے بیان میں کہتا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنا چاہتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ملزم نے مانا کہ پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کردیا اب دفاع میں گواہ پیش کرنے چاہیئں، الیکشن کمیشن کے فارم بی پر تحریر کرنے کیلئے معلومات تو ملزم نے خود دینا ہوتی ہیں،اکاؤنٹینٹ، ٹیکس کنسلٹینیٹ نے خود سے تو معلومات پر نہیں کرنا ہوتیں، یہ مس ڈیکلیریشن کا کیس ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے خلیفہ راشد دوم حضرت عمر رضی الله عنه کا حوالہ دیا اور کہا کہ حضرت عمر فاروق نے سب پہلے فارم بی کا کنسیپٹ دیا تھا،حضرت عمر نے قرار دیا کہ ارباب اختیار کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہیں،اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہے، ااس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی جیولری یا گاڑی تو ڈیکلیئر نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی ریٹرن میں چار بکریاں مسلسل ظاہر کی جاتی رہی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت اس وقت سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے، سزا معطلی کی درخواست پر عدالت میرٹس پر گہرائی میں نہیں جائے گی، یہ سوالات تو آئیں گے کہ ملزم کو حقِ دفاع ہی نہیں دیا گیا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے گواہوں کو غیرمتعلقہ قرار دیا،گوشوارے تو اپنے کنسلٹنٹ کی مشاورت سے جمع کرائے جاتے ہیں نا،یہ تو کلائنٹ نے بتانا ہوتا ہے کہ اُس کے اثاثے کیا تھے،چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے پاس تین سال تک کوئی جیولری یا موٹرسائیکل تک نہیں تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کوئی اپنے ریٹرنز فائل کرنے کا کہے تو میں تو خود نہیں کر سکتا، ان کے تین سوالات ہیں ایک مجسٹریٹ والا ہے ایک دورانیے والا ہے ایک اتھارٹی والا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ان کا سوال یہ بھی ہے ان کو آخری دن سنا نہیں گیا ان کا حق دفاع بھی ختم ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کا یہ کہنا ہے اگرچہ اسٹے نہیں تھا اس کے باوجود نوٹس تو اس عدالت نے کر رکھا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی معاملہ زیر التوا تھا سنگل بنچ میں بھی ان کی پٹیشن زیر التوا تھی، اکاؤنٹنٹ اپنی طرف سے تو کچھ نہیں لکھتا کلائنٹ ہی بتاتا ہے، عدالت نے کہاکہ ہم اگرچہ لیگل کمیونٹی سے ہیں لیکن ٹیکس ریٹرن تو نہیں بھر سکتے، وکیل نے کہا کہ انہوں نے گوشواروں میں چار بکریاں ظاہر کیں لیکن باقی متعلقہ چیزیں ظاہر نہیں کیں، اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہےاس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کا اصل میں نقطہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ درخواست گزار ریاست کی قید میں ہے، سزا سنائے جانے کے بعد اب سٹیٹس تبدیل ہو گیا ہے، ریاست کی قید میں ہونے پر ریاست کو فریق بنانا ضروری ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم ضمانت کے معاملے پر چل رہے ہیں، اپیل پر بات نہیں کررہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس بنیاد پر اپیل خارج کر دی جائے،کہہ رہا ہوں کہ ریاست کو نوٹس جاری کر دیا جائے، قانون کی متعلقہ دونوں شقیں کہتی ہیں کہ ریاست کو نوٹس جاری کیا جانا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کی بات لی جائے، حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے جائیں تو حکومت آ کر کیا کرے گی؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ ملزم تو حکومت کی تحویل میں ہے نہ،یہ قانون کا تقاضا ہے، قانون آپ کے سامنے ہے، سادہ زبان ہے، ریاست کے پاس فیصلے کے دفاع کا حق موجود ہے،ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کا دفاع کرے گی یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ ریاست آ کر کہے گی کہ سزا غلط دی گئی؟ یہ مختصر سزا ہے اور یہ بغیر نوٹس بھی معطل ہو جاتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ موجود نہیں ہے کہ بغیر نوٹس سزا معطل ہوئی ہو، ‏مختصر سزا پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے احکامات موجود ہیں، ایک کیس میں ملزم کو ٹرائل کے بعد ساڑھے 2 سال کی سزا سنائی گئی تھی،ملزم نے ہائیکورٹ میں شارٹ سینٹس کی بنیاد پر معطلی کی اپیل کی، ہائیکورٹ نے اس کی اپیل خارج کی، معاملہ سپریم کورٹ گیا،
    ‏سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمات میں بھی سزا معطل نہیں ہوسکتی،3 سال کی سزا معطلی حق نہیں، عدالت کے استحقاق پر منحصر ہے،

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کل 11:30 پر دوبارہ سنیں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں وکیل قتل کیس چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی

    مدعی مقدمہ کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر جو بدمزگی ہوئی اس پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا، آج شکر ہے پرسکون ماحول ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر کیا آپ شامل تفتیش ہوئے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شامل تفتیش ہونا بھی نہیں ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ شامل تفتیش ہوں گے یا نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی پر دہشتگردی کی دفعات نہیں لگتیں، جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہیں وہاں پیش نہیں ہوں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اور بھی سوالات ہم نے سوچ رکھے ہیں،شکایت کنندہ کی غیر موجودگی میں کیس نہیں سن سکتے، لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،عدالت نے کہا کہ کیس کو عدالتی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    پی ٹی آئی وکیل علی اعجاز بٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ وکیل قتل کیس میں دوسری طرف مدعی کے وکیل آج بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوۓ اس وجہ سے کیس ملتوی ہو گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے عبوری حکم کو برقرار رکھا ہے،اس کیس میں خان صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا

    پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا

    چیئرمین تحریک انصاف کا انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے کا معاملہ,الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین تحریک انصاف کے جانب سے بیرسٹر علی ظفر کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،کیس کی سماعت تین رکنی کمیشن نے کی، علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دس جون 2022 میں پارٹی کے آئین کے مطابق ہوئے ،الیکشن کے بعد یکم اگست 2022 کو پارٹی آئین میں ترمیم کی گئی ، نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ ہم نے پارٹی الیکشن ترمیم سے پہلے کروا دیے ، رکن الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ نے پارٹی کے الیکشن 2019 کے آئین کے تحت کروائے ، علی ظفرنے کہا کہ جی بلکل ہم نے 2019 کے آئین کے تحت الیکشن کروائے ، ہمارے چیف الیکشن کمیشن نے زبانی کہا کہ ہم 2019 والی ترمیم واپس لے رہے ہیں ،

    رکن کمیشن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے آرڈر میں آ گیا کہ 2019 کی ترمیم واپس لی گئی ہے،علی ظفر نے کہا کہ جی بلکل آپ کے آرڈر میں آیا جو بلکل غلط تھا ہم 2022 والی ترمیم واپس لے رہے تھے ہمارے وکیل سے غلطی ہوئی تھی، رکن کمیشن نے کہا کہ آپ نے اگر ترمیم کی ہے تو پھر ترمیم کے بعد الیکشن کروائیں ناں، آپ کو نوٹس یہ بھی کیا ہے کہ آپ نے پارٹی کا پورا آئین ہی تبدیل کر دیا ہے، علی ظفر نے کہا کہ انور مقصود صاحب سے غلطی ہوئی ہے وہ اس پر بیان حلفی دیں گے، یکم اگست دوہزار باٸیس کو پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں دوبارہ ترامیم کیں ، پی ٹی آٸی کے وکلاء نے زبانی دوسری ترمیم واپس لینے کی بات کی ، معزز بنچ نے غلط فہمی کی بنیاد پہ زبانی کی گٸی بات کو حکم نامے کا حصہ بنایا،

    ممبر کمیشن جسٹس اکرام اللہ نے کہا کہ آپ حکم نامہ ملنے کے باوجود کیوں خاموش رہے ، کیا آپ کو معلوم نہیں تھا، بیرسٹر علی گوہر نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا اس لیے ردعمل نہیں دیا، ممبر کمیشن نے کہا کہ دو اگست کو آپ کو نوٹس ملا تو جواب کیوں نہیں دیا، علی ظفر نے کہا کہ آج اسی نوٹس کا جواب دینے ہی آئے ہیں ،ممبر کمیشن احسن بھروانہ نے کہا کہ نوٹس اس بات پہ دیا کہ جو پارٹی آٸین میں جو ترامیم ہوٸیں وہ نہیں کرسکتے تھے، ممبر کمیشن نثار درانی نے کہا کہ آپ کو جو غلط فہمی ہوٸی اس کا جواب جمع کرا دیں، ظفر اقبال نے کہا کہ پی ٹی آٸی نے پارٹی آٸین میں الیکشن کرانے کا طریقہ کار ہی تبدیل کردیا،اس کیس کا بغور جاٸزہ لینے کی ضرورت ہے ،کیس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی گئی

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا. مبشر لقمان

    پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا. مبشر لقمان

    پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا. مبشر لقمان
    سینئر صحافی مبشر لقمان کا اپنے پروگرام کھرا سچ میں کہنا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہو نہیں رہا بلکہ ہوچکا ہے، اب ہمیں مانگ مانگ کر خود کو بچانا ہے جو ہماری ایک مجبوری ہے اور عادت بن گئی ہے، لیکن یہ بات ہماری اشرافیہ کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔ علاوہ ازیں شو میں شریک اشتر اوصاف نے کہا کہ ہم اپنی توانائیاں فضول ضائع کررہے ہیں جیسے کہ صدر پر بات ہورہی کہ اس کے پاس اختیار ہے بھی یا نہیں اور پھر اشتر اوصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں مثبت سوچنا چاہیئے اور اپنے اداروں کو عزت دینی چاہئے اور ان کے خلاف نہیں جانا چاہئے.


    جبکہ سینئر اینکر مبشر لقمان نے کہا کہ ہماری اشرافیہ کے خرچے ویسے کے ویسے اور آج بھی بجلی کے بل میں اضافہ ہوگیا حالانکہ آئی ایم ایف نے ایسا نہیں کہا تھا بلکہ انہوں تو کہا تھا کہ اپنی ٹیکس وصولی کو صحیح کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ سپریم کورٹ کو ہی دیکھ لیں آج بھی وہاں توشہ خانہ کی رٹ لگی ہوئی ہے جبکہ لاکھوں کیس جو کئی سال سے پینڈنگ ہیں ان کا کیا یا پھر ان کا بھی پی ٹی آئی سے تعلق ہونا لازمی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    انہوں نے کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا مجھے ایسے لگا کہ جیسے چیف جسٹس صاحب کہیں گے کہ آو چلو جیل چلتے اور ملزم عمران خان کو رہا کرکے پروٹوکول کے ساتھ گاڑیوں میں بیٹھا کر گھر چھوڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں مبشر لقمان نے کہا اگر کوئی غلط درخواست جاتی ہے کسی کے خلاف تو ایسا قانون بھی ہونا چاہئے کہ اس غلط شکایت کرنے والے کو سزا دے اور اگر اس پر عمل ہوجائے تو اس کے بعد 99٪ کیسز تو ادھر ہی ختم ہوجائیں گے۔

  • موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کی روک تھام کرنی ہوگی. نگراں وزیراعظم

    موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کی روک تھام کرنی ہوگی. نگراں وزیراعظم

    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے سیاست سے بالاتر ہو کر قومی جذبے سے کام کرنا ہوگا، سرکاری محکموں اور دیگر ریاستی اداروں کو بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں شجرکاری مہم کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہوا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے سیاست سے بالاتر ہو کر قومی جذبے سے کام کرنا ہوگا۔

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی تعلیمات سے ہمیں حقوق العباد، حقوق اللہ اور نباتات کے حقوق کا درس ملتا ہے، ان نعمتوں کی قدر کرنے کی ضرورت ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کے للے اس طرف توجہ دینا ہوگی، آلودگی اور ماحول کو متاثر کرنے والے دیگر عوامل سے منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں جس کا نتیجہ کبھی ہم سیلاب، کبھی زلزلہ یا کبھی دیگر قدرتی آفات کی صورت میں دیکھتے ہیں خیال رہے کہ انوار الحق کاکڑ نے مزید یہ بھی کہا کہ گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہونے کے باوجود گزشتہ سال سیلاب سے بہت نقصان ہوا، ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے مسائل اور منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے قومی جذبے کے تحت کام کرنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دیگر فریقین کو موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ کے حل کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    جبکہ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری محکموں اور دیگر ریاستی اداروں کو بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ہم تو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے لیکن جہاں تک وسائل کی فراہمی اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے دیگر اقدامات کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

  • دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف

    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا ہے

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے شمالی وزیرستان کے ضلع شیروانگی کا دورہ کیا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو اسما منزہ کے قریب دہشت گرد حملے سے متعلق بریفنگ دی، آرمی چیف نے دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کی عیادت کی،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کے دورہ کے موقع پر جوانوں سے خطاب میں کہا کہ دہشتگرد، سہولت کار اور اُن کے ساتھی ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ان کا پیچھا کریں گے، پاکستان میں مکمل امن و استحکام واپس آئے گا،

    شمالی وزیرستان آمد پر آرمی چیف کو موجودہ انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سمیت موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے علاقے میں تعینات افسران اور فوجیوں سے بات چیت کی اور دہشت گردی کی لعنت سے لڑنے میں ان کے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کے دورہ کے موقع پر جوانوں سے خطاب میں کہا کہ شہدا ہمارا فخر ہیں اور پاکستان میں مکمل امن و استحکام کی واپسی تک ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

    قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر پشاور نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے آسمان منزہ میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ ہوئی، سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشتگردوں کے ٹھکانے کا پتا لگایا اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جبکہ 2 دہشتگرد زخمی ہوئے ، اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے چھ بہادر سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، علاقے میں دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے پاکستان کی مسلح افواج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز پاکستان کے امن کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہی ہیں، قیام امن کے لئے سیکورٹی اداروں کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پاکستانی قوم وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت ہیش کرتی ہے،وطن عزیز سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ہے اور رہے گی،

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

  • عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    ملک میں آئندہ عام انتخابات کی انعقاد کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا

    الیکشن کمیشن نے بڑی سیاسی جماعتوں کو مشاورت کیلئے دعوت نامے بھجوا دیئے ،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی، شہباز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان کو خط لکھ دیا،سیاسی جماعتوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے شیڈول اور تاریخ سے متعلق شہباز شریف کو 25 اگست کو مدعو کیا گیا، الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی اور فضل الرحمان کو مشاورت کیلئے کل بلا لیا، الیکشن کمیشن نے آصف زرداری کو مشاورت کے لیے 29 اگست کو بلا لیا،الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے آئندہ الیکشن کے روڈ میپ پر مشاورت کرے گا،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا تھا اور ملاقات کی دعوت دی تھی، اب چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو خط سے واضح امکان ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صدر مملکت سے فی الحال ملنے کا ارادہ نہیں رکھتے،

    قومی اسمبلی تحلیل ہو گی، نگران حکومت آ چکی ہے، نگران حکومت نے نوے روز میں الیکشن کروانے ہیں تا ہم الیکشن کمیشن نے پہلے حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان کیا ہے، دسمبر تک حلقہ بندیاں ہوں گی، جسکی وجہ سے نوے روز میں الیکشن نہیں ہو سکتے، اب صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی ہے، دیکھئے ملاقات ہوتی ہے یا نہیں

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • جنوبی وزیرستان،فورسز کی فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    جنوبی وزیرستان،فورسز کی فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں فورسز اوردہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ایک دہشت گرد کو جہنم واصل کر دیا گیا،مارے گئے دہشت گرد سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا، دہشت گرد علاقے میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں سرگرم تھا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری رہے گا

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز پاکستان کے امن کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہی ہیں، قیام امن کے لئے سیکورٹی اداروں کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پاکستانی قوم وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت ہیش کرتی ہے،وطن عزیز سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ہے اور رہے گی،

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی