Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم پر فرض ہے. نگران وزیر اعظم

    اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم پر فرض ہے. نگران وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ کرسچن برادری کا تحفظ امت محمدی پرفرض ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ جبکہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے جڑانوالہ کا دورہ بھی کیا اور مسیحی برادری سے ملاقات بھی کی ہے۔

    خیال رہے کہ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کوحلف لیے ہوئے 2 دن گزرے تھے اور یہ واقعہ ہوگیا، واقعہ پر بہت دکھی ہوں، آج آپ کے سامنے دل کی باتیں کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ اور انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی کا کسی مذہب،زبان یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں، یہ انسانی رویہ ہے جو شیطان کی طرح روپ دھارتا ہے، سانحہ جڑانوالہ معاشرےمیں موجود ایک مرض کی نشاندہی کررہا ہے، کوئی بھی گروہ حملہ آور ہو گا تو ریاست ایکشن میں آئے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور ریاست کے قوانین مظلوم کے ساتھ ہیں، ایک دوسرے کے احساس سے ہی معاشرہ قائم رہتا ہے، کسی کو نہیں پتہ آنے والا کل کیا لیکر آئے گا، مستقبل میں آنے والا وقت کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے، کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف سے ہی قائم رہ سکتا ہے، مجھے بہت خوشی ہوئی اگلے چیف جسٹس جڑانوالہ تشریف لائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بنانے میں مسیحی برادری کا اہم کردار ہے، ملٹری لیڈر شپ نے یقین دلایا اقلیتوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

  • شاہ محمود قریشی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    شاہ محمود قریشی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    سائفر گشمدگی کیس میں گرفتار تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی :سائفر گشمدگی کیس میں گرفتار سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو گزشتہ روز اسلام آباد کی ماتحت عدالت نے 1 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا، ایف آئی اے نے انہیں آج ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا۔

    شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مقدمے کی اِن کیمرہ سماعت کی ایف آئی اے کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اور بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست کو ایف آئی اے نے سائفر کیس میں اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا، اور انہیں گرفتاری کے بعد ایف آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا تھا،ایف آئی اے حکام کی جانب سے گزشتہ روز سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کے لیے استدعا کی گئی تھی، تاہم عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کا 1 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے ایف آئی اے کے حوالے کیا۔

    نئی مردم شماری پرالیکشن کمیشن کیجانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا

    خیال رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کی ،ملک بھر میں ابھی تک آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی ایک عدالت قائم کی گئی جو اسلام آباد میں ہے، قانون کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت ان کیمرا ہو گی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

  • صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل  قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احمد عرفان اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی امینڈمنٹ بل 27 جولائی کو سینیٹ نے پاس کیا تھا اور یہی بل 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا اور پھر یہ بل ایوان صدر کو دو اگست کو موصول ہوا تھا جبکہ انہوں نے بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی نے پہلی اگست کو پاس کرکے سینیٹ کو بھیجا لیکن سینیٹ نے کچھ اعتراضات لگا کر واپس قومی اسمبلی میں بھیج دیا جسے دور کرکے قومی اسمبلی نے 7 اگست کو منظور کیا اور اسکے بعد یہ بل صدر مملکت کو بھیجا گیا جو 8 اگست کو انہیں موصول ہوا تھا.

    احمد عرفان اسلم کے مطابق قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت جب کوئی بل صدر مملکت کے پاس منظوری کیلئے بھیجا جاتا ہے تو ان کے پاس دو اختیارات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس بل پر اپنی رضامندی دے دیں اور وہ قانون بن جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ بل پر اپنی آبزرویشنز تحریری صورت میں واپس بھیجیں تاکہ مجلس شوریٰ ان رہنمائی پر غور کرسکے۔

    تاہم ان کے مطابق آرٹیکل 75 کے تحت کوئی تیسرا اختیار نہیں ہے، اور یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کیلئے قانون میں ٹائم لمٹ 10 دن لکھی گئی ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس 10 دن تھے، ماضی بعید اور ماضی قریب میں صدر مملکت نے کئی مرتبہ 10 دن کی ٹائم لمٹ پر عملدرآمد کیا۔ نگراں وزیر قانون نے کہا کہ صدر مملکت نے 10 دن میں نہ تو بل پر دستخط کیے اور نہ مشاہدات درج کرکے واپس بھجوائے، صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل خودبخود قانون کاحصہ بن جاتا ہے۔. علاوہ ازیں ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر آئینی سربراہ ہیں اور ان کی بہت تعظیم ہے، صدر کو آئینی تحفظات حاصل ہیں، صدر کا ریکارڈ لینے جیسی کوئی حرکت ہم نہیں کرسکتے۔

    مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر اپنی ٹویٹ میں کس سے معافی مانگ رہے ہیں وہی بتاسکتے ہیں، اللہ سے ہم سب ہی معافی مانگتے ہیں، اگر کوئی غیر آئینی کام کریں تو اس پر عوام سے مانگنی چاہئے۔ صدر مملکت کے اسٹاف سے انکوائری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نامناسب بات ہوگی کہ صدر کے اسٹاف سے پوچھا جائے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ کوئی فرد یا گروہ ملک کے آئین کے خلاف کوئی بات کرے تو اس کا جواب دینا حکومت کا کام ہے، موجودہ حکومت آئین کے تحت بنی ہے، اگر کوئی غیرآئینی بات کا حکومت جواب دے تو اسے سیاسی بیان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    اس بل کے تحت شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی گرفتاری کے سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کی گرفتاری کی جو بات ہے اس پر ہم اپنا بیان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی باقیوں کی طرح ٹی وی سے گرفتاریوں کا علم ہوتا ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرتے، ہم سے کوئی بھی توقع نہ کرے کہ ہم صدر کے آئینی عہدے کی تعظیم کے خلاف کوئی بات کریں، صدر صاحب کے اسٹاف کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکتا، یہ صدر کو دیکھنا ہوگا، ہم صدر کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر قانون نے احمد عرفان اسلم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

  • سابق وفاقی وزیر اسد عمراسلام آباد سے گرفتار

    سابق وفاقی وزیر اسد عمراسلام آباد سے گرفتار

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو اسلام آباد پولیس نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کرلیا گیا ہے، انہیں ایف آئی کے حوالے کیا جائے گا،ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد عمر کو وفاقی دارالحکومت سے اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ہے، انہیں سائفر معاملے پر گرفتار کیا گیا ہے، اور انہیں ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے گا۔

    گزشتہ روز سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ توشہ خانہ کیس میں گرفتار چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو بھی سائفر گمشدگی کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا،شاہ محمود قریشی کو گرفتاری کے بعد ایف آئی اے ہیڈ کوا رٹر منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے آج انہیں اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے شاہ محمود قریشی کو عقبی دروازے سے عدالت میں لایا گیا ایف آئی اے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کے لیے استدعا کی جائے گی۔

    سائفرگمشدگی کیس:چئیرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی کےخلاف مقدمہ درج

    چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چئیرمین پی ٹی آئی کےخلاف ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی اور یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے، اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہے-

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

    سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

  • شاہ محمود قریشی گرفتار

    شاہ محمود قریشی گرفتار

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی :پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی گرفتاری پر ردعمل دیا، ایک بیان میں عمر ایوب نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما پریس کانفرنس کے بعد گھر پہنچے ہی تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا، اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں امید تھی پی ڈی ایم حکومت کے نکلنے کے بعد لاقانونیت کا راج ختم ہو جائے گا ایسا لگتا ہے نگراں حکومت اپنی پیشرو فاشسٹ حکومت کے ریکارڈ توڑنا چاہتی ہے۔

    : پولیس نے شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیاذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کے معاملے پر گرفتار کیا گیا،انہیں ایف آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کیا جا رہا ہے۔


    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے 90 روز میں انتخابات کرانے اور لیول پلینگ فیلڈ نہ ملنے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،دوران کانفرنس سوال کیا آپ کسی ڈیل کے تحت جیل سے باہر ہیں؟ پرانہوں نے کہا کہ ان الزامات کو اہمیت نہیں دیتا اس لیے جواب نہیں دوں گا۔

    رفعت مختارآئی جی سندھ تعینات

    انہوں نے کہا تھا کہ انہوں ںے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ تحریک انصاف بطور پارٹی کشمکش کا شکار ہے، ہماری جماعت میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی مشکل حالات میں کام کر رہی ہے، عام انتخابات کے انعقاد میں آئین پاکستان کی 90 دن کی پابندی ہے پی ٹی آئی انتخابات میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی، ہماری وکلاء کی ٹیم پٹیشن تیار کر رہی ہے جس کے لیے ایڈووکیٹ علی ظفر اور سلیمان اکرم راجہ وکلاء ٹیم کا حصہ ہیں۔

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات؟ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کر دی

    دریں اثنا شاہ محمود قریشی نے آسٹریلین ہائی کمشنر سے ملاقات کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ آسٹریلین ہائی کمشنر نے ہمیں ناشتے کی دعوت پر بلایا اور وہاں ہم گئے، اس وقت امریکی سفیر کے علاوہ دیگر اہم ممالک کے سفیر بھی موجود تھے، ہم نے الیکشن اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بارے میں اپنا موقف ان کے سامنے رکھا اس ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی اور سائفر کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون نافذ ہوگیا تو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا

  • پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اٹک جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں

    گرفتاری سے قبل عمران خان نے بیان میں کہا تھا کہ تحریک انصاف کے اہم فیصلے کور کمیٹی کرے گی، عمران خان نے کسی ایک فرد کو پارٹی کی ذمہ داری نہیں سونپی تھی، شاہ محمود قریشی چاہتے تھے کہ وہ وائس چیئرمین ہیں تو پارٹی کی قیادت کریں تا ہم عمران خان نے کورکمیٹی کو فوقیت دی، بعد ازاں جیل میں بھی جب عمران خان کے وکیل نے ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے یہی پیغام بھجوایا کہ کور کمیٹی کا فیصلہ ہی حتمی ہو گا

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کورکمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے، جس کی تصاویر تو منظر عام پر نہیں لائی جاتیں تا ہم اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا جاتا ہے ، اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات ہو گئے ہیں اور دو گروپ کور کمیٹی کے آمنے سامنے آ گئے ہیں، کورکمیٹی اجلاس میں سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کور کمیٹی کی میٹنگ کی تفصیلات اور ریکارڈنگ باہر نکلنے پر رہنماؤں نے ایک دوسرے کو غدار قرار دیا اور الزامات بھی لگائے ہیں، کئی کورکمیٹی اراکین کی رائے ہے کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں اب سنجیدہ معاملات پر گفتگو نہیں ہوسکتی ذرائع کے مطابق کور کمیٹی کے ایک ممبر نے اجلاس میں دعویٰ کیا کہ یہاں کمیٹی میٹنگ میں ایک غدار بیٹھا ہوا ہے عمر ایوب اور شبلی فراز اجازت دیں تو پارٹی کے اندر غدار کی نشاندہی کردوں گا ، ذرائع کے مطابق عمر ایوب اور شاہ محمود قریشی کے درمیان بھی چیئرمین پی ٹی آئی کا جانشین بننے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور خان کی قانونی ٹیم میں غدار ،خان لیگل ٹیم اور پی ٹی آئی کور کمیٹی کے غداروں نے میری جان خطرے میں ڈال دی ہے۔ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں غداروں کی موجودگی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کور کمیٹی کے اجلاسوں کی ریکارڈنگ مخالفین اور حتیٰ کہ میڈیا والوں تک بھی پہنچائی ہے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ لیگل ٹیم کی زوم میٹنگز کی تفصیلات ،ریکارڈنگ باہر کے لوگوں کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں، جس نے میری زندگی اور آزادی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ میں پہلی بار زیر زمین گیا ہوں، اور مجھے کسی بھی وقت نامزد ٹیم کے ہاتھوں پکڑا جا سکتا ہے۔ میں نے پارٹی میں موجود لوگوں کو بتایا اور میرا پیچھا کرنے والوں کے بارے میں صوتی پیغامات ریکارڈ کئے۔ کل، میں روپوش ہو گیا تھا، اور مجھے یقین نہیں ہے کہ میں محفوظ ہوں، لیکن میں نے اپنے پیچھا کرنے والوں کی شناخت کر لی ہے اور ان کے نام وکلاء کے ایک گروپ کو بھیجے ہیں تاکہ میں لاپتہ ہو جاؤں تو قانونی کارروائی کی جا سکے۔ پارٹی کے انتہائی قریبی حلقوں میں لوگوں پر بھروسہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر پارٹی کے متعلقہ افراد نے مجھے اجازت دی اور اگر میں شکار سے بچ گیا تو بہت جلد غداروں کے نام بتاؤں گا

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

  • آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    آفیشل سیکریٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل،صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    صدر مملکت نے آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

    دونوں بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہو چکے ہیں صدر مملکت کو دونوں بل گزشتہ حکومت نے بھیجے تھے صدر کے دستخط کے بعد دونوں بلز قانون کی شکل اختیار کر گئے ہیں،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل منظورہونے کے بعد توثیق کیلئے صدر مملکت کو بھیجے گئے تھے 27 جولائی کو سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل اس وقت کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا تھا

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جلاو گھیراو کے واقعات کے بعد مسیحی خاندانوں کی گھروں میں واپسی شروع ہو گئی ہے، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے، آئی جی پنجاب نے بھی علاقے کا دورہ کیا، تین دن بعد شہر کے حالات معمول پر آ چکے ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کرسچیئن کالونی کا دورہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ بھی ہمراہ تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جلائے جانے والےگھر اور چرچز دیکھے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرہ میسحی برداری سے گفتگو بھی کی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے متاثرہ خواتین کو دلاسے دیئے اور انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،

    اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں،دکھ میں شریک ہونے آپ کے پاس خود آیا ہوں،انتظامیہ کو ہدایت کروں گا بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کریں آپ کو ہر قسم کا تحفظ کرنے میں مدد کروں گا، بہت دکھ تھا اسی لیے ذاتی طور پر ملنے آیا ہوں،

    مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی
    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھا ہوا بیان میڈیا نمائندگان کے حوالے کیا، تحریری بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ گمراہوں کے بے ہنگم ہجوم نے متعدد گرجا گھروں مسیحی آبادی مکانات کو جلایا، جڑانوالہ واقعے پر ایک مسلمان، پاکستانی اور انسان کی حیثیت سے نہایت گہرا صدمہ پہنچا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے بیان میں اقلیتوں کے حقوق پر قرآنی آیات اور احادیث کے متعدد حوالے دیئے، اور کہا کہ گرجا گھروں پر حملہ کرنے والے نے قرآن اور نبی پاک ﷺ کی واضح ہدایات کی سنگین خلاف ورزی کی، قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے غیر مسلم شہریوں کو دی گئی ضمانتوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی، پاکستان کے آئین اور قانون کو پامال کیا گیا ہے پاکستانی پرچم میں سفید رنگ غیر مسلم شہریوں کی عکاسی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھے ہوئے بیان میں اقلیتوں کے حوالے سے آئین میں موجود آرٹیکلز کا حوالہ بھی بیان میں دیا اورکہا کہ دفعات 295 اور 295 اے کے تحت مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانا جرم ہے، کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے، سلامتی کے مذہب کو ماننے والوں نے اپنی مذہبی تعلیمات پامال کرتے ہوئے وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کیا، ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی جان مال اور عبادت گاہ کی حفاظت کرے،اسلامی شریعت کی اس خلاف ورزی کو کسی بدلے یا انتقام سے جواز نہیں دیا جا سکتا،

    جڑانوالہ دورے کے دوران جسٹس قاضی فائزعیسی نے سی پی او کی سرزنش کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا تحصیل کے سب سے بڑے پولیس آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، ایس پی کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا، آپ کےخیال میں درست تفتیش ہو رہی ہے؟، کیا پولیس والے خود سے کہیں گے کہ ہم غفلت میں تھے، سی پی او نے جواب دیا کہ سر میرٹ پر تفتیش ہو گی ، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ میرٹ کا کیا مطلب ہے ؟ایک دم جتھا آ جائے تو الگ بات ہے مگر اعلانات کر کے کہا جائے گھروں سے نکلو، آپ کو ان باتوں کا خیال نہیں آیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کتنے بجے کا واقعہ ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ سوا چھ بجے کا واقعہ ہے، قاضی فائز عیسی نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں چار بجے کے بعد کا واقعہ ہے، میں آپ سے الگ بات کر رہا ہوں آپ جواب کچھ اور دے رہے ہیں، آپ کو گھبراہٹ ہو رہی ہے، یہاں کا ایس پی کہاں ہے وہ یہاں کیوں نہیں موجود، قاضی فائز عیسی نے سی پی او کو ہدایت کی کہ جو بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں ان کے بیان ریکارڈ کریں، آپ قانون کے مطابق چلیں، تفتیش کریں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ یہاں کا اسسٹنٹ کمشنر کہاں پر ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ ان کو معطل کر دیا گیا ہے،

    جڑانوالہ ، تین دن بعد حالات معمول پر، کاروباری مراکز کھل گئے
    جڑانوالہ میں تین دن بعد شہر میں حالات معمول پر آگئے، تین روز بعد کاروباری مراکز کھل گئے کرسچین کالونی میں نئے میٹرز لگا کر بجلی اور گیس بحال کر دی گئی ،کرسچین کالونی اور عیسی نگری کے اجڑے گھروں کے مکینوں کی واپسی جاری ہے،جلے گھروں اور تباہی کے مناظر دیکھ کر متاثرین رنجیدہ ہیں، دانش اسکول میں متاثرہ فیملیز کے قیام و طعام کے انتظامات کئے گئے ہیں، دانش سکول میں مقیم اور کرسچین کالونی میں لوٹنے والوں کیلئے پولیس کی جانب سے ناشتے کا انتظام کیا گیا ہے، مسیحی آبادیوں کے باہر پولیس اور رینجرز تعینات ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر دانش سکول جڑانوالہ اور بستی شیروں میں پنجاب پولیس کی طرف سے قائم کئے گئے ریلیف کیمپس میں مسیحی برادری کے افراد کو کھانے کی فراہمی جاری ہے، سی پی او فیصل آباد عثمان اکرم گوندل اور دیگر سینئر افسران خود کھانا فراہم کرنے کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں

    اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں،آئی جی پنجاب
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جڑانوالہ کا دورہ کیا اور متاثرہ کرسچین کالونی اور دیگر مقامات کا جائزہ لیا، اس موقع پر آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ اتوارکو جڑانوالہ میں سروسز ہوں گی اور گرجا گھروں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا واپسی کا سفر شروع ہوچکا ہے، متاثرہ افراد پہلے سے بہتر گھروں میں واپس جائیں گے جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کی ویڈیوز اور تصاویر ہیں جس پر ہرپہلو سے تفتیش ہوگی کسی بے گناہ کو سزا نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی کو بغیر وجہ سلاخوں کے پیچھے رکھا جائے گا ،اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،جڑانوالہ میں ہر گھر کی ایک الگ کہانی، مظاہرین نے لوگوں کے گھروں میں سامان کو بھی لوٹ لیا سندس جس کی شادی نومبر میں ہونا تھی اس کے جہیز کا سارا سامان لوٹ لیا گیا ،کرسچن کالونی اور عیسی نگری کے متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کی جمع پونجی کو جلا دیا گیا یا لوٹ لیا گیا، سندس کا کہنا تھا کہ اسکا ساراجہیز بنا ہوا تھا، اوون، فریج، بسترے،مکمل جہیز تھا غلطی کسی کی اور سزا ہمیں ملی کیوں؟

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں انہیں سزا ہوئی، جیل میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دو الگ الگ ملاقاتیں ہو چکی ہیں، اب بشریٰ بی بی نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے استدعا کی کہ انکے شوہر عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے، بنیادی سہولیات دی جائیں،گھر کا کھانا دینے کی اجازت دی جائے،ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت دی جائے

    بشری بی بی نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں کہا کہ عدالت نے میرے شوہر عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن انہیں اٹک جیل لے جایا گیا، عمران خان کو فوری اٹک جیل منتقل کیا جائے، عمران خان سابق وزیراعظم ہیں، وہ آکسفورڈ کے گریجویٹ اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیں، وہ جن عہدوں پر فائز رہ چکے ، اس حساب سے اٹک جیل میں سہولیات میسر نہیں، میرے شوہر کو جیل میں بنیادی سہولیات دی جائیں

    بشریٰ بی بی نے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جیل قوانین کے مطابق 48 گھنٹوں میں تمام سہولیات ملنی تھیں جو ابھی تک نہیں دی گئیں، بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پرائیویٹ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کی بھی استدعا کی اور کہا کہ شوہر کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات نہ دینے پر قانونی انکوائری کا مطالبہ کرتی ہوں میرے شوہر کو بی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی، پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے

    بشریٰ بی بی نے مزید کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق حکام نے عمران خان کو 12گھنٹے میں بی کلاس کی سہولیات فراہم کرنا تھیں جو کئی دن گزرنے کے بعد بھی فراہم نہیں کی گئیں جو پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر کی توہین ہے یہ انسانی حق ہے کہ کسی شخص کو میڈیکل اور صحت کے حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل نعیم حیدر کاکہنا ہے کہ کل رات بھی جیل احکام سے رابطہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ڈاکٹر ،بشری بی بی،وکلاء کو اجازت دی جائے خان صاحب سے ملنے کے لیے لیکن وہاں سے واضح انکار آیا کہ آپ منگل کو بی بی صاحبہ اور جمعرات کو کوئی ایک وکیل آ کے مل سکتا ہے ،انہیں بتایا گیا کہ جیل رولز کے مطابق 6 دن اجازت ہوتی ہے اور آپ ایک بندے کی ملاقات کے حوالے سے پابند نہیں کر سکتے اور واضح طور پر ہائی کورٹ کا حکم بھی ہے کہ جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کروائیں اور دیگر سہولتیں دیں لیکن بلا وجہ انکار ملا.ہم سرکار کو اور عدالتوں میں بار بار درخواستیں دے رہیں لیکن عدالت کے حکم اور قانون میں واضح طور پر ہونے کے باوجود انکار ہے،جب تک عدالت توہین عدالت کی کاروائی نہیں کرے گی یا اپنا حکم تعمیل نہیں کرواے گی یہ عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑایا جائے گا،ہم نے عدالت میں باقاعدہ زور ڈالا توہین عدالت کی کاروائی کرنے کا لیکن کوئی کاروائی نہیں ہوئی،اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اس ہفتے چھٹی پر ہیں،اور ہم نے اس کے ساتھ ہی راولپنڈی ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے اس میں سوموارکو تاریخ ہے ،ایک درخواست بی بی کی طرف سے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو دی لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا اب ہم لاہور ہائی کورٹ میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے اور خان صاحب کو بنیادی انسانی حقوق مہیا کرنے کے حوالے سے پرزور درخواست کریں گے،اس وقت سب سے اہم ہے خان صاحب کو باہر لانا، بھرپورطریقے سے 22 تاریخ کو خان صاحب کا کیس لڑیں گے،لیگل ٹیم بھر پور طریقے سے تیار ہے.اللہ خیر کرے

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • عمران خان کو بیرون ملک بھیجنے کی پیشکش کا ایک مرتبہ پھر اعادہ

    عمران خان کو بیرون ملک بھیجنے کی پیشکش کا ایک مرتبہ پھر اعادہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیل میں ہیں اور توشہ خانہ کیس میں انہیں سزا ہو چکی ہے

    روزنامہ جنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اٹک جیل میں قید تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بیرون ملک بھیجنے کی پیشکش کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا جا رہا ہے ،ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے فضا بنائی جا رہی ہے جس کے تحت آنے والے قومی انتخابات میں ملک کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ  تحریک انصاف کو بھی دوسری جماعتوں کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کیلئے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے تاہم تینوں جماعتوں کے قائدین کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائدین اور رہنما مسلسل یہ اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے قائد نواز شریف چوتھی مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنیں گے اور انتخابات میں حصہ لینے کیلئے جلد ہی پاکستان واپس آکر انتخابی مہم کی قیادت کریں گے لیکن ان کی راہ میں قانونی اور آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں اس لیے ان کے مخالفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس بناء پر نواز شریف کی وطن واپسی انتہائی مشکل ہوگی اور اگر وہ وطن واپس آنے کا ارادہ کر بھی لیتے ہیں تو انہیں وطن واپسی پر پہلے جیل جانا پڑے گا

    دوسری جانب عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہوئی ہے اور عمران خان کو زمان پارک سے گرفتاری کے بعد اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، عمران خان سے اٹک جیل میں دو بار بشریٰ بی بی او دو وکیلوں کی الگ الگ ملاقات ہو چکی ہے، عمران خان کی سزا ختم کرنے اور اڈیالہ جیل منتقلی کی درخؤاست اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، ابھی عمران خان کی گرفتاری کو ایک عشرہ نہیں ہوا کہ تحریک انصاف نے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،