Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو پولیس براستہ سڑک لے کر اسلام آباد روانہ ہو گئی ، موسم خراب ہونے کے سبب سابق وزیراعظم عمران خان کو بذریعہ موٹروے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، اس سے پہلے ان کو ایئرپورٹ لے جایا گیا تھا جہاں اسلام آباد لے جانے کیلئے ہیلی کاپٹر پر لے جانے کی تیاریاں کی گئی تھیں تا ہم موسم کی خرابی کی وجہ سے عمران خان کو بذریعہ موٹروے اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے،، اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

    پولیس عمران خان کو آدھا گھنٹہ میں گرفتار کرکے کوٹ لکھپت جیل پہنچی وہاں سے عمران خان کو ایئر پورٹْ لایا گیا تا کہ انہیں اسلام آباد منتقل کیا جا سکے، عمران خان کو سخت سیکورٹی میں جیل لے جایاگیا، پولیس کی بھاری نفری ہمراہ ہے، عمران خان کی گرفتاری عدالتی فیصلے کے 20 منٹ بعد ہو گئی، عمران خان نے گرفتاری کے لئے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی،عمران خان کو لاہور پولیس نے جب زمان پارک سے گرفتار کیا تو پولیس اتنی جلدی میں تھی کہ انہیں کوئی سامان ساتھ رکھنے نہیں دیا گیا تاہم جب انہیں اسلام آباد ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو انہیں لاہور کے پرانے ایئرپورٹ منتقل کیا گیا عمران خان نے وہاں انتظار کے دوران گھر سے کپڑے اور قرآن پاک منگوایا دیگر سامان میں کتابیں، شیونگ کٹ سمیت ضروری اشیا بھی طلب کیں.

    گرفتاری کے بعد عمران خان کی تصویر
    گرفتاری کے بعد عمران خان کی تصویر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے ٹویٹر پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہمیری گرفتاری متوقّع تھی چنانچہ میں نے یہ پیغام اپنی گرفتاری سے قبل ریکارڈ کروایا۔ یہ لندن پلان پر عملدرآمد کی جانب ایک اور قدم ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے کارکنان پرامن، ثابت قدم اور مضبوط رہیں۔ ہم رب العزّت کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے جو ”الحق“ ہے۔ لاالٰہ الّا اللہ ہی ہمارا ایمان ہے۔

    نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے۔ جیل کا انتخاب آئی جی اسلام آباد کریں گے،

    ترجمان پی ٹی آئی نے تصدیق کی ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر لیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نےگرفتاری کی تصدیق کر دی، عمران خان کی گرفتاری کے بعد اب شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے معاملات دیکھیں گے،

    چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے بعد ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر میں سیکورٹی ہائے الرٹ کر دی گئی ہے،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے زمان پارک کو چاروں اطراف سے سیل کر دیا گیا۔ عمران خان کی بہنوں نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پولیس کو توقع ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ دیگر رہنما بھی زمان پارک میں چھپے ہوئے ہیں دیکھتے ہیں ان کو بھی ڈھونڈتے ہیں یا نہیں؟

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو سزا سنائے جانے کے بعد پولیس کی بھاری نفری عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک پہنچی زمان پارک کی اطراف کی سڑکوں کو بند کیا گیا، پولیس نے مال سے دھرم پورہ جانے والے کینال روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھاایس پی سول لائن حسن جاوید بھٹی بھی زمان پارک میں موجود تھے

    دوسری جانب سیینئر صحافی و اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ ایک اور سابق وزیراعظم کو سزا سنا دی گئی آج تک کسی ڈکٹیٹر کو سزا نہیں ملی کیونکہ وزیراعظم جب حکومت نیں ہوتا ہے تو ڈکٹیٹروں کے خلاف فیصلے سنانے والے ججوں کو پاگل قرار دے دیتا ہے

    چیئرمین تحریک انصاف کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے سزا ،الیکشن کمیشن عدالت کے تفصیلی فیصلے کا منتظر ہے، تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس بلایا جائے گا، چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں تفصیلی فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا،تفصیلی فیصلے کی روشنی میں عمران خان کو پارٹی صدارت سے ہٹانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے،ملزم آج عدالت میں پیش نہیں ہیں، فیصلے کی کاپی آئی جی اسلام آباد کو عملدرآمد کیلئے بھجوائی جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو وارنٹ گرفتاری پر تعمیل کرانے کا حکم دے دیا،سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی 5 سال کیلئے نااہل قراردے دیئے گئے،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • یوم استحصال کشمیر پرپاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کا  پیغام

    یوم استحصال کشمیر پرپاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کا پیغام

    آج پاکستان و کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے چار سال مکمل ہونے پر مسلح افواج، صدر مملکت، وزیراعظم سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے پیغامات جاری کئے گئے ہیں

    یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان اور افواج پاکستان کی جانب سے یوم استحصال کشمیر پر مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کا اعلان کیا گیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں فوجی لاک ڈاؤن اورآبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے غیر قانونی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں ہیں بھارتی حکومت کی بیان بازی، دشمنی پر مبنی اقدامات علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے لیکن پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے مسلح افواج مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو عظیم قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتی ہے پاکستان کی مسلح افواج کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور انسانی ہمدردی کی فراہمی کی جدوجہد میں مکمل حمایت کا اظہار کرتی ہے

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 4 سال مکمل ہو چکے ہیں

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کا انتہائی ظلم وجبر کشمیریوں کے جذبہ حریت کو نہیں توڑ سکا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں وکشمیر کے تنازعہ کا حل ،خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے،کشمیریوں، پاکستان اور عالمی برادری نے5 اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیا ہے، ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لئے جواب دہ بنائے اوراس دیرینہ تنازعہ کے پرامن حل کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کیے ہیں موجودہ ووٹر فہرستوں میں رد و بدل کے لیے لاکھوں عارضی رہائشیوں کو شامل کیا، پاکستان تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو یکسر مسترد کرتا ہے بھارت کشمیر میں ظلم جاری رکھے ہوئے ہے، عالمی برادری کو مزید خاموش نہیں رہنا چاہیے پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدو جہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جنوبی ایشیا کے لوگ امن اور استحکام کے خواہاں ہیں

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت نے 5 اگست2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کی مثال قائم کی ہے اور کشمیری تشخص کو مسخ کیا ہے۔بھارت کا یہ غیر انسانی اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی نہ صرف کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کے علمبردار ممالک، اداروں اور تنظیموں کیلئے ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے۔5اگست 2019کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور سینکڑوں بے گناہ کشمیروں کو شہید اور لاپتہ کیا گیا ہے۔پاکستان،بھارت کے اس تقسیم کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جس کی بدولت لاکھوں کشمیریوں کو اْن کے بنیاد ی حق سے محروم کیا گیا ہے۔اقوام عالم اور خاص طور پر مسلم ممالک اس غیر آئینی قد وبند کے تدارک کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں اور مظلوم، نہتے اوربے گناہ کشمیریوں کو اْن کی اْمنگوں کے مطابق آزاد ماحول فراہم کریں۔گزشتہ چار برسوں سے مظلوم کشمیری اقوام عالم سے اپنے حقوق کے تحفظ اور بھارتی جارحیت کے خاتمے کے لئے مسلسل سوال اٹھا رہی ہے۔ چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے یک زباں اور ایک صفحہ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور ادارے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں نہ صرف معصوم نہتے کشمیریوں کی بھر پور حمایت کرتے ہیں بلکہ ان کی آزادی کے حصول تک کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

    سابق صدر آصف علی زرداری نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر آج دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے ،عالمی دنیا مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کی ہونے والی خونریزی کو روکنے کیلئے کردار ادا کرے ،مقبوضہ کشمیر کے عوام کا خون رائیگاں نہیں ہوگا

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کےقیام کے لئے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے، مقبوضہ کشمیر میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اس کی اصل صورت میں بحال کیا جائے

    پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے آج کے دن مودی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کے حق پر شب خون مارا اور استحصال اور بربریت کی نئی تاریخ رقم کی۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا جیل بنایا ہوا ہے جہاں بغاوت کے ڈر سے بھارتی افواج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ابھی تک مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنے والے سینکڑوں کشمیری رہنماء تاحال بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی تاریخ کی نااہل ترین حکومت کے سربراہ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے گزشتہ مذمتی بیانات کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں تاہم 5 اگست کے سیاہ دن کو تاریخ میں پی ٹی آئی کی لیگیسی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے بھارت کے خلاف مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے بجائے ہر جمعہ کو 2 منٹ کی خاموشی کا اعلان کیا۔ ان کی نااہلی اور کشمیر دشمنی کو کسی بھی صورت پر معاف نہیں کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم انسانیت سوز ہیں؛بھارت اپنے جارحانہ اقدامات سے کشمیریوں کو اُن کے حقِ رائے دہی سے محروم نہیں رکھ سکتا؛پاکستان کشمیریوں کی آواز بن کر پوری دنیا میں گونجے گا؛ بھارت کا مکرو چہرہ دنیا پر واضح ہوچکا ہے ، پوری دنیا کو کشمیرپر ڈھائے گئے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی؛ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے؛ 5 اگست 2019 کے اقدام نے بھارت کے دوغلے سیکولرازم کا بھانڈا پھوڑ دیا؛پاکستان ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنے گا؛

  • توشہ خانہ کیس:  عمران خان کو تین سال کی سزا

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کو تین سال کی سزا

    سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی پانچ سال کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہو گئے ، عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے،ملزم آج عدالت میں پیش نہیں ہیں، فیصلے کی کاپی آئی جی اسلام آباد کو عملدرآمد کیلئے بھجوائی جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو وارنٹ گرفتاری پر تعمیل کرانے کا حکم دے دیا،سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی 5 سال کیلئے نااہل قراردے دیئے گئے،

    جج ہمایوں دلاورنے سماعت کی ،الیکشن کمیشن کے وکلاء امجد پرویز، سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی وکیل تاحال پیش نہ ہوا ،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ کیا کوئی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل آیا ہے؟ عدالت کی جانب سے دوسری بار کیس کال کرانے کی ہدایت کی گئی،

    جج ہمایوں دلاور نے امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کہہ دیں، کوئی شعر ہی کہہ دیں، امجد پرویزنے کہا کہ وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی، میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا، اُسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا،

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کو 10:30 تک مہلت دے دی ،سماعت 10:30 تک ملتوی کر دی گئی

    دوبارہ سماعت ہوئی تو بیرسٹر گوہر کے معاون وکیل خالد چوہدری پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث نیب کورٹ میں مصروف ہیں، جج نے استفسار کیا کہ کس کیس میں خواجہ حارث مصروف ہیں؟ معاون وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہے، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکی وہاں کیا مصروفیات ہیں، کیا وہ ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دے رہے ہیں؟ معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ حارث دلائل نہیں دے رہے، وہاں موجود ہیں،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کتنے بجے پیش ہوں گے، معاون وکیل نے کہا کہ جیسے ہی وہاں سے فارغ ہوں گے، یہاں پیش ہو جائیں گے،

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر خواجہ حارث پیش نہیں ہوتے تو کیا صورتحال ہوگی؟ گزشتہ روز کے آرڈر میں پیشی کی واضح ہدایات تھیں، ایسی صورتحال میں تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں، خواجہ حارث 12 بجے پیش ہوں ورنہ فیصلہ محفوظ کرلیا جائے گا، عدالت نے سماعت 12 بجے تک ملتوی کر دی،

    سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت تیسرے وقفے کے بعد شروع ہوئی،جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکلاء پیش ہوئے،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 12 بجے میں فیصلہ سناؤں گا،

    ساڑھے بارہ بجے خواجہ حارث ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ , کورٹ روم پہنچ گئے، خواجہ حارث نے کہا مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں میں کیس منتقلی کی درخواست دینے آیا ہوں

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت ہونے سے متعلق درخواست مسترد کر دی گئی،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کیخلاف جرم ثابت ہوتا ہے، ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا،ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں،ملزم کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب پائے گئے ہیں

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنا دی گئی، عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ عائد کرنے کا حکم بھی دیا، عدالت نے اسلام آباد پولیس کو گرفتاری کا حکم بھی دیا

    ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر اور احاطے کے اندر پولیس اور ایف سی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جوڈیشل کمپلیکس کے چاروں اطراف خار دار تاریں بچھائی گئی ہیں جج ہمایوں دلاور کے کمرہ عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جج ہمایوں دلاور کے کمرہ عدالت کے باہر واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ہے کمرہ عدالت کے اردگرد خار دار تاریں بچھائی گئی ہیں کمرہ عدالت میں ان وکلاء اور صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی جن کے نام لسٹ میں موجود ہیں جوڈیشل کمپلیکس کے اندر کسی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    توشہ خانہ کیس سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی کی 5 درخواستوں پر فیصلہ سنادیا گیا

    کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا ،کیس دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی گئی جج ہمایوں دلاور ہی کیس سنیں گے، توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا گیا،

    دوسری جانب توشہ خانہ سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ آڈر کا انتظار کر لیں، کیسزسپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ جس پر جج ہمایوں دلاور کا کہنا تھا کہ میں نے آج کا ٹائم دیا تھا، الیکشن کمیشن اپنے دلائل شروع کریں۔ وکیل خواجہ حارث کی مرضی دلائل دیتے ہیں یا نہیں ،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    دوسری جانب سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی ،درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی گئی، فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ یقین ہے کہ ماتحت عدالت قانون کی پاسداری کریں گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق کیس منتقلی کی درخواست کے دوران ٹرائل کورٹ فیصلہ نہیں دے سکتی، چیرمین پی ٹی آئی نے کیس منتقلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے،

  • پنجاب انتخابات کیس،چار ماہ بعد تفیصلی فیصلہ جاری

    پنجاب انتخابات کیس،چار ماہ بعد تفیصلی فیصلہ جاری

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق سوموٹو کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    سپریم کورٹ نے چار ماہ بعد پنجاب انتخابات کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، تحریری فیصلہ جسٹس منیب اختر نے لکھا ہے

    جسٹس منیب اختر لکھتے ہیں "انتخابات صرف درخواست گزاروں کا نہیں بلکہ پنجاب اور کے پی کے عوام کا مطالبہ ہے.الیکشن کمیشن کسی طور پر انتخابات کی تاریخ کو ازخود آگے نہیں بڑھا سکتا۔ الیکشن کمیشن اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا کہ انتخابات کی تاریخ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ الیکشن کمیشن کا فرض نہ صرف انتخابات بلکہ ان کا منصفانہ اور شفاف انعقاد بھی یقنی بنانا ہے.الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کا ماسٹر نہیں بلکہ وہ آئینی جزو یا ادارہ ہے”

    سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ یہاں کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ذمہ داری ہے انتخابات کرانا آرٹیکل 218/3 کے تحت الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ پنجاب انتخابات کے لیے سکیورٹی ہے اور نہ فنڈز ہیں عوام، سیاسی جماعتوں اور الیکٹوریٹس کے لیے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات صرف درخواست گزاروں کا نہیں بلکہ کے پی اور پنجاب کے عوام کا درینہ مطالبہ ہے الیکشن کمیشن اپنی ایک آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے دوسری ذمہ داری نظر انداز نہیں کر سکتا آئین ڈیوٹی اور پاورمیں فرق کو واضح کرتا ہےآئین الیکشن کمیشن کو انتخابات سے متعلق تمام معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کیا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ اسمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے بھی الیکشن کمیشن سے اجازت لیں؟ الیکشن کمیشن کو فنڈزاورسکیورٹی کی عدم فراہمی پرعدالت میں آئینی درخواست دائر کرنی چاہیے تھی الیکشن کمیشن بتاتا کہ ایگزیکٹیو اتھارٹیز سکیورٹی اورفنڈز فراہم نہیں کر رہیں الیکشن کمیشن کو غیر قانونی آرڈر جاری کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ انتخابات وقت پر نہ بھی ہوں تو آرٹیکل 254 کا تحفظ حاصل ہو گا الیکشن کمیشن کا آرٹیکل 254 کی بنیاد پر انتخابات میں التوا کا مؤقف غلط ہے آرٹیکل 254 کسی کو بھی آئینی ذمہ داری سے فرار کا راستہ نہیں دیتا

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انتخابات میں رکاوٹ سے الیکشن کمیشن نے ایک طرح سے جمہوریت کو پٹری سے اتارا ہے، کے پی کے انتخابات سے متعلق معاملے کو ملتوی کیا جاتا ہے، تمام تر تفصیلی وجوہات کے ساتھ یہ عدالت کیس نمٹاتی ہے۔

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ

    ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی
    جسٹس یحیئ آفریدی نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ جب ٹرانسفر درخواست ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہو تو فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا ؟۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی یہی قانون ہے۔ عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی ، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کےخلاف عمران خان کی درخواست نمٹا دی

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی تسلیم کیا کہ مقدمہ منتقلی کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی ،درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی گئی، فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ یقین ہے کہ ماتحت عدالت قانون کی پاسداری کریں گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق کیس منتقلی کی درخواست کے دوران ٹرائل کورٹ فیصلہ نہیں دے سکتی، چیرمین پی ٹی آئی نے کیس منتقلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس پر سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے،توشہ خانہ کیس کی سماعت کیلئے جسٹس مظاہر علی اکبر کی جگہ جسٹس حسن اظہررضوی کو بینچ میں شامل کیا گیا ہے، جسٹس یحیٰی خان آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ پچھلی سماعت پر توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی تھی، عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے لیکن تحریک انصاف چیئرمین نے یہ مقدمہ رکوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم اب سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس فوری ریلیف نہ مل سکا سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے الیکشن کمیشن حکام چار اگست کو طلب کیا تھا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • توشہ خانہ کیس، درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ عمران خان کل ذاتی حثیت میں طلب

    توشہ خانہ کیس، درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ عمران خان کل ذاتی حثیت میں طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ، اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی
    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کردی ،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمارے کیسز سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں مقرر ہیں ، ہماری استدعا ہے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے آرڈرز کا انتظار کر لیں ، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے خواجہ حارث کی مرضی ہے، دلائل دیں نا دیں ، نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم دلائل دیں گے لیکن نیب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں کیس لگے ہیں ،

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویزنے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تمام تر دستاویزات ملزم نے اپنے دستخط کے ساتھ جمع کروائیں اس لیئے ناقابل قبول ہونے سے متعلق کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا ۔اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جناب سے ریفرنس بھیجا گیا ۔توشہ خانہ کے تحائف سے نہ انکار کیا گیا نہ اقرار کیا گیا اور کہا گیا یہ ریکارڈ کا حصہ ہے ۔توشہ خانہ سے لیئے گئے تحائف اور قومی خزانے میں جمع کروائے گئے چالان بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں تحائف کی شناخت کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے ۔انھوں نے اپنے جواب میں تسلیم کیا کہ کون کون سے تحائف انھوں نے لیئے ۔58 تحائف وزیراعظم اور اس کی اہلیہ کو ملے ۔ 14 تحائف کی ویلیو 30 ہزار سے زیادہ لگائی گئی جو خریدے گئے ۔ انکے مطابق 2 کروڑ 16 لاکھ 64 ہزار 600 کے چار تحائف خریدے گئے ۔ ایک گھڑی ، کف لنکس ، ایک گھڑی ایک انگوٹھی ، رولکس گھڑیاں ، آئی فون ، تحائف میں شامل ہیں ۔انھوں نے اپنے جواب میں کہا کہ استغاثہ نے کوئی شہادت پیش نہیں کی کہ تحائف کی مالیت 107 ملین تھی ۔استغاثہ نے شواہد پیش کیئے ہیں ۔تحائف کی لسٹ کو تسلیم کیا گیا ۔2018 -19 کے تحائف 20 فیصد ادا کرکے لیئے گئے ۔ کہا گیا کہ جیولری کے تمام تحائف بیگم وزیراعظم کو ملے ۔فارم بی میں جیولری کے کالم میں کچھ نہیں لکھا گیا ۔قیمتی آئٹم کا کوئی لفظ ہی فارم بی میں موجود نہیں ہے ۔بڑی چیزیں 107ملین کا گفٹ 58ملین میں فروخت کیا گیا 18-19میں ۔مارکیٹ ریٹ کے مطابق صرف 20فیصد توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے ۔ملزم کہتا ہے مجھ سے زیادتی ہو رہی ہے توشہ خانہ گفٹ پر ٹیکس بھی ادا کیا 9.5 ملین ،ملزم کہتا ہے میرے بنک اکاؤنٹ میں 28ملین سے کم رہ گئے، لیکن میرے بینک اکاؤنٹ میں 30ملین آئے . 30جون تک اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروانا لازمی ہے۔تحفہ 58ملین کا فروخت کیا اور 21.5ملین توشہ خانہ میں ادا کیاجبکے 9.5ٹیکس ۔ٹیکس ریٹرن پبلک دستاویزات نہیں ہے کوئی دوسرا شخص لے تو وہ جرم ہے فام بی پبلک دستاویزات ہیں جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے ۔ٹیکس ریٹرن نکلنے سے ایف بی آر کے افسر کے خلاف کاروائی بھی کی گئی ہے 29اکتوبر کو ٹیکس ریٹرن جمع کروائے گئے لیکن فام بی تاریخ 30جون ہے۔ملزم کہتا ہے ٹیکس ادا کیا وہ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن فام بی میں وہ رقم شو نہیں کروائی گئی ۔

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی 4گواہان کی استدعا اس لیے مسترد کی گئی کیوں وہ ٹیکس ریٹرن کے متعلق تھی۔ٹیکس ریٹرن کو عدالت غیر متعلقہ کہہ چکی ہے تو آپ اس پر دلائل نہ دیں،وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویزنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کہتے کہ ٹیکس ریٹرن سے ثابت ہوتا میں نے بے ایمانی نہیں کی، ٹیکس ریٹرن کا تو کوئی کیس کے ساتھ تعلق ہی نہیں ہے،30 جون کو اثاثہ جات کا معاملہ لاک ہوجاتایے، پھر دستاویزات بے شک دسمبر میں جمع کرواتے رہیں،30 جون کی رات 9.5 ملین روپے چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس تھے جو انہوں نے ظاہر نہیں کیا ،جج ہمایوں دلاور نے وکیل الیکشن کمیشن کو اثاثہ جات پر دلائل دینے کی ہدایت کردی جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی پر الزامات الیکشن ایکٹ کے تحت لگائے گئے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے کہا کہ 58 ملین روپے چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے دستاویزات میں ظاہر نہیں کیے، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ امجدپرویز صاحب! یہ تمام باتیں غیر ضروری ہیں، 30 جون کے اختتام پر کتنے ظاہر کرنے تھے؟ 22.5 ملین؟ 58 ملین یا 107 ملین روپے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو 58 ملین روپے ظاہر کرنے تھے جو نہیں کیے، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ دو سالوں میں تو چیرمین پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ اثاثہ جات میں ظاہر کیا ہی نہیں،

    جج ہمایوں دلاور نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تمام پوائنٹس میں نوٹ کررہا ہوں، جج ہمایوں دلاور نے ای سی پی وکیل کو ہدایت کی کہ سال 2021 پر آئیں جس پر الزام ہےکہ غلط اثاثہ جات ظاہر کیے، وکیل ای سی پی امجدپرویزنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی قیمتی تحائف کا کہتے ہیں؟ قیمتی تحائف کا تو خانہ فارم بی میں ہے ہی نہیں، قانون میں تو قیمتی تحائف کا زکر ہی نہیں، جیولری کا لفظ ہے جو لکھی نہیں گئی،چار سال میں چیرمین پی ٹی آئی اور ان کی فیملی کے پاس ایک تولہ جیولری کا نہیں،جج ہمایوں دلاورنے استفسار کیا کہ چیرمین پی ٹی آئی کے دستاویزات کے مطابق 2020-21 میں کوئی جیولری لی ؟ ،وکیل ای سی پی امجدپرویز نے کہا کہ 2020-21 میں 5تحائف ہیں، ایک رولیکس گھڑی، کف لنکس، رنگ، سوٹ، نیکلس، بریسلیٹ اور دیگر تحائف ہیں کیا رولیکس گھڑی، کف لنکس، رنگ، سوٹ، نیکلس، بریسلیٹ جیولری نہیں ؟ میں مان ہی نہیں سکتاکہ چیرمین پی ٹی آئی کے پاس ایک بھی نہ گاڑی ہو نہ جیولری ہو،چار سالوں میں چیرمین پی ٹی آئی کے پاس صرف چار بکریاں رہیں، کیا ماننے والی بات ہے؟

    چار سالوں میں تینوں گھروں کی قیمت چیرمین پی ٹی آئی نے 5 لاکھ ظاہر کی،وکیل الیکشن کمیشن
    توشہ خانہ کیس کی سماعت میں 11:30تک وقفہ کردیا گیا وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز کے حتمی دلائل مکمل ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی جیولری کے کالم میں لکھتے ہیں "جیولری ہے ہی نہیں”, چیرمین پی ٹی آئی اگر عوام کے سامنے جیولری اپنی ظاہر کردیتے تو کیا ہوجانا تھا،جب فارم میں جیولری لکھی ہے تو کسی وجہ سے لکھی ہے،
    ٹیکس ریٹرن میں توشہ خانہ کا لفظ لکھا ہے لیکن فارم بی میں توشہ خانہ کے تحائف نہیں لکھے،چیرمین پی ٹی آئی تین گھروں کے مالک ہیں، 3 کنال کا گھر اہلیہ کا ہے،چار سالوں میں تینوں گھروں کی قیمت چیرمین پی ٹی آئی نے 5 لاکھ ظاہر کی ہے،چیرمین پی ٹی آئی کے پاس فارم بی کے مطابق اپنی ایک بھی گاڑی نہیں،فارم میں اثاثہ جات ٹرانسفر کا کالم موجود ہے؟ فارم تو پوچھ رہاہے،

    توشہ خانہ کیس، آج دلائل لاک ہو جائیں گے،جج ہمایوں دلاور
    جج ہمایوں دلاور نے وکیل پی ٹی آئی نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج حتمی دلائل کا آخری دن ہے، آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ آج تمام دلائل لاک ہوجائیں گے،درخواست اگر منظور ہوگئی تو بات ہی ختم،دوسری صورت میں آپ حتمی دلائل دیں، اچھے طریقے سے دیں،آپ نوجوان ہیں، آپ کو دیکھ کر خوشی ہوتی، خواجہ حارث آجائیں گے تو پھر پنچنگ کریں گے،جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس کی سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے تک وقفہ کردیا

    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفے کے بعد ہوئی،جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں پی ٹی آئی وکیل مرزا عاصم بیگ پیش ہوئے اور کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ سیشن عدالت فیصلہ جاری نہیں کرسکتی. الیکشن کمیشن کے وکیل نے ایک گھنٹہ لگایا اثاثہ جات پر دلائل دیے ،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو دلائل کا معاملہ ڈیڑھ گھنٹے سے بھی زیادہ کا نہیں ،وکیل پی ٹی آئی عاصم بیگ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کا انتظار کرلیں، جلدی کیا ہے ،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ جی بلکل! عدالت کو جلدی ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کیوں نہیں روک رہی؟ فیصلہ لائیں آپ ،اسٹے کا کوئی فیصلہ ہے تو سیشن عدالت لے کر آئیں ، سیشن عدالت اگر جلدی کر رہی تو سپریم کورٹ میں یہ بات کیوں نہیں کرتے؟

    جج ہمایوں دلاور نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ خواجہ حارث کی زبان بول رہے ہیں، بولنے کا طریقہ ہوتاہے، آپ خواجہ حارث کی زبان بول رہے ہیں ،نان پروفیشنل طریقہ کار نہ اپنائیں، فیصلہ دکھائیں اعلیٰ عدلیہ کا، سیشن عدالت نے بار بار کہا ہےکہ فیصلہ جاری نہیں کرسکتا،خواجہ حارث کو کہیں ساڑھے بارہ بجے پیش ہوں ،جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکلاء نے جلدی جلدی کی رٹ لگائی ہوئی ہے آپ کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے،جج ہمایوں دلاور نے عدالتی عملے سے کہا کہ مرزا عاصم بیگ کا نام وکالت نامہ میں چیک کرو، اگر وکالت نامے میں نام شامل نہیں تو کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی عائد کردو،سیشن عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک توشہ خانہ کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا

    آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں؟ جج ہمایوں دلاور کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ تیسری بار شروع ہوئی،الیکشن کمیشن وکیل نے کہا کہ معافی چاہتاہوں، میں یونیفارم میں نہیں، وکیل ملزم نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ میرا جمعہ عدالت کی وجہ سے رہ گیا ہے، جمعہ کے دن کچہری کا وقت ساڑھے 12 تک ہوتا ہے ، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں کیا ہوا ہے؟ وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ خواجہ حارث کے سپریم کورٹ میں دلائل جاری ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ خواجہ حارث آج اور کل شاید دستیاب نہ ہوں، ہم کہاں دوڑے جا رہے ہیں؟ جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ خواجہ حارث نہیں تو آپ دلائل دے دیں، چیرمین پی ٹی آئی کے اتنے وکلاء ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں کبھی پہلے دلائل دینے سے بھاگا ہوں؟جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ آپ سے قبل عاصم بیگ آئے ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ مرزا عاصم بیگ کو چھوڑ دیں، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ کیوں چھوڑ دیں مرزا عاصم بیگ کو؟ وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کیا جلدی ہے، ٹرائل تو کئی عرصہ چلتے ہیں، جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ توشہ خانہ میں بی ایم ڈبلیو کا معاملہ بھی ہے، قوم جانتی ہے، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ آپ کی قانونی ٹیم آپ سے مخلص نہیں، توشہ خانہ کیس کے لیے آج عدالت سے تین کالز کی گئیں، پی ٹی آئی نے درخواست کی کہ اعلیٰ عدلیہ میں درخواستیں پینڈنگ ہیں،پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے کہا کہ خواجہ حارث آج پیش نہیں ہوسکتے، عاصم بیگ، نعیم پنجوتھا، نیازاللہ نیازی عدالت موجود تھے، الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اپنے حتمی دلائل 10 بجے تک مکمل کیے،

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 12 وکیل عاصم بیگ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث ابھی بھی اعلی عدلیہ میں مصروف ہیں،جج ہمایوں دلاور نے نیازاللہ نیازی سے استفسار کیا کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں؟ ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ بس یہی کہہ رہا ہوں کہ خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں مصروف ہیں،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ بیرسٹر گوہرعلی اور نیازاللہ نیازی چیرمین پی ٹی آئی کے سینئیر وکیل ہیں، نیازاللہ نیازی کو حتمی دلائل دینے کے لیے ہدایت کی گئی، نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا، وکیل ملزم نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا اور کہا کہ جواب دیں کیا آپ دلائل دے سکتے ہیں یا نہیں؟ ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں تو معاون وکیل ہوں، خواجہ حارث اور گوہرعلی دلائل دیتے ہیں، جج ہمایوں دلاور نے نیازاللہ نیازی سے استفسار کیا کہ تو پھر آپ کیا کر رہے ہیں اس کیس میں؟ نیازاللہ نیازی نے بتایا کہ انہیں دلائل دینے کی ہدایت نہیں کی گئی، ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے بتایا خواجہ حارث ہی سینیئر وکیل ہیں، دلائل وہی دیں گے،خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں میں مصروف پیں تو سماعت میں 3 بجے تک وقفہ کیا جاتا ہے، 3 بجے کے بعد دلائل دینے کا آخری موقع دیا جائےگا، ملزم کی حاضری سے استثنا کی درخواست بھی خواجہ حارث دیں گے، اگر خواجہ حارث نہ آئے تو سیشن عدالت فیصلہ محفوظ کرلے گی، ‏3 بجے کے بعد میں فیصلہ محفوظ کرلوں گا،وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کیس پر بہت خدشات ہیں، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ مجھے کچھ نیا بتائیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں ویسا نہیں کروں گا جیسے ہوتا رہا ہے،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار تو معافی عدالت نے دے دی ہے، اس کے بعد نرمی نہیں دی جائے گی، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ آپ جلدی غصے ہو جاتے ہیں، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ عدالت سب وکلاء کی عزت کرتی ہے لیکن عدالت کا ایک ڈسپلن ہے،وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں بھی عدالت کا آفیسر ہوں، بدلہ لے سکتا ہوں، میرے ساتھ کچھ ہوا تو لوگ باہر کھڑے بھی ہوجائیں گے،

    توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان کو تین بجے تک حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا ، جج ہمایوں دلاورنے آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان 3 بجے عدالت پیش ہوں،خواجہ حارث آکر دلائل دیں نہ دیئے تو فیصلہ محفوظ کر لوں گا،

    جج ہمایوں دلاورنے صحافیوں سے سوال کیا کہ آپ لوگوں کو چائے پانی وغیرہ دیا جاتا ہے؟ جس پر صحافی نے جج کو جواب دیا کہ جی سر، کل تو چائے بھی پلائی گئی تھی، جج ہمایوں دلاور نے صحافیوں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چائے دراصل میں نے ہی آپ کے لیے بھیجوائی تھی، سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت میں 3 بجے تک وقفہ کردیا

    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفہ کے بعد چوتھی بار شروع ہوئی، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ بیرسٹر گوہرعلی صاحب کیا خبریں ہیں؟ وکیل گوہر علی نے چیرمین پی ٹی آئی کی حاضری سے استثناء کی درخواست دائر کردی اور کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قابل سماعت کے معاملے پردرخواست منظور کرکے معاملہ دوبارہ سیشن عدالت بھیجا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قابلِ سماعت کا معاملہ دوبارہ سیشن عدالت کو بھیج دیا ہے، گواہان کی درخواست پر آئندہ ہفتے نوٹس جاری ہوئے اور اسٹے نہیں ملا،چیرمین پی ٹی آئی کی ٹرانسفر کی درخواستیں مسترد ہوگئی ہیں،جعلی فیس بک پوسٹس پر ایف آئی اے کو ڈائریکشن دی ہے،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ اور ان کا کیا جنہوں نے جعلی فیس بک پوسٹس لہرائی ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ فیس بک پوسٹس لہرانے والوں پر آپ کو پیار آجاتا ہے، امجد پرویز کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے

    جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل پہلے ہی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دے چکے ہیں ،عدالت نے ملزم عمران خان کو کل ذاتی حثیت میں طلب کر لیا ، جج ہمایوں دلاود نے کہا کہ کل ملزم عمران خان کے وکلا پیش ہوں اور درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دیں،عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح 8:30 بجے تک ملتوی کر دی اور کہا کہ سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، سماعتوں کے ریکارڈ کے مطابق ٹرائل اہنے اختتامی مرحلے میں ہے، ملزم نے ٹرائل کے اختتامی مرحلے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کرنے کو ترجیح دی، عدالت نے قابلِ سماعت کے معاملے اور حتمی دلائل دینے کے لیے ملزم عمران خان کے وکلاء کو کل صبح ساڑھے 8 بجے طلب کرلیا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    معروف کاروباری شخصیت عمرفاروق ظہور نے پروگرام کھرا سچ کے میزبان اور سینئر صحافی مبشر لقمان کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ان سے رابطہ خود مرزا شہزاد اکبر نے کیا تھا کیونکہ آفیشل دوروں کے دوران ان سے دوستی ہوئی تھی تو گپ شپ بن گئی اور ایک دن شہزاد اکبر نے کہا کہ ہمیں بہت ساری چیزیں ملتی جب کسی ملک کا دورہ ہوتا تو اگر کوئی دلچسپ چیز ہو تو آپ لینگے تو میں نے کہا کہ کیونکہ نہیں جناب اور ایک دن انہوں کہا کہ فرح گوگی صاحبہ آرہی ہیں اور آپ ان سے مل لیں.
    https://www.youtube.com/watch?v=eExIRUqIPbI
    عمر فاروق ظہور نے مبشرلقمان کو بتایا کہ جب فرح میرے پاس آئی تو انہوں نے مجھے ایک خاص گھڑی دکھائی جسے دیکھ کر میں حیران ہوگیا جبکہ ان سے کہا کہ میں اسے چیک کروا لوں اور جب مارکیٹ لے گیا تو انہوں نے دیکھتے ہی حیرانی ظاہر کی کہ یہ گھڑی آپ کے پاس کیسے آئی کیونکہ یہ تو سعودی شہزادہ نے دو ٹکڑے بنوائے تھے خصوصی طور پر تو خیر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو اگر ملتی ہے تو لے لو پھر میں نے ساڑھے سات ملین درہم میں یہ گھڑی خرید لی.


    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ صاحبہ (فرح گوگی) پیسے لیکر چلی گئیں اور پھر کچھ عرصے بعد میرے خلاف پاکستان میں وارداتیں شروع ہوگئیں، کیونکہ اس وقت کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے پہلے مجھ سے ناجائز فرمائشیں کی لیکن جب انہیں منع کیا گیا تو انہوں نے جھوٹے مقدمات بنوا دیئے، جبکہ میری سابقہ اہلیہ کے ساتھ مل کر میرے بچوں کے میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کروا دیئے، اور پھر مجھے انٹرپول پر ڈال دیا جبکہ بچوں کو کہا گیا وہ گم شدہ ہیں جبکہ یہ سب حقیقت نہ تھا.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون
    پنجابی فلم "بلو بادشاہ دی رئیل ہیرو” کے دوسرے گانے کا لاہور میں شوٹ
    پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کا نگران وزیر اعلی کو ڈاریکٹر اینٹی کرپشن کو ہٹانے کے لئے خط

    فاروق ظہور نے دعویٰ کیا کہ میرا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ میں ایک پرائیویٹ بندہ ہوں لیکن انہوں نے میرے خلاف کابیبہ سے منظوری لیکر منی لانڈرنگ کے کیس بنادیئے، جبکہ وہ کیس میں کئی عرصہ تک کیس بھگتا رہا جسکے بعد اللہ کا شکر ہوا میں سرخرو ہوا، جبکہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میرے پاس سارے ثبوت موجود ہیں اگر کوئی تفتیش کرنے آئے گا تو پھر انہیں مہیاء کردیا گیا.

    ایک اور سوال کے جواب میں عمر فاروق ظہور نے کہا کہ شہزاد اکبر کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ اتنے امیر ہیں کہ ایک مہنگی گھڑی خرید لی تو شائد ان سے کچھ اور مل جائے اس لیئے سابقہ اہلیہ کو استعمال کرکے ایک طرح کی بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کی تھی.انہوں نے مزید کہا کہ میری سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا، ان کی بہن اور مرزا شہزاد اکبر ایک ساتھ بیرون ملک لندن میں ایک ساتھ رہ رہے ہیں.

  • کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں ،بیرسٹر اعتزاز احسن روسٹرم پر آ گٸے ،اعتراز احسن نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں حالیہ ترامیم عدالت میں پیش کردی اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی ترامیم کا نوٹس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ اس قانون کے بعد ایجنسیوں کو اختیار دیا جار ہا بغیر وارنٹ کسی کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس اکیلے از خود نوٹس نہیں لے سکتا،خوش قسمتی سے بل ابھی زیر بحث ہے دیکھتے ہیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان اس قانون پر کیا رائے دیتا ہے زیادہ علم نہیں اس بل بارے اخبارات میں پڑھا ہے،

    اعتراز احسن نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے چھ ججز کی حیثیت فل کورٹ جیسی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل ہے یا قانون ہے،آپ نے ہمارے علم میں لایا آپ کا شکریہ،اعتراز احسن نے کہا کہ ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے،

    چیف جسٹس کی آبزرویشنز کے بعد اٹارنی جنرل نے دلائل کا اغاز کردیا ،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بتائیں آرٹیکل 175 اور آرٹیکل 175/3 کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا آئین میں ایسی کوئی شق ہے جس کی بنیاد پر آپ بات کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپکا سوال نوٹ کرلیتا ہوں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پھر میرے سوال سے ہٹ رہے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب آئینی طریقہ کار کی جانب بڑھ رہے ہیں کیس کیسے ملٹری کورٹس میں جاتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کو قانون سازوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا، بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت تو آئین پاکستان نے دے رکھی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کا ذکر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ممبرز آرمڈ فورسز اور دفاعی معاملات کیلئے مخصوص ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملٹری کورٹس کورٹ آف لا نہیں تو پھر یہ بنیادی حقوق کی نفی کے برابر ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق ملٹری کورٹ سے صلب کرنا چاہتے ہیں آرمڈ فورسز سے تعلق پر ٹرائل ہو تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کل عدالت ممکن نہیں ہو گی ایک جج دستیاب نہیں ہیں
    آگے کچھ جج چھٹیوں پر جانا چاہتے ہیں جون سے کام کر رہے ہیں ہمیں ایک پلان آف ایکشن دینا ہو گاملٹری کورٹ میں سویلین کا ٹرائل ایک متوازی جوڈیشل سسٹم نہیں ہمیں اعتزازاحسن صاحب نے بتایا کہ پارلمینٹ بہت جلدی میں ہے ۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں ؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ مزید لوں گا دشمن ممالک کے جاسوس اور دہشت گردوں کے لیے ملٹری کورٹ کا ہونا ضروری ہےہم عدالت کو یقین دہانی کروا چُکے ہیں کہ کن وجوہات پر مشتمل فیصلے دیں گے آئین وقانون کو پس پشت ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی، اعتزاز احسن اور میرے والد ایم آرڈی میں تھے، جیلوں میں بھی جاتے تھے،مگر ان لوگوں نے حملے نہیں کئے،
    نو مئی کو جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے،ایک بات یاد رکھیں وہ فوجی ہیں ان پر حملہ ہوتو ان کے پاس ہتھیار ہیں، وہ ہتھیاروں سے گولی چلانا ہی جانتے ہیں،ایسا نہیں ہوسکتا ان پر کہیں حملہ ہورہا ہو تو وہ پہلے ایس ایچ او کے پاس شکایت جمع کرائیں،وہ نو مئی کو گولی بھی چلاسکتے تھے

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ گولی چلائی کیوں نہیں یہ بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے وہی صورتحال پیدا ہوکہ اگلی مرتبہ گولی بھی چلائیں، اس لئے ٹرائل کررہے ہیں، یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کی حکومت 12 اگست کو جارہی ہے یہ کیا یقین دہانی کروائیں گے،اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے عدالت سے چھٹیوں پر جانے سے قبل فیصلہ کرنے کی استدعا کی،

    ملڑی کورٹ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ دو ہفتوں تک تو بینچ کے ممبران دستیاب نہیں ،جیسے ہی ججز دستیاب ہوں گے کیس سنیں گے ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو بھی صبح 8 سے شام 8 بجے تک بیٹھیں اور فیصلہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ میں ذاتی طور پر حاضر ہوں، روز رات 9 بجے تک بیٹھتا ہوں، اس بنچ کے ممبران کا بھی حق ہے وہ اپنا وقت لیں، چایک ممبر کو محرم کی چھٹیوں سے بھی واپس بلا لیا گیا ہے، ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی،آپ نے ساری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے جنہوں نے اس عدالت کو فعال بنانے میں مدد کی ہے ان کیلئے دل میں احترام ہے، نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے،میں کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،فوج سرحدوں کی محافظ ہے،

    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ چھ رکنی بینچ اب آئیدہ دو ہفتے تک دستاب نہیں ہے کیس کہ آئندہ سماعت میں دو ہفتوں سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ کس کی ہدایات لے کر سپریم کورٹ کو بتا رہے ہیں ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں افواج پاکستان کے انتہائی سینئر افسران کی جانب سے دی گئی ہدایات عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ٹرائل نہیں ہوگا اٹارنی جنرل کی جانب سے کی گئی یقین دہانیاں برقرار رہیں گی ،میانوالی ایئربیس گرائی گئی، وہاں معراج طیارے کھڑے تھے،ہم فوج کو پابند کریں گے وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے،میرے ایک ساتھی جج نے ایک اہم زمہ داری نبھانی ہے میں وہ یہاں بتانا نہیں چاہتا،کچھ ججز کو صحت کے سنگین ایشو ہوسکتے ہیں،کچھ ججز کو چھٹیوں کی ضرورت ہے،عدالتی امور چلتے رہنے چاہئیں اس لئے میں دل سے کوشش کررہا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ افواج پاکستان شہریوں پر بندوقیں تان لیں، فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے،

    واضح رہے اٹارنی جنرل نے عدالت کے علم میں لائے بغیر کسی سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، وزیراعظم

    ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرینا چوک انڈر پاس کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ،چیف کمشنر اسلام آباد چیئرمین سی ڈی اے نورالامین مینگل نے وزیراعظم کو منصوبے بارے بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے منصوبہ کی بڈنگ کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر برہمی کا اظہار بھی کیا ،وزیراعظم نے سرینا چوک انڈر پاس منصوبہ کی بڈنگ کے حوالے سے متعلقہ حکام کو بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس کا کام اسی کو ساجھے یہ غلط ہے میں اس کا افتتاح نہیں کروں گا ،بس، منسٹریاں کہاں سے آگئیں تعمیراتی پراجیکٹس ہیں،وزیراعظم نے چئیرمین سی ڈی اے کو سخت ہدایت کی اور کہا کہ ایسے نہیں چلے گا، دوبارہ اشتہار دے کر نیلامی کی جائے، تعمیراتی پراجیکٹ کسی اور کمپنی کو دیں،

    وزیراعظم نے ریلوے کنسٹرکشن پاکستان لمیٹڈ کمپنی کے ایم ڈی کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا،وزیراعظم نے سوال کیا کہ آپ نے کہاں سڑکیں بنائی ہیں، مجھے بتائیں،ایم ڈی ریلوے کنسٹرکشن پاکستان لمیٹڈ نے جواب دیا کہ راشد منہاس برج، جی 13 کا انڈر پاس بھی ہم نے بنایا ہے،1980 سے یہ کمپنی کام کر رہی ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 23 سال سے یہ لوگ کام کر رہے ہیں مگر میں تو نہیں جانتا انہیں ،وزیراعظم نے چئیرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ مجھے کل صبح اس بارے میں بریفنگ دی جائے، ٹھیکیداری کا کام کنٹریکٹرز کا ہے، حکومتوں کا نہیں، حکومتیں اب ٹھیکیداری کا کام کریں گی؟ وآپ لوگ مجھے پریذنٹیشن دیں، ایسے کام نہیں ہو گا، میں نے پنجاب میں 13 سال کام کیا ہے میں نے آپ کا نام پہلی بار سنا ہے، آپ مجھے پریذنٹیشن دیجیے گا، پھر کچھ ہو گا، اس طرح تو نہیں ہوتا،

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ کا افتتاح کر دیا۔ وزیراعظم نے گزشتہ سال 14 اکتوبر 2022 کو منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ 9 ماہ کی قلیل مدت میں 31 جولائی 2023 کو منصوبہ مکمل کر لیا گیا جس پر 6 ارب 25 کروڑ روپے لاگت آئی ہے یہ منصوبہ 5.2 کلومیٹر سڑکوں، 2 پلوں اور چار انڈر پاسز پر مشتمل ہے

    وزیراعظم شہبازشریف نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لیے ایک قلبی سکون اور اطمینان کا دن ہے،میں اور میرا خاندان پہلی بار 1958 میں مری گیا، مجھے یاد ہے گھنٹوں یہاں سے نکلنا محال ہوجاتا تھا،یہ عوام کیلئے وبال جان بن چکا تھا،اس منصوبے کو بہت جلد مکمل ہوجانا چاہیے تھا، لوگوں کو راستہ مہیا کرنا عین عبادت ہے، مشکلات کا دانشمندی اور صبر کیساتھ سامنا کرنا چاہیے، ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، بارہ کہو بائی پاس منصوبہ 9 ماہ میں مکمل ہوا، آج عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں،یہ منصوبہ بھی نواز شریف کا ویژن تھا، نواز شریف کی حکومت کو بدترین سازش کے ذریعے ہٹایا گیا، ہماری حکومت بننے سے پہلے ہر چیز رک چکی تھی،ایل سیز کھل چکی ہیں، اب یہاں ای وی بسیں آئیں گے، اس منصوبے کی تکمیل کے دوران بے پناہ مشکلات آئیں،این ایل سی نے بڑی محنت کیساتھ کام کیا، آرمی چیف کا اس منصوبے میں اہم کردار ہے،مجھے سیاست کے دشت میں 38 سال گزر گئے، سپہ سالار کا منصوبے کیلئے تعاون پر بہت شکر گزار ہوں، یار دوست طعنہ دیتے ہیں یہ تو اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے، مجھے تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا،

    پچھلے چار سال ایک ہینڈ پمپ لگا کر اس کی تشہیر کی گئی،مریم اورنگزیب
    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بارہ کہو بائی پاس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں ہم ترقی کرتا ہوا پاکستان چھوڑ کر گئے تھے،پچھلے چار سال ملک کے اندر معاشی بدحالی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو معاشی استحکام دیا،چند ماہ میں میگا ترقیاتی منصوبے کسی معجزے سے کم نہیں، میں نے اسلام آباد کی تاریخ میں اس قسم کے منصوبے کبھی نہیں دیکھے، مموجودہ حکومت نے 15 ماہ کی قلیل مدت میں ملک کو بحرانوں سے نکالا، میرا گاﺅں بھوربن ہے، ساری زندگی میں نے اس سڑک پر سفر کیا ہے، یہاں گھنٹوں ٹریفک جام رہتا تھا، آپ نے وہ کام کیا ہے کہ آپ کو ساری عمر، گلیات، کشمیر، مری، ہزارہ کے لوگ دعائیں دیں گے،یہاں سے بھارہ کہو اور مری جانے کے لئے بھارہ کہو کا راستہ کسی اذیت سے کم نہیں تھا،وزیراعظم نے دس ماہ کی قلیل مدت میں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، ہزاروں مریض، ایمبولینسیں، نوجوان روزانہ اس سڑک سے سفر کرتے ہیں،اگر یہ کام 15 ماہ میں ہو سکتا ہے تو چار سال میں کیوں نہیں ہوئے،آج اسلام آباد کے اندر کوئی ایسا روٹ نہیں جو راولپنڈی، اسلام آباد اور مری کے علاقے سے جڑتا نہ ہو، میٹرو بس کی صورت میں آج ہر شہری کے پاس عزت دار سواری موجود ہے،وزیراعظم کا وژن تھا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ تک میٹرو بس سروس موجود ہو،آج ہر روٹ اسلام آباد کے ہر سیکٹر کے ساتھ جڑا ہے اور ایئر پورٹ تک رسائی موجود ہے، جو لوگ آپ پر تنقید کرتے ہیں، بالٹی ڈبہ، کنستر لے کر عدالت میں پیش ہوتے ہیں، وہ آج عوام سے آنکھیں نہیں ملا سکتے، پچھلے چار سال ایک ہینڈ پمپ لگا کر اس کی تشہیر کی گئی،آپ کی قیادت میں چند ماہ کے دوران میگا ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے جو کسی معجزے سے کم نہیں،اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی مثال نہیں ملتی،

    چیف کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے نور الامین مینگل نے بارہ کہو بائی پاس منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں 20 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں جس میں پارکس ، سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ دیگر منصوبے بھی شامل ہیں۔ پہلی مرتبہ وسائل اور سہولیات کار خ وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں کی جانب موڑا جا رہا ہے

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟