Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے،جاوید لطیف

    فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے،جاوید لطیف

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود احتسابی ایک اچھا عمل ہے، نوید ہے پاکستان کی پریشان حال قوم کے لیے مثبت قدم ہو، اگر ایک طاقتور ادارہ خود احتسابی کا عمل شروع کرتا ہے تو یہ ایک پیغام ہے،دیگر اداروں کو بھی اس عمل سے گزرنا چاہیے تاکہ پاکستان اس مشکل سے نکل سکے، سہولت کاری تھی, ہماری بات سچ ثابت ہوئی،ہمارا ہدف انہیں سزا دینا نہیں بلکہ جو فیصلے ہوئے اور ان سے بربادی آئی ان کو کٹہرے میں لایا جائے

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں بدامنی اور معاشی بدحالی آئی، اگر اس پروجیکٹ کو لانچ کرنے والے لوگوں کو آپ گرفتار کر کے سزا نہیں دیں گے تو نو مئی کا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے ، آپ کو اس واقعہ کے ماسٹر مائنڈ خواہ وہ کتنا بھی طاقتور ہو اس کو سزا دینی ہو گی ،تاکہ ہم اپنے پاکستان کو محفوظ کر سکیں جو لوگ آئیں سے ماورا کا کر قدم اٹھاتے ہیں ان پر تنقید کرنا اور ان کا احتساب کرنا لازم ہے ،آج کوئی کہے کہ یہ ادارے پر حملہ ہے نہیں یہ حملہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے ان کے نزدیک 102 سویلین کوئی اہمیت نہیں رکھتا ان کے نزدیک ماسٹر مائنڈ کو بچانا ہے، جو کانٹے سابق لوگوں کے بوئے تھے آپ پوری قوم کاٹ رہی ہے ،

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے سے ملکی ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا،جاوید لطیف
    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ نواز شریف اب پاکستان سے صرف اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر ہے، پی ٹی آئی کے دور کی سزا اب تک باقی ہے ،ان کے ایک فیصلے سے پی آئی ہے انٹرنیشنل پرواز بند ہونے سے ساتھ ارب نقصان ہوا ، قوم کے ساتھ اب ادروں میں بیٹھے لوگ بھی مان رہے ہیں کہ نواز شریف کے بغیر پاکستان کا چلنا مشکل ہو رہا ہے ابھی تو باہر بیٹھ کر ہدایت دے رہا ہے تو روس سے تیل آرہا ہے ، پاکستان کے دوست ممالک پاکستان میں انوسٹمنٹ کا سوچ رہے ہیں پاکستان مسلم لیگ ن 2013 میں بغیر انتخابی اتحاد کے دو تہائی اکثریت کی تھی ، اب تو سورج جو سوا نیزے پر تھا بہت دور جا چکا ہے ،نواز شریف جو واپس آرہا ہے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی وجہ سے آ رہا ہے،انصاف فراہم کرنے والا ادارہ بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرے گا،ایک شخص کو نیچا دکھانے کے کے جو فیصلے کئے گئے وہ بھی احتساب کے عمل سے گزرے گا، سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے بارے حتمی بات نواز شریف ہی بتائیں گے ،پارٹی کے اندر جس ورکر اور لیڈر شپ نے سختیاں جھیلیں ان کو پارٹی ٹکٹ ڈی جائے گی، نواز شریف مخلص ورکر کے لیے ایک بڑا پیکج لے کر آر رہے ہیں ،دنیا میں ایسا انصاف نہیں دیکھا جیسا پاکستان میں ہے فتنے کو تخفظ دینے کیلیے نیا نظریہ عمرانی آپ کے سامنے ہے نظریہ ضرورت قومی مفاد میں لیا جاتا ہے آج عمرانی فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے نظریہ ضرورت 1958 میں بے دریغ استعمال کیا گیا تھا کیسا انصاف ہے کہ ہماری قیادت کو رنگ سے باہر رکھا جائے اور الیکشن ہو نواز شریف جب حکومت میں آئے ملک نے ترقی کی پاکستان سب کے لئے مقدم اور مقدس ہونا چاہئیے نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے سے ملکی ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا

  • لطیف کھوسہ کے گھر فائرنگ زبیر نیازی کے کہنے پر کی، ملزم کا بیان

    لطیف کھوسہ کے گھر فائرنگ زبیر نیازی کے کہنے پر کی، ملزم کا بیان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کاروائیاں جاری ہیں

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل نے اپنے دفتر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگوکی ہے جس میں انہوں نے میڈیا کو جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری کے حوالے سے آگاہ کیا ہے،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ لطیف کھوسہ کے گھر فائرنگ کی گتھی سلجھ گئی،

    سی آئی اے ماڈل ٹاؤن نے کارروائی کی فائرنگ میں ملوث سابقہ ریکارڈ یافتہ اور پیشہ ور شوٹر محسن عرف لمبا گرفتار کر لیا گیا، ملزم محسن نے اعتراف کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے رہنما زبیر خان نیازی کے کہنے پر اپنے ساتھی کے ہمراہ لطیف کھوسہ کے گھر فائرنگ کی،زبیر خان نیازی نے اپنا ایک بندہ نشاندہی کے لیے ساتھ بھجوایا،جس نے لطیف کھوسہ کا گھر دکھایا،دس لاکھ روپے میں معاوضہ طے ہوا، ملزم ایک لاکھ روپے ایڈوانس وصول کر چکا تھا،ملزم بھی سیاسی جماعت کا کارکن ہے اور جلسے .جلوسوں میں زبیرخان نیازی سے تعلق قائم ہوا،ملزم کے مطابق اس کے بعد ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اعتراز احسن کے گھر بھی فائرنگ کرنا تھی،

    ملزم سنگین جرائم، اقدام قتل، بھتہ خوری، رابری اور لوگوں کے گھروں پر فائرنگ کے مقدمات کا سابقہ ریکارڈ یافتہ اور تھانہ ملت پارک کے اقدام قتل کے مقدمہ کا مفرور اشتہاری بھی ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی .فائرنگ کے نتیجے میں انکا ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا فائرنگ کا واقعہ ڈی ایچ اے میں پیش آیا، فائرنگ کرنے والے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے ،سابق گورنر پنجاب اور نامور قانون دان لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ میرے گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں میرا ڈرائیور زخمی ہوا، حملہ آور فرار ہوگئے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق سردار لطیف کھوسہ کے گھر کے باہر سےگولیوں کے کئی خول ملے ہیں، گھر پر 7 فائر کئے گئے، گولیاں گھر کے دروازے اور گیراج میں پارک کار میں لگیں

    مردہ حالت میں لائی جانے والی لڑکی ٹک ٹاکر نکلی

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

     سارہ انعام کے والد انعام الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    سارہ انعام قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر پر فرد جرم عائد

  • اے مسلمانو! تفرقے میں مت پڑو، آپس میں جڑے رہنا ضروری ہے، خطبہ حج

    اے مسلمانو! تفرقے میں مت پڑو، آپس میں جڑے رہنا ضروری ہے، خطبہ حج

    شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےتفرقہ ڈالنے سے منع کیا، انسان دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے، اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ‘

    شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد کا کہنا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں ، تعریف اس ذات کی ، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ,اللہ تعالیٰ نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا ہے ،اللہ کی اطاعت کرو، حدود اللہ کا خیال رکھو،اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے اللہ آپ کو دیکھ رہاہے ،حضورﷺ نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کیلئے عمارت کی طرح ہے،جو انسان اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا،،انسان اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرے، اللہ کی اطاعت کرو، حدود اللہ کا خیال رکھو، نماز،روزہ ،زکوة اور بیت اللہ کے حج کاحکم اللہ نے دیا ہے ، کوئی آدمی اس دنیا کو اپنا دائمی ٹھکانہ نہ سمجھ لے،ہمیں حکم دیا گیا ہے اختلاف ہو تو قرآن و سنت کی طرف جائیں،پڑوسی کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا چاہیے اے مسلمانو! تفرقے میں مت پڑو، آپس میں جڑے رہنا ضروری ہے،

    شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد کا کہنا تھا کہ اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی دینا اسلام ہے ، اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں ،حضورﷺنے فرمایا کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ، لوگوں کی زبانیں اور رنگوں کا مختلف ہونے میں بہت نشانیاں ہیں ، رسول اللہ ﷺنے حج کے موقع پر خطبہ دیا تھا، رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا کہ تمہارا خدا اور رسول ایک ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہر کسی پر ایک دوسرے کی عزت مقدم ہے، قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو، اے ایمان والو، اللہ ایک ہے،اسی کی عبادت تم پر واجب ہے ,قرآن میں اتحاد کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے مسلمان کےلیے باطل سے دور رہنا لازم ہے حاکمیت اور حقیقی حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ آپسی تنازعات کے حل کے لیے اللہ کی کتاب سے رہنمائی حاصل کرو،مل جل کر رہنے میں رحمت اور الگ الگ رہنے میں زحمت ہے شریعت میں حکم ہے جھگڑا کرنے والوں کو سمجھایا جائے،اتفاق پیدا کرنا معاشرے، خاندان اور ہرفرد کی ذمہ داری ہے ،اللہ کے سوا تمام چیزوں کو ہلاک ہوجانا ہے عزیزو اقارب کے ساتھ حسن وسلوک کا رویہ اختیار کرنا ضروری ہے،لوگوں کے لئے آسانیاں فراہم کرو انکے لیے مشکلات پیدا نہ کرو،ایک دوسرے کی جانوں کے دشمن نہ بنیں،اللہ کا حکم ہے تمام مسلمان متحد ہو کر رہیں، شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہرچیز جس سے اتحاد ٹوٹے دور رہنے کا حکم ہے، جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہوگا اور یہی اصل کامیابی ہےِ

    hajj02

  • وزیراعظم شہباز شریف کا آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کو ٹیلی فون

    وزیراعظم شہباز شریف کا آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کو ٹیلی فون

    وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جورجیوا کو ٹیلی فون کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف اور ایم ڈی آئی ایم ایف میں رابطہ منگل کی علی الصبح ہوا ،وزیراعظم اور آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے امور پر گفتگو کی ،آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے وزیراعظم سے پیرس میں ہونے والی ملاقاتوں کے تناظر میں وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم کی آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے کے حوالے سے کوششوں کا اعتراف کیا ،وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کے نکات پر ہم آہنگی آئیندہ ایک دو دن میں آئی ایم ایف کے فیصلے کی شکل اختیار کرے گی

    وزیراعظم نے معاشی صورتحال کی بہتری کے اہداف مشترکہ کوششوں سے حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ، آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کی بہتری چاہتے ہیں، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے وزیراعظم شہباز شریف کے قائدانہ عزم کو سراہا

    واضح رہے کہ فرانس میں وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے تین ملاقاتیں ہوئی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کو مکمل کرنے کے پاکستان کے عزم کو دوہرایا . پاکستان کی معاشی حقیقتوں سے متعلق غور کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایم ڈی آئی ایم ایف کی سوچ کو سراہا ،

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی ،درخواست خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف کاروائی کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی

    جسٹس منیب اختر نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ,درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی شروع کرنے کے احکامات دینے کی استدعا کر رکھی ہے سپریم کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے 13 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی تھی،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کاروائی ختم کردیتی ہے، آرٹیکل 209 میں جج کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جج خود عہدے سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں لکھا، درخواست گزار چاہتا کیا ہے کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے؟کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائنز دے سکتی ہے ؟ آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے، سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے مختلف مقدمات میں کونسل کی کارروائی کا جائزہ لےکر ہدایات دیں ہیں،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہم نے کونسل کو ہدایت کسی فیصلے میں نہیں دیں، عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہوگی ؟

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ بغیر میرٹس کے شکایت بھیجتے ہیں،سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں،کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ انکا فیصلہ ہے،جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں، آپ کہہ رہی ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی کرنی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایات آجائیں،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لاجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری روسٹروم پر آ گئے اور کہا کہ میں نے بھی اس کیس میں درخواست دائر کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خوشی پے سپریم کورٹ بار بھی اس کیس میں فریق بن رہی ہے ،اچھے دلائل کو ویلکم کریں گے، چآپ آج اس وقت درخواست دائر کر رہے ہیں ؟ عابد زبیری نے کہا کہ ابھی افس میں دائر ہو گئی ہے،

    ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، اٹارنی جنرل
    عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت میں کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں،میرے دلائل صرف سویلین کے ملٹری ٹرائلز کے خلاف ہیں ، فوجیوں کے خلاف ٹرائل کے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرائل جاری ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اٹارنی جنرل کے بیان سے متضاد ہے ،میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کی بات پر یقین ہے،

    اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ ملٹری کورٹس بھیجے گئے ملزمان پر سیکشن 2 ڈی ون لگائی گئی ہے یا 2 ڈی 2 ؟ کل کے بعد اسی معاملے کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ ابھی تک سیکشن 2ڈی 2 لگائی گئی ہے، سیکشن 2 ڈی ون کا اطلاق بعد میں ہو سکتا ہے،آج کے دن تک 2 ڈی ٹو کا ہی اطلاق ہوا ہے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بی ایل ای اور ڈسٹرکٹ بار کیس کے فیصلے سویلین کا فورسز کے اندر تعلق سے متعلق کچھ ٹیسٹ آپلائی کرتا ہے، کیسے تعین ہو گا ملزمان کا عام عدالتوں میں ٹرائل ہو گا یا ملٹری کورٹس میں ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی آئینی ترمیم کے بغیر سویلین کے ٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتا، اکیسویں ترمیم میں یہ اصول طے کر لیا گیا ہے کہ سویلین کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی تعلق بارے جنگ کے خطرات دفاع پاکستان کو خطرہ جیسے اصول اکیسویں ترمیم کیس کے فیصلے میں طے شدہ ہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال بالکل واضح ہے ، کیا اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے،

    ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے، جسٹس منیب اختر
    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم ماضی میں سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مثالوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ماضی کی ایسی مثالوں کے الگ حقائق ،الگ وجوہات تھیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شفاف ٹرائل کی بھی شرائط ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایف بی علی؛ بریگیڈیر فرخ بخت علی کیس کہتا ہے کہ کسی سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے،یہ کیس سویلین کے اندر تعلق کی بات کرتا ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مطابق یہ کون سا تعلق ہو گا،جس پر ٹرائل ہو گا،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو گا وہ آئینی ترمیم سے ہی ہو سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہوا میں بات کر رہے ہیں ٹو ڈی ٹو کے تحت کون سے جرائم آتے ہیں اس پر معاونت کرنی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم کا اکثریتی فیصلہ بھی یہ ہی شرط عائد کرتا ہے کہ جنگی حالات ہوں تک ہو گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف جنگ اور جنگی حالات میں کسی شخص کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؛ جب بنیادی حقوق معطل نہ ہوں تو سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو سکتا؛ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ہمارا ائین، ہمارے بنیادی حقوق، ہمارے قوانین سب ارتقائی مراحل سے گزر کر مختلف ہو چکے ہیں اب ہمارے آئین میں آرٹیکل 10-A شامل ہے جس کو دیکھنا ضروری ہے ؛ آئین کا آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل سٹرکچرکی بات کرتا ہے آئین کا آرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں ،یہ تمام آرٹیکل بھلے الگ الگ ہیں مگر آپس میں ان کا تعلق بنتا ہے،بنیادی حقوق کا تقاضا ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثر نہیں چھوڑتا ،کسی نے بھی خوشی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دی فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہو گی ایف آئی آر میں کہیں بھی افیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہیں کیا گیا،آرمی سپورٹس سمیت مختلف چیزوں میں شامل ہوتی ہے،اگر وہاں کچھ ہو جائے تو کیا آرمی ایکٹ لگ جائے گا،

    اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے سیکشن ٹو ڈی پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ آرمی والے کی بات کرتے ہیں تو اس کی سب اہم چیز مورال ہوتی ہے،اگر مورال متاثر ہوتا ہے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز ہو جس سے دشمن کو فائدہ پہنچے؛

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آفیشل سیکرٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے؟ ،وکیل درخواست گذار نے کہا کہ جی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سزا میں ضمانت ہوسکتی ہے ایف آئی آر میں تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کازکر ہی نہیں ہے،ایکٹ میں ترمیم کےذریعے تحفظ پاکستان ایکٹ کو ضم کرکے انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں،2017 میں ترمیم کرکے 2 سال کی انسداد دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شواہد کے بغیر کیسے الزامات کو عائد کیا جاتا ہے؟ یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے، سقم قانون میں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کیا الزام لگایا گیا یہ تفصیل موجود ہی نہیں، ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ شاعر احمد فراز کے مقدمے میں جسٹس افضل ظلہ نے کی چونکہ ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لئے ان کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا؛چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی اتھارٹیز کسی شخص کو چارج کئے بغیر کیسے گرفتار کر سکتی ہیں؛ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت تفتیش کیسے ہو گی اور فرد جرم کیسے لگے گی؟ ایڈووکیٹ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ آرمی ایکٹ اس حوالے سے نامکمل ہے؛ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تو ملزمان پر کوئی چارج ہی نہیں ہے؛

    اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،چیف جسٹس
    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایف آئی آر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہوئی مگر ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو رہا ہے ، عزیر بھنڈاری کی جانب سے شاعر احمد فراز اور سیف الدین سیف کیس کے حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ احمد فراز پر الزام لگا تھا مگر ان جو باضابطہ چارج نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ جب کسی کیخلاف ثبوت نہیں تو فوج اسے گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک مجسٹریٹ بھی تب تک ملزم کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا جب تک پولیس رپورٹ نہ آئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کخلاف شواہد نہ ہونے پر کاروائی کرنا تو مضحکہ خیز ہے، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جو افراد غائب ہیں ان کے اہلخانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی تھیں امید ہے وہ والدین کیلئے تسلی بخش ہوں گی،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میرے موکل چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق تو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ ہی بد نیتی پر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی پر موقف دینے کی بھی پابندی ہے،میڈیا پر نہیں چلتا،کچھ مستند آوازیں ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شکوک شبہات کا اظہار کر رہیں ہیں،ہماری استدعا ہے کہ اوپن ٹرائل کیا جائے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہو گئے درخواستگزار زمان وردک نے تحریری دلائل جمع کروا دیے

    عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرمی افسران کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری غیر قانونی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کسی شخص پر شواہد کے بغیر الزام لگانا بے کار ہے ، اٹارنی جنرل ہم نے ایسی معلومات منگوائی ہیں جو تمام والدین کے لیے فائدہ مند ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں تو ملزمان پر الزام ہی نہیں تھا ،ان مقدمات میں ملزمان پر پاکستان پینل کوڈ کے الزامات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ تو سمجھ آتی ہے کہ پہلے گرفتار کرتے ہیں پھر تحقیقات کرتے ہیں، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس کیس میں بہت سے حقائق تسلیم شدہ ہیں، تسلیم شدہ حقائق سے بدنیتی اخذ کی جا سکتی ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیا پر مکمل بین یے،اوپن پبلک ٹرائل ہونا چاہیئے صحافیوں کو ٹرائل کی رپورٹنگ کی اجازت ہونی چاہیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی تعریف نہیں کی گئی، سپریم کورٹ نے 1975 کے فیصلے میں طے کیا کہ جوڈیشل سائیڈ پر طے ہو گا ملزم کون ہے ،

    102 ملزمان ملٹری تحویل میں،ہفتے میں ایک ملاقات ہو گی،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل کے دلائل شروع ہو گئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنی تحریری معروضات کے ساتھ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کی معلومات فراہم کروں گا،میں ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا ذکر نہ ہونے پر بھی معاونت کروں گا ،ملزمان کی کسٹڈی لیتے وقت الزامات بھی فراہم کردیے تھے ،9 مئی کا واقعہ تھا جس کے بعد 15 دن لیے گئے پھر ملزمان کی حوالگی کا عمل ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت چارج کرنے کا طریقہ رولزمیں ہے،؟۔ کیا آپ آج اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تحریری دلائل وقفہ کے بعد جمع کروا دوں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے معروضات کی تفصیل بھی مانگی تھی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس وقت 102 ملزمان ملٹری تحویل میں ہیں،تحویل میں موجود ملزمان کو گھر والوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے گی،والدین بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی اجازت ہو گی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کچھ جیلوں کا دورہ کیا وہاں بھی ملزمان کو فون پر بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان کو جو کھانا دیا جاتا ہے وہ عام حالات سے کافی بہتر ہے،کھانا محفوظ ہے یا نہیں اس کا ٹیسٹ تو نہیں ہوتا مگر وہ کھانا کھانے سے کسی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری بھی شفٹ ہو جائے گی،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102 ملزمان کون سے ہیں ،کیا ہم 102 افراد کی لسٹ کو پبلک کر سکتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جی نہیں ابھی وہ زیر تفتیش ہیں،

    کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے،چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے سوال
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سادہ سوال ہے کیوں حراست میں موجود لوگوں کی فہرست بپلک نہیں کر دیتے،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ پہلے یقینی بنائیں کہ زیر حراست افراد کی اپنے والدین سے بات ہو جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عید پر ہر کسی کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون کون حراست میں ہے،عید پر سب کی اپنے گھر والوں سے بات ہونی چاہیے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فہرست پبلک کرنے کے حوالے سے ایک گھنٹے تک چیمبر میں آگاہ کر دوں گا،صحت کی سہولیات سب زیر حراست ملزمان کو مل رہی ہیں ڈاکٹرز موجود ہیں، صحافیوں اور وکلا کے حوالے سے کچھ واقعات ہوئے ہیں ریاض حنیف راہی سے کل بات بھی کی،ان کی شکایات کا ازالہ ہو گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا موجودہ کیسز میں سزائے موت کا کوئی ایشو ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سزائے موت غیر ملکی رابطوں کی صورت میں ہو سکتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیا کہ ملزمان کی آج ہی اہلخانہ سے بات کروائیں، اب ہم عید کے بعد ملیں گے، جو لوگ گرفتار ہیں ان کا خیال رکھیں، کتنی خوشی کی بات ہوگی کہ عمران ریاض عید پر اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہوں،

    عمران ریاض ہماری حراست میں نہیں ،ریکوری کی پوری کوشش کی جا رہی ہے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کوئی وکلاء گرفتار نہیں ہیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے ساتھ کوئی بد سلوکی ہوئی تو تحفظ فراہم کریں، صحافیوں کا بتائیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جانتا ہوں ایک صحافی مسنگ ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ عمران ریاض کی بات کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وہ ہماری حراست میں نہیں ہے ان کی ریکوری کی پوری کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ اپنی صلاحیتوں سے یقینی بنائیں عمران ریاض کا پتہ لگائیں،

    وکلا نے ملٹری کورٹس کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ابھی کوئی ٹرائل شروع نہیں ہوا اور اس میں وقت بھی لگتا ہے،ملزمان کو پہلے وکلا کی خدمات لینے کا وقت ملے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ ہوا مجھے فوری اگاہ کیا جائے، میں آئندہ ہفتے سے دستیاب ہوں گا، خواتین اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناع دینے کی استدعا مسترد کر دی،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • 17 ملٹری کورٹس کام کر رہیں،102 شرپسندوں کا ٹرائل ہو رہا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    17 ملٹری کورٹس کام کر رہیں،102 شرپسندوں کا ٹرائل ہو رہا،ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک فوج میجر جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد سانحہ نو مئی کے حوالہ سے آگاہ کرنا ہے،نومئی کے واقعہ نے ثابت کیا کہ دشمن جو پچھتر برسوں میں نہ کرسکا وہ مٹھی بھر شرپسندوں نے کیا، نومئی کا سانحہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی ساز ش ہے جس کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ، ماحول بنایا گیا، جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنایا گیا،اب تک تحقیقات میں بہت سارے شواہد مل چکے ہین، افواج پاکستان، شہداء کے ورثا میں نو مئی کے سانحہ پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے، افواج پاکستان آئے روز شہدا کے جناز وں کو کندھا دے رہی ہیں، افواج پاکستان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈہ کیا گیا، شہدا پاکستان کے خاندانوں کی دل آز اری کی گئی، ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا قوم کے نوجوانوں نے قربانیاں اسلئے دی تھیں کہ انکی نشانیوں کی بے حرمتی کی جائے شہداء کے ورثاء ہم سب سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ہماری قربانیوں کی اس طرح بے حرمتی کرنی ہے تو ہم نے جانیں کیوں قربان کی ہیں

    آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں شہدا کے لواحقین کی ویڈیوز چلائی گئیں، جس میں شہداء کے لواحقین نے اپنے جزبات کا اظہار کیا،

    نو مئی نہ بھلایا جائے گا، نہ کسی کو معافی ملے گی،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ یہاں یہ بات کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کسی بھی ملک و قوم کے استحکام کی بنیاد حکومت،عوام اور فوج کے درمیان احترام کا رشتہ ہے،ملک دشمن قوتوں نے کئی دہائیوں سے کوشش کی کہ فوج اور عوام کے درمیان خلیج ڈال دی جائے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بیرونی ایجنڈے سے تشبیہہ دینے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ،پھر بھی دشمن افواج پاکستان اور عوام کے مابین دراڑ نہ ڈال سکا،افواج پاکستان ان گنت قربانیاں عوام پاکستان کے لئے دے رہی ہیں اور کبھی کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی،افواج پاکستان تمام اکائیوں، مکتبہ فکر کی نمائندگی کرتی ہیں، عوام کو افواج سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اسکی گواہی شہدا افواج پاکستان کی قبریں بھی دیتی ہیں جو پاکستان کے تمام صوبوں،بشمول آزاد کشمیر،گلگت میں موجود ہیں،اس تمام حقائق کے باوجود پچھلے ایک سال میں جھوٹے، گمراہ کن پروپیگنڈے کو چلایا گیا اور چلایا جا رہا ہے،نو مئی کو پاکستان کی معصوم عوام کو انقلاب کا جھوٹا نعرہ لگا کر بغاوت پر اکسایا گیا، پاکستان کی افواج میں مکمل ہم آہنگی ہے، 25 مئی کو یوم تکریم شہدا کا پیغام، سات جون کو جاری پریس ریلیز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملٹری لیڈر شپ نو مئی کے سہولت کاروں اور انکے ایجنڈوں سے آگاہ ہے اور کلیئر ہے کہ سانحہ نو مئی کو پاکستان کی تاریخ میں نہ بھلایا جائے گا، نہ ملوث عناصر،سہولت کاروں کو معاف کیا جا سکتا ہے، سب کو سزائیں دی جائیں گی خواہ انکا تعلق کسی بھی ادارے یا جماعت سے نہ ہو،اس عمل میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کے‌ خلاف سختی سے نمٹا جائے گا،

    سکیورٹی برقرار رکھنے میں ناکامی پر پاک فوج کے اعلیٰ افسران فوج سے فارغ

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ مفصل احتسابی عمل کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ سکیورٹی میں ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے فوجی تنصیبات اور جی ایچ کیو کے سکیورٹی کے ذمہ داران کے خلاف کاروائیاں کی گئی ہیں , پاک فوج نے خود احتسابی کا عمل مکمل کر لیا ہے لیفٹیننٹ جنرل سمیت3 افسران کو نوکری سے برخاست کردیا گیا ،میجر جنرل اور 7بریگیڈیئرز کیخلاف تادیبی کارروائی ہوچکی ہے، ان سزاؤں سے یہ اندازہ ہو گا کہ فوج میں خود احتسابی کا عمل بغیر کسی تفریق کے مکمل کیا جاتا ہے ،فوجی عدالتوں میں 102 شرپسندوں کا ٹرائل کیا جا رہا ہے ،

    ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کی نواسی بھی اس وقت قانون کی گرفت میں ہیں ,فوج میں جتنا بڑا عہدہ ہو گا ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہو گی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ رواں سال 95 آفیسر و جوانوں نے جام شہادت نوش کیا پوری قوم ان بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانیں ملکی سلامتی کے لئے پیش کیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی، عوام کے تعاون سے ہر چینلج پر قابو پا لیں گے

    17 ملٹری کورٹس کام کر رہیں،102 شرپسندوں کا ٹرائل ہو رہا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹ کا سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے، کچھ حقائق کا جاننا ضروری ہے، 17 سٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں جو پہلے سے فعال تھیں، 102 شرپسندوں کے مقدمات سول کورٹ نے ثبوت اور قانون کے مطابق ملٹری کورٹ میں منتقل کیا ،ان کورٹس میں سول وکیلوں تک رسائی کا حق حاصل ہے، ہائیکورٹ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہے، آرمی ایکٹ،آئین پاکستان اور قانون کا کئی دہائیوں سے حصہ ہے، اسکے تحت سینکڑوں مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں،تمام حقائق کی موجودگی میں اگر کوئی جھوٹا بیانیہ بنائے تو بنا سکتا ہے، آئین پاکستان ہمارے لئے سب سے مقدم ہے،

    نو مئی کا سانحہ فوج یا ایجینسیوں نے کروایا، اس سے زیادہ گھٹیا بات نہیں کی جا سکتی، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ نو مئی کا سانحہ فوج یا ایجنسیوں نے کروایا اس سے بڑی شرمناک بات کوئی نہیں ہو سکتی، یہ زہریلی سوچ کی عکاسی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج، تصاویر،کالز ریکارڈنگ سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت یہ ہوا اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، نو مئی سے پہلے ہی فوج کی قیادت کے خلاف زہن سازی کی گئی، کیا فوجی قیادت نے خود یہ زہن سازی کروائی ،گرفتاری کے چند گھنٹے بعد دو سو سے زائد مقامات پر حملے ہوئے ،لاہور ،پنڈی، میانوالی،چکدرہ، کوئٹہ،پشاور سمیت دیگر شہروں میں کیا فوج نے خود ایجنٹ پھیلائے ہوئے تھے، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم نے اپنے ہاتھوں سے فوج کے شہدا کی یادگاروں کو جلایا، غیر ملکی ابلاغ و اشخاص کو ریاست کے خلاف مواد ہم نے خود فراہم کیا، کون نامی بے نامی اکاؤنٹ سے پرچار کر رہا تھا کہ مزید جلاؤ، قبضہ کرو، یہ کون کر رہا تھا، سب سامنے ہے

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    فوری ردعمل نہ دے کر پاک فوج نے انکی سازش کو ناکام بنایا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ کئی مہینوں سے فوجی قیادت کے خلاف زہن سازی کی جا رہی ہے جب فوجی ردعمل آنا تھا تو انہوں نے مزموم مقاصد پھر پورے کرنے تھے، کچھ جگہوں پر خواتین کو بھی منصوبہ بندی کے ساتھ ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا،یہ کوئی بھی توقع نہیں کرتا تھا کہ ایک سیاسی پارٹی اپنے ہی ملک میں اپنی فوج پر حملہ آور ہو، فوری ردعمل نہ دے کر پاک فوج نے انکی سازش کو ناکام بنایا، یہ ضروری تھا کہ جہاں پر سیکورٹی میں غیر ارداری غفلت یا کوتاہی ہوئی اسکا تعین کیا جائے، اسکی وجوہات دیکھی جائیں، فوج میں خود احتسابی کا ایک سسٹم ہے ،دو ادارہ جاتی انکوائری ہوئی، تمام شواہد کو تفصیلات سے دیکھا گیا اور سفارشات تیار کی گئیں، پھر ایکشن لیا گیا، جتنا بڑا عہدہ، اتنی بڑی زمہ داری،حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کا ہر افسر یا جوان، کسی بھی علاقے سے فرقے مزہب سے ہو اسکی آخری ترجیح ریاست پاکستان ہے، اس میں کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے، یہی وہ جزبہ ہے جس کی وجہ سے ہمارا نوجوان قربانی دے رہا ہے، البتہ جھوٹ کا بیانیہ بنا کر صرف عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالی جا سکتی ہے، عوام نو مئی کے بیانئے کو پہچان چکے ہیں

    معاشرے میں بے چینی کو کم کرنے کی ضرورت ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بیانیہ ریاست پاکستان کے خلاف بنایا جاتا ہے غلط بیانات اور فیک ویڈیوز سے یہ بیانیہ چلایا جاتا ہے۔ اسکے ماسٹر مائنڈ کون ہیں؟ سوشل میڈیا پر جو پروپیگنڈہ ہے وہ پاکستان میں وبا کی صورت اختیار کر چکا، بے نامی اکاؤنٹس بھی چل رہے ہیں جو فیک ہیں،ابھی حال میں ہی ایک اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا جو خاتون کے نام پر چل رہا تھا لیکن اس کے پیچھے مرد تھا، فیک پروپیگنڈہ کا حل ضروری ہے، حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے،جو صحافی کمیونٹی ہے پاکستان کی اسکو چاہئے کہ وہ زمہ دارانہ صحافت کرے، بجائے اسکے کہ سنسنی کی صحافت کرے، معاشرے میں بے چینی کو کم کرنے کی ضرورت ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جس طرح باقی ادارے ہیں فوج بھی ایک ادارہ ہے، جن معاملات میں حکومت سمجھتی ہے کہ فوج کی ضرورت ہے فوج رول ادا کر سکتی ہے تو اس میں فوج کردار ادا کرتی ہے، یہ آج کی بات نہیں، دہائیوں سے چل رہا ، ہم چھوٹے ہوتے تھے تو فوج کو صفائی کرتے بھی دیکھا، فیٹف میں کردار ادا کیا، پولیو کے قطروں میں بھی فوج کردار ادا کرتی ہے، ہمیں اس پر فخر ہے، عوام کے فلاح و بہبود کے لئے اگر جان دے سکتے ہیں تو یہ تو بہت چھوٹی بات ہے،

    اگر اندرونی انتشار کا راستہ نہ روکا تو یہ بیرونی یلغار کا راستہ ہموار کرے گا. ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں سانحہ نو مئی کا تدارک کیسے کرنا ہے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، اسکا جو رسپانس ہے وہ خالی فزیکل رسپانس نہیں اور ڈومین میں ہے، جو عوامل جن وجوہات کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا ان تک پہنچا جائے انکا تدارک کیا جائے، جو منصوبہ ساز تھے ان کو بے نقاب کر کے انکا کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ہم سب نے اس گھناؤنی سوچ کی نفی کرنی ہے تاکہ دوبارہ واقعہ نہ ہو، مملکت پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ اندرونی انتشار سے ہے، دو شکلیں ہیں ایک دہشت گردی کی صورت میں ہے،جس کے خلاف افواج قربانیاں دے رہی ہیں، دوسری شکل مزموم سیاسی مقاصد کے لئے عدم برداشت ہے جس کا نقطہ عروج نومئی کو دیکھا، اگر اندرونی انتشار کا راستہ نہ روکا تو یہ بیرونی یلغار کا راستہ ہموار کرے گا. اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاک فوج چاہتی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر آپس میں بیٹھ کر قومی اتفاق رائے پیدا کریں، یہ نو مئی کے بعد 15 مئی کو اعلامیہ جاری ہوا، تا کہ ملک میں معاشی استحکام ہو، اسی اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاک فوج ہر ایسے عمل کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی،ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں،سانحہ 9 مئی ،اس وقت تک انصاف کا منتظر رہے گا، جب تک اس کے منصوبہ سازوں اور سہولتکاروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا،اگر ایسا نہ ہوا تو کل کو کوئی اور سیاسی گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس واقعے کو دہرائے گا

    سیاسی جماعت اپنے ہی ملک میں اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہو گی،اسکی توقع نہیں کی جا سکتی تھی،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ نو مئی کے واقعہ کا مقصد تھا کہ فوج سے فوری ردعمل لیا جائے، نقصان ہو اور اس پر سیاست کی جائے، اس کے لئے منصوبہ بندی کی گئی تھی، لوگوں کے بیانات سنیں، سی سی ٹی وی فوٹیج ہے، آڈیو ریکارڈنگ ہے، ویڈیو ریکارڈنگ ہے واضح ہو چکا کہ یہ سب طے شدہ طریقے سے کیا گیا،ہمارے ہی ملک میں ایک سیاسی جماعت اپنے ہی ملک میں اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہو گی،اسکی توقع نہیں کی جا سکتی تھی،فوج کا جو خود احتسابی کا اپنا سسٹم ہے، غیر ارادی غلطی، کوتاہی میں ملوث افراد کو سزائیں دی گئیں، جھوٹے بیانئے بنائے جا رہے ہیں، میں آپکے سامنے کھڑا ہوں، کس علاقے سے ہوں، کس فرقے سے ہوں کس سیاسی جماعت سے وابستگی ہے یہ بعد میں فوج اور ریاست پہلے، جب ہم کسی کو آرڈر دیتے ہیں کہ جاؤ اور کود جاؤ، تو جانتے بوجھتے بھی ملک کی خاطر ، فوج کی خاطر قربانی دیتا ہے، کوئی جھکاؤ تھا، کوئی سازش تھی،لوگ پروپیگنڈہ کرتے ہیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ فوج کی الیکشن ڈیوٹی ہوتی ہے، اس کے علاوہ باتیں سب مبالغہ آرائی ہیں،فوج کا موقف 15 مئی کے اعلامیہ میں واضح ہے کہ سیاسی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ سٹیک ہولڈر بیٹھیں اتفاق رائے، اسکو سپورٹ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، جب ہم نے کہہ دیا کہ ادارہ جاتی انکوائری ہوئیں تو اس میں یہی جانچا گیا کہ یہ لائن کراس ہوئی، یہاں پر سیکورٹی کی غفلت ہوئی، اسکو کس حد تک روکا جا سکتا تھا ،بلوائی، شرپسند آئے، غفلت کی نوعیت کو جانا گیا اور زمہ داران کیخلاف کاروائی ہوئی،

  • شہباز گل کو گرفتار کرنے کا حکم

    شہباز گل کو گرفتار کرنے کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد شہباز گل پر اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے ایف آئی اے کو شہباز گِل کو فورا گرفتار کرنے کا حکم دےدیا۔ اپنے حکم میں عدالت نے کہا ہے کہ شہبازگِل پاکستان میں جس بھی ائیرپورٹ پر نظر آئیں، انہیں گرفتار کرکے عدالت پیش کیا جائے ،اسلام آباد کی سیشن عدالت نے شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا،عدالت نے ایف آئی اے کو شہباز گل کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے فیصل آباد اور اسلام آباد میں شہباز گل کی رہائشگاہ کے باہر اشتہاری کا قرار دینے کا نوٹس چسپاں کرنے کا حکم بھی دے دیا، عدالت نے شہباز گل کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ،عدالت نے اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع کرنے اور دیگر رپورٹس 26 جولائی کو طلب کرلیں

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • توشہ خانہ ریفرنس کیس ،عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج

    توشہ خانہ ریفرنس کیس ،عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج

    توشہ خانہ ریفرنس کیس ،پی ٹی آئی چیئرمین کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج کر دی گئی

    رجسٹرار آفس نے اعتراض برقرار رکھا اوردرخواست خارج کر دی، عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل کو آئینی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی،۔ وکیل اشیاق اے خان نے عدالت میں کہا کہ نیب کی جانب سے 22 جون کا نوٹس موصول ہوا پہلے ملنے والے نوٹس کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اسلام آباد کب جانا چاہتے ہیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ 4 جولائی کو کیسز لگے ہیں عدالت نے قرار دیا کہ آپ کو آئینی پیٹنشن دائر کرنی چاہیے تھی،عمران خان کے وکیل اشتیاق اے خان نے کہا کہ ہم نے اسی کو آئینی پیٹنشن میں تبدیل کر دیا ہے

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو 23 جون کو طلب کیا تھا،عمران خان کو کیس سے متعلق دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی، عمران خان 23 جون کو پیش نہیں ہوئے،نیب نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان کو بطور وزیراعظم 108 تحائف ملے چیئرمین پی ٹی آئی نے 58 تحائف توشہ خانہ میں جمع نہ کرائے، عمران خان کو اس سے پہلے بھی طلب کیا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے،

    لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی چئیرمین نے توشہ خانہ ریفرنس میں نیب طلبی کے نوٹس کے خلاف آئینی پٹیشن دائرکیت ھی، چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل اشتیاق اے خان اور انتظار حسین پنجوتہ نے درخواست دائرکی جس میں کہا گیا تھا کہ نیب نے طلبی کے بلاجواز نوٹس بھجوائے۔

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    توشہ خانہ کیس میں نیب کی بھی تحقیقات جاری ہیں، نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان سے سوالات پوچھے ہیں تو عمران خان نے توشہ خانہ نوٹسز کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے،عمران خان سے توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کے دوران نیب نے 12 سوالات پوچھے ہیں اور تحائف کی رسیدیں بھی مانگ لی گئی ہیں، نیب کا سوالنامہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دیا گیا،نیب کی جانب سے عمران خان سے پوچھا گیا ہے کہ آپ نے توشہ خانہ سے حاصل گفٹ کتنی بار فروخت کئے، کون سی چیزیں بیچیں، کب اور کس کو تحفے فروخت کئے۔ کیا ان ٹرانزیکشنز میں کوئی مڈل مین یا ویمن شامل تھی۔ عمران خان سے کہا گیا ہے کہ تحائف کی خریداری اور فروخت میں شامل ہر فرد کی تفصیل فراہم کریں۔ نیب نے ایف 7 کی دکان پر مبینہ طور پر فروخت ہونیوالے تحائف کی تفصیل بھی مانگ لی۔ سوالنامے میں مزید پوچھا گیا ہے کہ بطور وزیراعظم کتنے تحفے لئے۔ عمران خان سے بطور شواہد تحائف کی تصاویر بھی مانگی گئی ہیں۔ مزید پوچھا گیا کہ تحائف کی فروخت سے حاصل رقم بینک یا کیش کی صورت میں لی؟

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہویئ

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل اور سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایت ہے کہ جسٹس منصورعلی شاہ بنچ کا حصہ نہ ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی مرضی سے بنچ نہیں بنایا جائے گا،کس بنیاد پر آپ جسٹس منصورعلی شاہ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مفادات کے ٹکراو کی وجہ سے اعتراض اٹھایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا تھا کہ مجھ پر اعتراض تو نہیں،میں نے کہا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا
    وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض اٹھا دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں، اس لیے ان کے کندکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بنچ سے علیحدہ کر لیا ،سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا جسٹس منصور علی شاہ کی بنچ سے علیحدگی کے بعد بینچ اٹھ کر چلا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں،ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ میں باربار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے،پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا ،جواد ایس خواجہ صاحب ایک درویش انسان ہیں،آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازعہ بنا رہے ہیں عدالت نے پہلے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، عدالت کے فیصلوں پر عمل اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمارے پاس فیصلوں پر عمل کیلئے کوئی چھڑی نہیں،بہت سے لوگوں کے پاس چھڑی ہے لیکن انکی اخلاقی اتھارٹی کیا ہے، لوگ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ،بینچ میں شامل رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جج صاحب خود کریں گے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرا خیال سے اعتراض کے بعد میں میرا اس بینچ میں شامل رہنا نہیں بنتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جج صاحب پر جانبداری کا کہہ رہے ہیں یا مفادات کے ٹکراو کا؟ اٹارنی جنرل ایک اعلی معیار اور اچھے کردار کے وکیل ہیں ،سپریم کورٹ کے بینچز پر لگاتار اعتراضات اٹھ رہے ہیں ،

    عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے