Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بشریٰ بیگم کہاں، سفید برقع میں کون،عید سے پہلے قربانی؟

    بشریٰ بیگم کہاں، سفید برقع میں کون،عید سے پہلے قربانی؟

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے حوالہ سے سترہ رکنی بینچ فیصلہ دے چکا، آرمی ایکٹ عمران خان کے دور میں استعمال ہوا اور اب وہی اسکے خلاف پٹیشنر ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کافی خبریں ہیں جو مجھے مل رہی ہیں، میں آج کافی خبریں دے رہا ہوںَ قربانی کی عید ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ گائے دو ہیں اور چھری ایک ہے، چھری کس پر پھرے گی؟ کیا عید قربان سے پہلے قربانی ہو سکتی ہے تو جواب ہے ہو سکتی ہے، چھری تیز ہو رہی ہے اور بہت زیادہ تیز کی جا رہی ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عید قربان سے پہلے ہو سکتا ہے بشریٰ بیگم گرفتار ہو جائیں، پھر انکی ضمانت کیسے ہو گی، عید کی چھٹیاں آ جائیں گی، کیس لمبا ہو جائے گا، گرمی بڑی ہے، اسی لئے گھر میں لڑائی ہوئی ہے،نتیجہ بھی بتاؤں گا، ہو سکتا ہے کہ بشریٰ کو کوئی ریلیف کسی بھی عدالت سے مل جائے اور وہ کہہ دیں کہ گرفتار نہ کریں، پھر یہ بھی فیصلہ ہو چکا کہ ایک بڑے کو گھر جانا پڑے گا،اور ہو سکتا ہے وہ بڑا عید سے پہلے گھر جائے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گھر جانے کی بات ہو رہی ہے تو بتا دوں کہ عمران خان کے گھر لطیف کھوسہ، اعتزاز احسن نہیں آئے بلکہ عمران خان خود چل کر لطیف کھوسہ کے گھر گئے، پرویز خٹک کی اہلیہ کی وفات پر عمران خان نہیں گئے، کتنے گھروں میں نہیں گئے، کتنے لوگوں کو انہوں نے کہا کہ آزادی کی جنگ میں جو ورکر شہید ہوئے ایک بھی گھر میں عمران خان گھر میں فاتحہ کے لئے نہیں گیا، ظل شاہ کے والد کو بھی گھر بلایا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ڈرامہ کیا، عمران خان کسی کے گھر نہیں جاتا، وہاں کیوں گیا تھا؟ وہاں پر کسی اور کو بھی آنا تھا ،وہ اور کون تھا؟ اس نے پٹیشنر بننا تھا، دو خواتین ہیں جو نو مئی کے واقعہ میں اندر ہیں اور انکو بچانا ہے، لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن کو عمران خان نے پیغام دیا اور پھر وہی کھوسہ اور اعتزاز چیمبر میں چیف جسٹس کو بھی ملے، ایک طویل میٹنگ ہوئی، اور اس چیمبر میں پوری پلاننگ ہوئی کہ کس طرح سے پٹیشن داخل ہو گی، بینچ میں کون کون ہو گا، سب طے ہوا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جسٹس جواد کے رشتے دار ہیں، دو خواتین ہیں انکی وجہ سے پٹیشن دی گئی ،پوری منصوبہ بندی اسکے لئے کی گئی، قاضی عیسیٰ نے بتا دیا کہ یہ بینچ ہی غلط ہے،اب کیا ہو گا؟ خواجہ آصف نے انڈی کیشن دے دی ہے، رانا ثناء اللہ نے بھی کہا ہے کہ مئی کے فیصلے کی طرح ہو گا،کوئی چیف جسٹس کی بات نہیں مانے گا،

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

  • وزیراعظم شہبازشریف اور چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کی ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف اور چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کی ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف اور چین کی سٹیٹ کونسل کے وزیراعظم جنا ب لی کی چیانگ کی آج نئے عالمی مالیاتی معاہدے سے متعلق سربراہی اجلاس کے موقع پر پیرس میں ملاقات ہوئی۔ رواں سال مارچ میں وزارت عظمی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد وزیراعظم لی کی چیانگ کی وزیراعظم شہبازشریف سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

    ملاقات پاکستان اور چین کی سدابہار آزمودہ کوآپریٹو شراکت داری کی روایتی خیرسگالی اور پرجوش ماحول میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران دونوں قائدین نے پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں اور دوطرفہ معاشی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی۔ کلیدی موضوعات پر چین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان کی جغرافیائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی ومعاشی ترقی کے لئے چین کی پختہ ومسلسل حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر کے متنازعہ خطے میں جی 20 کا اجلاس بلانے کی چین کی طرف سے بھرپور مخالفت اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قانون کی بالادستی کے چین کے اصولی موقف کا مظہر ہے۔

    وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہاکہ پاکستان اور چین کی دوستی منفرد اور دونوں ممالک کی عوام کے درمیان موجود گہرے برادرانہ جذبات پر استوار ہے جو وقت اور حالات کی تبدیلی سے بے نیاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ قریبی ہمسایہ اور آئرن برادر پاکستان چین کی ہمسایوں سے متعلق سفارت کاری میں خصوصی درجہ رکھتا ہے۔ چین کے وزیراعظم نے کہاکہ چین پاکستان کے کلیدی مفادات کے تحفظ، معاشی ترقی اور پاکستان کے عوام کی خوش حالی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    پاکستان میں سی پیک منصوبوں کی مستحکم انداز میں ترقی کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں اطراف نے اس امر پر اتفاق کیا کہ سی پیک پاکستان کی سماجی ومعاشی ترقی میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے مل کر کام جاری رکھنے کے پختہ عزم کا اظہار کیاگیا۔ دونوں قائدین نے رواں سال سی پیک کی کامیابی کے دس سال مکمل ہونے کی خوشی بھرپور انداز میں منانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستان اور چین کے درمیان اعلی سطح کے رابطوں کی رفتار برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے چین کے اپنے ہم منصب کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی جو وزیراعظم لی کی چیانگ نے قبول کرلی۔

    وزیراعظم شہبازشریف کی جرمن چانسلر سے بھی ملاقات ہوئی،

    وزیراعظم شہبازشریف کی جرمن چانسلر اولاف شولز سے ملاقات ہوئی دونوں قائدین نے نئے عالمی مالیاتی معاہدے سے متعلق سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی وزیراعظم نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے جرمنی کی امداد پر شکریہ ادا کیا ،وزیراعظم نے 163 ملین یورو کی معاشی معاونت کی فراہمی پر بھی جرمن حکومت کا شکریہ ادا کیا ،وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے 27 ملین یورو کی اضافی رقم سیلاب متاثرین کی مدد اور خوراک کی فراہمی کے لئے استعمال ہوئی، جرمنی کی ترقی کو ہمیشہ ایک مثال کے طورپر پیش کیا ہے، جرمنی نے جس طرح محنت سے اپنا مقام بنایا ہے، وہ ترقی پزیر ممالک کے لئے ایک عمدہ مثال ہے، ذاتی طورپر جرمنی کی ترقی، جرمن قوم کی محنت اور عزم کا گرویدا ہوں،امید کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے خطرات اور معاشی دباﺅ جیسے مسائل میں جرمنی ترقی پزیر ممالک کی آواز بنے گا،ترقی پزیر ممالک سے مالیاتی دباﺅ میں کمی سے وہاں کے عوام کو ریلیف دینے میں مدد ملے گی،

    وزیراعظم نے پاکستان میں جرمن کمپنیوں اور این جی اوز کی خدمات کو سراہا ،دونوں قائدین نے پاکستان اور جرمنی میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا،جرمن چانسلر نے وزیراعظم شہبازشریف کے لئے خیرسگالی کا پیغام میں کہا کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی، جرمن چانسلرنے پاکستان کی حکومت اور عوام کے لئے نیک تمناﺅں کا اظہارکیا

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    بلاول بھٹو زرداری کی روضہ امام حسین آمد

  • نومئی واقعات،فوجی عدالتوں میں کن افراد کا ٹرائل؟ فہرست باغی ٹی وی کو موصول

    نومئی واقعات،فوجی عدالتوں میں کن افراد کا ٹرائل؟ فہرست باغی ٹی وی کو موصول

    نو مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، فوجی تنصیبات پر بھی حملے کئے گئے جس کے بعد ان حملوں میں ملوث شرپسندوں کیخلاف ملٹری کورٹ میں مقدمے چلانے کا فیصلہ کیا گیا،

    اگرچہ تحریک انصاف احتجاج کر رہی اور سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹ میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہو رہی ہے تا ہم اب ملٹری کورٹس میں کن کن افراد کے مقدمے چلیں گے، انکی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، ملٹری کورٹس میں 59 افراد کا کیس چلے گا جو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں،

    باغی ٹی وی کی ملنے والی فہرست کے مطابق نومئی کو ہنگامہ آرائی کرنیوالے شرپسندوں میں سے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 48 شرپسندوں کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلے گا، پنڈی سے آٹھ، میانوالی سے پانچ، فیصل آباد سے آٹھ اور گوجرانوالہ سے دس شرپسندوں کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گئے، فوجی عدالت میں ٹرائل کے لئے بھجوائے گئے ناموں میں تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید کے داماد اکرم عثمان، عباد فاروق کا نام بھی شامل ہے، سترہ افراد کے خلاف سرور روڈ تھانے میں مقدمہ درج ہے جنکا کیس فوجی عدالت منتقل کیا گیا،جن میں ارسلان، عمیر ، رحیم،ضیا، وقاص،رئیس، فیصل ،بلاول،فہیم،میاں محمد اکرم، حاشر خان،حسن شاکر،عبدالہادی،میاں عباد فاروق،ارزم جنید شامل ہیں

    Total 59 cases have been referred to military courts so far.

    Total 59 cases have been referred to military courts so far.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، کل بھی ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • ظلم یہ کرتے ہیں گالیاں ہم کھاتے ہیںِ، کیا ہم اس لیے حکومت میں آئے تھے؟ نور عالم خان

    ظلم یہ کرتے ہیں گالیاں ہم کھاتے ہیںِ، کیا ہم اس لیے حکومت میں آئے تھے؟ نور عالم خان

    قومی اسمبلی اجلاس کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کی صدارت میں ہوا

    پببلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس ہے صرف دو وزیر آتے ہیں، گرمی میں عوام کا بڑا حال ہے نہ بجلی کا وزیر آ رہا ہے نہ پانی کا، پورے ملک میں بجلی کا بحران ہے،ظلم یہ کرتے ہیں گالیاں ہم کھاتے ہیںِ، کیا ہم اس لیے حکومت میں آئے تھے؟ بجلی کا نرخ تو روز بڑھ رہا ہے لیکن لوگوں کو بجلی نہیں دی جا رہی،کیا پشاور، پنجاب، بلوچستان، لاڑکانہ اور سکھر کے عوام پاکستانی نہیں ہیں، ہم بے عزتی کے لیے یہاں نہیں بیٹھے ہیں، لوڈ شیڈنگ کرنی ہے تو وقت مقرر کریں، اس معاملے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے ،

    نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ملک میں درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری چل رہا ہے، مہنگی بجلی تو عوام کو دی جائے، خدارا ہوش کے ناخن لیں اور معاملے کو حل کریں، لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور سوئی گیس کی فراہمی کنٹرول سے باہر ہے،جمعے کے دن 12 سے 2 بجے لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیئے، تاکہ لوگ جمعہ کی نماز تو سکون سے پڑھ سکیں ،ڈپٹی سپیکر صاحب اس پر رولنگ دیں،

    اندیشہ ہے کہ ایک متنازعہ بینچ کا فیصلہ بھی متنازعہ ہو گا،رانا ثناء اللہ
    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے انصاف پر مبنی ہوں، انصاف ہوتے نظر آنا چاہئیے۔نامزد چیف جسٹس نے بینچ کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا ،بینچ مقدمہ سننے اور فیصلہ سننے کے لئے بضد ہے۔7 رکنی بینچ الیکشن کیس میں 3 ارکان تک آ گیا ۔ہو سکتا ہے یہ بینچ بھی 9 سے کم ہو کر 4 تک آ جائے۔ اندیشہ ہے کہ ایک متنازعہ بینچ کا فیصلہ بھی متنازعہ ہو گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے آپ کو بینچ سے الگ نہیں کیا۔اس کے باوجود دوبارہ بینچ بنا دیا گیا۔بابا رحمتے اس وقت نفرت کا نشان بن چکا ہے۔ پارلیمان کی کمیٹی جب اس کے بیٹے کو بلاتی ہے تو حکم امتناعی جاری کیا جاتا ہے۔ موجودہ بحران کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری عدالتیں انصاف نہیں کر رہیں۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے ججز سیاست کر رہے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وحشیانہ طریقے سے پنجاب کو لوٹا۔ اگر آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کسی کا ٹرائل نہیں ہو سکتا تو کالعدم قرار دیں۔ یہ آرٹیکل اس لئے موجود ہے کہ دفاعی تنصیبات پر حملے کی صورت میں ٹرائل ہو۔قومی اسمبلی اجلاس میں نماز جمعہ کے لئے 3 بجے تک وقفہ کر دیا گیا

    ایک شخص نے نوجوان ذہنوں میں زہر بھر دیا نفرت، انتقام، بداخلاقی، اداروں کے خلاف بے اعتباری کا، شائستہ پرویز
    ممبر قومی اسمبلی شائستہ پرویز نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا تاریک دن تھا، ایک جتھے نے جناح ہاؤس اور کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر دھاوا بولا،میں بطورِ پاکستانی اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہوں،اس دن پاکستان میں جو ہوا وہ ایک شخص کی غیر زمہ دارانہ تقریروں کا نتیجہ تھا جس پر پوری قوم شرمسار ہے،یہ فوج ہماری ہے، اور افواجِ پاکستان پر ہمیں فخر ہے،ہماری فوج وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دیتی ہے،یہ ہماری ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی اور بیٹیوں کے سہاگ ہیں، جو وطن کی راہ میں قربان ہوتے ہیں،ہم ان کی قربانیوں کے قرض دار ہیں،ایک شخص نے نوجوان ذہنوں میں زہر بھر دیا نفرت، انتقام، بداخلاقی، اداروں کے خلاف بے اعتباری کا،ہمیں ہنگامی بنیاد پر اقدامات کرنے ہوں گے اور اس کا آغاز تعلیمی اداروں سے کرنا ہوگا، تربیت پر توجہ دینی ہوگی، وسائل مہیا کرنے ہوں گے تاکہ اس کا سدباب ہوسکے،ہمارا نعرہ تعلیم سب کے لیے کے بجائے معیاری تعلیم سب کے لیے ہونا چاہیے جس کے لیے وسائل کی دستیابی اور فیوچر لائن آف ایکشن کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے یوتھ پروگرام قابل ستائش ہے ۔ قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا نظام فرسودہ اور پرانا ہو چکا ہے،سرمایہ کاری میں ترقی کے لئے مسائل کی نشاندھی پہلی شرط ہے ۔

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

  • ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں لارجر بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے تحریری دلائل بھی جمع کروائے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میری درخواست باقی درخواستوں سے کچھ الگ ہے میں اس پر دلائل نہیں دوں گا کہ سویلین کا ٹرائل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس میں نہیں ہو سکتایہ بھی نہیں کہیتا کہ ملٹری کورٹس کے زریعے ٹرائل سرے سے غیر قانونی ہے، میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ 9 مئی کو کیا ہوا کیا نہیں،میرا مدعا تمام ملزمان میں سے چند کے ساتھ الگ سلوک ہوا،ایک ایف آئی آر میں ساٹھ ملزمان ہیں تو پندرہ ملٹری کورٹس کو دیے جاتے ہیں ، ایف آئی آر میں جو الزامات ہیں ان پر تین الگ طرح کے ٹرائل ہو سکتے ہیں ،میرا دوسرا نقظہ فیئر ٹرائل کا ہے،ایک الزام پر ٹرائل کے بعد کچھ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہو گا اور کچھ کے پاس نہیں سویلین کے ٹرائل کی ماضی میں مثالیں ہیں ، فوجی عدالتوں میں فوج داری ضابطے کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی ، اس کو چیلنج نہیں کیا،میں نے کسی ملزم کی بریت کو چیلنج نہیں کیا، فوج کے حوالے ملزمان کو کرنے کے عمل میں مخصوص افراد کو چنا گیا،آرمی ایکٹ قانون کو بدنیتی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے،عدالت میں جا کر کہا گیا 15 لوگوں کو حوالے کر دیں،جن افراد کا انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹرائل ہو گا ان کو اپیل کا حق ملے گا،جن کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہو گا انہیں اپیل کا حق حاصل نہیں ،

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو آپ کرائم رپورٹ دکھا رہے ہیں اس میں تو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں ہیں،9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ سے متعلق دفعات کب شامل کی گئیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل کی بنیاد یہ ہے کہ کس کے پاس اختیار ہے کہ وہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل کرے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیشل سیکورٹی کے باعث کہا گیا کہ یہ ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا، سٹیٹ سیکورٹی کے حدود میں جائینگے تو پھر ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہونے کا ذکر ہے، جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو کب شامل کیا گیا؟

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جن لوگوں کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا ان پر الزامات کی نوعیت الگ ہو،آپ صرف مفروضہ پر کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کیخلاف کوئی شواہد موجود نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ آپ عمومی بحث پر جا رہے ہیں یہ بھی علم نہیں ان لوگوں کو کس کس شق کے تحت ملٹری کورٹس بھجا گیا ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فرض کریں ان کیخلاف شواہد بھی موجود ہیں تو دکھاوں گا کہ انہیں کیسے ملٹری کورٹس نہیں بھجا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل کے متعلقہ نکات تک محدود رکھیں،آج کا دن درخواست گزاروں کیلئے مختص ہے بے شک تین بجے تک دلائل دیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ ملٹری کے اندر کام کرنے والے بندہ ہو تو ہی آفیشیل سکرٹ ایکٹ لگے گا، ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ وہ کون سا جرم ہو گا جن کے مقدمات ملٹری کورٹس کونہیں یجوائے جائیں گے ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں گرفتار ملزمان آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت نہیں آتے ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ مقدمات میں کب شامل کیا گیا ، جسٹس نقوی نے کہا کہ اگر مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ شامل ہی نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ان ملزموں کی حوالگی مانگ سکتا ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی سیشن 2ڈی (1) (11) کے تحت سویلینز کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہو سکتا ہے ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سادہ سا سوال ہے کس طریقہ کار کے تحت یہ اختیار استعمال ہوتا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹس میں کسی کو ملزم ٹھہرانے کا کیا طریقہ کار ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ممنوعہ علاقے عمارات اور کچھ سول عمارات پر بھی ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ ابھی تک بنیادی پوائنٹ ہی نہیں بتا سکے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات ایف آئی آرز میں کب شامل کی گئیں،اگر ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات ہی شامل نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ملزمان کی حوالگی مانگ سکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ سے دو سوال پوچھ رہے ہیں اس پر آئیں،آپ پراسس بتائیں آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہو گا،آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،عدالت نے کیس کی سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کر دیا۔

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ٹرائل کیسے شروع ہوتا ہے،اس کا جواب آرمی رولز 1954 میں موجود ہے،رول 157 کی سب سیکشن 13 میں طریقہ کار درج ہے،یہاں 9 اور 10 مئی کو واقعات ہوتے ہیں اور 25 مئی کو حوالگی مانگ لی جاتی ہے،یہاں تو ہمیں حقائق میں جانے کی ضرورت بھی نہیں،ملزمان کی حوالگی مانگنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چارج سے پہلے انکوائری کا ہم اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے،

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل الگ نوعیت کے حالات میں ہو گا،آپ یہ بھی پھر واضح کریں کہ وہ الگ نوعیت کے حالات کیا ہوں گے،کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ محدود معاملات پر ہی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ چیئرمین نیب اختیارات کیس میں 2003 کا ایک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،عدالت نے کہا تھا عام عدالت سے کیس تب تک نیب کورٹ نہیں جائے گا جب تک چیئرمین کے صوابدیدی اختیارات سٹرکچر نہیں ہوتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آفیشل سکریٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل صرف مجسٹریٹ نے کیا ہو؟فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں اس حوالے سے فیصلوں کی نظیریں پیش کروں گا،وکیل احمد حسین نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا سویلین جن کا فوج سے تعلق نہیں ان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ میرا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،ہمارا اعتراض یہ بھی نہیں کہ لوگون کے خلاف کارروائی نہ ہو ،ہمارا نقطہ فورم کا ہے ،کہ کارروائی کا فورم ملٹری کورٹس نہیں،سوال یہ ہے سویلین کے کورٹ مارشل کی آرمی ایکٹ میں گنجائش کیا ہے؟ آرمی ایکٹ کا مقصد ہے کہ آرمڈ فوسز میں ڈسپلن رکھا جائے،جن افراد کو مسلح افواج کی کسی کمپنی وغیرہ میں بھرتی کیا گیا ہو ان پر ہی اس ایکٹ کا اطلاق ہو گا،

    انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏جب کور کمانڈر ہاؤس فوجی تنصیبات میں آتا ہی نہیں تو فوجی ٹرائلز کس بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ بھی قانون میں ہے کہ اگر فوج سویلین کی حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے تو ریفرنس وفاقی حکومت کو بھیجا جاتا ہے، وفاقی حکومت کی منظوری پر حوالگی کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کب سویلینز کی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی منظوری دی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ‏کیا ہمیں مکمل تفصیلات حاصل ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوج کیسے کسی کو ملزم قرار دیتی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں ہمارے سامنے کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق سامنے نہ بھی ہوں تو بھی یہ کیس بادی النظر کا بنتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہنے کہا کہ ‏آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان ملزمان پر خلاف بظاہر کوئی الزام نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ میں یہ کہہ رہا ہوں چارج کرنے سے پہلے سخت انکوائری ہونی چاہیے،9 مئی کے ملزمان سے متعلق سخت انکوائری پہلے ہونی چاہیے سویلین ملٹری کورٹ نہیں جا سکتا،سویلینز کا ٹرائل سول عدالتوں میں ہوتا ہے،انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ‏دوسرے کیسز میں آرمی ایکٹ سے متعلق کیا پرنسپل سیٹ کیا گیا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بہت کم ایسا ہوا کہ سول کورٹس کو بائی پاس کیا گیا ہو، جسٹس عائشہ ملک‏ نے کہا کہ کن وجوہات کی بنا پر سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت کیا جاتا رہا ہے؟ یہ بتا دیں کہ کون سے غیر معمولی حالات میں سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے؟ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آپ کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہونے والا جرم ضروری نہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت ہوا ہو،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کن جرائم پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ لگتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں ملزمان کی فوجی عدالتوں کو حوالگی کی درخواست نہیں دی جا سکتی،‏وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہو گئے

    آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،وکیل فیصل صدیقی
    سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین کے دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریمانڈ آرڈر میں ذکر نہیں ملزمان کی حوالگی کیسے اور کن شواہد پر ہوئی،ملزمان کے ریمانڈ میں بنیادی چیز مسنگ ہے، جسٹس منصور علی‏ شاہ نے کہا کہ آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ درخواستیں سپریم کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کی حد تک آپ کے دلائل مکمل ہیں ،فیصل صدیقی‏ نے کہا کہ جی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے تک دلائل مکمل ہیں اب آگے چلتے ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا سویلینز کا جرم آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہے یا نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی قانون میں جرائم آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے بالکل مختلف ہیں، جسٹس منیب اختر‏ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ ہم سویلینز کو ملٹری کورٹ کے حوالے نہیں کر رہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر کیس کسی آرمی آفیشل پر ہوتا تو بات اور تھی اب کورٹ مارشل کے علاوہ آپشن نہیں،آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،

    وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا مقصد افواج میں ڈسپلن برقرار رکھنا ہے، سویلینز کا کورٹ مارشل کر کے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کیا جا رہا ہے، جواد ایس خواجہ کے وکیل نے لارجر بنچ بنانے کی استدعا کر دی،کہا اگر عدالت سمجھتی ہے کہ میرے کیس میں ٹھوس وجوہات ہیں تو لارجر بنچ بنا دیں، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے، ابھی نماز کیلئے بریک لیں گے اور ڈیڑھ بجے واپس آئیں گے،وکیل نے کہا کہ ،یہ بہت اہم کیس ہے اس سے ایک مثال قائم ہوگی،عدالت نے کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہوگا تو دیکھیں گے آپ بات تو کریں،

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت، وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ کورٹ مارشل سے بنیادی حقوق ختم ہو جاتے ہیں، آرٹیکل 10 کے مطابق شفاف ٹرائل کا حق ہر شخص کو ہے. آرٹیکل 25 ہر شہری کی عزت نفس کی ضمانت دیتا ہے، کورٹ مارشل سے عزت نفس مجروح ہوتی ہے کورٹ مارشل کیلئے ایک آفیسر کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جاتی ہے

    دوران سماعت خواجہ احمد حسین نے کلبھوشن کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کلبھوشن کا کورٹ مارشل کرکے سزا دی گئی تھی، عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے سزا کیخلاف اپیل کی، پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن کو سزا پر عدالتی نظرثانی کا قانونی حق حاصل ہے،عالمی عدالت انصاف نے عدالتی نظرثانی کو با ضابطہ اپیل طرز پر ہونے کا موقف تسلیم نہیں کیا، عالمی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کو کلبھوشن کیلئے قانون سازی کرنا پڑی، فوجی عدالتوں میں موجود ججز آرمی افسر اور ادارے کے ماتحت ہوتے ہیں ،خفیہ مقام پر ہونے والے ٹرائل کی قانون میں گنجائش نہیں، شفاف ٹرائل کیلئے آزاد عدلیہ کا ہونا لازمی شرط ہے، فوجی عدالت کے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ کا نظرثانی اختیار محدود ہوتا ہے، آئینی طور پر عدالت وہی ہوسکتی ہے جو آرٹیکل 175 میں بیان کی گئی، آرٹیکل 175 میں کسی فوجی عدالت کا ذکر نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں فوجی عدالتوں اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی توثیق کر چکی، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ سال 2015 میں قائم فوجی عدالتوں کو دو سال کا آئینی تحفظ دیا گیا تھا، مخصوص مدت کیلئے قائم فوجی عدالتوں کی توثیق کی گئی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملک حالت جنگ میں ہے، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ معلوم نہیں اس وقت حالت جنگ میں ہونے کے معاملے پر وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے، عدلیہ کی موجودگی میں کسی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، موجودہ کیس میں فوجی عدالتوں کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی،کلبھوشن کیلئے اپیل کے حق کا نیا قانون بھی بنایا گیا تھا، 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم فوجی عدالتوں کا دورانیہ مختصر تھا

    آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی لیے آپ موجودہ کیس کو21 ویں آئینی ترمیم سے الگ قرار دے رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی، ہم کسی قانون کو چھیڑے بغیر اس کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ وکیل احمد حسین نے کہا کہ آرمی کی سینئر کمانڈ نے پریس ریلیز میں دو نتائج اخذ کیے ، پریس ریلیز میں کہا گیا 9 مئی کو ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا گیا،پریس ریلیز میں کہا گیا حملے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، یہ نتائج پہلے سے اخذ کرنے کے بعد وہ خود اس معاملے کے جج نہیں ہوسکتے ،

    اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،جسٹس منیب اختر
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کون سے سویلینز کی بات ہو رہی ہے؟ سویلینز تو ریٹائرڈ فوجی افسران بھی ہیں، قانون میں یہ کیوں درج ہے کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالت کے سامنے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ زبردستی لایا جا رہا ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں بنیادی حقوق کو معطل کیا گیا ہے، سویلین کوبنیادی انسانی حقوق کے تحت تحفظ ہرصورت حاصل ہے، وکیل نے کہا کہ آرمی افسران کے بنیادی حقوق کا معاملہ عدالت نہیں دیکھ سکتی لیکن سویلینز کا دیکھا جا سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،مخصوص حالات میں آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،ایمرجنسی میں تو لوگوں کی نقل وحرکت بھی روک دی جاتی ہے، آئین تو نقل و حرکت اورآزادی کا حق دیتا ہے، پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تفریق کیسے ہوگی کہ آرمی ایکٹ صرف فوج پر لاگو ہوتا ہے، آرمی ایکٹ کے مطابق اس کا اطلاق سویلینز پر بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ سویلینز میں تو تمام شہری آتے ہیں، کیا سب پر آرمی ایکٹ لاگو ہو سکتا ہے؟ آرمی ایکٹ ان سویلینز پر لاگو ہوگا جو فوج سے تعلق رکھتے ہوں، فوج میں صرف فوجی نہیں سویلین بھی ہوتے ہیں، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ اصولی طور پر تو اُن سویلینز کا ٹرائل بھی فوجی عدالتوں میں نہیں ہونا چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عام شہریوں کو بنیادی حقوق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے؟ خواجہ احمد حسین نے کہا کہ موجودہ کیس میں کسی ملزم کا تعلق فوج سے نہیں ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی جیسے معاملات میں فوج براہ راست متاثر ہوتی ہے،کسی حاضر سروس فوجی افسر کو قومی سلامتی کے خلاف سازش کیلئے اکسانا سنگین جرم ہے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے،وکیل احمد حسین نے کہا کہ اس صورت میں سویلین کیخلاف کاروائی ہو سکتی ہے جب وہ بیرونی سازش کا حصہ ہوں،سویلینز کا ملک کے خلاف گٹھ جوڑ ثابت ہو جائے تو کاروائی ہوسکتی ہے، وقت آچکا ہے کہ کھل کر حقوق کیلئے آواز بلند کی جائے،وکیل احمد حسین سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ کہنا کہ سویلین کا کبھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا درست نہیں ہے، کوئی سویلین فوجی کو بغاوت کیلئے اکسائے تو ملٹری کورٹس کاروائی کر سکتی ہیں،دیکھنا ہوگا کہ سویلینز کو فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لانے کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے کس بنیاد پر مقدمات فوجی عدالت منتقل کیے ،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، پشاور میں چار لوگ زیر حراست ہیں، پنجاب میں ایم پی او کے تحت اکیس افراد گرفتار ہیں، انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 141 افراد گرفتار ہیں،اسلام آباد پولیس کی تحویل میں کوئی شخص گرفتار نہیں ہے،سندھ میں 172 افراد جوڈیشل تحویل میں ہیں، 345 افراد گرفتار ہوئے اور ستر رہا ہوئے، 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، فوج کی تحویل میں کوئی خاتون اور کم عمر نہیں ہیں، کوئی صحافی اور وکیل فوج کی تحویل میں نہیں ہیں،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • غیر قانونی حراست ، پولیس اہلکاروں و ملوث افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

    غیر قانونی حراست ، پولیس اہلکاروں و ملوث افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسلام آباد پولیس کیخلاف شہریوں کو اغوا کرکے تھانے میں رکھنے اور بھتہ وصولی کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس بابرستار نے خاتون کے بیٹے، پوتے کو غیرقانونی حراست میں رکھنے کے کیس کی سماعت کی ، ایف آئی اے کی رپورٹ نے پولیس اہلکار کے شہریوں کے اغوا اور بھتہ وصولی کی تصدیق کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ غیرقانونی حراست میں رکھے لوگ کہاں ہیں؟ آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق وہ لاہور جیل میں ہیں ، لاہور پولیس نے گرفتار کیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے کی رپورٹ دیکھی ہے؟آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ تینوں ملزموں کا کریمنل ریکارڈ ہے، ان کی شناخت پریڈ بھی ہو چکی ہے،مجھے تھوڑا وقت دے دیں، میں کیس دیکھ کر عدالت کو آگاہ کروں گا۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے کو آپ کے سی سی ٹی وی سے نظر آ سکتا ہے تو آپ کو کیوں نظر نہیں آ سکتا ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کے اپنے ایس ایس پیز ان غیرقانونی اقدامات کو کوراپ کررہے ہیں آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ اگر ہم کوراپ کر رہے ہوتے تو ہم ایف آئی اے کو ڈیٹا نہ دیتے

    عدالت نے استفسار کیا کیسے حراست میں لیا؟ کیسے لاہور پولیس کے حوالے کیا؟ ایک بندے کو اٹھاتے بھتہ مانگتے ہیں ، اگر یہ کرنا ہے تو سب کچھ ختم کردیتے ہیں شہریوں کے پرائیویٹ معاملات کو کیسے آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں ؟جسٹس بابر ستار نے پولیس کے کنڈیکٹ پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کب سے عدالتیں لگا لی ہیں یہ کرپشن میں ملوث ہیں تو ایف آئی اے کا کیس بنتا ہے وہ مقدمہ درج کریں گے، یہ بھتے غیرقانونی حراست میں رکھنے کا کیس، معصوم لوگوں کو اٹھا کر یہاں لا رہے ہیں، فیصل آباد جاتے ہیں لوگوں کو اٹھاتے ہیں، موٹروے سے لے آتے ہیں یہ کیسے ہوتا ہے سارا کام؟ اسلام آباد پولیس سے کون کون ملوث ہے؟ چین کیا ہے؟ کچہری سے جب لوگ تھانے آتے ہیں تو آپ چھپا لیتے ہیں پھر انہی کی فیملی سے ملاقات کراتے ہیں آپ کے ایس ایس پی نے جھوٹی رپورٹ دی عدالت کیساتھ جعل سازی کی

    عدالت نے پولیس کے کیسز کو ڈی جی ایف آئی اے کو دیکھنے کی ہدایت کردی عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے افسران عدالت سے مستقل جھوٹ بول رہے ہیں مس لیڈ کررہے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے کیس میں ایف آئی اے کو پولیس اہلکاروں و ملوث افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ غیرتسلی بخش قرار دیدی اور ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کا حکم نہ دینے کی آئی جی کی استدعا مسترد کردی، عدالت نے کہاکہ بادی النظر میں ڈی ایس اپی سی آئی اے، اے سی آئی اغوا، غیرقانونی حراست میں ملوث ہیں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • افسوس ، ہم پانچوں افراد کھو چکے، آبدوز بنانیوالی کمپنی کا بیان

    افسوس ، ہم پانچوں افراد کھو چکے، آبدوز بنانیوالی کمپنی کا بیان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بحرواقیانوس میں ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کیلئے جانے والی آبدوز کے سیاحوں میں شامل پاکستانی شہری شہزادہ داؤد کے خاندان نے بھی اپنے پیاروں کی موت کی تصدیق کی ہے

    شہزادہ داؤد اور سلیمان کی آخری رسومات کے‌ حوالہ سے جلد بتا دیا جائے گا
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے،حسین اینڈ کلثوم داؤد فیملی نے شہزادہ داؤد اور سلیمان داؤد کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیارے بچے اوشن گیٹ کی ٹائٹین آبدوز پر موجود تھے جو زیرِ سمندر غرقاب ہوئی ہم ٹائٹین آبدوز میں موجود دیگرمسافروں کے خاندانوں سے بھی اظہار افسوس کرتے ہیں شہزادہ داؤد اور سلیمان کی آخری رسومات کے‌ حوالہ سے جلد بتا دیا جائے گا،دوسری جانب شہزادہ داؤد فیملی کے افراد میں شامل شہزادہ داؤد کی اہلیہ اور بیٹی ریسکیو کے مقام پر موجود رہے

    سلیمان کی موت سے اسکے یونیورسٹی کے دوست بھی افسردہ
    شہزادہ داؤد کی بڑی بہن عزم داؤد کا کہنا ہے کہ انکا بھتیجا سلیمان ٹائٹینک کی باقیات دیکھنے کے سفر سے خوفزدہ تھا وہ صرف فادرز ڈے پر والد کو خوش کرنے کی خاطر اس سفر میں گیا تھا،سلیمان کی موت سے اسکے یونیورسٹی کے دوست بھی افسردہ ہو گئے ہیں

    آبدوز ٹائٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کے آثار تقریباً ختم

    لاپتہ آبدوزکی کمزورسیفٹی پرماضی میں خدشات کا اظہارکیاگیا تھا،برطانوی اخبار کا انکشاف

    20 سال سے جل پری کا روپ دھا رکر پانیوں میں سفر کرنےوالی خاتون

    دوسری جانب امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نیوی کو ٹائٹین کی تباہی کا اندازہ اتوار سے تھا اور نیوی نے زیر سمندرخفیہ نظام سے دھماکا ریکارڈ کیا تھا، یہ ریکارڈنگ سب میرین کی نقل وحرکت کی نگرانی کے نظام نے ریکارڈ کی امریکی نیوی افسر نے بتایا کہ یہ ریکارڈنگ ٹائٹین کے غائب ہونے کے قریبی علاقے سے ریکارڈ ہوئی اور ہم نے یہ معلومات کوسٹ گارڈز کو فراہم کر دی تھیں

    افسوس! ہم پانچوں افراد کو ہمیشہ کیلئے کھو چکے
    ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کیلئے جانے والی بدقمست آبدوز ٹائٹن کو بنانے والی کمپنی اوشین گیٹ نے باضابطہ بیان جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افسوس! ہم پانچوں افراد کو ہمیشہ کیلئے کھو چکے ہیں۔ کمپنی اوشین گیٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب ہمیں یقین ہے کہ ہم ہمارے سی ای او اسٹاکٹن رش، شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد، ہیمش ہارڈنگ اور پال ہنری نارجیولیٹ کو کھو چکے ہیں۔ کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام لوگ سچے ایکسپلورر تھے جنہوں نے مہم جوئی کا ایک الگ جذبہ اور دکھایا۔ اس المناک وقت میں ہمارے دل ان پانچوں افراد اور ان کے خاندان کے ہر فرد کے ساتھ ہیں۔ ہمیں جانی نقصان کا غم و دکھ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے ملازمین کے لیے انتہائی افسوسناک وقت ہے جو اس نقصان پر افسردہ اور غمزدہ ہیں۔ ہم احترام کے ساتھ دعا گو ہیں کہ اس انتہائی تکلیف دہ وقت میں ان خاندانوں کی رازداری کا احترام کیا جائے۔

    پانچ افراد کی موت پر ترجمان دفتر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے اظہار افسوس کیا ہے ۔سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے

    آبدوز حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پربلاول کا اظہار افسوس
    سابق صدر آصف علی زرداری نے آبدوز حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے،آصف علی زرداری نے شہزاد داؤد اور سلمان داؤد سمیت دیگر افراد کے جانبحق ہونے پر اظہار افسوس کیا،آصف علی زرداری نے شہزاد داؤد اور سلمان داؤد کے سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہارکیا

    پی پی پی چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹائٹن آبدوز حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار رنج و غم کیا،پی پی پی چیئرمین نے حادثے میں جانبحق پاکستانی شہریوں شہزادہ داؤد اور سلیمان داؤد اور دیگر افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ افسوسناک حادثے پر ہر انسان دکھی ہے دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ مرحوم شہزادہ داؤد اور سلیمان داؤد کو جنت الفردوس اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حادثے میں فوت ہونے والے دیگر افراد کی ابدی زندگی میں سکون کی دعا کی ہے

  • موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے منصفانہ تقسیم کی پالیسی کی ضرورت ہے. وزیر اعظم

    موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے منصفانہ تقسیم کی پالیسی کی ضرورت ہے. وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے منصفانہ تقسیم کی پالیسی کی ضرورت ہے جبکہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے انصاف، شفافیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے پالیسی مرتب کرنا ہو گی اور اگر آج عملی اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والا وقت خطرناک ہو گا، پاکستان کو سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اربوں ڈالر درکار ہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ہم نے کروڑوں ڈالر خرچ کئے جس سے ملکی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے، پاکستانی قوم نے سیلاب جیسی قدرتی آفات کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔

    نئے عالمی مالیاتی معاہدہ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ”نئے زد پذیر چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے دستاویزات اور فنانسنگ کے ساتھ جدت“ کے موضوع پر چوتھی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس اہم معاملہ پر سربراہ اجلاس بلانے پر فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی قیادت قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب سے متاثر ہوا، اس سے ہمارا زندگی گزارنے کا انداز متاثر ہوا، 3 کروڑ 3 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے، کئی ملین ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، بچوں سمیت 1700 افراد جاں بحق ہوئے، پانچ لاکھ مویشی بہہ گئے، 20 لاکھ گھروں کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا، اتنے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے کے باوجود تمام فریقوں نے جامع حکمت عملی اختیار کی،ہمیں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بحالی کیلئے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    جعلی افغان پاسپورٹ کے ذریعے اٹلی جانے والا مسافر گرفتار
    رابعہ سلطان جناح ہاوس پر حملہ کی تفتیش میں پولیس کو مطلوب تھیں,پنجاب حکومت
    ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع
    سربراہی اجلاس میں دعوت دینے اور پرتپاک میزبانی پروزیراعظم کا فرانسیسی صدر کا شکریہ
    شہباز شریف نے کہا کہ ہم بروقت مدد پر دنیا بالخصوص دوست ممالک کے شکرگزار ہیں تاہم ہم نے اپنے وسائل سے بھی سیلاب متاثرین کی مدد کی جبکہ مزید وسائل کیلئے عالمی سطح پر بھی رابطے کئے۔ہمیں قرضے لینے پڑتے جس سے ہمارے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سیلاب کے باعث شہروں کے شہر ملیامیٹ ہو گئے، دور دراز علاقوں میں خوراک، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی بہت مشکل چیلنج تھا، بعض ممالک کی حفاظت کیلئے بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں لیکن ہزاروں زندگیوں کو بچانے کیلئے بھاری قیمت ادا کرکے قرضہ لینا پڑتا ہے، ہمارے لوگ بہادر ہیں، انہوں نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور موجودہ چیلنجز سے بہادری سے نکلیں گے، ہمارے جنوبی علاقے مسائل کا شکار ہیں۔

  • سویلین کورٹ مارشل؛  وزیر اعظم کو عدالت عظمی نے نوٹس جاری کردیا

    سویلین کورٹ مارشل؛ وزیر اعظم کو عدالت عظمی نے نوٹس جاری کردیا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلین کے کورٹ مارشل کیخلاف آج کی عدالتی کاروائی کا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں وزیر اعظم شہبازشریف، ویر داخلہ رانا ثناءاللہ اور وزیر دفاع خواجہ آصف کو نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ ان کے علاوہ چئیرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے علاوہ ازیں وفاق سمیت چاروان صوبوں اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا گیا ہے.


    واضح رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے اعتراضات کے بعد 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا تھا اور چیف جسٹس نے 7 رکنی نیا بینچ تشکیل دیا تھا جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کا آغاز کیا، چیف جسٹس نے اس بار نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی بینچ کا حصہ بنایا تھا۔

    ان کے علاوہ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی بینچ کا حصہ تھے۔ جبکہ آج سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل روسٹرم پر آئیں میں نے کچھ کہنا ہے، عدالت کو اختیار سماعت آئین کا آرٹیکل 175/2 دیتا ہے، میں اپنی قومی زبان اردو میں بات کروں گا، تعجب ہوا کہ کل رات8 بجے کازلسٹ میں میرا نام آیا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر کوئی بات نہیں کروں گا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل ابھی بنا نہیں تھا کہ 13 اپریل کو سپریم کورٹ کے9 رکنی بینچ نےحکم امتناع دیا، سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل کی سماعت جولائی تک ملتوی کی، سپریم کورٹ رولز پڑھیں کیا کہتے ہیں، آئین سپریم کورٹ کو سماعت کا اختیار دیتا ہے، جج کا حلف کہتا ہےکہ آئین وقانون کے مطابق فیصلہ کروں گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایک قانون ہے، میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل میں بینچ کا حصہ نہیں، کچھ نہیں کہوں گا۔

    ایک رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ایک ازخود نوٹس میرے بینچ میں سماعت کے لیے مقرر ہوا، میں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل184/3 میں رولزبنائے جائیں، اس کے بعد تعجب دکھ اور صدمہ ہوا کہ 31 مارچ کو عشرت علی صاحب نے سرکلر جاری کیا، عشرت علی صاحب نے 31 مارچ کے سرکلرمیں کہا کہ سپریم کورٹ کے 15 مارچ کے حکم کو نظر انداز کریں، یہ وقعت تھی سپریم کورٹ کے فیصلےکی؟ پھرسپریم کورٹ نے6 ممبر بینچ بنا کر سرکلر کی توثیق کی اور میرا فیصلہ واپس لیا، میرے دوست یقیناً مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اس 6 ممبر بینچ میں اگر نظرثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا؟ میں نے 6 ممبر بینچ پر نوٹ تحریرکیا جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنےکے بعد ہٹادیا گیا، چیف جسٹس نے 16 مئی کو پوچھا کہ کیا میں چیمبر ورک کرنا چاہتا ہوں یا نہیں؟ بتاتا ہوں کہ میں نے چیمبر ورک کو ترجیح کیوں دی، ایک قانون بنادیا گیا بینچز کی تشکیل سے متعلق، کسی پر انگلی نہیں اٹھا رہا لیکن میرے پاس آپشن تھا کہ حلف کی پاسداری کروں یا عدالتی حکم پربینچ میں بیٹھوں، میری دانست میں قانون کو مسترد کیا جاسکتا ہے معطل نہیں کیا جاسکتا، مجھ سے جب چیمبر ورک کے بارے میں دریافت کیا گیا تو میں نے 5 صفحات پر مشتمل نوٹ لکھا۔

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مجھے جو درخواست رات گئے موصول ہوئی اس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی بھی درخواست تھی، آج کازلسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست سب سے پہلے مقرر کردی گئی، میں اس بینچ کو "بینچ” تصور نہیں کرتا، میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا، پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل کا فیصلہ کیا جائے، میرا موقف یہ ہے کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجربل کو ٹھکانے نہ لگایا جائے تب تک میں کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا۔

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی الگ ہوگئے

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور تمام درخواستگزاران کے وکلا کو کمیٹی روم بلا لیا،

    سپریم کورٹ میں درخواستوں پر دوبارہ ڈیڑھ بجے بینچ بیٹھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال آج ہی نیا بینچ تشکیل دیں گے

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، منصور علی شاہ شامل جسٹس منیب اختر ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لطیف کھوسہ سنئیر وکیل ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ روسٹرم پر آئیں کچھ کہنا چاہتا ہوں، عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار آئین کی شق 175 دیتا ہے، صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے،ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت سماعت کرونگا، سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ میں یہاں خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ کوئی سیاسی فورم نہیں،حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرونگا، آپ سیاسی بیان باہر جا کر دیں،قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے، اس قانون کے مطابق بنچ کی تشکیل سنئیر ممبران کی ایک میٹنگ سے ہونی ہے کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا، اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا،میرے سامنے آیا کہ حلف کی پاسداری کرکے بینچ میں بیٹھوں یا پہر میں نے حالات کو دیکھ کر چیمبر ورک شروع کیا۔ جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیا تو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا ،اس وجہ سے چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہے ،میرے دوست یقینا مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا،اس چھ ممبر بنچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا،

    سپریم کورٹ کا 9 رکنی بینچ ٹوٹ گیا ، جسٹس قاضی فائز عیسی الگ ہو گئے ،نامزد چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ نہیں ہوتا کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا ، سوال یہ ہے پریکٹس بل پارلیمان اور عدالت کا معاملہ جسٹس صاحب نے پرسنل کیسے بنا لیا ؟ پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے متعلق فیصلہ کرے میں بینچ سے اٹھ رہا ہوں ‘ مگر سماعت سے انکار نہیں کررہا ،میں اس وقت تک کسی بنچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، میں معذرت چاہتا ہوں، ججز کو زحمت دی،میں اس بینچ کو بینچ نہیں تصور کرتا،

    جسٹس طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتا ہوں ‘ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کےخلاف درخواستوں پر فیصلہ کرینگے، اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں، یہ اہم کیس ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں مخلوق خدا کے حق میں فیصلے کے لئے بیٹھے ہیں وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر آپ کیس نہیں سنیں گے تو 25 کروڑ عوام کہاں جائیں گے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کیس سن لیجیئے، میری استدعا ہے قاضی صاحب سے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں ،یہ نہیں ہو سکتا ایک بار میں اپنے حلف کیخلاف ورزی کر دوں ، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اس معاملے میں تمام ججز کیس کو سنیں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اس دفعہ بیٹھے رہیں حلف توڑ کے ، مجھے شرمندہ نہ کریں دونوں وکلا میرے لئے قابل قدر ہیں ،اعتزاز احسن نے کہا کہ گھر کے اندر کشمکش ہے ایسی زبان استعمال نہ کریں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت گھر نہیں بلکہ سپریم کورٹ ہے جو آئین کے تحت چلتی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سینئر جج صاحبان نے بنچ پر اعتراض کیا ہے ، گزشتہ دو سماعتوں پر اٹارنی جنرل نے قانون میں بہتری لانے کا وقت لئے ہوا ہے ،تہ دل سے سب کا احترام ہے آئین کے تحت کیا جو بھی فیصلہ کیا ،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے