Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان وہ فتنہ ہے جو ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے جارہا. رانا ثناءاللہ

    عمران خان وہ فتنہ ہے جو ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے جارہا. رانا ثناءاللہ

    عمران خان وہ فتنہ ہے جو ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے جارہا ہے. رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے بعد عدالت کے مقام پر جانبداری کا سایہ آ گیا، موجودہ صورت حال ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف لے کر جا رہی ہیں۔ جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے خلاف 50 سے 60 ارب خرد برد کا الزام ہے، چیف جسٹس نےعمران خان کےلیےنیک خواہشات کا اظہارکیا، چیف جسٹس نے اپنےمنصب کے شایان شان بات نہیں کی، انصاف کی دھجیاں اڑانےوالےفیصلےعدم استحکام کاباعث بنتےہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ آج جو ہوا اس کے بعد کسی بھی بات کی توقع کی جا سکتی ہے، عدالت کے مقام پر جانبداری کا سایہ آ گیا، ایسے تو فیصلے میز اور عدالت پر نہیں، سڑکوں پر ہوں گے، موجودہ صورت حال ملک کو انارکی اور افراتفری کی طرف کے کر جا رہی ہیں۔

    رانا ثناء اللہ نے مزید کہا ہے کہ فتنے کی شناخت نہ کی گئی تو یہ ملک کو انارکی کے سپرد کر دے گا، فتنے نے ثابت کر دیا وہ ملک میں انارکی اور افراتفری چاہتا ہے، فتنہ ملک کو کسی حادثے سے دو چار کرنا چاہتا ہے، گزشتہ 2 روز میں بھی عوامی ردعمل نہیں آیا، ان کی کال پر کل اسلام آبادمیں نہ لوگ پہنچیں گے نہ عوام پہنچے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کل ہائیکورٹ جانے کی کوشش کرنے والوں کو روکا جائے گا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا عمران کو دیکھ کر خوشی ہوئی، چیف جسٹس نے عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، یہ بات ان کے منصب کے شایان نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انصاف کی دھجیاں اڑانے والے فیصلےعدم استحکام کا باعث بنتے ہیں، آج جو ہوا اس کے بعد کسی بھی بات کی توقع کی جاسکتی ہے.

  • سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام لوگ پُر امن احتجاج کریں، ملک کو نقصان نہ پہنچایاجائے، سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں عمران خان کی گرفتاری کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، دیگر ججز میں جسٹس ا طہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر شریک تھے۔

    پی ٹی آئی کی طرف سے سینئر وکیل حامد خان دلائل دینے سپریم کورٹ پہنچے، گزشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کیخلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے ہونے والی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اسلام آباد ہائیکورٹ سے کل رجوع کریں اور آپ کو عدالت عالیہ کا فیصلہ ہر حال ماننا ہو گا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ آپ نے ورکرز نے سڑکوں پرماحول بنایا، آپ کو دیکھ کر اچھا لگا، عدالت کوکچھ خدشات ہیں، آپ کو ملک میں پرتشددمظاہروں کاعلم ہوگا، یہ شاید سیاسی عمل کا حصہ ہےلیکن امن بحال کرناہوگا، امن بحال ہوگاتوآئینی مشینری کام کرسکےگی، عدالت کی خواہش ہے کہ آپ پرتشددمظاہروں کی مذمت کریں، عدالت ہرشہری کےتحفظ کیلئے بیٹھی ہے۔ امن ہوگاتوہی ریاست چل سکےگی۔ یہ ذمہ داری ہر سیاست دان کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    اسی دوران عمران خان نے کہا کہ تمام لوگ پُر امن احتجاج کریں، ملک کو نقصان نہ پہنچایاجائے، اپنی 27 سال کی جدوجہد میں کارکنوں کو پر امن رہنے کا پیغام دیا ہے۔سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جبکہ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھے ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا، مجھے ڈنڈے مارے گئے، ایسا کسی مجرم کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا، مجھے کبھی پولیس لائن اور کبھی کہیں لے کر پھرتے رہے، مجھے کچھ علم نہیں باہر کیا ہوا نہ مجھے پتا ہے، کمانڈو ایکشن کر کے مجھے سر پر ڈنڈے مارے گئے، کریمنل کی طرح مجھے پکڑا گیا۔ جو میرے ساتھ ہوا اس کا ردعمل توآئےگا، مجھ پر دہشت گردی سمیت کئی مقدمات درج ہیں، میں نے کہا مجھے گرفتار کرنا ہے تو وارنٹ دکھاؤ، مجھ پر 100 سے زائد مقدمات بنائے گئے، ایک پارٹی جو الیکشن چاہتی ہے وہ انتشارکیوں چاہےگی؟ انتشاروہ چاہتےہیں جوالیکشن نہیں چاہتے۔

  • عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار

    عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار

    سپریم کورٹ نے عمران کی کی عدالت سے گرفتاری غیر قانونی قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے عمران خان کو کل اسلام آباد ہائی کورٹ پیش ہونے کا حکم دے دیا ۔عدالت نے کہا کہ جہاں سے معاملہ رکا تھا وہاں سے ہی شروع ہو گا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ جو فیصلہ کرے گا آپ کو ماننا پڑے گا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان کی گرفتاری کے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کو روسٹرم پر بلایا۔ اس دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم وارنٹ کے قانونی یا غیر قانونی ہونے پر بات نہیں کریں گے لیکن آپ کو جس طرح گرفتار کیا گیا وہ غیر قانونی تھا۔

    سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک شخص قانون کی عدالت میں آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود کو قانون کے سامنے سرینڈر کر دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کو دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کل ہی ان کے کیس کی سماعت کرے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ہائیکورٹ جو بھی فیصلہ کرے آپ کو ماننا پڑے گا۔ عدالت نے عمران خان کو فوری طور پر رہا کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

    دوران سماعت چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ بھی ہوا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہر سیاستدان کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان یقینی بنائے، عدالت کی خواہش ہے کہ آپ پر تشدد مظاہروں کی مذمت کریں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں ہائیکورٹ سے اغوا کیا گیا، مجھے ڈنڈے مارے گئے، ایسا تو کسی مجرم کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا، اس کے بعد مجھے نہیں بتایا گیا کہ کیا ہوا، مجھے علم ہی نہیں کہ کیا ہوا ہے

    عمران خان نے احتجاجی مظاہروں پر سپریم کورٹ سے معذرت کر لی عمران خان کا کہنا تھا کہ جو عدالت کہے گی ہر کیس میں پیش ہوں گا، میں معذرت چاہتا ہوں جو کچھ ملک میں ہوا، ایک درخواست ہے مجھے گھر جانے دیں،

  • برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ،پاکستانی اور بھارتی ٹیم آگے

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ،پاکستانی اور بھارتی ٹیم آگے

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ پی سی ہوٹل لاہور میں جاری ہے

    کل شام تک ہونیوالے میچز میں دو کیٹگریز میں پاکستان کی ٹیمیں اور دو کیٹگریز میں بھارت کی ٹیم آگے تھی، آج اور کل جمعہ کو سیمی فائنل ہوں گے جبکہ ہفتہ کو فائنل میچز ہوں گے، پانچ مئی سے شروع ہونے والی چیمپین شپ میں 10 مئی تک میچز ہوئے جس میں کل آخری راؤنڈ تھا اور اس کے نتائج کے مطابق پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں سر فہرست ہیں،اوپن کیٹگری میں پاکستان کی ٹیم 164.34 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ بھارتی ٹیم 163،41 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،

    خواتین ایونٹ میں بھارتی ٹیم 206.36 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور پاکستانی ٹیم پیچھے 170،79 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن پر رہی۔

    اس موقع پر پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشرلقمان بھی موجود تھے اور اس کے ساتھ برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے سربراہ بھی ان کے ہمراہ تھے. تمام ٹیموں نے پرجوش ہوکر کھیلا ہے.

    پاکستان برج فیڈریشن کے زیر اہتمام لاہور کے نجی ہوٹل میں جاری برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے مقابلے 13 جولائی تک رہیں گے، جو ٹیم اس چیمپئن شپ سے جیتے گی وہ رواں برس کے آخر میں مراکش میں ورلڈ چیمپئن شپ میں کھیلے گی۔ پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ برج کی بین الاقوامی ٹیموں کا پاکستان آنا ہمارے لئے اعزاز ہے، پاکستان برج فیڈریشن کی کوشش ہو گی کہ اس طرز کے مقابلے جاری رہیں

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کا شاہی قلعہ کا دورہ

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

  • اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟ عمران خان کو نیب سوالنامہ مل گیا

    اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟ عمران خان کو نیب سوالنامہ مل گیا

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس، نیب نے عمران خان کو شامل تفتیش کرلیا

    نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس میں گرفتار تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سوالنامہ دیا ہے، نیب نے عمران خان کو شامل تفتیش کرلیا ،نیب کی جانب سے عمران خان کو دیئے گئے سوالنامہ میں پوچھا گیا ہے کہ دسمبر 2019میں برطانیہ سے غیرقانونی رقم کی واپسی کی منظوری کیلئے سمری کیوں تیار کرائی ؟ دسمبر 2019 میں برطانیہ سے رقم کی واپسی کو سرنڈر کرنے کی منظوری کیوں دی ؟ ملزمان سے بدلے میں القادر یونیورسٹی کی زمین اور دیگرمالی فائدے کیوں لیے ؟

    نیب نے عمران خان کو دیئے گئے سوال نامے میں سوال کیا کہ اعلیٰ ترین عوامی عہدے پر بیٹھ کر اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا ؟ اختیارات کا ناجائزاستعمال کرکے ملزمان سے مالی فائدے کیوں حاصل کئے؟ برطانیہ سے غیر قانونی رقم ملزمان کو واپس کرکے مجرمانہ عمل کیوں کیا؟ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی سے خط و کتابت اور ایسٹ ریکوری یونٹ کی سمری کو خفیہ کیوں رکھا گیا ؟

    واضح رہے کہ عمران خان کو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے، کل عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا تھا، عدالت نے عمران خان کا آٹھ رو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا، پولیس لائن کو سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے، عمران خان سب جیل میں نیب تحویل میں ہیں،عمران خان کا میڈیکل بھی کروایا تھا ، عمران خان صحتمند ہیں اور انہیں کسی قسم کی بیماری نہیں،

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کیا جائے، سپریم کورٹ

    عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کیا جائے، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کس کیس میں پیش ہوئے تھے ؟ وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ عمران خان نیب کیس میں ضمانت کروانے کیلئے ہائیکورٹ آئے تھے عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے کہ رینجرز نے ہلہ بول دیا دروازہ اور کھڑکیاں توڑ کر عمران خان کو گرفتارکیا گیا،بائیو میٹرک کروانا عدالتی عمل کا حصہ ہےعمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گرفتاری پر تشدد ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق جو مقدمہ مقررتھا وہ شاید کوئی او تھا عدالتی حکم کے مطابق درخواست ضمانت دائر ہوئی تھی لیکن مقرر نہیں ، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بائیومیٹرک سے پہلے درخواست ہو جاتی ہے، حامد نے کہا کہ بائیو میٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہو سکتی، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان احاطہ عدالت میں داخل ہو چکے تھے ایک مقدمہ میں عدالت بلایا تھا دوسرا دائر ہو رہا تھا، کیا انصاف کے رسائی کے حق کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ یہی سوال ہے کہ کسی کو انصاف کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟ کیا مناسب ہوتا نیب رجسٹرارسے اجازت لیتا، نیب نے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏آپ کا کیس یہ ہے کہ جب کوئی شخص عدالتی احاطے میں داخل ہو تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ‏آپ کی کیا استدعا ہے،وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ استدعا ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب نے عدالت کی توہین کی ہے، نیب کو کتنے افراد کو گرفتار کیا؟ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 افراد احاطہ عدالت میں داخل ہوئے تو عدالت کی کیا توقیر رہی؟ کسی بھی فرد کو احاطہ عدالت سے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے،ماضی میں عدالت میں توڑ پھوڑ کرنے پر وکلاء کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی گئی، کسی فرد نے عدالت کے سامنے سرنڈر کردیا تو اس کو گرفتار کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی شخص بھی آئندہ انصاف کیلئے خود کو عدالت میں محفوظ تصور نہیں کرے گا، گرفتاری سے قبل رجسٹرار سے اجازت لینا چاہیے تھا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب ایسے کئی سالوں سے کر رہا ہے، نیب نے منتخب عوامی نمائندوں کو تضحیک سے گرفتار کیا، یہ طریقہ کار بند کرنا ہوگا،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عمران خان نے بائیؤ میٹرک کروالی تھی؟ وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی درخواست کو ڈائری نمبر لگ چکا تھا، ہم نے اسی دن درخواست سماعت کی استدعا کی تھی، وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ ‏عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کی گئی، ایسے واقعات ہائیکورٹ میں پہلی بار ہوئے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت صرف عدالت کی عزت اور انصاف کی فراہمی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معاملہ عدلیہ کے احترام کا ہے،نیب نے ایک ملزم سپریم کورٹ پارکنگ سے گرفتار کیا تھا،عدالت نے گرفتاری واپس کرا کر نیب کے خلاف کارروائی کی نیب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی آئندہ ایسی حرکت نہیں ہو گی، نیب کی یقین دہانی سے 9 افسران توہین عدالت سے بچے تھے ،ہر کسی کو عدالت کے اندر تحفظ ملنا چاہیے، ہم ابھی اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہیں،ہم عدالت کی توقیر کو بحال کریں گے، میانوالی کی ڈسٹرکٹ کوٹ ہر حملہ کیا گیا جو بدقسمتی ہے،چ عدالت پر حملے پر آج میرا دل دکھا ہے، ایسے کیسے ہورہا ہے اور کوئی نہیں روک رہا؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏عمران خان لاہور میں تھے تو وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کیلئے وفاقی حکومت کو کیوں لکھا؟ نیب نے پنجاب حکومت کو کیوں نہیں لکھا؟ نیب پراسیکیوٹر صاحب معاملات کو پیچیدہ مت بنائیں، نیب نے پاکستان کا بہت نقصان کردیا ہے، نیب پراسیکیوٹر کا ایسا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرایا، کیا گرفتاری کے وقت نیب کا کوئی شخص وہاں موجود تھا؟ کس فورس نے عمران خان کو گرفتار کیا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بائیو میٹرک کمرے میں کس نے گرفتاری کی نیب کو یہ بھی معلوم نہیں،

    وکیل عمران خان نے کہا کہ ‏انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ ملزم کو دینا لازمی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے تھے، شعیب شاہین نے کہا کہ عمران خان نے نوٹس کا جواب نیب کو ارسال کیا تھا، نیب کا وارنٹ غیرقانونی تھا،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ ‏بظاہر نیب نے عمران خان کے وارنٹ قانون کے مطابق نہیں لیے، سپریم کورٹ نے نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر طلب کر لیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے عمران خان کو کتنے نوٹس جاری کیے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان کو ایک نوٹس جاری کیا، جسٹس اطہر من اللہ‏ نے استفسار کیا کہ ایک کے بعد دوسرا نوٹس کیوں جاری نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 100 لوگوں کے داخلے سے احاطہ عدالت میں خوف پھیل جاتا ہے، ‏نیب کی خواہش ہے کہ بس دوسرے قانون پر عمل کرتے رہیں،وہ خود نہیں، سب آپ کی مہربانی ہے آج جو کچھ ہو رہا ہے آپ کی بزدلی کی وجہ سے،‏گرفتاری سے جوہوا اسے رکنا چاہئے تھا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر قانونی اقدام سے نظر چرائی جاسکے ،ایسافیصلہ دینا چاہتے ہیں جس کا اطلاق ہر شہری پر ہوگا، انصاف تک رسائی ہرملزم کا حق ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ‏گرفتاری کیلئے رینجرز نے اسلام آباد پولیس کی معاونت کی،آئی جی اسلام آباد نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرایا، چیف جسٹس نے کہا کہ رینجرز صرف وزارت داخلہ کی اجازت پر آسکتی ہے، وزارت داخلہ نے پولیس کی بجائے رینجرز سے عملدرآمد کرایا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ رینجرز اسلام آباد ہائیکورٹ کی سیکیورٹی کیلئے ہر پیشی پر موجود ہوتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد سے خود کو الگ کرلیا ہے، نیب اس سے قبل احاطہ عدالت سے اپنے افسران کو گرفتاری سے روک چکا ہے،ایس او پیز کے تحت احاطہ عدالت سے گرفتاری نہیں ہوسکتی، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطہ کے انچارج ہیں، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد پولیس وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کیلئے لاہور گئی،گرفتاری سے قبل رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کی اجازت ضروری نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏گرفتاری کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے شیشے ٹوڑے گئے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان احاطہ عدالت سے باہر آئے تو ان کو گرفتار کیا گیا،عمران خان کو گرفتار کرنا ناممکن ہوگیا تھا جب بھی گرفتاری کی کوشش کی جاتی عمران خان لوگ اکٹھے کرلیتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری سے قبل رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سے اجازت نہیں کی گئی، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جس نے بھی عدالت کے شیشے توڑے اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان جس کمرے میں تھے اس کمرے کی کنڈی لگا دی گئی،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کمرہ بند ہو تو کنڈی کھٹکائی جاتی ہے نہ کے دروازہ توڑا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے گرفتاری کا سارا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال دیا ہے،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ موجودہ حکومت سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اجازت دے دی گئی تو عدالتوں کے اندر سے گرفتاری بہت آسان ہوجائے گی، ایسے تو عدالتیں گرفتاری میں سہولت کار بن جائیں گی،لاہور میں عدالت کے اندر قتل کے واقعات بڑھے، ہم نے کوشش کر کے یہ رویہ روکاجائے،اس طرح لوگ ذاتی لڑائیوں کے بدلے عدالت کے اندر لینا شروع ہوجائیں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ احاطہ عدالت میں جو ہوا وہ انصاف کی راہ میں بُری مثال قائم کرے گا، اس واقعے نے پوری قوم میں بہت خوفناک تاثر قائم کیا،وقت آ گیا ہے کہ قانون کی عملداری یقینی بنائے جائے،اس معاملے ٹھیک کرنے کیلئے معاملہ ریورس کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اس معاملے کا واحد حل اس وقت کو ریورس کر دیا جائے، جس موقع پر ملزم کے فنگر پرنٹ ہو رہے تھے۔

    عدالت نے ‏عمران خان کو ایک گھنٹے میں سپریم کورٹ پیش کرنے کا حکم‏ دے دیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب وارنٹ کا نہیں، تعمیل کرانے کا طریقہ کار اصل مسلہ ہے، گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی۔ عدالتی احاطے سے گرفتاری کیا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏آپ کیلئے دفاع کرنا مشکل ہورہا ہے، عدالت نے کہا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بہت برا سلوک ہوا ہے، حالیہ گرفتاری سے ہر شہری متاثر ہورہا ہے، عدالت سے گرفتاری بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کیا جائے۔

    ‏سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ اس موقع پر پی ٹی آئی کا کوئی رہنما یا کارکن نہ آئے۔ عدالت نے کہا کہ ‏قانون پر عمل کی بات سب کرتے ہیں لیکن خود کوئی عمل نہیں کرتا،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کی خواہش ہے کہ دوسرے قانون پر عمل کریں، نیب نے وارنٹ کی تعمیل کیلئے پنجاب حکومت کو کیوں نہیں لکھا، نیب نے ملک کو بہت تباہ کیا ہے، سردار مظفر نے کہا کہ عمران خان کا کنڈکٹ بھی دکھیں، ماضی میں مزاحمت کرتے رہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب نے وارنٹ کی تعمیل سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏ضابطہ فوجداری کی دفعات 47 سے 50 تک پڑھیں، بائیو میٹرک برانچ کی اجازت کے بغیر بھی شیشے نہیں توڑے جاسکتے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ‏عمران خان کو گرفتار کرنا ناممکن تھا،احتساب عدالت ریمانڈ دے چکی ہے ، جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ بنیاد غیرقانونی ہو تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی، وقت آگیا ہے کہ مستقبل کیلئے مثال قائم کی جائے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے ، نیب نے رینجرز تعینات کرنے کی درخوست کی تھی ‏عدالت نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پربلا لیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق پراٹارنی جنرل کوسنیں گے ، ‏عدالتیں آزاد ہوتی ہیں ، آزاد عدلیہ کا مطلب شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ،‏ملزم سرینڈرکرے اورگرفتارکیا جائے توعدالت گرفتاریوں کیلئےآسان مقام بن جائے گا،ملزمان کے ذہن میں عدالتیں گرفتاری کی سہولت کاربن جائینگی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتی دروازے سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا تو عدالت کون آئے گا؟ عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد عمران خان کو ساڑھے 4 بجے عدالت میں پیش کریں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی سیاسی رہنما اور کارکن عدالت نہیں آئیگا،پاکستان کو جیل نہیں بننے دیا جائیگا،کیوں نہ گھڑی کو واپس بائیو میٹرک مرحلے میں پہنچا دیں،عدالت معاملے پربہت سنجیدہ ہے ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی کل تک کی مہلت کی استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ عدالت آج مناسب حکم جاری کرے گی ،

    عمران خان کی گرفتاری کیخلاف درخواست ایڈووکیٹ محبوب گجر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت دفاع اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کی گرفتاری اختیارات کے ناجائز استعمال و انتقام پر مبنی ہے ،حکومت کا رویہ بنیادی حقوق، آئین کے آرٹیکل 9 ،10 اے کی خلاف ورزی ہے ،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کی مداخلت ناگزیر ہے درخواست میں عمران خان کی رہائی کا حکم دینے اور گرفتاری کی تحقیقات کا حکم دینے کی استدعاکی گئی ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی حفاظتی یقینی بنانے کا حکم دیا جائے

    سپریم کورٹ، عمران خان نے گرفتاری سے متعلق اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرادی ،عمران خان نے نیب کال اپ نوٹس، ڈی جی نیب کو لکھے خط کی کاپی جمع کرا دی ،عمران خان نے چئیرمین نیب کیخلاف دائر رٹ پٹیشن اوربیان حلفی جمع کرا دیا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ مجھے بائیومیٹرک تصدیق کے دوران غیرقانونی گرفتار کیا گیا میرے وکلاء گوہرعلی اورعلی بخاری کیساتھ دوران گرفتاری بد تمیزی کی گئی،میرے وکلاء کی آنکھوں پر زہریلا اسپرے پھیکا گیا، انصاف کے تقاضوں کیلئے اضافی دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • کسی کی گرفتاری پر خوشی نہیں مگر املاک کو نقصان پہنچانا جرم، وزیر اعظم

    کسی کی گرفتاری پر خوشی نہیں مگر املاک کو نقصان پہنچانا جرم، وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ بڑی تلخ رہی ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے حوالہ سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سیاست میں انتقامی کارروائیوں کا انجام کبھی اچھا نہیں نکلا۔گزشتہ 4سالوں میں انتقامی کارروائیاں کی گئیں،قومی ایجنڈے پر اتفاق رائے سے میثاق جمہوریت کی تاریخ لکھی ،عمران نیازی کے دور میں کیس نہیں فیس دیکھا جاتا تھا ۔عمران خان دور میں وزیر پہلے ہی بتا دیتے تھے کل کون گرفتار ہو گا ،دیکھاجاتا تھا کسے جیل بھیجناہے اور کسے رعایت دینی ہے،عمران نیازی کہتےتھے کل ایک اور وکٹ گرنے والی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی انتقام سے ملک کی ترقی کاسفر بری طرح متاثر ہوا، عمران دور میں محض الزام لگانے پر گرفتاری کی جاتی تھی،راناثنااللہ کو منشیات کےجعلی مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔پرانے نیب قانون کے مطابق کسی کو بھی 90 دن کیلئےاٹھا لیا جاتا تھا ، عمران نیازی کو موجودہ نیب قوانین سے فائدہ ہوگا،نیب میں کی گئی ترامیم کا سب سے پہلا بینیفشری عمران نیازی ہے ۔ہم اور ہمارے ساتھی آج بھی نیب کی پیشیاں بھگت رہےہیں،ہم پر جو الزامات لگائے گئے ان میں سے ایک بھی آج تک ثابت نہیں ہوا۔پاکستان ہی نہیں برطانیہ میں بھی ہمارے خلاف تحقیقات کرائی گئیں ، تحقیقات کے بعد اداروں کی جانب سے ہمیں کلین چٹ ملی، ہم نے کبھی عدالت اور قانون کا سامنا کرنے کا انکار نہیں کیا ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے شدید تحفظات کے باوجود قانون اور عدالت کا سامنا کیا ،3مرتبہ منتخب ہونےوالے وزیر اعظم نے بیٹی کی ہمراہ 100 سے زائد نیب کی پیشیاں بھگتیں
    بینظیر کی شہادت پر پیپلز پارٹی کے کارکنان نے تحمل اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ،پیپلزپارٹی کے اس عمل کو تاریخ کے سنہری الفاظ میں لکھاجائےگا،سابق صدر آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگاکر ملک کو بچایا۔ہم نے ہمیشہ قانون کاسامنا کیا اور عدالتوں میں پیش ہوئے،طاقتور اور غریب کے لیے قانون ایک ہوناچاہیے، عمران خان کی گرفتاری کرپشن کیس میں ہوئی ہے۔رقم منتقلی کا فیصلہ بند لفافہ کابینہ کو دکھاکر کیا گیا،کسی کی بھی گرفتاری پر ہم خوشی کا اظہار نہیں کر سکتے ،صد افسوس عمران نیازی اور کارکنوں نے قانون کی پاسداری نہیں کی۔سرکاری اور فوجی املاک کو نقصان پہنچانا ناقابل معافی جرم ہے، سرکاری حکام پر تشدد ،ایمبولنسز اور دیگر املاک کوآگ لگائی گئی،پاکستان کی حفاظت اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ شرپسندوں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹا جائیگا

  • جلاو، گھیراو، ترجمان پاک فوج کا سخت ترین ردعمل، پیغام بھی دے دیا

    جلاو، گھیراو، ترجمان پاک فوج کا سخت ترین ردعمل، پیغام بھی دے دیا

    ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ چیئرمین عمران خان کو نیب کے علامیہ کے مطابق کل اسلام آباد ہائیکورٹ سے قانون کے مطابق حراست میں لیا گیا -اس گرفتاری کے فوراً بعد ایک منظم طریقے سےآرمی کی املاک اور تنصیبات پر حملے کرائے گئے اور فوج مخالف نعرے بازی کروائی گئی۔ ایک طرف تو یہ شر پسند عناصر عوامی جزبات کو اپنے محدود اور خود غرض مقاصد کی تکمیل کیلئے بھرپور طور پر ابھارتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ملک کیلئے فوج کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے نہیں تھکتے جو کہ دوغلے پن کی مثال ہے۔ جو کام ملک کے ابدی دشمن پجھتر سال نہ کرسکے وہ اقتدار کی حوس میں مبتلا ایک سیاسی لبادہ اوڑھے ہوئے اس گروہ نے کر دیکھایا ہے ۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ فوج نے انتہائی تحمل ، بردباری اور restraint کا مظاہرہ کیا اور اپنی ساکھ کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں انتہائ صبر اور برداشت سے کام لیا ۔مذموم منصوبہ بندی کےتحت پیدا کی گئی اِس صورتحال سے یہ گھناونی کوشش کی گئی کے آرمی اپنا فوری ردِ عمل دے جسکو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کیا جا سکے- آرمی کے میچور رسپانس نے اس سازش کو ناکام بنا دیا- ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ اس کے پیچھے پارٹی کی کچھ شر پسند لیڈرشپ کے احکامات، ہدایات اور مکمل پیشگی منصوبہ بندی تھی اور ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ جو سہولت کار ،منصوبہ ساز اورسیاسی بلوائی ان کاروائیوں میں ملوث ہیں ان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے گی اور یہ تمام شر پسند عناصر اب نتائج کے خود ذمہ دار ہونگے۔

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فوج بشمول تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی و ریاستی تنصیبات اور املاک پر کسی بھی مزید حملے کی صورت میں شدید ردعمل دیا جائے گا جسکی مکمل ذمہ داری اسی ٹولے پر ہوگی جو پاکستان کو خانہ جنگی میں دھکیلنا چاہتا ہے اور برملا و متعدد بار اس کا اظہار بھی کرچکا ہے۔کسی کو بھی عوام کو اکسانے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی

  • توشہ خانہ کیس ،عمران خان پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ کیس ،عمران خان پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ کیس ،عمران خان پر فرد جرم عائد کردی گئی

    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے عمران خان پر فرد جرم عائد کی، اس موقع پر عمران خان کی لیگل ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی ، پولیس لائنز میں القادر یونیورسٹی اور توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی جس دوران عمران خان کے وکلا کی جانب سے جج پر اعتراض کیا گیا اور کیس کسی اور عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا، عدالت نے عمران خان پر توشہ خانہ کیس میں فرد جر عائد کر دی،عمران خان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے دستاویزات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ،

    دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں نیب نوٹسز کیخلاف عمران خان، بشریٰ بی بی کی درخواستیں نمٹا دی گئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آئندہ نوٹس سپریم کورٹ فیصلوں کے مطابق قانون کے تحت بھیجے جائیں، عدالت نے نیب کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کاروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ نیب کو کاروائی اور تحقیقات سے نہیں روک سکتے، عمران خان تفتیش میں شامل نہیں ہو رہے تو نیب قانون کے مطابق کاروائی کا مجاز ہے،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

     

  • پنجاب میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری

    پنجاب میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری

    پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پر تشدد احتجاج ہوا،جس کے بعد امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے پنجاب حکومت کا اہم اجلاس ہوا تھا،جس میں منظوری کے بعد وزارت داخلہ سے درخواست کی گئی تھی کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے رینجرز اور فوج کی کمپنیاں حکومت کو دی جائیں جس کو دیکھتے ہوئے گزشتہ رات کو رینجرز کی کمپنیاں پنجاب حکومت کے سپرد کردی گئی تھیں،

    آج باقاعدہ طور پر پاک فوج کی 10 کمپنیوں کی خدمات پنجاب حکومت کے سپرد کر دی ہیں، پنجاب کے شہروں لاہور ،فیصل آباد ،راولپنڈی اور ملتان سمیت اہم اضلاع میں فوج تعینات کردی گئی محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو آرٹیکل 245 کے تحت طلب کیا گیا پاک فوج ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرے گی

    دوسری جانب پنجاب پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں ، سرکاری املاک، پولیس فورس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف پولیس ایکشن ،صوبہ بھر میں پرتشدد کاروائیوں، توڑ پھوڑ، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے شرپسند گرفتار کر لئے گئے، شرپسند عناصر نے پرتشدد کاروائیوں کے دوران 130سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو شدید زخمی کیا، پولیس ٹیموں نے صوبہ بھر سے 945 قانون شکن و شر پسند عناصر کو گرفتار کر لی پولیس اور سرکاری اداروں کی 25 سے زائد گاڑیاں تباہ و نذر آتش کی گئیں،مظاہرین 14 سے زائد سرکاری عمارتوں پر حملہ آور ہوئے، لوٹ مار اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انورکا کہنا تھا کہ ریاست و قانون کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی جاری ہے،شہریوں، پولیس افسران و اہلکاروں کو زخمی کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو کل اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب نے گرفتار کیا تھا، عمران خان کو نیب عدالت میں آج پیش کر دیا گیا ہے، پولیس لائن میں خصوصی نیب عدالت بنائی گئی ہے، پولیس لائن کو ہی سب جیل کا درجہ دے دیا گیا ہے، عمران خان کو سب جیل میں رکھا جائے گا،عمران خان کی گرفتاری کے وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے رپورٹ طلب کی تھی، کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے سخت ریمارکس دیئے تاہم آئی جی اسلام آباد پولیس اور نیب حکام عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور رات کو فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی رہائی کی استدعا مسترد کر دی تھی،

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا