Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری

    آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری

    آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہی عوام کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ اس عدالت کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ 1973 کے آئین کی گولڈن جویلی تقریب سے خطاب میں انہوں نے جوبلی کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 1973 کے آئین کی صورت میں قوم کو ایسا تحفہ دیا تھا جو متفقہ دستور ہے جس پر قومی اسمبلی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں۔ سابق صدر نے کہا 1973 کے دستور کی اہمیت یہ ہے قومی اسمبلی میں موجود تمام ممبران، جن کا تعلق مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تھا، نے آئین سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر دستخط کیئے تھے۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ نے 1973ء کے آئین پر دستک کرنے والے تمام سیاستدانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

    آصف زرداری نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے ان ھیروز کو سرخ سلام پیش کیا جنہوں نےآئین کی بحالی کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ آمریت کے تاریک ادوار میں پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اپنے خون سے چراغ روشن کرکے جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو راستہ دکھایا ۔ انہوں نے تمام سیاسی کارکنوں کو کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے آئین اور جمہوریت کی خاطر پھانسیاں قبول کیں۔

    پی پی شریک چیئر مین نے کہا کہ گڑھی خدا بخش بھٹو کا گنج شہیدان جمہوریت پرستوں کیلئے مینار نور ہے جہاں سے شہیدوں کے خون کی سرخی لیکر جمہوریت کا سورج طلوع ہوتا ہے ، 1973 کے آئین کی اصل صورت میں بحالی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی زندگی کا اولین مقصد تھا تاکہ بااختیار پارلیمنٹ بحال ہو ، الحمدللہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے 1973 کا آئین اصل صورت میں بحال ہو چکا ہے ۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہی عوام کی سب سے بڑی عدالت ہے اس عدالت کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑے گا، ہمارا ملک اس لئے آج مشکلات کا سامنا کر رہا ہے کہ کچھ عناصر نے آئین سے انحراف کیا تھا اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب آئین پر عمل کریں قوم اور ملک کے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو کرنے دیں۔

    دوسری طرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 1973ء کا آئین ہمارا قومی لائحہ عمل اور وفاق کی زنجیر ہے۔ 1973ء کا آئین ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کا قوم کو تحفہ اور امانت ہے۔ قوم کے لیے متفقہ آئین کو بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے والے تمام سیاسی رہنماوَں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔ 14 اگست 1947 کے بعد ہماری قومی تاریخ کا دوسرا اہم ترین دن 10 اپریل 1973ء ہے۔ چیئرمین پی پی نے کہا کہ 1973ء کا آئین پاکستان کا حقیقی معنوں میں آئینہ دار ہے جیسا پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، تو ہمارا آئین ایک وفاقی آئین ہے۔ ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہے، تو ہمارے آئین کی روح اسلامی تعلیمات ہیں۔ ہمارا ملک جمہوریت پسندوں کا ملک ہے، تو ہمارا آئین ایک جمہوری دستور ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین ہماری قومی یکجہتی و اتحاد کی ضمانت ہے۔ جب سے آئین بنا ہے، اس پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ کچھ قوتوں سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ عوام کو ان کا حق ملے، صوبے اپنے وسائل کے مالک ہوں، اور قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔ خود کو قانون سے ماوراء سمجھنے والی سوچ 1973ع کے آئین کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ آئین کو بنانے اور بچانے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ بے مثال ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آمر ضیاء الحق اور آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کی جانب سے آئین میں انڈیلی گئی آلائشوں کو کامیابی سے ٹھکانے لگاکر 1973ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئین کی حفاظت و عملدرآمد اور جمہوری نظام کے ساتھ ہمیشہ کی طرح آج بھی کھڑی ہے، اور آئین کو موم کی ناک سمجھنے والی سوچ کو حتمی شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔

  • عمران خان کی الیکشن نہ کرانے کی صورت میں سڑکوں پر آنے کی دھمکی

    عمران خان کی الیکشن نہ کرانے کی صورت میں سڑکوں پر آنے کی دھمکی

    پی ٹی آئی چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری قوم کو سوچنا چاہیے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے، ملک اداروں پر چلتا ہے، آج پارلیمنٹ کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ توشہ خانہ کیس میں ان سب کی چوری سامنے لائیں گے۔ قوم تیار ہو جائے ، الیکشن نہیں کرائے تو سڑکوں پر ہوں گے۔ جبکہ اپنی حکومت کے خاتمے کے ایک سال مکمل ہونے پر عوام سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنا چاہتے تھے، انہیں ڈرتھا مجھے جیل میں ڈالا تو میری مقبولیت میں اضافہ ہو جائیگا، پی ڈی ایم کے تمام لوگ سازش میں شامل تھے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سے ایک سال پہلے میں اپنی ڈائری اٹھا کر وزیر اعظم ہاؤس سے نکلا، مجھے نکالنے کے پیچھے ایک بہت بڑی سازش تھی، میرے خلاف سازش نکالنے سے ایک سال پہلے شروع ہوئی، میں مڈل ایسٹ کے ایک سربراہ کو مل رہا تھا تو اس نے مجھے سازش کے بارے بتایا جبکہ میں بڑا حیران ہوا اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے جب میں نے جائزہ لیا تو پھر پتا چلا کہ کس طرح کی سازش ہوئی، ایک کردار جو ماسٹر مائنڈ تھا اس کی آہستہ آہستہ سمجھ آئی. وہ میری جگہ شہباز شریف کو لانا چاہتے تھے، باجوہ کی ڈیل ہو چکی تھی، شہباز شریف کو کیسز میں سزا ہونے والی تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان کو ایک سال میں اتنے بحران نہیں ملے جتنے ہمیں ملےتھے، اس حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے، یہ لوگ کو رونا کے وقت حکومت میں ہوتے تو کیا کرتے؟ پاکستان ان ممالک میں تھا جنہوں نے کورونا میں بہترین کام کیا، پی ڈی ایم حکومت صرف اپنے کرپشن کیسز ختم کرنے آئی۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم انتشار کیوں پھیلائیں گے ہم تو الیکشن چاہتےہیں، مجھ پر 144 کیسز بنائے گئے ہیں،غداری کا مقدمہ بھی بنایا گیا ہے، 144 میں سے 40 مقدمے دہشت گردی کے بنائے گئے ہیں، اعظم سواتی پر پوتے پوتیوں کے سامنے تشدد کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ آج ہم نے وائٹ پیپر جاری کیا ہے، وائٹ پیپر دکھانے کا مقصد ایک سال میں ہونے والی تباہی بیان کرنا ہے، ایک بند کمرے میں تھوڑے سے لوگوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا، ایک سال پہلے پاکستان کہاں کھڑا تھا اور آج کہاں کھڑا ہے، 2018 میں حکومت سنبھالی تو 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، ہمیں دو سال کورونا سے نمٹنے میں لگ گئے، ہم نے جیسے کورونا سے نمٹا دنیا نے اس کو تسلیم کیا۔ ہم ٹیرارزم سے ٹورازم پر آگئے تھے لیکن حالات دوبارہ خراب ہو گئے، شکر ہے ان کو تب حکومت نہیں ملی ورنہ آج ملک بالکل تباہ ہو چکا ہوتا، انہوں نے آتے ہی پہلے نیب پھر ایف آئی اے کو تباہ کیا، توشہ خانہ کیس الٹا ان پر پڑ جائے گا، انہوں نے جو گاڑیاں چوری کی ہیں وہ سامنے لے کر آئیں گے، ہمیں میڈیا سے بلیک آؤٹ کر دیا گیا، یہ کہتے ہیں کہ ہم نے میڈیا پر پابندیاں لگائیں۔

    عمران خان نے مزید کہا کہ ایک ٹویٹ پر شہباز گل اور اعظم سواتی کو برہنہ کر کے مارا گیا، روزے کی حالت میں کارکنوں پر تشدد کیا جاتا رہا، گولی لگنےکےباعث عدالت نہیں پیش ہو سکا تھا، سیکیورٹی خدشات کے باعث اسلام آباد کچہری نہیں جا سکا، ڈی آئی جی وارنٹ لے کر زمان پارک پہنچ گیا، میری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، توشہ خانہ کیس میں ان سب کی چوری سامنے لائیں گے، مجھے سکیورٹی دینا حکومت کا کام ہے لیکن نہیں دےرہی۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مجھے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح قتل کرانے کی دھمکی دی گئی، پرویز مشرف کے مارشل لاء میں بھی اتنا ظلم نہیں دیکھا، تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش ہو رہی ہے، سیاسی جماعتیں ایسی نہیں کچلی جاتیں، الیکشن کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران گروتھ ریٹ 6 فیصد سے 0.4 فیصد پر آ گیا ہے، ہمارے دور میں مہنگائی بارہ فیصد تھی اب 35 فیصد پر ہے، آٹے کا بیس کلو کا تھیلا ہمارے دور میں 1200 روپے کا تھا اب 2800 روپے کا ہے، ملکی ایکسپورٹ بڑھنے کے بجائے 10 فیصد کم ہو گئی ہے، جو لندن میں بیٹھے ہیں ان کی دولت ڈالر میں ہے، ڈالرز کم آ رہے ہیں اور قرضے بڑھتے جا رہے ہیں، پوری قوم کو سوچنا چاہیے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے، ملک اداروں پر چلتا ہے، آج پارلیمنٹ کی حیثیت ختم ہو گئی ہے، نگران حکومت شفاف انتخابات کرانے کے لیے بنی تھی۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم تیار ہو جائے ، الیکشن نہیں کرائے تو سڑکوں پر ہوں گے۔ اس طرح کے حرب استعمال کیے تو ہم سڑکوں پر ہوں گے، سابق وزیراعظم ایف آئی آر درج نہیں کرا سکتا۔ ایک خاتون ججز کو کھلے عام برابر بھلا کہہ رہی ہے۔ ہمارے دور میں جتنا میڈیا آزاد تھا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، جب سے ہماری حکومت گئی ہے تو میڈیا کو کنٹرول کیا گیا، نامعلوم افراد کی جانب سے میڈیا مالکان کو دھمکیاں دی گئیں کہ عمران خان کو بلیک آؤٹ کرو، یہ آزادی اظہار رائے سے اتنا ڈرے ہوئے ہیں کہ میڈیا پر پابندیاں لگا دی گئیں، پی ٹی آئی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ دنیا میں امیج جا رہا ہے کہ پاکستان ایک بنانا ریپبلکن ہے، ہمارے دور میں تیل بہت سستا تھا، جو ہم نے تیل روس سے خریدنا تھا وہ بھارت نے معاہدہ کر لیا، راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنا کر پارلیمنٹ کو تباہ کر دیا گیا، اعظم سواتی کو پوتے پوتیوں کے سامنے تشدد کیا پھر ننگا کر کے مارا گیا، ایک ٹویٹ کرنے پر شہباز گل اور اعظم سواتی کو نامعلوم افراد نے ننگا کر کے تشدد کیا۔ مشرف کے مارشل لا دور میں بھی کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا، یہ ظلم ابھی رکا نہیں، ابھی تک جاری ہے

  • کابینہ اجلاس؛ وزراء نے صدر کو آئین کے پی ٹی آئی  کے مفادات کا محافظ قرار دیدیا

    کابینہ اجلاس؛ وزراء نے صدر کو آئین کے پی ٹی آئی کے مفادات کا محافظ قرار دیدیا

    وزیراعطم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس نے صدر عارف علوی کی طرف سے سپریم کورٹ سے متعلق بل واپس بھجوانے مذمت کردی، وزراء نے صدر کو آئین اور منصب کے بجائے تحریک انصاف کے مفادات کا محافظ قرار دیا۔ ذرائع کے مطاق بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی کے رپورٹر عثمان خان کے مطابق کابینہ نے سپریم کورٹ سے متعلق بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے صدر عارف علوی کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھجوانے کی مذمت کردی، اجلاس میں صدر عارف علوی کے کردار پر کڑی تنقید کی گئی، وزراء نے صدر کو آئین اور منصب کے بجائے تحریک انصاف کے مفادات کا محافظ قرار دیدیا۔ کابینہ اراکین نے رائے دی کہ صدر عارف علوی کے حوالے سے حکومت سخت رویہ اختیار کرے۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنانے کیلئے کسی بھی دباؤ میں نہ آنے کا عزم بھی کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے، جس میں موجودہ ملکی سیاسی اور آئینی بحران پر غور کیا جارہا ہے، شہباز شریف لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے صدارت کررہے ہیں۔ تاہم بیشتر کابینہ اراکین بھی ویڈیو لنک پر اجلاس میں شریک ہیں۔ ریاض پیرزادہ، ساجد طوری، امیر مقام، مولانا عبدالواسع، وزیر مملکت توانائی ہاشم نوتیزئی وزیراعظم ہاؤس سے اجلاس میں شریک ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    وفاقی کابینہ اجلاس میں اہم قومی امور پر مشاورت کی جائے گی، کابینہ اجلاس کا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تاہم آن ٹیبل فراہم کیا جائے گا، کابینہ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق بھی کی جائے گی، آئینی بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بھی مشاورت ہوگی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ کے بعد کی صورتحال پر بھی غور ہوگا جبکہ صدر کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیجنے کے معاملے پر بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کی جانب سے موجودہ ملکی صورتحال میں سخت فیصلے کئے جانے کا امکان ہے۔

  • وزیراعظم ہاؤس سے مشکوک شخص گرفتار

    وزیراعظم ہاؤس سے مشکوک شخص گرفتار

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جانب سخت سیکورٹی کے دعوے تو دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس میں ایک مشکوک شخص داخل ہو گیا جس کے بعد سیکورٹی حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    سیکورٹی اداروں نے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہونیوالے مشکوک شخص کو گرفتار کر لیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق مشکوک شخص نے وزیراعظم ہاؤس تک پہنچنے کے لئے تین مختلف راستے استعمال کئے، مشکوک شخص وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا، مشکوک شخس کو گرفتار کر کے سی ٹی ڈی نے نامعلوم مقام پر تحقیقات کے لئے منتقل کر دیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر کیورٹی اداروں کی ملزم سے تحقیقات جاری ہیں جب کہ مشکوک شخص کیسے وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوا، اس حوالے سے سیکورٹی ادارے بھی کھوج لگانے میں مصروف ہیں ،دوسری جانب پولیس نے ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ گرفتار شخص ذہنی طور پر مفلوج ہے گرفتار شخص سوات کا رہائشی ہے۔گرفتار شخص کی عمر 30 سال ہے۔ راستہ بھولنے کی وجہ سے متعلقہ شخص غلطی سے پی ایم ہاؤس کی طرف گیا۔

    وزیراعظم ہاؤس سے مشکوک شخص گرفتار
    وزیراعظم ہاؤس سے مشکوک شخص گرفتار

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

  • صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل نظر ثانی کیلئے واپس بھیج دیا

    صدر ِپاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے ،بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ،میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے ،آئین سپریم کورٹ کو اپیلی ، ایڈوائزری ، ریویو اور ابتدائی اختیار سماعت سے نوازتا ہے،مجوزہ بل آرٹیکل 184 تین ، عدالت کے ابتدائی اختیار سماعت ، سے متعلق ہے ،مجوزہ بل کا مقصد ابتدائی اختیار سماعت استعمال کرنے اور اپیل کرنے کا طریقہ فراہم کرنا ہے ،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    صدر مملکت نے سوال اٹھایا کہ یہ خیال قابل تعریف ہو سکتا ہے مگر کیا اس مقصد کو آئین کی دفعات میں ترمیم کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ تسلیم شدہ قانون تو یہ ہے کہ آئینی دفعات میں ایک عام قانون سازی کے ذریعے ترمیم نہیں کی جاسکتی ، آئین ایک اعلیٰ قانون ہے ، قوانین کا باپ ہے ،آئین کوئی عام قانون نہیں ، بلکہ بنیادی اصولوں، اعلیٰ قانون اور دیگر قوانین سے بالاتر قانون کا مجسمہ ہے،آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو عدالتی کاروائی اور طریقہ کار ریگولیٹ کرنے کیلئے قوانین بنانے کا اختیار دیتا ہے ،آئین کی ان دفعات کے تحت سپریم کورٹ رولز 1980 بنائے گئے جن کی توثیق خود آئین نے کی، عدلیہ کی آزادی کو مکمل تحفظ دینے کیلئے آرٹیکل 191 کو دستور میں شامل کیا گیا ،آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے باہر رکھا گیا، پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار بھی آئین سے ہی اخذ شدہ ہے،آرٹیکل 70 وفاقی قانون سازی کی فہرست میں شامل کسی بھی معاملے پر بل پیش کرنے اور منظوری سے متعلق ہے،آرٹیکل 142اے کے تحت پارلیمنٹ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی بھی معاملے پر قانون بنا سکتی ہے،فورتھ شیڈول کے تحت پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے علاوہ تمام عدالتوں کے دائرہ اختیار اور اختیارات کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار ہے ،فورتھ شیڈول کے تحت سپریم کورٹ کو خاص طور پر پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار سے خارج کیا گیا ہے ، بل بنیادی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، بل کے ان پہلوؤں پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے،

  • عدت کے دوران نکاح، عمران ، بشریٰ کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    عدت کے دوران نکاح، عمران ، بشریٰ کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ، عدت کے دوران نکاح کا الزام ،عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف دائر پرائیویٹ کمپلینٹ پر سماعت 28 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    گواہ مفتی سعید کے عمرہ پر ہونے کی وجہ سے بیان ریکارڈ نا ہو سکا، درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ گواہ مفتی سعید عمرہ پر گئے ہیں عدالت آئندہ کی تاریخ رکھ دے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 اپریل تک ملتوی کردی ،سینئر سول جج نصر من اللہ بلوچ کے کمپلینٹ پر سماعت کی شہری محمد حنیف نے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف کارروائی کی کمپلینٹ فائل کر رکھی ہے

    درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور ریاست کو فریق بنایا گیا ہے ،شہری نے دونوں کے خلاف سیکشن 496 کے تحت کارروائی کے لیے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی نے عدت پوری کیے بغیر نکاح کیا جو غیرقانونی ہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے نکاح کی کاپی بھی شکایت کے ساتھ منسلک ہے،درخواست گزار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھی جس میں مفتی محمد سعید نے کہا کہ دونوں کا نکاح دوران عدت ہوا پھر بعد میں مفتی محمد سعید نے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران عمران خان کے نکاح کی تفصیل بتائی مفتی محمد سعید کے مطابق دوستی ہونے کے ناطے یکم جنوری 2018ء کو عمران خان نے انہیں نکاح کے سلسلے میں لاہور جانے کا کہا دونوں کے رفقاء نے طلاق اور نکاح کے بارے میں بتایا کہ شریعت کے مطابق ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح غیر شرعی تھا عدت کی بات چھپائی گئی اور دونوں بنی گالہ میں ساتھ ہی رہ رہے تھے عمران خان نے ان سے رابطہ کیا اور دوبارہ نکاح پڑھانے کا کہا عمران خان نے مفتی سعید سے گفتگو کے دوران تسلیم کیا تھا کہ بشریٰ بی بی کو نومبر 2017ء میں طلاق ہوئی تھی اور نکاح عدت میں پڑھایا گیا تھا عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں ایک دوسرے کو سنہ 2015 سے جانتے تھے اور وہ اسلامی تعلیمات سے بھی بخوبی واقف تھے لیکن پھر بھی جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح کیا،عدالت دونوں کے خلاف کاروائی کرے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان کی طلبی کے دوبارہ نوٹس جاری

    توشہ خانہ کیس، عمران خان کی طلبی کے دوبارہ نوٹس جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے کیس کی سماعت کی الیکشن کمیشن کے وکیل امجدپرویز عدالت میں موجود تھے پولیس کی جانب سے عمران خان کو نوٹس کی تعمیل کی رپورٹ عدالت میں جمع نہیں کروائی جا سکی ،پی ٹی آئی کے جونیئر وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ نہ ہمارے کسی سینئر وکیل اور نہ ہی عمران خان کو نوٹس ملا ۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس کی سماعت گیارہ اپریل تک ملتوی کر دی، عدالت نے عمران خان کو دوبارہ گیارہ اپریل کے لیے نوٹس جاری کر دیا،

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    دوسری جانب عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں نیب کی طلبی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا عمران خان کی جانب سے نیب میں طلبی کے نوٹس غیرقانونی قرار دینےکی استدعا کی گئی ہے عمران خان نے کیس کا فیصلہ آنے تک نیب کو تادیبی کاروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی ہے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ نیب کے 16 فروری اور17 مارچ کے نوٹس غیرقانونی قرار دیے جائیں، درخواست پر فیصلہ آنے تک انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کرنے سے روکا جائے۔

  • نواز شریف نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    نواز شریف نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    نواز شریف نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    لندن سے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں نواز شریف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے یہ مطالبہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ بیان میں کیا ہے۔


    انہوں نے کہا ہے کہ عدالتیں قوموں کو بحرانوں سے نکالتی ہیں نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں، چیف جسٹس نے نجانے کون سا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی۔ علاوہ ازیں ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت کے پاس اب کچھ نہیں اسلیے پانی کے مسئلے کو اٹھا رہا ہے،شیری رحمان
    بنیادی اشیائے ضروریہ کی تقسیم کی میڈیا پر تشہیر روکنے کا حکم
    میں نہیں مانتی کہ میری وجہ سے ٹرمپ جیل جانے کے حقدار بنتے،اسٹورمی
    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
    بھگڈر سے ہلاکتوں کا کیس، فیکٹری مالک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ
    پاکستان جلد الیکشن کی طرف جائے گا، آئین کی حکمرانی برقرار رہے گی ,اسد عمر
    یو اے ای نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کی معاشی معاونت کی،چیئرمین سینیٹ

    واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا تھاکہ جسٹس اطہر من اللہ کا فیصلہ عدالتی کارروائی پر سوالیہ نشان ہے اور جب پٹیشن مستر د ہو گئی تو اس پر بینچ کیسے بنا ؟ انہوں نے کہا چیف جسٹس کی حیثیت متنازعہ ہوچکی ہے لہذا اس لئے مستعفی ہوجائیں۔

  • ججز پر پی ٹی آئی کی حمایت کا الزام؛ جلد ویڈیوز لیک کرنے  کی دھمکی

    ججز پر پی ٹی آئی کی حمایت کا الزام؛ جلد ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکی

    تین ججز پر پی ٹی آئی کی حمایت کا الزام؛ جلد عید پیکج لیک کی دھمکی

    ان بل نامی ویب سائٹ نے تین ججز بارے جلد ویڈیوز لیک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ؛ پاکستانیوں! تیار رہو کیونکہ بہت جلد اُن تین ججز کی ویڈیوز لیک کی جائیں گی جو قسط کی صورت میں ہوں گی جنہوں نے تحریک انصاف کی ناصرف بظاہر بلکہ کورٹ کے اندر حمایت کی ہے. ویب سائٹ نے لکھا کیسے پی ٹی آئی کی تین ججز نے حمایت کی ہے اس بارے قسطوں میں عید پیکج ویڈیوز لیکس جلد آرہی ہیں.

    ان بل نامی ویب نے لکھا کہ اس میں بہت کچھ فن ہوگا اور یہ مت سمجھئے کہ یہ ویڈیوز کسی ایک کے بارے میں ہوگیں. خیال رہے کہ اس سے قبل اسی ویب سائٹ سے عمران خان کی مختلف آڈیوز لیک ہوچکی ہیں‌ تاہم سوشل میڈیا پر اس بارے میں مختلف تبصرے آئے تھے جیسے کہ ایک خاتون شہری کا کہنا تھا کہ ’یہ ان کے اپنے ہی کرتے ہیں، اور کوئی نہیں کر سکتا۔ جبکہ ایک اور صارف نے کہا کہ ’یہ لیک کرنے والے اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں، کسی اور کی تو ان مقامات تک رسائی نہیں ہوتی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت کے پاس اب کچھ نہیں اسلیے پانی کے مسئلے کو اٹھا رہا ہے،شیری رحمان
    بنیادی اشیائے ضروریہ کی تقسیم کی میڈیا پر تشہیر روکنے کا حکم
    میں نہیں مانتی کہ میری وجہ سے ٹرمپ جیل جانے کے حقدار بنتے،اسٹورمی
    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
    بھگڈر سے ہلاکتوں کا کیس، فیکٹری مالک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ
    پاکستان جلد الیکشن کی طرف جائے گا، آئین کی حکمرانی برقرار رہے گی ,اسد عمر
    یو اے ای نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کی معاشی معاونت کی،چیئرمین سینیٹ

    واضح رہے کہ ان آڈیوز بارے عمران خان نے تردید نہیں کی تھی جبکہ عمران خان کی ویڈیوز جاری کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھی تاہم وہ ویڈیو جاری نہیں کی گئی ہے لیکن اب تین ججز کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکی دی گئی ہے.

    یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ 2023 کو رانا ثناءاللہ نے کہا تھا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ آڈیو ویڈیو لیکس سے سپریم کورٹ کو بدنام کیا جارہا ہے. پہلے بھی آڈیو لیکس آتی رہی ہیں جبکہ اس پر ججز استعفے بھی دیتے تھے ہیں اور ان کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی چلتے ہیں

  • چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف  سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا گیا جبکہ اسلام آباد کے شہری "راجہ سبطین خان” نے ریفرنس دائر کیا ہے. اسلام آبادکےشہری نے ریفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان پر الیکشن کیس میں بنچوں کی تشکیل پراختیارات کےناجائز استعمال، ازخودنوٹس پربدنیتی، ججزکاگروپ بنانےکےالزامات لگائےہیں.


    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت مقامی وکیل راجہ سبطین خان کی جانب سے دائر کی گئی۔ جبکہ وکیل راجہ سبطین خان کی جانب سے دائر شکایت میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار پائے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت کے پاس اب کچھ نہیں اسلیے پانی کے مسئلے کو اٹھا رہا ہے،شیری رحمان
    بنیادی اشیائے ضروریہ کی تقسیم کی میڈیا پر تشہیر روکنے کا حکم
    میں نہیں مانتی کہ میری وجہ سے ٹرمپ جیل جانے کے حقدار بنتے،اسٹورمی
    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
    بھگڈر سے ہلاکتوں کا کیس، فیکٹری مالک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ
    پاکستان جلد الیکشن کی طرف جائے گا، آئین کی حکمرانی برقرار رہے گی ,اسد عمر
    یو اے ای نے ہرمشکل وقت میں پاکستان کی معاشی معاونت کی،چیئرمین سینیٹ
    شکایت میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے۔ علاوہ ازیں وکیل نے یہ شکایت پنجاب اور خیبرپختونخوا الیکشن التوا کیس کی بنیاد پر دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ انتخابات ازخود نوٹس سے سپریم کورٹ متنازع بنی، زبان زدعام ہے کہ چیف جسٹس نے عدلیہ میں مبینہ طور پر گروپنگ قائم کر رکھی ہے، چیف جسٹس نے گروپنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے بنچ تشکیل دیا تاکہ فیصلہ اکثریت سے حاصل کیا جاسکے۔