Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    سپریم کورٹ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابا ت کا معاملہ ،جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    جسٹس اطہر من نے اللہ نے 22 فروری کے ازخود نوٹس کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ، تحریری فیصلے میں کہا کہ ازخود نوٹس سمیت تینوں پیٹیشن خارج کی جاتی ہیں،پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ہے تحریری فیصلے میں جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس انداز سے کارروائی شروع کی گئی اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی ،اس درخواست پر کارروائی شروع کرنے سے پولیٹیکل اسٹیک ہولڈرز کو عدالت پر اعتراض اٹھانے کی دعوت دی گئی ،اس قسم کے اعتراضات سے عوام کے عدالت پر اعتماد پر اثر پڑتا ہے تحریک انصاف کی درخواست پر کارروائی شروع کرنا قبل ازوقت تھی ،چیف جسٹس کا سوموٹو لینا نہیں بنتا تھا کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں پہلے ہی زیرالتوا تھا

    جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا بھی حوالہ دیا گیا،کہا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کی بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا،پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔سیاسی بحران عدم اعتماد میں شکست کے بعد عمران خان کے لیڈر آف اپوزیشن کا کردار نہ لینے سے شروع ہوا ،مجاز اتھارٹیز کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینا باقی تھا کہ پی ٹی آئی لاہور ہائیکورٹ چلی گئی سیاسیتدانوں کی پیدا کردہ دلدل سے نکالنے کیلئے ایک بار پھر عدالت کو دعوت دی گئی،سیاسی معاملات پر سوموٹو میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، سیاسی حکمت عملی کیلئے صوبائی اسمبلی توڑنے کا کنڈکٹ کیا آئینی جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے؟ پہلے عدالتوں میں آئے کہ استعفے منظور کرائیں جب ہو گئے تو کہا اب اسپیکر کا فیصلہ ریورس کرائیں ،سیاستدان عدالت میں کیس خود شاید جیت جائیں مگر ہارعدالت کی ہوتی ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات نہ کرانے پر متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کیا گیا، جہاں کیس زیرالتوا تھا، اس کے باوجود سوموٹو نوٹس لیا گیا، ہائیکورٹس کی صلاحیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ،جسٹس منصور، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس یحیی آفریدی کی رائے سے متفق ہوں، 27 فروری کو ججز کے غیر رسمی اجلاس میں طے ہوا تھا کہ فیصلہ چار تین کا ہے،

    تفصیلی نوٹ میں کہا گیا پنجاب،کے پی انتخابات کی تاریخ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے درخواستوں اور از خود نوٹس کو خارج کرنےکی تین بنیادی وجوہات ہیں فل کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی پابندی بینچ پرلازم تھی عدالت کو اپنی غیر جانبداری کے لیے سیاسی جماعتوں کے مفادات کے معاملات پر احتیاط برتنی چاہیے، عدالت کو سیاسی درخواست گزارکا طرز عمل اور نیک نیتی بھی دیکھنی چاہیےدرخواست گزاروں کا رویہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ 184/3کا اختیارسماعت استعمال کیا جائے ازخود نوٹس لینےکا مطلب غیر جمہوری اقدار اورحکمت عملی کو فروغ دینا ہوگا، ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جاسکتا لیکن کم ازکم عوامی اعتماد بحال کرنےکی کوشش کی جاسکتی ہے انتخابات کی تاریخ کامعاملہ ایک تنازع سے پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے درست کہا کہ عدالت کو ازخودنوٹس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، سپریم کورٹ کو یکے بعد دیگرے تیسری بار سیاسی نوعیت کے تنازعات میں گھسیٹا گیا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

  • سیکورٹی فورسز کی کامیاب کاروائی، انتہائی مطلوب دہشتگرد گلزارامام  گرفتار

    سیکورٹی فورسز کی کامیاب کاروائی، انتہائی مطلوب دہشتگرد گلزارامام گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکورٹی اداروں کو بلوچستان میں بڑی کامیابی ملی ہے، سیکورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے سرغنہ، کمانڈر اور بھارت کے دورے کر کے پاکستان کو بدامنی کا شکار کرنیوالے گلزار امام عرف شمبے کو گرفتار کر لیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، ہائی پروفائل اور کامیاب انٹیلی جنس آپریشن کے نتیجے میں سیکورٹی اداروں نے ہائی ویلیو ٹارگٹ گلزار امام کو گرفتار کیا ہے، گلزار امام کالعدم تنظیم بلوچ نیشنل آرمی کا بانی اور رہنما بھی رہ چکا ہے، جو بلوچ ریپبلکن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے انضمام کے بعد وجود میں آئی تھی۔ بلوچ نیشنل آرمی نے بلوچستان کے علاقوں پنجگور اور نوشکی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنیصبات پر حملے کئے تھے، بی این اے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد واراداتیں کر چکا ہے، گرفتار دہشت گرد گلزار امام 2018 تک بی این اے میں براہمداغ بگٹی کا نائب بھی رہ چکا ہے، گلزار امام نے بلوچ راجی آجوئی سانگر کی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا اور اسکی سربراہی کیا، گلزار امام نے بھارت اور افغانستان کے دورے بھی کئے جس کی تمام تر تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گلزارامام کو مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایک کامیاب آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا اس کی گرفتاری بی این اے اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے لیے بڑا دھچکا ہے اس کے دشمن انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ روابط کی چھان بین کی جارہی ہے

    جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    شہید بریگیڈیئر مصطفیٰ کمال برکی کی نماز جنازہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ادا 

  • قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،دہشتگردی کیخلاف آپریشن مزید تیز کرنے پر اتفاق

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،دہشتگردی کیخلاف آپریشن مزید تیز کرنے پر اتفاق

    قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان بھر میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن جاری رکھنے اور اسے مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وزیراعظم ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی کا 41 واں اجلاسہوا، جو دو گھنٹے تک جاری رہا، اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیر اطلاعات،وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اوروزیر داخلہ شریک ہوئے، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی ایم او سمیت دیگر سکری اور سولین حکام بھی شریک ہوئے،اجلاس میں کمیٹی ممبران اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی خصوصی طور پر شریک تھے

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی سیکیورٹی اور معاشی صورتحال پرغور کیا گیا ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شرکا کو پاکستان کی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی ، موجودہ سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے حوالہ سے ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی تفصیلی بریفنگ دی ،اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری رکھنے اور اسے مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا اجلاس مٰں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی

    قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمیاں ،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سمیت معاشی و تجارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ جلد معاہدہ کے حوالے سے امریکہ سے مدد مانگ لی ،امریکی سفیر نے پاکستان کی موجودہ صورت حال پر بھی وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کیا

    دوسری جانب آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں قومی و داخلی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،افواج پاکستان کے پیشہ ورانہ اور آپریشنل امور پر بھی گفتگو کی گئی،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • عمران خان کیخلاف اسسٹنٹ کمشنر کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    عمران خان کیخلاف اسسٹنٹ کمشنر کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ، جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ واقعات، عدالتی آرڈر شیٹ گم ہونے کا کیس ،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ٹرائل کورٹ کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی گئی،عدالت نے آئی جی آفس کو تین دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا، کمشنر آفس سے ڈسٹرکٹ منیجمنٹ کی رپورٹ 28 اپریل تک طلب کر لی گئی، ٹرائل کورٹ کی رپورٹ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، سٹیٹ کونسل نے کہا کہ آئی جی آفس کی رپورٹ جمع کرانے کا وقت دیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی بھی درخواست آئی ہوئی ہے،آئی جی آفس تین روز میں رپورٹ دیں، خواجہ حارث نے کہا کہ آئندہ کی سماعت کا لائحہ عمل بھی دیکھا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کا موقف آ جائے تو پھر دیکھا جائے گا کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے،خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کی رپورٹ کی کاپی ہمیں مل جائے تو ہم پڑھ لینگے ، عدالت نے کہا کہ آپ کو ٹرائل کورٹ کی رپورٹ پڑھنے کے لیے دے دیتے ہیں ،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ منجمنٹ کی بھی رپورٹ منگوا لیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمشنر آفس سے انکی رپورٹ بھی منگوا لیتے ہیں،رپورٹ آجائے گی تو  ایک ساتھ توہین عدالت اور آئندہ کا لائحہ عمل دیکھ لینگے ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث ، پراسیکیوٹررضوان عباسی اور اسٹیٹ کونسل عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 اپریل تک ملتوی کر دی ,

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • سیاسی مخالفین میں محبت نہیں ہوتی، بغاوت کا قانون کالعدم قرار، تحریری فیصلہ جاری

    سیاسی مخالفین میں محبت نہیں ہوتی، بغاوت کا قانون کالعدم قرار، تحریری فیصلہ جاری

    لاہورہائیکورٹ نے بغاوت کے قانون کی دفعہ 124 اے کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق کی درخواست پر بغاوت کی دفعہ 124 اے کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کیا ، تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 124 اے بنیادی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتی اسلیے اسے مکمل ختم کیا جاتا ہے اگر یہ دفعہ برقرار رہی تو آزاد پریس کے لیے مستقل خطرہ بنی رہے گی ،قانون کی حکمرانی میں آزاد پریس اہم عنصر ہے حقیقی آئینی جمہوریت میں میڈیا کا کام لوگوں تک معلومات پہنچانا ہے ملکی آئین کے تحت دفعہ 124 اے برقرار نہیں رہ سکتی دفعہ 124 اے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف تنقید روکتی ہے جب کہ آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر دفعہ 124 اے کو رہنے دیا گیا تو میڈیا بھی اسکا شکار ہو جائے گا وقت کا تقاضا ہے کہ نفرت انگیز تقریروں کے خلاف ہتک عزت کے قانون کو مضبوط کیا جائے سیاسی مخالفین میں محبت نہیں ہوتی اس لیے وہ جو بھی کہیں گے وہ 124 اے کی زد میں آجائے گا ، ہم نے سیاسی میدان میں کیسز کے دوران گہری دشمنی بھی دیکھی ہے سیاسی جلسوں میں صوبائی اور وفاقی عہدوں پر فائز مخالفین کے لیے نفرت دیکھی جا سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سیاسی گروپ کا فرد یہ جرم کر رہا ہوتا ہے ،عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 124 اے نو آبادیاتی دور کی باقیات ہے وقت آ گیا ہے کہ اسے آخری آرامگاہ تک پہنچایا جائے

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ شدہ مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بغاوت کے قانون کو کالعدم قرار دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ بغاوت کا قانون 1860 میں بنایا گیا جو انگریز دور کی نشانی ہے.بغاوت کا قانون غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. کسی کے کہنے پر بھی مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے،آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے،اب بھی بغاوت کے قانون میں حکمرانوں کے خلاف تقاریر کرنے پر دفعہ 124 اے لگا دی جاتی ہے، بغاوت کے قانون کو اب بھی سکیشن 124 اے کے ذریعے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے.حکومت وقت کے خلاف تقاریر پر غداری کا سیکشن 124 اے لگانا آزادی رائے کے سیکشن دس اے کے خلاف ہے، عدالت پی پی سی 1860 کی دفعہ 124-A کو خلاف آئین قرار دے کر کالعدم قرار دے ،

  • بریکنگ نیوز:سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور کو پولیس نے گرفتار کرلیا

    بریکنگ نیوز:سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور کو پولیس نے گرفتار کرلیا

    ڈی آئی خان،باغی ٹی وی (احمدنوازمغل )سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور کو پولیس نے گرفتار کرلیا
    ڈی پی او ڈیرہ کی قیادت میں پولیس نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا، علی امین تقریبا 5 گھنٹوں سے پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ بیج کے اندر موجود رہے، علی امین کے وکیل نے ڈی پی او سے مذاکرات کئے مگر سب بے سود رہے، پولیس کو جن مقدمات میں مطلوب تھے سب کی بیل ہوچکی ہے،وکیل
    علی امین گنڈاپور نے گرفتاری سے بچنے کیلئے ہائی کورٹ کے احاطہ میں پناہ لے رکھی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری آج صبح سے ہائی کورٹ کے باہر موجود تھی۔علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ میں نے تمام ایف آئی آرز میں ضمانت کروائی ہوئی ہے، میرے خلاف پولیس کے پاس نہ کوئی وارنٹ ہے اور نہ مجھ پر کوئی ایف آئی آر ہے۔
    پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ مجھے پولیس نے نامعلوم ایف آئی آرز میں نامزد کیا ہوا ہے، ہم نے امپورٹیڈ حکومت کا آخری دم تک مقابلہ کرنا ہے۔
    تحریک انصاف کے شعلہ بیان رہنما کے خلاف تھانہ گولڑہ اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے جبکہ پنجاب کے شہر بھکر کی پولیس نے بھی انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت علی امین پر مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
    یاد رہے کہ عدالت نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز بھی کر رکھا ہے۔دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما عامر مغل کو سی ٹی ڈی اسلام آباد نے گرفتار کر لیا۔ سی ٹی ڈی نے مئیر شپ کے سابق امیدوار سید توقیر شاہ کو بھی گرفتار کیا، سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔

    قومی اسمبلی میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے قرارداد پیش کردی گئی۔ خالد مگسی نے سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنےکی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جو کہ منظور کر لی گئی ،قراردار کے مطابق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد کے مطابق ایوان سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے،ایوان تین رکنی بنچ کا فیصلہ مسترد کرتا ہے،وزیر اعظم اور کابینہ اس خلاف آئین و قانون فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے، قرارداد کے مطابق ایوان ایک ہی وقت میں عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتی ہے۔ایوان سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے ایک ہی وقت پر عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتا ہے، ایوان دستور کے آرٹیکل 63 اے کی غلط تشریح اوراسے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے عدالت عظمیٰ فل کورٹ فیصلے پر نظر ثانی کرے

     

    محسن لغاری نے ایوان میں کہا کہ ہم قانون بنا سکتے ہیں آئین نہیں توڑسکتے، ایوان کوجلسہ گاہ نہ بنائیں، جمہوریت کی ایکٹنگ ہی کرلیں۔ کیا ہم پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان جنگ چاہتے ہیں؟ اسپیکر راجا پرویز اشرف نے محسن لغاری کا مائیک بند کردیا، محسن لغاری کا کہنا تھا کہ مجھے قرارداد پر تحریک پیش ہوتے وقت بولنے نہیں دیا گیا میں اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں آئین عدلیہ کے خلاف ایوان میں گفتگو کرنے سے منع کرتا ہے اس ایوان کو عدلیہ کے خلاف استعمال نہ کیا جائے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • سابق آرمی چیف کی فیملی کا ڈیٹا لیک،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چیئرمین نادرا کو طلب کر لیا

    سابق آرمی چیف کی فیملی کا ڈیٹا لیک،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چیئرمین نادرا کو طلب کر لیا

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق آرمی چیف کی فیملی کے ڈیٹا تک رسائی کے معاملے کا نوٹس لے لیا

    چیئرمین نورعالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا ,اجلاس میں سابق آرمی چیف کی فیملی کے ڈیٹا تک رسائی کا معاملہ زیر غور آیا ،پی اے سی نے معاملے پر چیئرمین نادرا کو فوری طور پر اجلاس میں طلب کر لیا ممبر کمیٹی مشاہد حسین سیدکا کہنا تھا کہ معاملے میں ملوث نادرا افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

    چیئرمین کمیٹی نورعالم خان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں اس ڈیٹا لیک کے پیچھے اصل شخصیت کو بے نقاب کیا جائے ،

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    قبل ازیں ایف بی آر نے مبینہ طور پر جنرل ر قمر جاوید باجوہ کی فیملی کے ٹیکس ریٹرن لیک میں ملوث گریڈ 18 کے دو افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے، افسران کے خلاف تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے،ف

  • خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سابق اسپیکرکے پی مشتاق غنی نے درخواست بیرسٹرگوہرکی وساطت سے دائر کی ہے درخواست میں الیکشن کمیشن اور گورنرکے پی کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر کے پی یکم مارچ کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے گورنر کے پی نے میڈیا پر 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا اور بعد میں انکار کر دیا، آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ضروری ہیں سپریم کورٹ گورنرکے پی کو انتخابات کی تاریخ کا حکم دے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • اس کیس میں عمران خان کی حاضری بنتی ہی نہیں،عدالت

    اس کیس میں عمران خان کی حاضری بنتی ہی نہیں،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے دھمکی آمیز بیان پر سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    وکیل عمران خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عمران خان اس کیس میں پیش نہیں ہو سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں حاضری بنتی ہی نہیں یہ سکیورٹی فراہمی کا کیس ہے درخواست گزار سابق وزیراعظم ہیں سکیورٹی کا کیا قانون ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایکٹ 1975 کا ہے وزیراعظم کی سکیورٹی سے متعلق سیکشن 17 ہے ،سابق وزیراعظم کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے گی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا ابھی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا جی، عمران خان کو ایک بلٹ پروف گاڑی فراہم کی گئی ہے 18 ویں ترمیم کے بعد سکیورٹی صوبائی معاملہ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وزارت داخلہ میں کوئی پڑھا لکھا بندہ ہے؟ وزارت داخلہ کے نمائندہ نے کہا کہ لائف ٹائم سکیورٹی دی جاتی ہے نوٹیفکیشن جاری ہونا تھا وہ ابھی تک نہیں ہوا،اسلام آباد کی حد تک سکیورٹی وفاقی حکومت دیکھتی ہے جب تک عمران خان اسلام آباد تھے تب تک انہیں فول پروف سکیورٹی دی گئی تھی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فول یا اپریل فول کو چھوڑیں پھر کیا ہوا، اب کیا صورتحال ہے؟نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی فراہم کر رکھی ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ قانون، قاعدہ جو بھی عدالت وہ عدالت میں جمع کرا دیں مغرب آج کیوں ہم سے آگے ہے کیونکہ ان کے رولز ہیں ،عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو دی جانیوالی سکیورٹی کے رولز طلب کرلئے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا عدالت کو بتائیں سابق وزیراعظم کی کتنی سکیورٹی ہے، رولز پیش کریں پھر آرڈر جاری کریں گے

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    عمران خان موو کرتے ہیں تو انکے ساتھ سیکیورٹی ہوتی ہے؟حکومت سے جواب طلب