Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ملالہ کی آسکر آمد؛ دلچسپ سوال و جواب پر شرکاء ہنسی نہ روک سکے

    ملالہ کی آسکر آمد؛ دلچسپ سوال و جواب پر شرکاء ہنسی نہ روک سکے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اپنے شوہر عصر ملک کے ہمراہ آسکر کی تقریب میں پہچیں تو شرکاء نے ان کا جم کر استقبال کیا تاہم یہ شرکاء اس وقت اپنی ہنسی نہ روک سکے جب آسکر ایوارڈز کی تقریب میں اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھیں ملالہ یوسفزئی سے میزبان کے سوال، کیا آپ کو یہ لگتا ہے کہ ہیری اسٹائلز نے کرس پائن پر تھوکا تھا؟ جس پر ملالہ نے جواب دیا کہ میں صرف امن کی بات کرتی ہوں۔


    جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ایسا جوب ملالہ ہی دے سکتی ہے اور پھر شرکاء تالیاں بجائے ہوئے قہقے لگانا شروع کردیا جبکہ خیال رہے یہ سوال اس لیئے کیا گیا کیونکہ گزشتہ سال وینس فلم فیسٹیول میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایسا لگ رہا تھا اداکارہ ہیری اسٹائلز نے اپنے ساتھی اداکار کرس پائن پر تھوکا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ


    ادھر سوشل پر آسکر آمد ہر لی گئی تصویر جس میں ملالہ یوسف زئی نے سلور رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا ہے بھی ان کے مداحوں کو خوب بہا رہا ہے اس حوالے اس سوشل میڈیا صارف نے ملالہ اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "میرے خدا دیکھوں، ہماری کوئین ملالہ آسکر میں جبکہ انہوں نے انگریزی زبان میں مزید لکھا کہ "We definitely need her statue in Madame Tussauds” مطلب ہمیں ضرورت ہے کہ ملالہ کا خاکہ میڈام توساؤدس میں ہو.

  • عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان

    عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان

    عمران خان کا اتوار کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ جلسہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں مینار پاکستان کے مقام پر دن 2 بجے ہو گا۔ جبکہ انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے اپنے کارکنان کو کہا کہ وہ اس جلسہ کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنائیں تاکہ وہ موجودہ حکومت کا اپنی عوامی طاقت دکھا سکیں.

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کئی بار مینار پاکستان پر جلسہ کرچکے ہیں جبکہ اس بار ناقدین کا خیال ہے کہ عمران خان یہ جلسہ اور جلوس کے ذریعے عدلیہ اور حکومت پر اپنی گرفتاری کو روکنے کی خاطر دباؤ ڈالنے کیلئے ایسا کررہے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    ادھر کارکن ذلے شاہ کی موت کے بعد عمران خان پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید کی جارہی اور اس بارے میں خود پی ٹی آئی کو قصوروار ٹہرا رہے ہیں جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ جلسہ جلوس صرف اپنی ذات کیلئے کرنا چاہ رہا ہے اور انہیں خوشی ہوتی جب کوئی کارکن قربانی دیتا کیونکہ یہ دوسروں کے بچوں کی قربانی پر سیاست کرنا چاہتا ہے.

  • نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات ورنہ بائیکاٹ- قبائل فورم

    نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات ورنہ بائیکاٹ- قبائل فورم

    اسلام آباد ،باغی ٹی وی (ویب نیوز)قبائل فورم نے نئی مردم شماری اوراس کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کے تحت انتخابات کا انعقاد کرانے کا مطالبہ کر دیا۔قبائل فورم نے ایک بار پھر الیکشن مؤخر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی مردم شماری اور اس کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کے تحت انتخابات نہ ہوئے تو بائیکاٹ کریں گے۔قبائلی عمائدین کاکہنا ہے کہ پرانی مردم شماری پر انتخابات ہوئے تو بائیکاٹ کریں گے، چند ماہ انتخابات کا عمل روکنے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔
    قبائلی عمائدین نے ”کل قبائل فورم“ کے تحت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخواہ اسمبلی اور قومی اسمبلی کے انتخابات نئی مردم شماری تک چند ماہ کے لئے موخر کیے جائیں۔رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے ہمارا حق زیادہ سیٹوں کا بنتا ہے، الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ ہمارے مطالبہ پر نئی مردم شماری پر انتخابات کا حکم دیں۔ سابق ایم این اے مولانا عبدالمالک اوردیگرکا کہنا تھا کہ پچھلی مردم شماری بددیانتی پرمبنی تھی جس کا مقصد قبائل کو کم تعداد میں ظاہرکرنا تھا، قبائل نے پاکستان کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں، ہمارے مطالبات تسلیم کئے جائیں، قبائل کو کسی سخت ردعمل پر مجبور نہ کیا جائے۔

  • مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا

    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا

    مسلم لیگ نواز نے مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا

    سینئر تجزیہ کار عامر متین نے اپنے ٹی وی ٹاک شو میں دعویٰ کیا تھا کہ مریم نواز نے توشہ خانہ سے 10 لاکھ کی گھڑی 45 ہزار میں لی جبکہ تجزیہ کار عامر متین نے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے نائنٹی ٹو نیوز کے پروگرام مقابل میں گفتگو کے دوران عامر متین دعویٰ کیا کہ مریم نواز نے توشہ خانہ سے 10 لاکھ کی گھڑی 45 ہزار میں رکھ لی۔


    جبکہ اس دعویٰ کے بعد مریم نواز نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو ہدایات جاری کیں تھی کہ عامر متین کیخلاف قانونی کاروائی کی جائے اور اس حوالے سے عامر متین کو قانونی نوٹس بھیج دیا گیا ہے. قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے پروگرام میں جو الزام لگایا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے. ملک منصف اعوان ایڈوکیٹ کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس میں مریم نواز کی ہتک عزت کے ذمرے میں ہرجانے کا دعوٰی بھی کیا گیا ہے.


    مزید یہ بھی پڑھیں
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ


    ادھر دوسری جانب ایڈوکیٹ غفار نامی (@FanAdvghaffar) ٹویٹر ہینڈل کی جس پوسٹ کو قوٹ کرتے ہوئے فواد چودھری نے مریم نواز پرگھڑی لینے کا الزام لگایا تھا تاہم جب مریم نواز شریف نے اس الزام پر ایف آئی اے میں کروائی کا اعلان کیا تو غفار نامی اس صارف نے معذرت کئیے بغیر ٹویٹ ڈیلیٹ کردی۔

  • نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نور مقدم قتل کیس میں اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل بینچ نے ملزمان کی سزاؤں کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رہے گی،عدالت نے ملزمان کی اپیلیں خارج کر دی ہیں شریک مجرموں محمد افتخار اور جان محمد کی سزا کے خلاف اپیلیں بھی خارج کر دی گئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے21 دسمبر2022 کوفیصلہ محفوظ کیا تھا،ظاہر جعفر کی ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا بھی سزائے موت میں تبدیل کر دی گئی،

    واضح رہے کہ مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی، ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے فیصلہ سنایا تھا،عدالت نے شریک ملزمان ظاہر جعفر کے ملازمین جمیل اور افتخار کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ،عدالت نے ملزم کے والدین کو بری کر دیا،عدالت نے تھراپی ورکس ملازمین کو بھی بری کر دیا تھا

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے

    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے

    لندن ، بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے

    لندن میں 6 پراپرٹیز میں بانی متحدہ کی رہائش گاہ اور سابقہ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ بھی شامل ہے ،لندن میں 1کروڑ پاؤنڈ کی پراپرٹیز کا کنٹرول فی الحال بانی ایم کیو ایم کے پاس ہے ،بانی متحدہ کے ساتھیوں نے دعویٰ کیا کہ تمام اختیارات بانی متحدہ کے پاس ہونے کے سبب ان کیخلاف کیس بنتا ہی نہیں،

    بانی ایم کیو ایم کے ہاتھ سے پارٹی قیادت کے بعد پراپرٹیز بھی نکل گئیں ہائیکورٹ آف جسٹس بزنس اینڈ پراپرٹیز آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے جج نے فیصلہ سنا دیا ،دوسرے حصے کی سماعت میں ٹرسٹیز کے کردار کا تعین ،فنڈز کے استعمال سے متعلق فیصلہ ہوگا ،عدالت میں بانی متحدہ کی نمائندگی رچرڈ بلیک کیو سی نے کی،جج کلائیو جونز نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ہی حقیقی ایم کیو ایم ہے ،

    بانی متحدہ کے ساتھیوں کا دعوی تھا 2015کے آئین کے تحت بطور پارٹی لیڈر تمام اختیارات ان کے پاس تھے بانی ایم کیو ایم کا دعویٰ تھا فاروق ستارو دیگر نے بعض قوتوں کے اشارے پر پارٹی کو ہائی جیک کیا ہے

    امین الحق نے بانی متحدہ اور ٹرسٹیز کے خلاف مقدمہ لندن ہائیکورٹ میں دائر کیا تھا بانی متحدہ کی رہائش گاہ سمیت7 پراپرٹیز کی قیمت 12 ملین پاؤنڈز سے زائد ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ پراپرٹیز سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی پر غریب اور ناداروں کا حق ہے، ایم کیو ایم لندن نے آمدن سے غربا کی امداد نہ کرکے شق کی خلاف ورزی کی ہے، ایم کیو ایم لندن کو ان کے غلط استعمال سے روکا جائے۔

    خیال رہے کہ بانی متحدہ کی 22 اگست 2016 کی متنازع تقریر کے بعد انھیں پارٹی قیادت سے علیحدہ کردیا گیا تھا۔

    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول
    پولیس کی بروقت کاروائی، ڈکیتی کی کوشش بنائی ناکام،ملزمان گرفتار
    موٹروے بھونگ انٹرچینج کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

  • 2 منٹ کا کیس ہے،اون یا ڈس اون کریں،ٹیریان کیس میں عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    2 منٹ کا کیس ہے،اون یا ڈس اون کریں،ٹیریان کیس میں عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مبینہ بیٹی کو ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے درخواست پر سماعت کی،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر لارجر بینچ کا حصہ ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل مکمل کر لیے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ابھی تو میں نے دلائل شروع ہی نہیں کیے،میں 5 نکات پر ایک ایک کر کے دلائل دوں گا،عمران خان کے وکیل نے مجموعی طور پر 5اعتراضات اٹھائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے بیان حلفی پر کوئی فائنڈنگز دیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کبھی کوئی فائنڈنگز نہیں دی گئیں، وکیل عمران خان نے کہا کہ اضافی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست پر تحریری جواب جمع کرانا چاہتا ہوں، ہمیں تھوڑا وقت دیدیں، جواب جمع کروا دیں گے،وکیل ابو ذر سلمان نیازی نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر تاریخ سے متعلق پتہ نہیں چلا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو پتہ نہیں لیکن میرا حافظہ بہت تیز ہے،ہم نے کیس کی سماعت کے دوران ہی آج ہی کی تاریخ دی تھی،کیا 2031 کی تاریخ دیدوں میری ریٹائرمنٹ کا سال ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2 منٹ کا کیس ہے،ہر شخص کی پرائیویسی اہم ہوتی ہے، اس کی عزت کرنی چاہئے، آپ نے یہ اون کرنا ہے یا ڈس اون کرنا ہے، بس یہی کیس ہے،آپ ایک موقف لے لیں، ہم آج اس درخواست کو خارج کر دیتے ہیں ،چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار اون یا ڈس اون کر دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا قابل سماعت ہونے پر چلتے رہیں گے تو یہ ایسے چلتا رہے گا درخواست ناقابل سماعت قرار دے بھی دیں تو یہ اگلے انتخابات میں آ جائیں گے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • عمران خان کی سیکیورٹی پر 123 پولیس اہلکارمامور،رپورٹ عدالت پیش

    عمران خان کی سیکیورٹی پر 123 پولیس اہلکارمامور،رپورٹ عدالت پیش

    لاہور ہائیکورٹ ،عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیشی او سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق پنجاب حکومت اور پولیس کی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دی گئی ،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ عمران خان کی سیکیورٹی کے حوالے سے میٹنگ ہوئی جس میں ریویو کیا گیا،عمران خان کی سیکیورٹی پر 123 پولیس اہلکارمامور ہیں، عمران خان کو دو طرح کی سکیورٹی فراہم کررہے ہیں،ایک سکیورٹی عمران خان کی رہائشگاہ پر اور دوسری موومنٹ کے وقت،جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہاکہ سکیورٹی کیلئے فوکل پرسن بنا دیتے ہیں، عدالت نے کہاسی سی پی او لاہور کو فوکل پرسن بنا دیتے ہیں،کیا کہتے ہیں؟

    عدالت کی تجویز پر سرکاری وکلا رضامند تھے جبکہ عمران خان کے وکیل نے اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ سی سی پی او بلال صدیق سے متعلق پوری جماعت کو تحفظات ہیں مجھے کچھ وقت دیں اپنے موکل سے مشاورت کرنا چاہتا ہوں، عدالت نے عمران خان کے وکیل کی اپنے موکل سے ہدایات لینے کی استدعا منظور کرلی عدالت نے عمران خان کے وکیل کو 15 مارچ کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا

    عمران خان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہےجس میں کہا گیا ہے کہ انکی جان کو خطرہ ہے، اسلئے وہ عدالتوں میں بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہونا چاہتے ہیں، عمران خان نے چیف جسٹس کو بھی خط لکھا ہے عمران خان نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کی استدعا کی ہے۔ جبکہ لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہو تو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں حاضری یقینی بنائی جاتی ہے۔ میری زندگی کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے

    دوسری جانب لاہورہائیکورٹ میں عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس لاہو ہائیکورٹ کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے نوٹیفکیشن کی معطلی کے حکم میں 20 مارچ تک توسیع کردی اورپیمرا کے وکیل کو دائرہ اختیار سے متعلق تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کردی

    وزیراعظم شہبازشریف سے امریکی نمائندہ خصوصی جان کیری کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیرخارجہ بلاول  کی میٹا کے عالمی امور کے صدر نک کلیگ سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملنڈا اینڈ بل گیٹس کے بانی بل گیٹس سے ملاقات کی ہے۔

  • توشہ خانہ کیس:عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال

    توشہ خانہ کیس:عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال

    توشہ خانہ کیس،عدالت نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو بحال کر دیے

    سیشن کورٹ اسلام آبا د میں عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی گئی،عدالت نے عمران خان کو 18 مارچ کوپیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی شکایت خارج اور آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا .ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کی، ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا عدالت میں پیش ہوئے۔

    پی ٹی آئی نے دفعہ 144کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دوران سماعت کہا کہ ایسا نہیں ہےکہ عمران خان جان بوجھ کر پیش نہیں ہو رہے، ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشنز دائر کی ہیں، عمران خان کو سکیورٹی تھریٹس ہیں، عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ زخمی بھی ہوئے۔

    وکیل خواجہ حارث نے حاضری سے استثنیٰ کے ساتھ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی شکایت ناقابل سماعت قرار دینےکی استدعا بھی کردی۔خواجہ حارث نے درخواست کی کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے پہلےکیس کے قابل سماعت ہونےکا فیصلہ کیا جائے، عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے توعمران خان کےخلاف شکایت کی نہیں، عمران خان کے خلاف شکایت ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےکی، شکایت میں صرف ہدایات دی گئیں کہ عمران خان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    ظل شاہ کی موت چھپانے پر عمران خان ،یاسمین راشد پر مقدمہ درج

    عمران خان کے وکلا نے فردجرم عائد کرنےکی مخالفت کردی کہا کہ عمران خان کونوٹس جاری ہوں گے،پیش نہ ہونے پروارنٹ جاری ہوسکتے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج تک وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنےکا فیصلہ دیا ہے اورقانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے کی ڈائریکشن دی ہے۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان کو فرد جرم عائد کرنےکے لیے آج طلب کر رکھا ہے، عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ناقابل ضمانت وارنٹ معطل کرکے آج پیشی کا حکم دیا تھا عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی شکایت خارج اور آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی ہے-

    خیال رہےکہ عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکانے اورکاغذات نامزدگی میں مبینہ بیٹی ٹیریان کو چھپانےکےکیسز کی سماعت بھی آج ہونا ہےخاتون جج کو دھمکانےکےکیس کی سماعت سول جج رانا مجاہد رحیم کریں گے، ذرائع کے مطابق اس کیس میں ویڈیولنک کی درخواست کی بنیاد پر استثنیٰ مانگا جائےگا۔

    سی ٹی ڈی کی کارروائی:کے پی او حملے کا ماسٹر مائنڈ ساتھی سمیت ہلاک،2 دہشتگرد …

  • وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا

    اسلام آباد:حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کر دیا-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ریکارڈ اپلوڈ کردیا وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا 2002ء سے 2023ء تک کا 466 صفحات پرمشتمل ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردیا تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔

    ریکارڈ کے مطابق سابق صدر مملکت پرویز مشرف، سابق وزرائے اعظم شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، نوازشریف، راجہ پرویز اشرف اور عمران خان سمیت دیگر کے نام شامل ہیں جبکہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپلوڈ کیا گیا ہے۔

    وزرائے اعظم کے علاوہ وفاقی وزرا، اعلی حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی پبلک کیا گیا ہے۔ کم مالیت کے بیشترتحائف وصول کنندگان نے قانون کےمطابق بغیر ادائیگی کےہی رکھ لیے کیونکہ 2022ء میں 10 ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا۔

    علاوہ ازیں 10 ہزار سے 4 لاکھ روپے تک کے تحائف پندرہ فیصد رقم کی ادائیگی کے ساتھ رکھنے کی اجازت تھی جبکہ 4 لاکھ سے زائد مالیت کے تحائف صرف صدر یا حکومتی سربراہان کو رکھنے کیا اجازت تھی۔

    رواں سال 2023 میں موجودہ حکومت نے 59 تحائف وصول کیے ہیں ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال 2022 میں توشہ خانہ میں 224 تحائف موصول ہوئے، 2021 میں 116 تحائف، 2018 میں 175 تحائف اور 2014 میں 91 جبکہ 2015 میں 177 تحائف حکومتی ذمہ داران نے وصول کیے۔

    جنرل (ر) پرویز مشرف

    ریکارڈ کے مطابق 2004 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، 2005 میں جنرل پرویز مشرف کو ملنے والی گھڑی کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق صدر پرویز مشرف کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اورجیولری بکس ملے جو انہوں نے قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔

    سابق صدر کی اہلیہ بیگم صہبا مشروف کو 6 اپریل 2006ء کو ساڑھے16 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ اگست2007 کو بیگم صہبا مشرف کو ملنےو الے تحائف کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ 3 اپریل 2007 کوبیگم صہبا مشرف کو ملنے والے تحائف کی قیمت ایک کروڑ 48 روپے لگائی گئی جبکہ 31 جنوری 2007 کوجنرل پرویز مشرف کو 14 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔

    شوکت عزیز

    سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو 2005 میں ساڑھے 8 لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو 3 لاکھ 55 ہزارمیں نیلام ہوئی جبکہ انہوں نے سینکڑوں تحائف 10 ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائیگی رکھ لیے تھے۔

    شوکت عزیز کو 27 ستمبر 2007 کو ملنے والی گھڑی کی قیمت ساڑھے تیرہ لاکھ روپے لگائی گئی، بیس دسمبر دوہزار چھ کو شوکت عزیز کو37 لاکھ 64 ہزار روپے کے تحائف ملے جو رکھ لئے گئے جبکہ 2006ء میں انہوں نے ملنے والے کئی تحائف توشہ خانہ میں دے دیے۔ اس کے علاوہ شوکت عزیز کو 2 جون 2006ء کو ساڑھے تیرہ لاکھ روپے مالیت کی گھڑی بھی ملی جبکہ 7 جنوری 2006ء کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو18 لاکھ روپے کے تحائف بھی ملے24 فروری 2010 کو شوکت ترین نے بارہ لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کرائی۔

    اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کو 2005ء میں گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی۔

    ظفر اللہ خان جمالی

    سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیراعظم ہاؤس میں نصب کروایا جبکہ ظفر اللہ خان جمالی کی اہلیہ کو2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 26 لاکھ 34 ہزار 3 سو ستاسی روپے لگائی گئی۔

    ریکارڈ کے مطابق 7 اگست 2006ء کو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو تحائف ملے جو انہوں نے 10 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیے جبکہ مئی 2006 میں سابق وزیرخزانہ عمر ایوب نے ساڑھے چار لاکھ روپے کی گھڑی توشہ خانہ میں دی 16 اگست 2006 کو جہانگیر ترین نے ملنے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروایا۔

    آصف علی زرداری

    ریکارڈ کے مطابق دودسمبر 2008 کو سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ مالیت کی گھڑی کی ادائیگی کرکے خود رکھ لی جبکہ 26 جنوری2009 کو سابق صدرآصف علی زرداری کو دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں ملیں جن کی مالیت پانچ کروڑ 78 اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

    آصف زرداری نے تینوں گاڑیاں 2 کروڑ 2 لاکھ روپے سے زائد ادا کر کے خود رکھ لیں۔ 28 اکتوبر2011 کو آصف زرداری نے 16 لاکھ 15ہزار کے تحائف رکھ لیے جبکہ11 مارچ 2011 کو آصف زرداری کوملنے والے تحائف کی مالیت 10 لاکھ روپے سے زائد لگائی گئی، 13 جون 2011 کو 16 لاکھ مالیتی تحائف ادائیگی کر کے رکھ لئے۔ اس کے علاوہ15 اگست 2011 کو آصف زرداری نے 847,000 روپے کے تحائف خود رکھ لیے۔

    یوسف رضا گیلانی

    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ۔ 23 دسمبر2009 کو خانہ کعبہ کے دروازے کا ماڈل تحفے میں ملا جو انہوں نے 6 ہزار روپے ادا کر کے رکھ لیا جبکہ انہوں نے 21 لاکھ روپے ادائیگی کر کے جیولری باکس رکھ لیا۔

    یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹرنے بھی تحفہ میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔ 17 اکتوبر2011 کو یوسف رضاگیلانی نے انیس لاکھ روپے کے تحائف خود رکھ لئے۔

    دستاویز کے مطابق سابق سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کو 29 فروری 2010 میں سات لاکھ کی گھڑی ملی جو انہوں نے توشہ خانہ میں دے دی،28 دسمبر2010 کو صحافی رئوف کلاسرا نے ایک لاکھ بیس ہزار کی گھڑی توشہ خانہ میں جمع کروائی۔ 5 ستمبر2011ء کو سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے20 ہزار کا کارپٹ توشہ خانہ میں جمع کروایا اور22 دسمبر2011 کو چودہری پرویز الہی نے چار لاکھ سے زائد کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے۔

    نواز شریف

    میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 42 لاکھ 55 ہزار 9 سو 19 روپے لگائی گئی تھی، 20 اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار6 لاکھ 36 ہزار 8 سو 88 روپے ادا کر کے رکھ لی-

    دستاویز کے مطابق نوازشریف نے43ہزار روپے کا گلاس سیٹ اور کارپٹ 6ہزارمیں رکھے، نوازشریف نے وزیراعظم ہوتے ہوئے12لاکھ کی گھڑی ،کف لنک 2 لاکھ 40 ہزار دے کر رکھے، توشہ خانہ سے نوازشریف نے 8 ہزار کا گلدان مفت میں رکھ لیا۔

    شہباز شریف

    وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کو15 جولائی 2009ء میں جتنے بھی تحائف ملے وہ انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیے۔ 10 جون 2010 کو سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے 40 ہزار کی پینٹنگز توشہ خانہ میں جمع کروائیں-

    شہباز شریف نے گائے کا ماڈل، صراحی، وال ہنگنگ، باؤل اور خنجر مفت میں رکھ لیے جبکہ گائے کا ماڈل 8ہزار، صراحی 25ہزار، وال ہنگنگ 17ہزار اور خنجر50ہزار روپے مالیت کے تھے۔

    دستاویز کے مطابق شہبازشریف نے بُک لیٹ 10ہزار، اسٹیڈیم ماڈل 15ہزار توشہ خانہ سے لے کر مفت میں رکھ لیا، شہبازشریف نے پلیٹ کے ساتھ صراحی22ہزار روپے اور آنکس پلیٹ جس کی مالیت 2200روپے تھی فری میں رکھ لی۔

    شہبازشریف نے گھوڑے کا 28ہزار روپے مالیت کا دھاتی مجسمہ فری میں رکھ لیا، شہباز شریف نے چاکلیٹ اور شہد 12ہزار، جار10ہزار روپے کا فری میں رکھ لیا، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں، ازبک مصنوعات کی کتابیں 33ہزار، پینٹنگ28ہزارروپے کی فری میں رکھ لیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے 4لاکھ روپے مالیت کا طلائی گلدان توشہ خانہ سے لیا، انہوں نے طلائی گلدان کیلئے ایک لاکھ 85 ہزار روپے ادائیگی کی، اس کے علاوہ انہوں نے2013 میں بطور وزیراعلیٰ 35ہزار کاڈیکوریشن پیس 5ہزار میں لیا۔

    دستاویز کے مطابق شہباز شریف نےکپ طشتری باؤل 10ہزار، قالین 30ہزارکافری میں رکھ لیاعربی کافی دان 26ہزار،عربی قہوہ دان26ہزار کا فری میں رکھ لیا، مریم نواز،کلثوم اور نوازشریف نے پائن ایپل کا باکس مفت میں رکھا۔

    شاہد خاقان عباسی

    ریکارڈ کے مطابق سال 2018 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑپچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انہوں نے 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    ریکارڈ کے مطابق 2018 میں وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔ علاوہ ازیں 2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئیر وسیم کو20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انہوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

    عمران خان

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو سال 2018 میں قیمتی تحائف موصول ہوئے۔ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2018 میں عمران خان کو 10 کروڑ 9 لاکھ روپے کےقیمتی تحائف موصول ہوئے، سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک عدد ڈائمنڈ گولڈ گھڑی مالیت 8کروڑ 50 لاکھ تھی جو 18 قیراط سونے کی بنی تھی، کلف لنکس مالیت56 لاکھ 70 ہزار روپے، ایک عدد پین مالیت 15 لاکھ روپے، ایک عدد انگوٹھی جس کی مالیت87 لاکھ 5 ہزار ہے، یہ تمام چیزیں 2 کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے میں خریدیں۔

    اس کے علاوہ عمران خان نے عود کی لکڑی سے تیارشدہ بکس اور2 پرفیوم مالیت 5 لاکھ روپے جو بغیر ادائیگی کے حاصل کیں۔ ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 15 لاکھ روپے صرف2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کی گئی۔

    دستاویز کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک رولیکس گھڑی مالیت9 لاکھ روپے ادا کیے، ایک اور لیڈیز رولیکس گھڑی مالیت 4 لاکھ، ایک آئی فون مالیت 2 لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے، عمران خان نے دو جینٹس سوٹس مالیت 30 ہزار،4 عدد پرفیوم مالیت 35 ہزار،30 ہزار،26ہزار،40 ہزارروپے دیے۔

    دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک پرس مالیت 6 ہزار،ایک لیڈیز پرس مالیت18 ہزار، ایک عدد بال پین مالیت28 ہزار روپے ہے، عمران خان نے صرف3 لاکھ 38 ہزار 600 روپے ادا کرکے حاصل کیے۔

    ستمبر 2018 میں سابق وزیراعظم کے چیف سیکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ 27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیئے تھے۔

    صدر عارف علوی

    صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں 1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی ، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے ، جس میں سے انہوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے۔ اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔

    وزارت خارجہ کے چیف پروٹوکول آفیسر مراد جنجوعہ کو 29 جنوری 2019 کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی، جو انہوں نے رقم ادائیگی کے بعد رکھ لی۔