کرم ایجنسی:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ضلع کرم کے علاقے اراولی میں دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا، فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید ہوگئے۔
شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔مارے گئے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم رہے۔
دہشت گردوں کی فائرنگ کے تبادلے میں صوبیدار شجاع محمد (عمر 43 سال سکنہ خیرپور)، نائیک محمد رمضان (عمر 32 سال سکنہ خضدار) اور سپاہی عبدالرحمان (عمر 30 سال سکنہ سکھر) نے بہادری سے مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا
آئی ایس پی آر کی طرف سے بتایا گیاہے کہ علاقے میں پائے جانے والے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی صفائی کی جا رہی ہے۔اس بات کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
لاہور:الیکشن کب ہوں گے اس حوالے سے عمران خان کو پتہ ہےکہ وقت سے پہلے نہیں ہوں گے ،ایک سوال کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ یہ شخص جھوٹا اور منافق ہے کبھی کہتا ہےکہ میرا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ نہیں ، اس سے کون رابطہ کرے گا ، اس کی حیثیت کیا ہےکہ کوئی اس سے رابطہ کرے،اس بات کو آگے بڑھاتےہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کے گھر میں کیا ہوگیا، اس کو شرم آنی چاہیے پہلے اپنے گھر کی خبر لے پھردوسروں کی بات کرے،اس شخص نے ملک تباہ کرکے رکھ دیا ہے
ایک سوال کے جواب میں جس میں پوچھا گیا کہ آڈیو لیک پر عمران خان کا کیا ردعمل آئے گا تو مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ جب مریم نواز اور پرویز رشید کی خفیہ آڈیو لیک ہونے پر کیا کہتا تھا سب کو علم ہے، خود ریاست مدینہ کا نام لیتا ہے اور پھردوسروں کے حوالے سے اس کی سوچ منفی ہے ، وہ جھوٹ بول رہا ہے ،مجھے یہ بھی پتہ نہیں کہ اندر سے مسلمان بھی ہے یا کہ نہیں،اس کی حرکتیں دیکھ کرگھن آتی ہے،
ٹیکنوکریٹ حکومت کے آنے کے حوالےسے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد ایک سال تک کے لیے ایک ایسا سیٹ اپ ہو جو سابق حکومت کی طرف سے پھیلائی گئی معاشی تباہی کو ٹھیک کرسکیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت کو لانے کا مقصد عمران خان کی طرف سے پہنچنے والےنقصان کا ازالہ کرنا ہے
عمران خان کی نااہلی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتےہوئے کہا ہے کہ خواجہ آصف ہی نہیں میں خود یہ سمجھ رہا ہوں کہ وہ نااہل ہوکررہے گا،ک ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کو توشہ خانہ کیس ، ٹیریان اور فارن فنڈنگ کے کیسز میں نااہل ہونا ہے اور یہ بہت جلد فیصلہ ہونے والا ہے
ایک اور سوال کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری جسے ڈبو اسمبلی میں بھی ڈبو کہہ کر بلایا جاتا تھا ،اس کی حیثیت کیا ہے، جو یہ کہے کہ فوج کی بجائے شہبازشریف سے بات کی جائے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ شخص جن سے فیض یاب ہوا ان کی کرپشن کی کہانی بھی سامنے آنے والی ہے کہ چکوال میں فارم ہاوس میں ہزار ہزار روپےکے مہنگے پودے کس طرح لائے گے ، سب کچھ کھلنے والا ہے
مفتاح اسمٰعیل کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ خود اسحاق ڈار کے خلاف نہیں بول رہے بلکہ اس کے پیچھے شہبازشریف کا ہاتھ ہے، ن لیگ میں دو گروپ ہیں ایک نوازشریف اور دوسرےکو سب جانتےہیں،اسحاق ڈار کے حوالےسے ایک سوال کا جواب دیتےہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے جو تباہی پھیلائی ہے اس کو اسحاق ڈار توبتا سکتے ہیں مگرباقی ن لیگ میں اتنے اہل نہیں کہ وہ عمران خان کےخلاف بیانیے میں جان ڈال سکیں
سلیم صافی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتےہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جب وزیراعظم کا فیصلہ ہورہا تھا توجنرل باجوہ نے مجھے ، حامد میر ، ارشاد بھٹی ، سلیم صافی سمیت دیگرکئی صحافیوں کو بلایا تھا تو اس وقت سلیم صافی نے عمران خان کی وزیراعظم کی حیثیت سے باجوہ کے فیصلے کی مخالفت کی تھی لیکن اس وقت میں نے اس کو سمجھایا کہ ایک مرتبہ اس کو آنے دیں پھر دیکھیں گے کہ کیسے آگےچلنا ہے،
کیا پی ٹی آئی اسمبلی میں واپس آنےکے حوالےسے کوئی گیم کررہےہیں ، اس کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے مراعات لے رہے ہیں، لیکن عوام کے کام نہیں کررہے،بلاول بھٹو ایک سمجھدار سیاستدان ہیں وہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے اسمبلی آئیں انکو بات مان لینی چاہے
سپریم کورٹ نے عمران خان کی حق دفاع کی درخواست مسترد کردی
جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سنا دیا شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے پر حق دفاع ختم کرنے کے خلاف عمران خان کی اپیل پر سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوئی، وکیل شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے وکیل نے اعتراضات دائر کیے مگر دعوی پر جواب داخل نہ کیا مئی 2022 سے لیکر نومبر 2022 تک عمران خان کا وکیل جواب جمع کرانے کے لیے بار بار التوا مانگتا رہا ٹرائل کورٹ عمران خان کے وکیل کو بار بار جواب داخل کرنے کا حکم دیتی رہی یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے زخمی ہونے کی وجہ سے حلف نامہ پر دستخط نہ کراسکے۔جواب داخل کرنے کی ہدایت سے حق دفاع ختم ہونے تک ٹرائل کورٹ میں 21 سماعتیں ہوئیں۔21 میں سے 13 سماعتوں پر عمران خان کے وکلا نے التوا لیا عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔اصل میں عمران خان کے پاس اب کوئی راستہ نہیں رہ گیا۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کیا جسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، ہائیکورٹ نے بھی دفاع کا حق ختم کرنے کے خلاف درخواست خارج کر دی، سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور حق دفاع بحال کرنے کا حکم دے ،شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے عمران خان نے شہباز شریف پر پانامہ کے معاملے پر رشوت کی افر کا الزام لگایا تھا
نور مقدم قتل؛مرکزی ملزم کی امریکی شہریت ریکارڈ پر لانے کی درخواست مسترد
نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم کی جانب سے امریکی شہریت کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست مسترد کردی گئی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی درخواست کی سماعت کی، جس میں غیر ملکی شہریت کی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی استدعا کی گئی تھی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ غیر ملکی شہری ہونا ریکارڈ پر آبھی جائے تو کیا فرق پڑے گا؟۔ اگر ظاہر جعفر امریکی شہری ہے تو کیا ہوا؟ کیا آپ امریکی شہری بتا کر کوئی رعایت لینا چاہتے ہیں؟کیا آپ چاہتے ہیں کوئی بھی باہر سے آئے اور بندہ مار کر چلا جائے؟۔ کیا آپ پاکستان کو ایسے لوگوں کی جنت بنانا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ اس کیس میں یہاں پاکستان کا قانون چلے گا۔ عدالت نے امریکی شہریت کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست مسترد کردی۔
قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے
اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے
.سیلاب زدگان کی بحالی اورتبدہ شدہ انفرااسٹرکچرکی تعمیر ایک بڑا چیلنج ہے. وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آخری سیلاب زدہ شخص کی بحالی تک چین سےنہیں بیٹھوں گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت جنیوا میں منعقد پاکستان کانفرنس کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں اسحاق ڈار، ایاز صادق، احسن اقبال، شیری رحمان، مریم اورنگزیب، حناربانی اور دیگرشریک ہوئے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے رواں سال سینکڑوں جانیں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، سیلاب زدگان کی بحالی اورتبدہ شدہ انفرااسٹرکچرکی تعمیر ایک بڑا چیلنج ہے، وعدے کے مطابق آخری سیلاب زدہ شخص کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔
قومی اسمبلی سے استعفوں اور وزیراعلی پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا معاملہ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی کی سینئر قیادت کا اجلاس آج زمان پارک میں طلب کرلیا
اجلاس شام 4 بجے عمران خان کی زیر صدارت ہوگا۔قومی اسمبلی سے استعفوں کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے معاملات زیر بحث آئیں گے 2 جنوری کو ہونے والے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس پر مشاورت ہوگی۔اجلاس میں ملک میں جاری معاشی ۔توانائی کے بحران سمیت دیگر معاملات پر عمران خان گائیڈ لائن دیں گے پی ٹی آئی کے چئیرمن عمران خان اجلاس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے بھی آگاہ کریں گے
دوسری جانب سابق اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے نمائندہ وفد کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد ہوئی، ،اسپیکر قومی اسمبلی نے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر خیر مقدم کیا ،ملاقات میں پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی ٹی آئی کے وفد میں اسد قیصر ، قاسم خان سوری اورملک عامر ڈوگرشامل تھے ،امجد خان نیازی ، فہیم خان ، ڈاکٹر شبیر حسن لال چند ملہی، عطاء اللہ اورطاہر اقبال بھی شامل تھے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے نشستوں سے استعفوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ۔سیاست میں دروازے بند نہیں کئے جاتے سیاست دانوں میں رابطے ہونے چاہیے ،استعفوں کے تصدیق کے حوالے سے آئین پاکستان اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ،استعفوں کے لئے تمام ممبران کو انفرادی طور پر بلایا جائے گا ،پہلے بھی پی ٹی آئی ممبران کو استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے مدعو کیا گیا تھا ،پی ٹی آئی کے کراچی سے ایک رکن اسمبلی نے استعفیٰ کی منظوری روکنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ،
اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کی اجتماعی استعفے منظور کرنے کی درخواست مسترد کردی،اسپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی وفد کو جواب دیا کہ ایک ایک کرکے پیش ہوں تصدیق کریں استعفے منظور ہو جائیں گے، اسپیکر راجہ پرویز اشرف اور پی ٹی آئی وفد کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہو گئی،
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ آج پی ٹی آئی کے ایک وفد سے بہت اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ۔انہوں نے اپنا موقف میرے سامنے رکھا پی ٹی آئی نے کہا 127 ارکان کے استعفے منظور کیے جائیں۔ میں نے کہا کہ کچھ قواعد و ضوابط اور حدود ہیں آرٹیکل 64 میں لکھا ہے استعفی ہاتھ سے لکھا ہو،قواعد کے مطابق اسپیکر استعفی کی تصدیق رکن کو ذاتی حیثیت میں بلا کر کرے گا اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ یہ دیکھے کہیں رکن پر دباؤ تو نہیں تھا پی ٹی آئی کے کچھ ارکان عدالت میں بھی گئے کہ ہم نے استعفیٰ نہیں دیا کچھ ارکان نے چھٹی کی درخواست بھی بھیجی،پارٹی کی اگر کوئی سیاسی پوزیشن ہے تو وہ الگ بات ہے اسوقت ملک کو مفاہمت کی ضرورت ہے پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واپس آنے کی دعوت دی ہے،میں نے 11 استعفوں کی منظوری میں پک اینڈ چوز نہیں کیا ،صرف وہی استعفے منظور کیے جنہوں نے ہاتھ سے استعفی لکھا اور ہائوس یا میڈیا میں استعفوں کا اعلان کیا میں نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو میں تمام ارکان کو دوبارہ خط لکھ دیتا ہوں ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں اجتماعی استعفے منظور کروں ملکی مسائل استعفوں سے نہیں بلکہ ایوان میں بیٹھنے سے حل ہونگے
سابق اسپیکر اسد قیصر اور پی ٹی آئی میمبران نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری اسپیکر کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے ہمارے سارے ایم این ایز ساتھ تھے اسپیکر کو کہا کہ کیا 11 ایم این اے آپکے پاس آئے اسپیکر کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا اسپیکر کا کہنا تھا کہ ٹویٹ آئی ہوئی تھی الیکشن کا انکو پتا نہیں انہوں نے اسلام آباد کے الیکشن ملتوی کر دیئے عوام میں انکی حیثیت انکو معلوم ہوگئی ہے معاشی ایمرجنسی لگائی جارہی ہے اسپیکرقومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفے غیرقانونی طور پر روک رکھے ہیں،قاسم سوری جب اسپیکر تھے انہوں نےاستعفوں کی منظوری کا پراسس مکمل کیا تھا،
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ہوئی
تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کا چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہو گیا ہے،عدالت نے اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید چودہ روز کی توسیع کردی جوڈیشل مجسٹریٹ نصیر الدین نے کیس کی سماعت کی اعظم سواتی کیس کا چالان پیش نہ ہو سکا عدالت نے اعظم سواتی کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی
جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل اسپیشل جج سینٹرل محمد اعظم خان کی عدالت نے متنازع ٹویٹ کیس میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی. گزشتہ دنوں کی سماعت میں پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے اورٹویٹر پر اکاؤنٹ ویری فکیشن کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ اعظم سواتی کے اکاؤنٹ پر بلو ٹِک ہے، انہیں مشہور شخصیات نے ٹویٹر پر فالو کیاہوا،جن میں سیاسی اور صحافتی شخصیات شامل ہیں۔پراسیکیوٹر اور سرکاری وکیل نے دلائل میں درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کبھی انکاری نہیں ہوئے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹوئٹر اکاؤنٹ اعظم سواتی ہی کا ہے۔ اعظم سواتی نے افواجِ پاکستان کے خلاف ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
لاہور:امریکہ ، برطانیہ،آسٹریلیا اور سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو پاکستان جانے سے روکنے کے لیے ایڈوائزری جاری کررکھی ہے۔ایک اور ملک نے بھی پاکستان کواپنے شہریوں کےلیے خطرناک ملک قراردیا ہے، اس حوالے سے جاری ایڈوائزری میں دہشت گردانہ حملے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں مقیم ہالینڈ کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں جانے سے گریز کریں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر امریکہ نے گزشتہ دنوں اپنے شہریوں کو وارننگ جاری کی تھی۔ امریکہ کی جانب سے کہا گیا کہ نامعلوم افراد ممکنہ طور پر تعطیلات کے دوران اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لہٰذا وہ میریٹ ہوٹل اور اسلام آبادجانے سے گریز کریں۔ امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی ایسا ہی مشورہ دیا ہے۔
برطانیہ کے فارن ، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے پاکستان کا سفر کرنے والے برطانوی شہریوں کے لیے ٹریفک ایڈوائز جاری کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ باجوڑ ، مہمند ، خیبر ، اورکزئی ، کرم ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان صوبہ خیبر پختونخواہ کا سفر نہ کریں۔ آسٹریلیا نے بھی اپنے شہریوں کے لیے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کا سفر محدود کریں۔ آسٹریلیا کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔
امریکہ ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے بعد اب سعودی عرب نے اپنے شہریوں کے لیے پاکستان کی غیر ضروری نقل و حرکت روکنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ سعودی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے احتیاط کریں۔ پاکستان میں مقیم سعودی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد کا سفر محدود رکھیں اور اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں جانے سے گریز کریں۔ اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سعودی حکام نے سیکیورٹی الرٹ کو اعلیٰ ترین سطح پر بڑھا دیا ہے۔
راولپنڈی:آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیرصدارت دو روزہ کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیے جاری کردیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں فوج کے پیشہ ورانہ اور تنظیمی امور کا جامع جائزہ لیا گیا۔ کورکمانڈرکانفرنس27سے28دسمبرتک جاری رہی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں عسکری قیادت نے قومی امنگوں کے مطابق دہشتگردوں کیخلاف بلاتفریق لڑنے اور لعنت ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترجمان کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی مبینہ محبت بھری کال سامنے آئی ہے
اس نئی آڈیو لیک میں السلام علیکم سے بات شروع ہو تی ہے، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی نے زلفی بخاری کو کال کی کیونکہ پہلے ہپلو اور سلام بشریٰ بی بی نے کیا، بشری بی بی کہتی ہیں، کیسے ہیں، آپ زلفی بخاری کہتے ہیں کہ ٹھیک ہوں، مرشد آپ کیسی ہیں، بشریٰ بی بی کہتی ہیں اللہ کا شکر ہے، خان صاحب کی کچھ گھڑیاں ہیں،انہوں نے کہا ہے کہ
آپ کو بھیج دوں، آپ انکو کہیں بیچ دیں، آپ ٹھیک تو ہیں،کہاں ہیں آپ ، کوئی افیئر تو نہیں چل رہا آجکل،جس پر زلفی بخاری کہتے ہیں کہ افیئر نہیں مرشد نہیں، میرا افیئر نہیں چل رہا میرا ابھی، جس پر بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ جھوٹ بول رہے ہو،زلفی بخاری کہتے ہیں کہ نہیں نہیں آپ خود چیک کر لیں، ایسا کچھ نہیں ہے ، بشریٰ بی بی زلفی بخاری کو مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ چیک، شکل سے تو لگ رہا ہے، مجھے آپ کی بات پر یقین ہی نہیں ہے،زلفی بخاری کہتے ہیں کہ نہیں وہ تو….بشریٰ بی بی نے زلفی بخاری کی بات کاٹی اور کہا کہ اب یہ چیزیں میں چیک تو نہیں کروا سکتی ،یہ غلط فہمی ہے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں نا کہ مجھے کوئی ایسا نہیں ملا ،کوئی بات چیت کرنے والا اور یہ وہ،یہ کوئی آپکی غلط فہمی ہے،زلفی بخاری کہتے ہیں کہ لیکن مرشد بندہ ترستا تو ہے ناں،خوش نصیب ہوتے ہیں آپ، بشریٰ بی بی نے کہا کہ نہیں نہیں ،وہ سول میٹ نہیں مل سکتی،یہ جب ہم لڑتے ہیں تب بھی نہ سر کو پٹتے ہیں،ایک دوسرے کو فٹا فٹ مناتے ہیں،کہ اپنا بوجھ ہٹا دیں، تو سول میٹ ہرایک کی قسمت میں نہیں ہوتی ہے یہ میں آپکو بتا دوں،
زلفی بخاری کہتے ہیں کہ نہیں وہ نہیں ہے، لیکن مرشد میں آپکو بتا دوں بات چھڑ ہی گئی ہے تو….بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ بہت ایسے لوگ میں نے دیکھے ہیں، میان بیوی بہت ذہین ہوتے ہیں،ہر چیز ان کی این کے مطابق چل رہی ہوتی ہے لیکن بیزار ہوتے ہیں، ہمارے رشتے کی …
زلفی بخاری درمیان میں بشریٰ بی بی کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ کوئی لڑکی یا ایسا کچھ بھی نہیں،وہ جو تھا وہ پہلے تھا، ایک ہفتے ، دو ہفتے یا تین ہفتے تھے، فیک چیز ایسی نکلی میں نے وہ چینج کر لی،بشریٰ بی بی کہتئ ہیں کہ نہیں نکلی نہیں، نکل گئی تھی آپکی ایک چیز،ایک چیز نکلی نہیں،پورے زمانے میں آپ مشہورہو چکے ہوئے تھے،
زلفی بخاری کہتے ہیں کہ تو پھر میں بھی چاہتا ہوں کہ کوئی ہو جس کے اوپر میں فون پر دن میں دس دفعہ آپ سے بات کرتا تھا پہلے، کسی سے تو کچھ بولوں،بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ یہ جو آجکل کی لڑکیاں ہیں یہ صرف دیکھنے میں، چند مہینے بات کرنے کے لئے توٹھیک ہیں لیکن ویسے زندگی آپ ان کے ساتھ ..جس پر زلفی بخاری کہتے ہیں کہ نہیں یہ سو فیصد صحیح ہے، آپ صحیح کہہ رہی ہیں
واضح رہے اسے قبل بھی بھی زلفی بخاری اور بشری بی بی کی مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے ،آڈیو میں بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ خان صاحب نے کہا ہے کہ ان کی کچھ گھڑیاں ہیں انہیں بیچ دیں،:گھڑیاں خان صاحب کے زیراستعمال نہیں، زلفی بخاری نے بشری بی بی کو جواب دیا کہ ضرور مرشد کردوں گا،