Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم کی مملکت بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    وزیراعظم کی مملکت بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    وزیراعظم شہباز شریف کی مملکت بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے

    شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان میں موسمیاتی سیلاب کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے اقدامات کو سراہا. وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے دوستانہ اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شاہ حمد نے بحرینی قیادت کی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔

    دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا.

    قبل ازیں کابینہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی بچت پلان کے نفاذ کے لئے صوبوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے، ہمیں بحیثیت قوم توانائی کے حوالے سے کفایت شعاری اپنانے کی اشد ضرورت ہے،اس سلسلے میں ہمیں اپنے رویے اور اطوار بدلنے کی فوری ضرورت ہے،ایندھن کی مد میں امپورٹ بل میں کمی کے لیے توانائی بچت پلان پر عمل درآمد اور متبادل توانائی کا استعمال ناگزیر ہے، وزیراعظم نے وزیر توانائی کو ونڈ پاور کی استعداد کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ،وزیراعظم نے سرکاری دفاتر میں بجلی کی کھپت کو 30 فیصد کم کرنے کے حوالے سے کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی، کمیٹی میں وفاقی وزیر توانائی،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، وزیر مملکت برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل اور متعلقہ سیکرٹریز شامل ہوں گے

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو حقائق بیان کرنے سے نہیں روک سکتا

    مبشر لقمان کی فیک آڈیو ٹویٹ کرنے پر ملزم شہزاد گل کیخلاف ایف آئی اے میں درخواست دے دی گئی

  • پانچ فیصد بول دیا،چھپنے کی جگہ نہیں ملنی،جنرل باجوہ تپ گئے،28سالہ ناجائز بیٹی

    پانچ فیصد بول دیا،چھپنے کی جگہ نہیں ملنی،جنرل باجوہ تپ گئے،28سالہ ناجائز بیٹی

    لاہور:عمران خان اور ریٹائرڈ جنرل باجوہ کے درمیان معاذآرائی بڑھتی جارہی ہے ، اس حوالے سے سنیئرصحافی کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، ان کا کہنا ہےکہ ان کی اطلاعات کے مطابق سابق ریٹائرڈ جنرل باجوہ کا کہنا ہےکہ اگرانہوں نے پانچ فیصد بھی کچھ بتادیا تو ان کےمخالفین کی آنکھیں کھل جائیں گی، جاوید چوہدری کی اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سینیئر صحافی مبشرلقمان نے کہاکہ جنرل صاحب 5 فیصد کی بات کرتےہیں میں کہتا ہوں کہ اگر انہوں دو فیصد بھی بتا دیا تو بات کہیں سے کہیں تک پہنچ جائے گی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عرب ممالک ہم سے ناراض اسلیے ہیں‌کہ ہم نے ان کی طرف سے دیئے گئے تحائف ہی بیچ ڈالے ، یہ باتیں کرتا ہے صلح کروانے کی کون اس کی بات سنتا ہے ،ابھی تو ہیکر بتا رہا ہےکہ بہت کچھ آنے والا ہے ، پتہ نہیں کہ کیا کیا چیزیں پیش کی جائیں گی

    عمران کے بلاول بھٹو سےمتعلق ایک بیان پر مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا یہ کہنا کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کو پاکستان کی سلامتی کا اسٹیک ہولڈر بنادیا گیا ہے، اس پر ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کے دورحکومت میں پاکستان کو مسائل سے دوچار ہونا پڑا آج وہ یہ سبق دے گا کہ سیکورٹی کا معاملہ ہے، اس شخص نے عرب دنیا کی گھڑیاں بیچ دیں ، سعودی عرب اس لیے ناراض ہے کہ ہم کبھی ایران کے ساتھ کبھی کسی اور کے ساتھ ، چین سی پیک بند کروانے کے معاملے پر ناراض ، ایران بھی ناراض اور یہ اپنی کوتاہیوں کا مورود الزام دوسروں کو ٹھہراتا ہے ،یہ کہتا ہے کہ میں ایران اور سعودی عرب کی صلح کرواتا ہوں اسے کون پوچھتا ہے محمد بن سلمان کو ناراض کیا اس نے مجبورا طیارہ اور منگوایا اور پھر واپس چلا گیا،

    ایک سوال کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی خارجہ پالیسی بڑی متوازن ہے ، اس نے مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کی ہیں ، وہ پاکستان کا بہتر انداز سے کیس پیش کررہا ہے ،ان کایہ بھی کہنا تھاکہ بلاول نے نا کردار کشی کی اور نہ غلط زبان استعمال کی اورپاکستان کی بہترین انداز سے وکالت بھی کی،ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھایا مگرپھراس مسئلے کے حل کے لیے کچھ نہ کرسکا ،

    پاک فوج کی موجودہ قیادت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ عمران خان نے پارتی رہنماوں اور کارکنوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ پاک فوج کی قیادت کے‌خلاف کسی قسم کا بھی رویہ اختیار نہ کریں‌،ان کا کہنا تھا کہ یہی کام اگر جنرل باجوہ کے دور میں ہوتا تو آج یہ صورت بہتر ہوتی

    الیکشن کمیشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جس میں الیکشن کمیشن کی وجہ سے سیاستدانوں سے کہا ہے کہ وہ دسمبرکے آخر تک اپنے گوشوارے اور ڈاکومنٹس بھیج دیں ، اس کا جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ عمرا ن خان ٹیریان کو تو نہیں بتائے گا، پہلے اس نے کون سا بتایا ہے ، پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کےخلاف عدم اعتماد کے حوالےسے ان کا کہنا تھاکہ ابھی تک نو دس لوگ ملک سے باہر ہیں اور وہ فون بھی نہیں اٹھا رہے، پھر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے متعلق ووٹنگ بھی خفیہ ہوتی ہے ، کس پر الزام لگائیں گےکہ فلاں نے ووٹ نہیں دیا ، قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے استعفوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ پی ٹی آئی والے ایم این ایز جھوٹے ہیں ،نافق ہیں، مراعات لے رہےہیں اور الزام دوسروں پر لگا رہے ہیں، اور الزام اسپیکر پر لگارہےہیں

    ان کا ایک سوال کے جواب میں کہناتھا کہ اس ملک میں ہرکوئی کرپٹ ہے، ہرکوئی داولگا رہا ہے ، یہی حال حکمرانوں کا ہے ، حکمران بھی اپنی مرضی سے لوگوں کو لگا رہے ہیں اور ہٹا رہے ہیں، اس ملک میں معاملات ویسے ہی بہت بگڑ چکے ہیں ،ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ جب کوئی پارتی بدلتا ہے اس کو لوٹا کہتےہیں ، پارٹی بدلنا جرم ہے تو قائد اعظم نے بھی پارٹی بدلی ہے ، علیم خان سے چوہدری پرویز الہی کی ملاقات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں نمبرز گیم کا معاملہ ہے اور علیم خان بہتر کردار ادا کرسکتےہیں

    پاکستان میں سابق وزرائے اعظم قتل ہوگئے مگر آج تک ان کے قاتل نہیں پکڑے گئے ، بے نظیر قتل ہوگئیں یہ خلاپورا نہیں ہوسکتا ، ہمارے ہاں قاتل نہیں پکڑے جاتے ،یورپ میں اگرکوئی قتل ہوجائے تو وہ اس کی تہہ تک جاتے ہیں ، اسد عمرکے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان نے کہا کہ اسد عمر غلط بیانی کررہےہیں، مولانا طارق جمیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کو تیسری بار ہارٹ اٹیک ہوا ہے اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے

  • وفاقی کابینہ کا دہشتگردی کے خلاف مسلسل جدوجہد پرسیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    وفاقی کابینہ کا دہشتگردی کے خلاف مسلسل جدوجہد پرسیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ نے حکومت پنجاب کی جانب سے سینئر پارلیمنٹیرین چوہدری اشرف کو 53 سالہ پرانے کیس میں گرفتار کرنے پر افسوس کا اظہار کیا،وفاقی کابینہ نے چوہدری اشرف کی گرفتاری کی مذمت کی،وفاقی کابینہ نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دہشتگردی واقعات میں شہید افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی، وفاقی کابینہ نے عزم کیا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ہشت گردی کی عفریت کو جڑ سے ختم کر دیا جائے گا، وفاقی کابینہ نے دہشت گردی کے خلاف مسلسل جدوجہد پرسیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ توانائی بچت پلان پر بحث کی گئی، اجلاس کو مذکورہ توانائی بچت پلان کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہوئی اب تک کی کی گئی مشاورت پر بریفنگ دی گئی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت اطلاعات ونشریات اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنورزیشن اتھارٹی نےتوانائی بچت اور کفایت شعاری پر مہم تیار کرلی، وفاقی کابینہ کو وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے الیکٹرک بائیکس کے استعمال کو عام کرنے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کو مرحلہ وار الیکٹرک بائیکس سے تبدیل کیا جائے گا اس وقت پاکستان میں 90 کمپنیاں موٹر سائیکلز اور آٹو رکشاز بنا رہی ہیں،ملک میں سالانہ 6 ملین موٹر سائیکلز بنانے کی صلاحیت موجود ہے،22 کمپنیوں کو الیکٹرک بائیکس بنانے کے لائنسنز جاری کیے جا چکے ہیں پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کے فروغ سے ایندھن کی مد میں خاطرخواہ بچت ہوگی،ماحول دوست الیکٹرک بائیکس کاربن کے اخراج میں کمی کا باعث بھی بنیں گی، وزیراعظم نے الیکٹرک بائیکس کے حوالے سے تفصیلی پلان اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے سویابین کی رپورٹ کی حتمی منظوری دے دی وفاقی کابینہ نے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کمرشل ٹرانزیکشن ایکٹ 2022 کی منظوری دے دی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو حقائق بیان کرنے سے نہیں روک سکتا

    مبشر لقمان کی فیک آڈیو ٹویٹ کرنے پر ملزم شہزاد گل کیخلاف ایف آئی اے میں درخواست دے دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی بچت پلان کے نفاذ کے لئے صوبوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے، ہمیں بحیثیت قوم توانائی کے حوالے سے کفایت شعاری اپنانے کی اشد ضرورت ہے،اس سلسلے میں ہمیں اپنے رویے اور اطوار بدلنے کی فوری ضرورت ہے،ایندھن کی مد میں امپورٹ بل میں کمی کے لیے توانائی بچت پلان پر عمل درآمد اور متبادل توانائی کا استعمال ناگزیر ہے، وزیراعظم نے وزیر توانائی کو ونڈ پاور کی استعداد کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ،وزیراعظم نے سرکاری دفاتر میں بجلی کی کھپت کو 30 فیصد کم کرنے کے حوالے سے کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی، کمیٹی میں وفاقی وزیر توانائی،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، وزیر مملکت برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل اور متعلقہ سیکرٹریز شامل ہوں گے

  • پہلے پی ٹی آئی حکومت الیکشن نہیں کروانا چاہتی تھی اب یہ نہیں کروا رہی،عدالت

    پہلے پی ٹی آئی حکومت الیکشن نہیں کروانا چاہتی تھی اب یہ نہیں کروا رہی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کیوں ملتوی ہوئے؟ پہلے پی ٹی آئی کی حکومت الیکشن نہیں کروانا چاہتی تھی اب یہ حکومت نہیں کروا رہی، پورے شہر کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے ،حکومت نے جلد بازی میں نوٹیفکیشن میں اسلام آباد کی آبادی 20کروڑسے زائد کردی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ نوٹیفکیشن میں زیادہ آبادی کلریکل غلطی تھی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوکل باڈیز کا فنڈ ایڈمنسٹریٹراور ی ڈی اے کیوں استعمال کرے؟ میں نے اپنے فیصلے میں بڑا واضح لکھا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر یہ فنڈ استعمال نہیں کریگا، اسلام آباد کو یرغمال بنا دیا ہے، لوگوں کو پانی تک نہیں مل رہا،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا حکومت بیان حلفی کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دے سکتی ہے؟ کیا حکومت بتا سکتی ہے کہ اتنے عرصے میں نئی حلقہ بندیاں کر کے الیکشن کروا دینگے؟کیا وفاقی حکومت الیکشن کے شیڈول کے اعلان کے بعد یونین کونسلز کی تعداد بڑھا سکتی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے فیصلہ دیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے تو الیکشن کمیشن کو اپروچ ہی نہیں کیا، یہ تو عدالت نےبھیجا، کیاجو لوگ بلا مقابلہ منتخب ہو چکے کیا انکو بھی ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا؟ لوگوں نے تو خاندانوں میں کتنی لڑائیاں کر لی ہونگی، اب انتخاب ملتوی ہو گئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات قانون سازوں کو سمجھ نہیں آ رہی، پارلیمنٹ سے معاملات ہینڈل نہیں ہوتے تو وہاں نہ بیٹھیں ہم نے آرڈیننس فیکٹری تو نہیں بنانی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ بلدیاتی قانون سے متعلق ایک ترمیم پارلیمنٹ سے پاس ہو چکی ہے، صدر پاکستان کی جانب سے ترمیم پر دستخط ہونا باقی ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخاب ملتوی کیے ہیں؟ یہ انتخابات اس لیے ملتوی ہوئے ہوں کہ بلدیاتی انتخابات پہلے ہونے ہیں؟اس وقت قومی خزانے سے 50 ساٹھ کروڑ روپیہ خرچ ہو چکا ہے اگر پارلیمنٹ کچھ دن بعد نیا قانون بنانا شروع کر دے تو الیکشن پھر ملتوی ہو جائیں گے؟

    اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواست غیر موثر قرار دے دی گئی،

    اسلام آباد میں 25 مختلف مقامات پر عارضی حفاظتی چیک پوسٹس قائم
    بینظیر بھٹو نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کیلئے جدوجھد کی. وفاقی وزیر شازیہ مری
    آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات عوام کے لیے ناقابل برداشت ہیں،وفاقی وزیر احسن اقبال

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا تحریری فیصلہ اور نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے جب کہ الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان نے بلدیاتی قانون میں ترامیم کرکے صدر کو بھجوا دی ہیں، نئی ترامیم کے مطابق میئر کا انتخاب براہ راست اور پولنگ ایک ہی دن ہوگی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات تا حکم ثانی ملتوی کر رہا ہے،اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔

  • اپنی سستی سیاست کیلئے ملک کو نقصان پہنچا رہے۔ اسحاق ڈار

    اپنی سستی سیاست کیلئے ملک کو نقصان پہنچا رہے۔ اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا بند کیا جائے ہم ہوں یا نہ ہوں یہ ضرور آگے جائے گا.

    پاکستان اسٹاک ایکچینج کی تقریب سے خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ساتھ کئی سال کا تعلق ہے، ملکی ترقی کے لیے پاکستان کا کاروباری طبقہ حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، ہم ملکی معیشت کی بہتری کے لئے کوشاں ہیں، ہمیں کارپوریٹ سیکٹر کی طرف توجہ دینےکی ضرورت ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ایس ای سی پی پر توجہ نہیں دی گئی، وزارت خزانہ کی ذمہ داری سنبھالی تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر اسی ای سی پی پر توجہ دی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ 3ماہ سے ایک بات روز سنتے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا، یہ ماضی کا پاکستان نہیں، کیوں ڈیفالٹ کرجائے گا، لوگ اس طرح کی باتوں پر توجہ نہ دیں، لوگوں کو ڈرا کر رکھا ہے کوئی سونا تو کوئی ڈالر خرید رہا ہے، لوگوں کو اس ڈر سے نکالنا ہوگا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مجموعی قرضےجی ڈی پی کے 72 فیصد ہیں، کئی ممالک کے قرضے ان کی جی ڈی پی سے زیادہ ہیں وہ تو ڈیفالٹ نہیں کررہے، ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک نیچے چلا جاتا ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا خوبصورت مستقبل ہے، ہم ہوں یا نہ ہوں یہ ضرور آگے جائے گا، ہمیں پاکستان کو بھنور سے نکالنا ہے، ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے. پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں، مشکل حالات ضرور ہیں، آگے جانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

    سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سستی سیاست کے لیے ملک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، معیشت پرسیاست نہ کی جائے، ملک کو بھنور سے نکالنے کے لئے تعاون کیا جائے، معیشت پر سیاست نہ کی جائے، ملک کو بھنور سے نکالنے کے لئے تعاون کیا جائے۔

  • ہم جھوٹ کی سیاست کو رد کریں گے، اس ملک کوجوڑیں گے،بلاول

    ہم جھوٹ کی سیاست کو رد کریں گے، اس ملک کوجوڑیں گے،بلاول

    ہم جھوٹ کی سیاست کو رد کریں گے، اس ملک کوجوڑیں گے،بلاول
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین، وزیر خارجہ بلاول زرداری نے کہا ہے کہ بی بی شہید کو آپ سے چھینے ہوئے 15 سال گزر چکے ہیں گڑھی خدا بخش میں 15سال بعد بھی عوام کا سمندر ہے،آج بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کیلئے جیالے یہاں جمع ہیں،

    گڑھی خدا بخش میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ15سال بعد بھی عوام ، سیاسی کارکن اور جیالے بی بی شہید کو نہیں بھولے، شہید بے نظیر بھٹو کو کس گناہ میں شہید کیا گیا، کیا بی بی شہید کا گناہ یہ تھا کہ وہ محب وطن تھیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو عالمی لیڈر تھیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پوری مسلم دنیا کا فخر تھیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دلیر خاتون تھیں، محترمہ نے اپنے کارکنوں اور ساتھیوں کو ایک دن کیلئے بھی لاوارث نہیں چھوڑا، بی بی شہید معاشی انصاف چاہتی تھیں، کچھ لوگ تقسیم کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو چاروں صوبوں کی زنجیر تھیں، شہید بی بی پاکستان کو اکیلا نہیں دیکھنا چاہتی تھیں، شہید بی بی امریکا جاتی تھیں پارلیمنٹ جلسہ کی صورت میں ان کی تقریر سنتی تھی، شہید بینظیر بھٹو سے ہاتھ ملانے کیلئے ہیلری کلنٹن قطار میں انتظار کرتی تھیں،شہید بینظیر بھٹو مسلم دنیا میں جاتی تھیں تو سب بیٹی جیسی عزت دیتے تھے، شہید بی بی مزدوروں اور کسانوں کی اصل نمائندہ تھیں، آمریت بندوق کی طاقت سے آپ کی آزادی چھینتی ہے دہشتگرد خوف پھیلا کر آپ کے حقوق سلب کرتے ہیں، شہید بینظیر بھٹو جھوٹ کی نہیں سچ کی سیاست پر یقین رکھتی تھیں،شہید بے نظیر بھٹو تقسیم نہیں یکجہتی کی سیاست میں یقین رکھتی تھیں،شہید بینظیر بھٹو جھوٹ کی نہیں سچ کی سیاست میں یقین رکھتی تھیں ہم پر فرض ہے کہ شہید بی بی کے نظریہ کے مطابق چلیں، شہید بی بی کہتی تھیں دہشتگردی اور آمریت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہم جھوٹ کی سیاست کو رد کریں گے، اس ملک کو ہم جوڑیں گے، یکجہتی کے ساتھ سیاست کریں گے،کٹھ پتلیوں کی جھوٹ کی سیاست کو رد کریں گے، لوگوں کو لڑوائیں گے نہیں، یکجہتی کیساتھ شہیدکے نامکمل مشن کو مکمل کرینگے، ہم نے کوشش کی ہے شہید بینظیر کے مشن کو آگے لیکر جائیں،آمریت کو شکست دے کر جمہوریت کو بحال کیا،ہمیں مل کر محنت کرنا ہو گی،ہم نےصوبوں کو ان کا حق دیا، جمہوریت بحال کی،سلیکٹڈ ہمارے آئینی حقوق کے خلاف سازشیں کر رہا تھا،اس شخص نے تباہی پھیلائی جس کیخلاف ہم نے آئینی ہتھیار استعمال کیا، ہم نے اس کیخلاف پرامن احتجاج کیا اور دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینکا، ہم نے اسے جمہوری طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجا،پہلی بار تاریخ میں پارلیمان نے وزیراعظم کو گھر بھیجا،یہ آصف زرداری کا کریڈٹ بائیڈن کو دینا چاہ رہے ہیں، آپ کو امریکی صدر نے نہیں ،پیپلز پارٹی کے جیالوں نے نکا لا، وائٹ ہاوس کی نہیں بلاول ہاوس کی سازش نے آپ کو گھر بھیجا ہے،ماضی میں بھی پیپلز پارٹی نے ملک کو مشکل سے نکالا،ہم نے ماضی میں خدمت کی اور آج بھی کر رہے ہیں، ہم روٹی، کپڑا اور مکان کو اپنا بنیادی نعرہ سمجھ کر چلتے ہیں، ہم نے سندھ بھر میں مفت علاج کیلئے اسپتال بنائے ہیں، ملک میں مہنگائی ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، میٹرو کا ملک میں فیشن بن گیا، سارے پیسے ایک ہی سڑک پر لگا دیئے جاتے رہے،ہم بڑے بڑے پُل تو نہیں بناتے، ماڈرن بسیں انہیں سڑکوں پر چلاتے ہیں، بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں مگر اب بھی بہت کچھ حاصل کرنا ہے، ملک مشکل میں ہے تو اسے صرف پیپلز پارٹی کے جیالے بچا سکتے ہیں، ماضی میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کو بھی پیپلز پارٹی نے شکست دی،ہم نے پچھلے سال جمہوریت کی بحالی اور معاشی انصاف کی تحریک شروع کی تھی،سلیکٹڈ تو کٹھ پتلی تھا، سازش ہمارے آئین کے خلاف تھی دنیا میں پاکستان کو اکیلا کرنے کی سازش کو ہم نے ناکام بنایا،سازشی پاکستان کو معاشی طور پر کمزور اور عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، سلیکٹڈ کی ناکامیوں کی وجہ سے پاکستان دنیا میں اکیلا ہوتا جا رہا تھا، اس حالت میں ہم کشمیر کا دفاع نہیں کر سکتے تھے،ہم شہادتیں قبول کر کے اس دہشتگردی کا مقابلہ کرتے رہے ہمارے فوجی جوانوں نے شہادتیں قبول کر کے دہشتگردوں کو شکست دی،ان میں ہمت نہیں رہی تھی کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھیں،اے پی ایس کے بچوں اور اساتذہ نے ان کا مقابلہ کر کے شہادت قبول کی،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ کس نے اس سلیکٹڈ کو یہ اجازت دی کہ انتہا پسندوں سے مذاکرات کریں، عمران کو کس نے کہا کہ عوام سے پوچھے بغیر دہشتگردوں سے مذاکرات کریں،دہشتگردوں کو کس نے پاکستان کی جیل سے نکالا ،دہشتگردی آج ایک بارپھر سر اٹھا رہی ہے، کس نے اجازت دی،وہ ہتھیار نہ ڈالیں اور ہم ان دہشتگردوں کی مہمان نوازی کریں، ایک نالائق سلیکٹڈ کرکٹر کو ہم پر مسلط کر دیا گیا، ہمیں ایک بار پھر ایک ہو کر دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا،عمران کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو پہلی بار ڈیفالٹ کا خطرہ تھا، وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، معاشی طور پر بہت بڑے سانحہ کو روکا گیا، سیلاب ہمارے لئے قیامت سے پہلے قیامت تھا، مون سون شروع ہوا تو مہینوں چلتا رہا، رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، جی ڈی پی کا 10 فیصد اسی پانی کے ساتھ بہہ گیا، اپنے مخالف سے کہتے ہیں پہلے انسان بنے اور پھر سیاستدان ایک طرف سلیکٹڈ کی ضد اور انا ، دوسری طرف عوام سیلاب کے اثرات بھگت رہے ہیں،نقصانات کے ازالے میں وقت لگے گا، جلدی نہیں کر سکتے، ڈونرز کانفرنس کے انعقاد پر اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کے شکر گزار ہیں،

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    میں اس میٹنگ میں شامل تھا جس میں بینظیر کو کہا گیا تھا کہ آپ نہ جائیں..شیخ رشید

    بینظیر کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی،بلاول

    بینظیر نے اپنی کتاب میں لکھا نواز شریف نے اسامہ بن لادن سے پیسے لیے،فرخ حبیب

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    آصفہ زرداری کس صورت میں الیکشن لڑیں گی؟ بڑا اعلان ہو گئا

  • عمران خان سمیت سب کو اسمبلی میں واپس آنا چاہیے  ،چودھری شجاعت

    عمران خان سمیت سب کو اسمبلی میں واپس آنا چاہیے ،چودھری شجاعت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم ، مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام ناگزیر ہے ،

    چودھری شجاعت کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں ،ہم سب پاکستان کیلیے کام کریں گے تو بچ جائیں گے ،اگر ہم اکٹھے نہ ہوئے تو سب کی تباہی ہوگی ،ہم سمجھ جائیں گے تو آئی ایم ایف پیسے دے گا ، اگر ہم نے سیاست کو نہ سنبھالا تو ایک پیسہ نہیں آئے گا ،کیا انتخابات مہنگائی، بیروزگاری کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں سب پارٹیوں کی بات چھوڑ کر پاکستان کی بات کریں پاکستان کی بات ہوگی تو پارٹیاں رہیں گی اور چلیں گی اگر ہم نہیں سمجھے تو نہ ملک چلے گا اور نہ پارٹیاں چلیں گی

    چودھری شجاعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ اپنی پارٹی کو کہا ہے کہ اپنی نہیں پاکستان کی بات کی جائے اگر یہ وقت گزر گیا تو پھر کسی کے ہاتھ نہیں آئے گا ،بہت سی طاقتیں پاکستان کو تباہ کرنا چاہتی ہیں وہ طاقتیں خطہ میں بھارت کی بالادستی چاہتی ہیں عمران خان سمیت سب کو اسمبلی میں واپس آنا چاہیے ،

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ہ مجھے عام انتخابات جلد نظر نہیں آرہے،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا

     وزیراعلیٰ نے ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاوس سیل کر دینگے

    واضح رہے کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہو چکے ہیں، ق لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے، چودھری شجاعت پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ پرویز الہیٰ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں پنجاب کا سیاسی محاذ گرم ہے، چوھدری شجاعت کی جانب سے اسمبلیوں میں واپس آنے کی دعوت دینا ، شاید پرویز الہیٰ کو ق لیگ میں ہی رہنے اور پاس بلانے کا اشارہ ہے، دیکھیں لاہور کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

  • عمران خان کی اگلی آڈیوکس کےساتھ ہے؟دس ایم پی اےغائب:پرویزالہی خطرے میں:عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی اگلی آڈیوکس کےساتھ ہے؟دس ایم پی اےغائب:پرویزالہی خطرے میں:عمران خان کی گرفتاری

    لاہور:پنجاب میں عدم اعتماد آرہی ہے اور حکومتی اتحاد کے دس بندے غائب ہیں، کیا بنے گا، اس سوال کا جواب دیتےہوئے سنیئر صحافی مبشرلقمان نےکہا کہ ابھی تو دس بندے غائب ہوئے ہیں آگےآگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، اور لوگوں کے فون خراب ہوجائیں گے اور پھر وہ غائب ہوجائیں گے ، چوہدری پرویز الٰہی کی کہانی بھی ختم ہوجائے گی ،عمران خان پہلے کے پی کی اسمبلی تو توڑیں ،ان کو ادھر کوکوئی اسمبلی توڑنے نہیں‌دے رہا ادھر کیا بنے گا ،عمران خان بڑا منافق شخص ہے اس کے نفاق کی نشانیاں بیان ہوچکی ہیں مگریہ صرف عقل والے ہی سمجھ سکتےہیں‌

    عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتےہوئے مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان نے جو کچھ کیا ہے ان کو گرفتار تو ہونا ہے، جنوری کے وسط تک پتہ چل جائے ،عمران خان گرفتار ہوں گے اور پھرآپ دیکھیں‌ گے کہ پنجاب میں‌ عمران خان کی حکومت بھی‌ نہیں‌رہے گی اور جو پولیس آج پروٹوکول دے رہی ہے وہ ہی کہتے کہ آجاو جناب آپ کی گرفتاری کےآرڈر آچکےہیں،ان کا کہنا تھا کہ اس شخص نے جو کچھ کیا ہے اس کی قیمت تو چکانا پڑے گی

    آڈیو اور ویڈیو کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان نے کہا کہ آج عمران خان کہہ رہا ہے کہ دوسروں کے گناہوں پر پردہ ڈالنا چاہیے،آج ان کو یہ بڑی نیکیاں یاد آرہی ہیں ، وہ وقت بھی یاد کریں‌جب عمران خان نے علما کو علمائے سو کہا،میڈیا والوں کو لفافے کہا،سیاستدانوں کو چور کہا اور پھر پاک فوج کو نہ بخشا ایسا شخص آج اپنے لیے بھلائی کی امید کرتا ہے،ایسا نہیں چلے گا ،رانا ثنااللہ جو کہہ رہے ہیں‌ کہ ایک آڈیو ان کے پاس ہے وہ آئے گی ،وہ کیسی ہوگی رانا ثنااللہ ہی بتا سکتے ہیں ، جو آج اس کی ذمہ داری لے رہےہیں‌

    ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئےمبشرلقمان نے کہاکہ اس شخص نے جو کچھ کیا ہے اس کو بھگتنا پڑے گا، ناجائز بچیاں پیدا کرتا ہے ،اس نے کون سی اخلاقیات کا مظاہرہ کیا آج اخلاقیات کا درس دے رہا ہے

    مبشرلقمان کا کہناتھاکہ کے پی میں‌ امن وامان کی صورت حال خراب کردی گئی ہے ،پولیس اور سی ٹی ڈی جیسے اداروں کی کارکردگی تباہ ہوگئی ہےاور یہ شخص دوسروں کے پیچھے پڑا ہوا ہے، نو دس سال سے یہ کےپی میں‌حکومت کررہاہے،ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ یہ وہی شخص ہے جو طالبان سے مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا، طالبان جیسے دہشت گردوں کے ساتھ روابط اس کے قائم تھے ، آج ان حالات کی وجہ سے کی پی کی صورت حال بہت خراب ہے

    سوشل میڈیا کے پی کے لوگوں کو تنخواہ دی جاتی ہے، کے پی کے لوگوں کو تنخواہیں مل نہیں رہیں، عارف علوی نے پہلے عمران خان کو سلیکٹڈ کہا اب اپنے بیان سے مکر رہا ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ میں نے پہلے کہا تھا کہ یہ صرف دانت سے کیڑا نکال سکتےہیں اور کچھ نہیں‌کرسکتے،یہ شخص کیا کرسکتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ میں‌ چند لوگ ہیں وہ ریکارڈ دے سکتے ہیں‌ کہ کس کس نے فائدہ اٹھایا،اسلام آباد ہائی کورٹ سب ریکارڈ لے لے گی

    مفتاح ااسمٰعیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ یہ ن لیگ کے وزیرخزانہ رہ چکے ہیں‌، اب اپنی ہی پارٹی کے خلاف زہراگل رہےہیں، اسحاق ڈار کےخلاف یہ جان بوجھ کر یہ جنگ لڑرہےہیں‌ان کو تو پارٹی سےنکل دینا چاہے تھا ، لیکن کچھ نہیں‌ ہورہا تو یہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کروایا جارہا ہے،ان کا ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ خواجہ سعد رفیق نے جو کچھ کہا ہے وہ سب جانتے ہیں جہاں تک تعلق ہے حمزہ شہباز کےلیے وزارت اعلیٰ کے امیدوار برقرار نہیں رہ سکتے ، کیا اس ملک کے سب عہدے اس خاندان نے ہی اپنے پاس رکھنے ہیں، لیڈر آف دی اپوزیشن،وزیراعظم ، وزیراعلیٰ‌ ، یہ سب ان کے لیے خاص ہیں ،

    پنجاب کی وزارت اعلیٰ‌ کے حوالےسے مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ ان کا لالچ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ پیے عہدے اور سب موجیں یہ خاندان ہی سمیٹے گا، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے

  • الیکشن کمیشن نے 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کردیا

    الیکشن کمیشن نے 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کردیا

    الیکشن کمیشن نے 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کردیا۔

    الیکشن کمیشن کے 5 رکنی بینچ نے اسلام آبادہائیکورٹ کے حکم پر اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس سماعت کی جس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون، سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف، پی ٹی آئی کی جانب سے بابراعوان اور علی نوازاعوان جب کہ جماعت اسلامی کی جانب سے میاں اسلم الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا مردم شماری کی رپورٹ آئی ہے؟ اس پر اشتراوصاف نے کہا کہ ادارہ شماریات نے اسلام آباد کی آبادی میں اضافے کا بتایا، الیکشن کمیشن کو آبادی میں اضافے کا معاملہ دیکھنا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی آبادی میں اضافے کو تسلیم کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلہ کرنے کا اختیاردیا ہے۔اشتر اوصاف نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو وفاقی حکومت کا مؤقف سننےکاکہا اور الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کو سنے بغیر فیصلہ جاری کیا، ماضی میں بھی شیڈول جاری ہونے کے بعد بھی الیکشن ملتوی کیے گئے، الیکشن کمیشن کو آئین اورقانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن بڑی تعداد میں شہریوں کوان کے حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔

    دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں 2 بار حلقہ بندیاں ہوچکی ہیں اور پنجاب میں بھی 2 بار حلقہ بندیاں ہوچکی، تیسری بار ہونے جارہی ہیں، حکومت کو پہلے خیال کیوں نہیں آیا کہ وقت پر یوسیزبڑھا لینی چاہئیں، اب جب شیڈول کا اعلان ہوچکا ہے تو یوسیز بڑھانا چاہ رہے ہیں، حکومت نے کمیشن کو ایک پیچیدہ صورتحال میں ڈال دیا ہے، آئین کے آرٹیکل 148 میں لکھا ہے کہ لوکل قانون کے مطابق الیکشن کروانے ہیں، اب وہ قانون ہی بدل دیا جائے تو پھر کیا کیا جائے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ کوئی ایسی قانون سازی ہوکہ لوکل گورنمنٹ الیکشن اپنے وقت پرہوں، ہمیں صوبوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کے لیے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میئرکا انتخاب ڈائریکٹ کردیا گیا ہے، ہمارے پاس تو ان کے کاغذات نامزدگی بھی نہیں، کیا پتا کل پھر یونین کونسل کی تعداد کم کردی جائے۔ چیف الیکشن کمشنر نےمزید کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو لکھیں گے کہ بلدیاتی انتخابات بروقت مکمل ہونے چاہئیں، آئین میں بلدیاتی انتخابات کرانا لازم ہے، خدشہ ہے حکومت حلقہ بندی کے بعد دوبارہ یونین کونسلز میں ردوبدل نہ کردے، حکومت کہیں تو اس چیز کو روکے، حکومتیں ہر دوسرے دن الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیتی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد میں 25 مختلف مقامات پر عارضی حفاظتی چیک پوسٹس قائم
    بینظیر بھٹو نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کیلئے جدوجھد کی. وفاقی وزیر شازیہ مری
    آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات عوام کے لیے ناقابل برداشت ہیں،وفاقی وزیر احسن اقبال

    دورانِ سماعت پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نےاپنے دلائل میں کہا کہ شیڈول جاری ہوچکا ہے اب 31 دسمبر کو الیکشن کروانے ضروری ہیں کیونکہ بلدیاتی انتخاب میں پہلے بھی 2 بار تاخیرہوچکی ہے، حکومت اس کیس میں ایک پارٹی ہے اور قانون کے حوالے سے 3 غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کوئی آرڈرجاری نہیں کیا، عدالت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق اختیارالیکشن کمیشن کو دیا ہے۔

    بابر اعوان کےدلائل پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان دلائل کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہمارا فیصلہ کالعدم قراردیا ہے اور ہائیکورٹ نے یونین کونسلزکی تعداد کا جائزہ لینے کا بھی کہا ہے۔ اس دوران جماعت اسلامی کے وکیل نےمؤقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا اختیارمحدود نہیں کیا، ہمارا موقف ہے ہم الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑے ہیں، تمام اتھارٹی الیکشن کمیشن کی ہے،انتخابات الیکشن کمیشن نے کروانے ہیں، وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کے اختیارات کو کم کردے گی، اگریہ اختیارانہیں دے دیا جاتا ہے توکبھی بھی الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ایک گھنٹے بعد سنایا گیا۔ الیکشن کمیشن نے 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کردیا جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوگئے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن 27 دسمبر کو یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے سے متعلق فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کہا تھا کہ ووٹرز لسٹوں کی درستی کے لیے دائر درخواستوں پر بھی متاثرہ ووٹرز کو 28 دسمبر کو سنا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی وکیل نے کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت ہے، ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے ہمیں فریق ہی نہیں بنایا گیا، چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ عدالتی کارروائی ہے یہاں تقریر نہیں کرنی۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹراکوٹ اپیل پر سماعت ہوئی،پی ٹی پی اسلام آباد کے صدر علی نواز اعوان کے وکیل سردار تیمور نے دلائل دیئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سنگل بینچ نے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا ہے،عدالت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے واضح اعلان کیا کہ اسلام آباد کا بلدیاتی انتخاب ہونا ہے، پی ٹی آئی نے یقین دہانی کے باوجود اپنے دور میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرایا، موجودہ حکومت بھی یقین دہانی کے باوجود بلدیاتی الیکشن نہیں کرا رہی،اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ الیکشن کمیشن خودمختاری سے اپنا کام کر رہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو الیکشن سے متعلق آج فیصلہ کرنے سے روکنے کی استدعا مسترد کردیا

  • شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ،شہباز شریف کا عمران خان کے خلاف ہتک عزت پر 10 ارب ہرجانے کا دعوی ٰکیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دفاع کا حق ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،تین رکنی فل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کی، سپریم کورٹ لاہوررجسٹری نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو کل دلائل دینے کی ہدایت کر دی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے جواب مانگا ، نہ دینے پر ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کر دیا،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے دیکھنا تھا کہ سوالات کیس سے متعلقہ تھے یا نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ آپکو بار بار موقع دیتی رہی لیکن آپ نے جواب داخل نہیں کیا اسطرح تو آپ دوران ٹرائل جواب لے کر آ جاتے، ہمارے سامنے تو یہ آ رہا ہے کہ ٹرائل کورٹ بار بار جواب مانگ رہی تھی جو نہیں دیا،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا جواب آنے کے باوجود ٹرائل عدالت نے اس پر غور کیوں نہیں کیا،ٹرائل عدالت نے اپنے فیصلے میں بھی عمران خان کےجواب کا ذکرنہیں کیا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل عدالت نے عمران خان کا حق دفاع غیر قانونی طور پرختم کیا،ٹرائل عدالت کو حق دفاع ختم کرنے کا ازخود کوئی اختیار حاصل نہیں عمران خان کی طرف سے 9 مئی کو عدالت میں جواب جمع کرادیا تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہی جاننا چاہتے ہیں کہ ٹرائل عدالت نے جواب کو زیرغور کیوں نہیں سمجھا،علی ظفر نے کہا کہ عمران خان پرحملے کےبعد زخمی ہونے کی وجہ سے جواب کے لیے مہلت مانگی، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ ٹرائل عدالت نے باربار وقت مانگنے پر قانون کےمطابق فیصلہ سنایا

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کیا جسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، ہائیکورٹ نے بھی دفاع کا حق ختم کرنے کے خلاف درخواست خارج کر دی،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور حق دفاع بحال کرنے کا حکم دے ،شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے عمران خان نے شہباز شریف پر پانامہ کے معاملے پر رشوت کی افر کا الزام لگایا تھا

     شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر سماعت

     عمران خان نے شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے کا جواب جمع کروا دیا 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ