آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کا غیرضروری بیان بھارتی مسلح افواج کی فریب کاری کا مظہر ہے اور بھارتی فوجی سوچ پر ملکی سیاسی شو بوٹنگ کے واضح نقوش کو ظاہر کرتا ہے۔
باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق نام نہاد "لانچ پیڈز” اور "دہشت گردوں” کے من گھڑت ریمارکس اور بے بنیاد الزامات ہندوستانی فوج کے طاقت کے جابرانہ استعمال اور اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے معصوم، نہتےکشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ذریعہ برقرار ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں شامل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہندوستانی جنرل آفیسر کے بلند بانگ دعوے اور غیر حقیقی عزائم فکری طور پر توہین آمیز ہیں۔ پاکستان کی فوج بھلائی کی قوت اور علاقائی امن و استحکام کی حامی ہے۔ تاہم، امن کی یہ خواہش ہماری سرزمین کے خلاف کسی بھی مہم جوئی یا جارحیت کوناکام بنانےکی ہماری صلاحیت اور تیاری سےمماثل ہے یہ دعویٰ متعدد مواقع پرجامع طورپرتصدیق شدہ ہےجس میں حال ہی میں بالا کو ٹ کا واقعہ بھی شامل ہے-
آئی ایس پی آر کے مطابق خطے کے امن کے مفاد میں، ہندوستانی فوج اپنے سیاسی آقاؤں کے رجعت پسند نظریے کے لیے انتخابی حمایت کو آگے بڑھانے کے لیے غیر ذمہ دارانہ بیان بازی اور وحشیانہ بات چیت سے پرہیز کرنا بہتر ہے-
اسلام آباد:آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران حکومتی اتحادیوں نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا، اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری، مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین، وفاقی وزیر چودھری سالک حسین، بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی، پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، جمیعت اہلحدیث پروفیسر ساجد میر سمیت دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے مشاورت کی گئی اور ملکی سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی، سپہ سالار کی تقرری سے قبل سمری صدر مملکت کو ارسال سے قبل اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہباز شریف صاحب آپ وزیراعظم ہیں اور آئین نے یہ اختیار اور آرمی چیف کی تعیناتی کا استحقاق آپ کو سونپا ہے۔
چودھری شجاعت حسین نے اجلاس کے دوران کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس منصب پر بٹھایا ہے، آرمی چیف کی تعیناتی آپ کا آئینی حق ہے،بلوچستان عوامی پارٹی کے ڈاکٹر خالد مگسی نے کہا کہ اہم تعیناتی سے متعلق آپ جو فیصلہ کریں، ہم آپ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میاں صاحب! ہم ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہباز شریف صاحب ! آپ پر مکمل اعتماد ہے، آپ کا آئینی حق ہے، آرمی چیف کے معاملے پر آپ نے ہم سے مشاورت کی ، جس پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا یہ پرانا ہتھیار رہا ہے کہ جو انسان بھی ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرتا ہے ۔ جو سیاستدان یا صحافی ان کے کرتوت عوام کے سامنے لاتا ہے یہ مختلف طریقوں سے اس کی پگڑی اچھالنا شروع کر دیتے ہیں ۔ فیصل واوڈا ہو، اکبر ایس بابر ہو یا پھر میجر خرم ان سب کا تعلق تحریک انصاف کے سیاسی قبیلے سے تھا لیکن جیسے ہی انھوں نے عوام کے سامنے سچ رکھا تحریک انصاف کے جعلی ٹائیگر ان کے پیچھے پڑ گئے ۔بالکل یہی حال انھوں نے عمر فاروق کے ساتھ کیا ۔جب عمر فاروق عمران خان اور فرح گوگی کے گھڑی چوری کی ساری داستان عوام کے سامنے لائے تو ان کے ساتھ بھی سوشل میڈیا کا یہی ہتھیار استعمال کیا گیا۔ انھیں چپ کروانے کے لیے بنی گالا میں موجود جھوٹ تیار کرنے کی فیکٹری سے بڑے بڑے جھوٹ تراشے گئے ۔ ان پر فراڈ کے الزامات لگائے گئے ۔ انھیں انٹرپورل کا کوئی وانتڈ کرمنل بنا یا گیا ۔ اور یہ سارا پروپیگنڈا عمران خان کی سربراہی میں ہوتا رہا ۔لیکن جھوٹ چاہے جتنی مہارت سے بولا جائے اس کے پاوں نہیں ہوتے ۔ اس نے بے نقاب ہونا ہی ہوتا ہے ۔اور آج میں عمران خان اور اس کے درباریوں کے عمر فاروق کے حوالے سے پھیلائے گئے ان سب جھوٹو ں کا پوسٹ مارٹم کروں گا۔ سارے ثبوت آپ کے سامنے رکھوں گا کہ کیسے تحریک انصاف نے جھوٹ پھیلانے کی سازش رچی ۔
مبشر لقمان نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے سب سے پہلے الزام لگایا کہ عمر فاروق ظہور مختلف لوگوں کے ساتھ فراڈ میں ملوث ر ہا ہے ۔ اس کے بعد الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور انٹرپول کی فہرست میں ہے۔اور ان سب الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ناروے کے ایک صحافی کا حوالہ دیا گیا ۔ اب میں اس صحافی کی اصلیت بے نقاب کر دیتا ہوں جو صحافت کے لبادے میں کرپشن او ر فراڈ کے کئی دھندے چلا رہا ہے ۔ اور تحریک انصاف نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس کا انتخاب کیا۔اس صحافی کا نام Rolf J. Widroeہے ۔ جو ناروے کے ایک مقامی اخبار میں ملازمت کرتا ہے ۔صحافت کا لباس پہنے یہ فراڈیا ناروے اور پاکستان میں کئی لوگوں کے ساتھ فراڈ کر چکا ہے ناروے میں ایک ایسا شر پسند طبقہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کرتا ہے ۔ یہ صحافی بھی اسی طبقے کا حصہ ہے اور باقاعدہ پیسے لے کر یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم چلاتا رہا ہے ۔جب میں نے اس پر باقاعدہ تحقیق کی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیونکہ یہ شخص کئی بار ناروے میں اسلامی شعار کی توہین میں بھی مبتلا رہا ہے ۔ لیکن چونکہ وہاں کے قانون کے مطابق اس کو آزادی اظہار رائے سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے نا تو اس کی تحقیق ہو سکی اور نا ہی اس کو کوئی سزا مل سکی ۔لیکن آپ کو سن کر حیرانی ہو گی کہ یہ جعلی صحافی ناروے میں تو بچ گیا لیکن پاکستان میں اس پر باقاعدہ فراڈ کے مقدمات ہیں ۔ اور اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی کئی بار جاری ہو چکے ہیں ۔14 جنوری 2016 کو نوابشاہ کے ایک پولیس تھانے میں ایک رپورٹ درج کرائی گئی ۔یہ رپورٹ نوابشاہ کے مقصود علی نے درج کرائی اور اس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ Rolf J. Wideroeنے مقصود علی کے ساتھ پہلے وعدہ کیا کہ وہ اس کو ناروے لے جانے کے سارے انتظامات کرے گا ۔اس کو پاسپورٹ فراہم کرے گا اور ناروے کی شہریت بھی کچھ ہی دن میں دلائے گا۔ شہری مقصود اس کے لالچ میں آ گیا اور اس نے اپنی ساری جمع پونجی اس صحافی کے ہاتھ میں تھما دی ۔پولیس رپورٹ کے مطابق مقصود نے Rolf Jکو ایک کروڑ روپے کی رقم دی اور رقم ملتے ہی یہ نوسربا ز ناروے فرار ہو گیا ۔پولیس نے اس فراڈیے سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ 27 جنوری 2016 کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو خط لکھا گیا اور اس کے نا قابل ضمانت ریڈ وارنٹ نکالے گئے ۔جب شہری مقصود علی جس کے ساتھ فراڈ کیا گیا )نے اس کو کال کی اور پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو بجائے جواب دینے کے اس دھوکے باز آدمی نے الٹا دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔یہ تک کہنا شروع کر دیا کہ اگر دوبارہ اسے تنگ کیا گیا تو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے ۔
مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان نے اس واقعہ کے متعلق مزید حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ جیسے اس کا تعلق کسی گینگ سے ہے جو پیسوں کا مطالبہ کرنے پر شہری کو جان سے مار سکتا ہے ۔اور یہ ایک کروڑ کا فراڈ صرف ایک شہری مقصود کے ساتھ نہیں کیا گیا ۔ بلکہ اس طرح کے کئی فراڈ کئی دوسرے شہریوں کےساتھ کیے گئے ۔آپ ان کے فریب کا اس بات سے اندازہ کر یں کہ یہ صحافی جس اخبار کےلیے کام کرتا ہے اس کی Readership صرف چند دنوں میں ستر فیصد تک کم ہوئی ۔یعنی یہ اخبار صرف اور صرف جھوٹی خبروں کےلیے ہی مشہور ہے اور جب اس کا پول کھلا تو ناروے کے شہریوں نے یہ اخبار خریدنا ہی چھوڑ دیا ۔یہ اخبار مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف رپورٹس شائع کر چکی ہیں میں اورمیری ٹیم اس پر مزید کام کر رہے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس صحافی سے عمر فاروق کے خلاف آرٹیکل لکھوانے میں اسی American Lobbying Firm کا ہاتھ ہو جسے تحریک انصاف ہر مہینے پچیس ہزار ڈالر ادا کرتی ہے ۔اور ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے اپنے دشمن کو نشانہ بنانے کے لیے کس غلیظ ادارے اور بندے کا انتخاب کیا سوچ کے گھن آتی ہے۔تحریک انصاف کے رہنماوں اور ان کے کی بورڈ وارئیرزنے ایک شوشا چھوڑا کہ عمر فاروق اور ان کے خاندان پر ناروے میں کیسز ہیں ۔ یہ کیس بھی اسی صحافی نے ناروے میں کیا۔ لیکن کچھ ہی وقت میں جب اس کی تحقیقات ہوئیں تو اس کیس کا بھرکس نکل گیا ۔ نا تو عمر فاروق کو اور نا ہی ان کے خاندان میں سے کسی کو کوئی سزاہوئی ۔ بلکہ اس کیس کو پچھلے سال فروری میں ہی خارج کر دیا گیا ۔
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ جعلی نوسرباز صحافی کی داستان کے بعد اب انٹرپول والی کہانی کا بھی بھرکس نکل چکا ہے کیونکہ انٹرپول کو درخواست بھی عمر فاروق کی سابقہ بیوی صوفیہ مرزا کی خواہش پر دی گئی ۔ ان پر جھوٹے اور بے بنیاد کیسز دائر کیے گئے ۔ تمام جھوٹے کیسز بے نقاب ہونے کے بعد انٹرپول نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ عمر فاروق کا نام انٹرپول کی لسٹ سے نکل چکا ہے ۔یہ تھی تحریک انصاف کے پروپیگنڈے کی اصل حقیقت۔عمران خان اب تو آنکھیں کھول لو ،یہ وہی عمر فاروق ہیں جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ فراڈ ہے ۔ اور دوسری طرف تحریک انصاف کے بڑے رہنماء ان سے ملاقاتیں کرتے رہے ۔۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس کی پاکستان کے صدر عارف علوی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ،یہ وہی عمر فاروق ہے جس سے آپ کا مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اربوں روپے مانگتا رہا ہے ۔وہ جھوٹا ۔ جس نے احتساب کے نام پر اس ساری قوم کو چونا لگایا اور اب باہر چھپ کر بیٹھا ہے اسے کہو نا پاکستان آئے اور اس پر لگے سارے الزاما ت کا جواب دے دے ۔یا میرے شو میں ہی آجائے اور ساری قوم کو اس پر لگے الزامات کا جواب دے ۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس سے فراڈ چوہدری ویکسین کے نام پر کمیشن مانگتا رہا ہے ۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس کے ساتھ فیصل واوڈا کی میٹنگز ہوتی رہی ہیں اور کسی اور کے کہنے پر نہیں ہوئیں بلکہ آپ کے ہی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے کہنے پر ہوتی رہی ہیں ۔اور اگر آپ کو ابھی بھی لگ رہا ہے کہ آپ توشہ خانہ سے گھڑیاں چوری کر کے ۔ قوم کو کروڑوں روپے کا ٹیکا لگا کر بچ جائیں گے تو یہ آپ کی بہت بڑی بھول ہے ۔اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ گھڑی بیچنے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں تو یہ بھی آپ کی بھول ہے ۔۔ کیونکہ اس بار سارے ثبوت موجو د ہیں اور سب کے سب بہت جلد نیب میں پیش کر دیے جائیں گے ۔
مبشر لقمان نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی فرنت مین فرح گوگی کے حوالہ سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فرح گوگی کیسے دبئی گئیکونسے بینک سے پیسے نکلوائے کس طرح گوگی پاکستان واپس آئی کس کے جہاز میں وہ واپس آئیسارے کے سارے ثبوت موجود ہیں اور بہت جلد یہ عوام کی عدالت میں بھی لائے جائیں گے ۔لیکن اس سب سے پہلے اگر آپ میں ذرا سا بھی اخلاقی جر ات باقی بچی ہے تو قوم کو ایک بات بتا دو۔جو ریاست مدینہ آپ بنانے نکلے تھے جس ریاست مدینہ ثانی کے خواب لوگوں کو دکھائے تھے۔اس ریاست مدینہ میں گھڑی چور کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟اس ریاست مدینہ میں عوام سے جھوٹ بولنے کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟لوگوں کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پروپیگنڈا کرنے کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟اور آپ نے ایک بات اور بھی قوم کو بتانی ہے ۔ کیونکہ آپ مغرب کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ ا ن کی اخلاقیات سے بھی بخوبی واقف ہیں آپ نے اقوام متحدہ میں بھی اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی ہے تو آپ نے اس بار قوم کے سامنے اس جعلی صحافی کے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کو ضرور بے نقاب کرنا ہے ۔آپ نے لوگوں کو بتانا ہے کہ کس طرح ناروے کا ایک اخبار لوگوں میں مذہبی منافرت پھیلانے کا ذمہ دارہے۔اسی اخبار کے صحافی کو تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیل پاگلوں کی طرح وائرل کر رہا ہے اس کے صحافیوں کو ہیرو بنا کر پیش کرا رہا ہے ۔
مبشر لقمان نے آخر میں عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اور اگر آپ نے نہ بتایا تو میں تو ضرور بتاوں گا۔ بار بار بتاوں گا لوگوں کے سامنے سارے حقائق رکھوں گا اور پھر انھیں اسی طرح پوچھتا رہوں گا کہ کون جھوٹا ہے اور کون دنیا کا سب سے ایماندار لیڈر ہے ۔کیونکہ ،مجھے ہے حکم اذاں لا الہ اللہ
بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف
جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع اور یوم شہدا سے متعلق تقریب ہوئی
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر حاضری دی ،آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجودہ کوپاک فوج کے دستوں نے گارڈآف آنرپیش کیا،آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے یادگار شہداپر پھول چڑھائے کورکمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا بھی آرمی چیف کے ہمراہ ہیں تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران نے بھی شرکت کی
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے یوم دفاع اوریوم شہداکی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور آرمی چیف یوم شہدا پر آخری بارخطاب کررہا ہوں 29نومبرکو اپنے عہدے سے ریٹائر ہورہا ہوں،مجھے فخرہے کہ 6 سال عظیم فوج کا سربراہ رہا ، شہدا کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے ہمارے جوان ہر وقت اپنے وطن کے دفاع کیلئے تیار رہتے ہیں،فوج کا سب سے پہلا کام اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے،پاک فوج نے اپنے مینڈیٹ سے بڑھ کرقوم کی خدمت کی ہے،
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی،مشرقی پاکستان کاعلیحدہ ہونا فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی،پاک فوج کی سیاست میں مداخلت غیرآئینی ہے،فوج نے فروری میں فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی اس آئینی عمل کا خیرمقدم کرنے کے باوجود کئی حلقوں نےتنقید کانشانہ بنایا،فوج پر تنقید شہریوں کا حق ہے لیکن الفاظ کا مناسب چناؤ کرنا چاہیے کئی حلقوں نے فوج کو تنقید کا نشانہ بنا کر غیر شائستہ زبان استعمال کی، ایک جعلی جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی، اب اسی جھوٹے بیانئے سے راہِ فرار اختیار کی جا رہی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنا کر ملکی سلامتی سے کھیلنے کی کوشش کی گئی افواج کو غیر اخلاقی القابات سے پکارا گیا لیکن برداشت کیا لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے سب کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہے وثوق سے کہہ سکتا ہے ہوں کہ پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے،کوئی بھی ایک سیاسی جماعت ملک کو اس مشکل سے نہیں نکال سکتی،2018 کے انتخابات کے بعد جیتنے والی پارٹی کو سلیکٹڈ کہا گیا ،2022میں عدم اعتماد کے بعد آنے والی حکومت کو امپورٹڈ حکومت کہا گیا،سیاست میں سلیکٹڈاور امپورٹڈ کے القابات کو ختم کرنا ہوگا، امید ہے سیاسی جماعتیں اپنے رویئے پر نظرثانی کریں گی، افراد اور پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں، پاکستان نے ہمیشہ رہنا ہے میں اپنے اور فوج کیخلاف نا مناسب اور جارحانہ رویہ کو درگزر کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہوں آگے بڑھنا ہے تو عدم برداشت اور میں نہ مانوں والا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ہار اور جیت سیاست کا حصہ ہوتی ہے،پاکستان کی سلامتی کیلئے شہداء نے بےپناہ قربانیاں دی ہیں،مادروطن کی سالمیت کی حفاظت ہمارااولین فرض ہے اوررہے گا،
صدراور وزیر اعظم کو فیصلے آئین کے مطابق کرنے چاہیے،خواجہ آصف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہی خبر ہے جو رات والی ہے
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جارہا ہے،طریقہ کار طے کیا جارہا ہے، اہم تقرریوں کیلئے قانون و ضابطہ کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا،ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہوجائے گا،امید ہے وزیراعظم کی ترکیہ روانگی سے قبل فائنل ہو جائے گا،اہم تقرریوں کامعاملہ کابینہ میں زیرغور آئے گا اس کاعلم نہیں،اہم تعیناتیاں کل تک فائنل ہو جائیں گی،چارناموں کی سمری کبھی نہیں آئی،صدراوروزیر اعظم کو فیصلے آئیں کے مطابق کرنے چاہیے،
قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، ملاقات میں اہم تقرریوں پر مشاورت کی گئی،
علاوہ ازیں وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزارت دفاع سے سمری موصول ہوگئی ہے،آرمی چیف اور چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی تعیناتی کےلئے ناموں کا پینل موصول ہوا،وزیراعظم تعیناتیوں پر فیصلہ طریقہ کار کے تحت کرینگے،
لاہور:پاکستان میں نئے آرمی چیف کی تقرری ایسا ایشو بن گیا ہے کہ ہرکوئی کہتا ہے کہ میری مرضی کا آرمی چیف لگے،کوئی کہتا ہے کہ سمری بھی آگئی ہے تو ن لیگ کہتی ہے کہ سمری نہیں آئی ،ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے سینیئرصحافی مبشرلقمان کہتےہیں کہ اس ملک میں تو ہرکوئی اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانا چاہتے ہیں اور جہاں تک تعلق ہے کہ سمری کا تو وہ تو کوئی ایشو نہیں سمری بھی آجائے گی اور پھردو گھنٹوں میں نئے آرمی چیف کا تقرر بھی ہوجائے گا ، وزیراعظم نے تو فیصلہ کررکھا ہے بس اپروول کے لیے بھیجیں گے اور دستخط ہوجائیں گے اور نیا آرمی چیف مقرر ہوجائے گا
ایک اور سوال کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی سمری نہیں روک سکتے وہ تو ربڑ سٹیمپ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کو قانون کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پردستخط کرنے ہوںگے، ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ دانت کے کیڑے نکال سکتے ہیں ، کیوں کہ وہ ایک ڈینٹسٹ ہیں،اس کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے
ایک اور سوال کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کوئی سپرپرائز نہیں دے سکیں گے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 25 مئی کو کون سا سرپرائز دیا ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کچھ نہیں کرسکتے ،وہ تو اب اتنے اہم سمجھتے ہیں کہ میں بڑی چیز ہوں اور اسی وجہ سے اس نے پریڈ گراونڈ میں ہیلی کاپٹراتارنے کی اجازت مانگی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ 26 تاریخ کو کچھ نہیں ہونے والا ، ویسے بھی عمران خان کے چاہنے والوں کا خیال ہے کہ آرمی چیف عمران خان کے مطالبے پرتعینات کیا گیا اوروہ آنے والے چیف کی اس طرح تعریف کریں گے کہ شاید آرمی چیف ان کی خواہش پرلگایا گیا ہے،
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان کو گرفتار نہیں کیا جاتا ،ملک میں ستحکام نہیں آئے گا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت اہم ایشو بن گیا ہے اس کو گرفتار کرنے کے سوا حکومت کو کوئی کامیابی نہیں مل سکتی
ایک سوال کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی انتظآمیہ نے عمران خان سے فیض آباد پر پڑاوڈالنے کی بجائے کسی دوسری جگہ پڑاو کی درخواست کی ہے ، لیکن خان یہ نہیں کرے گا ، اس کو ملک کی پرواہ ہی نہیں انگلینڈ ٹیم نے راولپنڈی کھیلنے کے لیے اسی راستے سے آنا ہے اور عمران خان نہیں آنے دے گا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی والے پاکستان کے دشمن ہیں ان کو پاکستان کی فکر نہیں
مبشرلقمان نے علی امین گنڈا پور کے حوالے سے کہا کہ اس شخص کی کئی آڈیوز لیک ہوچکی ہیں اور اس ویڈیوز میں وہ جس شخص نے پاک فوج کے حق میں ریلی نکالی اس کے فنڈز روکنے کی دھمکی دی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک دشمن نہیں تو اور کون ہیں ، سب جانتے ہیں
ایک اور سوال کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا پاکستان آنا سوالیہ نشان ہے اس وقت پاکستانیوں کے مقبول لیڈر کے طور پر عمران خان اپنےآپ کو منوا چکے ہیں اور وہ اسی لیے چاہتےہیں کہ جلد الیکشن ہوں کیوں کہ انکو پتہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو باسانی شسکت دے دیںگے اور ان کے مخالفین یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات جلد نہ ہوں ورنہ وہ ہار جائیں گے ،
ایک اور سوال کے جواب میں مشبرلقمان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں عمران خان اور پرویز الٰہی کی حکومت ہے اور ایک دوسرے کے اتحادی ہیں ،اس کے جواب میں اینکرکا سوال تھا کہ اس کے باوجود ان کی ایف آئی آر نہیں کٹ سکی، اس کے جواب میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک دوسرے کو چورڈاکو کہتے رہے آج اکٹھے ہیں، اگرحکومت نہیں کرسکتے تو پھراسمبلیاں تحلیل کردیں اور پنجاب اور کے پی میں نئے انتخابات کروا لیں
وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے متعلق ایک سوال جس میں اینکر کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت نے ان کو معصوم عن الخطا قراردیا ، یہ کیا معاملہ ہے کہ جب اقتدار میں یہ لوگ اتے ہیں تو ان کے کیسز ختم ہوجاتے ہیں اور جب اپوزیشن میںہوتے ہیں تو ان پر بڑے کیسز بنا دیئے جاتے ہیں ، اس کا جواب دیتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ایسے ہی عمران خان نے کس پرمقدمات دائر کیے ، کیا خواجہ سعد رفیق ، ڈاکٹرعاصم سمیت کس پرجرم ثابت ہوا، یہ سارے معاملات ایسے ہی چل رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے ساتھ ایسے ہی کھلواڑہورہا ہے ، بس دعا کریں جو بھی منتخب ہوکرآئے وہ اپنے لیے نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے کچھ کرنے کا عزم لے کرآئے
سرمایہ کار بیرک گولڈ کمپنی کے وکیل نے دلائل مکمل کر لئے، وکیل بیرک گولڈ کمپنی نے عدالت میں کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے مال جیسے ہی پورٹ پر پہنچے گا 85 فیصد ادائیگی ہوجائے گی،ریکوڈک منصوبے کے مال کی بقیہ 15فیصد ادائیگی منزل پر پہنچ کر مارکیٹ ریٹ کےمطابق ہوگی،اگر ریکوڈک منصوبے سے کاپر اور سونے کے علاو ہ کوئی معدنیات نکلی تو طریقہ کار معاہدے میں درج ہے، اگر ریکوڈک منصوبے سے کوئی نایاب معدنیات نکلی تو حکومت مارکیٹ ریٹ پر خرید لے گی،اگر ریکوڈک منصوبے سے کوئی اسٹریٹیجک معدنیات برآمد ہوئیں تو حکومت مفت لے سکے گی،اگر زمین حاصل کی گئی تو ادائیگی کمپنی کرے گی، حکومت سہولت فراہم کرے گی، مرکزی شاہراہوں کی تعمیر اور مرمت حکومت ،نوکنڈی سے پراجیکٹ تک سڑک کی تعمیر کمپنی کے ذمے ہوگی،شاہراہیں صرف پراجیکٹ نہیں ، عام عوام بھی استعمال کرسکے گی،
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں50 فیصد شیئرز پاکستان کے ہیں، تنازعے سے اثر پڑے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جو کرےبین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھ کر کرے ورنہ کمپنی پھر عالمی ثالثی فورم پر چلی جائے گی،پاکستان کے عدالتی نظام اور عالمی نظام انصاف میں بہت فرق ہے،پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان کے نظام انصاف پر اعتماد کرنا چاہیے،پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری کے لیے اقدامات کے نتائج کچھ وقت کے بعد نظر آئیں گے،
وکیل نے کہا کہ بیشتر ممالک نے سرمایہ کاروں کے تنازعات ختم کرنے کے لیے وزارت خارجہ میں قانونی مشیر مقرر کررکھے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تنازعات عالمی فورمز پر پہنچ جائیں تو حل کرنے میں بہت وسائل خرچ ہوتے ہیں، وکیل نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے پر ساڑھے تین سال ہر سطح کے مذاکرات کے بعد معاہدے پر پہنچے، ریکوڈک منصوبے پر صدارتی ریفرنس کے دوسرے سوال پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے دلائل دیئے گئے
سی ٹی ڈی کی کاروائی،کالعدم داعش کے اہم کمانڈر سمیت دو دہشت گرد گرفتار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں دو اہم کاروائیوں کے دوران کالعدم تنظیم داعش کے دو دہشت گرد گرفتار کر لئے
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب نے راولپنڈی،اسلام آباد میں دو اہم کاروائیاں کیں، اورکالعدم تنظیم داعش کے انتہائی مطلوب کمانڈر خالد ، محمد نبی سمیت دو دہشت گرد گرفتار کر لئے، سی ٹی ڈی پنجاب نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم داعش کے انتہائی مطلوب کمانڈر خالد محمد نبی کو گرفتار کر لیا۔مبینہ دہشت گرد کمانڈر خالد، محمد نبی نے جعلی نام سے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھا تھا ۔مبینہ دہشت گرد کے قبضہ سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا،دھماکہ خیز مواد کو راولپنڈی میں تخریبی سرگرمیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔
دوران تفتیش دہشت گرد خالد ، محمد نبی نے انکشاف کیا کہ چھ سال قبل داعش تنظیم کے سابقہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کے بعد اسے بطور امیر داعش خراسان دلسوالی نور گل مقرر کیا گیا۔خالد ، محمد نبی داعش تنظیم کو خراسان میں منظم کرنے اور داعش کے زیر قبضہ علاقہ کے دفاع اور محاذ آرائی میں ملوث رہا۔ خالد ، محمد نبی 2019 میں افغان فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوکر جلال آباد اور پل چرخی جیل میں قید بھی رہا ۔2021 میں طالبان حکومت آنے کے بعد پل چرخی جیل ٹوٹنے پر فرار ہوا اور غیر قانونی طور پر افغانستان سے پاکستان داخل ہوا ۔خالد ، محمد نبی نے اپنی شناخت چھپانے کیلئے محمد خالد کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بنایا۔
دوسری کاروائی میں سی ٹی ڈی پنجاب نے سول حساس ادارے کے تعاون سے داعش کے دہشت گرد فاروق عباس سکنہ پشاور کو دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کیا ۔مذکورہ دہشت گرد راولپنڈی، اسلام آباد میں دہشت گردی کے منصوبے سے داخل ہوا تھا۔گرفتار دہشت گردوں سے مزید تفتیش جاری ہے۔
این اے 45 کرم میں عمران خان اوراقبال وزیرکی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے خلاف ورزی کی ہے تو اس کا اثر امیدوار پر پڑتا ہے ،اسپیشل سیکرٹری نے کہا کہ سرکاری گاڑیاں استعمال ہوئیں،عمران خان پہلے بھی خلاف ورزیاں کرچکے ہیں ،ڈی جی لا نے کہا کہ اقبال وزیر پارٹی کا اہم حصہ ہے اس کا اثر امیدوار پہ پڑتا ہے ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کو اندازہ نہیں ہوگا اس نے کہا تھا وزارت قربان کرنے کیلئے تیار ہیں،اسپیشل سیکرٹری نے استدعا کی کہ ہماری گزارش ہے اقبال وزیر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دو افسران یہ نوٹسز بھیج رہے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹسز تو پنجاب میں بھی ہوئے ہیں کوئی بھی شخص آئین سے بالا تر نہیں ،کسی کو بھی الیکشن کمیشن کے خلاف توہین کی اجازت نہیں، یہ تو نہیں ہے کہ دوسروں کو بددیانت کہے یہ نامنظور ہے،
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دل بڑا کرنا چاہیے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو دل بڑا کرتے ہیں لیکن دوسری سائیڈ سے بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے یہ جو آپ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ صرف خیبرپختونخوا میں نوٹسز ہوئے ہیں، ایسا نہیں ہے الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے سخت اقدامات کیے ہیں سب کو نوٹسز دیئے گئے ہیں ،ممبر الیکشن کمیشن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باقی صوبوں میں تو ہیلی کاپٹر بھی استعمال نہیں ہوا، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے کہ نہیں ؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ضابطہ اضلاق ہونا چاہیے لیکن ہم نے تو خلاف ورزی نہیں کی، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقبال وزیر ویڈیو میں کہہ رہا ہے کہ میں انتخابی مہم چلا رہا ہوں،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اقبال وزیر عمران خان کیلئے مہم نہیں کررہے تھے،
بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں ممنوعہ فنڈنگ اورفارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمے کی سماعت ہوئی
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 14 دسمبر تک توسیع کر دی گئی عدالت نے عمران خان اور فیصل مقبول کی طبی بنیادوں پر استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی
قبل ازیں فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائرکی تھی، ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے، عمران خان کی ضمانت دائر کرنے کے لیے قانونی ٹیم انتظار حسین پنجوتھہ اور علی اعجاز بٹر عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست ضمانت دائر کی،
واضح رہے کہ عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی، نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔ درج ایف آئی آر کے مطابق نیا پاکستان کے نام پر بینک اکاؤنٹ بنایا گیا۔ سردار اظہر طارق، سیف اللہ نیازی، سید یونس، عامر کیانی، طارق شیخ اور طارق شفیع نامزد کئے گئے ہیں بینک منیجر نے غیر قانونی اکاؤنٹ آپریٹ کرنے کی اجازت دی،نجی بینک کے مینجر کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا بینک اکاونٹ میں ابراج گروپ آف کمپنی سے21 لاکھ ڈالرآئے تحریک انصاف نے عارف نقوی کا الیکشن کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا ابراج گروپ کمپنی نےتحریک انصاف کے اکاونٹ میں پیسے بھیجے بیان حلفی جھوٹا اور جعلی ہے، ووٹن کرکٹ کلب سے دو مزید اکاونٹ سے رقم وصول ہوئی نجی بینک کے سربراہ نے مشتبہ غیر قانونی تفصیلات میں مدد کی11 لوگوں نے جرم کیا ہے