صدر مملکت عارف علوی سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات ایوان صدر میں ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی گئی۔ اورنیک خواہشات کا اظہار کیا گیا
Chief of Army Staff, General Syed Asim Muneer, called on President Dr. Arif Alvi, at Aiwan-e-Sadr, Islamabad. pic.twitter.com/Sj4ElLniUb
صدر مملکت عارف علوی سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بھی ملاقات ہوئی ہے، یہ ملاقات بھی ایوان صدر میں ہوئی، صدر مملکت نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کو مبارکبا دی اور انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،
واضح رہے کہ گزشتہ روز جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائرڈ ہو گئے ہیں جس کے بعد جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی ہے، جی ایچ کیو میں اس حوالہ سے ایک پروقار تقریب ہوئی جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے مختصر خطاب بھی کیا تھا،
لاہور:بچا لو مائی باپ۔ پی ٹی آئی امریکہ کے قدموں میں ، منتیں ترلے ملاقاتیں بڑا سیاسی طوفان آنے والا ہے، یہ کہنا ہے مبشرلقمان کا جو کہ پاکستان کے سیاسی معاملات پر بہت زیادہ دسترس رکھتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پھر یوٹرن لینے شروع کردیئے ہیں، جوکل کو امریکہ کو برا بھلا کہتے تھے ، آج پھرامریکہ کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں، کبھی وہ کہتے تھے کہ امریکہ پاکستان کی معیشت کو دیوالیہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے ،
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب فواد چوہدری امریکی سفیر سے ملاقاتیں کررہےہیں، یہ کیا ہورہا ہے، انکا کہنا تھاکہ لگتا ہے کہ عمران خان نے اب پھر یوٹرن لے لیا ہے اور یہ یقین کرلیا ہے کہ امریکہ کےبغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتے،
اس حوالے سے مبشرلقمان نے سینیئرصحافی منیب فاروق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہاں گئے وہ دعوے جن کی بنیاد پر عمران خان نے ایک بیانیہ دیا تھا ، جس پر منیب فاروق نے کہا کہ ان لوگوں کی ذہنی حالت کیسی ہوگی کہ جو کہتے ہیں کہ ان کو بلا کر کہا گیا کہ نوازشریف چور ہے ،فلاں نے کرپشن کی اور فلاں نے ملک کو لوٹا،وہ لوگ پھر یہ باتیں اس طرح پھیلاتے رہے کہ حیرانی ہوتی ہے ، کہ یہ کیسے لوگ ہیں کس طرحکے صحافی ہیں کہ جو اس قسم کا بیانیہ بناتے ہیں
منیب فاروق کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو یہ بیانیہ لے کرپھر وی لاگ کرتےہیں ،اورپھراس کو آگےبڑھاتےہیں، ان کو چاہیے تھاکہ وہ پہلے یہ پتہ تو کرلیتےکہ یہ جو کچھ بتایا جارہا ہے کہ یہ درست بھی ہے یا کہ نہیں ، منیب فاروق نے مزید کہا کہ پھر اس قسم کا تاثر دیا جاتا ہے کہ تھمنل بھی ایسے ایسے اپلوڈ کیے جاتے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے، منیب فاروق نےکہا کہ چلو ایسا کرنا پڑتا ہے،لیکن اس حد تک نہیں جانا چاہیے ، اس پر مبشرلقمان نے کہا کہ چلو میں ان چہروں کا بتادیتا ہوں جن میں چوہدری غلام حسین اور صابرشاکرجیسے لوگ شامل ہیں ، جس پرمنیب فاروق نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لے رہا مگرایسے بہت سے لوگ ہیں
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ پھر ایسے لوگوں کو روکا نہیں گیا ، پیسے تو کمائے ہیں ، مگرایسا نہیں کرنا چاہیے تھا،منیب فاروق نے کہا کہ جو صحافی کہتے ہیں کہ ان کو بلا بلا کر بتایا گیا کہ فلاں چور ہے اور فلاں کرپٹ ، ان کا یہ کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو روکنا چاہیے تھا مگرروکا نہیں گیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوازشریف کی بات کرتے ہیں کہ وہ چور تھا تو جب حکومت نوازشریف کی ختم کی گئی تو اس قدر تو معاملات نہیں تھے جس حد تک بتائے جاتے ہیں
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ جس طرح کے فیصلے کروائے گئے اور نوازشریف کو فارغ کیا گیا اور پھر عمران خان کا لایا گیا ، میں تو سوچتا ہوں کہ آخرت کو یہ جج صاحبان کیا جواب دیں گے اس پر مبشرلقمان نے کہا کہ چھوڑیں آخرت کو ، جن لوگوں کو آخرت کی فکر ہی نہیں اور وہ خود اس گھڑےمیں گررہےہیں ان کا کیا لینا دینا آخرت سے ،
مبشرلقمان نے ایک موقع پر منیب فاروق کی ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کارکنان نے جس طرح جنرل باجوہ کے خلاف مہم چلائی یہ تو بہت ہی پریشان کن پہلو ہے، یہ ٹرولز کس طرح جنرل باجوہ کے خلاف عوام الناس کو اکساتے رہے ،جس پر منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان جو کہ پارٹی کے سربراہ ہیں ،ان کو چاہیے تھا کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو وہ یہ کام کردیتے ،لیکن ان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ جنرل باجوہ کے خلاف یہ اقدام اٹھائیں کیونکہ جنرل باجوہ نے ان کے لیے بہت بڑے فیصلے کیے اور ان کو اقتدار میں لانے کےلیے بہت کچھ کیا ، دو ہزار اٹھارہ میں دیکھیں ، اس سے پہلے ہی عمران خان کےلیے سلسلہ شروع ہوچکا تھا ، ان کواقتدار میں لانے کے لیے ان کے سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے تمام غیر قانونی طریقے استعمال کیے گئے ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اس چیز کا بھی لحاظ نہیں رکھا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیرکوآرمی چیف لگانے کی مخالفت کی تھی
مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے جب عاصم منیر سے اپنے پہلے بجٹ کی منظوری کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی توانہوں نے انکار کردیا تھا کہ یہ آپ کا کام ہیں میرا نہیں ، اور کچھ کرپشن بھی سامنے لانےکی وجہ سے عاصم منیر کو تبدیل کردیا گیا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے شاہد تو روکھڑی صاحب بھی ہیں جو کہ اس وقت اس سارے منظر نامے میں ساتھ تھے
منیب فاروق نے کہا کہ وہ فرح گوگی ، احسن جمیل اور مانیکا فیملی نے جوفائدے اٹھائے ہیں، اب بڑے بڑے ترجمان آجاتے ہیں ، ان کا کہنا تھا ڈی ایچ اے میں فرح گوگی کی آنیاں جانیوں سے کون واقف نہیں ، جو اختیارات اس کو حاصل تھے وہ کسی اور کونہیں تھے ، گھڑی کی طرح اور معاملات بھی ہیں جن کی چھان بین ہونا ضروری ہے ، ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کہہ گئے ہیں کہ عمران خان کی خاطرتین چارجرنیل بھی قربان ہوگئے ، اس پر مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ابھی اور بھی قربان ہونے والے ہیں ، منیب فاروق کا کہنا تھاکہ بہرکیف اب اس ملک کو چلنے دیا جائے جس طرح بھی ممکن ہو،یہ ملک اب مزید ایسے سیاسی بحرانوں کا متحمل نہیں ہوسکتا
اسلام آباد ہائیکورٹ میں نور مقدم کیس میں اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی
مدعی مقدمہ شوکت مقدم وکیل شاہ خاور کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،سزا یافتہ مجرم ظاہر جعفر کے وکیل عثمان کھوسہ کی جانب سے دلائل دیئے گئے ،وکیل عثمان کھوسہ نے کہا کہ کیس میں 9 ملزمان بری ہوئے 3 کو سزا ہوئی،9ملزمان کے بری ہونے سے 75 فیصد کیس یہ ثابت نہیں کرسکے ،کیا ظاہر جعفر کو فیئر ٹرائل ملا ہے اس حوالے سے معاونت کروں گا ،ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو کاپی کی نقول دیں لیکن اس نے دستخط نہیں کیے،
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس کا میڈیکل چیک اپ نہیں کیا گیا ؟ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ اگر کسی اسٹیج پر بھی پتہ چل جائے میڈیکل چیک اپ ضروری ہے، عدالت نے وکیل عثمان کھوسہ سے استفسار کیا کہ ویسے آپ کو کس نے ہائر کیا ہے؟ وکیل عثمان کھوسہ نے کہا کہ ظاہر جعفر کے والد جیل گئے اور وکالت نامے پر دستخط کروائے ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وکیل ہائر کر سکتا ہے تو کیسے اس قسم کے اعتراضات اٹھا سکتا ہے؟ اگر کورٹ نے جیل سے میڈیکل اپ چیک کرایا تو اس کے بعد آپ نے کوئی اعتراض اٹھایا ؟
وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ان کی درخواست ٹرائل کورٹ سے خارج ہوئی لیکن اس کو چیلنج نہیں کیا گیا،عدالت نے ظاہر جعفر کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی آر میں کچھ دیر تھی؟ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جہاں سے ڈیڈ باڈی ملے اس کو پراسیکیوشن نے دیکھنا ہے،آپ یہ کہہ رہے ہیں میں کچھ نہیں کہتا لیکن پراسیکیوشن کچھ ثابت نہیں کر سکی ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کریمنل لامیں ہر ججمنٹ کا اپنا بیک گراؤنڈ ہوتا ہے
قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے
اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے کوئٹہ میں دھماکے پر وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ وزیر داخلہ نے رپورٹ طلب کر لی ہے،
وزیراعظم شہبازشریف نے کوئٹہ میں دھماکے کی مذمت کی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ میں ہونیوالی شہادت میں دلی دکھ اور رنج ہوا،پاکستانی قوم، قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسند عناصر کی ان مزموم کوششوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے.
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کوئٹہ بلیلی چیک پوسٹ دھماکے کی مذمت کی ہے ،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے دھماکے میں شہادتو ں پراظہار افسوس کرتے ہوئے کہا گیا کہ کوئٹہ بلیلی چیک پوسٹ دھماکا بظاہرخودکش لگتا ہے، بلوچستان حکومت سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے،دہشت گردوں نے پولیس پارٹی کو ہدف بنایا پولیس کی قربانیوں پر فخر ہے،
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی میں قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کیا جائے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورس پر بزدلانہ حملہ کیا، دہشت گردی کی کارروائیوں سے امن کے قیام کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا سیکیورٹی فورسز کے حوصلے بلنداورعزم مضبوط ہے حملے میں ملوث عناصراور انکے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا
واضح رہے کہ کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب خود کش دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے خود کش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں 22 اہلکاروں سمیت 27 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسلام آباد:وزیراعظم کیخلاف نیب مقدمات کی 2 انکوائریاں بند کرنے کی منظوری.اطلاعات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف 2 مقدمات کی انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دے دیں۔
نیب قانون میں ترامیم کے بعد کرپشن انکوائریاں بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے، گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے خلاف بھی دومقدمات کی انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
نیب ایگزیکٹو بورڈ کی سفارشات میں کہا گیا کہ 3 سالوں کے دوران تحقیقات کے باوجود کرپشن کے ثبوت نہیں ملے، جس کے بعد چئیرمین نیب آفتاب سلطان نے انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دی۔
خیال رہے کہ نیب نے 2019 میں بہاولپور میں 14 ہزار 400 کینال سرکاری اراضی منتقل کرنے پر انکوائریاں شروع کی تھیں، نیب ملتان نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شبہاز شریف کو سوالنامہ اور طلبی کے نوٹسز بھجوائے تھے۔
چیئرمین نیب نے سرکاری اراضی کی منتقلی کا معاملہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو بھیجنے کی ہدایت کر دی، قانون میں ترمیم کے بعد سرکاری اراضی کی منتقلی کی تحقیقات پنجاب ریونیو اتھارٹی کرے گی۔
بہت ہو گئی امریکی مخالفت، تحریک انصاف کا رہنما امریکی سفارتخانے پہنچ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے خلاف تحریک انصاف کا بیانیہ زمین بوس، تحریک انصاف کے رہنما امریکی سفارتخانے پہنچ گئے اور امریکی سفیر سے ملاقات کی،
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات ہوئی ہے، فواد چودھری امریکی سفارتخانے میں گئے اور انکی امریکی سفیر سے ملاقات سفارتخانے میں ہوئی ، ملاقات تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کی خواہش پر ہوئی،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اور امریکی سفیر کے مابین یہ ملاقات آج دن کو تین سے چار بجے کے درمیان ہوئی،
ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ تحریک انصاف امریکہ کے خلاف تحریک چلا کر اب یوٹرن لے رہی ہے او رایک بارپھر اقتدار میں آنے کے لئے اب شاید امریکہ سے مدد مانگ رہی ہے،سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی مداخلت قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کمزور ملکوں کی حکومتوں کو گرا کروہاں اپنی مرضی کی حکومتیں لاکرپھر ان کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتاہے،عمران خان نے یہ ایک بیانیہ قوم کےسامنے رکھا تھا ،مگراب امریکی سفیر سے تحریک انصاف کے رہنما کی امریکی سفارتخانے میں ملاقات کے بعد یہ نظرآرہا ہے کہ عمران خان کے رویے میں لچک آرہی ہے یا پھر اب انہوں نے امریکہ سے کرسی کے لئے مدد مانگنا شرورع کر دی ہے، ہر جلسے میں ایاک نعبد و ایاک نستعین سے تقریر شروع کرنے والے عمران خان ایسے لگتا ہے کہ اب امریکہ کے سامنے جھکنے کے لئے تیار ہیں،
سابق امریکی سفیر سے عمران خان خود ملاقات کر چکے ہیں، جبکہ امریکی سفیر سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیراعلیٰ پنجاب کی بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں، خیبر پختونخواہ حکومت نے امریکی امداد بھی قبول کی ہے ۔ اس امداد پر عمران خان پر تنقید کی گئی تا ہم وہ خاموش رہے۔ اب امریکیوں سے رابطے۔امداد کی قبولیت نے عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیہ کو زمین بوس کر دیا ہے
وزیراعظم شہبازشریف نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو ٹیلی فون کیا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل سید عاصم منیر کو آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ بہادر پاکستان آرمی کے سپہ سالار کا منصب سنبھالنا بڑا اعزاز ہے،پاک آرمی کو آپ جیسا پیشہ وارانہ قابلیت کا حامل سربراہ ملنا اللہ تعالی کا خاص فضل ہے،آپکی قیادت میں آرمی کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور دفاع وطن کی قوت میں اضافہ ہوگا،ملکی سلامتی، دہشتگردی کے خاتمے ،سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں اللہ آپ کی رہنمائی فرمائے، وطن عزیز کے دفاع، سلامتی اور تحفظ کیلئے ہمارا بھرپور تعاون آپ کومیسر رہے گا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نیک تمناوں کے اظہار اور مبارکباد پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا
قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ کمانڈ کی تبدیلی کا عمل موثر انداز میں مکمل ہوا ،توقع ہے کہ مزید بہتری آئے گی ،
علاوہ ازیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کی کمان سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے تہنیتی پیغامات میں انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کا شمار پاک فوج کے انتہائی قابل ، باصلاحیت اور تجربہ کار جرنیلوں میں ہوتا ہے ۔یقیناً وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کے دفاع کو مزید ناقابل تسخیر بنائیں گے۔انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کا ملک سے خاتمہ کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائیں گے۔پاک فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے، اس کی قیادت کسی اعزاز سے کم نہیں۔یقیناً جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک آرمی پہلے سے زیادہ مضبوط اور فعال ادارہ بن کر ابھرے گا ۔ انہوں نے جنرل عاصم منیر کی بطورچیف آف آرمی سٹاف کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا
جو قوم اپنے محافظوں کو بھلا دیتی ہے وہ خود بھی بھلا دی جاتی ہے۔کیونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ممالک کی سرحدیں دیواروں کی حیثت رکھتی ہیں اور ان کی حفاظت سپاہی اور بندوقیں کرتی ہیں۔ بےپناہ چیلنجز، مشرق اور مغرب سے دشمن کی یلغار، ملک کے اندرہائیبرڈ وار کی للکار، مہنگائی کے مارے غریبوں کی پکار، گرتی معیشت، تاریخی بجٹ خسارہ، قدرتی آفتوں کی بھرمار۔ایسے میں دنیا کی ساتویں بڑی اور 9th most powerful فوج کے سپہ سالار اپنے دفاعی بجٹ میں سو ارب کمی کی پیش کش کر دے۔ یہ انتہائی حیرانی کی بات ہے کیونکہ اس فوج نے صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کرنی، بلکہ ہر اُس چیز سے لڑنا ہے جو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔
چاہےگرتی معیشت ہو یا بگڑتی خارجہ پالیسی ۔
شدید موسمی تغیرات ہوں یا اچانک قدرتی آفتیں۔
چاہےتعلیم ، صحت ہو یا دہشت گردی
پاک فوج نےہر میدان میں سول اداروں کے ساتھ کندے سے کندھا ملا کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس نےپوشیدہ امتحانات کو جھیلتے ہوئے مقدس مشن کی آبیاری بھی کرنی ہے، جو ایک کوہ گراہ ہی سرانجام دے سکتا ہے۔پاکستان کی فوج پر انیس سو ستر میں جی ڈی پی کا6.5% خرچ ہو رہا تھاا ور دوہزار اکیس ، بائیس میں جی ڈی پی کا2.54% جہاں پاکستان کی فوج کا بجٹ 8.8 billion doller ہے وہیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اپنی فوج پر 76 billion doller خرچ کر رہا ہے۔sipri military data base کے مطابق جہاں بھارت ملٹری پر اخراجات کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے تو وہیں پاکستان کا اخراجات کے حوالے سے چالیس ممالک کی لسٹ میں 23rd تیسواں نمبر ہے۔جہاں پاکستان کا دشمن اپنے فوجی پر سالانہ
42000 $ خرچ کر رہا ہے وہیں پاکستان اپنے فوجی پر 12500 $ سالانہ خرچ کر کے اسی دشمن کےسامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے ۔
ان حیران کن کامیابیوں کے پیچھے بلاشبہ فوجی قیادت کا اہم کردار ہے کیونکہ قیادت شاندار کارناموں کو اپنے سر کا تاج بنانےکا نام نہیں ہے۔بلکہ قیادت اپنی ٹیم کو ایک مقصد پر فوکس رکھنے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل ترغیب دینے کا نام ہے۔خاص طور پر ایسے حالات میں جب سازشوں کا جال ہر طرف بکھرا ہو ، اندرونی اور بیرونی دشمن ہر طرف سے داو پیچ کھیل رہا ہو۔ اور اس مقصد کے نتائج برائے راست ملکی سالمیت پر اثر انداز ہو رہے ہوں۔ وہ قیادت جو کامیابی کا سہرا اپنے سر سجانے کی بجائے پیچھے کھڑی دوسروں کو چمکنے کا موقع فراہم کر رہی ہو۔وہی حقیقی قیادت کہلانے کی حق دار ہوتی ہے اورقیادت کا یہ حق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوب ادا کیا۔ دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود رکھنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال قدم بھی اٹھایا۔اس معمولی بجٹ میں پاک فوج نے نہ صرف پرانے روائیتی ہتھیاروں کو استعمال کے لیے برقرار رکھا بلکہ ناگزیرنئے روایتی ہتھیاروں کے نظام،سمولیٹرز،سائبر وارفیئر کی ص،لاحیتوں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں جدیدترین پیش رفت کو بھی شامل کیا ۔دیگر مدمقابل افواج کے مقابلے میں کم ترین بجٹ ہونے کے باوجود پاک فوج نے اپنی معیاری صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا۔ اور یہ دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کو شکست دی۔
کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے سال دوہزار بیس ، اکیس میں اٹھائیس ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومت کو دیا۔؟کیا آ پ کو پتا ہے کہ فوجی فاونڈیشن ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ ایک ویلفیئر ادارہ ہے جو اپنی انکم کا73%شہدا کی فیملی، جنگ کے نتیجے میں ہونے والے معزور اور زخمیوں اور ریٹائر فوجیوں پر خرچ کرتا ہے۔ اس میں کام کرنے والے
17% لوگوں کا تعلق شہدا کی فیملیوں جبکہ83% سویلین سے ہے۔ فوجی فاونڈیشن نے سال دوہزار اکیس میں تقریبا ایک ارب روپے فلاحی کاموں پر خرچ کیئے۔ اگر یہ ادارہ خود فنڈ generate نہ کرے تو حکومت پر سالانہ دس ارب روپے کا مزید بوجھ بڑھ جائے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس فوجی گروپ دیتا ہے جو سالانہ 150 ارب روپے بنتا ہے۔ اور گزشتہ پانچ سالوں میں ایک ٹریلین روپے حکومت کو ٹیکس دے چکا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ ملک بھر کے DHA’s
میں صرف تیس سے پینتیس فیصد لوگ سابق فوجی ہیں باقی سب سویلین کام کرتے ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ آرمی ویلفیئر آرگنائزیشن سالانہ 156% ٹیکس دیتی ہے جو دفاعی بجٹ کا 26% بنتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے جنرل باجوہ کی سربراہی میں حکومت کو GSP PLUS status برقرار رکھنے کے لیے ستائیس انٹرنیشنل کنوینشن کرنے میں مدد فراہم کی۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج نے پاکستان کی قومی سلامتی کے نقطہ نظر کو ماحول، انسانی اور روایتی سلامتی کے ساتھ ہم آہنگی کے تعلقات کو استوار کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ترتیب دیا۔ قومی سلامتی کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے Karkey Karadeniz Electrik Uterimتنازعات کا حل نکالا۔ سول اور فوجی قیادت پر مشتمل ایک کور کمیٹی نے ترکی، سوئٹزرلینڈ، لبنان، پاناما اور دبئی میں کرپشن کے شواہد کو بے نقاب کیا۔ یہ ثبوت کور کمیٹی کی جانب سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے۔
پاک فوج نے کارکے تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا اور ICSID کی طرف سے عائد 1.2 billion doller جرمانہ بچایا۔ اگر تنازعہ طے نہ ہوتا اور پاکستان رقم ادا کر دیتا تو پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً دو فیصد تک سکڑ جاتی اور پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں Rekodiqمعاملہ فوج کی ان گنت کوششوں سے حل ہوا۔ اورپاکستان کو ریکوڈک کیس میں11 بلین ڈالر کے جرمانے سے بچایا گیا اور اس منصوبے کی تشکیل نو کی گئی جس کا مقصد بلوچستان میں اس جگہ سے سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کی کھدائی کرنا تھا۔ ریکوڈک معاہدہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ تھا کیونکہ انہوں نے تمام فریقین کو قومی اتفاق رائے کے لیے قائل کیا۔ اور تین سال کی انتھک محنت اور بات چیت کے مراحل سے گزر کر طے ہوا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ریکوڈک ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان ہو گی۔ یہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلائے گا اور ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
ریکوڈک وفاقی، صوبائی حکومتوں اور بلوچستان کے عوام کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ہر جنگ کا ایک ہیرو ہوتا ہے اور وہ ہیرو وہ ہوتا ہے جو چیلنجز کو قبول کرتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے چھ سالہ دور میں کئی چیلجز کو کھلے د ل سے قبول کیا۔اور بلاشبہ چاہے ایف اے ٹی ایف ہو یا ریکوڈک karkey disputesettalment ہو یا نیشل ایکشن پلان۔ ان محاذوں کے ہیرو جنرل قمر جاوید باجوہ ہی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں جس طرح پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ سے نکلانے کے لیے کام کیا گیا اس کا ذکر سنہرے حروف میں کیا جائے گا۔ دشمن کے بھرپور زور لگانے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے باوجود پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔اس کام کے لیے نہ صرف تیس سے زائد وزارتوں اور محکموں کے درمیاں کوآرڈینیشن بلکہ چودہ قوانین اور تیس سے زائد rules/regulations پاس کی گئی۔
بات پاکستان کی معیشت کی ہو اور سی پیک کا ذکر نہ ہو یہ اچھنبے کی بات ہے۔ سی پیک نے پاکستان اور دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین کے تعلقات کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ اوران مضبوط تعلقات کے لیے اہم کردار پاک فوج نے جنرل باجوہ کی قیادت میں ادا کیا ہے کیونکہ فوج کی جانب سے جس طرح CPECاور چینی حکام کو فراہم کردہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا تھا۔اس کے بغیر اس منصوبہ کا پایہ تکمیل تک پہنچا ممکن نہیں۔سی پیک منصوبہ پہلے دن سے ہی دشمن کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لیئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ سی پیک کے حوالے سے چین نے جنرل باجوہ کی خدمات کو کئی موقعوں پر سراہا۔وقت گواہ ہے کہ اگر اس پاک سرزمین نے لہو کا خراج مانگا تو وہاں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے ہمیشہ سبقت لی۔
چاہے امن ہو یا جنگ، ہنگامی حالات ہو یا آفت ،پاک فوج کے جانبازوں نے ملک کے وقار کو ہمیشہ بلند کیا۔پاک فوج قوم کے ماتھے کاجھومر ہے جو سیاچن گلیشیئرسے لے کر سندھ کے ریگزاروں تک، سوات آپریشن سے آپریشن ردالفساداورسمندروں تک ہر جگہ پاکستان کی بہادر افواج اپنے خون سے ہمت واستقلال کی داستان رقم کرتی ہے ،یہ نہ صرف سرحد پار دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں بلکہ اس کے ایجنٹ دہشت گردوں کو کونوں کھدروں سے نکال کر جہنم واصل بھی کر تےہیں
اس لیے تاریخ شاہد ہے کہ ہر مشکل وقت میں سیاسی قیادت اور عوام نے پاک فوج سے مدد لینے کو ہی اولین ترجیح قرار دیا ۔قوم کے بیٹے کبھی کراچی کی سڑکوں سے نکاسی آب کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں تو کبھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر مقیم ہم وطنوں کی داد رسی کے لیے پہنچتے ہیں ۔ چاہے مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنا ہو یا سیلاب زدہ علاقوں سے۔
لوگوں کو ریلیف مہیا کرنا ہو یا کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے اقدامات ہوں ،اہم مواصلاتی شریانوں کو کھولنا ہو یا ٹڈی دَل کے فصلوں پر حملوں کا سدباب ہو پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔
کرونا وائرس جب 2020ء میں پاکستان پہنچا تو وطن عزیز کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ فوج نے ایک منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ، ضرورت مند ہم وطنوں کو ان کے دروازوں پر راشن فراہم کیا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے ریلیف پیکجز دئیے گئے جس کی حقدار اقلیتیں بھی تھی۔آئسولیشن وارڈز کا قیام ہو یا لاک ڈاون پالیسی، ٹریک اینڈ تریس پالیسی ہو یا خوراک کی فراہمی کوئی بھی کام پاک فوج کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ابھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اقدامات جاری تھے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹڈی دَل کی آفت نمودار ہوئی جس سے ملک کی بہت سی فصلیں تباہ ہوئیں۔ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریسکیو اور دیگر اداروں کے ساتھ افواجِ پاکستان نے ملک کو اس آفت سے نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، اورتقریباً دس ہزار جوان و افسر تعینات کیئے گئے ۔ اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے برائے راست اس آپریشن کا معائنہ کیا۔سیلاب آیا تو پاک فوج نے عوام کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پاک فوج نے 83 نکاسی آب کے آلات، 20 کشتیوں اور دیگر ضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔نہ صرف گنجان آباد علاقوں میں پھنسے41,482 افراد کو گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا بلکہ ضرورت مند لوگوں میں راشن کے 180120 پیکٹس بھی تقسیم کئے گئے،ملک بھر میں آرمی، نیوی اور فضائیہ کے ریلیف کیمپس قائم کیئے گئے جہاں پچاس ہزار سے زائد افراد کو ریلیف ملا۔ جبکہ 250 میڈیکل کیمپس میں آرمی ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرامیڈیکس سٹاف اب تک 83ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کرچکا ہے
نہ صرف پاک فوج کی اعلی قیادت بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاکستان آرمی کی تمام فارمیشنز اور سینئر کمانڈرز موجود رہے اور امدادی کارروائیوں میں مصروفِ عمل رہے ، اور ہیلی کاپٹرز مسلسل متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی کررہے تھے اور انہی کوششوں کے دوران پاک فوج کے لیفٹنٹ جنرل سرفراز سمیت سینئر فوجی افسران نے جام شہادت نوش فرمائی ۔
پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ آفات کے خطرے کی سطح کا سامنا ہے، جو 2020 کے انفارم رسک انڈیکس کے مطابق
191 ممالک میں سے 18 ویں نمبر پر ہے،ماضی میں جتنے بھی لرزا دینے والے زلزلے اور سیلاب گزرے ان میں پاک فوج کے جوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ، پاک فوج نے ہمیشہ منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اندرونی یا بیرونی چیلنجز کے باوجود ہر صورتحال میں قوم کو مایوس نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ ادارہ ہے جس نے نہ صرف حکومت کے ساتھ مل کر ہر آفت اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے کام کیا بلکہ بطور ادارہ بھی لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالا، ابھی بھی فوجی قیادت ملک کو دیوالیہ ہونےسے بچانے کے لئے متحرک ہے، اور دوست ممالک میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے سیاسی قیادت کی مدد کر رہی ہےکسی بھی ملک کی کامیاب خارجہ پالیسی میں اس ملک کی فوجی طاقت اور معیشت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی فوج پاکستان کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو جسم سے نکل جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دفاعی تعلقات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چاہے چین ہو یا امریکہ، عرب ممالک ہوں یا یورپ۔ ہر ملک پاکستان سے خارجہ تعلقات استوار کرتے ہوئے ا سکی فوجی طاقت کو مدنظر رکھتا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی اس طاقت کو بڑ ے اچھے طریقے سے ملک کے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اور سعودی عرب، چین، امریکہ، ترکی اور روس سے پاکستان کے لیے بے حد فواہد حاصل کیے۔ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے چین اور سعودی عرب سے پاکستان کے قرضے ری شیڈول کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔پاکستان کے اندر کرکٹ ڈپلومیسی کی دوبارہ سے بنیاد رکھی ،بین الاقوامی تاثر کو تبدیل کرنے میں فوجی سفارت کاری بہت اہم تھی اور ملٹری ٹو ملٹری تعلقات نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019
کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیااور آج پاکستان میں الحمد للہ انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو چکی ہے۔
بھارت کی شدید ترین مخالفت کے باوجود کرتار پور کوریڈور کی کامیاب بنیاد رکھ کر ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا۔ جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ بہتر تعلقات، پاکستان کو دوسرے مذاہب کے لیے محفوظ مقام کے طور پر پیش کرنے میں مدد ملی۔
اور یہ سب کچھ اتنا آسان نہ تھا۔۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی سرپرستی میں پاک فوج نے ملک میں محفوظ ماحول پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ اب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسی ہزار قربانیاں اور ایک سو پچاس بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ اور ابھی بھی آپریشن رد الفساد کے دوران قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاکہ دہشت گردوں کی باقیات اور چھپے ہوئے خطرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔آپریشن ردالفساد کے تحت فوج کے تعاون سےنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، سابقہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرنا شامل ہے۔ کُل دو لاکھ بائیس ہزار آٹھ سو چھیتیسCombing operations کے دوران72,364ہتھیار برآمد ہوئے جبکہ 5.029 ملین گولہ بارود برآمد کیا گیا۔دوہزار ایک سے لے کر اب تک ان آپریشنز کے دوران فوج کے
5460 اہلکار شہید جبکہ19070اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔، جبکہ دوہزار سترہ سے آپریشن رد الفساد کے دوران291
اہلکار شہید اور647 اہلکار صرف بلوچستان میں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دوہزار نو سے اب تک 12914 دہشت گردون کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ قوم کے اعتماد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ہی پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے۔ پاکستان کی داخلی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیا۔ بلاشبہ، ایک محفوظ ماحول سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرتا ہے اور سیاحت کی صنعت کو فروغ دیتا ہے۔ اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے پاکستان،پاک فوج کی کوششوں سے، 2,600 کلومیٹر طویل افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریباً مکمل کر چکا ہے جس کا مقصد سرحد پار سے بے قابو نقل و حرکت کو روکنا ہے جس سے دہشت گردی اور اسمگلنگ دونوں کو ہوا ملتی ہے کیونکہ لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ پاک فوج کے مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا 94%
کام مکمل ہو چکا ہے۔ ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا 5 جنوری 2022 کا بیان باڑ کے مقصد کی ترجمانی کرتا ہے۔ جس کے مطابق سیکیورٹی، بارڈر کراسنگ اور تجارت کو منظم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی نہین بلکہ پاک فوج نے دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے اور مغربی سرحد پر سیکورٹی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ۔اس کے علاوہ ایران کا دورہ کرنے والے زائرین کا تحفظ، لائن آف کنٹرول پر پوسٹوں کو محفوظ بنانا، کشمیر ایکشن پلان کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، افغانستان سے انخلا کا عمل، اور بارڈر کراسنگ اور سمگلنگ میں کمی کے اہم کارنامے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں سر انجام ہوئے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملٹری ڈپلومیسی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں نے ان ممالک کے ساتھ مجموعی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہ ہموار کی۔ کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے۔ پاکستان نے اردن، نائجیریاں، سعودی عرب، چین، برطانیہ، بحرین، ترقی، ملائشیا، مراکش، سمیت متعد ممالک کے ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کے تحت ایکسر سائزز میں حصہ لیا۔ جبکہ امریکہ، روس اور نیٹو کے ساتھ بھی بیشتر ایکسرسائزز میں حصہ لیا گیا۔پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر متعارف کروانے کے لیے عالمی مقابلوں اور میگا ایونٹس کا انعقاد کروایا گیا جس میں ملک کا حقیقی چہرہ پیش کیا گیا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہ صرف فوج کی دفاعی ضروریات کو اولین ترجیح دی بلکہ دفاعی برآمدات پر بھی خصوصی توجہ دی۔ جہاں فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں اس نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشی بہتری میں ریاستی اداروں کی تکمیل بھی کی ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ظاہر ہوتا رہا ، جو کامیاب فوجی سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ ایم او ڈی پی MODP
کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 ارب روپے) اور اندرون ملک فروخت (تقریباً 70 ارب روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا۔ دوہزار انیس میں نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میںJF-17 برآمد اور 33.33 ملین امریکی ڈالر مالیت کے عراق کو 12 ایکس مشاک کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 one thirdقیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔برآمدات پیدا کرنے کے علاوہ،
MoDP نے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 ارب روپے ٹیکس/ڈیوٹیز ادا کیں اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں آٹھ ہزار ملازمتیں پیدا کیں۔ انتہائی سیاسی تقسیم رائے کی وجہ سے اگر ہم یہ کہیں کہ فاٹا کا خیبر پختون خواہ میں انضمام جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ تو غلط نہ ہو گا۔ اور اس کام پر نہ صرف فاٹا کے عمائدین بلکہ
fata youth Jirga نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات کو خوب سراہا ۔ پاک فوج کی انتھک محنت اور سیکیورٹی کے بغیر یہ عمل مکمل ہونا ناممکنات میں سے تھے۔ پاک فوج نے نہ صرف یہاں اس عمل کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ گورننس، پولیس،قانون سازی، جوڈیشل کمپلیکسس،صحت اور تعلیم کے شعبہ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہی نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کے newly merged Districts میں بارڈر فینسنگ، بارڈر ٹرمینلز،
temperory displacemet persons میں اسی ارب کی تقسیم، 619 تعلیمی ادارے مکمل، پانچ کیڈٹ کالج مکمل اور269
تعلیمی ادارے زیر تعمیر ہیں۔ 140صحت کے مراکز مکمل جبکہ ستر زیر تعمیر ہیں۔980 مکمل جبکہ کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر360 کلومیٹر سڑکیں زیر تعمیر ہیں۔اربوں روپے کے سینکڑوں پراجیکٹس
socio economic sectors
developments works
chief of army staff youth employment scheme
re habilitation & construction
کی صورت میں جاری ہیں اور بیشتر پایہ تکمیل تک پہچ چکے ہیں پاک فوج اس وقت بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی خوشحالی پر بھی تاریخی کام کر رہی ہے۔ ا س مقصد کے لیے نہ صرف سینکڑوں سکول، ہسپتال فوج کی زیر نگرانی کام کر رہے ہیں جس میں چالیس ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ گیارہ سو کلو میٹر لمباسڑکوں کا جال بچھانے میں بھی پاک فوج اہم کردار ادا کر رہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سر پرستی میں پاک فوج نے
badani
chaman
اور
kech
میں قائم کی ہیں۔ تاکہ وہاں پر معاشی سرگرمیاں پیدا کی جا سکیں۔لوگوں کی زندگیوں کو بہتر کیئے بغیر، انہیں روزگار فراہم کیئے بغیر کسی بھی علاقے میں امن ممکن نہیں اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس سنہرے اصول کو اپنی پالیسی کا حصہ بناتے ہوئے جہاں انتشار پسندوں کا قلعہ قمع کیا وہیں معصوم لوگوں کو ان کے چنگل سے بچانے کے لیے معاشی سرگرمیاں بھی شروع کروائی۔ جس نے امن کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کا یہ کمال ہے کہ ا س نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کی فوج کو ہر لحاظ سے ٹکر دی ہے۔ اور دفاعی بجٹ کے پہاڑ جیسے فرق کو کبھی بھی اپنے عزم کے درمیاں حائل نہیں ہونے دیا۔ اور انتہائی ذہانت سے اپنے آپ کو ہر قسم کے چیلنچ کے لیے وقت سے پہلے تیار رکھا۔ اور بھارت کی تسلط پسندانہ سوچ کو اپنی حکمت عملی اور عزم سے ہمیشہ شکست دی۔پیشہ ور سنائپرز کی تربیت کے لیے آرمی سنائپر سکول کی منظوری دی گئی۔ حقیقت پسندانہ تربیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرمی سمیلیٹر رجیمsimulator regime
کو فوج میں شامل کیا گیا VT-4 ٹینک کی شمولیت کی گئی جو ایک جدید ترین مشین ہے، جس کا موازنہ دنیا کے کسی بھی جدید ٹینک سے کیا جا سکتا ہےاسی طرح ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے
HIMAD air defence system
SH-15 Howitzer self propelled artillery system
زمین اور سمندر پر اونچی پرواز کرنے والا
CH-4 Male UAV
J-10 C fighter aircraft
اور
Type 54 Frigates
سمیت بیشتر جدید ترین ہتھیار شامل کیئے گئے۔فوج کی ٹرپل پلے سروسز (وائس، ویڈیو اور ڈیٹا) کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک محفوظ موبائل کمیونیکیشن سسٹم بنایا گیا ہے ۔ملکی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے خود انحصاری اور معاشی وسائل کے حصول کے لیے، پاک فوج دفاعی پیداوار کے مختلف شعبوں میں مقامی طور پر بھی کام کر رہی ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی معاشی شہہ رگ کراچی کے1.1 trillion
کے transformation planکو آرمی کی مدد سے لانچ کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی۔
تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کا تعین کرتی ہے، پاک فوج اس وقت ملک میں نہ صرف تعلیم کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جدید تعلیم کو بہترین طریقے سے متعارف کروا رہی ہے۔ اس وقت ملٹری تعلیمی اداروں سے759426طلبا ہائیر سکینڈری لیول جبکہ71411طلبا اعلی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ تعلیم کو ہر طبقے تک رسائی دینے کے لیے فوج اپنے زرائع سے سالانہ نہ صرف 831 million خرچ کر رہی ہے بلکہ دوہزار پانچ سے اب تک Army public school and education system تحت کے 81655 اساتذہ کو معیاری تعلیم دینے کے لیے ٹریننگ بھی دے چکی ہے۔ جبکہ وفاقی تعلیمی سیکٹر کی مدد کے ساتھ ساتھ فوج
special education
youth development
technical & vocational trainingانٹر نیشنل معیار کے مطابق سمیت، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر
Army public school for international Studies کا آغاز بھی کر چکی ہے۔جہاں تعلیم کے میدان میں فوج بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے وہیں صحت کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی جا رہی ہیں، پاک فوج نے خاص طور پر دور دراز علاقوں (سندھ، کے پی کے، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں اینڈ کشمیر) میں مفت طبی کیمپوں کا قیام، قدرتی آفات کے دوران طبی امداد اور وفاقی اور صوبائی طبی انفراسٹرکچر میں قوم کی بے لوث خدمت کی ہے اور ان صوبوں میں میڈیکل کیمپوں کے زریعے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد مریضوں کا اعلاج کیا جا چکا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کو بے شمار خطرات سے بچایا بلکہ دنیا کی ساتویں بڑی فوج کے سربراہ ہونے کا حق بھی خوب نبھایا۔ ان کی سربراہی میں پاک فوج نے لازوال کامیابیاں حاصل کی ، ایسے کام کیئے ایسے چیلجز سے نبٹاجو ان کی پیشہ وارانہ زندگی سے ہٹ کر تھے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنرل باجوہ کے دور میں جس طرح پاکستان کے ہر گلی کوچے سے کشمیر کے ساتھ یکجہتی کی تحریک نے زور پکڑا اس کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔جنرل باجوہ نے ایک مقدس مشن کی آبیاری کرتے ہوئے افغانستان میں اپنے پتے اس خوبصورتی سے کھیلے کے دنیا کی سپر پاورکو پاکستان پر انحصار کے بغیر وہاں سے نکلنا محال ہو گیا اور دشمن پاکستان کے مفادات کو ضرب لگانے کی بجائے اپنے زخم چاٹتا رہ گیا۔جس طرح پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکال کر پاکستان پر چھائے نحوست کے بادلوں کو مار بھگایا۔ جنرل باجوہ آپکے کارنامے پاک فوج میں مشعل راہ بن چکے ہیں۔ اور قوم کو آپ پر فخر ہے۔
جنرل قمرجاوید باجوہ نے کمان کی چھڑی نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیرکوسونپ دی
جنرل قمرجاوید باجوہ عہدے سےسبکدوش ،جنرل عاصم منیر پاک فوج کے 17ویں آرمی چیف بن گئے جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کے 17ویں آرمی چیف کی حیثیت سے فوج کی کمان سنبھال لی جنرل سید عاصم منیر نے فوجی کیریئر کے دوران بہترین عسکری پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج سے طویل تعلق رہا پاک فوج کے ساتھ تعلق میرے لیے باعث فخر ہے،میرے 6 سالہ دور میں دہشت گردی سے لیکر ہر مشکل میں فوج نے میری آواز پر لبیک کہا،فوج میں خدمات کا موقع دینے پراللہ کامشکور ہوں ،میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا، جنرل عاصم منیر کو سپہ سالار بننے پر مبارکباد پیش کرتاہوں ،جنرل عاصم منیر حافظ قران اور باصلاحیت افسرہیں، یقین ہے فوج ان کی قیادت میں نئی منازل عبور کرے گ، ان کی تعیناتی مثبت ثابت ہوگی خوشی ہےکہ فوج ایک مایہ ناز اور قابل افسر کے حوالے کرکے جارہا ہوں۔آج سے 44 سال پہلے میرا فوجی سفر شروع ہوا جو اختتام پذیر ہورہا ہے 6 سالہ دور میں ایل او سی کے معاملات، دہشتگردی، امن و امان یا قدرتی آفات کا مقابلہ ہو، اس فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا میں نے ان سے جہاں پسینہ مانگا انہوں نے خون دیا ان کی اسی قربانیوں کی وجہ سے آج ملک امن کا گہوارہ ہے مجھے اپنی فوج پر فخر ہے جو کم وسائل کے باوجود سیاچن سے لے کر صحرا تک سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے یہ لسانیت، رنگ نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہوکر ملک کے چپے چپے کا دفاع کرتی ہے یقین ہے آنے والے وقت میں فوج جنرل عاصم کی قیادت میں اس سے بڑھ کر ملک کی خدمت کرے گی
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بطور آرمی چیف اپنی 6 سالہ مدت کے دوران ملک و قوم کے لیے جو ہو سکتا تھا وہ کیا، ملک و قوم کے لیے خدمات پر مطمئن ہوں، جنرل سید عاصم منیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اب کمانڈ ان کے حوالے ہے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بہترین آفیسر ہیں،
جنرل قمر جاوید باجوہ کو پرتپاک انداز سے جی ایچ کیو سے رخصت کیا گیا ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداع کہا ،پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی سابق آرمی چیف کو الوداع کہا ،ڈی جی آئی ایس آئی اور اعلیٰ فوجی افسران نے جی ایچ کیو تقریب سےجنرل قمر جاوید باجوہ کو رخصت کیا
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ عنقریب گمنامی میں چلا جاؤں گا لیکن فوج سے روحانی رابطہ ہمیشہ قائم رہے گا جب فوج کی کا میابیاں ہوگی خوشی ہوگی اور جب فوج پر مشکل وقت آئے گا میری دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی
پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی شرکت
جی ایچ کیوراولپنڈی میں پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب ہوئی
تقریب میں مسلح افواج کے سربراہان، اعلیٰ سول، فوجی افسران شریک ہوئے پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں وفاقی وزرا اورسفارتکار بھی شریک ہوئے، سینئر صحافی و اینکر پرسن، سی ای و باغی ٹی وی، معروف ٹی وی پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان بھی تقریب میں شریک ہوئے،تقریب میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک تھے،ایئر چیف بھی پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں موجود تھے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا تقریب میں موجود تھے وزیرداخلہ راناثنااللہ،وزیرخارجہ بلاول بھٹو بھی تقریب کا حصہ تھے وفاقی وزیر احسن اقبال،وزیراطلاعات مریم اورنگزیب بھی تقریب میں شریک تھے
جنرل عاصم منیر اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی سلامی کے چبوترے پر آمد ہوئی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اعزازی گارڈ زکی جانب سے سلامی دی گئی مہمان خصوصی جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اعزازی گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا گیا اعزازی گارڈزنے سلامی کے چبوترے کے سامنے جگہ لیں
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج سے طویل تعلق رہا پاک فوج کے ساتھ تعلق میرے لیے باعث فخر ہے،میرے 6 سالہ دور میں دہشت گردی سے لیکر ہر مشکل میں فوج نے میری آواز پر لبیک کہا،فوج میں خدمات کا موقع دینے پر اللہ کامشکور ہوں ،میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا، جنرل عاصم منیر کو سپہ سالار بننے پر مبارکباد پیش کرتاہوں ،جنرل عاصم منیر حافظ قران اور باصلاحیت افسرہیں،
تقریب میں جی ایچ کیو ملٹری بینڈ نے مارچ کیا،جی ایچ کیو ملٹری بینڈنے ٹوکیو فیسٹیول میں بھی شرکت کی جی ایچ کیو ملٹری بینڈ نے چین،ملائیشیا، ترکیہ،یواے ای اور روس میں بھی مہارت کا لوہا منوایا تقریب میں ملٹری بینڈ کی جانب مشہور ملی نغمے دل دل پاکستان کی خوبصورت دھن پیش کی گئی،میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن،ملٹری بینڈ نے مشہور کشمیری نغمے کی دھن بھی پیش کی،ملٹری بینڈ کی جانب سے میاں محمد بخش کے مشہور کلام کی دھن بھی پیش کی گئی ملٹری بینڈنے ملی نغمے جیوے جیوے پاکستان کی خوبصورت دھن بھی پیش کی
اعزازی گارڈ کی جانب سے مارچ کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کی گئی،اعزازی گارڈ کے دستے کی قیادت میجر ثاقب عالم کر رہے ہیں میجر ثاقب عالم کا تعلق فرسٹ عباسیہ اے بلوچ رجمنٹ سے ہے اعزازی گارڈ کے دستے کا تعلق پاک فوج کے مایہ ناز بریگیڈ ٹرپل ون انٹڈیپنڈنٹ انفنٹری بریگیڈ سے ہے