Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عارف علوی کا دورہ ڈی جی خان: مبشر لقمان کا گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ، انتظامیہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    عارف علوی کا دورہ ڈی جی خان: مبشر لقمان کا گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ، انتظامیہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ دنوں صدر پاکستان عارف علوی نے سیلاب زدگان کیلئے صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا تھا، لیکن اب سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان نے اس دو نمبر دورہ اصل حقیقت اپنے پروگرام کھرا سچ میں کھول کر رکھ دی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جس ریلیف کیمپ کا دورہ کیا وہ دراصل ایک گھوسٹ کیمپ بنایا گیا تھا کیونکہ صدر مملکت کو سیلاب سے متاثرہ دور دراز علاقوں میں لے جانے کے بجائے ائیرپورٹ کے قریب ایک عارضی ریلیف کیمپ کا دورہ کرایا گیا۔

    جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ نجی میڈیا کے نمائندے صدر پاکستان کے دورے کی کوریج نہ کر سکیں کیونکہ پھر وہ اس بارے میں سوال کرسکتے لیکن سینئر اینکر مبشر لقمان نے چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے، چھاپہ کے دوران مبشر لقمان نے متعلقہ افراد سے سوال کیا کہ اس کیمپ میں سیلاب متاثرین کہاں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اب یہ کیمپ خالی ہوگئے ہیں مبشر لقمان نے پھر کہا کہ جہاں سیلاب آیا ہوا اس کے قریب کیمپ لگانے کے بجائے آپ نے ائیر پورٹ کے قریب کمیپ کیوں لگایا اور یہاں تک سیلاب متاثرین کیسے پہنچیں گے؟ اس بارے انتظامیہ کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہ تھا،

    سینئر اینکرپرسن نے کہا کہ جہاں متاثرین رہ رہے وہاں لے جاو تو انتظامیہ نے کہا پردہ کا مسئلہ ہے وہاں خواتین ہیں نہیں جاسکتے سکتے تو اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ دور سے ہی دکھا دو جس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا.

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ جگہ جگہ وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کے پینا فلیکس لگے ہوئے مگر یہاں انتظامیہ کارکردگی صفر ہے. ایک اور جگہ مبشر لقمان نے سیلاب متاثرین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سینئر اینکر کو بتایا کہ جہاں پنجاب حکومت کی کارکردگی صفر ہے اور ہم سیلاب زدگان کا برا حال ہے.


    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ: یہ گھوسٹ کیمپ محض اعلی عہداران کے دورہ کے وقت فوٹو سیشن کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ انہیں سیلاب زدہ علاقوں میں جانے کی زہمت نہ کرنی پڑے اور وہ ائیر پورٹ سے سیدھا نزدیکی کیمپ آکر فوٹو سیشن کروا میڈیا پر چلوا دیں کہ ہم نے سیلاب متاثرین کا دورہ کیا حالانکہ حقیقت یہ ہے. اور یہ لوگ صرف اور صرف ان لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں جو گھروں بیٹھ کر ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    مبشر لقمان نے ناظرین کو پنجاب حکومت کی دو نمبری دکھاتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہ حکومت مستحقین کا حق مار کر عوام کی نظروں میں دھول جھوک رہی ہے، جبکہ یہ لوگ اللہ کو کیسے جواب دیں گے، مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ سارا ڈرامہ دیکھ کر مجھے تو سیاست سے نفرت ہونا شروع ہوگئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر فلاحی تنظیمیں اور افواج پاکستان صحیح طور پر کام کررہے ہیں ورنہ سیاستدانوں نے تو عوام کا تمسخر اڑایا ہوا ہے.

  • پاک فوج کی سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات

    پاک فوج کی سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات

    پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کےلیے 200 ہیلی کاپٹرز نے پرواز بھری، ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب متاثرہ علاقوں میں راشن اور ادویات بھی پہنچائی گئیں، ہیلی کاپٹرز کے ذریعے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 1991 پھنسے افراد کو نکالا گیا،گزشتہ 24 گھنٹے میں 162 اعشاریہ 6 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 50000 سے زائد افراد کو آفت زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ سیلاب متاثرین کے لیے سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان، کے پی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 147 ریلیف کیمپ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔اب تک 60,000 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے اور پاک فوج کے میڈیکل کیمپوں پر آنے والے تمام مریضوں کو تین سے پانچ دن کی دوا مفت دی جا رہی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے کئی شہروں میں 221 کیمپ قائم ہیں جہاں عطیات جمع کئے جا رہے ہیں، ان کیمپوں پر ابھی تک 1350 ٹن سے زائد خوراک/ادویات اور دیگر غذائی اشیاء جمع کی گئی ہیں

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    علاوہ ازیں ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں مزید 12افراد جاں بحق ہوئے،خیبرپختونخوامیں سیلاب اور بارشوں سے 4 افراد لقمہ اجل بنے این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہوگئی،ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 208 ہوگئی ،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں432 افراد زندگی کی بازى ہارگئے

  • دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان کیلئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کر دی

    دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان کیلئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کر دی

    متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کی ہے۔

    برطانیہ سیلاب زدگان کیلئے مزید ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد دے گا

    یہ امداد محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز، ورلڈ فوڈ پروگرام اور محمد بن راشد المکتوم ہیومینٹیرین اینڈ چیریٹی اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سےبراہ راست خوراک کی صورت میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کوفراہم کی جا ئے گی ۔

     

    چئیرمین نادرا کا وزیر اعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 10 کروںڑ روپے کا عطیہ

     

    یو اے ای کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب سے 1136 سے زائد افراد جاں بحق، لاکھوں افراد بے گھر، 3450 کلومیٹر سے زیادہ اہم سڑکیں تباہ اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران پاکستان میں بارشوں کی شرح گزشتہ 30 سالوں کے دوران ریکارڈ کی گئی شرح سے چار گنا تجاوز کر گئی ۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

     

    رپورٹ کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد کی فراہمی متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر قدرتی آفات اور بحرانوں سے متاثرہ افراد کی ضروریات کو پورا خواہش کا مظہر ہے۔ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز 2015ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت 30 سے زیادہ انسانی اور ترقیاتی اقدامات اور اداروں کو یکجا کیاگیا ہےجن میں سے زیادہ تر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 20 سال سے زیادہ عرصے میں قائم کئے اور ان کی معاونت بھی کر رہے ہیں۔ آج اس میں درجنوں خیراتی ادارے شامل ہیں جو پانچ اہم شعبوں میں کام کرتے ہیں جن میں انسانی امداد اور ریلیف، صحت کی دیکھ بھال اور بیماریوں پر قابو پانا ، تعلیم اور علم کو پھیلانا، اختراع اور کاروباری صلاحیت اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔

  • توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، نوازشریف، زرداری، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا۔ چار لوگوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر سازش کی اور پھر مجھے نااہل کروانے کا منصوبہ بنایا۔

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    سرگودھا میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں،سرگودھا میں سوچا نہیں تھا لوگ اتنی تعداد میں جلسے میں آئیں گے، جلسے میں بڑی تعداد میں خواتین کے آنے پرشکریہ ادا کرتا ہوں، سیلاب کی وجہ سے متاثرین مشکلوں میں ہے،قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے،ہم سب مل کرسیلاب متاثرین کی مشکلیں کم کرنے کی پوری کوشش کریں گے، بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈی جی خان، راجن پور میں لوگ متاثر ہوئے، ٹیلی تھون میں سوچا تھا تین گھنٹے میں چند کروڑ اکٹھے ہو جائیں گے، کم وقت میں متاثرین کے لیےساڑھے500کروڑاکٹھا کیا۔

     

    بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

     

    انہوں نے کہا کہ ٹیلی تھون میں اوورسیزپاکستانیوں نے دل کھول کرپیسہ دیا،ٹیلی تھون کی تمام لائنیں مصروف ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کا رابطہ نہیں ہوسکا،اگر فون لائنیں مصروف نہ ہوتی تو مزید پیسے اکٹھے ہوجاتے،سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کنٹرول روم بنائیں گے،جہاں پرمتاثرین کومدد کی ضرورت وہاں پرامداد بھجوائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر تمہیں پہلی دفعہ اندازہ ہوا فارن فنڈنگ کیا ہوتی ہے،ہمیں زیادہ پیسہ بیرون ملک پاکستانیوں نے بھیجا۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

     

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی غلامی کی وجہ سے ہمیں ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں،بیرون ملک پاکستانیوں کومتحرک کرکے ایسی اسکیمیں لائیں گے تاکہ پاکستان کی قرضوں سے جان چھوٹ جائے،لیٹروں کی لوٹ مار کی وجہ سے ہم بیرون ملک ہاتھ پھیلاتے ہیں،قرضے اتارکرہم اپنے پاؤں پرکھڑا ہو کر ایک خود دار قوم بنیں گے،سوچا نہیں تھا سرگودھا کے لوگ اتنی تعداد میں باہرنکلیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں انصاف کا نظام قائم نہیں ہو گا تب تک عظیم قوم نہیں بن سکتے،ہمارے ملک میں ظلم کا نظام ہے، کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون ہے،چھوٹا چورجیل اور بڑا چور، چوری کرے تو ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے،آزاد عدلیہ کے لیے مجھے بھی جیل میں ڈالا گیا،8 دن ڈی جی خان کی جیل میں گزارے، جیل میں ایک امیر چورنہیں بلکہ سارے چھوٹے چورنظرآئے، ملک کے بڑے بڑے ڈاکو مجھے اسمبلی میں نظر آئے، بڑے لیٹروں میں سے ایک ڈیزل بھی ہیں، زرداری، شریف خاندان والے بیرون سازش کے تحت لیٹروں کو مسلط کیا گیا، آپ سب حقیقی آزادی کی تحریک میں شامل ہو جائیں، جب تک یہ چوراوپربیٹھے ہیں اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کو چیری بلاسم جوتے پالش کرنے والا چاہیے تھا،ڈیزل تو پہلے ہی تیار بیٹھا تھا،ملک کی سب سے بڑی بیماری زرداری ہے،زرداری نوٹ دیکھ کر اس کی مونچھیں اوپر، نیچے جانا شروع ہو جاتی ہیں، زرداری سے چلا جاتا نہیں لیکن پیسے کے پیچھے جان دینے کو تیارہیں، تینوں اکٹھے ہو گئے اور ان کے ساتھ اور سازشی پاکستان میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک پلان انسان اور ایک اللہ بناتا ہے،اللہ نے لوگوں کے دل موڑدیئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے سازش کی وہ ہکے، بہکے رہ گئے، قوم سڑکوں پرنکل آئی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد پہلی دفعہ خواتین،بچے سڑکوں پرنکل آئے،25مئی کو پولیس، رینجرزنے خواتین پر شیلنگ کر کے خوف پھیلایا، میں توبھول ہی گیا ہوں میرے خلاف اب تک 17 ایف آئی آرکٹ چکی ہیں،پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہرحربہ استعمال کیا گیا پھربھی یہ ہارگئے،پنجاب کے ضمنی الیکشن ہارنے پر حمزہ ککڑی کو فارغ کرنا پڑا، ضمنی الیکشن ہارے تو ان کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئیں، ان کو خوف تھا کہ اگر عام انتخابات کرادیئے تو دو تہائی اکثریت عمران لے گا، ضمنی الیکشن کے بعد انہوں نے ٹیکنکل طریقے سے مجھے فارغ کرانے کی سازش شروع کی، پہلی سازش حکومت گرانا، دوسری سازش مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش تھی، ایک بند کمرے میں یہ بھی فیصلہ ہوا، عمران خان کو مکمل طور پر سائیڈ کر دیا جائے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ٹیپ ریکارڈ کر کے رکھوادی ہے جس میں اُن چار لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے میری حکومت کے خلاف سازش کی اور نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو وہ ٹیپ عوام کے سامنے آئے گی اور پھر عوام اُن چاروں لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے پالتو الیکشن کمشنر کو مجھے فنڈنگ کیس میں نا اہل کرنے کا کہا گیا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے،نوازشریف، زرداری،یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا،توشہ خانہ کیس میں یہ سارے ذلیل ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تو 27 ویں شب کو شب دعا منا رہے تھے، مدینہ میں ان کے خلاف چور، چور کے نعرے لگے اور مقدمہ میرے خلاف توہین مذہب کا درج کیا گیا، شہباز گل پرجنسی تشدد کیا گیا، میں نے یہ کہا جنہوں نے تشدد نہیں روکا ان کیخلاف قانونی کارروائی کروں گا، اس پر میرے خلاف دہشت گردی کا کیس بنادیا گیا،مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر دنیا میں مذاق اڑایا گیا، دہشتگردی مقدمے کا مقصد مجھے کسی طرح راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں،بتایا جائے کونسا معاشرہ کسٹوڈین تشدد کی اجازت دیتا ہے،حلیم عادل شیخ پر بھی تشدد کیا گیا، 27 مقدمات درج کیے گئے، مسلم لیگ (ن) والے چاہتے ہیں نواز شریف کی طرح مجھے بھی نا اہل کیا جائے، نواز شریف نے لندن میں اربوں روپے کے چار مہنگے فلیٹس خریدے، دس سال پہلے نوازشریف سے منی ٹریل مانگی آج تک نہیں دی،مریم نوازکہتی تھی لندن تو کیا ملک میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،مریم نواز جتنے سیدھے منہ سے جھوٹ بولتی ہیں کبھی کسی کو نہیں بولتے سنا، اللہ تعالیٰ حق اور سچ کو سامنے لیکر آتا ہے، نواز شریف جب پکڑا گیا تو حسین نواز نے لندن فلیٹس کو تسلیم کیا، لندن کے چار بڑے محلات کی مالکہ مریم نوازہیں،قوم کا پیسہ چوری کر کے لندن کے فلیٹ خریدے گئے تھے ن لیگ والوں میرا نواز شریف کیس سے موازنہ نہ کرو،مسلم لیگ والوں میرا سب کچھ اورجینا مرنا پاکستان میں ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک طرف جب قوم کی خواتین جاگ جائیں تو انقلاب آجاتا ہے، باپ اگر ن لیگ اور بچے، بیوی سارے تحریک انصاف میں ہوتے ہیں، ماں بچے کی شکل کو دیکھ کر پہچان جاتی ہیں، ماؤں کو پتا ہے(ن) لیگ اور زرداری چورہیں، قوم کے پیسوں سے لندن کے فلیٹس خریدے گئے،26سال سے ان کی کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوں، قوم کا جوپیسہ سکولز، ہسپتال، سڑکوں، بجلی بنانے پر لگنا تھا وہ چوری کیا گیا، کرپشن پورے ملک کو تباہ کردیتی ہے، یہ چوری کا پیسہ بیرون ملک بھیجتے ہیں،آج کل چیری بلاسم سیلاب متاثرین کے پاس صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے جارہا ہے، شہبازشریف اگر متاثرین کی مدد کے لیے سیریس ہیں تو اپنا اور بھائی کا آدھا پیسہ ملک میں واپس لے آئے،شہبازشریف جب سے اقتدارمیں آیا ہے ملک کی شرمندگی ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہبازشریف دوسروں سے کہتا ہے ملک میں پیسہ لیکر آؤ، یہ خود ملک کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لے جاتے ہیں، دنیا کا کوئی ایک سربراہ بتا دیں جس کا پیسہ بیرون ملک ہواوروہ اقتدارمیں ہو،ان کوہمارے اوپرمسلط کیا گیا ہے،آپ نے میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے ہم نے ان لوگوں سے حقیقی آزادی چھیننی ہے۔ انہوں نے سازش کر کے ہماری حکومت گرائی، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں معاشی ترقی 6 فیصد گروتھ تھی،کورونا کے باوجود یہ 17 سال بعد پاکستان کی بہترین معاشی کارکردگی تھی،کورونا کے باوجود ہماری ریکارڈ ایکسپورٹ تھی،ریکارڈ ٹیکس ریونیو اکٹھا کیا گیا، ہمارے دور میں کسانوں نے سب سے زیادہ پیسہ کمایا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا، 17 سے 18 فیصد مہنگائی تھی، آج مہنگائی 45 فیصد سے اوپر چلی گئی ہے، بجلی کے بل دیتے ہوئے لوگوں نے دو گولیاں ڈسپرین کی بھی ساتھ کھائیں،ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10لاکھ علاج کی انشورنس دی،چارماہ پہلے ڈاکٹرز ہسپتال میں میرے دوست نے کہا پہلی دفعہ ہیلتھ کارڈ پر دل کا آپریشن کیا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول اور عوام کوسبسڈی دی، آج سازش کرنے والے بتائیں ملک کا جوحال ہے کون ذمہ دارہے؟

  • پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کی پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،ساڑھے تین سال کے دوران 30 ہزار روپے کے قرض لیے گئے،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو مشکل صورتحال اور معاشی تباہی کا اندازہ تھا،حکومت سنبھالے 4 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے،دنیا میں تیل اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں،پیٹرول کی قیمت 120 ڈالر سے بھی زیادہ تھی پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،آئی ایم ایف سے معاہدہ ہم نے نہیں تحریک انصاف کی حکومت نے کیا تھا،انہوں نے آئی ایم ایف سے کیے معاہدے کو توڑ ا ،2018 میں نوازشریف کی حکومت آئی تو اس وقت چینی کی قیمت52 روپے تھی، تحریک انصاف کے دور میں چینی کی قیمت 100 روپے سے بڑھ گئی،کوویڈ کے دوران مارکیٹ میں گیس کی قیمت 3 یا 4 ڈالر تھی،گیس سستی ہونے کے باوجود انہوں نے نہیں خریدی،پی ٹی آئی حکومت نے سبسڈی کے نام پر قوم کا پیسہ ہڑپ کیا،مفتاح اسماعیل سے کہا ہے جہاں جہاں سیلاب آیا ہے وہاں بجلی بلوں میں ریلیف دیں،

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان سے بڑاجھوٹا، مکار،فریبی دھوکے بازاور پاکستان دشمن دنیا میں آج تک پیدا نہیں ہوا، جب آئی ایم ایف کا وقت قریب آرہا تھا تو خیبر پختونخوا کا خط آئی ایم ایف کو پہنچ گیا پنجاب کا خط کہیں اٹک گیا، اس کے بعد کسی کو کوئی شک ہے کیا؟ ہم نے مشکل فیصلے لیے ہیں اس کی وجوہات بتاؤں گا انہوں نے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جون، جولائی میں فیول ایڈجسٹمنٹ بڑھنے سے عام آدمی کے طوطے اڑ گئے ڈرائیوربیچاروں کوبھی 18 ہزارکے قریب بل آگئے تھے، پہلے مرحلے میں 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کو ختم کیا،اس مہنگائی کے بعد مڈل کلاس طبقے کا مشکل حال ہے آج 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو فیول ایڈجسٹمنٹ کے چارجز نہیں دینے پڑیں گے

  • پاک فوج مشکل  گھڑی میں مشکلات پرقابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،آرمی چیف

    پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پرقابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ روجھان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ آج ڈیرہ اسماعیل خان اور روجھان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ آرمی چیف نے سیلاب ریلیف کیمپ کا دورہ کیا ،متاثرین سے ملاقات کی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پر قابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،سیلاب سے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کا بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، آرمی چیف نے جوانوں کو ہدایت کی کہ اس ذمہ داری کو نیک مقصد کے طور پر لیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈی آئی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کیا آرمی چیف نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی جنرل قمر جاوید باوجوہ نے متاثرین کے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ایف سی ساوتھ خیبرپختونخواکے جوان متاثرین سیلاب کی فوری مدد کریں

    دوسری جانب ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید ستائیس افراد جاں بحق او ستاسی زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق: آرمی فلڈ کنٹرول ہیلپ لائن 1125 کے پی کے لیے اور 1135 باقی پاکستان کے لیے کام کر رہی ہے۔ لوگ مدد کے لیے ان ہنگامی نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ جبکہ آرمی ایوی ایشن پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے فوج کے 157 ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور راشن کی نقل و حمل کیلے کوششاں ہے.

    علاوہ ازیں: آفت زدہ علاقوں سے 50,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ مختلف میڈیکل کیمپوں میں 51,000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا اور مریضوں کو 3-5 دن کی مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق: ملک بھر میں 221 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ 1231 ٹن امدادی اشیاء کے ساتھ دیگر غذائی اشیاء بشمول ادویات کی اشیاء جمع کی گئیں اور سیلاب زدگان کے لیے روانہ کی جا رہی ہیں.

    نیشنل ڈیزائسٹر مینجمنٹ ( این ڈی ایم اے ) نے سیلاب سے نقصانات کے تازہ اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں مزید پندرہ افراد ،خیبرپختونخوا میں سات، بلوچستان میں چار اور پنجاب میں ایک شخص جان سے گیا۔ ملک میں سیلاب اور بارشوں سے مجموعی ہلاکتیں گیارہ سو اکیانوے ہوگئی ہیں، جب کہ تین ہزار چھ سو اکتالیس افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ سو بائیس مرد، دو سو چھیالیس خواتين اور تین سو ننانوے بچے شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں اب تک سیلاب اور بارشوں سے تین لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو تئیس گھر تباہ ہوئے، جب کہ سات لاکھ تینتیس ہزار پانچ سو چھتیس گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس دوران دو سو تینتالیس پل تباہ اور پانچ ہزار تریسٹھ کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، جب کہ سات لاکھ اکتیس ہزار سے زائد مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے۔

    پاکستان آرمی ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ مصیبت زدہ ہم وطنوں کی بحالی تک ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاکستان آرمی ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ کے ہمراہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان کے جوان بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول کوئٹہ،جعفرآباد، نصیر آباد ، سبی ، جھل مگسی ، خضدار، آواران، نوشکی ، قلعہ عبداللہ، چاغی، مستونگ ، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل، بولان اور صحبت پور میں امدادی کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    پاکستان آرمی کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف سیلاب زدہ علاقوں منجی شوریٰ، ربی اور بیدرپل ، بھاگ، پیر چتھل ، کچھی سے353 افراد کو ریسکیو کر کے ریلیف کیمپس میں منتقل کیا گیا ہے ۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کے لیے28 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب زدہ علاقوں 7080افراد کو پکا ہوا کھانا ، 2368 افرادکو راشن کے پیکٹس جن میں آٹا ، دالیں ، چاول ، چینی اور کوکنگ آئل شامل ہے مستحق لوگوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہے جہاں مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5،142مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی گئیں ۔ ذرائع آمدورفت کی جلد بحالی میں پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان سول انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہے چتھر سے ڈیرہ مراد جمالی اور لنڈا پل شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ۔ جبکہ دیگر شاہراوں اور پلوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہیں ۔پاک افواج ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ اپنے تمام تر وسائل کوبروئے کار لاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں

  • بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

    بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے کاروباری شخصیت ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران خان نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے ہیں لہذا کسی مہنگی چیز کی بات کرو۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت سے روانگی پر ذرائع ابلاغ کے نمائندے کی جانب سے عمران خان سے سوال کیا گیا تو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ ہیرے بہت سستے ہوتے ہیں، کوئی مہنگی چیز کی بات کرو۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر جمعرات یکم ستمبر کو جب پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان عبوری ضمانت میں توسیع ملنے کے بعد واپس روانہ ہونے لگے تو میڈیا نمائندگان نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر ڈالی۔

    ایک صحافی کی جانب سے عمران خان سے سوال کیا گیا کہ “ آپ کی اہلیہ پر ملک ریاض سے ہیروں کا ہار لینے کا الزام ہے کیا لیا تھا؟ “۔ جس پر عمران خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ “ ہیرے بہت سستے ہوتے ہیں، کوئی مہنگی چیز کی بات کرو“۔ ایک موقع پر انہوں نے سوالات کے جواب میں مسکرا کر کہا کہ “ میں ہر روز زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہوں “۔

    بعد ازاں گاڑی میں بیٹھتے ہوئے عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے مشورہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ٹاک کرلوں کیا؟، جس پر فیصل جاوید نے انہیں مشورہ دیا کہ نہیں نہیں اپ کی ٹاک کرنا مناسب نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں خاتون مجسٹریٹ اور اسلام آباد پولیس کے سینیر افسران کو دھمکیاں دینے سے متعلق سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت آج بروز جمعرات یکم ستمبر کو ہوئی جہاں انہٰں عدالت نے بزات خود پیش ہونے کا حکم دیا اور وہ پیش بھی ہوئے.

    کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد نے کی۔ سماعت کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ مارگلہ میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج اور اعلیٰ پولیس افسران کو دھمکیوں کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف مجسٹریٹ اسلام آباد علی جاوید کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔

    درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق عمران خان نے تقریر میں پولیس افسران اور جج کو دھمکیاں دیں اور ڈرایا، عمران خان کی تقریر کا مقصد عدلیہ اوراعلیٰ حکام کادہشت زدہ کرنا تھا۔ متن میں یہ بھی لکھا تھا کہ دھمکیوں کا مقصد یہ تھا کہ عدلیہ اور حکام اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کریں، تقریر سے پولیس حکام عدلیہ اورعوام میں خوف وہراس پھیلایا گیا ہے، تقریر سے عوام میں بے چینی، بد امنی، دہشت پھیلی اور امن تباہ ہوا

  • عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک  توسیع کر دی گئی

    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی گئی

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے درخواست ضمانت کی سماعت کے لیے عمران خان کو 12 بجے پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا تاہم سابق وزیر اعظم مقررہ وقت پر عدالت پہنچے جسکے بعد عمران خان کی عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع کر دی گئی

    خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکی دینے پر دہشت گردی کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی ہے۔ اس موقع پر وکلا سمیت صحافیوں کے جوڈیشل کمپلیکس میں جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ پہلی سماعت کے موقع پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے تھے.

    جج راجا جواد عباس کے روبرو سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دینا شروع کیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے عمران خان کو لکھ کر بھیجا ہے، ان کی جان کو خطرہ ہے۔

    جج راجا جواد عباس نے ریمارکس دیے کہ ہم اس درخواست ضمانت پر آج ہی دلائل سنیں گے۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا کہ پہلے ملزم کو عدالت پیش کریں پھر ہم بحث کریں گے۔عدالت نے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے جن کو دھمکی دی گئی، ان کا بیان پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔

    جج نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ دہشت گردی کی دفعہ جرم کے بغیر کبھی درج ہوئی؟ آپ کو بتانا ہوگا کہ کون سی کلاشنکوف لی گئی، کون سی خودکش جیکٹ پہن کر حملہ کیا گیا۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ 12 بجے تک کا وقت دیا جائے، عمران خان کو پیش کردیں گے۔ اگر میرے موکل کو کچھ ہوا تو آئی جی اور ڈی آئی جی آپریشنز ذمے دار ہوں گے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان کو کون سا خطرہ ہے وہ بتائیں۔ جب کہ انہیں ضمانت ملی ہوئی ہے ۔ عدالت نے ضمانت دی تو ان کا فرض تھا کہ عدالت پیش ہوتے۔ بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن پولیس نے انہیں کہا کہ انہیں خطرہ ہے ۔

    وکیل نے استدعا کی کہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے میں مزید 4 دفعات 506،504،186 اور 188 شامل کی گئی ہیں۔ ان دفعات میں بھی عمران خان کی ضمانت منظور کی جائے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ ان دفعات میں ہم نوٹس جاری کریں گے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سماعت میں 12 بجے تک کے لیے وقفہ کرتے ہوئے عمران خان کو 12 بجے طلب کرلیا۔واضح رہے کہ عبوری ضمانت کی سماعت میں عمران خان عدالت سے غیر حاضر تھے۔ واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کو آج تک عبوری ضمانت دے رکھی تھی۔ عمران خان کی ضمانت کنفرم ہونے یا خارج ہونے کا فیصلہ دلائل کے بعد ہوگا۔

    عمران خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات اور پولیس کے 527 اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے خاردار تاریں لگا کر عدالت آنے جانے والا راستہ بند کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کے داخلہ پر پابندی عائد کردی۔

  • خاتون جج، پولیس افسران کو دھمکیاں: عمران خان کی آج پھر پیشی

    خاتون جج، پولیس افسران کو دھمکیاں: عمران خان کی آج پھر پیشی

    خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کے کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت آج ہوگی، عمران خان ذاتی حیثیت میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر جج راجہ جواد عباس سماعت کریں گے،عمران خان کے وکیل بابر اعوان ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر دلائل د یں گے۔ خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیاں دی تھیں جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر بھی طلب کیا تھا۔

    عمران خان نے تحریری طور پر عدالت میں جواب جمع کرایا تھا، گزشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 7 روز میں دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز خاتون ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکی دینے کے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر دکھ ہوا۔ عمران خان کے وکیل سوچ سمجھ کر سات دن میں دوبارہ جواب جمع کروائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار بینچ میں شامل تھے.

    چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ماتحت عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے ، عام آدمی ستر سال میں بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی نہیں کر سکتا، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے، عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا۔ جس حالت میں ماتحت عدلیہ کام کر رہی ہے انکا اعتماد بڑھانے کیلئے اس عدالت نے بہت کام کیا، اس عدالت کو توقع تھی کہ آپ اس عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وہاں سے ہو کر آتے۔

    جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی چیز واپس نہیں آتی ، جبری گمشدگیاں بد ترین ٹارچر ہے بلوچ طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ٹارچر ہے، تین سال سے ہم اس معاملہ کو وفاقی حکومت کو بھیجوا رہے ہیں لیکن ٹارچر کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، آپ کا جواب اس بات کا عکاس ہے کہ جو ہوا اس کا آپ کو احساس تک نہیں، آپ کے موکل کو احساس نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے، کاش اپنے دور حکومت میں اس ٹارچر کے مسئلے کو اس جذبے سے اٹھاتے، اسد طور ابصار عالم کے کیسز آپ دیکھ لیں، اگر تب یہ مسئلہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ہوتا تو آج نہ ٹارچر کا مسئلہ ہوتا نہ بلوچ طلبہ کا۔

    چیف جسٹس نے وکیل حامد خان سے کہا تھا کہ آپ اس عدالت کے معاون ہے خود کو کسی کا وکیل نہ سمجھیں، عدالت نے شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کو شہباز گل کیس کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کی ۔جس کے بعد شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اڈیالہ جیل کس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے؟ کیا ٹارچر کی ذرا سی بھی شکایت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟ یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟ وکیل نے کہا کہ پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کیس ریمانڈ بیک کیا تھا، کیا عمران خان کے اس وقت دیے گئے بیان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ یہ عدالت تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے فیصلوں پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں۔

    اس عدالت کو رات 12بجے کھلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، ہم تو ہمیشہ سے ہی انصاف کی فراہمی کے لیے موجود تھے ، یہ وہ عدالت جو صرف قانون پر چلتی ہے اس کے تمام ججز غیر جانبدار ہیں، ماتحت عدلیہ کے ججز کوئی ایکس اور وائے نہیں، اس عدالت نے آرڈینس کالعدم قرار دیا اگر آج وہ ہوتا تو گرفتاریاں بھی ہوتیں ضمانت بھی نا ہوتی۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ سیاسی لیڈرز کی اس وقت کے بیانات آپ دیکھ لیں، یہ عدالت کیوں بارہ بجے کھلی ؟ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے، لیکن یہ عدالت کمزور کے لیے بھی اور چھٹی کے روز بھی 24 گھنٹے کھلی رہی ہے ، انہوں نے بڑے اچھے انداز میں گلہ کیا کاش اسی انداز میں ماتحت عدلیہ کے جج کو ایڈریس کرتے ، سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے ہر وقت بہت اہم ہوتا ہے، اس عدالت کے کسی جج کو کوئی influence نہیں کر سکتا، آج موقع ہے تو آج بتا دیتے ہیں کہ عدالت رات کو کیوں کھلی تھی، اس عدالت کے ذہن میں تھا کہ جو 12 اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔

    میری سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ فوٹو تھی جسے ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار بنا کر وائرل کیا گیا، مجھے ایک فلیٹ کا مالک بھی بنا دیا گیا، ہمارے ادارے نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں جن پر تنقید کو ویلکم کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ججز کی تصویریں لگا کر الزامات لگائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتی۔

    طلال چوہدری کیس ، دانیال چوہدری کیس اور ہاشمی کا کیس بھی عدالت کے سامنے ہے، آزادی رائے کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، آپ نے جو جواب جمع کرایا وہ عمران خان جیسے لیڈر کے رتبہ کے مطابق نہیں۔

    عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میں نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ بھی باتیں کی ہیں، جواب کا صفحہ نمبر 10 ملاحظہ کریں، عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب سوچ سمجھ کر جواب جمع کروائیں۔

    تمام عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے، دانیال عزیز، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلے دیکھ لیں، توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے، آپ تحریری جواب دوبارہ جمع کرائیں ورنہ ہم کارروائی آگے بڑھائیں گے، طلال چوہدری، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز میں فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیں، پھر کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ کارروائی آج ہی ختم ہو سکتی تھی لیکن آپکے جواب سے یہ ختم نہیں ہو گی، آج تو کارروائی آگے بڑھائی جانی چاہیے تھی لیکن چیف جسٹس آپکو ایک اور موقع دے رہے ہیں، چیف جسٹس آپ کو ایک اور موقع دے رہے ہیں تو دوبارہ جواب جمع کرائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس ملک میں اصل تبدیلی تب آئے گی جب سول سپریمیسی ہو گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سات روز میں عمران خان کو دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا، اور منیر اے ملک ، مخدوم علی خان اور پاکستان بار کونسل عدالتی معاون مقرر کر دئیے گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان کے جواب کی پیشگی نقول عدالتی معاونین کو فراہم کرنے کا کہا جائے۔

    عدالت نے منیر اے ملک مخدوم علی خان کو امائکس مقرر کر دیا، چہف جسٹس نے کہا کہ آپ کو عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ ہم ایسے معاملات کو ایگزیگٹوز کو بھیجتے رہے ہیں لیکن کسی نے سنجیدہ نہیں لیا ، پچھلے تین سالوں میں ایک کیس کی بھی تحقیقات نہیں ہوسکی ، الزام لگایا جاتا ہے کہ ہماری عدلیہ 130 نمبر پر ہے میں نے فواد چوہدری کے ساتھ میٹنگ میں انہیں بتایا کہ یہ چیف ایگزیکٹو کی غفلت کا معاملہ ہے۔
    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ وقت ہے ہم ایک پاکستان کی تعمیر نو کریں ، پیکا آرڈیننس اگر معطل نہ ہوتا تو اج آدھا پاکستان جیل میں ہوتا، قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی مزید سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں الفاظ واپس لینے کی پیشکش بھی کی تھی، ذرائع کے مطابق عمران خان کا جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ججز کے احساسات کو مجروع کرنے پر یقین نہیں رکھتے، الفاظ غیر مناسب تھے تو واپس لینے کےلیے تیار ہوں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ عدالت تقریر کاسیاق و سباق کیساتھ جائزہ لے،پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے، عمران خان نے استدعا کی کہ ان کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔ یاد رہے عمران خان نے عدالتی بینچ پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔

  • ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    سینئرصحافی اور اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان میں ایک بھی سیاسی جماعت کا ابھی تک کیمپ نظر نہیں آیا بڑے دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں کی وجہ سے سیاست دان ایوان اقتدار میں آتے ہیں . ابھی حضرت نے فرمایا کہ قدرتی آفت ہے مگر میں پوری طرح متفق نہیں ہوں ان سے ،یہ ہماری کوتاہیاں ہیں ،نالائقیاں اور چوریاں ہیں ان لوگوں کی جو ہمارے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں.

    کوہ سلیمان میں الخدمت فاوندیشن کی جانب سے امدادی کیمپ میں متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو بند ٹوٹے ہوئے ہیں یہ آپ کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟،انہوں نے کہا کہ 63 ارب روپے ڈی جی خان کیلئے پچھلے وزیراعلیٰ نے لگائے تھے، مجھے تو اس میں سے 63 روپے بھی کہیں لگے نظر نہیں آئے.

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوں اور نا ہی میں کوئی سیاسی بیان دے رہا ہوں ،میں ایک عام شہری کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں،مبشر لقمان نے کہا کہ اگر میرے بچوں نے یہ پانی پینا ہو جو آپ لوگ پی رہے ہیں تو یہ بہت خوف ناک ہو گا،انہوں نے کہا کہ اگر میرے بچوں کو وہی سہولیات ہوں جو یہاں پر ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہو گا.

    انہوں نے کہا کہ اس ڈی جی خان سے ایک صدر پاکستان ، دو پیجاب کے وزیراعلی ،دو گورنر اور 20 وزیر آچکے ہیں اور ڈی جی خان لگتا ہے کہ 20 ویں صدی میں ہے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الخدمت والے تو ہیں یہاں اور کام کر رہے ہیں،لبیک والے بھی یہاں کام کر رہے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی کام کر رہے ہیں.اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو سیاسی جماعتیں کام نہیں کر رہی ہیں.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں ، یہ لوگ اورہم لوگ تو ریلیف کا کام ہی کر سکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آپ کیلئے ریلیف کے بعد اصل امتحان بحالی کا ہے ،دو ماہ کے بعد یہ ٹینٹ ختم ہو جائیں گے اور دو مہینے کے بعد موسم کی شدت شروع ہو جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے بعد میڈیا بھی اپنا منہ موڑ لے گا،کبھی کوئی شہباز گل کی کہانی آجائے گی ،کبھی کوئی آجائے گی تو اس وقت میں متاثرین سیلاب کے ساتھ ہونا الخدمت کا بہت بڑا کام ہو گا کہ آپ ان کی بحالی کیلئے کام کریں ، ہم آپ کی آواز ارباب اختیار اور باقی لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    مبشر لقمان نے کہا کہ لوگ مدد کر رہے ہیں اور کرنا چاہ بھی رہے ہیں مگر انہیں اعتبار نہیں ہے کسی پر کہ وہ مدد کس کے ذریعے کریں؟ یعنی جتنے لوگ اعلانات کر رہے ہیں. مجھے کئی لوگوں نے کہا امریکہ اور یورپ سے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں اور پیسے بھیجنا چاہ رہے ہیں کہ تمھارے کس اکاونٹ میں بھیجیں،تو میں نے ان کو تین اکاونت دیئے ہیں ،ایک میں نے الخدمت کا اکاونٹ دیا ،دوسرا تحریک لبیک کا اکونٹ ہے اور تیسرا پاکستان آرمی کا اکاونٹ ہے یہ اکاونٹس لے لیں، ان کے علاوہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے سیلاب ذدگان سے کہا کہ اللہ تعالی آپ کی مشکلیں آسان کرے اور ہمارا جو امتحان ہے اس میں ہمیں سرخرو کرے،ہمارا یہ بھی امتحان ہے کہ ہم کس طرح سے آپ کے دست وبازو بنتے ہیں، یہ پوری قوم کا امتحان ہے. اللہ تعالی ہم کو ایسی تمام آفتوں سے بچا کے رکھے. آمین