Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

    فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد کردیا ۔

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے فوری فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے محفوظ فیصلہ ساڑھے پانچ بجے کے بعد سنایا گیا۔ عدالت نے حکومتی اتحاد کی فور فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد کردی اور قرار دیا کہ موجودہ تین رکنی بینچ ہی کیس کی سماعت کرے گا۔

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ کیلئے مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، فل کورٹ بنانے کے معاملے پر فیصلہ آج ہوگا یا نہیں ، اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ دلائل سن کر فیصلہ کریں گے کہ فل کورٹ بنانا ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے وکلا کو میرٹ پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے چوہدری شجاعت اور پیپلز پارٹی کے کیس میں فریق بننے کی درخواست منطور کرلی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چوہدری شجاعت اور پیپلز پارٹی کے وکیل میرٹ پر دلائل دیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے،یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا؟آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں،آپ 8 ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو 9 ججز بھی سماعت کرسکتے ہیں، جسٹس منیب اختر کااستفسار کیا کہ بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟چیف جسٹس کے ریمارکس دیئے کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے،اگر اپوزیشن بائیکاٹ کرتی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ نظام چلنا چاہئے،ایسے ایشوز کو حل ہونا چاہئے تا کہ حکومتیں اپنا کام کرتی رہیں،ایک پہلو جو اہم ہے وہ پولورائیز سیاسی ماحول بن جانا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان بھی فیصلوں میں الگ رائے ہوتی ہے ،وکیل چودھری شجاعت صلاح الدین نے کہا کہ ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو، جسٹس منیب اختر کے ریمارکس دیئے کہ پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں،پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہئے،

    اس سے قبل آج سماعت کے آغاز پر سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی روسٹرم پر آگئے اور مؤقف اپنایا کہ موجودہ صورتحال میں تمام بار کونسلز کی جانب سے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    لطیف آفریدی نے کہا کہ کرائسس بہت زیادہ ہیں، سسٹم کو خطرہ ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر نظرثانی درخواست مقرر کی جائے اور آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے فل کورٹ بنایا جائے۔

  • پارٹی ہیڈ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    پارٹی ہیڈ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،حمزہ شہباز کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈووکیٹ لطیف آفریدی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں اور چاھتے ہیں صورتحال میں بہتری آئے کچھ درخواستیں زیر التوا ہیں، پارلیمنٹ اور عدلیہ ملکی نظام کا حصہ ہیں،ہماری درخواست ہے کہ فل کورٹ بناکر سماعت کی جائے،ہم تمام بار صدور فل کورٹ بنانےکی استدعا کرتے ہیں ہم اس معاملے پر چیمبر میں ملنا چاہتے تھے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے چیمبر آپ کے لئے کھلے ہیں،آپ جانتے ہیں یہ کیس ہمارے ایک فیصلے سے متعلق ہے،ہم اس کیس کو سننا چاہتے ہیں، ہمارے سامنے بار کے 10 صدور موجود ہیں، صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ ہم عدالت کے ساتھ ہیں ، مدد کرنا چاہتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی نشست لیں ہم ان دونوں معاملات کو دیکھتے ہیں،ہم آپ کو ترتیب سے سنیں گےسارے صدور کیس کی گریوٹی کو بڑھانا چاہتے ہیں، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کہا کہ کچھ پارٹیوں کی طرف سے فریق بننے کہ درخواستیں آئی ہیں ان کو نمبر نہیں لگایا جارہا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم کہہ دینگے کہ ان کو نمبر لگا دیں، زرا کیس کو سیٹ اپ ہونے دیں، ،فاروق نائیک وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمیں درخواست واپس کردی گئی ہے نمبر لگانے کا حکم دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ، کیا آپ نے میوزیکل چیئر کی گیم کھیلنی ہے ، فاروق نائیک نے کہا کہ کرسی آنی جانی ہے انسان کو ڈٹے رہنا چاہیے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے وکیل صاحب ہیں ؟ عرفان قادر عدالت میں پیش ہوگئے اور کہا کہ ملکی لارجر انٹریسٹ میں یہاں عدالت میں پیش ہوا ہوں،عدالت کی معاونت کروں گا، ملکی مفاد میں یہاں عدالت میں پیش ہوا ہوں اس معاملے پر استدعا ہے کہ فل کورٹ بنایا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنی نکات بنائے ہیں جو فل کورٹ کی تشکیل کے بارے میں ہوں، جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی میں نے نکات بنائے ہیں، پارٹی ہیڈ کا کوئی اور موقف اور پارٹی کے ارکان جو ایوان میں ہیں ان کا موقف الگ ہے ، یہ سوال آپ کے سامنے ہے میں اپنے دلائل وہاں سے شروع کرونگا جہاں ہفتے والے دن سماعت کے دوران ختم کئے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا سوال آرٹیکل 63 اے سے متعلق ہے،عرفان قادر نے کہا کہ آرٹیکل 184/3کی درخواست پر آرٹیکل 63اے پر فیصلہ آیا،یہ کیس نیشنل امپارٹنس کا ہے،یہاں ساری پارٹیاں موجود ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمارے فیصلے میں میرے مطابق عدالتی فیصلے میں کوئی ابہام نہیں، عرفان قادر نے کہا کہ آپ کے فیصلے میں ابہام ہے،آپ درخواست گزار سے بھی پوچھیں کہ ان کا کیا سوال ہے؟ جسٹس اعجازلاحسن نےعرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار بول رہے ہیں ہماری بات بھی سنیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری بات نہیں سننی تو کرسی پر بیٹھ جائیں ،عرفان قادر نے کہا کہ آپ چیف جسٹس ہیں وکیلوں کو ویسے بھی ڈانٹ پلا سکتے ہیں، لیکن آئین میں انسان کے وقار کی بات کی گئی ہے وہ بھی سامنے رکھیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہم آپ کو محترم کرکے بلا رہے ہیں، عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پارلیمانی پارٹی لیڈر کو فیصلے کا حق ہے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قانونی سوال ہے جب تک ہم ایک پیج پر نہیں ہونگے تب تک ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکیں گے ، عرفان قادر نے کہا کہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ میں اس سوال کو سمجھوں ،عدالت تسلی رکھے ہم لڑنے نہیں بلکہ عدالتی معاونت کرنے آئے ہیں، عدالت ہم سے ناراض نہ ہو جو بھی سوال پوچھا جائے گا وہ بتائیں گے،عرفان قادر نےسپریم کورٹ کے فیصلے کا پیرا ایک پڑھا اور کہا کہ آئین میں پارلیمنٹری پارٹی کا ذکر کیا گیا،اس پر تفصیل سے بات کرونگا،جسٹس منیب اختر نے کاہ کہ پہلے آپ فیصلہ مکمل پڑھ لیں اس کو سنیں گے،عرفان قادر نے کہا کہ ٓاپ نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 63 کا مقصد سیاسی پارٹیوں کے مفادات کو تحفظ قرار دیا ہے۔

    عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان کو روسٹرم پر طلب کرلیا ،وکیل منصور اعوان نے کہا کہ میں نے اپنا جواب جمع کرادیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ فیصلے کے کونسے حصے پر ڈپٹی اسپیکر نے انحصار کیا اس کا بتائیں، وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ فیصلے کے پیرا گراف تین پر ڈپٹی اسپیکر نے انحصار کیا ہے،عدالت کے سامنے سوال ہے کہ پارلیمنٹری پارٹی کا کردار پارٹی ہیڈ کے ہوتے ہوئے کیا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 14 ویں ترمیم میں آرٹیکل 63اے شامل کیا گیا،آپ کےپاس سیاسی پارٹی کے سربراہ کے بارے میں کیا قانونی دلائل ہیں؟ آپ کے دلائل سے یہ سمجھا ہوں کہ ووٹنگ کے عمل کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ،وکیل منصور اعوان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے میں مزید وضاحت کی گئی،8رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید کے 8 رکنی فیصلہ کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ارکان اسمبلی میں موجود ہیں صرف وہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں،سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایات ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے میں ایک اہم اور سنجیدہ اشو ہے،آپ نے پہلے دلیل میں کہا کہ 8 میمبرز بنچ کا فیصلہ موجود ہے،کیا یہ وہی کردار ہیں جس کی پابندی ہے ؟ وکیل منصور اعوان نے کہا کہ عدالت کا فل کورٹ اس کیس کے میریٹ کو دیکھے، آئین میں جو الفاظ ہیں اس پر غور کرنا ہوگا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر بار بنچ اگر نمبر کے حساب سے دیکھیں تو وہ اشو نہیں ہوتا، وکیل منصور اعوان نے کہا کہ اگر چھوٹا بینچ سمجھتا ہے کہ بڑا بننا چاہیے تو پھربننا چاہیے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی دلیل سے سمجھے ہیں کہ ہمارے فیصلے کا پیرا ون ون ٹو ایسا ہے جس پر کچھ ہوسکتا ہے، پارٹی کے بنیادی حقوق کی بات کریں تو پھر دو اقسام کا کنٹرول سامنے آ رہا ہے اس پر کسی نے ابھی دلیل نہیں دی،ایک طرف پارٹی ہیڈ اپنے اختیارات استعمال کرکے ووٹ استعمال نہیں کرنے دیتاتو دوسری طرف ارکان ووٹ ستعمال کرنا چاہتے ہیں،ہمارے خیال میں ہمارا دیا گیا فیصلہ واضح ہے، مختصر فیصلے میں آپ پارلیمنٹری پارٹی ہیڈ اور پارٹی ہیڈ میں کنفیوژ ہورہے ہیں حالانکہ فیصلہ بڑا واضح ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق پارلیمانی پارٹی پارٹی صدر کے ماتحت ہے، پارٹی سربراہ انتظامی معاملات میں خودمختار ہے، پارلیمانی پارٹی اسمبلی میں فیصلے کرنے میں با اختیار یے، آرٹیکل 63 اے کی نظرثانی درخواستوں میں صرف ووٹ مسترد ہونے کا نقطہ ہے،پارلیمانی پارٹی ہدایت کیسے دے گی یہ الگ سوال ہے، ہدایت دینے کا طریقہ پارٹی میٹنگ ہوسکتی ہے یا پھر بذریعہ خط،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاھتے ہیں کہ عدالت کے مختصر فیصلے نے ابہام پیدا کئے؟ وکیل منصور اعوان نے پارٹی سربراہ کے عہدے اور اس کے اختیارات پر تفصیلی دلائل دیئے، وکیل منصور اعوان نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے اور کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر عدالتی فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کی نفی ہے،سیاسی پارٹی ایک سپرا اسٹرکچر ہے،ڈپٹی اسپیکر نے فیصلے کے کس حصے کے تحت کارروائی عمل میں لائی میں اس پر اب دلائل دیتا ہوں ،سیاسی پارٹی ایک سپرا اسٹرکچر ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے پارٹی اراکین کو ہدایت کیسے دی جاسکتی ہے اس کا طریقہ کیا خط لکھ کر دیا جانا ہے ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں چودھری شجاعت رکن اسمبلی نہیں ، صورتحال پہلے سے مختلف ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منحرف ہونے والے عمل میں ایکشن لینے والا پارٹی ہیڈ ہوتا ہے،پارٹی سربراہ رکن کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے، اس کا اہم کردرا ہے،میرے ذہن میں واضح ہے کہ پارٹی میں کون ہدایات دے سکتا ہے کون فیصلہ کرسکتا ہے،جمہوریت میں معاملہ پارٹی ہیڈ کے پاس جاتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 کے کچھ زاویے ہیں ،

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے پاس کچھ ہدایات آئی ہیں اگر اجازت ہو تو بتا دوں؟ جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بتا دیں،صدارتی ریفرنس میں ہمارے پاس بہت چیزیں سامنے آئی ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ اگر پارلیمنٹری پارٹی کہ طرف سے ہدایت آتی ہے تو وہ اس کا اہمیت ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی سماعت پر یہ بات ذہن میں آئی کہ جمہوریت کو پارٹی ہیڈ کی آمریت سے پاک رکھنا ہے،پارلیمانی جماعت کو خود مختار ہونا ہو گا، پارٹی ہیڈ کا کردارضرور اہم ہےمگر پارلیمانی معاملات میں پارلیمانی پارٹی کا بااختیار ہونا ضروری ہے،پارٹی ہیڈ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہو گا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے کچھ سوال آئے ہیں ایک سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کے جس پیرا کی تشریح کی وہ کیا صحیح ہے؟ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے رولنگ دی،آئین میں پارلیمانی نمائندوں کو اختیارات دیئے گئے ہیں،کیا پارٹی کا رکن پارٹی ہدایات سے ہٹ کر فیصلہ کرسکتا ہے؟کیا ڈپٹی اسپیکر نے صحیح تشریح کرکے رولنگ دی؟ وکیل منصور اعوان نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے صحیح تشریح کرکے رولنگ دی،ڈپٹی اسپیکر کے پاس عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ارکان پارلیمنٹ سے پارٹی ہیڈز کی آمریت کے بارے میں سنا ہے ،پارلیمانی پارٹی کا ایک موقف ہونا چاہیے، چاہے وہ پارٹی سربراہ کے زیراثر ہی کیوں نہ ہو،ارکان پارلیمنٹ کی آواز کو دبانے سے بچانے کے لیے پارلمانی پارٹی کا کردار ہونا چاہیے ،وکیل منصور اعوان نے کہا کہ فیصلے میں صرف یہ واضح کیا گیا کہ پارلیمانی پارٹی کیا اور اس کا کیا کردار ہے، اسپیکر نے فیصلے کا سہارا لیا اور اس کے کچھ حصوں پر عمل کیا،عدالت نے کہا کہ فیصلے میں واضح ہے کہ اگر کسی رکن نے پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کی تو ووٹ مسترد ہوگا،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں پارلیمان میں کوئی سربراہ نہیں ہوتا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ ارکان کو پارٹی ہیڈ ہدایات دے گا. اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمارے وکیل نوجوان ہیں انہوں نے اپنے کندہوں پر بڑا بوجھ اٹھایا ہے ،وکیل نے کہا کہ منحرف ارکان کے بارے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو سوال کررہے ہیں وکلا اس سے پریشان نہ ہوں،وکیل منصور اعوان اچھے سے دلائل دے رہے ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکرنے رولنگ دینے پہلے چوہدری شجاعت کا خط ہاوس کے سامنے رکھا؟ وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ مجھے اس حوالے سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں وزیرقانون نے روسٹرم پرآ کروکیل حمزہ شہباز سے گفتگو کی جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل حمزہ شہبازہیں نا کہ وزیر قانون، آپکو ہدایت وزیرقانون نہیں دے سکتے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس گزشتہ معاملے سے ہٹ کر معاملہ آیا ہے یہاں پر 10 ارکان نے ایک امیدوار کو ووٹ دیا کیونکہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ تھا ،قانون حقائق کی بنیاد پر ہوتا ہے سوال یہ تھا کہ کیا ڈکلیئریشن دیا جاسکتا تھا یا نہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں بھی یہ انکار نہیں کیا گیا کہ ہمیں کوئی ہدایات نہیں ملیں کیس میں جو شوکازنوٹس جاری کیے تھے وہ اسد عمرکی دستخط سے جاری کیے گئے تھے،انہوں نے اپنے ارکان کے خلاف ایکشن لیا تھا،الیکشن کمیشن میں کیس شوکاز جاری نہ ہونے کا تھا،اپیل میں بھی منحرف ارکان نے یہی موقف اپنایا ہے، وکیل نے کہا کہ شوکاز نوٹس اسی وقت جاری ہوسکتا ہے جب پارٹی ہیڈ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہو،

    وکیل منصور اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے ریفرنس پر ارکان کو ڈی سیٹ کیا منصور اعوان نے عمران خان کی ہدایت پر مبنی صفحہ عدالت میں پیش کردیا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال ہے کہ کیا پارلیمانی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کواووررول کرسکتا ہے ، بنیادی سوال ہے پارٹی ہیڈ نے پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو اوو رول کیا آپ ہمیں اس پر مطمئن کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں جو باتیں لکھی ہیں ان میں وہ نہیں جو یہاں کررہے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کریں تو ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غلط ہو جائیگی، وکیل نے کہا کہ پارلیمانی پالیسی ہی پارٹی کی ہدایت ہوتی ہے ،عرفان قادر نے کہا کہ کیا پورے کیس میں آج ہی دلائل سنے جائینگے یا پھر فل کورٹ میں بھی سنا جائیگا میں نے تو ابھی اپنے کیس پر دلائل دیئے ہی نہیں،جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم صرف فل کورٹ سے متعلق بات سن رہے ہیں ،حمزہ شہباز کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ نے اچھے اور مدلل دلائل دیئے،

    چودھری شجاعت کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین روسٹرم پرآ گئے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کو ابھی تک فریق نہیں بنایا لیکن آپ کو سن رہے ہیں،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ آپ فل کورٹ تشکیل دیں،میرے موکل بھی یہی چاہتے ہیں کہ فل کورٹ بنایا جائے، وکیل پرویز الہیٰ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 22 جولائی کو وزیر اعلی کےلیے الیکشن ہوئے،قانون کے مطابق جو ووٹ کاونٹ ہوئے ہیں اس پر پرویز الہیٰ صوبے کے وزیر اعلی ہیںڈپٹی اسپیکر نے ایون میں چوہدری شجاعت کا خط لہرایا،ووٹنگ سے پہلے ڈپٹی اسپیکر نے وہ خط کسی کو نہیں دکھایا،ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں اس عدالت کے فیصلے کا سہارا لیا،وکیل علی ظفر نے اسپیکر رولنگ کے نکات پڑھ کر سنائے،ڈپٹی سپیکر نے پولنگ کے دوران خط ظاہر نہیں کیا،آخری وقت پر خط لہرا کر دس ووٹ مسترد کر دیئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر انحصار کیوں نہیں کیا؟

    وکیل پرویز الہیٰ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں 63/اے کو جو سمجھا ہوں اس عدالت کو بتاتا ہوں،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بیرسٹر علی ظفر کو ہدایت کی کہ آپ فل کورٹ تشکیل دینے یا نہ دینے پر دلائل دیں جودوسرے فریق کے وکیل نے دلائل دیئے ہیں آپ پھر ان پربھی دیں،دوسری سائیڈ نے فل کورٹ پر دلائل دئیے ہیں آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے۔ آپ دوسری سائیڈ کی فل کورٹ کی استدعا کو کیسے مسترد کرینگے؟

    پارٹی سربراہ کو پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلیئریشن دینا ہوتی ہے، آرٹیکل 63 اے سے متعلق عدالت پہلے ہی مفصل رائے دے چکی ہے فل کورٹ کی کیا ضرورت ہے یہ چیف جسٹس کا اختیار ہے کہ فل کورٹ بنائے یا نہیں،گزشتہ 25 برس کے دوران صرف 3 یا 4 مقدمات میں فل کورٹ بنی،کئی ایسے مقدمات ہیں جن میں فل کورٹ کی استدعا مسترد کی گئی، عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے،کیا تمام عدالتی کام روک کر فل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟گزشتہ سالوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ نہ بنانے سے دیگر مقدمات پر عدالت کا فوکس رہا، مقدمات پر فوکس ہونے سے ہی زیر التواء کیسز کم ہو رہے ہیں، علی ظفر نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ عدالت اس پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے،بڑے صوبے کو بغیر وزیر اعلی ٰکے نہیں رکھا جا سکتا، عدالت نے جو ووٹ کاسٹ نہ کرنے کا فیصلہ دیا تھا وہ لا آف لینڈ ہے،پوری قوم آپ کی شکر گزار ہے کہ آپ نے اچھا فیصلہ کیا،اگر نظرثانی درخواست پر سماعت کی جاتی ہے تو 5 رکنی لارجر بینچ بنایا جائے،پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی اور ساتھ کہا کہ ہمیں اس بینچ پر مکمل اعتماد ہے،سپریم کورٹ میں پرویز ا لہٰی کے وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے عدالت میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی گئی باتوں کا تحریری مسودہ پڑھ کر سنایا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جاکر آپس میں مشاورت کرینگے کہ یہی بینچ سنے یا فل کورٹ سماعت کرے ہم سب کو بریک کی ضرورت ہے کورٹ 5:30 پر دوبارہ شروع ہوگی،
    سماعت میں وقفہ

  • حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد نے موجودہ سیاسی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج جب پریس کانفرنس کیلئے آرہی تھی تو مجھے بہت لوگوں نے روکا کہ میں یہ پریس کانفرنس نہ کروں، لیکن مجھے بہت سے حقائق آج قوم کے سامنے رکھنے ہیں،خالد مقبول صدیقی کی فلائٹ منسوخ ہوچکی ہے ،نہیں پہنچ پائے جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی ذمہ داری تھی، اتحادی جماعتوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتی ہوں،چرچل نے سوال کیاتھا کہ کیا عدالتیں انصاف دیں گی عوامی نمائندوں کو خود سے بڑھ کر سوچنا پڑتاہے، گزشتہ چند سال سے آج تک کےحقائق سامنے رکھنا چاہتی ہوں،فیصلوں کے اثرات آنے والے وقتوں پر بھی ہوتے ہیں ،اداروں کی توہین اداروں کے اندر سے ہوتی ہے عدلیہ کی توہین متنازعہ فیصلے کرتے ہیں، عوام نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمے کواڑا کررکھ دیتا ہے،ناانصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے فیصلہ ٹھیک کیا جائے توتنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، جب سے حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بنا ہے اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حمزہ کا الیکشن ہوا، جیت گئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ درخواست لے گئی،قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہاں ہے پٹیشن،پی ٹی آئی نے رجسٹرار سے کہا ابھی پٹیشن تیار نہیں ہوئی ،جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بینچ کونسا ہوتا ہے،جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پتہ ہوتا ہے فیصلہ کیا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں6 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے،چودھری شجاعت کے کہنے پر بھی انہیں کورٹ بلا لیا گیا، یہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی،سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ ٹرسٹی وزیراعلیٰ ،یہ کیاہے ،بلیک لاڈکشنری اور منفرد آئیڈیاز کہاں سے لے آتے ہیں ؟کبھی سنا ہے آپ نے کہ کوئی ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہو ؟25 ارکان کو پارٹی ہیڈ کے خلاف ہونے پر ڈی سیٹ کیا گیا،ہمارے خلاف ہر مقدمے میں ایک ہی جج کو مونیٹرنگ جج لگایا گیا ہے واٹس آپ کال پر نوازشریف کے مقدمات کو لڑا گیا، کل کا مانیٹرنگ جج آج بھی تاحیات مانیٹرنگ جج ہے پارٹی ہیڈ اگر نوازشریف ہیں، پانامہ فیصلہ توردی کی ٹوکری میں جائے گا،پانامہ پر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا پارٹی ہیڈ سے سب کچھ چلتا ہے، ان سے صدارت لے لی گئی ، چودھری شجاعت کوبلایا جاتا ہے اور عمران خان پر آئین کی تشریح ہی بدل جاتی ہے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ موازنہ نواز شریف حکومت اور عمران خان کی معیشت کا ہوگا کابینہ میں بند لفافہ لہرایا جاتا ہے ، ملک ریاض کے پیسے پر کسی نے نوٹس لیا؟ 2017 کے بعد ایسا ملک ہلا اب سنبھلنے کو نہیں آرہا کونسا جرم ہے جو عمران خان نے نہیں کیا،سول نافرمانی، بل جلاؤ، سپریم کورٹ پر کپڑے ٹانگو، شاہراہ دستور پر قبریں، کیا کیا نہیں کیا گیا ؟سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریڈ زون میں آنے کی اجازت دی لیکن عمران خان نے ریڈ زون میں ہنگامہ کر کے توہین عدالت کر دی لیکن سپریم کورٹ خاموش رہی اور کہا شاید خان صاحب کے پاس ہمارے احکامات نہیں پہنچے ،جس نے تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹ بولے اسے صادق و امین کا لقب دے دیا گیا،آپ نے ایک جھوٹے شخص کو صادق اور امین ڈکلیئرڈ کیا ،وہ صادق و امین کا لقب دینے والا آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے،تاریخ کے جھوٹے شخص نے تین سو کنال کے محل کو ریگولائز کرایا،جعلی دستاویزات جمع کرائے،عمران خان ابھی بھی سپورٹ کے بغیر نہیں، ان کے حمایتی بیٹھے ہوئے ہیں جو سب کر رہے ہیں۔ شیری مزاری کے لیے راتوں رات عدالت کھل جاتی ہیں اور مریم نواز کے لیے جج چھٹی پر چلا جاتا تھا ،کیا سارے سوموٹوصرف ن لیگ اوراتحادیوں کیلئے ہیں؟ میں x y z نہیں کہتی میں نام لیتی ہوں ترازو ٹھیک ہوگا تو پاکستان اپنے آپ ٹھیک ہوجائیگا

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ طیبہ کیس میں ویڈیو پر نیب کو بلیک میل کرتا رہا، کسی نے سو موٹو نہ لیا سرینہ عیسٰی، آصف زرداری کی بہن کو تو انصاف ہی نہیں ملا، مریم نواز ڈیتھ سیل میں رہ سکتی ہے علیمہ خان کو جرمانہ کرکے گھر بھیج دیا جاتا ہے یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں چلے گا،یہ ایمپائرز سے مل کر کھیلتا ہے جب سے وہ ہٹے یہ دھڑام سے گرا،ابھی بھی یہ سپورٹ کے بغیر نہیں ہے، تفصیل میں گئی تونئے محاذ کھل جائیں گے، عمران خان کو کورٹ جان کو خطرے پر نہیں بلایا جاتا مجھے پاسپورٹ مانگنے پر دن میں بینچ بنتے اور ٹوٹتے ہیں،سیاہ سفید کرنے والا شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح گوگی بھاگ گئی،شہزاد اکبراور فرح گوگی کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے،قاضی فائزعیسٰی کیس پر کہا گیا، ایگزیکٹو ڈومین ہے، کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی،عمران خان کے خلاف ایف آئی اے اور نیب کی انکوائری روک دی گئی، کیوں؟ میں سلام کا جواب دوں عدالت لائن حاضر کر لیتی ہے عمران نیازی اپنی ضمانت کا کیس کرتا پھر کہتا ہے جان کو خطرہ ہے اور عدالت مان لیتی اور میرے پاسپورٹ کی درخواست پر روز بینچ ٹوٹ جاتے یہ ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی گفتگو کو سپورٹ کرتے ہیں، احتساب سب کے لیے ضروری ہے ہمیں اجنبی ہونے کا احساس کیوں دلایا جا رہا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں جو حوالے دیئے گئے،اچھا مواد ہے، اسی کی بنیاد پر ہم نے آگے بڑھنا ہے،اگر آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں کوئی مشکل پیدا نہ کروں تو میں بھی آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں،ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں کہ عوام بغاوت پر اتر آئیں،حکومت کو چلنے تو دیا جائے پھرہی استحکام اور اکانومی بہتر ہو گی لیکن اس کے لیے حکومت کو کام کرنے دیں مشکلات پیدا نہ کریں ہم نے اپنے ملک کے مستقبل کو روشن بنانا ہے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ 3 افراد ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں، ہمیں آئین کو بحال کرنے کے لیے 30سال جدوجہد کرنا پڑتی ہے اتحادی جماعتیں جمہوری نظام چا ہتی ہیں ،نظرآرہا ہے کہ کچھ افراد کو جمہوری نظام ہضم نہیں ہورہا ہے، ون یونٹ نظام آپ سے برداشت نہیں ہورہا، آپ سے برداشت نہیں ہورہا کہ آپ کے سلیکٹڈ نے تاریخی قرض لیا،ہمارا 70 سال کا قرض ایک طرف اور عمران کا 4 سال کا قرض ایک طرف ،ہم نے چار سال ظلم کہ باوجود، جہاں مریم نواز اور فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا، زرداری کو دوائیاں نہیں مل رہی تھیں، تو ہماری بات نہیں سنی جاتی تھی۔ آج جب اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی تو کچھ سازشی لوگوں سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ ہم نے نہ تو تشدد کا راستہ اپنایا نہ ہی غیر مناسب زبان استعمال کی ہم چاہتے ہیں ہمارے ادارے غیر متنازعہ رہیں،تمام سیاسی جماعتیں فل بینچ کا مطالبہ کرتی ہیں، فل بینچ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا،عمران خان کے دباؤ میں آکے آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ فل بینچ کا مطالبہ سب جماعتوں کا ہے،یہ کوئی انا کا مسئلہ نہیں،اے این پی کے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ آئین کو بہت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،آئین کی ایسی تشریح میں نے پہلے نہیں دیکھی، ق لیگی رہنما طارق بشیرچیمہ کا کہنا تھا کہ امید ہے سپریم کورٹ فل بینچ کے ہمارے مطالبے کومانے گی

  • عمران خان کے ای-7 میں گھر کا کرایہ امریکن قونصلیٹ 8 سال تک ادا کرتا رہا. محسن بیگ

    عمران خان کے ای-7 میں گھر کا کرایہ امریکن قونصلیٹ 8 سال تک ادا کرتا رہا. محسن بیگ

    عمران خان کے سابقہ دوست اور صحافی محسن بیگ نے ڈان ٹی وی کے پروگرام "ان فوکس” میں نادیہ نقی سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کرتے ہوئے کہا: آج کل سابق وزیر اعظم عمران خان بہت بڑے امریکہ کے مخالف بنے ہوئے اور امریکہ کے خلاف نعرہ بازی کررہے لیکن امریکہ کے ایجنٹ تو یہ خود ہیں.
    انہوں نے مزید کہا کہ: عمران خان ایک جھوٹا انسان ہے اور یہ تو اپنے گھر کھانا بھی نہیں کھاتا یہ خود کہتا کہ مجھے بھوک بھی دوسرے گھر جاکر لگتی ہے.


    جب میزبان نادیہ نقی نے انہیں کہا کہ آپ بہت بڑا سنگین الزام لگا رہے تو ان کا کہنا تھا کہ: عمران خان کے ای-7 میں گھر کا کرایہ امریکن قونصلیٹ تقریبا 8 سال تک ادا کرتا رہا ہے.

    اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اینکر سلیم صافی نےکہا: طویل عرصے تک عمران خان کے قریب ترین رہنے والے محسن بیگ کا نیا انکشاف (بنی گالہ شفٹ ہونے سے قبل ) عمران خان کے ای سیون والے گھر کا کرایہ 8 سال تک امریکی قونصلیٹ ادا کرتا رہا ہے جسے محسن بیگ عدالت میں ثابت کرنے کو تیار ہیں.

    صحافی نصراللہ ملک کا کہنا ہے کہ: اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں عمران خان کے کرائے والے گھر کا کرایہ آتھ سال تک امریکی سفارتخانہ دیتا رہا۔ سینئر صحافی محسن بیگ کا عمران خان پر سنگین الزام۔ عمران خان میرے خلاف مقدمہ کریں صحافی کا چیلنج۔ الزام بڑا سنگین ہے مقدمہ تو بنتا ہے.
    پیپلز پارٹی کی رہنماء سحر کامران نے کہا کہ: محسن بیگ نےانکشاف کیا ہے کہ عمران خان کے گھر کا کرایہ امریکن قونصلیٹ ادا کرتا رہا.

    واضح رہے کہ تادم تحریر تحریک انصاف یا عمران خان کی طرف سے محسن بیگ کے الزام کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے دوسری جانب باغی ٹی وی اسلام آباد نے امریکن قونصلیٹ سے اس دعوی کی تصدیق کیلئے رابطہ کیا تاہم انہوں نے بھی اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا ہے.

  • سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی

    سپریم کورٹ میں سماعت ڈیڑھ بجے ہو گی، سپریم کورٹ ،ریڈ زون کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سماعت کے باعث سپریم کورٹ آنے والے راستوں کو بند کردیا گیا سیرینا چوک اور مارگلہ روڈ سے گاڑیوں کا ریڈزون میں داخلہ ہوگا ریڈزون میں میڈیا اور سرکاری ملازمین کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی

    پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر سپریم کورٹ پہنچے لسٹ میں نام نہ ہونے کے باعث پولیس نے داخلے کی اجازت نہ دی
    فرحت اللہ بابر واپس روانہ ہوگئے،پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف کیس سے متعلقہ افراد کو داخلے کا حکم دیا گیا صرف کیس سے متعلقہ وکلاء اور فریقین کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت ہوگی ،وکلا کی جانب سے سپریم کورٹ میں زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے گیٹ لاک کردیا، آغا حسن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں،قانون پارلیمان کا کام ہے، عدلیہ کا کام غیرجانبداری سے انصاف ہے،

    سپریم کورٹ کے داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا، موبائیل جیمزز فعال کر دیا گیا سیاسی قائدین کے سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے عدالت میں ہمارے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے پرسوں لاہور میں تو عدالت کے شیشے ٹوٹ گئے تھے وہاں پابندی کیوں نہیں لگائی؟

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا نے کی مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ میں میڈیا پر بھی پابندی لگادی گئی

    سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جگہ محدود ہے صورتحال کنٹرول کرنامشکل تھا،سپریم کورٹ کے باہر بھی کارروائی سننے کا شاید انتظام کیا گیا ہے، جائز تنقید پر قدغن نہیں ، عدلیہ پر تنقید قابل مذمت ہے جو کہنا ہے عدالت کے سامنے کہیں،سپریم کورٹ میں دونوں طرف سے چند لوگوں کے داخلے کا فیصلہ کیا گیا، جب کوئی فل کورٹ کا مطالبہ کرتا ہے تو مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کے پاس دفاع کے کوئی دلائل نہیں،

    آج شاہ محمود قریشی،اسد عمر،فواد چودھری،شیریں مزاری اور عمر ایوب سپریم کورٹ جائیں گے پی ٹی آئی کے بابر اعوان ،پرویز خٹک اور عامر کیانی بھی سپریم کورٹ جائیں گے بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان ،اسعد محمود،خالد مقبول صدیقی اور امیر حیدر ہوتی بھی سپریم کورٹ آئیں گے اختر مینگل،اسلم بھوتانی ،شاہد خاقان عباسی ،خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ کی بھی سپریم کورٹ آمد متوقع ہے اعظم نذیر تارڑ،احسن اقبال،سعد رفیق ، امیر مقام ، ایاز صادق،عطا تارڑ،ملک احمد بھی عدالت جا ئیں گے سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت،سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ کی بھی عدالت آمد متوقع ہے

    حمزہ شہباز نے فل کورٹ بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی اور آرٹیکل 63 اے کی نظرثانی کی درخواستیں بھی ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر دی،الیکشن کمیشن کے خلاف منحرف ارکان کی اپیلیں بھی رولنگ کیس کیساتھ سننے کی استدعا کر دی،درخواست میں کہا گیاکہ منحرف ارکان کے الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی 22 جولائی کو دی گئی رولنگ درست ہے الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کیخلاف عمران خان کی ہدایات کو تسلیم کیا،سپریم کورٹ میں منحرف ارکان کی اپیلیں منظور ہوگئیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی،اپیلیں منظور کی گئیں تو 25 منحرف ارکان کے نکالے گئے ووٹ بھی گنتی میں شمار ہونگے

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت کے حوالہ سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ درخواست خارج کی جائے،

    پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پرویز الہی کی درخواست میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی کا موقف سنا جائے۔

    سپریم کورٹ میں جے یو آئی نے بھی فریق بننے کی درخواست دائر کردی اور عدالت سے استدعا کی کہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے، موقف سنا جائے ،ایڈووکیٹ سینیٹرکامران مرتضٰی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی

    مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس میں فریق بننے کے لیے درخواست دائر کردی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ڈپٹی سپیکر کو خط 22 جولائی کو لکھا گیا اور ڈپٹی سپیکر نے خط کی بنیاد پر پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ گنتی سے نکال دیئے ایم پی ایز کی جانب سے پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی تھےمیں اس کیس کا متعلقہ فریق ہوں لہٰذا مجھے کیس میں پارٹی بنایا جائے

    حکومتی اتحاد فل بینچ بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس ضمن میں ن لیگی رہنماؤں سمیت مولانا فضل الرھمان نے بھی پریس کانفرنس کی اور مطالبہ کیا کہ فل بینچ بنایا جائے،

    دوسری جانب پی ٹی آئی اور ق لیگ نے پنجاب کابینہ کی تشکیل پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وکیل پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کررہے ہیںعدالت نے مختصر کابینہ بنانے کا حکم دیا تھا،عدالت نے حکم دیا کہ کوئی سیاسی فائدہ نہیں دیا جائے گا، عدالت نے حمزہ شہبازکو ٹرسٹی وزیراعلیٰ بنایا لیکن انہوں نے تجاوز کیا،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • ڈیرہ اسماعیل خان: دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں پاک فوج کا جوان شہید

    ڈیرہ اسماعیل خان: دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں پاک فوج کا جوان شہید

    راولپنڈی :ڈیرہ اسماعیل خان میں امن دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاک فوج کا جوان وطن پر قربان ہو گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں فائرنگ کے تبادلہ میں لانس نائیک مجیب الرحمان شہید ہوگیا۔ 31 سالہ شہید کا تعلق لکی مروت سے تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشتگردوں کی تلاش اور ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    لاہور:حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    اتحادی جماعتوں کے قائدین کل صبح مشترکہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کریں گے، او پریس کانفرنس کے بعد وکلاء کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ جائیں گے، جہاں سپریم کورٹ بارکی نظرثانی ودیگردرخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

     

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، جے یو آئی (ف) سپریم کورٹ جائیں گے، اور درخواستگزاروں میں ایم کیوایم، اےاین پی، بی این پی، باپ اور دیگر اتحادی جماعتیں بھی شامل ہوں گی۔

    اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت جاری ہے، حمزہ شہباز اکثریتی ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، چوہدری پرویزکی درخواست پررات ایک بجےپھرعدالت کوکھولاگیا، سیاسی جماعت کےافرادنےسپریم کورٹ کی دیواریں پھلانگیں۔

    وزیرقانون نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کے5سابق صدورنےبھی فل کورٹ کامطالبہ کیا، حمزہ شہبازکےوکلاء بھی مقدمےمیں فل کورٹ کےحق میں ہیں،جب کہ انصاف اورشفافیت کا تقاضہ بھی ہے 63 اے کی تشریح کا کیس تمام جج سنیں۔

     

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی پارٹی قائد کی ہدايت کے مطابق ووٹ دينے کے پابند ہيں، اور ہم آئین اور قانون کے ساتھ اپنے حق کی آواز اٹھانے پر بھی یقین رکھتے ہیں، اداروں کے خلاف الزامات لگانے کی بات کو مسترد کرتے ہیں، اور اداروں کی عزت اور تکریم کو معتبر جانتے ہیں۔

    پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری آج ہونے کا امکان

  • کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند ،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے راستہ صاف کرنے کیلئے بھاری مشینری بھجوا دی ۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن محمد عثمان انور اور ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کی ہدایت پر پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے لینڈ سلائیڈنگ سے بند سخی سرور بغل چر روڈ صاف کرنے کیلئے بھاری مشینری لگادی ہے۔لودھی کے مقام پر ہیوی مشینری لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹا رہی ہے۔بارڈر ملٹری پولیس کے سرکل آفیسر حاجی زمان لغاری نے بتایا کہ بغل چر روڈ لودھی کے مقام تمام لینڈ سلائیڈنگ ایریا کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹانے کے لیے مشینری موقع پر پہنچ گئی ہے۔

    بغل چر، ٹالیاں، رونگھن روڈ پر مختلف جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے.کوہ سلیمان کے علاوہ ڈیرہ غازیخان شہر اور گردونواح کے میدانی علاقوں میں گذشتہ دو روز سے وقفے وقفے سے بارش جاری ہے،جس سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوچکاہے.
    اس کے علاوہ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بارش سے راجن پور کے برساتی نالوں میں طغیانی آگئی۔رپورٹس کے مطابق حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے_فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ کاہا سلطان اور نالہ چھاچھڑ سے سیلابی ریلا میدانی اور پچھاد کے علاقوں میں پہنچ گیا جبکہ چک شہید کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔قطب پل کا بھی بند ٹوٹنے سے بستی پنجابی ،بستی منجھو سمیت دیگر علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد حفاظتی بند مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ادھر چترال میں طوفانی بارش سے فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ وادی کوئٹہ اور گرد و نواح میں بھی بادل برسے جبکہ بولان اور نصیر آباد سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات نے آج سے منگل تک بلوچستان کے 15 اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جبکہ توبہ اچکزئی کے ڈیم کے حفاظتی بند میں دراڑ پڑگئی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں بارشوں کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 100 ہو گئی ہے جبکہ 6 ہزارسے زائد مکانات اور املاک کونقصان پہنچا ہے۔

  • ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    پی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کو کہا جاتا ہے ہدایات پر چلنا ہے .

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ادارے خاموش بیٹھ جائیں تو کوئی بحران نہیں، عمران خان ہمارے لیے چٹکی بھی نہیں، بلا بنا کر پیش نہ کیا جائے، ہم عمران خان کی اوقات جانتے ہیں اور وہ ہمیں جانتا ہے، ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے.ان کا کہنا تھاکہ بلاوجہ اگر بحران پیش کرنا ہے تو عام آدمی کو پیش کر دو، ملک کو بحران میں کون مبتلا کر رہا ہے کھل کر بات کرنی چاہیے۔

     

    ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

     

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کو یونٹی آف کمانڈ کی حیثیت حاصل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف تین بار وزیر اعظم اور شہباز شریف تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہے ہیں، ن لیگ کے لوگ وزیر رہ چکے ہیں، سب معززین ہیں، ایک ایک کو پکڑ کر جیل میں ڈالا، گالیاں دیں اور بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےسربراہ پی ڈی ایم نے اپنی اتحادی حکومت سے شکوہ کیا کہ عمران خان کی حکومت میں جو گھپلے ہوئے اس پر ہم کیوں خاموش ہیں؟ ان گھپلوں پر ہم کیوں خاموش ہیں یہ میری اپنی حکومت سے شکایت ہے۔ عمران خان میں صلاحیت ہی نہیں وہ کسی کو مجبور کر سکے، عمران خان اتنی بڑی سیاسی قوت نہیں، اس کی کسی دھمکی کو بنیاد بنا کر ’پر‘ کو ’پرندہ‘ بنانا مشکل بات نہیں۔

    فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں، ہمیں آئین کے مطابق اپنا کام کرنے دیا جائے، سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کو کام کرنے دیا جائے، روز روز کی مداخلتیں ملکی نظام کو معطل کر دیتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب سےنئی حکومت آئی، دونوں قوتیں غیرجانبداربھی ہوگئیں اورنیوٹرل بھی۔ اس حکومت کیلئے روز روز مسائل پیداکرنا، یہ رویہ بھی ہم دیکھ رہےہیں، نئی نئی تجویزیں آرہی ہیں کہ نئے الیکشن ہونے چاہیں.

    عدالتی بینچز کے حوالے سے جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھاکہ کسی فریق کے تحفظات ہوں تو اس جج کو کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہیے، روز روز نئی لاحقیں فیصلوں کے ساتھ وابستہ نہ کی جائیں، فیصلہ ایک ہوتا ہے، کورٹ ایک ہے، اگروہ کل ایک غلط کرچکے ہیں تو اس کیس کو نہ سنیں، فل کورٹ بیٹھے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہمارے ملک میں بند کمروں کی سیاست شروع ہو گئی ہے، ایک ادارہ دوسرے ادارے پراثر انداز ہونے کی سیاست کر رہا ہے، اب یہ سیاست ریاست کی تباہی کا سبب بن رہا ہے اور ذمہ دار ہمیشہ سیاستدان اور سیاسی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے، ہم اس صورتحال سے مطمئن نہیں، یہ چیزیں ٹھیک ہوجانی چاہیں۔

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ کی تقریب میں شرکت

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ کی تقریب میں شرکت

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور کا دورہ کیا ،آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی.

    پہلی چیف آف آرمی اسٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپئن شپ رانا ظہیر اکیڈمی لاہور نے جیت لی، اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں رانا ظہیر کلب لاہور اور یوتھ ہاکی کلب ملیر کراچی کی ٹیمیں مد مقابل تھیں جس میں دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا۔اس فیصلہ کن معرکے کے مہمان خصوصی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے جبکہ ہاکی اولمپئنز کی ایک بڑی تعداد نے بھی فائنل دیکھا۔

    مقابلے میں لاہور کے رانا ظہیر ہاکی کلب نے کراچی کے یوتھ ہاکی کلب ملیر کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرایا اور پہلے ایڈیشن کی فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

    چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کو گولڈ میڈلز اور گلدستے دیئے، انہوں نے فاتح ٹیم کے کپتان کو ٹرافی بھی تھمائی۔اس موقع پر اولمپیئنز نے دیگر ٹیموں اور کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔

    صوبائی وزیر سندھ شہلا رضا، لاہور قلندرز کے چیف ایگزیکٹو رانا عاطف اور محمد حفیظ بھی تقریب میں موجود تھے۔کراچی کی ٹیم نے اختتامی تقریب میں لاہور قلندرز کی شرٹ پہنی، فاتح ٹیم کو 30، رنرز اپ کو 25 جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو 20 لاکھ روپے انعام دیا گیا۔

    قومی سطح پر کھیلی جانیوالی چیمپیئن شپ میں 718 کلبوں نے ملک بھر سے شرکت کی.