Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدگان کی امداد کیلئے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ساتھ اجلاس ہوا

    اجلاس میں ورلڈ بینک، ایشائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی ڈویلپمنٹ ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی بین الاقوامی مالیاتی ادارے، ڈونرز سمیت چین، امریکہ اور یورپی ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے وزیراعظم نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو ملک بھر میں سیلاب کی تباہی کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے،املاک کے علاوہ فصلیں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ، سڑکیں، پل بہہ جانے سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آرہی ہیں،پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے، 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے،سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کرسکتے

    واضح رہے کہ پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

    قبل ازیں وفاقی وزیر و پیپلز پارٹی سینئر رہنماء ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بہت ہی تکلیف دہ و پریشان کن ہیں، پورا ملک بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، اس قومی اور انسانی بحرانی صورت حال میں ہمیں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے،اس وقت ہماری ترجیح سیاسی معاملات و اختلافات نہیں سیلاب زدگان کی امداد ہونی چاہئے، متاثرین کو ہم سب کی مدد کی اشد ضرورت ہے سب کو دل کھول کر انکی مدد کریں،

  • مریم نواز، رانا ثناء، فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    مریم نواز، رانا ثناء، فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    رہنماء مسلم لیگ (نواز) مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ، جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے.

    باغی ٹی وی اسلام آباد: مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے.
    مقامی وکیل علی اعجاز بٹر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں عطا اللہ تارڑ اور مریم اورنگ زیب کو بھی توہین عدالت درخواست میں فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ: سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مریم نواز اور دیگر کو پاکستان کے اداروں اور عدلیہ کا احترام نہیں لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ حکومتی معاملات بھی چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق: فریقین نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بارے میں بار بار توہین آمیز زبان استعمال کی اور ان بیانات کے ذریعے نظام انصاف کی ساکھ پر سوال اٹھا کرعوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

    درخواست کے ساتھ مریم نواز شریف کی 25 جولائی کی پریس کانفرنس کا ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروایا گیا ہے. جبکہ استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو عدلیہ کے خلاف پریس کانفرنسز کا ٹرانسکرپٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جائے جبکہ مریم نواز شریف اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”534043″ /]

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل حکومتی اتحاد کے رہنماؤں نے 25 جولائی کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے الیکشن اور آرٹیکل 63 اے سے متعلقہ معاملے پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ دہرایا تھا، تاہم اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق یہ پریس کانفرنس ’سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے کی کوشش‘ تھی.

    اسلام آباد میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنما شریک ہوئے تھے.

    پریس کانفرنس کا آغاز مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے کیا تھا، جنہوں نے ’بینچ فکسنگ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اسے ایک ’جرم‘ قرار دیا اور کہا کہ ہمارے ہاں انصاف کے نظام کا حال یہ ہے کہ ’جب کوئی پٹیشن آتی ہے تو لوگوں کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ بینچ کون سا ہے اور وہ بینچ کیا فیصلہ دے گا۔‘

    مریم نواز نے کہا تھا: ’مجھے میرے ہمدردوں نے مشورہ دیا کہ آپ یہ پریس کانفرنس نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیل پر اثر پڑ سکتا ہے تاہم میں نے انہیں جواب دیا کہ عوام کے سامنے حقائق سامنے رکھنے چاہییں۔‘

    انہوں نے مزید کہا تھا: ’کسی بھی ادارے کی توہین باہر سے نہیں، ادارے کے اندر سے ہوتی ہے اور ٹھیک اور انصاف پر مبنی فیصلے پر جتنی تنقید کی جائے، وہ معنی نہیں رکھتی۔‘ اس پریس کانفرنس کو قومی سطح پر ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا تھا.

  • مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا  ہے۔ آرمی چیف

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب متاثرہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    250ویں کور کمانڈرز کانفرنس آج جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی جسکی صدارت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی ہے۔

    اس کانفرنس میں فورم کو ملک میں سیلاب کی صورتحال اور آرمی فارمیشنز کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے بیرونی اور داخلی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے.

    آئی ایس پی آر کے مطابق: آرمی چیف نے آپریشنل کاروئیوں کو برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
    اجلاس میں شامل اعلی آرمی آفسران نے سیلاب کی صورتحال اور فوج کی طرف سے جاری ریلیف فنڈز اور کاروئیوں کا بھی جائزہ لیا ہے، غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی طور پر ہونے والے وسیع نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کا عزم کیا۔

    آرمی چیف نے جاری امدادی کوششوں کو سراہاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ : مصیبت کی اس گھڑی میں امداد کیلئے ہر ایک سیلاب زدہ علاقہ اور متاثرہ فرد تک ہمیں پہنچنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہئے.

    آئی ایس پی آر کے مطابق: کانفرنس میں سول انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو اور بحالی آپریشنز کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے.

  • عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

    عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

    عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

    اس سال کے شروع میں جب عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو نیازی نے اسے بین الاقوامی سازش کہا اور امریکہ پر رجیم چینج کا الزام لگایا مگر اب اچانک اسرائیل سے لے کر اقوام متحدہ تک نیازی کی حمایت میں بول پڑے ہیں تو پاکستان میں لوگوں کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر دنیا کو ہوا کیا ہے اور اسرائیل سے لے کر انڈیا تک لوگ نیازی کی حمایت میں اتنے دیوانے کیوں ہو گئے اور اس کے پیچھے آخر کونسی لابی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر راجہ عامر نے ایک تھریڈ لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ آئیے اس کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں اور اس کو سمجھتے ہیں

    پہلے ایک انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم پاکستان میں اختیارات کے ناجائز استعمال کی مذمت کرتی اور ایک ورکنگ گروپ بنانے کا دعوی کرتی مگر پھر واحد صاحب اسے مکمل ایکسوز کرتے اور بتاتے کہ اس کو چلانے والے انڈین ہیں ۔
    انڈین کو آخر عمران سے اتنی کیا دلچسپی ؟
    بات اتنی سادہ نہیں ہے 2020میں ای یو ڈس انفو لیب نے ایک بہت بڑا سکینڈل بے نقاب کیا تھا جسے Indian Chronicles کا نام دیا گیا تھا جو پندرہ سال سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ میں ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان اور چائینہ کے خلاف اور انہیں بدنام کرنے کے لیے کام کر رہا تھا اگر اس نیٹ ورک کا لب لباب یہ ہے کہ پندرہ سال یہ نیٹ ورک 10سے زیادہ اقوام متحدہ سے منظور شدہ این جی اوز،119سے زیادہ ممالک میں 750 جعلی نیوز آوٹ لیٹ ،اور500سے زیادہ ویب ڈومین رکھتا تھا ان کا بنیادی مشن پاکستان اور چائینہ کو Discreditکرنا انڈیا کی عالمی طاقت کو مضبوط کرنا اور انسانی حقوق کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا تھا .آپ کڑیاں ساتھ ساتھ ملاتے جائیں آپ کو یاد ہے امریکہ اور انڈیا نے مل کر سی پیک بارے متفقہ لائحہ عمل بنانے کا اعلان کیا تھا ؟

    اس سارے آپریشن کو Srivastava گروپ چلا رہا تھا انہوں نے این جی او ،تھنک ٹینک ،جعلی اخبارات ،اقوام متحدہ کے باہر مظاہرے ، یورپی پارلیمان کے ناموں پر جعلی ادارے اور ایک لمبا چکر بنایا ہوا تھا ،مثال کے طور پر Prof. Louis B. Sohnجو انسانی حقوق کا ایک بڑا نام اور 2006میں فوت ہو چکے تھے ان کا نام استعمال کیا آپ یہ جعلی رپوٹ چیک کیجئے جو انسٹی ٹیوٹ آف گلگت بلتستان نے لکھی جس میں 2011میں وہ پروفیسر خطاب کر رہے جو پانچ سال قبل فوت ہو چکا تھا ،اسی طرح انہوں نے یوروپین پارلیمان کے سابق صدر جو سیاست سے ریٹارڈ ہو چکا تھا اس کے نام سے ایک جعلی این جی او بنائی جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں ہونے والے سیاسی واقعات کی مذمت کر رہی ہے ابھی بھی اقوام متحدہ میں ایک پلانٹڈ سوال عمران نیازی بارے ہوا آپ کو کنکشن سمجھ آیا؟

    پاکستان میں یہ کام پی ٹی آئی نے شروع کیا تھا فرحان ورک ڈاکٹر قدیر کے نام سے اکاونٹ چلاتا تھا پھر کبھی رانی مکر بن جاتا کبھی فرانس کے صدر کا اکاونٹ ایک دفعہ تو ایک رشین جرنلسٹ کا اکاونٹ اور ایک دفعہ تو ایک بلو ٹک اکاونٹ تک خرید کر استعمال کرتا رہا انڈین نیٹ ورک دنیا بھر میں جعلی اخبارات کا ایک بڑا نیٹ ورک بھی چلاتا تھا آپ دنیا کے کسی بڑے ملک اور اس سے ملتے جلتے نام سے اخبار ڈھونڈیں آپ کو وہ مل جائیں گے یوں وہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو ان خبروں سے influence کرتے تھے اگر آپ غور کریں تو پاکستان میں پی ٹی آئی اسی ماڈل پر کام کرتی ہے انہوں نے بھی جعلی اخبارات جیسے خلیج میگ جو فیصل آباد سے چلتا مگر اسے خلیج ٹائم سے جوڑ دیا اور اکثر نیوز چینل اس کی خبریں شئیر کرتے رہے سب سے مزے کی بات یہ کہ جب جب ای یو ڈس انفو لیب نے بہت محنت اور تحقیق سے یہ سب بے نقاب کیا توعمران خان نے اس سارے کا کریڈٹ بھی پی ٹی آئی کو دے دیا کیا آپ نے ایسا وارداتییہ کبھی دیکھا ہے

    پی ٹی آئی نے لندن میں یہودی فرم ہائر کی ، امریکہ میں لابی فرم اور پھر انڈین لابی کی مدد سے اور خود پی ٹی آئی کے لا تعداد جعلی پیجز اور ٹویٹ سے بالکل انڈین chronicle کی طرز پر human rights کو ایک ہتھیار بناتے مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کو influence کرنے کی کوشش کی ہے اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور یورپی پارلیمان پہلے بھی انڈین فیک نیٹ ورک سے متاثر ہو چکے اور کافی شرمندگی بھی اٹھا چکے کہ پندرہ سال ایک جعلی نیٹ ورک کے زیر اثر بیانات دیتے رہے اب پھر پی ٹی آئی کے معاملے میں ایسا ہی ہوا ہے وہ انڈیا جو پندرہ سال اتنا پیچیدہ نیٹ ورک صرف پاکستان اور چائینہ کے مفادات کے خلاف چلاتا رہا وہ تحریک انصاف کو وہ ساری ایکسپرٹی اور سپورٹ اسی لیے دے رہا کہ پاکستان میں عدم استحکام رہے پاکستان کا انٹرنیشنل امیج خراب رہے پاکستان سی پیک روک دے اور یہ ڈی فالٹ کر جائے ،متعدد بار عمران کی آن لائن طاقت کے پیچھے انڈین عناصر ثابت ہو چکے اس لیے اس بین القوامی سپورٹ کی حقیقت کو سمجھیں

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

     تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا،

  • عدالت نے یکم ستمبر تک عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا

    عدالت نے یکم ستمبر تک عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان خود عدالت میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کے وکلا کی ٹیم اے ٹی سی اسلام آباد میں موجود تھی ،اسد عمر ، پرویز خٹک، زلفی بخاری، فواد چوہدری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر دلائل دیئے، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ عمران خان کو عدالت کے سامنے آنے دیں، جس پر جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو بیٹھا رہنے دیں، ضرورت نہیں ہے،وکیل بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ ایف آئی آر دیکھیں مجسٹریٹ علی جاوید نے عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا،پراسیکیوشن کے مطابق تقریب میں تین افراد کو دھمکی دی گئی،آئی جی اسلام آباد،ایڈیشنل آئی جی اور خاتون جج کو دھمکی کا کہا گیا،وہ تینوں شکایت کنندہ نہیں، بلکہ مجسٹریٹ مدعی ہیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مدعی مقدمہ علی جاوید کو دھمکی دی گئی ؟ بابر اعوان نے کہا کہ کیا عمران خان نے کہا کہ جان سے مارنا ہے ؟عمران خان نے پولیس حکام کو کہا شرم کرو، ہم نے تمہارے اوپر کیس کرنا ہے، شرم کرو کے الفاظ کو دھمکی بنا دیا گیا ورنہ کئی وزیر اس حکومت کے اندر ہوتے،آئی جی اور ڈی آئی جی کو کہا تمھیں نہیں چھوڑنا، کیس کرینگے ،مجسٹریٹ صاحبہ زیبا آپ بھی تیار ہو جائیں آپ کے اوپر بھی ایکشن لینگے، عمران خان نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال نہین کئے، شرم کرو،یہ الفاظ سوسائٹی میں اکثر استعمال ہوتے ہیں، عمران خان نے کسی کو قتل کرنے کا نہیں بلکہ کیس کرنے کا کہا،

    عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے، عمران خان کی ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی گئی ہے، عدالت نے پولیس کو یکم ستمبر تک گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے پولیس اور مدعی مقدمہ نے نوٹس جاری کر دیا،اگلی سماعت یکم ستمبر کو ہو گی، عدالت نے عمران خان کو دوبارہ یکم ستمبر کو طلب کر لیا ہے،

    عمران خان عدالت پہنچے تو دھکم پیل ہوئی،عدالت کے گیٹ پر لگایا گیا واک تھرو گیٹ پی ٹی آئی کارکنان نے توڑ دیا اسلام آباد پولیس موقع پر موجود تھی لیکن عمران خان کے ساتھ کے پی پولیس کے اہلکار موجود تھے جنہوں نے اسلام آباد پولیس کو بھی دھکے دیئے، صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی، عمران خان کی عدالت پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر چکا تھا، وکلا نے کمرہ عدالت میں عمران خان کے ساتھ تصویریں بنان شروع کیں تو عدالتی سٹاف نے کورٹ روم میں تصاویر بنانے سے روک دیا ،

    قبل ازیں اے ٹی سی اسلام آباد میں خاتون جج ،آئی جی اورڈی آئی جی پولیس کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس ،عمران خان نے درخواست قبل از ضمانت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر کر دی ،درخواست بابر اعوان اور علی بخاری کے ذریعے عدالت اے ٹی سی میں دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے انتقامی کارووائی کے تحت انسداد دہشت گردی کا مقدمہ بنایا، عدالت ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرے ، دراخواست پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس سماعت کریں گے

    عمران خان کی عدالت پیشی سے قبل فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کےاطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، کمپلیکس کے اطراف کی سڑکیں بند کردی گئی ہیں اور غیر متعلقہ افراد کو عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں ہے، عدالت کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی، اسد عمر سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی عمران خان کے ساتھ یکجہتی کے لئے آئے تھے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 دن کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی عدالت نے عمران خان کو 25 اگست تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی، ان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے

    دوسری جانب عمران خان نے دفعہ 144 خلاف پر درج مقدمہ میں عبوری درخواست ضمانت سیشن عدالت میں دائر کر دی ہے ، تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے بھی ایمپلی فائر ایکٹ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں عبوری درخواست ضمانت قبل از گرفتاری سیشن کورٹ میں وکیل بابر اعوان کے ذریعے دائر کی ہے، اسد عمر کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جب ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں تو پٹیشنراس وقت لاہور کی ریلی میں شریک تھا ۔میں پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ضمانت منظور کی جائے خدشہ ہے کہ مجھے سوسائٹی میں تضحیک کے لیے گرفتار کیا جائے گا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

  • تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا

    تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا

    تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ رنگ دکھانے لگی۔ پاکستان تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا، جعل سازی، فیک نیوز اور جھوٹ کے پرچار میں ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔نام نہاد عالمی تنظیموں کے بھیس میں ہندوستان اپنے مزموم عزائم کو جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت حاصل کرنے میں سرگرم ہے،  ہندوستانی نام نہاد ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے شہباز گل کی گرفتاری کے معاملے کو اچھالنا اور عمران خان کی دہشتگردی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے لئے ورکنگ گروپ کے زریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی ایک بہت بڑی سازش ہے۔ اس آرگنائزیشن کے تحت یہ تاثر دیا گیا کہ شہباز گل کی گرفتاری عالمی سطح پر بھونچال لانے کے مترادف ہے۔ در حقیقیت یہ ایک بوگس اور جعلی آرگنائزیشن ہے۔ اس آرگنائزیشن کے اکاؤنٹس سے 3 ٹویٹس ہیں جن میں واضح طور پر بھارت کے دو شہروں بنگلور اور نئی دِلی کی لوکیشن دیکھی جا سکتی ہیں۔

    بنگلور اور دہلی سے حمایتی ٹویٹس ہو رہے ہیں۔سی این این کے فیک سکرین شاٹس اور اسرائیلی چینلز کے تشویشی پروگرام نشر کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ جب پاکستانیوں نے اس نام نہاد آرگنائزیشن کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو یہ آرگنائزیشن غائب ہو جاتی ہے اور پاکستانیوں کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ کیا حقیقت میں انسانی حقوقی کی تنظیمیں ایسی ہوتی ہیں؟درحقیقیت یہ آرگنائزیشن ہندوستان میں رجسٹرڈ ہے اور ہندوستانی ہی اسے چلا رہے ہیں۔ یہ آرگنائزیشن نیو یارک، سپین اور مڈرڈ میں رجسٹرڈ نہیں بلکہ ہندوستان سے ہی آپریٹ ہو رہی ہے۔ ایک سوچی سمجھی چال کے تحت 100سے زائد ہندوستانی ویب سائٹس نے اس آرگنائزیشن کے بیان کو پھیلایا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    پاکستان تحریک انصاف کے پروپیگنڈہ اور منفی بیانات کواب بین الاقوامی سطح پر پھیلایا جا رہا ہے یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے کہ جب تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ مقدمات نے ان کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔ٹویٹر کے سیکورٹی چیف نے ہندوستان اور ٹویٹر انتظامیہ کی ملی بھگت کا بھانڈر پھوڑدیا ٹویٹر کے سیکورٹی چیف نے یہ معاملہ امریکی ریگولیٹر کے ساتھ اٹھایا ہے۔ سی این این کے مطابق ٹویٹر کے سیکورٹی چیف کے انکشافات اور ٹویٹر کی غفلت اور جان بوجھ کر ان کوتاہیوں سے پاکستان کی قومی سلامتی اور جمہوریت کے لئے خطرہ پیدا کیا گیا۔ اس سے قبل EU Disinfo Labکی رپورٹ میں بھی ناقابلِ تردید شواہد آچکے ہیں۔ Financial Crimes Enforcement Networkکی بھارت کے 44 بینکس کی منی لانڈرنگ اوردہشتگردوں کی مالی معاونت ،UNHRCاور جینو سائیڈ واچ کی ہندوستان کی بدترین ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے چشم کشا انکشافات بھی پوری دُنیا کے سامنے ہیں۔ ان فیک این جی اوز کے ذریعےUN اورUNHRC میں مختلف پاکستان مخالفEvents / Demonstrationمنعقد کرانا اور Motivated Contentکے ذریعے پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنا شامل ہے۔ EU Disinfo Labنے جن UN Accredited اور تھنک ٹیکنس گروپس کا جائزہ لیا تھا اُس کے مطابق حقیقت میں یہ این جی اوز کسی اور مقصد کے لئے رجسٹرڈ کرائے گئے تھے لیکن ان کوResurrectکر کے پاکستان مخالف بیانیے کیلئے استعمال کیا گیا۔

  • سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ:این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک ملک کے 116 اضلاع میں جانی یا مالی نقصان ہوا ہے اور جہاں پانچ لاکھ سے زیادہ مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہیں دیہی علاقوں میں سات لاکھ مویشی بہہ گئے ہیں،صوبہ بلوچستان سیلاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثرین میں شامل ہیں، سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے تاہم یہاں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 22 لاکھ سے بھی زیادہ ہے . پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل 16 اضلاع اور وہاں کی چار لاکھ 18 ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے .خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے
    محکمہ موسمیات نے 26 اگست تک سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب، شمال مشرقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے
    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے۔

    پنجاب میں 15 جون سے 21 اگست تک مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ (پی ڈی ایم اے) نے تفصیلات جاری کر دی ہیں۔پنجاب کے 6 اضلاع کے 5 لاکھ 55 ہزار 893 علاقوں میں نقصان پہنچا، 69اسکول اور7 بنیادی مراکز صحت ڈوب گئے۔پی ڈی ایم اے کےمطابق راجن پور، ڈی جی خان، میانوالی، مظفرگڑھ، سیالکوٹ، لیہ سیلاب سے متاثر ہوئے، 2 لاکھ 1 ہزار 965 زرعی علاقے، 12 ہزار 628 گھر سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے

    بارش اورسیلاب سے 2 لاکھ سے زائد بڑے جانور، 2 ہزار 586 چھوٹے جانور ہلاک ہو ئے جبکہ سیلاب میں 37 سڑکیں، 8 پل پانی میں بہہ گئے جبکہ 7 نہریں تباہ ہوگئیں،پی ڈی ایم اے کے مطابق 20 ہزار 264 افراد، 516 جانوروں کو سیلاب زدہ علاقوں سے ریسکیوکیا گیا، 147 طبی کیمپ اور متاثرہ افراد کیلئے 9 ہزار 355 کیمپ لگائے گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد جانوروں کو ویکسینیشن دی گئی، 19 ہزار839 افراد میں فوڈ ہیمپرز تقسیم کیے۔پی ڈی ایم کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اب بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں 551 ریسکیواہکار اور 84 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

  • پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا

    بھارت کی جانب سے پانچ ماہ قبل پاکستان میں میزائل فائر کرنے کامعاملہ پر گزستہ روز بھارت نے تین افسران کو برطرف کیا آج پاکستان نے ردعمل دیا ہے

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا۔پاکستان نے بھارتی سپرسونک میزائل فائر کرنے کے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دار اقدام پر افسران کو محض سزائیں غیر تسلی بخش، ناقص اور ناکافی ہیں، بھارت پاکستان کے مشترکہ انکوائری کے مطالبے کا جواب دینے میں ناکام رہا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میزائل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سیفٹی اور سکیورٹی پروٹوکول کا جواب دینے میں ناکام رہا، بھارت اسٹریٹجک ہتھیاروں کو سنبھالنے میں خامیوں کوانسانی غلطی کہہ کر چھپا نہیں سکتا۔ بھارت کو میزائل واقعے پر مشترکہ تحقیقات کیلئے پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنا چاہیے، 9 مارچ کو بھارت نے میزائل فائر کرکے خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا پاکستان کا اس معاملے پر تحمل کا مظاہرہ ذمہ دار جوہری ریاست ہونے کا ثبوت ہے۔

    گزشتہ روز بھارت نے کورٹ آف انکوائری کے بعد ‘ تکنیکی غلطی’ سے پاکستان میں میزائل فائر ہونے کے واقعے پر 3 افسران کو برطرف کردیا تھا

    رواں سال 9 مارچ کو بھارت کی طرف سے پاکستان کی حدود میں میزائل فائرہوا تھا۔پاکستان نے بھارت سے وضاحت طلب کی تھی اور مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم بھارت نے واقعے کو ‘تکنیکی غلطی’ قرار دیا تھا اور واقعے کی اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

  • اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟

    اپنے ایک بیان میں امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ ملعون سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کے بعد عالمی میڈیا کھلم کھلا عمران نیازی کی پشت پناہی کر رہا ہے، جس دن سابق وزیراعظم نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کی ہے اسی روزسے عالمی اداروں نے پاکستان کو دباؤ میں لانا شروع کر دیا۔ عمران نیازی کے باغیانہ رویوں کو جمہوری کور دینا ہے اور دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاستی ادارے شدید عالمی دباؤ میں ہیں۔ ریاستی ادارے عمران خان کی لامحدود کرپشن، باغیانہ سرکشی کے خلاف کاروائی میں تاخیر پر گامزن ہے۔ عمران نیازی اور اس کی ذریت خود کو آئین اور قانون سے ماورا سمجھتی ہے۔ اگر ریاستی اداروں نے دباؤ میں آکر قوم کی چولیں ہلانے والے مجرم کے خلاف قانون کے مطابق کاروائیوں سے گریز کیا جے یو آئی ملک کے نظریاتی اساس اور آئین کے تحفظ کی خاطر کسی کردار سے گریز نہیں کرے گی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقوام متحدہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟ پی ٹی آئی چیئر مین کے دور میں انتقامی کاروائیوں کو ایک بار بھی غیر جمہوری قرار دیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح طور پر نیازی کے چوری کے اقدامات قوم کے سامنے لائے گئے، آپ کس بنیاد پر ایک آئین شکن اور پاکستان کے نظریاتی اساس پر حملہ آور شخص کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صیہونی لابی دوبارہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے.

    پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ ابو غریب جیل میں زندہ انسانوں پر کتوں کو چھوڑا گیا؟ اس وقت انسانی حقوق کیوں نظر نہیں آئے؟ آج بھی عافیہ صدیقی امریکی جیلوں میں ہے؟ ان کی ماں دنیا سے چلی گئی۔ انسانی حق یاد نہیں آیا؟ بارہ سال پہلے کہہ دیا لوگ ثبوت مانگتے تھے ثبوت وقت فراہم کرے گا، آج وقت نے ثبوت فراہم کردیئے۔ نیازی کو ساری فنڈنگ انڈیا اور اسرائیل سے ہورہی ہے۔

  • حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ حکومت سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں، حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔

    ہری پور میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کہتے تھے انگریزوں سے آزادی کے بعد ہم کسی کے غلام نہیں ہیں، پاکستان کی حقیقی طرح آزاد کیا جائے، ملکی فیصلے پاکستان میں ہوں، پاکستان کو کسی اور کی جنگ میں شرکت نہ کروائیں، میں یہ کسی صورت میں نہیں ہونے دوں گا، ہمیں دھمکی ملی اگر امریکہ کی جنگ میں آپ شامل نہیں ہوں گے تو آپ کو ختم کر دیا جائے گا۔ میں امریکا کو کہتا ہم آپ کو ہر طرح مدد کریں گے لیکن دہشتگردی میں ساتھ نہیں دیں گے، میں دہشت گردی کے خلاف کھڑا تھا مجھے دہشت گرد کہا گیا، میں کسی دہشت گردی کے ساتھ نہیں ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میری قوم جاگ گئی ہے، میری پوری کوشش تھی ہم روس سے سستا تیل لیں اور اپنی عوام کو سستا تیل دیں، پاکستان پر امپورٹڈ مسلط کر دی گئی، آصف زرداری 30 سال سے چوری کر رہا ہے، جیل گیا اور جب واپس آیا پھر چوری شروع کر دی، شہباز شریف پیسہ تم چوری کرو اور پیسہ عوام واپس کرے، ہم نے چوروں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارا حقیقی آزادی کا جو جہاد ہے اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، ہمارے فیصلے ہم خود کرینگے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا چلا مجھے گرفتار کرنے آ رہے ہیں، میں تیار ہو گیا، چلو جیل بھی دیکھ لیں گے۔ ہمارا ایک خاص بندہ جو امریکا میں پروفیسر تھا، اس نے کہا میں پاکستان کے لیے کام کروں گا وہ ٹی وی پر کوئی بات کرتا ہے، اگر اس نے کوئی بات کی ہے تو اسے عدالت لے کر جایا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کسی کو نہیں پتا اسے کہاں رکھا گیا ہے۔ اس پر ننگا کر کے تشدد کیا گیا، شہباز گل پر جنسی تشدد کیا گیا،کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا، اس تشدد سے اس کی ذہنی صورتحال ایسی تھی وہ بالکل ٹوٹ گیا۔ عدالت میں ثابت ہو گیا اس پر ذہنی اور جنسی تشدد کیا گیا۔جنہوں نے یہ کام کیا ہے ہم پولیس والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم قانونی طور پر ان کے خلاف کارروائی کریں گے، یہ نہیں کہا ڈنڈا لے کر ان پیچھے جائیں گے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، 25 مئی کو پولیس کے ذریعے تشدد کروایا، جب انہوں نے تشدد کیا تو یہ سمجھے یہ ڈر جائیں گے، میری پارٹی کے لوگوں کو ممی ڈیڈی کہا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو پنجاب میں ضمنی الیکشن آ گئے لیکن دھاندلی کے باوجود ایسا پھینٹا پڑا کہ ٹانگیں کانپنی شروع ہو گئی، 17 جولائی کو جب الیکشن میں ہار ملی تو انہوں نے کہا عمران خان کو تکنیکی طور پر شکست دیتے ہیں، جو مرضی کر لیں اب اس حقیقی آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا، جب ہمیں ہٹایا گیا تو کہا مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے، ہمارے دور میں مہنگائی 16 فیصد تھی، اب 42 فیصد ہے۔ ہمارے دور میں جب تھوڑا سا بھی پٹرول بڑھتا تھا تو مہنگائی مارچ شروع ہو جاتا تھا۔ مجھے نکالنے کے لیے مہنگائی بہانہ تھا۔ آج ہماری ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاکستانی بہت مشکلوں میں ہیں، میں اپنی پنجاب حکومت کو بھی کہتا ہوں ان کی مدد کریں، شہباز شریف قطر جانے کی بجائے اپنے لوگوں کی مدد کرو، کسی نے تمہیں پیسے نہیں دینے کیونکہ سب کو پتا ہے تم اور تمہارا بھائی چور ہیں، میں اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائیں، صاف اور شفاف الیکشن سے ملک میں استحکام آئے گا، باہر کے لوگ ان چوروں پر اعتبار کر تے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم ان پر اعتبار کرتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ جب میں کال دوں گا تو آپ سب نے تیار رہنا ہے، میں امپورٹڈ حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔ ملکی قیادت کون کرے گا اس کا فیصلہ عوام کرے گی۔