Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جعلی اکاؤنٹس سے صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ، اسد عمر اور قاسم سوری نے بھی پیسے نکالے،تحقیقات میں اہم پیش رفت

    جعلی اکاؤنٹس سے صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ، اسد عمر اور قاسم سوری نے بھی پیسے نکالے،تحقیقات میں اہم پیش رفت

    پاکستان تحریک انصاف کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، کراچی اور کوئٹہ میں دو اکاؤنٹس سے اسد عمر اور قاسم سوری نے پیسے نکالے۔

    ایف آئی اے کے مطابق جولائی 2013ء میں اسد عمر کے اکاؤنٹ میں پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے 15 لاکھ روپے ٹرانسفر ہوئے، یہ پیسے نجی بینک کی زمزمہ برانچ میں اسد عمر کے ذاتی اکاؤنٹ میں آئے۔ کوئٹہ میں جناح روڈ پر واقع ایک بینک سے قاسم سوری نے قسطوں میں 21 لاکھ روپے نکلوائے، یہ بینک اکاؤنٹ بھی پی ٹی آئی کا تھا جسے ظاہر نہیں کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق غیر ملکی فنڈز ٹرانسفر کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے 6 ملکوں سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے، آسٹریلیا، کینیڈا، سوئٹزر لینڈ، امریکا، متحدہ عرب امارات اور سنگاپور کو خط لکھ دیا۔ایف آئی اے کے مطابق ان ملکوں سے ایم ایل اے کے تحت معلومات کے تبادلے کی درخواست کی گئی۔

    ایف آئی اے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے جعلی اکاؤنٹس سے 2013ء میں موجودہ صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی گئی تھی۔پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے معاملے میں ایف آئی اے نے درجنوں اکاؤنٹس کے حوالے سے اہم انکشاف کیا۔

    ذرائع کے مطابق طارق شفیع، حامد زمان اور منظور چوہدری کے درجنوں اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے جعلی اکاؤنٹس سے صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ میں 2013ء میں رقم منتقل کی گئی تھی۔

    ذرائع کے مطابق عارف علوی نے یہ اکاؤنٹ سینٹرل فنانس بورڈ کی منظوری کے بغیر کھلوایا تھا، اسی اکاؤنٹ سے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کو بھی رقم منتقل کی گئی۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اسلام آباد کے اکاؤنٹ سے اسد عمر کو بھی لاکھوں روپے منتقل ہوئے، اس اکاؤنٹ میں ووٹن کرکٹ لمیٹڈ دبئی سے 13 لاکھ امریکی ڈالر منتقل ہونے کا سراغ بھی ملا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 13 مزید مقامی کمپنیوں نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی، ایک کمپنی کے مالک نے 30 لاکھ روپے کا پارٹی فنڈ دیا، تحریک انصاف کو فنڈنگ کرنے والی مقامی کمپنی بھی جعلی نکلی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے مختلف بینکوں سے سیکڑوں اکاؤنٹس کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے، جس میں بھاری رقوم کی مبینہ منتقلی سامنے آئی ہے جبکہ ریکارڈ کی مزید چھان بین کا سلسلہ جاری ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق لاہور میں ایک اکاؤنٹ سے دینی ٹرسٹ کے نام پر 25 لاکھ روپے کی رقم کی منتقلی سامنے آئی ہے، یہ رقم سیلاب زدگان کےلیے حاصل کی گئی مگر اس کا استعمال سیاسی مقاصد کےلیے کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ایف آئی نے طارق شفیع، حامد زمان اور منظور چوہدری کو نوٹس جاری کردیے ہیں، طارق شفیع کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا، وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تمام اکاؤنٹس پی ٹی آئی سینٹرل فنانس بورڈ کی منظوری کے بغیر کھولے گئے۔

  • آرمی ایئرڈیفنس کمانڈہیڈکوارٹرزمیں آرمی فلڈریلیف سینٹر قائم:آرمی چیف کی امدادی آپریشن تیزکرنےکی ہدایت

    آرمی ایئرڈیفنس کمانڈہیڈکوارٹرزمیں آرمی فلڈریلیف سینٹر قائم:آرمی چیف کی امدادی آپریشن تیزکرنےکی ہدایت

    راولپنڈی :پاک فوج نے آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں آرمی فلڈ ریلیف سینٹر قائم کردیا،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کراچی پہنچ گئے ہیں۔

    آرمی چیف کو سندھ اوربلوچستان میں سیلابی صورتحال اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی جائے گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ سندھ اور بلوچستان میں فوجی جوانوں کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں آرمی فلڈ ریلیف سینٹر قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد ملٹری آپریشنز ڈائریکٹریٹ کے ساتھ قومی فلڈ ریلیف اقدامات کو کوآرڈینیٹ کرنا ہے۔

    ملک کے دیگرعلاقوں میں بھی فلڈ ریلیف سینٹرز قائم کردیے گئے ہیں۔ ان سینٹرز پر امدادی اشیاء اکھٹی کرکے متاثرین تک پہنچائی جارہی ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج سیلاب کے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہے۔ فوجی جوان متاثرین میں کھانا اور شیلٹرز بھی فراہم کررہے ہیں۔

    پاک فوج کی طرف سے حالیہ سیلاب کے حوالے سے تازہ ترین صورت حال سے آگاہ بھی کیا گیا جس کے مطابق

    ◼️ سندھ
    موہنجدڑو (38 ملی میٹر) میں زیادہ سے زیادہ بارش کے ساتھ صوبے میں ہلکی بارش کی اطلاع ہے۔
    سانگھڑ، لاڑکانہ اور خیرپور میں ڈھانچہ گرنے اور ڈوبنے کے واقعات میں 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ قمبر شہداد کوٹ میں واڑہ کے مغرب میں پانی کے زیادہ بہاؤ سے مقامی بند ٹوٹ گیا جس سے 600 افراد متاثر ہوئے۔

    پاک فوج نے اپنی امدادی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے ٹھٹھہ میں 60 خاندانوں کے لیے خیمہ گاؤں قائم کیا گیا۔
    نگرپارکر، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، سانگڑھ، جامشورو، میرپور خاص اور دادو ضلع میں سیلاب متاثرین کو راشن اور امدادی اشیاء فراہم کرنےکےلیےفارورڈ بیس ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔ ٹنڈو اللہ یار اور مٹیاری میں قائم 3x اضافی فارورڈ بیسز موبائل میڈیکل ٹیمیں صوبے کے دور دراز علاقوں میں طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ کوٹ ڈیجی۔ فوج کی ٹیموں نے پانی صاف کرنے کی کارروائیاں کیں اور راشن بیگ بھی تقسیم کیا۔خیرپور۔ فوج کے دستوں کی جانب سے انخلا کا آپریشن کیا گیا۔

    سیلاب متاثرین میں راشن کے پیکٹس کی تقسیم بھی جاری ہے
    ▪️ نوشہرو فیروز فوج کے دستوں کی طرف سے ڈی واٹرنگ آپریشن کیا گیا۔ دادو۔ سیلاب متاثرین کو پکا ہوا کھانا اور امدادی اشیاء کی فراہمی؛ ریسکیو ٹیموں کے ذریعے معیاری آبادی کا انخلا، سانگھڑ فیلڈ میڈیکل سنٹر قائم کیا گیا اور 136 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ *قمبر شہداد کوٹ* . پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں فوج کے دستوں نے کیں۔راشن کی تقسیم کے ساتھ 60 خاندانوں کے لیے ٹھٹھہ ٹینٹ گاؤں قائم کیا گیا ، بدین تحصیل ماتلی میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم۔ راشن کے پیکٹ کے ساتھ خیمے، مچھر دانی اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔

    ◼️ بلوچستان
    ▪️ صوبہ بھر میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں کی اطلاع سبی میں (69 ملی میٹر) زیادہ سے زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں، یارو کاز وے پر پانی کے بلند ہونے کی وجہ سے N-65 پر ٹریفک کی آمدورفت عارضی طور پر روک دی گئی۔

    ▪️ جعفرآباد۔ کولپور اور مچھ کے درمیان ہیروک پل کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ریلوے کی نقل و حرکت معطل ہے،نصیرآباد ڈیرہ مراد جمالی سے چھتر اور گردونواح کا روڈ رابطہ عارضی طور پر درہم برہم ہےجبکہ خضدار۔ وانگو میں M-8 پر لینڈ سلائیڈنگ کی بحالی کے کام کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔

    ان علاقوں میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ،5 فیلڈ میڈیکل کیمپ قائم 575 ایکس مریضوں کا علاج کیا گیا۔جھل مگسی گندھاوا شہر میں ریلیف اور ڈیوٹرنگ آپریشن جاری ہے – 250 ایکس راشن پیکٹس کی تقسیم؛ 110 گنا سیلاب متاثرین کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا گیا۔نصیرآباد ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے؛ 500 افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا اور 200 ایکس راشن پیکٹ تقسیم کیے گئے۔

    ◼️ پنجاب

    پاک فوج کی طرف سے ڈی جی خان میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 2000 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 50x ریلیف کیمپ قائم 5562 افراد کو جگہ دی گئی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 38242 ایکس راشن پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ 37428 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔2فیلڈ میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں 2x فیلڈ میڈیکل کیمپ منگروٹہ، تونسہ اور فاضل پور، راجن پور میں 2 کور کے ذریعے لگائے گئے ہیں۔ ہر ایک فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 1x لیڈی میڈیکل آفیسر کے علاوہ 2x میڈیکل آفیسر، 3847 مریضوں کا اب تک علاج کیا گیا اور مریضوں کو4 دن کی ادویات دی گئیں۔ریسکیو ٹیمیں ضروری سامان کے ساتھ سابق آرمی (13 ایکس بوٹس، OBMs، لائف جیکٹس وغیرہ) ڈی جی خان میں ریسکیو ریلیف آپریشن کو انجام دینے کے لیے پیش پیش ہیں۔آرمی کی ریسکیو ٹیمیں ضروری سامان کے ساتھ (22 ایکس بوٹس، OBMs، لائف جیکٹس وغیرہ) ریسکیو/ریلیف آپریشن کے لیے راجن پور کی پیش کش ہیں۔تونسہ اور روجھان میں ضروری سامان کے ساتھ فوج تعینات کی گئی ہے

    • کے پی کے
    ▪️ خوازہ خیلہ چارسدہ کے مقام پر دریائے سوات میں انتہائی بلندی کی وجہ سے نوشہرہ اور رسالپور کو شدید خطرہ ہے۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی خان دریائے سندھ کے کیچمنٹ ایریاز میں مسلسل بارش کے باعث ڈی آئی خان کے تمام نالوں میں طغیانی آگئی جس کے نتیجے میں بنوں، ٹانک، ژوب اور ڈی جی خان تک سڑکوں کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ ٹینک۔ سلیمان رینج سے بہاؤ بڑھنے سے سیلاب آیا۔

    سوات میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات میں تباہی بحرین سے کالام تک N-95 اور N-90 پر سڑکوں اور پلوں کی حالت نازک۔ کالام-بحرین روڈ عارضی طور پر بند، 2-3 دنوں میں کلیئر ہونے کا امکان ہے۔ مہندری کے مقام پر دریائے کمہار پر کاغان اور ناران پل شدید بہاؤ سے بہہ گئے

    یہاں بھی پاک فوج کے جوان خدمت اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ڈی آئی خان میں فوج کی جانب سے ریسکیو آپریشن – 13 افراد کو بچایا گیا، 9 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے اور متاثرین میں 1110 راشن کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔گاؤں روڑی اور مدی میں خواتین کے طبی مراکز کا قیام؛ 600 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ درازندہ میں میڈیکل کیمپ کا قیام 400 ایکس مقامی لوگوں کا علاج کیا گیا۔سوات میں ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے میں فوجی دستے سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔

  • وزیراعظم شہبازشریف کا سندھ حکومت کے لیے 15 ارب رو پے گرانٹ کا اعلان

    وزیراعظم شہبازشریف کا سندھ حکومت کے لیے 15 ارب رو پے گرانٹ کا اعلان

    وزیراعظم شہبازشریف نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا وزير اعظم شہباز شریف سکھر ایئرپورٹ پر پہنچ گئے وزیرخارجہ بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر موجود تھے وزیراعظم کے ہمراہ ایاز صادق، مریم اورنگزیب، خرم دستگیر، کیہل داس کوہستان بھی موجود تھے وزیراعظم شہبازشریف نے بیراج پر سیلاب سے متعلق بریفنگ لی وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ بھی موجود تھے، وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 22 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں،سیلاب سے گنا ،کپاس اور دیگر فصلیں تباہ ہوئیں سندھ میں43 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیئے ہیں فلڈ ریلیف کیمپ میں لوگوں کو خوراک اور ادویات مہیا کررہے ہیں،شہر اور دیہاتوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے،اسکولوں میں متاثرین کو پناہ دی گئی،90 عمارتوں میں ٹھہرایا گیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے وزیرتوانائی خرم دستگیر کو سندھ میں ہی رہنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ وزیر توانائی خرم دستگیر سے کہتا ہوں بجلی کے مسائل حل کریں ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریوں کا فضائی جائزہ لیا،فضائی جائزے کے دوران ایسے لگا جیسے ہر جگہ دریائے سندھ پھیلا ہوا ہے،بارش اور سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا،وزیرخارجہ بلاول بھٹو، وزیراعلیٰ سندھ اوروفاقی وزیر خورشید شاہ یہاں موجود ہیں،سندھ حکومت متاثرین کے لیے بہترین کام کررہی ہے سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 ،10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے ہم فی متاثرہ خاندان کو بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت 25 ہزار روپے دیں گے،معاشی صورتحال پوری قوم کے سامنے ہے ، ماضی کی حکومت نے معیشت تباہ کی،یہ سیاست نہیں خدمت کا وقت ہے ،گزشتہ رات آرمی چیف سے بات ہوئی بارشوں اور سیلاب سے فصلیں تباہ،مکانات مہندم ،لوگ بے گھر،مواصلاتی نظام درہم برہم ہے،سندھ حکومت گرانٹ کو سیلاب متاثرین کی بحالی میں استعمال کرے گی صوبوں سے ملکر سیلاب زدگان کی مدد کررہے ہیں،28ارب روپے بی آئی ایس پی کو دئیے ہیں ،آج سے سندھ سے یہ تقسیم شروع ہوجائے گی بلوچستان میں بھی حالات بہت زیادہ خراب ہیں،این ڈی ایم اے سندھ حکومت کے ساتھ معاونت کرے گا،مخیر حضرات ،صنعتکار ،تاجر عطیات دیں ماضی میں بھی ان مخیر حضرات نے اپنا حصہ ڈالا تھا

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ خیمے اور مچھر دانیوں کا انتظام کررہے ہیں ،جو مچھر دانیاں ملیں انہیں بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کیں ،جب تک متاثرہ افراد اپنے گھروں میں آباد نہیں ہوتے چین سے نہیں بیٹھیں گے آج ہم نے ریلیف کیمپ میں انتظامات کا جائزہ لیا،سندھ حکومت متاثرین کے لیے بہترین کام کررہی ہے سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10،10لاکھ روپے دیئے جائیں گ

    دوسری جانب وزیراعظم نے کوئٹہ میں بجلی نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لے لیا وزیراعظم شہبازشریف نے کوئٹہ میں بجلی کی فراہمی کا حکم دے دیا ،وزیراعظم نے منسٹری آف پاور کو فوری اقدامات کا حکم دی اور ہدایت کی کہ عوام کی مشکلات کو فی الفور حل کیاجائے

    دعا زہرہ نے نکاح کے بعد والد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    چولستان میں پانی کی قلت ، مویشی مرنے لگے ،مزید حکومتی اقدامات کی ضرورت

  • عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس رہائش گاہ پرموصول

    عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس رہائش گاہ پرموصول

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

    رجسٹرارآفس ہائیکورٹ سے جاری شوکاز نوٹس عمران خان کی رہائش گاہ پر موصول ہو گیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان نے خاتون جج کے بارے میں توہین اوردھمکی آمیز تقریرکی، عمران خان نے تقریراس وقت کی جب کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت تھا،عمران خان نے توہین اور دھمکی آمیز تقریر من پسند فیصلہ لینے کے لیے کی عمران خان نے تقریر کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دے کرکریمنل اور جوڈیشل توہین کی،عمران خان31 اگست کو پیش ہوکر بتائیں کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کاروائی کی جائے،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    23 اگست کو توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے کیس چیف جسٹس کو بھیج دیا، دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس معاملے پر 3 سے زیادہ ججز پر مشتمل بینچ بنائیں،دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ کھڑے ہوں تو تقاریر میں ایسے ہی بات کرنی چاہیے؟ جلسے میں جتنے بھی لوگ ہیں میڈیا کے توسط سے پوری دنیا دیکھ رہی ہوتی ہے، سوشل میڈیا کو پتہ ہے کہ کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو اس پر بہت کچھ ہو رہا ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپکی حکومت ہے آپ کریں نا کیوں نہیں کر رہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر پارٹی لیڈر اس طرح کی بات کر رہا ہے تو نچلے درجے پر بھی یہی ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ماتحت عدلیہ تو وہی فیصلے کرتی ہے جس پر اعلیٰ عدلیہ فیصلے دیتی ہے سول بیوروکریسی اور آئی جی کو دھمکی دے رہے ہیں،کیا یہ حکومت چلی جائے گی دوسری آئے گی تو یہ ایسے بیان شروع کر دینگے؟ یہاں تو مخصوص لوگوں نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ کیس بنتا تو شوکاز نوٹس کا ہی ہے،معاملے کو ایک ہی بار طے ہو جانا چاہیے،

  • بنی گالہ کی سیکورٹی، بغیر اجازت دیگر صوبوں کی پولیس کی تعیناتی کی تیاری

    بنی گالہ کی سیکورٹی، بغیر اجازت دیگر صوبوں کی پولیس کی تعیناتی کی تیاری

    پی ٹی آئی کے اوچھے ہتھکنڈوں نے پولیس کو سیاسی بنا ڈالا

    اسلام آباد کی حدود میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ پولیس کی دراندازی کا پلان بنا لیا گیا، باخبر ذرائع کے مطابق اطلاع ہے کہ دونوں صوبائی پولیس کے چند مخصوص دستے، بنی گالا میں تعیناتی کی تیاری کر رہے ہیں اس سلسلے میں خیبر پختونخواہ کے 10 سے 12 پولیس اہلکار کی پہلے سے ہی بنی گالا میں موجودگی کا انکشاف ہواہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس سے نہ صرف کوئی اجازت لی گئی ہے بلکہ انہیں اس معاملے کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی پی ٹی آئی کی جانب سے یہ سیاسی کھیل اداروں کے تصادم کا باعث بن سکتا ہے جبکہ یہ گھناؤنا کھیل صرف ایک سیاسی شخصیت کے ذاتی مفاد کیلئے رچایا گیا ہے

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان جب سے سابق وزیراعظم بنے ہیں تب سے وہ مسلسل اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں، پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی عمران خان کی ہی روش پر چلتے ہوئے اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، عدم اعتماد کے بعد سے عمران خان کی جو آئین شکنی کا سلسلہ شروع ہوا وہ تاحال جاری ہے. عمران خان چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح وہ دوبارہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جائیں اسکے لئے جو بھی کرنا پڑے وہ تیار ہیں، آئین شکنی ، مزید آئین شکنی کر رہے ہیں، وفاق اور صوبوں میں تصادم چاہتے ہیں، فواد چودھری بھی اسی طرح کی ایک ٹویٹ کر چکے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ ہ اپنی صوبائی حکومتوں پر واضع کر دوں لوگوں نے ووٹ صرف وزیر بننے کیلئے نہیں دئیے عمران خان کی گرفتاری کی کوشش ہو،اپنے ٹویٹ پیغام میں فواد چوہدری کہتے ہیں کہ 25 مئی کے واقعات ہوں یا شہباز گل اور سیاسی کارکنان کی گرفتاری اور ٹارچر آپ نے ورکروں کو مایوس کیا ہے اسلام آباد کی 25 کلومیٹر پر حکومت کرنے والے بدمعاش بنے بیٹھے ہیں

    فواد چوہدری کے اس طرز عمل سے یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ فواد چوہدری اپنی صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت سے ٹکرانے کی کوشش کررہے ہیں ،جس سے یقینی طورپروفاق اور صوبوں کے درمیاں معاملات میں کشیدگی آئے گی ، فواد چودھری سمیت کئی دیگر رہنماؤں کی بھی خواہش ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتی غیر آئینی کام کرتے ہوئے وفاق سے ٹکرائیں لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وفاق سے ٹکرانا آسان نہیں،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا بھی یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ سول نافرمانی کی باتیں کر رہے ہیں، اداروں کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہے ہیں، 2018 میں حکومت میں آنے کے بعد بھی عمران خان وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی بطور اپوزیشن لیڈر ہی نظر آئے، جب سے حکومت گئی تب سے کرسی کے لئے منتیں کر رہے ہیں،کبھی امریکہ کی غلامی سے نکلنا چاہتے ہیں تو پھر خود ہی امریکہ سے مدد مانگ لیتے ہیں

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • عمران خان کا ذاتی مقاصد کیلئے صوبائی پولیس کا غیر قانونی استعمال،افسوسناک تصادم کا خدشہ

    عمران خان کا ذاتی مقاصد کیلئے صوبائی پولیس کا غیر قانونی استعمال،افسوسناک تصادم کا خدشہ

    عمران خان کا ذاتی مقاصد کیلئے صوبائی پولیس کا غیر قانونی استعمال،افسوسناک تصادم کا خدشہ

    عمران خان ذاتی مقاصد کے لیے صوبائی پولیس فورسز کا غیر قانونی استعمال کرنے لگے ہیں

    پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی و صوبائی حکومتوں کی فورسز کے مابین افسوسناک تصادم کا خدشہ ہے اور اسکے ذمہ دار عمران خان ہوں گے، عمران خان بنی گالہ میں مقیم ہیں، اور انہوں نے بنی گالہ میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی پولیس بلا رکھی ہے، بنی گالہ اسلام آباد کی حدود میں آتا ہے، اور کسی بھی دوسرے صوبے سے پولیس یا سیکورٹی بلانے کے لئے مقامی پولیس سے اجازت لینی پڑتی ہے لیکن عمران خان نے ایسا نہیں کیا بلکہ خود ہی اپنی مرضی سے دوسرے صوبوں سے پولیس بلوا لی

    پنجاب،خیبر پختونخوا پولیس کی بنی گالہ میں بغیر اسلام آباد انتظامیہ اجازت تعیناتی کی گئی ہے جس پر آئی جی اسلام آباد کے شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں، بنی گالہ کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کے لیے صوبائی پولیس فورس بغیر اجازت تعینات نہیں ہو سکتی ،آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ صوبائی فورسز کی ایسی تعیناتی اور آپریشن کی اجازت نہ دی جائے

    خیبر پختونخواہ ہاؤس سے پہلے ہی 12 پولیس اہلکار بنی گالہ منتقل کیے گئے ہیں کیا پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں وفاق پر حملہ آور ہونے کے درپے ہیں۔ سنگین خدشات پیدا ہو گئے صوبائی پولیس کا وفاقی حدود میں تجاوز ممکنہ طور پر ن لیگی قیادت کی پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کا ردعمل روکنے کی کوشش بھی ہو سکتا یہ صورتحال وفاق اور پنجاب فورسز کے افسوسناک تصادم کی طرف جا سکتی ہے

    قبل ازیں اسلام آباد پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں کسی بھی دوسرے صوبے کی پولیس قانونی اجازت کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے تاحال کسی بھی دوسرے صوبے سے پولیس نہیں مانگی۔کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس قانونی اور عملی اقدام کرے گی۔کسی بھی غیر قانونی اقدام یا پیش قدمی کی صورت میں ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے گا، قانونی طور پر معاونت کےلیے طلب کی گئی نفری بھی قانون کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے احکامات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔

    بنی گالہ جانے والے راستوں پر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے وزرات داخلہ نے عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر دوسرے صوبوں کی پولیس کی تعیناتی پر اعتراض کیا ہے گلگت اور کے پی پولیس سربراہوں کو اپنے صوبوں کی پولیس ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے، وزرات داخلہ کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں کسی بھی دوسرے صوبے کی پولیس قانونی اجازت کے بغیر کام نہیں کرسکتی. اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے تاحال کسی بھی دوسرے صوبے سے پولیس نہیں مانگی کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس قانونی اور عملی اقدام کرے گی

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • مریم نواز،رانا ثنا،مولانا فضل الرحمان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار

    مریم نواز،رانا ثنا،مولانا فضل الرحمان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار

    مریم نواز، رانا ثنا اللہ، مولانا فضل الرحمان اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ فورم نہ ہونے کا رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھا ہے ،عدالت نے درخوست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کی پٹیشن ہے کیا ؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ان رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مختلف بیانات دئیے گئے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس ہائی کورٹ سے متعلق کوئی ذکر ہے ؟عدالت نے حکم دیا کہ آپ سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ جائیں جن سے متعلق آپ کہہ رہے ہیں درخواست گزار لاہور کا ہے اس کو یہی جگہ کیوں پسند ہے؟ پٹشنر کو کہیں لاہور میں بھی عدالتیں ہیں ، جس وقت یہ بیانات دئیے گئے اس وقت کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی ،

    واضح رہے کہ رہنماء مسلم لیگ (نواز) مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ، جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے.مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے.مقامی وکیل علی اعجاز بٹر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں عطا اللہ تارڑ اور مریم اورنگ زیب کو بھی توہین عدالت درخواست میں فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ: سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مریم نواز اور دیگر کو پاکستان کے اداروں اور عدلیہ کا احترام نہیں لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ حکومتی معاملات بھی چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق: فریقین نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بارے میں بار بار توہین آمیز زبان استعمال کی اور ان بیانات کے ذریعے نظام انصاف کی ساکھ پر سوال اٹھا کرعوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

    درخواست کے ساتھ مریم نواز شریف کی 25 جولائی کی پریس کانفرنس کا ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروایا گیا ہے. جبکہ استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو عدلیہ کے خلاف پریس کانفرنسز کا ٹرانسکرپٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جائے جبکہ مریم نواز شریف اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    ھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

  • بجلی بل: فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی کیلئے چھٹی کے دن بھی بنک کھلے رہیں گے. مریم اورنگزیب

    بجلی بل: فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی کیلئے چھٹی کے دن بھی بنک کھلے رہیں گے. مریم اورنگزیب

    بجلی بلوں میں وصول کردہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی اور درستگی کیلئے چھٹی کے دن بھی بنک کھلے رہیں گے.

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 24 گھنٹے میں بجلی کی قیمت میں ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
    https://twitter.com/Marriyum_A/status/1563019673415086080
    وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے ٹوئیٹر بیان میں کہا کہ: نگرانی کے لئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ 200 یونٹ تک بجلی کے بلوں میں وصول کردہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی اور بلوں کی درستگی کے لئے چھٹی کے دن ڈسکوز اور بینک کھلے رہیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت بجلی صارفین کے مسائل حل کرنے کے لئے اعلی سطح اجلاس ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے بجلی کے صارفین کیلئے اعلان کردہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایک کروڑ 66 لاکھ صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دئیے گئے ریلیف کے تحت بلز کی تصحیح جاری ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ریلیف کے اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے اور صارفین کو بجلی کے 200 یونٹ بلز پر24 گھنٹوں میں ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے بلز کی تصحیح کیلئے ڈسکوز کا اسٹاف 24 گھنٹےکام کرے۔ بلز کی تصحیح کیلئے تمام اسٹاف کی چھٹیاں ختم کرکے اس کام کو فوری نمٹا کر رپورٹ پیش کی جائے۔

    وزیراعظم نے بلز جمع کروانے کیلئے بینکس کو آئندہ دنوں میں کھلا رہنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیرِ اعظم نے بجلی کے صارفین کی شکایات دور کرنے کیلئے اعلی سطح کمیٹی قائم کر دی۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم کی ہدایت پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بلوں سے نکالنےکا کام شروع کردیاگیا تھا.

    باغی ٹی وی اسلام آباد کی ایک رپورٹ کے مطابق: لیسکو حکام نے بتایا: عملہ بجلی کے بلوں میں سےفیول ایڈجسٹمنٹ پرائس نکال رہا ہے جس کی وجہ سے لیسکو کے دفاتر میں صارفین کا رش لگ گیا۔ لیسکو حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے کوئی تحریری نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، فی الحال مینول طریقے سے اندازےکے مطابق بل درست کیے جارہے ہیں، دو روز تک فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور ٹیکسز کا معاملہ طے ہوجائے گا۔

    لیسکو حکام کے مطابق: بجلی بلوں کے ایشو کے حل تک صارفین کےکنکشن کاٹنے سے روک دیا گیا ہے، اب صارفین کو تصحیح شدہ نئے بل جاری کیےجائیں گے۔ لیسکو حکام نے کہا کہ صارفین کو 3 روز کا ریلیف دے رہے ہیں، جو صارف بل جمع کراچکے ان کے اگلے بل میں رقم ایڈجسٹ کی جائے گی، وزارت پاور کمیٹی کل تک نوٹیفکیشن جاری کر دےگی۔
    یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں بجلی کے بلوں سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) ختم کرنے کا اعلان کیا تھا.

    کیا آپ جانتے ہیں کہ بجلی کے بلوں پر لگنے والی ’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ کیا ہے؟

    برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق: انہوں نے اس حوالے سے چند ماہرین سے گفتگو کرنے کے علاوہ آئیسکو کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ اعلامیے سے بھی مدد لی ہے۔

    عارف حبیب لمیٹڈ میں ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے بتایا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو سمجھنے کے لیے ایکچوئل فیول کاسٹ ( ایک ماہ میں ایندھن پر آنے والی لاگت) اور ریفرنس فیول کاسٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر مالی سال کے آغاز میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ایک ریفرنس فیول کاسٹ دیتا ہے، یعنی ایک ایسا حوالہ جس سے ہر ماہ ایندھن پر آنے والی کل لاگت کا موازنہ کیا جا سکے۔

    ایک مہینے میں بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کُل لاگت (باسکٹ فیول کاسٹ) دراصل ملک میں توانائی کے مختلف ذرائع میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیسے کوئلہ، ایل این جی، فرنس آئل) پر آنے والی لاگت کے اعتبار سے نکالی جاتی ہے۔ اور یوں ہر ماہ کے اختتام پر اس ماہ کی مجموعی فیول کاسٹ کا موازنہ ریفرنس فیول کاسٹ سے کیا جاتا ہے اور اسی حساب سے یہ ’ایڈجسٹمنٹ‘ دو ماہ کے بعد بجلی کے بلوں میں لگ کر آتی ہے۔

    اگر اُس ماہ مجموعی فیول کاسٹ، ریفرنس کاسٹ سے زیادہ ہو تو آپ کے بل میں ایف پی اے کی مد میں اضافہ ہو گا جبکہ اگر اس ماہ کی مجموعی فیول کاسٹ ریفرنس کاسٹ سے کم ہو تو ایف پی اے کی مد میں کمی آتی ہے جسے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کہتے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلوں سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (ایف سی اے) ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کو بجلی کے بلوں کی مد میں اضافی فیول ایڈ جسٹمنٹ چارجز نہیں دینا پڑیں گے، اس ریلیف کی تفصیلات کل سامنے لائی جائیں گی۔
    وزیراعظم نے کہا کہ ٹیوب ویل والے زرعی صارفین کو بھی فیول ایڈجسٹمنٹ سےاستثنیٰ ہوگا،

  • عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین، امریکا اور یورپی یونین کے حکام، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت کے اداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    پاکستان دیئے گئے اہداف کو کامیابی کے ساتھ مکمل کررہا ہے:ایف اے ٹی ایف

     

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مکانات، املاک کے علاوہ فصلوں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں، پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

     

    پاکستان کو بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں. وزیر مملکت خزانہ

     

     

    وزیراعظم نے کہا کہ 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، خوراک، ادویات، خیموں، عارضی پناہ گاہوں کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں، مرکزی و صوبائی محکموں کے اشتراک عمل سے کام کر رہی ہے، فوری طور پر 5 ارب روپے جاری کئے گئے، ہر جاں بحق کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی جاری ہے، 25 ہزار روپے کی سیلاب متاثرین کو فوری نقد ادائیگی کی جارہی ہے جس پر 80 ارب خرچ ہوں گے،

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کر سکتیں، عالمی اداروں، تنظیموں، ممالک اور مالیاتی اداروں کا ہنگامی تعاون درکار ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے بڑے حصے کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے، پہلے دن سے ذاتی طور پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 قائم کیا ہے تاکہ متاثرین کی امداد اور بحالی کی کوششوں میں مزید تیزی آئے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں کی مدد سے متاثرین کی مدد میں بڑی مدد ملے گی، فوج، سرکاری ادارے، شہری خدمات کے محکمے، ڈاکٹرز، نرسز اور رضا کار مشکل حالات میں بڑے جذبے سے کام کر رہے ہیں، متاثرین کی مدد کرنے والے تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سیلاب کے نتیجہ میں عوام کو پیش آنے والے مشکل حالات پر دل نہایت غمگین ہے، جلد سے جلد ہر متاثرہ پاکستانی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشل پارٹنرز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی دستیابی سے ہماری مدد کریں۔ طبی عملے سمیت درپیش حالات سے نمٹنے کے لئے ضروری اشیاء کی فراہمی درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو متاثرہ علاقوں کے دورے کی دعوت بھی دی،حکومت پاکستان تباہ حال علاقوں میں انٹرنیشنل پارٹنرز کے دورے کے انتظامات کرے گی۔

  • سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    راولپنڈی :موسمی تبدیلیوں کے براہ راست اثر کے طور پر اس مون سون کے دورا ن پاکستان کو غیر معمولی بارشوں،GLoFاور Cloud Burstکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے متعدداضلاع میں سیلابی صورتحال اور بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔ ایسے میں اپنی قومی ذمہ داری کے تحت، پاکستان آرمی نے نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں ایک بھرپور ریسکیو اور ریلیف مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کو منظم کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کے ماتحت ریلیف اور ریسکیو آرگنائزیشن قائم کر دی گئی ہے۔ اب تک40,000لوگوں کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ137سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    مزید برآں، 200کے قریب عارضی طبی مراکز میں 23,000لوگوں کو ادویات اور طبی مدد فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح آرمی اپنے موجود اسٹاک میں سے3700سے زائد ٹینٹ اور ضرورت کی دیگر اشیاء بھی متاثرین میں تقسیم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف کے خصوصی حکم پر آرمی اپنے3دن سے زائد راشن(تقریباََ1500ٹن) کو بھی سیلاب سے متاثرہ علاقے میں عام لوگوں میں بانٹ چکی ہے۔ اسی جذبے کے تحت آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی نتخواہ متاثرین کی مدد کے لیے دی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پر مالی عطیات دے رہے ہیں۔

    لیکن اس سب امداد کے باوجود، سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر زیادہ ہیں کہ مزید ریلیف کی چیزوں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی جلد از جلد دادرسی کی جا سکے۔ ایسے میں ہم سب کا یہ قومی فریضہ ہے کہ ضرورت کے اس لمحے میں اپنے متاثرین بہن بھائیوں اور بچوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس سلسلے میں کئی مخیر حضرات نے آرمی سے اس مد میں رابطہ بھی کیا ہے۔ اس اہم کاوش کی اہمیت کے مدِ نظر پاکستان آرمی وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت تمام بڑے شہروں میں عوام کی طرف سے عطیہ کیے جانے والے سامان کی کولیکشن کے لیے عطیہ مراکز قائم کرے گی۔ جہاں ضروری اشیاء جیسا کہ:۔ ٹینٹ، شلٹر، شمسی لائٹس، بستر/گدا، موسمی کمبل /چادر، پانی ذخیرہ/صاف کرنے کی کٹ/ٹینک، ٹارچ/لائیٹس، بارش والے جوتے اور ترپال وغیرہ جمع کیے جائیں گے۔
    راشن(آٹا، گھی، چاول، دال، خشک دودھ، چینی، پتی) پینے کا صاف پانی بھی وصول کیا جائے گا۔

    فرسٹ ایڈ کٹ، ضروری ادویات جیسے کہ ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریاں، ڈی ہائڈیریشن، ڈینگی اور ملیریا کی ادویات۔مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ اس انسانی ہمدردی اور قومی المیہ کے موقع پر بڑ ھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں۔ ان تمام اشیاء کی جلداز جلد سیلاب زدہ علاقوں میں منتقلی او ر متاثرین کو فراہمی پاکستان آرمی یقینی بنائے گی۔ علاوہ ازیں ہم وطنوں سے یہ بھی درخواست ہے کہ غیر ضروری اشیاء جیسے کپڑے، برتن ار کھانے کی کھلی اور خراب ہونے والی اشیاء وغیرہ ان مراکز پر جمع نہ کروائیں تاکہ فراہمی مدد کو متاثرین کی ضرورت کے مطابق مرکوز رکھا جا سکے۔ مزید مالی استطاعت والے پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ حکومت پاکستان کے قائم کردہ اکاؤنٹ میں دل کھول کر عطیات دیں۔

    اس دکھ اور تکلیف کے مرحلے میں پاکستان آرمی، قوم کے شانہ بشانہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کر نے کے لیے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف ریسکیو اور ریلیف پر توجہ دی جا رہی ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خصوصی درخواست پر ایک اچھی Rehabمہم کی بنیادی ضرورت کے طور پر آرمی تمام نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں مشترکہ سروے کرنے میں سول انتظامیہ کو بھرپور مدد فراہم کر رہی ہے۔ جس کا آغاز صوبہ بلوچستان سے کر دیا گیا ہے۔