Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • امریکا نے پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کی واچ لسٹ سے خارج کردیا

    امریکا نے پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کی واچ لسٹ سے خارج کردیا

    امریکا نے پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کی واچ لسٹ سے خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ٹریفکنگ ان پرسن کی سالانہ رپورٹ 2022 جاری کردی ہے جس میں پاکستان کو درجہ ٹو کی واچ لسٹ سے نکال دیا ہے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کا اسٹیٹس بہتر کردیا امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ٹریفکنگ ان پرسن کی سالانہ رپورٹ 2022 میں پاکستان کی درجہ بندی میں نظر ثانی کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کو انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کا ریکارڈ بہتر نہ ہونے پر 2018 میں واچ لسٹ میں رکھا گیا تھا نامناسب اقدامات کے باعث پاکستان کو مسلسل 2 سال تک درجہ دوم کی واچ لسٹ میں رکھا گیا –

    رپورٹ کے مطابق امریکا نے سال 2020 کی اپنی اسمگلنگ ان پرسنز رپورٹ میں پاکستان کا درجہ کم کرتے ہوئے اسے ٹیئر 2 سے ٹائیر 2 واچ لسٹ میں شامل کردیا تھا جبکہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان ’اہم اقدامات‘ کر رہا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ہراسانی کے ملزم ڈی جی نیب کے خلاف کارروائی سے روک دیا

    ٹی آئی پی رپورٹ کوٹئیر ایک، ٹیئر 2، ٹائیر 2 واچ لسٹ اورٹائیر 3 میں تقسیم کیاگیا ہےٹائیر2 واچ لسٹ والےممالک وہ ہیں جن کی حکومتیں ٹریفکنگ متاثرین سے تحفظ کے ایکٹ (ٹی وی پی اے) کےکم سے کم معیارات پر پورا اترتی ہیں تاہم خود کو ان معیارات کی تعمیل میں لانے کے لیے اہم کوششیں کر رہی ہیں مگر اس کے باوجود اسمگلنگ کے متاثرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے

    دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے جاںبحق 26 افراد کی نماز جنازہ ادا،27افراد کی تلاش…

  • پرویزالٰہی وزیراعلیٰ نہیں بنیں‌گے؟نیب ترامیم اورفارن فنڈنگ کیس میں بڑی ہلچل

    پرویزالٰہی وزیراعلیٰ نہیں بنیں‌گے؟نیب ترامیم اورفارن فنڈنگ کیس میں بڑی ہلچل

    لاہور:اس وقت پاکستان کی سیاسی صورت حال بہت ہی عجیب ہوچکی ہے، جہاں ایک طرف عمران خان ضمنی الکیشن جیت چکے ہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ میں نیب کےحوالے سے ایک کیس زیربحث ہے، اس میں‌ سابق وزیراعظم عمران خان کا موقف ٹھیک ہی مضبوط بھی ہے،

    ان قانونی نقاط کوزیربحث لاتے ہوئے سینئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ قانون جب بھی بنتا ہے وہ آنے والے وقتوں کے لیے بنتا ہے ، ماضی کے لیے نہیں ، تو عمران خان کے دور میں ہونے والی قانون سازی کواب ہونے والی قانون سازی متاثر نہیں کرسکتی اوریہی سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے ، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم اتحاد نے نیب ترامیم میں 1985 سے لیکرابتک اپنی مرضی سے ترامیم کرلی ہیں جو کہ قابل قبول نہیں ہوں گی

     

     

    سنیئرصحافی مبشرلقمان نے ایک اور نقطےکو واضح کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی ضمنی الیکشن جیت چکی ہیں اس کے لیے مشکلات ابھی باقی ہیں ،حمزہ شہباز استعفیٰ نہیں دے رہے تواس کا صاف مطلب ہے کہ وہ مقابلہ کریں‌ گے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسی خبریں گردش کررہی ہیں‌ کہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ اراکین ووٹ ہی چوہدری پرویز الٰہی کو نہ دیں‌ یا پھر وہ ووٹنگ کے لیے آئیں ہی ناں ، ان کا کہنا تھا کہ بہرکیف صورت حال بہت پچیدہ نظرآتی ہے ، کچھ بھی ہوسکتا ہے

    ان کا کنا تھا کہ اگرپانچ چھ ووٹ آگے پیچھے ہوجاتے ہیں تو چوہدری پرویز الٰہی کے لیے خطرےکی گھنٹی بج سکتی ہے ، ان کا کہنا تھاکہ یہ مقابلہ حمزہ شہباز اور چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان ہے اور اس میں نیا امیدوار نہیں آسکتا ، الیکشن کے دن جواپنی اکثریت ثابت کرلے گا وہ وزیراعلیٰ‌ پنجاب بن جائے گا، کا یہ بھی کہنا تھا کہ سلمان نعیم جوزین قریشی کے ہاتھوں شکست خوردہ ہوئے ان کا یہ دعویٰ ہے کہ 20 کے قریب لوگ ووٹ نہیں دیں‌گے ،

    مبشرلقمان نے پاکستان کی معاشی صورت حال پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور کہا کہ ڈالربڑی تیزی سے اوپرجارہا ہے اورروپے نیچے گررہا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگرکوئی یہ کہے کہ ڈالرکی آڑان کے ذمہ دارعمران خان ہیں تو یہ غلط ہے ، ڈالرکا اوپرجانا یہ ملکی معاشی ترقی کے اشارے ظاہر کرتا ہے ، ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے جس کی وجہ سے لوگ ڈالر ملک سے باہر لے جارہے ہیں اوراسٹاک مارکیٹ نیچے جارہی ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت سیاسی عدم استحکام ہے ایک پارٹی دوسری کوشکست دینے کی کوشش کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بھی پاکستان کے حالات پر سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان میں وفاق میں حکومت اور ہے اور صوبوں میں اور حکومت ہے اس لیے وہ بھی اپنے فیصلوں پر غور کریں گے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حالات میں عمران خان نے میں ناں مانوں کی رٹ لگائی ہوئی ہے ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار ہے ، اگریہ فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا تو پھراور بھی بے چینی پھیلے گی پی ٹی آئی اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی اور پھرملک میں سول نافرمانی جیسا ماحول بن سکتا ہے ،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ فیچ ایک معاشی مانیٹرنگ کرنے والی عالمی تنظیم ہے اس نے پاکستان کی معیشت کومنفی دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کمزور ہورہی ہے ، ان حالات میں اگرملک میں یہ سیاسی عدم استحکام ایسے ہی رہا تو پھرملک اور پریشانی کا شکار ہوگا

  • پی ٹی آئی کور کمیٹی کی وزیراعلیٰ کیلئے پرویزالٰہی کے نام کی توثیق،  14 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ

    پی ٹی آئی کور کمیٹی کی وزیراعلیٰ کیلئے پرویزالٰہی کے نام کی توثیق، 14 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید، سبطین خان، علی عباس اور دیگر کے ہمراہ پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ پہلے ہی اپنا اصل چہرہ دکھا چکی ہے، ہم حیران تھے کہ حمزہ شہباز کیسے خاموش بیٹھا ہے، حمزہ شہباز اس قابل ہی نہیں رہا کہ سیاست کر سکے، ن لیگ نے رانا ثناء اللہ جیسے غلط کام کرنے والے بندے کو وزیر داخلہ بنایا جو خود اب ان کے قابو میں بھی نہیں آ رہا۔

    ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی سے4 سیٹیں چھینی ہیں:مریم نواز

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شریفوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، مریم صفدر نے الیکشن میں ہار تسلیم کر کے بڑا اچھا بیان دیا ہے، ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، مفتاح کا مفتا لگا ہوا ہے، ابھی بھی آئی ایم ایف سے انہیں کچھ نہیں ملا، رانا ثناء اللہ اداروں کو ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم 5 بندے یہاں وہاں کر دیں گے جو عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، اس حوالے سے ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ آئی بی کو بھی پولیس کی طرح استعمال کر کے ہمارے ارکان اسمبلی کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    سوال پر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ 22 جولائی کو سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ سب سے پہلے وزیراعلیٰ کا الیکشن کروایا جائے اس کے بعد آئی جی اور چیف سیکرٹری کو صرف ہٹانا ہی نہیں ان کو سزا بھی دینی ہے۔

     

    پرویز الٰہی کی وفاقی وزرا اور حمزہ شہباز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

     

    تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے ارکان نے وزیراعلیٰ بنانے کیلئے چودھری پرویزالٰہی کے نام کی توثیق کر دی ہے، کل تک ہمارے نو منتخب ارکان کا حلف ہو جائے گا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ہمیں 14 ووٹوں کی برتری حاصل ہے، ن لیگ شکست تسلیم کرتے ہوئے ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کرے، ن لیگ، بیورو کریٹس اور پولیس کو وارننگ دیتا ہوں کہ کوئی غیر قانونی کام نہ کریں۔

    معروف قانون دان عامر سعید راں نے کہا کہ ادارے رانا ثناء اللہ کے بیان کا نوٹس لیں، انٹیلی جنس بیورو نے بیرون ملک سے آنے والے چودھری پرویزالٰہی کے ذاتی دوست کو اغوا کر کے ان کے خلاف بیان لینے کی کوشش کی اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیرصدارت شروع ہوا۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محمد بشارت راجہ نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر حکومتی اداروں کی مداخلت کے خلاف قرارداد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ ریاستی مشینری کا اپوزیشن کے خلاف بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، حکومتی دہشت گردی عروج پر ہے، ہمارے ممبران پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور دھمکایا جا رہا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ 22 جولائی کو وزیراعلیٰ کا انتخاب سپریم کورٹ کے حکم پر کرایا جا رہا ہے، اس عمل میں مداخلت کرنا اور روکنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے.بعد ازاں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

    قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے سابق وزیر گلگت بلتستان بشیر احمد خان نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور ضمنی الیکشن میں بھرپور کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور انہیں گلدستہ بھی پیش کیا۔

  • حکومت اپنی مدت پوری کرےگی، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کیا جائے،پی ڈی ایم

    حکومت اپنی مدت پوری کرےگی، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کیا جائے،پی ڈی ایم

    وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پنجاب کے انتخابات کسی کی مقبولیت اور غیر مقبولیت کا تعین نہیں کر رہے، مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس ہوا،یہ صرف20 نشستوں پر الیکشن تھا اس میں ہمارے ووٹ بڑھے ہیں،جھوٹ، فتنوں اور سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، حکومت اپنی مدت پوری کرےگی.

    ماڈل ٹاون لاہور میں اتحادیوں کے اجلاس کے بعد تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن میں ن لیگ نے 2018سےزیادہ ووٹ لیے،عمران خان سازش کے ذریعے اقتدار تک پہنچا،عمران خان کی وجہ سے پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوا،ہماری قیادت نے ملک کی خاطر قربانیاں دیں ،جیلیں کاٹیں،شام تک دھاندلی کا شور مچاتے رہے،رزلٹ آنا شروع ہوگیا تو خاموش ہوگئے،ان کو مرضی کے چیف جسٹس چاہئے،نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے نہیں ہونے چاہییں،کسی کی ذاتی خواہش پر فیصلے نہیں کریں گے،ضمنی الیکشن میں ہم نے آپ سے پانچ نشستیں چھینی ہیں،کس بات کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں، یہ طوفان جو اٹھایا گیا ہے یہ تھمے گا اور اس کے آگے بند بھی باندھا جائے گا، اس جھوٹ اور فتنے سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہمارے ممبر توڑے جائیں تو وہ حاجی بن جاتے ہیں، اگر عمران خان کے ساتھی انہیں ڈنکے کی چوٹ پر چھوڑ جائیں تو وہ برے بن جاتے ہیں،یہ وہ شخص ہے جس پر شیاطین اترتے ہیں،یہ گمراہ آدمی ہے اور اس نے گمراہوں کا ایک گروہ تیار کیا ہے جو ہر جگہ موجود ہے، بعض لوگ ابھی تک اپنی اصلاح کے لئے تیار نہیں ہیں، ایک جھوٹا جو سازش کر کے بچہ جمہورہ بن کر اقتدار میں آیا تھا وہ ووٹ کو عزت دو کی بات کرتا ہے، ہماری جماعتوں نے اس ملک میں آئین کی سربلندی کے لئے جیلیں کاٹیں، جلا وطنی برداشت کی، جانی و مالی قربانیاں دی ہیں،عمران خان پرویز مشرف کے گھٹنوں پر بوٹ پالش کرنے کے لئے جھکا تھا ،اس شخص کے چار سال کے کرتوتوں کی وجہ سے پاکستان معاشی دیوالیہ پن کی دہلیز پر کھڑا ہے،ہمیں پیچھے ہٹنا اور اپنی سیاست بچانا خوب آتا تھا لیکن ہم نے پاکستان کے وسیع مفاد میں کانٹوں کا ہار اپنے گلے میں ڈالا، ہمیں معلوم تھا کہ بارودی سرنگیں ڈالی ہوئی ہیں لیکن ہم اپنے ملک کو چھوڑ کر نہیں بھاگے.

    وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں صحافیوں کو زنجیریں پہنائی گئیں، سیاسی کارکنان کو اختلاف رائے پر جیلوں میں ڈالا گیا،نیب کے پرانے قانون کی حمایت کرنے والا آئین اور جمہوریت کا دوست نہیں ہو سکتا، لوگوں کو رسوا کیا اور بدنام کیا، پونے چار سال یہ ثبوت پیش نہیں کر سکے، پچھلے چار سال اخبار کی خبروں پر نیب کارروائی کرتا تھا، اب کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ ،آج کے اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کرتا؟ برسوں سے زیر التواء فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہونا چاہئے، 20 میں سے 15 سیٹیں پی ٹی آئی جیتی تو کہا گیا کہ الیکشن کمشنر جانبدار ہے، وہ استعفیٰ دے، پی ٹی آئی کو مرضی کا چیف جسٹس، مرضی کا چیف آف آرمی اسٹاف، مرضی کا وزیراعظم، مرضی کا میڈیا چاہئے،یہ سب دے سکتے ہیں تو نام نہاد امیر المومنین کے سینے میں ٹھنڈ پڑے گی.

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ 63 اے کی تشریح پر عدالتی فیصلے پر ہمارے تحفظات ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ آئین کی روح سے متصادم ہے،سپریم کورٹ بار کی نظرثانی کی پٹیشن سپریم کورٹ میں کئی دنوں سے پڑی ہوئی ہے، ہماری اپیل ہے کہ اس نظرثانی پٹیشن کو فل کورٹ سنے اور اس پر جلد از جلد فیصلہ دیا جائے، آئین میں اختیارات کی تقسیم واضح ہے، قانون سازی پارلیمان کا حق ہے، اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے، فتنہ عمرانیہ چاہتا ہے کہ عدالتوں کے کندھوں پر چڑھ کر آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کروائے، عمران خان اداروں کو متنازعہ بنانے کی سازش کر رہا ہے،عمران خان کے ساتھی کہتے ہیں کہ ان کے منہ کو خون لگا ہوا ہے، جب فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق آتا ہے تو یہ ٹارگٹ کر دیتے ہیں، عمران کے شیطانی عمل کا ٹکا کر جواب دیا جائے گا، جسے پانچ سیٹیں ملی ہیں وہ الیکشن کمیشن کی تحسین کر رہا ہے اور جسے 15 ملی ہیں وہ رو رہا ہے،قانون سازی پارلیمان کا حق ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،قانون سازی پارلیما ن کا حق ہے ہم سمجھتے ہیں اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے.

    جے یو آئی رہنما اکرم درانی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے،سپریم کورٹ عمران خان کے حق میں بات کرے تو ٹھیک،عمران خان نے ملک کے ٹکڑے ہونے کی بات کی ،عمران خان اداروں کی تذلیل کررہے ہیں،پاکستان کی معیشت کو انہوں نے تباہ وبرباد کیا،عمران خان ایک ایجنڈے پر آئے ہیں، عمران خان اس ایجنڈے کو ملک کے کونے کونے میں پھیلا رہے ہیں،بڑوں کا ادب ہمارے کلچر کا حصہ تھا، اسے ختم کر دیا گیا.

  • حکومتی اتحاد کا اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے پر اتفاق،باغی کا پہلےخبر دینے کا اعزاز

    حکومتی اتحاد کا اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے پر اتفاق،باغی کا پہلےخبر دینے کا اعزاز

    لاہورمیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اتحادی جماعتوں نے اسمبلیوں کی مقررہ مدت پوری کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے، اجلاس میں یہ بھی فیسلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں انتخابات عمران خان کے دباؤ پر نہیں کرائے جائیں گے. ماڈل ٹاون میں اہم اجلاس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی.

    حکومتی اتحادی رہنماؤں کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اورسابق صدر آصف علی زرداری، مولانا شاہ اویس نورانی ، وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی، وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق،ایاز صادق، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، شاہ زین بگٹی، میاں افتخار حسین، مشاہد حسین سید، اکرم درانی، طارق بشیر چیمہ، احد چیمہ، ایاز صادق، سالک حسین، محسن داوڑ، اسلم بھوتانی، فہد حسین سمیت دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ڈی ایم قائدین اور حکومتی اتحادی رہنماؤں کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

     

     

    حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم قائدین کی آج لاہور میں اہم بیٹھک
    مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا قبل ازوقت انتخابات نہ کرانےکا فیصلہ,زرائع

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق باغی ٹی وی نے پہلے ہی اپنی رپورٹ میں بتا دیا تھا کہ حکومتی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتیں قبل از وقت انتخابا ت کرانے کت حق میں نہیں ہیں ،تاہم ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ قبل از وقت انتخابات بہتر آپشن نہیں ہے،ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ کو بچانے کیلئے بھی تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گی۔

     

    خیال رہے کہ 17 جولائی کو پنجاب کی 20 نشستوں میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو 15 اور ن لیگ کو 4 نشستوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔شکست کی وجوہات جاننے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں
    اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

  • خراب معاشی صورتحال سے ظاہر ہوگیا شریف خاندان کو انتظامی امور چلانے کا تجربہ نہیں. عمران خان

    خراب معاشی صورتحال سے ظاہر ہوگیا شریف خاندان کو انتظامی امور چلانے کا تجربہ نہیں. عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت ڈالر178 روپے تھا جواب 224 روپے کا ہوگیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پربیان میں کہا کہ امریکی سازش سے لائی گئی تحریک عدم اعتماد کے وقت ڈالر 178 روپے کا تھا جو اب 224 روپے کا ہوگیا ہے اورآئی ایم ایف سے معاہدے کے باوجود روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔


    عمران خان نے مزید کہا کہ خراب معاشی صورتحال سے ظاہر ہوگیا کہ شریف خاندان کو معیشت یا انتظامی امور چلانے کا کوئی تجربہ نہیں۔ ان کی واحد مہارت چوری، منی لانڈرنگ اوراین آر او حاصل کرنے میں ہے۔ عوام حکومت تبدیل کرنے کی سازش اورپاکستان کو اس ابتر حال تک پہنچانے کے ذمہ داروں کا احتساب کرے گی۔

  • جب نیب قانون پاس ہورہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ

    جب نیب قانون پاس ہورہا تھا اس وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ سپریم کورٹ

    چیف جسٹس نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دیے کہ جب نیب قانون پاس ہورہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ ملک و آئین کی خاطر سوچیں ، پی ٹی آئی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرے۔ چاہتے ہیں نیب ترامیم کا معاملہ واپس پارلیمنٹ جائے۔

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلا لیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ قریشی صاحب جب پارلیمنٹ میں حساس معاملات پر قانون سازی ہوئی آپکی جماعت کیوں نہیں تھی؟کیا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو اپنا اپنا کام نہیں کرنا چاہیئے؟جب نیب قانون پاس ہورہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ملک و آئین کی خاطر سوچیں۔اتنی بڑی جماعت اسمبلی میں نہیں تھی پھر کہتے ہیں قانون خلاف قانون بن گئے۔پارلیمنٹ کے اجلاس میں پی ٹی آئی شرکت کرے۔پارلیمنٹ کے اندر معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔جمہوریت کی خاطر پارلیمنٹ کو کام کرتے رہنا چاہیے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت بہت سوچ سمجھ کر ہی کی جا سکتی ہے۔اگر پارلیمان میں بحث ہوتی تو عدالت کو کئی گھنٹے سماعت نہ کرنا پڑتی۔پاکستان میں پارلیمان سپریم ہے۔مناسب ہوتا ان سوالات پر پہلے پارلیمان میں بحث ہوتی۔پارلیمان میں ان ترامیم پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کوئی بدل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔ملکی معیشت کی حالت خراب ہے۔سب کو مل کر ملک کیلئے کام کرنا ہوگا۔آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر معاہدہ تو ہوگیا ہے لیکن اسے پبلک میں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔کرنسی روز بروز ڈگمگا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر قریشی صاحب آپ بھی آئیں دوسرے طرف سے بھی لوگ بلائیں گے۔کبھی کبھی مفاد عامہ اور ملک کی خاطر ذاتی ترجیحات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔کیا آپ کی جماعت نے کوئی ایسا لائحہ عمل بنایا ہے کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالا جا سکا۔آپ کے پاس لوگوں کا اعتماد ہے۔اس ملک ،قوم اور آئین کے بارے میں سوچیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےشاہ محمود قریشی سے مکالمے میں کہا کہ عوام نے بطور ممبر اسمبلی آپ پر جو اعتماد کیا تھا وہ پورا نہیں ہو رہا۔ جب آپکو پتا تھا اتنی حساس قانون سازی ہورہی تو پارلیمنٹ کیوں نہیں گئے۔شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ کئی گھنٹے تک پارلیمان کی کمیٹی میں نیب ترامیم پر بات ہوئی۔ہم پارلیمنٹ میں مختلف وجوہات کیوجہ سے نہیں تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔ صرف صدر نے قانون سازی کیخلاف مزاحمت کی۔ شاہ محمود قریشی نے عدالت کو بتایا کہ تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں قانون سازی پر مشاورت کی کوشش کی۔ہماری نظر میں نیب کی موجودہ ترامیم خلاف آئین ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا میرا بھی سوال ہے کیا درخواست گزار کا حق دعوی ہے؟درخواست گزار پارلیمنٹ سے واک آوٹ کر گئے۔درخواست گزار کے پاس عوام کا ایک ٹرسٹ ہے۔پارلیمنٹ میں اتنی سیریس ترامیم ہوئیں۔کیا اس صورتحال میں درخواست گزار کاحق دعوی بنتا ہے؟

    عدالت نے قرار دیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے یہ بات پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔آئندہ سماعت پر سیاسی جماعتیں بتائیں کہ پارلیمنٹ میں معاملات حل کیوں نہیں ہوسکتے۔چاہتے ہیں یہ معاملہ واپس پارلیمنٹ جائے۔

  • عمران خان کی سوچ ایڈولف ہٹلر والی ہے. وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

    عمران خان کی سوچ ایڈولف ہٹلر والی ہے. وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اونگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان ملک کو سری لنکا بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا مائنڈ سیٹ ایڈولف ہٹلر والا ہے جو ملک کے ہر ادارے کو تباہ کردے گا۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان ریاستی اداروں پر منظمُ طریقے سے حملہ آور ہورہے ہیں، انکا مائنڈ سیٹ ہٹلر والا ہے جو ملک کے ہر ادارے کو تباہ کردے گا۔

    انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے سے قبل عمران خان چئیرمین نیب کی طرح چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں عوام کو بھوکا کیا معیشت کو تباہ کیا داخلہ و خارجہ پالیسی کو خراب کیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے ریاستی طاقت استعمال کرکے سیاسی مخالفین پر جھوٹے کیسز بنائے، اداروں کو چاہئیے قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کریں۔ فارن فنڈنگ کیس 8 سالوں سے کیوں تاخیر کا شکار جلد فیصلہ سنایا جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے فواد چوہدرہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرا وہ چہرہ نہیں جو پانچ پانچ پارٹیوں کا ترجمان ہو، انہیں کوئی شرم ہے نہ حیا۔ یہ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ لوگ سچ سمجھنے لگ جائیں۔

  • فارن فنڈنگ کیس:وزیر اعظم کی الیکشن کمیشن کو جلد فیصلہ سنانے کی استدعا

    فارن فنڈنگ کیس:وزیر اعظم کی الیکشن کمیشن کو جلد فیصلہ سنانے کی استدعا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن کمیشن سے استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس کا مکمل فیصلہ جلد از جلد سنائے.

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئیٹر پر جاری بیان میں کہا: میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ تحریک انصاف کا غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس پر طویل التواء کا فیصلہ جلد سنائے۔

    ان کا مزید کہنا تھا: ریاستی اداروں پر بار بار بے شرمانہ حملوں کے باوجود عمران نیازی کو طویل عرصے سے مفت پاس کیوں دیا جا رہا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا: عمران نیازی کو دیے جانے والے استثنیٰ نے ملک و قوم کو نقصان پہنچایا ہے۔

    وزیر اعظم کے بیان پر تحریک انصاف کے مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ میں بھی الیکشن کمیشن سے استدعا کرتا کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہوسکے مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ پیش کرے.

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے فرخ حبیب نے کہا: الیکشن کمیشن ن لیگ اور پیپلز پارٹی ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ بھی ساتھ کرے.

  • حکومتی اتحادیوں  اور پی ڈی ایم قائدین کی آج لاہور میں اہم بیٹھک

    حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم قائدین کی آج لاہور میں اہم بیٹھک

    وزیراعظم شہباز شریف نے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اجلاس آج ماڈل ٹاون لاہور میں بلا لیا ہے ، اجلاس میں شرکت کیلئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کراچی سے لاہور پہنچ گئے .

    اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی کے لیے اتحادی جماعتوں کے رہنماوں سے مشاورت کی جائے گی ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کا اہم اجلاس آج دوپہر ہو گا ،وزیراعظم نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر دعوت دی ہے .

    96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین مجموعی ملکی صورتحال کا جائزہ لیں گے ،حکومت کی اتحادی جماعتوں اور پی ڈی ایم کے قائدین کے اجلاس میں اہم امور پر مشاورت ہوگی.

    قبل ازیں اغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی کی مرکزی قیادت کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات اور آئندہ کی حکمت عملی اور حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ بچانے کے لئے حکمت عملی پرمشاورت کی گئی.زرائع کے مطابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے قبل ازوقت انتخابات نہ کرانےکا فیصلہ کرلیا۔

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے بعد بلاول ہاؤس کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سی ای سی کے اجلاس میں سیاسی صورت حال پر بات ہوئی، پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرےگی، سی ای سی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہونےکا فیصلہ کیا ہے، قیادت آج لاہور میں اتحادیوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرےگی۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والے اجلاس میں انتخابی اصلاحات پر مشاورت ہوگی، پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے فیصلہ کیا ہے الیکشن اپنے وقت پر ہوں۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونگے اوروفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے.

    انہوں نےکہا کہ عمران خان مسٹر ایکس اور مسٹر وائی سے معافی مانگیں، پنجاب میں ضمنی الیکشن جیت کر بھی عمران ہارگیا۔ الیکشن میں عمران خان نے الیکشن کمیشن کو متنازع بنایا۔