Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک فوج سیلابی صورتحال میں متاثرین کی امداد کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم عمل

    پاک فوج سیلابی صورتحال میں متاثرین کی امداد کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم عمل

    پاک فوج کے دستے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں سول انتظامیہ کی مسلسل مدد کر رہے ہیں۔ فوج کے دستے بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ آرمی میڈیکل ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل ٹیمیں سیلاب زدگان کا علاج کر رہی ہیں۔ فوجی مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے راشن اور پکا ہوا کھانا بھی تقسیم کر رہے ہیں۔

    سندھ
    سیلاب متاثرین کی حفاظت کے لیے فوج کے دستے خیرپور سندھ کے ضلع صائم نالہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں پہنچ گئے۔
    خیرپور سندھ کے علاقے صائم نالہ میں شدید سیلاب سے دو سو سے زائد مکانات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
    پنو عاقل گیریژن کے فوجی دستوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور سیلاب سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور انہیں طبی امداد فراہم کی۔

    بلوچستان
    پاکستان آرمی اور ایف سی کے دستے بلوچستان میں کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور نوشکی میں سیلاب سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان آرمی، ایف سی، پی ڈی ایم اے اور سول انتظامیہ کی ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں جہاں انہیں پکا ہوا کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ نصیر آباد، دکی اور لسبیلہ کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کے فری میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں جن میں مفت علاج اور ادویات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔
    مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کو جلد از جلد بحال کرنے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ فری انٹر اور انٹرا ڈسٹرکٹ روابط کے ساتھ ساتھ ژوب ڈی آئی خان روڈ کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔
    پنجاب
    جنوبی پنجاب کے علاقوں میں وہاڑی، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں فوج کے دستے امدادی سرگرمیاں اور متاثرہ آبادی کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں: بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو و ریلیف آپریشن

    ہلال اردو کے مطابق: قدرتی آفات کے دوران قوم کی خدمت کرنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پاک فضائیہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔ آپریشن کے دوران سیلاب متاثرین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے راشن، خیمے، ادویات، پینے کا صاف پانی اور کمبل سمیت امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ قلعہ سیف اللہ میں پی اے ایف میڈیکل کیمپ میں، جس کی قیادت پی اے ایف ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کررہے ہیں، سیلاب متاثرین کو چوبیس گھنٹے طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔


    پاک فضائیہ کی کراچی کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں

    ہلال اردو کے مطابق: سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی خصوصی ہدایات پر کراچی میں واقع پی اے ایف بیسز کراچی کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ پی اے ایف کی ٹیمیں ان ضرورت مند خاندانوں کی مدد کو پہنچ رہی ہیں جن کے گھر اس قدرتی آفت میں ڈوب گئے ہیں۔ حالیہ طوفانی بارشوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کے ضرورت مند خاندانوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راشن پیک، جن میں بنیادی غذائی اشیا اور اجناس جیسے آٹا، چاول، چینی، تیل، دالیں وغیرہ شامل ہیں، تقسیم کیے گئے۔

  • توشہ خانہ نااہلی کیس، عمران خان کے وکیل کو تین ہفتے کا وقت نہ مل سکا

    توشہ خانہ نااہلی کیس، عمران خان کے وکیل کو تین ہفتے کا وقت نہ مل سکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کیلئے ریفرنس پر سماعت 29 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا اورحکومتی اتحاد کے وکیل خالد اسحاق الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر خان نے الیکشن کمیشن سے جواب کے لیے 3 ہفتے کا وقت کا مانگ لیا، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر گوہر خان سے استفسار کیا کہ آپکو 3 ہفتے کا وقت کیوں چاہیے؟ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان کے وکیل کو ایک ہفتے کا وقت دیدیا ،وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس توشہ خانہ ریفرنس نمٹانے کے لیے 3 ماہ کا وقت ہے، محسن شاہنواز رانجھا سمیت 5 حکومتی ایم این ایز نے آرٹیکل 63 کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا

    الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ آئندہ ضمنی انتخاب میں سرٹیفکیٹ جعلی دیا تو پھر سندھ میں بھی نامزدگی نہیں ہوسکتی،دو تہائی اکثریت والے وزیر اعظم بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نا اہل کیے گئے ،عمران خان سے بی آر ٹی کا پوچھیں انہوں نے تو توشہ خانہ سے ٹی سیٹ اور کراکری نہیں چھوڑی، عمران نیازی نے اپنے خلاف تمام تحقیقات ختم کروائیں اب احتساب کا وقت آگیا

    قبل ازیں رہنما مسلم لیگ ن محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن سے کچھ دستاویزات توشہ خانہ سے متعلق مانگی گئیں،محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کیبنٹ کے ذریعے دستاویز دینے سے روک دیا،عمران خان نے تحائف کی رپورٹ خفیہ رکھی، میاں گل نے عمران خان کو دیئے گئے تحفوں کی تفصیلات سامنے لانے کو کہا،عمران نیازی کے گوشواروں کی تفصیلات کیلئے ہم نے اسپیکر سے درخواست کی،الیکشن کمیشن سے عمران خان کا ہم نے 2018 اور 19 کاگوشوارہ لیا،جب رپورٹ نکلوائی تو معلوم ہوا کہ توشہ خانہ میں کتنا گھپلا ہوا ، 10 کروڑ سے زائد مالیت کی گھڑیاں 2کروڑ میں توشہ خانہ سے لی گئیں،کیبنٹ ڈویژن کو توشہ خانہ کی انفارمیشن چھپانے کیلئے استعمال کیا گیا،عمران خان نے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی،ہم ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لائیں گے،عمران خان تم نے پاکستانی قوم سے اتنا جھوٹ بولاہے ، کب تک خیر مناؤ گے،عمران خان تم نہ صادق ہونہ امین ہو،الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں توشہ خانہ تحائف کا کوئی ذکر نہیں،گوشواروں میں بہت سے تحائف ظاہر نہیں کئے گئے اور حلف نامہ دیا کے سب ظاہر ہے عمران خان جھوٹا ہونے کے علاوہ ٹیکس چور بھی ثابت ہو گئے،عمران خان نے ٹیکس چوری کی، جھوٹا حلف نامہ دیا ،اختیارات کا غلط استعمال کیا،

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    سابق وزیراعظم عمران خان کا ایک اور توشہ خانہ اسکینڈل گزشتہ دنوں سامنے آیا ہے۔ پہلے میڈیا میں رپورٹ ہوئی گھڑیوں کے علاوہ تین مزید گھڑیاں عمران خان نے فروخت کیں اور اپنی حکومت کی ترامیم کا فائدہ اٹھا کر گھڑیوں کی قیمت کا تخمینہ اصل سے کم لگوایا اور اس کم قیمت کا 20 فیصد قومی خزانے میں جمع کروایا۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں شہبازگل سے متعلق بغاوت کیس کی سماعت ہوئی

    شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری اور بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے، فیصل چودھری نے کہا کہ آج شہباز گل کو پیش کرنا ہے، ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہے،اوکیل نے کہا کہ اگر ایک بجے تک کیس کی سماعت کریں ہم ہائیکورٹ سے ہو کر آجائینگے، فیصل چودھری نے کہا کہ ہم ساڑھے 9 بجے تک انتظار کر لیتے ہیں ابھی پتہ کرلیں شہباز گل کوکس وقت لیکر آئینگے،جس پر جج نے کہا کہ ہم تو پتہ نہیں کراتے آپ کہتے ہیں تو پتہ کرا لیتے ہیں، عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ پتہ کریں کب شہباز گل کو پیش کیا جائے گا شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری نے ایک بجے تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،عدالت نے وکیل سے سوال کیا کہ ابھی میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کس کارروائی کی بات کر رہے ہیں ملزم کو پیش کرنے دیں پھر دیکھ لیتے ہیں

    عدالت نے شہباز گل کو ساڑھے 12 بجے تک پیش کرنیکا حکم دے دیا ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر اگر آجاتے ان کو بھی آگاہ کر دیتے ہیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی .وکیل نے کہا کہ شہباز گِل پر پولیس حراست میں بدترین تشدد کیا گیا،جب تک جرم ثابت نہ ہو ملزم عدالت کا پسندیدہ بچہ ہوتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے ملک کا واحد کیس نہیں ہے اس سے پہلے بھی کیسز تھے بعد میں بھی چلتے رہیں گے، ریمانڈ کے کیسز میں ایسی مثال نہ بنائیں،ہائیکورٹ تو صرف اسی کیس کیلئے ہی رہ جائے گی،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گِل کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اس میں نہیں جا سکتا، کیا میں اب ٹی وی لگوا کر وہ ویڈیو دیکھوں؟ وکیل نے کہا کہ تشدد کے اثرات صرف 5 سے چھ دن رہتے ہیں،عدالت ڈاکٹرز کو بلا کر پوچھ لے وہ شہباز گل تشدد کے عینی شاہد ہیں،درجنوں مثالیں ہیں پولیس ایسے تشدد کرتی ہے جس کو ٹریس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،پولیس تشدد سے مار کر بھی کہتی ہے بندے نے خودکشی کرلی،بارہ دن بعد تو بڑے سے بڑا تشدد ٹھیک ہوجاتا ہے،شہباز گِل دمہ کا مریض ہے انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، مجسٹریٹ نے شہباز گل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا،ایسے ہی ملزم کی موت ہو جاتی ہے اور پراسیکیوشن کے خلاف 302 کا کیس بن جاتا ہے،اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کی جائے، عدالتی حکم کے بعد وکلا اور دوستوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،شہباز گِل کی ویڈیوز لیک کی گئیں،مجسٹریٹ نے خود آبزرویشن دی کہ ملزم کی کنڈیشن سیریس ہے،مجھے وکالت نامہ دستخط کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، اب شہباز گل کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے توویڈیوز لیک کی گئیں،

    وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز گل کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ میں دیدیا،جج نے بغیر کوئی وجہ معلوم کیلئے شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ دیا،ہمارے خلاف سازش کی جارہی ہے ،میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ، کیا ہم نیشنل جیوگرافک لگا کر بیٹھ جائیں؟ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس پر رہیں، معاملے کو پیمرا پابندی کی طرف نہ لے جائیں ،ایسا کرنے سے اپ ایک ڈیڈ اینڈ پر پہنچ جائیں گے وکیل نے کہا کہ موبائل فون کی ریکوری کے لیے شہباز گل کے ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟ گرفتاری میں ہمیشہ موبائل فون اور عینک ساتھ ہی ہوتی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز گل سے سازش کا پتہ کرنا ہے، شہباز گل کو عدالت نے جوڈیشل کردیا تو واپس کیوں لانا پڑا ؟ کریمنل کیسز میں شواہد کو عدالت اور فریقین سے چھپایا نہیں جاسکتا، میں نے کہا کہ وہ کونسے شواہد ہیں جس کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے،شواہد مانگنے پر کہا گیا کہ ہم آپ سے کچھ بھی شئیر نہیں کرسکتے،

    عدالت نے شہباز گل کے وکیل کو تقاریر کے حوالے سے منع کر دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریڈم آف ایکسپریشن کی تعریف ہم سب غلط پڑھتے ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ شہباز گل کاریمانڈ کیوں چاہتے ہیں ؟کوئی برآمدگی کرنی ہے، کیا کرنا چاہتے ہیں، پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ فون بر آمد کرنا ہے، تحقیقات کے کچھ پہلویہاں نہیں بتا سکتا ،کیس کو نقصان ہوسکتا ہے، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ فون لینڈ لائن سے ہوا پھر کیوں چاہیے؟ تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ تفتیشی افسر نے عدالت میں جواب دیا کہ پتہ لگا لیا ہے لینڈ لائن نمبر فون بنی گالہ عمران خان کی رہائش کا ہے،فون سےپڑھ کر نجی ٹی وی پر بیان دیا گیا ٹرانسکرپٹ بر آمد کرنا ہے،تفتیشی افسر کا اختیار ہے کہ وہ بتائے اس کی تفتیش مکمل ہوئی یا نہیں، شہباز گِل موبائل استعمال کر رہا ہے، مواد سے ملزم کو کنفرنٹ کرنا ہے، دیگر ملزمان کی گرفتار ی کے لیے شہباز گل کے بیان سے کنفرنٹ کرانا ہے،

    جسٹْس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اور تو آپ نے کسی کو گرفتار نہیں کیا کس سے کنفرنٹ کرانا ہے، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ گرفتاریوں کیلئے تو مزید تفتیش کی ضرورت ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ پولیس کی ابھی 90 فیصد تفتیش باقی ہے،ملزم لیت و لعل سے کام لیتا ہے، جھوٹ بول رہا ہے، پولی گرافک ٹیسٹ کی ضرورت ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد میں پولی گرافک ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اور پنجاب فرانزک لیب میں یہ سہولت موجود ہے،جسمانی ریمانڈ 15 دن کا ہوتا تو مختلف مراحل میں دیا جاسکتا ہے، عدالت نے کہا کہ اگر 15دن میں تفتیش مکمل نہ ہو تو کیا اس کے بعد بھی ریمانڈ مل سکتا ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ 15دن سے زیادہ جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اس کے بعد بھی تفتیش کی ضرورت ہو تو پھر جیل میں تفتیش کی جائے گی؟ دوران تفتیش کوئی ملزم بیمار ہو جائے تو کیا ہو گا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ بیمار اور زخمیوں کے لیے بھی رولز موجود ہیں، زندگی ہے تو سب کچھ ہے، عدالت نے سوال کیا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو آپ اسلام آباد میں کہاں منتقل کرتے ہیں ؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے توپمز اور پولی کلینک میں منتقل کیا جاتا ہے،ایڈیشنل سیشن جج کا مزید 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ کا آرڈر بالکل درست ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    عدالت نے وکلا پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ دو اہم وکلانے اپنے دلائل دئیے، باقی کسی کو دینے کی ضرورت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بابر اعوان کو دلائل دینے کی اجازت دے دی، وکیل جیل حکام نے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں، اڈیالہ جیل رکھنا پڑتا ہے،اگر کسی ملزم کی طبیعت خراب ہو تو قریبی اسپتال لے جایا جاتا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اسلام آباد کا ملزم ہو تو اسے اسلام آباد کے اسپتال میں ہی رکھا جاتا ہے،

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے

    شہباز گل پر تشدد اور غیر جانبدار ڈاکٹروں کی میڈیکل بورڈ بنانے سے متعلق درخواست پر بابر اعوان نے دلائل دیئے،اور کہا کہ ملزم کی حراست گرفتاری کے روز سے شروع ہو جاتی ہے،زیادہ سے زیادہ ریمانڈ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو یہ کیس ہی نہیں، یہ ساری چیزیں تو سلمان صفدر کہہ چکے ہیں،استدعا پڑھیں، اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھیں ،ایڈووکیٹ جنرل جہانگیرجدون نے اعتراض عائد کیا اور کہا کہ درخواست میں بابر اعوان وکیل نہیں، دلائل نہیں دیئے جا سکتے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے اسد عمر کی درخواست قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، کہا کہ اسد عمر کا نئے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنانے کا اختیار ہی نہیں،درخواست قابل سماعت ہی نہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ابھی پینڈنگ رکھ رہے ہیں، جب سنی جائے گی تب دیکھیں گے،بابر اعوان نے کہا کہ جب وقت آئے گا بتائیں گے کہ کیسے قابل سماعت ہے،

    آئی جی اسلام آباد نے شہباز گل تشدد کیس کی ابتدائی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی پولیس کی جانب سے شہباز گل پر تشدد کے الزمات بے بنیاد قرار دے دی گئی شہباز گل پر جسمانی یا ذہنی تشدد کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے، ملزم شہباز گل نے تفتیش میں خلل ڈالنے کے لیے ڈرامہ کیا،

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

  • پاک فوج کی گاڑی کو شجاع آباد کے قریب حادثہ، 9 جوان شہید ہوگئے

    پاک فوج کی گاڑی کو شجاع آباد کے قریب حادثہ، 9 جوان شہید ہوگئے

    راولپنڈی: پاک فوج کی گاڑی کو باغ کےعلاقے شجاع آباد کے قریب افسوسناک حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں 9 جوان شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا گیا، تمام شہدا کی نماز جنازہ منگلا گیریژن میں ادا کر دی گئی۔

    نماز جنازہ میں کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا سمیت عسکری حکام نے شرکت کی۔ شہدا کے جسد خاکی کو ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا جائے گا اور پوری فوج کے ساتھ تدفین کی جائے گی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے باغ کے علاقے شجاع آبادمیں پاک فوج کی گاڑی کے حادثے میں جام شہادت نوش کرنے والے 9 جوانوں کوخراج عقیدت پیش کیا اور اس حادثے میں زخمی ہونے والے جوانوں کے لئے جلد صحت یابی کی دعاکی

    وزیر اعلی چودھری پرویز الہٰی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوے کہا کہ پنجاب حکومت شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں،وطن عزیز کے بہادر سپوتوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا بلندرتبہ پایا۔

  • اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    اسلام آباد:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت ‏اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری، آئی جی اور ڈی آئی جی پولیس کو دھمکیاں دینے کے الزام میں اندراج مقدمہ کی درخواست جمع کرائی گئی ہے

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”532564″ /]

    ‏سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف دہشتگردی گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا, عمران خان کے خلاف مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا ،یہ مقدمہ 7اے ٹی اے کے تحت درج کیا گیا ہے جو ناقابلِ ضمانت ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق مجسٹریٹ علی جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گذشتہ روز عمران خان کی ریلی میں چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ موجود تھے جب عمران خان نے پولیس کے اعلیٰ افسران اور ایک ایڈیشنل سیشن جج صاحبہ کو ڈرانا، دھمکانا شروع کر دیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ’عمران خان کا مقصد پولیس اور عدلیہ میں دہشت پیدا کرنا تھا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکیں۔

    ’عمران خان کی جانب سے اس انداز اور ڈیزائن میں کی گئی تقریر سے عوام میں خوف و حراس پھیل گیا ہے اور عوام الناس میں بدامنی، بے چینی اور دہشت پھیلی ہے۔ اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی دارالحکومت اسلام آباد میں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان پر اداروں کیخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ کیلئے درخواست جمع کروادی گئی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق درخواست جی الیون ٹو کے رہائشی ضیاء الرحمن ایڈووکیٹ نے تھانہ رمنا میں دی، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم عمران احمد خان نیازی فوج، عدلیہ اور پولیس افسران کیخلاف عوام کو بغاوت پر اکسا رہا ہے جبکہ پبلک پریشر کرکے اپنی پارٹی اور پارٹی کارکن کے حق میں فیصلے کروانا چاہتا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئی جی ، ڈی آئی جی اور ملزم شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ صاحبہ کو دھمکی دی کہ آپکے خلاف کیس کروں گا، کسی بھی معزز جج کو دھمکی دینا یا کام سے روکنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

    متن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران نیازی کی تقریر سے عدلیہ اور بار دونوں کے وقار و جذبات کوٹھیس پہنچ رہی ہے، اس لیے ملزم عمران نیازی کو گرفتار کیا جائے۔ایس ایچ او رمنا شاہد زمان کا کہنا ہے کہ درخواست پر فی الحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تقریر ایف نائن پارک میں ہوئی وقوعہ تھانہ مارگلہ کا بنتا۔

  • بول ٹی وی کے بعد یوٹیوب کوبھی بند کردیا گیا

    بول ٹی وی کے بعد یوٹیوب کوبھی بند کردیا گیا

    اسلام آباد:یوٹیوب کوبھی بند کردیا گیا ،اطلاعات کےمطابق ایسی خبریں گردش کررہی ہیں کہ پیمرا نے یوٹیوب کو بھی بلاک کردیا ہے اور اس کے بلاک کرنے کی وجہ فقط عمران خان کی تقریر کو نشرکرنا بتایا جارہا ہے

    اس سلسلے میں سوشل میڈیا پراس وقت مختلف علاقوں سے صارفین کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے نے یوٹیوب کو بلاک کردیا ہےاوراب کوئی یوٹیوب چینل عمران خان کوقوم کے ساتھ براہ راست ہم کلام نہیں کرسکے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں مزید احکامات کی آمد کی انتظآر ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پیمرا نے بول ٹی وی کی نشریات معطل کردی ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ پیمرا نے عمران خانکو لائیو نشرکرنے پر پابندی لگائی تھی لیکن بول ٹی وی نے ان احکامات پر عمل نہیں کیا

    یہ بھی یار ہے کہ شاید اوور لوڈنگ یا جزوی اسکریننگ کی وجہ سے ہم پی ٹی اے کی وضاحت کا انتظار کر رہے تھے اور آج اتوار ہونے کی وجہ سے وہ دستیاب نہیں ہیں۔

  • بول ٹی وی کی نشریات معطل کردی گئیں

    بول ٹی وی کی نشریات معطل کردی گئیں

    اسلام آباد:پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل بول نیوز کی نشریات روک دیں۔

    نیوز چینل سے وابستہ ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ بول کی نشریات بند کردی گئی ہیں۔ انہوں نے ٹی وی سکرین کی تصویر بھی شیئر کی گئی ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ چینل کو پیمرا کے حکم پر معطل کردیا گیا ہے۔

    عمران خان کی تقریر لائیو دکھانے پر بول ٹی وی کی نشریات معطل کر دی گئیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیمرا کی جانب سے یہ قدم پابندی کے باوجود بول نیوز کی طرف سے پیمرا کی پالیسی کونہ اپنانے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

  • وزیراعظم کا آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور چئیرمین این ڈی ایم اے سے ٹیلی فونک رابطہ

    وزیراعظم کا آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور چئیرمین این ڈی ایم اے سے ٹیلی فونک رابطہ

    وزیراعظم شہبازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اخترنوازسے ٹیلی فون پر گفتگو کی.

    وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملک میں سیلاب متاثرین خاص طور پرصوبہ سندھ میں امداد اور بحالی کی کارروائیوں سے متعلق گفتگو کی ،آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے صوبہ سندھ میں امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون سے متعلق آگاہ کیا

    وزیراعظم نے صوبہ سندھ میں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی تباہی کے باعث ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کی ہدایت کی.وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹرز کے استعمال سے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں زمینی رابطہ کٹنے کی وجہ سے ریسکیو اور یلیف کی فراہمی میں آنے والی مشکلات کو دور کرنے میں مدد ملے گی.

    وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے لئے پاک فوج کے تعاون اور جذبے کو سراہا ،آرمی چیف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمانڈر سدرن کمانڈ کو بلوچستان میںامدادی کارروائیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں

    وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کو نقد رقوم کی فوری ادائیگی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ کو ہدایت جاری کردی ، چئیرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو صوبہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ،چئیرمین این ڈی ایم اے نے حکومت سندھ اور بلوچستان میں امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا ،چئیرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو ریسکیو اور ریلیف سے متعلق اقدامات پر بریف کیا

    وزیراعظم کی ہدایت کی کہ سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف اوربحالی کی کوششوں کو مزید تیز کیاجائے.

  • عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں وزارت قانون اور پولیس کے افسران بھی شریک ہیں اور اجلاس میں عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک واقعے کی 2 ایف آئی آر نہیں ہو سکتیں، شہبازگل کے حق میں نکالی گئی ریلی دفعہ 144 کی خلاف ورزی بھی تھی۔ ذرائع کے مطابق کہ وزارت داخلہ نے عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے 2 آپشنز پر رائے مانگ لی ہے۔

    ذرائع کے مطابق رائے مانگی گئی کہ عمران خان پر الگ سے مقدمہ درج ہو یا شہباز گل کیس کا حصہ بنایا جائے۔ عمران خان پر مقدمے کا فیصلہ ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون کی رائے کے بعد کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو گرفتار ہونا چاہیے، دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان پر نیا مقدمہ درج کیا جائے یا پھر شہباز گل والے مقدمے میں ہی انہیں نامزد کیا جائے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے خلاف پی ٹی آئی نے کمپین کی، شہدا کے لواحقین کے تقدس کو پامال کیا گیا،شہباز گل نے جو کہا وہ دراصل عمران خان او رپی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے،بہت سارے سیاستدانوں نے سیاست میں مداخلت پر کہا،کسی سیاستدان نے فوج کو اپنی قیادت کےخلاف نہیں اکسایا،9اگست کو شہبازگل کیخلاف مقدمہ درج کر کے24گھنٹے میں انہیں گرفتار کیاگیا،گرفتاری کے بعد شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈکیلئے پیش کیا گیا ،جب انہیں پیش کیا گیا وہ مسکراتے ہوئے عدالت پیش ہوئے،شہباز گل نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے تشدد کی کوئی بات نہیں کی.

    انہوں نے کہا کہ 11اگست کو طبی معائنہ کیا جس میں کسی تشدد کا ذکر ہے نہ شہباز گل نے کہا،میں نے سب سے تسلی کی ہے کہ اپنے طور پر بھی معلومات لیں،بطور وزیر کہتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کسٹڈی کے دوران کوئی تشدد نہیں ہوا،17تاریخ کو جب ان کا دوبارہ ریمانڈ دیا گیاتو حالت خراب ہوئی،اس میں تشدد کی بنیاد پر صحت کی خرابی سامنے نہیں آئی،6 دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،6دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،ن لیگ بطور جماعت کسی قسم کے تشدد کے خلاف ہے.عمران خان کے خلاف مقدمہ کیلئے وزارت قانون سے رائے لے رہے ہیں.

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے 10 روز سے شہباز گل پر تشدد اور ظلم کے حوالے سے باتیں چل رہی ہیں، ان پرتشدد کی باتیں وہ شخص کر رہا ہے جس کو اپنا کیا یاد نہیں ہے، عمران نیازی کا بیانیہ غیرملکی ایجنڈا ہے، شہباز گل کی نجی ٹی وی سے گفتگو طے شدہ تھی، شہباز گل کا نجی ٹی وی کےساتھ سب کچھ طے تھا کب فون آئے گا، کتنی دیر گفتگو کرنی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ شہباز گل کی حالت خراب ہونے میں تشدد کی وجہ سامنے نہیں آئی، ڈرامے کو مزید تقویت دینے کے لیے عمران خان جنسی تشدد کا الزام لگا رہے ہیں، پی ٹی آئی شہباز گل کے بیان کا دفاع نہیں کرسکی، فوج کے خلاف مہم سے دھیان ہٹانے کے لیے شہباز گل پر تشدد کا بیانیہ گھڑا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ آئی جی، ڈی آئی جی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو قانون کے مطابق ذمہ داری نبھانے پر دھمکیاں دی جارہی ہیں، عمران خان، آپ نے اپنے تمام مخالفین کے خلاف جھوٹے کیس بنوائے، تب شرم نہیں آئی، جب آپ بشیرمیمن کو بلاکر نواز، شہباز، حمزہ اور مریم نواز کے خلاف مقدمہ بنانے کا کہہ رہے تھے اس دن شرم نہیں آئی۔

    رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خاتون جج کو نام لے کر دھمکی دی، طیبہ گل کو ڈیرھ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں حبس بےجا میں رکھ کر کیسز ختم کراتے ہوئے شرم نہیں آئی، آپ بتائیں کہ کہاں ٹارچر ہوا ہے؟ سر میں چوٹ لگی یا پاؤں میں چوٹ لگی ہے، دمہ کی بیماری کا ٹارچر سے کیا تعلق ہے۔عمران کان نے کل جو مارچ کیا ان کو سمجھ آگئی ہو گی کہ ان کی طاقت کیا ہے